33 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

انٹرویو برائے نوکری کچھ مشورے

فکاہیہ/مزاح

انٹرویو برائے نوکری
کچھ مشورے

 بینا صدیقی

کہاں چلے؟ کیا کہا؟ نوکری کے لئے انٹر ویو دینے جارہے ہیں ؟ تو بھئی سب سے پہلے تو چہرے سے فکر کے بادل ہٹائیے اور اس پر اعتماد کا خول چڑھائیے۔ کیا کہا؟ چہرے پر خول کیسے چڑھائیں کیونکہ اس پر تو کرونا کی وجہ سے ماسک لگا رکھا ہے۔
چلئے، ماسک کے نیچے اعتماد کا خول چڑھا لیجئے۔ بلکہ منہ پر وہ تمام چیزیں لگا لیں جس سے اعتماد میں اضافہ ہو اور وہ تمام چیزیں ہٹا لیں جس سے اعتماد میں کمی واقع ہو۔
جگہ جگہ نوکری اور انٹرویو میں ہم خواری کر کر کے بہت ہی ماہر ہو چکے ہیں۔ لہذا آپ کے لئے کچھ مشورے لائے ہیں۔ سکون سے بیٹھیں اور ان مشوروں پر عمل کر کے انٹرویو میں ایسی کامیابی حاصل کریں کہ نوکری مل جائے اور جگہ جگہ انٹرویو دینے سے چھٹکارہ مل سکے۔

اصول نمبر ایک

پورے انٹرویو کے دوران جس چیز کا سب سے زیادہ ذکر کریں وہ آپ خود ہوں۔ اس بات کا ڈھنڈورا پیٹیں کہ آپ اپنے آپ سے مکمل طور پر مطمئن ہیں اس لئے دوسروں کو بھی ہونا پڑے گا۔ اپنے بارے میں تفصیلی گفتگو کریں ۔ اپنی خوبیاں بڑھا چڑھا کر بیان کریں ۔ اس سلسلے میں بس اتنی احتیاط کریں کہ کہیں یہ نوکری واقعی مل گئی تو یہ خوبیاں گلے نہ پڑ جائیں۔
مثلاً اگر یہ کہہ ڈالیں کہ “سر میں بہت محنتی ہوں۔” تو سامنے بیٹھا شخص طے کر لے گا کہ آپ کو کسی گھسو پسو کا درجہ دے کے کام میں جوت دیا جائے۔ یہ بات اس طرح کہئے۔”سر میں کام کی نوعیت کے حساب سے بہترین ٹائم مینجمنٹ کرتا ہوں۔ 
چاہے بین السطور میں اس کا مطلب یہ ہو کہ مزے سے آرام کرتے رہیں گے اور جب کام سر پر آن پڑے گا تو افراتفری میں انجام دیں گے۔

اصول نمبر دو

سامنے بیٹھے شخص کی خوب تعریف کریں ۔ مثلاً “سر آ پ کی مونچھیں تو بہت ہی شاندار ہیں۔آپ پر بہت ہی جچ رہی ہیں۔”(واضح رہے کہ غائبانہ مونچھوں کی تعریف خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ اس لئے سامنے والے کے چہرے کا اچھی طرح جائزہ لے کے اس پر جو چیز موجود ہے اسی کی تعریف کیجئے۔)
اگر کوئی خاتون انٹرویو لے رہی ہیں تو پھر تعریف میں اور بھی احتیاط کیجئے۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ خواتین تعریف سن کر خوش ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خواتین صحیح وقت پر، صحیح انداز، صحیح فرد اور صحیح موقع پر تعریف سے خوش ہوتی ہیں۔ بے تکی، بے ڈھب اور بے موقع تعریف سے ان کے ناراض یا بدمزہ ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

اصول نمبر تین 

انٹرویو دیتے وقت ہر بات کا گول مول جواب دیں۔ چاہے سوال کتنا ہی چوکور کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر پوچھا جائے کہ “اگر عین چھٹی کے ٹائم پر کام آ جائے تو کیا کریں گے؟ “ہرگز یہ نہ کہئے کہ اُسی وقت کرنے بیٹھ جاؤں گا ورنہ نوکری سچ مچ مل جانے پر یہ ڈینگ مہنگی پڑ سکتی ہے۔ نہ ہی یہ کہئے کہ کام اگلے دن پر چھوڑ  کے گھر کی طرف نکل لیں گے۔ کیونکہ ایسے جواب کی صورت میں آپ کو نکما سمجھ لئے جانے کا امکان ہے ، جس کے نتیجے میں نوکری ملنا مشکل ہے۔ لہذا گول مول جواب دیجئے۔”سر ، کام کی نوعیت پر منحصر ہے۔ ” یا “صورت حال کے مطابق عمل کرنے کا عادی ہوں۔ یہ فیصلہ اسی وقت کروں گا سر کہ کام ابھی کرنا ہے یا اگلے دن؟ 

اصول نمبر چار

کسی بھی بات پر بحث نہ کی جائے بلکہ متفق ہونے کو کافی سمجھا جائے۔ یعنی سامنے والا جو بھی کہے، آپ کو محض ہاں میں ہاں ملانی ہے۔ بس اس بات کا دھیان رہے کہ ہاں میں ہاں غلط جگہ نہ مل جائے۔ مثال کے طور پر انٹر ویو لینے والا اگر یہ کہے۔”ہم بھی کتنے بے وقوف ہیں۔” اور آپ بڑ ھ چڑھ کے جواب دیں۔” جی ہاں سر ۔ یہ تو ہے۔ یہ بات تو میں نے بھی نوٹ کی ہے۔” یا سامنے انٹرویو پینل کے ایک سینئر سے صاحب آہ بھر کے کہہ رہے ہوں۔”ہماری تو ایک عمر ہوئی۔”اور آ پ لپک جھپک کہہ دیں۔”ہاں سر۔ اس انٹر ویو پینل میں سب سے زیادہ آپ ہی سٹھیائے ہوئے لگ رہے ہیں۔” تو ظاہر ہے ۔ ہاں میں ہاں ملانے کے اصول کے غلط استعمال کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے۔

اصول نمبر پانچ

ادارے کی بے تحاشہ تعریف کی جائے۔ یہ ظاہر کیا جائے کہ جس ادارے میں آپ انٹرویو دینے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ اس ملک تو کیا اس سیارے کا سب سے بہترین ادارہ ہے جس کی آپ  نے شہرت سن رکھی ہے۔( چاہے شہرت کالے کرتوتوں کی ہی کیوں نہ سُن رکھی ہو) ملک و قوم کی ترقی کا دارومدار اسی ادارے پر ہے بلکہ زمین سورج کے گرد جو گردش کرتی ہے وہ بھی اسی ادارے کی ہمہ وقت ترقی سے ممکن ہوسکا۔

کیا کہا؟ مزید اصول بتائیں؟ اگر ان ہی پانچ اصولوں پر عمل کر کے آپ کو نوکری مل گئی تو مزید اصولوں کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی اور اگر نہ ملی تو جب انہی پانچ اصولوں کی مدد سے نوکری نہ پا سکے تو ہمارے بتائے ہوئے دیگر اصولوں کا بھی یہی حشر ہو گا۔
اصل اصول یہ ہے کہ نوکری کے لئے ڈگری، اعتماد اور قسمت کے سوا کوئی اصول کام نہیں کرتا۔ اگر آ پ کا روزگار مطلوبہ ادارے سے بندھنا قسمت میں لکھا ہے تو انٹرویو چاہے جس اصول کے تحت دیا جائے آ پ نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جس کے لئے صرف ماں باپ کی دعائیں ہی کام آتی ہیں۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles