10 C
Lahore
Saturday, February 24, 2024

Book Store

گھر, دریچہ اور بچہ 

 گھر, دریچہ اور بچہ 

یہ نئے زمانے کی ایک لڑکی کی کہانی ہے جس کی شادی کو پانچ سال گزرے ہیں ۔ اس کی فرمائش پہ لکھی ہے کہ شاید کسی اور کو بھی قرار ملے ۔۔ اس کا کہنا ہے کوئی بھی انسان مکمل نہیں لہٰذا معاشرے میں انتشار نہیں پھیلانا چاہئیے ۔

تحریر: زارا مظہر

شادی سے پہلے میں ایک عام سی لڑکی تھی جس نے نو عمری میں اپنے جوان ہوتے جذبات کے درمیان ایک شعر اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیا تھا ۔۔
؎ایک عام سی لڑکی ہوں بہت عام سی سوچیں ہیں
ایک گھر ہو , دریچہ ہو , اک بچہ ہو ۔۔۔
پھر جب میری شادی ہوئی تو مجھے اندازہ ہوا کہ جب سے میرا نام احمد کے نام ساتھ جڑا ہے میں خاصی اہم سی بن گئی ہوں مجھے معتبر سمجھا جاتا ہے ۔۔ حالانکہ خالہ کا گھر میری سسرال تھا ۔ پہلے بھی آنا جانا تھا۔ ہم عمری کی وجہ سے خالہ کی بیٹی سے اچھا دوستانہ تھا لیکن اب میں اچانک اہم سی ہو گئی تھی۔ ہر کسی سے یہ کہہ کر تعارف کروایا جاتا کہ یہ احمد کی دلہن ہے ۔ ہر معاملے میں میری رائے لی جاتی ۔۔ اور اسے باقاعدہ اہمیت دی جاتی۔ احمد کے نام کے حوالے سے مجھے ہمیشہ سے بے پناہ پزیرائی ملتی، گویا اس نے مجھے اہم بنا دیا ۔۔
شادی کے پہلے برس ہی خالہ کو بچے کی آس لگ گئی۔ ہر روز دن گنتیں ان کے اشتیاق نے میرے اندر بھی بچے والی جوت جگا دی ۔ مجھے ڈائری پہ لکھا اپنا فرمائشی شعر یاد آنے لگتا ۔۔ جس کے پورے ہونے کا وقت آ گیا تھا ۔
ان کا اشتیاق دیکھ کر میں ہنستی ہم دونوں ساس بہو کا بس نہ چلتا کہ کیسے جلد از جلد بچے کو اپنے لئے ممکن کر لیں ۔۔ لیکن ابھی رب کو منظور نہیں تھا انگلیوں پہ دن مہینے شمار کرتے سال بھر گزر گیا اب مجھے بھی تھوڑی تھوڑی چنتا شروع ہوئی ۔
مجھے بچے بہت اچھے لگنے لگے اتنے کہ گھنٹوں بیڈ پہ پڑی بچوں کی ویڈیوز دیکھتی اسے کوکھ میں محسوس کرتی ایسے ہوتا ہوگا نہیں ایسے ہوتا ہوگا میں کئی تصورات جمع تفریق کرتی رہتی درد زہ کی لذت محسوس کرنا چاہتی تھی ۔۔
شدت سے جی چاہتا کہ دیکھوں چھاتیوں میں دودھ کس معجزے اور سائنس سے اترتا ہے؟ بچے کو دودھ پلانے کا احساس کیسا ہوتا ہے؟ بچہ گود میں بھرا ہو تو گود کی گرمی کیسے لگتی ہے؟ یہ سوال میرے اندر چکراتے رہتے.
جی چاہتا کوئی بھی راہ چلتا بچہ پکڑ کے گود میں بھر لوں اس کی نرمی گرمی کو محسوس کروں۔ چٹ چٹ اس کے ریشمی گلابی گال چوم چوم کے اور چاٹ چاٹ کے اپنی پیاس بجھاؤں۔ میرے ہمکتے دل کو کچھ قرار آئے ۔۔ میں شدتِ جوش سے اٹھ کے بیٹھ جاتی اور اپنی خالی کوکھ پیٹ ڈالتی۔ کب آئے گا میرا بچہ ۔۔
گھر میں اور بھی بہت سے کام تھے ۔ موسم آتے جاتے تھے۔  خاندان برادری میں خوشیاں غمیاں بھی ہوتی رہتی تھیں۔  احمد اور میری شادی سے پہلے بھی زندگی رواں دواں تھی، لیکن اب ایسے لگتا جیسے اس گھر کا سب سے اہم کام میرے ہاں بچہ ہونا ہے۔
گھر کا ذرہ ذرہ اور سونا آنگن ایک بچے کی کلکاریاں سننا چاہتا ہے۔ جیسے گھر کے تمام امور ایک بچے کی آمد کے لئے سرانجام دئیے جاتے ہوں۔ ہمارے گھر کی منی سی کائنات کو ایک بچے کا انتظار تھا ۔
گھر میں اور بھی بہت سے ادھورے کام تھے۔ ایک دیور کی ڈگری مکمل ہو کے نہیں دی رہی تھی۔ ایک نند کا رشتہ طے نہیں ہو رہا تھا۔ اوپر کی منزل میں دو کمرے ڈلوائے جانے تھے، جن کے لئے مناسب سرمایہ نہیں تھا کہ ایک بار ٹھیکدار گھر میں گھس گیا تو کنگلا کر کے ہی نکلے گا۔ پھر تمام ضروری کاموں کو لائن میں لگانا پڑے گا۔
فی الحال ان سب کاموں کی اہمیت کہیں دور رہ گئی تھی بچہ بس بچہ ۔۔ میرا اور احمد کا بچہ ۔ میری ساس نے کمرے کو دنیا بھر کے رنگ برنگے بچوں کی تصویروں سے بھر دیا تھا۔ مجھے ہر طرف بس ایک بچہ نظر آتا ۔ جبکہ احمد کو زیادہ پروا نہیں تھی۔ ہو جائے گا جب ہونا ہوگا۔ وہ لاپروائی سے کہہ دیتا ۔ گھر بھی تھا، دریچہ بھی لیکن بچہ کہیں رہ گیا تھا ۔
رفتہ رفتہ دو پھر تین سال گذر گئے ۔ یہ تین سال نہیں تین صدیاں تھیں چیونٹی بھی اس انتظار سے تیز چلتی ہے ۔ بچے کے لئے میری ہڑک ایک الاؤ بن گئی جو اندر بھانبھڑ بن کے دہک رہا تھا ۔ ساس کی منتظر سوالیہ نظریں اصرار کرتیں کہ جلدی بس جلدی ۔
اب میں جہاں بچہ دیکھتی وہیں سُن ہو جاتی۔ بے اختیار اسے تکتی رہتی ۔ میرا والہانہ پن دیکھ کے خاندان اور محلے والوں نے اپنے بچے مجھ سے چھپانے شروع کر دئیے ۔
ہر مہینے امید و بیم میں رہتی ہوگا کہ نہیں ۔۔۔۔ اس مہینے بھی ہوگا کہ نہین اتنا بوجھ سہہ سہہ کے میری دماغی حالت عجیب سی رہنے لگی حلیہ لاپروا سا ہو گیا ۔
رکے کام بھی نکل گئے دیور کی ڈگری مکمل ہو ہی گئی اگلے برس نند بھی اپنے گھر کی ہوئی بس میرا رکا ہوا بچہ نہیں آ پایا ۔۔ احمد نے بالا ہی بالا اپنا ٹیسٹ کروایا جو نیگیٹو نکلا۔ اس نے مجھے یا ماں کو بتایا تک نہیں اور ہمارے انتظار سے لاپروائی سے کھیلتا رہا ، جیسے معمولی نزلہ زکام کی رپورٹ ہو ۔ ۔۔
ایک دن اچانک سردی کے کپڑے نکالتے الماری کے اوپری خانے سے میرے ہاتھ وہ رپورٹ لگ گئی۔ نیگٹو رپورٹ دیکھ کر مجھے جھٹکا سا لگا۔ میں نے آنکھیں مل مل کے رپورٹ کو دیکھا۔ شائد غلطی لگ رہی ہو اور احمد کے آگے رپورٹ رکھ کے تسلی چاہی ۔۔۔
اس نے سر جھکا کے چپ چاپ اپنی نااہلی کی مہر ثبت کر دی ۔ اپنی ازدواجی زندگی میں مجھے کبھی کہیں کمی نہیں محسوس ہوئی تھی، پھر یہ رپورٹ کس کمی کا اعلان تھی؟ تم دوبارہ ٹیسٹ کرواؤ احمد ۔
اب کے ہم دونوں گئے اور ضد کر کے اپنا بھی ٹیسٹ کروا لیا۔ رپورٹ آنے پہ مجھ پہ پہاڑ گرا کمی ہم دونوں میں نکل آئی تھی۔ میں ٹوٹ کے ریزہ ریزہ ہو کے بکھر جانا چاہتی تھی۔ اپنا آپ ہوا سے بھی ہلکا لگ رہا تھا، لیکن احمد نے مجھے سنبھال لیا۔
اس کا صبر دیکھ کر مجھے بھی قرار سا آنے لگا ۔۔ کہیں اندر دور ایک پوشیدہ سی کمی رب کی طرف سے ہی رکھ دی گئی تھی۔ ہم اس ایک کمی کے ساتھ ہی اتنے بڑے ہوئے تھے۔ پڑھے لکھے تھے۔ دنیا داری کے اور بہت سے کام کرتے تھے۔ بہترین تربیت یافتہ تھے۔ ایک دوسرے کا خیال قیمتی اثاثے کی طرح رکھتے تھے۔
احمد والدین کا فرمانبرار بیٹا تھا چھوٹے بہن بھائی اور میری ڈھال بن جاتا تھا معاشرے میں عزت تھی ۔ میرے والدین کے گھر میں احمد کی مثالیں دی جاتی تھیں ۔
گزرے برسوں میں کئی بار اس نے کہا تھا کہ میری زندگی میں آکے تم نے مجھے مکمل کر دیا ہے پھر یہ کون سے ادھورے پن کی رپورٹ تھی میں ڈھے سی گئی ۔
ہفتہ لگا مجھے شاک سے نکلنے میں ۔ میرے اندر ایک ادھیڑ بن لگی تھی۔ احمد اہم ہے یا بچہ ۔۔ احمد اپنی تمام تر خوبیوں اور ایک خامی سمیت میرے سامنے تھا۔ دوسری طرف ایک جوئے جیسا خیال کہ اگر ہم الگ الگ ہو جائیں اور نئے ساتھی کے ساتھ ازدواجیات شروع کریں تو شائد ایک فیصد چانس ہو۔
ایک انجان آدمی سے ایک ان دیکھا بچہ تھا جو معذور بھی ہو سکتا تھا۔ کسی اخلاقی برائی میں بھی مبتلا ہو سکتا تھا یا احمد اور میرے جیسی کسی کمی میں یعنی ہماری کہانی پچیس تیس سال بعد دوبارہ دہرائی جاتی۔ پھر ایک جوڑا اس اذیت سے گزرتا جو میں نے جھیلی ۔
ایک بار مجھے اپنا بہنوئی یاد آیا غصے کا تیز تھا جو تین بچوں کے ساتھ کئی اخلاقی علتوں میں مبتلا تھا کئی بار بہن کو گھر سے نکال دیتا۔
غصے سے بچوں کو پیٹ ڈالتا تھا بہن اپنی آنکھوں میں جمے خون , سوجے منہ اور کھڑونجی کلائیوں کی صفائیاں دیتی رہتی تھی ۔
امی جہاندیدہ خاتون تھیں۔ بہانوں کی بنیاد سے سچ کھوج لیتی تھیں، لیکن بہن اپنی انا کا پھن مار کے پھر سے لوٹ جاتی کہ کچھ بھی کرے میرے بچوں کا باپ تو ہے ۔
خامیاں تو مجھ میں بھی تھیں پھر احمد کیوں مجرم کہلائے، جس کے لئے وہ دوشی بھی نہیں تھا۔
یہ کمی مجھ میں بھی تھی۔ میں نے واویلا کئے بنا یہ الزام صرف اپنے اوپر لینے کا فیصلہ کر لیا۔ مجھے کچھ بھی نہیں کرنا تھا بس منہ بند رکھنا تھا وہ میرا لباس تھا تو میں بھی تو اس کا لباس تھی میں اسے عریاں کیوں کروں ۔
اگر میں رپورٹ کی بنیاد پہ کسی خوش کن خیال میں اسے چھوڑ جاتی تو دوبارہ اس حقیقت کے ساتھ کون اس سے شادی کرے گا اور کون مجھ سے کرے گا ۔
اپنے دل کو ٹٹولا مجھے اس کے ساتھ کوئی بھی لڑکی کبھی برداشت نہیں ہو گی ۔
ان چند برسوں میں وہ مجھے ایسا عزیز ہوا تھا کہ اسے چھوڑنے کا خیال جان جانے جیسا تھا ۔ اسکا بھرم یعنی میرا لباس سلامت رہنا چاہئے تاکہ مجھ پہ کوئی ترس نہ کھائے ۔
میں نے رپورٹس پھاڑ کے پھینک دیں۔ اپنی ٹھاٹھیں مارتی ممتا کو تھپک دیا ۔ خالہ چند سال اور انگلیاں گنیں گی پھر چپ ہو جائیں گی ۔
دیکھنے میں میں ایک بالکل عام سی لڑکی ہوں بہت عام سی مصروفیات ہیں جیسے بہت سے گھروں میں ہوتی ہیں لیکن اس فیصلے نے مجھے میری نظروں میں بہت معتبر بنا دیا ہے ۔
ایک کمی ہے تو کیا ہوا کسی میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے، کسی میں تربیت کی، کسی میں روپے پیسے دھن دولت کی تو کسی میں ظاہری جسمانی کمی ۔۔
وہ سب بھی تو زندگی گزار رہے ہیں اور پھر احمد کی اور میری کمی ایسی ہے کہ معجزہ بھی ہو سکتا ہے ۔
معجزے کے انتظار میں چند سال اور کھسک جائیں گے۔ شائد دریچے میں بچہ آ جائے اور میرا ادھورا شعر مکمل ہو جائے یا پھر شائد بچے کے لئے ہماری تڑپ کم ہو جائے۔
پوچھنے والوں کو بھی صبر آ جائے گا اور میرے رب نے اپنے ہاں میری اس محرومی کا کوئی بڑا اجر تو رکھا ہی ہو گا ۔۔ میں احمد کو کبھی نہیں چھوڑ سکتی ۔۔۔
غلط ہے یا درست یہی میرا آخری فیصلہ ہے ۔

۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles

Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock