33 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

فلاح کیا ہے؟

(چوتھا خط بہ ترتیب ویب سائٹ شان اردو)
امامیات ( مکاتیب ) خط نمبر ۲
خط بنام دختر ( ۲)
جان سے پیاری !
السلام علیکم !
اب کے خط لکھنے میں تاخیر ہو گئی ۔ سردیوں کی آمد آمد ہے اور تم تو جانتی ہو اس موسم کے آغاز کے ساتھ ہی متعدد بیماریاں مجھے گھیر لیتی ہیں ۔ لیکن یقین مانو دل ہمہ وقت تم میں ہی اٹکا رہتا ہے ۔
میری بچی مجھے اس بات کا احساس ہے کہ ہر شخص زندگی میں جو بھی سیکھتا ہے اپنے تجربات سے سیکھتا ہے ۔ اپنے ہی تجربے سے سیکھ کر چیزوں کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے ۔
دوسروں کی نصیحت ہمیں اکثر ناگوار گزرتی ہے ۔ پیاری بیٹی میرے اور تمھارے رشتے میں میں نصیحت کے بوجھ کو شامل نہیں کرنا چاہتی ۔
بس ان خطوط کے ذریعے تم سے اپنے دل کی بات کہہ دیتی ہوں ۔ اور تمھاری کہی سن لیتی ہوں ۔جیسے دو سکھی سہیلیاں آپس میں بیٹھ کر کہہ سن لیا کرتی ہیں ۔
پچھلے خط میں تم سے ” فلاح ” کا تذکرہ کیا تھا ۔ میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ اللہ ہم سے بار بار فلاح کی بات کیوں کرتے ہیں ۔ اور آخر انسان کی فلاح ہے کیا ۔
دنیا کے چلن کو دیکھا تو یوں محسوس ہوا کہ وہ انسان جس  نے اچھا کمایا اچھا پہنا اوڑھا اچھا کھایا بہتر گھر گاڑی زندگی کی سہولیات سے مزین ہوا دنیا نے اسے کامیاب انسان کے لقب سے نوازا ۔
لیکن ایسی کامیابی بھی مجھے بے چینی میں مبتلا کر دیتی۔ زندگی گزارنے کے لیے ان تمام لوازمات کا ہونا ازحد ضروری ہے ۔ لیکن کیا یہی لوازمات فلاح کا بھی باعث ہیں ۔
ہر متجسس بچے کے اندر سوالات کے جوار بھاٹا اٹھتے ہیں ۔ میں بھی متجسس رہی ۔ بالکل ایسی ہی جیسی اب تم ہو ۔
سوالات کرتی اپنی گول آنکھوں کو تم جب مزید گول گول گھماتی تو مجھے اپنا بچپن یاد آ کے رہ جاتا ۔
ایک دن لغت میں فلاح کے معنی مل گئے۔
فلاح کسان کو کہتے ہیں۔
کیسی عجیب بات تھی کہ کامیابی کی مثال کسان کو مدنظر رکھ کر دی جا رہی تھی ۔
کسان کی زندگی پہ غور کیا تو جیسے الگ ہی دنیا وا ہو گئی ۔
زندگی کو با مقصد اور با معنی بنانے کے لیے ہمیں کسان کے فلسفہ حیات پہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
کسان زمین کو پانی لگا کر نرم کرتا ہے ۔ پھر زمین کی گوڈی کر کے اس میں بیج بوتا ہے ۔
” بیج ” جو زمین کے اندر چھپ جاتا ہے ۔ کسان آس اور امید کو قائم رکھتا ہے کہ اس زمین کے اندر سے ضرور بالضرور کونپل پھوٹے گی ۔ ہم انسان ذرا دیر اندھیرے میں آ جائیں یا ذرا سی دیر کو بھی کسی شے کی حقیقت ہم سے چھپی رہے تو ہم ہزار گمان کر ڈالتے ہیں ۔ اور اپنے کئے گئے گمانوں سے ہی مایوس ہونے لگتے ہیں ۔ لیکن کسان ہمیشہ بیج بونے کے بعد اللہ کی رحمت سے پر امید رہتا ہے ۔
اور ایک دن اس بیج سے کونپل پھوٹ نکلتی ہے ۔ ننھا پودا فصل بننے تک جن مراحل سے گزرتا ہے۔ ان تمام مرحلوں میں کسان کی ہمت عزم اور محنت ہر لمحہ شامل رہتی ہے ۔
اور اس تمام مشقت کے بعد فصل کی صورت اسے اپنی محنت کا صلہ مل جاتا ہے ۔ جو اسے خوشی اور آسودگی سے نہال کر دیتا ہے۔
تو میری بچی جان لو کہ فلاح وہ کامیابی ہے جو کڑی محنت اور سخت مشقت کے بعد ملتی ہے ۔ لیکن جب مل جاتی ہے تو انسان کو مطمئن ‘ آسودہ اور خوشحال کر دیتی ہے ۔
فلاح کے معنی تو جان لیے تھے اب یہ سمجھنا باقی تھا کہ فلاح پا لینے والے کون لوگ ہیں۔
جس دن ان کو جان لیا مانو ایک طلسم ہوشربا کھل گئی۔ زندگی رہی تو کبھی تمھیں ضرور بتاؤں گی کہ فلاح پا لینے والے کون ہیں۔
ابھی کے لیے تو فقط یہ جان لو کہ جو کامیابی پلیٹ میں رکھ کر مل جائے اسے کافی مت جاننا۔
یاد رکھنا کہ جس شے کے حصول کے لیے تم نے اپنا خون پسینہ بہایا ہو گا اس شے کا مل جانا نہ صرف الوہی خوشی سے ہمکنار کرتا بلکہ طمانیت ‘ اپنی ذات پہ اعتماد اور محنت کی عظمت سے آگاہ بھی کرتا ہے ۔
اپنا خیال رکھنا ۔ خالہ اور بڑے ماموں کو سلام کہنا
والسلام
تمھاری والدہ
سمیرا امام
۵ نومبر ۲۰۱۹

پیاری دوستو !
کچھ وقت ادھر ہم نے خطوط لکھنے کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا ۔
یہ خطوط ہمارے والدِ محترم کی ہم سے کی گئی ان کی تمام عمر کی نصیحتیں تھیں ۔ زندگی کے ہر مرحلے پہ جب ہم ہمت ہارنے لگتے ہیں ہمارے کانوں میں مرحوم والد کی آوازیں گونجتی ہیں ان کے ہمت بھرے جملے ہمارے کاندھے تھپتھپاتے ہیں ۔ اور ہم اپنے عزم اور حوصلے کو بلند کر کے دوبارہ اسی جوش اور جذبے سے جُت جاتے ہیں ۔
ہمارے والد کا شمار ان والدین میں سے تھا جو شاہین کی طرح اپنے بچے کو پہاڑ کی چٹان پر سے گرا کر انکو اپنے پر کھولنے کا حوصلہ دینے والوں میں سے ہوتے ہیں ۔
انکا لاڈ اور پیار فقط یہ تھا کہ خود اڑو ۔ وہ اڑنے کے لیے ہمیں حوصلہ دے سکتے تھے ۔ ہمت بندھا سکتے تھے لیکن اڑانے میں کوئی مدد نہ کرتے اس وقت وہ آنکھیں ماتھے پہ رکھ لیتے ۔
اور ہم غصے سے ایسی اڑان بھرتے کہ خود ہمیں بھی یقین نہ آتا ۔ کہ ہم اس قدر بلند پرواز بھر چکے ہیں ۔
بے جگری ، بے خوفی ، نڈر اور بے باکی سے زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا انھوں  نے سکھایا ۔
انکی زندگی میں ہم چیتے کا جگر رکھتے ۔ انکی موت سے لگا ہم کمزور ہو گئے ۔ لیکن انکی آواز کانوں میں گونجتی ۔
جھکنا مت ۔
ڈرنا نہیں ۔
اصولوں پہ ڈٹ جاؤ تو سر کٹوا لینا ۔
اپنا وعدہ نبھانا ۔
اپنی زبان سے کبھی مت پھرنا ۔
اور ہم اسی جوش اور جذبے سے آگے بڑھتے ۔
ان خطوط میں اگر کچھ اچھی باتیں ہیں تو وہ بابا کی کہی گئی ہیں ۔ اگر کچھ کمزوریاں ہیں تو وہ میری ذات کی ہیں ۔
اگر آپکو ان سے کوئی فائدہ ہوتا ہے تو میرے والد کی مغفرت کے لیے دعا کر دیجیے گا ۔
ان خطوط کو بہت سی بہنوں نے سراہا ۔ کئی بہنوں نے اپنی پیاری بچیوں کو جہیز کے تحفے کے طور پہ یہ خطوط دئیے ۔ کئی بہنوں نے ان کو پڑھ کر مجھ سے رابطہ کر کے اپنے دلوں کے حال سنائے ۔
ان خطوط نے بہت عزت دی حالانکہ یہ فقط اپنی یاد دہانی کے لیے لکھے گئے تھے ۔ مجھے لگتا میری اولاد کو کون بتائے گا کہ زندگی کیسے گزارنے کی ضرورت ہے ؟؟
انکے نانا دنیا سے جا چکے ۔ وہ نانا جو تب تک تحمل سے سمجھایا کرتے جب تک کسی بات کو عادت ثانیہ نہ بنا لیتے ۔
جزاک اللہ خیرا
سمیرا امام

 

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles