30 C
Lahore
Saturday, May 18, 2024

Book Store

 کچرے کا ڈھیر اور کراچی کی محرومیاں


باب پنجم 

کچرے کا ڈھیراورکراچی کی محرومیاں

محمد توفیق

کھلاڑی جاپان میں
کھلاڑی جاپان میں

رات دس بجے پاکستان والی بال فیڈریشن کے سیکرٹری شاہ نعیم ظفر اپنے چند رفقاء جن میں سندھ والی بال فیڈریشن کے جوائنٹ سیکرٹری شاہد مسعود، فیڈریشن کے ریفری فرقان، مظہر میمن اور انٹرنیشنل کھلاڑی نعمان کے ہمراہ قریب ہی واقع اوپن ایئر ریستوران ” یحییٰ بریانی “ میں لے گئے۔
شاہ نعیم ظفر نے بطور ڈائریکٹر سپورٹس “KPT”میں کھیلوں کے فروغ میں قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔
سب میزبان اردوئے معلیٰ کے تہذیبی رچاؤ میں گندھے، باوقار اور شستہ مزاج!
یہ ریستوران کراچی کی مسالےدار بریانی کے لیے خصوصی شہرت رکھتا ہے لیکن اعلیٰ ظرف میزبانوں نے مٹن کڑاہی، ریشمی سیخ کبابوں اور چپاتیوں کا تڑکا بھی لگا دیا۔
بریانی مزیدار ہے کیونکہ مرچوں میں کچھ چاول بھی ڈالے گئے ہیں۔
ابنِ انشاء نے اردو بولنے والے بھائیوں کو درست مشورہ دیا تھا کہ” وہ جتنا خیال اپنی زبان کا رکھتے ہیں، اتنا اپنے کھانے کا بھی رکھیں اورپنجابی بھائی جتنا خیال اپنے کھانوں کا رکھتے ہیں، اتنا اپنی زبان کا بھی رکھیں“۔
سہ پہر کو لاہور سے ہوائی سفر کے دوران ہم ایئر سیال کے میزبانوں کے پیش کردہ مختصر سے رسمی کھانوں سے زیادہ ان کے جسمانی ایکسرے میں اُلجھے رہے۔
سو صورتحال اب خلیل جبران کے اس قول کی مصداق تھی ”بھوکے کو اگر گانا سنایا جائے تو وہ گانا بھی پیٹ سے سنتا ہے“۔
پاکستان کے سب سے بڑے کاسموپولیٹن اور بدقسمت شہر کراچی کے حالات کا نوحہ میزبانوں کی زبانی سنا۔
بھارت سے ہجرت کر کے آنے والے اردو سپیکنگ باشندے پاکستان کے بہترین اذہان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تہذیبی اور ثقافتی ورثے کے امین ،
جنہوں نے مہاجرت کا عذاب بھی سہا اور پھر بوری بند لاشوں، بھتہ خوری اور کن کٹے جیسے القاب سے بھی نوازے گئے،
آج ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی باہمی سیاست کے بیچ چکی کے پاٹوں کی طرح پس گئے ہیں، اپنے مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
شہر ِکراچی جہاں کبھی خلیجی ریاستوں کے عرب سیاحت کی غرض سے آیا کرتے تھے، آج کھنڈرات ، چائنا کٹنگ اور جرائم کی آماجگاہ بن چکا ہے۔
آئین کی تشریح کرنے والے ادارے سپریم کورٹ کو ”نسلہ ٹاور“ اور ”تجوری ہائیٹس “ جیسی غیر قانونی تجاوزات اپنی نگرانی میں گرانی پڑیں۔بقول منیر نیازی

لا حاصلی ہی شہر کی تقدیر ہے محسن
باہر بھی گھر کے کچھ نہیں، اندر بھی کچھ نہیں

مر غن پر تکلف ڈنر کے بعد کار میں بیٹھنے لگے تو بھکاریوں کی فوج ظفر موج نے یلغار کر دی۔
قریب ہی کچر ے کے ڈھیر میں فراک پہنے ہوئیں برہنہ پادو معصوم بچیاں جو بظاہر افغان دکھائی دیتی ہیں۔
یحییٰ بریانی کے ضائع شدہ کھانے میں سے اپنا زرق چن رہی ہیں، وہ بھی ہما ری جانب متوجہ ہو گئیں۔
ساتھ ہی کچرا کنڈی کی اوٹ میں دو چرسیوں کے سگریٹ کی بُو نے ماحول پراگندہ کر رکھا ہے۔
شراب، افیم، بھنگ، چرس اور تمباکو کاعالمگیر استعمال اس لیے نہیں ہوتا کہ یہ چیزیں فرحت یا دل بستگی کا سامان مہیا کرتی ہیں، بلکہ ان کا استعمال اس لیے کیا جاتا ہے کہ
ضمیر کے مطالبات سے خود کو چھپا لیا جائے۔
کشکول لا تعداد ،کس کو دیں، کس کو نہ دیں۔
ایک سے دوسرا قابل ِ رحم اور دوسرے سے تیسرا قابل ِ نذرانہ۔ دل اس خوف سے لرز اٹھا ،
اگر یہ بھوکی ننگی مفلوک الحال مخلوق سڑکوں پر نکل آئی تو حکمرانوں کو کہیں جائے امان نہ ملے گی۔
پہلے بھی یہاں کون سی دودھ اور شہد کی ندیاں بہہ رہی تھیں لیکن اب تو پانی سر سے اونچا ہو چکا۔
متوسط طبقے کے سفید پوش گھرانے بھی نان جویں کو محتاج ہو چکے ہیں۔
بنگلہ دیش کا ایک ٹکا پاکستانی 2.1روپے کے برابر ہو گیا یعنی اب ہم دو ٹکے کے بھی نہیں رہے۔
میں نفسیات کا ماہر نہیں، لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ انسان سے خود جرم سر زد نہیں ہوتا، حالات سے ہوتا ہے۔لینن نے کہا تھا ”جب غربت انقلاب برپا نہیں کرتی تو جرائم پیدا کرتی ہے“۔
خالی پیٹ کا مذہب روٹی ہوتا ہے۔کرشن چندر نے کہا ”روٹی دنیا کا سب سے بڑا مقناطیس ہے“۔
ضمیر نے ملامت کی ، ہم اندر بیٹھے مرغ مسلم اڑا رہے تھے۔
وہاں چند قدموں پر ننھی منی بچیاں غلیظ کچرے کے ڈھیر سےپیٹ کی آگ بجھانے کی سعی کر رہی تھیں لیکن پھر انسانی ذہن میں ایسا مکینزم موجود ہے جو اس کے ہر جرم کا جواز فراہم کرتا رہتا ہے،
تاکہ وہ اپنے ضمیر کو تھپ تھپا کر سلا سکے۔
انسان کی ایسی تذلیل دیکھ کر سر جھکا کر آگے بڑھ جانا بھی تو شرف انسانیت سے گرا ہو فعل ہے۔
مسافر سوچنے لگا یہ دنیا بھی تو ایک بہت بڑے کچرے کا ڈھیر ہے،
جس میں سے ہر شخص اپنی پسند کا ٹکڑا، فائدے کا کوئی چھلکا یا منافع کا کوئی چیتھڑادبوچنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔

You can’t treat humans like garbage and worship God at the same time

حائمہ خاتون نے سچ کہا تھا :
”جہنم میں کوئی لکڑیاں نہیں ہوں گی،وہاں ہر کوئی اپنی آگ خود لائے گا۔“
کسی بھی باشعور معاشرے کے لیے یہ منظر گالی سے کم نہیں۔
مظہر حسین سید کے بقول

اس منظر کی کوئی بھی تفہیم نہیں
اس موقعے پر سیدھی گالی بنتی ہے

یونس ادیب نے اپنی کتاب ”شکست ِ ساغر “ میں لکھا ہے:
”نو بہار ہوٹل کے طیفو نے مجھے بتایا کہ ایک دوپہر ساغر صدیقی آیا تو اس کے ہاتھ میں پانچ سو روپے کا نوٹ تھا۔  وہ کہہ رہا تھا کہ اب کے میں ریشم کا بستر بنواؤں گا۔
ساغر نے سگریٹ پی، چائے منگوائی اور بستر لینے چلا گیا مگر تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو طیفو نے پوچھا
”بابا تم تو بستر لینے گئے تھے۔
ساغر نے جواب دیا، ”لے لیا ہے طیفو۔“
مگر بستر ہے کہاں اور باقی رقم کیا ہوئی؟
ساغر نے اس سڑک کے پر بجری پر لیٹے ہُوئے کسی ننگے شخص کو دکھا کر کہا۔”
اس کو دیکھ کر بستر کا خیال ترک کر دیا اور سارے روپے اسے دے دیے“۔
رات بارہ بجے ایئر پورٹ ہوٹل کے” عقوبت خانے “میں پہنچے تو ٹین سپورٹس پر بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی چوتھے ٹیسٹ میں کریاکرم اور آخری رسومات ادا ہوتے دیکھیں۔
بھارت کبھی سپن باؤلنگ کے لیے شہرت رکھتا تھا۔
عہدِ شباب میں ہم نے بیدی، پرسنّا، چندرشیکھر اور وینکٹ راگھوون کے چرچے سنے تھے، آج اس کے فاسٹ باؤلرز جسپریت سنگھ بومرا اور محمد شامی نے انگلینڈ ٹیم کی خوب واٹ لگائی۔
بے اختیار عامر خان کی فلم لگان یاد آ گئی۔
غلاموں کے ہاتھوں آقاؤں کی پٹائی کا منظر یاد گار ہے۔
کسی فلسفی نے کہا تھا :
” بعض اوقات غلام اپنے آقاؤں کے ذہن سے سوچنے لگتے ہیں“۔ (6 ستمبر 2021ء)

یہ بھی پڑھیں
https://shanurdu.com/karachi-airport-hotel/


مصنف کا تعارف
نام: محمد توفیق
سینئر نائب صدر پاکستان ٹینس فیڈریشن،
چیئرمین ڈیویلپمنٹ کمیٹی پاکستان والی بال فیڈریشن
قومی سلیکٹرپاکستان سکواش فیڈریشن
ولدیت: میجر (ر) محمد طارق اعوان
تاریخ و جائے پیدائش: 8 اکتوبر 1960ء ، شیرانوالہ گیٹ ہری پور ہزارہ
تعلیم: ایم اے معاشیات، ایم اے سیاسیات، ایم بی اے ایگزیکٹو
تعلیمی ادارے: برن ہال سکول، گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد، ایچی سن کالج لاہور
پاکستان کی نمائندگی: سیول اولمپکس، اٹلانٹا اولمپکس، بیجنگ ایشین گیمز، کلکتہ سیف گیمز،کامن ویلتھ گیمز آسٹریلیا،
ڈیوس کپ ٹینس، ومبلڈن ٹینس،ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس، ایشیائی والی بال چیمپئن شپ جاپان،
ایشیائی اسکواش چیمپئن شپ بھارت، انٹرنیشنل سیٹلائٹ ٹینس شام، والی بال منیجر قطر، ایران، دوبئی
سپورٹس کمنٹری/اینکر پرسن: پی ٹی وی ایوارڈ یافتہ ،ورلڈ کپ فٹبال، ورلڈ اولمپکس سمیت 30 کھیلوں پر رواں تبصرہ
عالمی سیاحت: امریکہ، فرانس، برطانیہ، ہالینڈ، بیلجیم، سپین، اٹلی، چین، آسٹریا، چیکو سلوواکیہ، سوئٹزرلینڈ، جاپان، ڈنمارک،
ناروے، روس،جرمنی، جنوبی کوریا، سویڈن، سلوواکیہ، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات،سعودی عرب،
بنگلہ دیش، ایران، بھارت، نیپال، قطر، شام، ازبکستان، ایتھوپیا
تصانیف:
ستارے سفر کے دیکھتے ہیں
بمبئی براستہ مدراس
تری خوشبو سفر میں ہے
تیرا میرا سارا سفر
کھیل کا ارتقائی سفر
اولمپکس اور فٹبال
کھیل اور کھلاڑی
اردو سفر نامے کا گل خود رو
واہ کی تہذیب اور فنون ِ لطیفہ
شمشیر و سناں اوّل
کھلاڑی جاپان میں(سفرنامچہ)


محمد توفیق
محمد توفیق
مصنف کا تعارف نام: محمد توفیق سینئر نائب صدر پاکستان ٹینس فیڈریشن، چیئرمین ڈیویلپمنٹ کمیٹی پاکستان والی بال فیڈریشن قومی سلیکٹرپاکستان سکواش فیڈریشن ولدیت: میجر (ر) محمد طارق اعوان تاریخ و جائے پیدائش: 8 اکتوبر 1960ء ، شیرانوالہ گیٹ ہری پور ہزارہ تعلیم: ایم اے معاشیات، ایم اے سیاسیات، ایم بی اے ایگزیکٹو تعلیمی ادارے: برن ہال سکول، گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد، ایچی سن کالج لاہور پاکستان کی نمائندگی: سیول اولمپکس، اٹلانٹا اولمپکس، بیجنگ ایشین گیمز، کلکتہ سیف گیمز،کامن ویلتھ گیمز آسٹریلیا، ڈیوس کپ ٹینس، ومبلڈن ٹینس،ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس، ایشیائی والی بال چیمپئن شپ جاپان، ایشیائی سکواش چیمپئن شپ بھارت،انٹرنیشنل سیٹلائٹ ٹینس شام، والی بال منیجر قطر، ایران، دوبئی سپورٹس کمنٹری/اینکر پرسن: پی ٹی وی ایوارڈ یافتہ ،ورلڈ کپ فٹبال، ورلڈ اولمپکس سمیت 30 کھیلوں پر رواں تبصرہ عالمی سیاحت: امریکہ، فرانس، برطانیہ، ہالینڈ، بیلجیم، سپین، اٹلی، چین، آسٹریا، چیکو سلوواکیہ، سوئٹزرلینڈ، جاپان، ڈنمارک، ناروے، روس،جرمنی، جنوبی کوریا، سویڈن، سلوواکیہ، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات،سعودی عرب، بنگلہ دیش، ایران، بھارت، نیپال، قطر، شام، ازبکستان، ایتھوپیا تصانیف: ٭ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں ٭ بمبئی براستہ مدراس ٭ تری خوشبو سفر میں ہے ٭ تیرا میرا سارا سفر ٭ کھیل کا ارتقائی سفر ٭ اولمپکس اور فٹبال ٭ کھیل اور کھلاڑی ٭ اردو سفر نامے کا گل خود رو ٭ واہ کی تہذیب اور فنون ِ لطیفہ ٭ شمشیر و سناں اوّل ٭ کھلاڑی جاپان میں(سفر نامچہ)

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles