42 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

جعلی دانشوری

جعلی دانشوری

فاروق طاہر
حیدرآباد، انڈیا

صاحب مضمون، فاروق طاہر، انڈیا
صاحب مضمون، فاروق طاہر، انڈیا

ہر آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اسے پسند کریں۔ ہر کوئی اپنی ذہنی سطح، معیار و ذوق کے حساب سے خود کو پیش کرتا ہے ۔ اپنی ذہنی و علمی سطح، معیار اور ذوق کے لحاظ سے افراد ایک دوسرے کو پسند یا پھر مسترد کرتے ہیں۔
پسند اور استرداد، دونوں جس طرح ایک دوسرے کے متضاد ہیں بالکل اسی طرح دانش وری اور بے وقوفی بھی ایک دوسرے کی مقابل صفت ہے۔
جب تک لب کشائی نہ ہو دانش ور اور بے وقوف دونوں یکساں نظر آتے ہیں۔ آدمی خواہ دانش ور ہو یا بے وقوف، خود کو ایک سنجیدہ اور ذہین شخص کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔
خاص طور پر آج کی مسابقتی دنیا میں کوئی بھی شخص اپنے آپ کو گونگا یا بے وقوف کہلانا ہرگزپسند نہیں کرے گا۔
مادی فوائد کے لیے، یا پھر تعلق و رشتہ پیدا کرنے کے لیے نااہل افراد کا خود کو احمقانہ طور پر قابل بنا کر پیش کرنا تو کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے لیکن تعلیم یافتہ اور بااثر افراد بھی آج کل ایسے بونگے پن سے خالی نظر نہیں آتے ۔
اب تو دانشوروں کی محفلوں میں بھی بونگے پن کے ہوشربا جلوے آئے دن دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ بونگے بھی اب اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بڑھانے اور اپنے علم میں اضافے کے لیے سخت محنت کرتے نظر آ رہے ہیں۔
پی ایج ڈیز کی بڑھتی ہوئی شرح سے اس بات کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
بجا بالکل بجا، ہر ایک پی ایج ڈی بونگا نہیں ہوتا
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ صف بونگوں سے بالکل خالی بھی نہیں ہے۔ پی ایج ڈی تو کیا زندگی کے ہر شعبہ میں اب بونگے پن کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
احمق پن کو یقیناً علم اور محنت سے دور اور دانشمندی کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔
لیکن جو تن آسانی سے کام لیتے ہوئے دانش وروں کی صف میں خود کو شامل کرنا چاہتے ہیں ان میں احمق پن آن بان اور شان سے قائم و دائم رہتا ہے۔
اس کے علاوہ بعض ایسے افراد بھی ہیں جو اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بڑھانے اور اپنے علم میں اضافے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔
تاہم ایسا کرتے وقت کئی ایک اصل مقصد سے بھٹک بھی جاتے ہیں۔ ایسے افراد چند موضوعات پر عبور و گہرا علم پیدا کرنے کے بجائے انھیں سطحی انداز میں سمجھنے اور حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بونگا پن یہیں سے جنم لیتا ہے۔
کیا اہل کیا نااہل، اب تو جو بھی اونچے مقام و مرتبہ پر جیسے تیسے پہنچ گیا وہ دانش ور بن گیا۔ مقام و مرتبہ اور دانش وری سکھانے کے نہ تو اب اسکول رہے نہ کالج اور نہ یونیورسٹیاں۔
آج کل یہ سب بعض اعلیٰ منصب و عہدوں پر فائز افراد کے آگے پیچھے رہنے والی مصاحبوں کی ٹولیوں کی کرشمہ سازیاں ہیں کہ وہ اس اعتماد سے ان بونگوں کی دانش وری اور فراست کی داستانیں بیان کرتے ہیں کہ انھیں یقین ہو جاتا ہے کہ وہ ایک دانش ور ہیں۔
اب شروع ہوتے ہیں اعتماد سے بھرے بونگے پن کے مظاہرے۔
جاہل تو کجا علم والے بھی اپنے مفادات حاصلہ کے لیے اونچے رتبوں پر فائز نالائق افراد کے ہر بونگے پن کو کمال ثابت کرنے میں اب قطعی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں۔اعلیٰ مرتبت حضرات کے بونگے پن کی بات چلی ہے تو مناسب لگتا ہے کہ آپ کو ایک واقعہ یاد دلا دوں۔
ایک وزیر کو پریشان دیکھ کر اس کے چپراسی نے پوچھا
حضور کچھ پریشان نظر آ رہے ہیں۔
مزاج دشمناں تو ٹھیک ہے؟
اگر کوئی خدمت میرے لائق ہو تو عرض کیجیے گا۔
ہاں! کچھ مسئلہ تو ہے۔ وزیر صاحب نے عرض کیا۔
خیر جانے دو۔ یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔
چپراسی نے بڑے ادب سے کہا،
حضور پچیس سال سے وزراء کی دربانی کر رہاہوں۔ اتنا تجربہ تو ہے کہ دو ایک مسئلوں کو تو چٹکی بجاکر حل کرسکتا ہوں
تب وزیر  نے کہا۔
ایک ٹھیکدار چند دن قبل خدمت خاص کا وعدہ کرتے ہوئے ٹھیکے کی منظوری لے کر چلتا بنا ۔
ہفتہ دس دن ہو گئے، وعدہ وفا نہ ہوتا دیکھ کر میں  نے اس کی فائل منگا کر اس پر نامنظور لکھ دیا۔
ٹھیکدار کو معلوم ہوا تو وہ دوڑا دوڑا آیا۔ اپنا وعدہ پورا کرنا چاہتا ہے۔اب میں کیا کروں؟
چپراسی نے کہا،
حضور اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا بات ہے ۔فائل منگائیے۔ ناٹ کی ٹی کے آگے ای لگا کر اسے نوٹ کر دیجیے۔ نوٹ اپرووڈ بن جائے گا۔
بونگوں کی رہبری کرنے والے ایسے چپراسی اب کثرت سے نظر آرہے ہیں۔
جہاں چپراسی کی نظر ہٹی، بااعتماد بونگے پن کے مظاہرے دیکھتے جائیے اور چاہے تو افسوس کیجیے یا پھر لطف لیجیے۔
آج کل حکومت، اقتدار، ملازمت اور علم وادب کی غلام گردشوں میں ایسے لوگوں کا پایا جانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔
بلاشبہ قیادت، سیادت اور رہبری و راہنمائی دانشوروں کے کام ہیں اور یقیناً یہ ان ہی کو انجام دینے چاہیے لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہر آدمی کو اس بات کا علم ہو جائے کہ ہر کام اس کے بس کا نہیں۔
کسی بات کا نہ جاننا آج کے آدمی کے لیے ایک ناقابل برداشت صدمہ ہے۔
اپنی لاعلمی کو چھپانے کے لیے وہ ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے تاکہ اپنے آپ کو ذہین اور سنجیدہ ثابت کر سکے۔
زندگی کے ہر محاذ پر ایسے لوگ درجنوں نہیں، سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں میں مل جاتے ہیں۔ جاہلوں سے ٹکرانا خود عقل اور دانش مندی کی توہین ہے۔
عقل مندوں کا زندگی، اقتدار اور رہبری یا کسی بھی محاذ پر بونگوں سے سامنا ہوتا ہے تو وہ، ان سے الجھنے کے بجائے کمال مروت سے ان سے اعراض کر لیتے ہیں۔
قرآن کریم اس سلسلے میں ہماری رہبری کرتا ہے
اور جب ان سے بے سمجھ لوگ بات کریں تو کہتے ہیں سلام ہے۔ (سورہ فرقان آیت 63)۔
برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک ایسی تنگ گلی سے گزر رہے تھے جس سے ایک وقت میں صرف ایک آدمی گزر سکتا تھا۔
مخالف سمت سے ایک حزب اختلاف کا لیڈر آ گیا۔
آمنے سامنے آ کر دونوں ایک دوسرے کو گھورنے لگے۔
مخالف لیڈر  نے کہا، میں گدھوں کو راستہ نہیں دیتا۔
لیکن میں دے دیا کرتا ہوں۔ ونسٹن چرچل یہ کہہ کر ایک جانب ہٹ گئے۔
ونسٹن چرچل نے کمال شرافت سے بغیر الجھے بونگے پن کا جواب دانش مندی سے دے دیا۔
گدھوں کو راستہ نہ دینے کی بات کرنے والے خودساختہ دانش وروں کی مثال انگریزی کی ایک مشہور کہاوت کے مصداق نظر آتی ہے۔
یہ محاورہ اسے آپ اصطلاح بھی کہہ سکتے ہیں دراصل ایک ایسے کثیرالہنر شخص پر گہرا طنز ہے جو ہر شے کا سطحی علم تو رکھتا ہے
لیکن اسے کسی بھی شے پر دست رسی و گہرائی حاصل نہیں رہتی۔
ہر چیز جانتا ہوں کے زعم میں اس کی بے وقوفی اور خراب کارکردگی لوگوں کے لیے مذاق کا موضوع بن جاتی ہے۔  جیک‘‘ انگریزی کا ایک معروف نام ہے جسے کسی بھی عام فرد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
انگریزی ادب میں اس جملے کا استعمال چودھویں صدی سے شروع ہوا۔ جس کی مثال جان گوور کی نظم  میں ملتی ہے۔
اردو مضمون میں انگریزی بیانیہ ـ
براہ مہربانی اسے بونگے پن پر محمول مت کیجیے ۔ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ـ
حکمت و دانش مومن کی گم شدہ میراث ہے،
وہ اسے جہاں پائے حاصل کر لے۔ (ترمذی)۔
یہ مضمون لکھنے کا مقصد ہی معاشرے میں پائے جانے والی جیکوں( جعلی دانش وروں) کی شناخت و پہچان کرانا ہے تاکہ نامعقولیت کو ختم کیا جا سکے۔
جعلی و سفلی نظریات کو جڑ سے اکھاڑ کر دنیا کو امن وسکون اور راحت و مسرت کا گہوارہ بنایا جا سکے۔
احمق کے معنی ہیں، جس میں بات سمجھنے کی صلاحیت کم ہو یا نہ ہو، بیوقوف، ناسمجھ (مرد یا عورت)۔
لفظ احمق ’’حمق ‘‘سے مشتق ہے ۔’ ’حمق ‘‘ کا معنی ہے بے وقوفی ۔یہ عقل مندی کا متضاد ہے بلکہ اسے عقل کی خرابی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
بازار کی مندی کے اظہار کے لیے عربی زبان میں ’’حمقت السوق‘‘ لفظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
بے وقوف بھی عقلی طور پر مندی کا شکار ہوتا ہے اسی لیے اسے احمق کہا جاتا ہے۔ احمقوں کی پہچان کی داناؤں نے چھے نشانیاں بیان کی ہیں۔
(1)بلاوجہ غصے میں آنا،
(2)غیر مناسب جگہ پر مال اُڑانا،
(3)بلا فائدہ باتیں کرنا،
(4)ہر ایرے غیرے پر اعتماد کرنا،
(5)راز فاش کرنا،
(6)دوست دشمن میں فرق نہ کرنا اور اپنے آپ کو دانشورسمجھ کرجو دل میں آئے کہہ دینا۔
ذی عقل آدمی اپنے آغاز ہی سے انجام کے بارے میں فکر مند رہتا ہے۔
انجام کی فکر مندی اسے ہمیشہ خرابیوں سے روکتی ہے۔
عقل، آدمی میں فکر و تدبر پیدا کرتی ہے۔
شرف عطا کرتی ہے۔ آدمی مکلف ہوتا ہے،  اس کے اندرذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ عقل آدمی کو نقصان سے محفوظ رکھتی اور مذموم  قول و فعل سے بھی روکتی ہے۔

انسان کے پاس عقل سے بڑھ کر ہدایت اور بری چیزوں سے روکنے والی کوئی دوسری شئے موجودنہیں ہے۔
اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے (آل عمران 102)۔
علم سے عقل کو زندگی ملتی ہے جیسے آل عمران کی مذکورہ آیت واضح انداز میں اللہ سے اسی طرح ڈرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔
کسی بات کو فوراً سمجھ جانا ہی عقل مندی کی علامت ہے ۔
جو آدمی اپنے پیدائش کے مقصد، زندگی اور مقصد حیات کو نہ سمجھے، دراصل وہی سب سے بڑا احمق اور نادان ہے۔ علم عقل کی افزائش کے لیے ضروری ہے اور زندگی کے تجربات عقل میں نکھار پیدا کرتے ہیں۔
شریعت عقل و دانش کا مجموعہ ہے اور دین، عقل کے لیے روشنی کا کام کرتا ہے۔ بے شک شریعت اور شرعی مسائل و مقاصد عقل سے ہی سمجھے جاسکتے ہیں
لیکن یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ عقل جب تک شریعت پر قائم رہے، سیدھی رہتی ہے،
جیسے ہی شریعت سے اس کے پاؤں ڈگمگائے، وہ گمراہی کا شکار ہو جاتی ہے۔
عقل ابتدا ہو کہ انتہا وحی سے راہنمائی حاصل کیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
عقل و ہدایت کے سارے راستے بند ہیں سوائے ان لوگوں کے،
جنہوں نے قرآن اور اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زندگیوں کو منور کیا ہو۔
عقل سلیم وہی ہے جو آدمی کو اپنے وحشی نفس پر قابو پانے کی ترغیب دے اور طمع و لالچ سے دور رکھے۔ امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ ؓ نے فرمایا
انسان کا بنیادی فرض یہ ہے کہ اپنے نفس کو بے نیازی کی تربیت دے اور طمع کا شکار نہ ہو۔ اس کے بعد کوئی پریشانی آ جائے تو صبر کو اپنا شعار بنائے۔
ہر ایک سے فریاد نہ کرے کہ اس کی نگاہ میں ذلیل ہو جائے،
جب بولنے کا وقت آئے تو فکر کو زبان پر حاکم بنائے۔
زبان کو نفس کا حاکم نہ بنا دے کہ جو چاہے کہنا شروع کر دے۔
حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ عقل مند آدمی مختصر امیدیں رکھتا ہے۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰؓ  نے ایک مرتبہ حضرت عمر فاروقؓ سے فرمایا۔
اے امیر المومنین! اگر آپ کو یہ بات پسند ہے کہ آپ اپنے دونوں ساتھیوں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیقؓ سے جا ملو تو آپ اپنی امیدیں مختصر کریں اور کھانا کھائیں، لیکن پیٹ نہ بھریں اور لنگی بھی چھوٹی پہنیں، کرتے پر پیوند لگائیں اور اپنے ہاتھ سے جوتی گانٹھیں۔
اس طرح کریں گے تو ان دونوں سے جا ملیں گے۔
اللہ متقیوں کے عمل کو قبول فرماتا ہے۔
بہ زبان علامہ اقبالؒ

اس کی اْمیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز
نرم دمِ گْفتگو، گرم دمِ جْستجو رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز

عقل مندی کی تعریف حضرت سفیان بن عیینہ ؒیوں بیان کرتے ہیں۔
عقل مندی یہی نہیں ہے کہ اچھی بری چیز میں فرق کر لے،
بلکہ عقلمند وہ ہے جو اچھائی کو پہچان کر اپنا لے، اور برائی کو دیکھ کر اْس سے بچ جائے
ایک سو بیس (120)سالہ آدمی سے پوچھا گیا، عقل مندی کیا ہے؟
اس نے کہا، عقل مندی یہ ہے کہ  جہالت اور خواہشات پر تمہارا حلم غالب آ جائے۔
کسی دیہاتی سے عقل کے سب سے بڑے فائدے کے متعلق پوچھا گیا تو وہ کہتا ہے،
گناہوں سے بچنا۔
ابو حاتم عقلمندی کی درجہ بندی میں اسے سب سے اعلیٰ درجے کا عقل مند سمجھتے ہیں جو ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتا ہے۔
جس کی عقل پختہ ہو گی ،جس میں انتہادرجہ کی سمجھداری ہو گی اور جس میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہو گی وہ شخص یقیناً اپنے رب کا مطیع ہو گا۔
اسی کے ساتھ اپنا تعلق استوار رکھے گا اور عقل کے مطابق اس میں اطاعت و عبادت گزاری کا جذبہ بھی بدرجہ اتم پایا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
صرف عقل والے ہی نصیحت پکڑتے ہیں (آل عمران 7)۔
اس لیے کہا گیا ہے کہ وعظ نصیحت اسی شخص کو فائدہ دیتی ہیں جوعقل و حلم والا ہو اور سمجھدار و دانشور ہو۔
ابن قیم ؒ فرماتے ہیں، تمام لوگ بچپن والی عقل رکھنے میں مساوی ہیں،
ہاں وہی دانشور اور عقلمند لوگوں کے مقام پر پہنچتا ہے
جو حق کو علمی، عملی، اور معرفت کے انداز سے پہچان لیتا ہے۔
درحقیقت عقل والا وہی ہے جو ایک اللہ کی عبادت کرے کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے،
خود کو شہوتوں سے محفوظ رکھے،
اہل فسق وفجور ،بے عقل اور بے وقوفوں کی سطح پرکبھی خود کو نہ گرائے،
جاہلوں، گناہوں میں ملوث اور حرام کاموں کے دلدادہ افراد سے بچ کر ہمیشہ اللہ کی طرف توجہ کرے۔
،اگر کوئی گناہ سرزد ہو بھی جائے تو فوری توبہ کرے۔
اللہ رب العزت کے نزدیک دراصل یہ ہی لوگ عقل والے ہیں
جو توجہ سے بات کو سنتے ہیں پھر اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں،
یہی ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقل والے ہیں (سورۃالزمر18)۔

جعلی دانشوری کی پہچان

جعلی دانشور بہت تیزی سے بات کرتے ہیں۔
بات کرتے ہوئے گھبرا جاتے ہیں ۔
اگر کسی برے کام کا کہا جائے تو فوری کر گزرتے ہیں۔
جعلی دانشواران کو ان کے مزاج کے ہلکے پن،
سریع الغضب
جہالت
بے حیائی
، بد گوئی
، تکبر
، خود پسندی
، غفلت
، سستی
، نعمتوں کا ضیاع
، کم علمی
، اچھے لوگوں سے دشمنی
، برے لوگوں سے دوستی
، بنا تحقیق خبریں پھیلانا
، ہر وقت لڑائی جھگڑے میں مشغول رہنا
،یا جھگڑے و فساد بھڑکانے کے کاموں میں لگے رہنا
، بڑوں کی عزت نہ کرنا
، اور دوست احباب کو بھی چونا لگانا
وغیرہ جیسی صفات و علامات سے بخوبی پہچانا جا سکتا ہے۔
چنانچہ جوان مذموم صفات سے خو د کو بچاتے ہوئے ،ہر شئے کی حقیقت کو پہچان کر ذی عقل افراد کے نقش قدم پر چلتے ہیں نہ صرف وہ جعلی دانشوروں کے نقصانات سے محفوظ رہ سکتے ہیں
بلکہ عقل کے فیوض و برکات سے بھی مستفید ہوتی ہیں۔
علم والوں کے لیے ضروری ہے کہ سطحی سوچ اور حیران و پریشان لوگوں کے پیچھے لگے رہنے سے خود کو بچائیں کیونکہ یہ بے عقل جانوروں کے کام ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اللہ کے ہاں بدترین جانور وہ ہیں جو بہرے، گونگے اور بے عقل ہیں
(انفال 22)۔
امیر المومنین حضرت علی کی اپنے بیٹے حضرت حسن ؓ کو قبل از مرگ کی گئی نصیحتیں عقل کے متلاشیان کے حق میں زاد راہ کا کام کرتی ہیں۔
جب ابن ملجم ملعون  نے حضرت علیؓ کو جنجر مارا تو
حسن ؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ آبدیدہ تھے۔
علیؓ  نے فرمایا
اے میرے بیٹے!
کیوں رو رہے ہو؟
عرض کیا،  آج آپ کا آخرت کا پہلا دن اور دنیا کا آخری دن ہے۔
حضرت علیؓ نے فرمایا، چار اور چار (کل آٹھ) چیزو ں کو پلے باندھ لو۔
ان آٹھ چیزوں کو تم اختیار کرو گے تو پھر تمہارا کوئی عمل تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حضرت حسنؓ  نے عرض کیا،
ابا جان! وہ چیزیں کیا ہیں؟
فرمایا، سب سے بڑی مالداری عقلمندی ہے۔ یعنی مال سے بھی زیادہ کام آنے والی چیز عقل اور سمجھ ہے اور سب سے بڑی فقیری حماقت اور بے وقوفی ہے۔
سب سے زیادہ وحشت کی چیز اور سب سے بڑی تنہائی عْجب اور خود پسندی ہے اور سب سے زیادہ بڑائی اچھے اخلاق ہیں۔
حضرت حسن ؓفرماتے ہیں، میں نے کہا
اے اباجان! یہ چار چیزیں تو ہو گئیں، مجھے باقی چار چیزیں بھی بتا دیجیے۔
فرمایا : بے وقوف کی دوستی سے بچنا، کیونکہ وہ فائدہ پہنچاتے پہنچاتے تمہارا نقصان کر دے گا اور جھوٹے کی دوستی سے بچنا، کیونکہ جو تم سے دور ہے،
یعنی تمہارا دشمن ہے، اسے تمہارے قریب کر دے گا اور جو تمہارے قریب ہے، یعنی تمہارا دوست ہے، اسے تم سے دور کر دے گا
(یا وہ دور والی چیز کو نزدیک اور نزدیک والی چیز کو دور بنائے گا اور تمہارا نقصان کر دے گا) اور کنجوس کی دوستی سے بھی بچنا۔
کیونکہ جب تمہیں اس کی سخت ضرورت ہو گی،
وہ اس وقت تم سے دور ہو جائے گا اور بدکار کی دوستی سے بچنا، کیونکہ وہ تمہیں معمولی سی چیز کے بدلے میں بیچ دے گا۔  (حیاۃ الصحابہ حصہ سوم)
زندگی میں آپ کاسامنا کبھی نہ کبھی، کم از کم ایک ایسے آدمی سے ضرور ہوا ہو گا
جو، سب کچھ کے بارے میں کچھ تو ضرور کہنا چاہتا ہے
یا، دوسروں کی رائے و نقطہ نظر کو سمجھے بغیر رد کر دیتا
یا پھر ہمیشہ بحث و تکرار سے خو د کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے؟
تعجب نہ کیجیے ،یقیناً آپ کاسامنا ہوا ہو گا۔ اب تو یہ سانحات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ معاشرہ ایسے جعلی افلاطونوں سے بھرا پڑا ہے۔
اب پڑوس میں،
گلیوں میں،
نکڑوں پر،
بازاروں میں،
دکانوں میں،
اسکولوں،
کالجوں یونیورسٹیوں،
عبادت گاہوں،
عدالتوں،
تھانوں،
اقتدار کے ایوانوں،
دفتروں،
علمی ،
طبی ادبی،
تعلیمی،
رفاہی،
فلاحی و صحافتی اداروں اور انجمنوں میں ہر جگہ آپ کو جعلی دانشوران( جاہل افلاطون )بغیر کسی تلاش کے مل جائیں گے۔
آپ انھیں جاہل افلاطون کہہ لیجیے یا جعلی پھر دانشور یا دانشور نما جاہل۔ اس سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کو بھی ان سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
یقیناً ان نفوس بابرکات کی موجودگی سے آپ پر نمایاں فرق پڑے گا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ان کے بارے میں معلومات حاصل کی جائے کہ یہ جعلی دانشور،  جعلی افلاطون آخر کیا بلا ہیں؟
جعلی دانشوری کیا شے ہے؟
جعلی دانشور(سوڈو انٹیلیکچوئل )کی کیا پہچان ہے؟
ان سے کس طرح بچا جا سکتا ہے؟
اس مضمون کے ذریعے آپ کی توجہ جعلی دانشوروں کی جانب مبذول کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
اپنے اردگرد پائے جانے والے ان دانشوروں کو پہچان کر ان سے اعراض کریں،
ان کی اصلاح کا بیڑا اٹھائیں تاکہ سماج کو صحیح خطوط پر چلایا جا سکے۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles