24 C
Lahore
Tuesday, April 16, 2024

Book Store

ایتھوپین ایئر لائن اور خانہ جنگی


ساتواں باب

ایتھوپین ایئر لائن اور خانہ جنگی

محمد توفیق

کھلاڑی جاپان میں
کھلاڑی جاپان میں

”ایئر برج “سے گزر کر جہاز میں قدم رنجا کیے۔ کھلاڑیوں کو یہاں بھی چین نہیں۔ کوئی آگے یا پیچھے بیٹھنے کا فوائد بیان کر رہا ہے، کوئی دائیں یا بائیں کی بحث میں الجھا ہُوا۔
اب ایتھوپین ایئر لائن میں عدیس ابابا تک بارہ گھنٹوں پر محیط طویل مسافت کا مرحلہ درپیش ہے۔ جہاز میں ہماری میزبان کالی میمیں ہیں، لیلیٰ جیسی کالی، رسی جیسے بالوں والی، اسی طرح موٹی خربوزہ انگلیاں جیسے مجنوں کی پسلیاں، الحمد للہ، اللہ جھوٹ نہ بلوائے، ایتھوپین ایئر لائن نے ایئر ہوسٹس کا انتخاب اس احتیاط کے ساتھ کیا ہے کہ اہلِ ایمان کو کسی امتحان سے نہ گزرنا پڑے۔
اپنے اپنے ذوق کی بات ہے۔ صورت ِحال، ہوائی میزبانوں میں نسوانیت کے سوا سب کچھ ہے۔ نسل پرستی کے مبینہ الزام سے پہلو بچاتے ہُوئے ہماری تو سیاہ رنگت سے بنتی نہیں۔رابرٹ موگابے  نے کہا تھا،
”اگر آپ بدصورت ہیں تو آپ بد صورت ہیں، یہ اندرونی خوبصورتی والی بکواس بند کریں، آپ ہر جگہ ایکسرے لے کر نہیں جاتے“
۔ویسے اپنی اپنی پسند، ذوق اور دیکھنے کے زاویے و انداز ہیں۔
بقول ساغر صدیقی:

تجھ کو ملے ہیں قریۂ مہتاب میں گڑھے
مجھ کو تو پتھروں میں بھی رعنائیاں ملیں

ایتھوپین ایئر لائن میں سفرہماری مجبوری ہے، خواہش نہیں۔ ایتھوپیا میں خانہ جنگی ہو رہی ہےاور یہ ہوائی سفر کے حوالے سے 100 فیصد محفوظ نہیں۔
ایتھوپیا اور موجودہ اریٹیریا کے مابین خانہ جنگی کا آغاز “TIGRAY”کے علاقے میں 3 نومبر 2020ء سے ہُوا۔ CNNکی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایتھوپین ایئر لائن کے مسافر بردار طیاروں کو باغیوں کے خلاف “TIGRAY” کے علاقے میں سرکوبی کے لیے اسلحہ و گولہ بارود کی فراہمی کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے،
جس سے عدیس ابابا اب باغیوں کے ہدف پر ہے۔
وزیر اعظم عدی احمد کے اقتدار کا سنگھاسن ڈول رہا ہے۔ باغی اب دارالحکومت سے محض تیس کلومیٹر کے فاصلے پردستک دے رہے ہیں۔
خوش قسمتی سے طیارے کی بیشتر نشستیں خالی ہیں سو اپنی اوقات سے بڑھ کر پاؤں پھیلانے کا موقع مل گیا ہے۔ فضائی میزبان سر کے نیچے دو چھوٹے تکیے سلیقے سے دھر گئی ہے۔
چار نشستوں کو باہم جوڑ کر آرام دہ بستر کی شکل دی اور سات آٹھ گھنٹے خوابِ خرگوش کے مزے لیے۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ تمام خواتین گھوم گئیں جنہوں نے میری زندگی میں اپنے اپنے مقام پر مجھے تکیے دیے تھے۔ عورت کی محبت کا سب سے بڑا مظہر مرد کو تکیہ دینا ہے۔
وہ کیسے بھی آرام سے کیوں نہ بیٹھا ہو، عورت اسے سہارا ضرور دے گی، چاہے وہ سہارا کتنا ہی وقتی کیوں نہ ہو، چاہے وہ عورت کیسی بھی کاروباری کیوں نہ ہو،  وہ قیام کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو، طوائف ہو یا ایئر ہوسٹس، تکیہ ضرور پیش کرے گی۔
ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ کے تین ٹائم زونز سے گزرنے کے باعث نیند اور بھوک اُپل تھپل کا شکارہے۔
انجنوں کے پھیپھڑےدھونکنی کی طرح چل رہے ہیں اور جہاز اب بادلوں سے اوپر محوِ پرواز ہے۔
پرواز ہموار ہوئی تو موٹے رسوں جیسے بالوں والی فضائی میزبانوں نے مسافروں کی ضیافت ناشتہ نما کسی چیز سے کروائی۔
مسافروں کو جو الم غلم دستیاب ہُوا، ٹھوس لیا، ”کوشر فوڈ“ کے تکلف میں کوئی نہیں پڑا۔
اب ”ام الخبائث“ کی ٹرالیاں گردش میں آ گئیں۔ ہر مسافر کی پسند کے مطابق کھولی جاتی اور اس کے ظرف کے مطابق انڈیلی جاتی۔
بعض بوتلوں پر کاک کے بجائے سریلا پیمانہ لگا ہُوا ہے جو مقررہ مقدار کے بعد موسیقی اور ساقی گری دونوں بند کر دیتا ہے۔
کچھ مسافر اپنے حصے کے کوٹے سے زیادہ لے چکے مگر طبیعت سیر نہیں ہو رہی۔  وہ ”ٹن“ ہو کر مزید ”گریوی“ کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ فضائی میزبانوں کا ہاتھ تنگ ہے۔
ہوائی جہاز بادلوں، پہاڑوں اور وادیوں پر اُڑنے کے ساتھ ساتھ تجارتی مہمانداری کی بلندیوں اور پستیوں پر بھی سفر کر رہا ہے۔
مے نوشی کی اس مفت بری سے استفادہ نہ کرنے کا ایک فوری فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ انسان مے خواروں کی کم ظرفی کا بطور تماشائی بالمشافہ مشاہدہ کر سکتا ہے۔
مشاہدے کو کس طرح تجربے میں بدلا جا سکتا ہے، یہ مجھے آوارگی  نے ہی سکھایا۔
ساقی گری اختتام کو پہنچی تو جہاز کی اندرونی بتیاں گُل کر دی گئیں تاکہ مسافر الکحل کے زیر اثر نیند کی وادیوں میں کھو کر ”حوروں“ سے ہم کلام ہو سکیں۔
کچھ مسافر جہاز کی راہداریوں میں چہل قدمی بھی کر رہے ہیں تاکہ ٹانگوں میں خون کی گردش بحال رکھی جا سکے۔ مسافر بھی جہاز کی دم تک کئی چکر کاٹ آیا ہے۔
آخری نشست پر بدمعاش نیگرو  نے نیم تاریکی کا فائدہ اُٹھا کر اپنی گرل فرینڈ کے کولہے پر چٹکی لی تو اس نے اس بیہودگی کا خاصا برا منایا،
”باسٹرڈ! ڈونٹ بی سلی“،
”باسٹرڈ“ نے ایک آنکھ میچ اور شانے اُچکا کر دوبارہ وہی عمل دہرانے کی دھمکی دی، اس مرتبہ اس خرافہ کا ردعمل نیم رضامندی والا ہی تھا۔ عورت کی ہاں اور ناں میں بال سے کم فرق ہوتا ہے۔ وہ آہستگی سے بولی ”اسٹوپڈ“ اور ساتھ ہی اسے امریکی محاورے کی مصداق ”کالی آنکھ“ (Black Eye) کے ساتھ گھر بھیجنے کی بے ضرر سی دھمکی بھی دے ڈالی۔
اُدھار مارکہ مونچھوں والے نیگرو  نے اسے نیم رضامندی جان کر طویل بوسہ لیا۔ جوڑے کو آزادئ عمل کے فلسفے کو عملی جامہ پہنانے پر آمادہ دیکھ کر مسافر  نے ”بیک ٹو پویلین“ میں ہی عافیت جانی۔
ایتھوپین ایئر لائن کی پرواز میں تمام عملہ سیاہ فام اور ان کی چیف ہوسٹس ایتھوپیا کا روایتی ثقافتی لباس زیبِ تن کیے ہُوئے ۔
زیادہ تر مسافروں کا تعلق بھی ایتھوپیا سے ہی ہے ، عادتاً وہ پاکستانیوں جیسے ہی ہیں۔
وہی ہڑبونگ، غلاظت سے اَٹے واش روم، جابجا بکھری ڈسپوزایبل کراکری و کمبل ۔ ایئر ماریشس کی ایک فلائٹ میں تو خاتون نے ٹوائلٹ میں بچے کو جنم دیا اور نو مولود کو وہیں چھوڑ کر سیٹ پر جا بیٹھیں جیسے انہیں کچھ بھی علم نہیں۔
طیارے کے اترتے ہی بار بار کی ہدایات کے باوجود ہینڈ کیری کے لیے یوں لپک رہے ہیں جیسے خدانخواستہ جہاز میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
چار گھنٹے پچاس منٹ کے بعد ہم عدیس ابابا کے ”بول“ایئر پورٹ پر اترے ، جس کا افتتاح 2003ء میں ہُوا۔
سابقہ ایئر پورٹ ”ہیل سلاسی“ کہلاتا تھا۔ ”بول“ ایئر پورٹ عدیس ابابا کے جنوب مشرق کی جانب چھے کلو میٹر پر واقع ہے۔ یہاں موسم خلافِ توقع سرد ہے۔


مصنف کا تعارف
نام: محمد توفیق
سینئر نائب صدر پاکستان ٹینس فیڈریشن،
چیئرمین ڈیویلپمنٹ کمیٹی پاکستان والی بال فیڈریشن
قومی سلیکٹرپاکستان سکواش فیڈریشن
ولدیت: میجر (ر) محمد طارق اعوان
تاریخ و جائے پیدائش: 8 اکتوبر 1960ء ، شیرانوالہ گیٹ ہری پور ہزارہ
تعلیم: ایم اے معاشیات، ایم اے سیاسیات، ایم بی اے ایگزیکٹو
تعلیمی ادارے: برن ہال سکول، گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد، ایچی سن کالج لاہور
پاکستان کی نمائندگی: سیول اولمپکس، اٹلانٹا اولمپکس، بیجنگ ایشین گیمز، کلکتہ سیف گیمز،کامن ویلتھ گیمز آسٹریلیا،
ڈیوس کپ ٹینس، ومبلڈن ٹینس،ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس، ایشیائی والی بال چیمپئن شپ جاپان،
ایشیائی اسکواش چیمپئن شپ بھارت، انٹرنیشنل سیٹلائٹ ٹینس شام، والی بال منیجر قطر، ایران، دوبئی
سپورٹس کمنٹری/اینکر پرسن: پی ٹی وی ایوارڈ یافتہ ،ورلڈ کپ فٹبال، ورلڈ اولمپکس سمیت 30 کھیلوں پر رواں تبصرہ
عالمی سیاحت: امریکہ، فرانس، برطانیہ، ہالینڈ، بیلجیم، سپین، اٹلی، چین، آسٹریا، چیکو سلوواکیہ، سوئٹزرلینڈ، جاپان، ڈنمارک،
ناروے، روس،جرمنی، جنوبی کوریا، سویڈن، سلوواکیہ، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات،سعودی عرب،
بنگلہ دیش، ایران، بھارت، نیپال، قطر، شام، ازبکستان، ایتھوپیا
تصانیف:
ستارے سفر کے دیکھتے ہیں
بمبئی براستہ مدراس
تری خوشبو سفر میں ہے
تیرا میرا سارا سفر
کھیل کا ارتقائی سفر
اولمپکس اور فٹبال
کھیل اور کھلاڑی
اردو سفر نامے کا گل خود رو
واہ کی تہذیب اور فنون ِ لطیفہ
شمشیر و سناں اوّل
کھلاڑی جاپان میں(سفرنامچہ)


محمد توفیق
محمد توفیق
مصنف کا تعارف نام: محمد توفیق سینئر نائب صدر پاکستان ٹینس فیڈریشن، چیئرمین ڈیویلپمنٹ کمیٹی پاکستان والی بال فیڈریشن قومی سلیکٹرپاکستان سکواش فیڈریشن ولدیت: میجر (ر) محمد طارق اعوان تاریخ و جائے پیدائش: 8 اکتوبر 1960ء ، شیرانوالہ گیٹ ہری پور ہزارہ تعلیم: ایم اے معاشیات، ایم اے سیاسیات، ایم بی اے ایگزیکٹو تعلیمی ادارے: برن ہال سکول، گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد، ایچی سن کالج لاہور پاکستان کی نمائندگی: سیول اولمپکس، اٹلانٹا اولمپکس، بیجنگ ایشین گیمز، کلکتہ سیف گیمز،کامن ویلتھ گیمز آسٹریلیا، ڈیوس کپ ٹینس، ومبلڈن ٹینس،ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس، ایشیائی والی بال چیمپئن شپ جاپان، ایشیائی سکواش چیمپئن شپ بھارت،انٹرنیشنل سیٹلائٹ ٹینس شام، والی بال منیجر قطر، ایران، دوبئی سپورٹس کمنٹری/اینکر پرسن: پی ٹی وی ایوارڈ یافتہ ،ورلڈ کپ فٹبال، ورلڈ اولمپکس سمیت 30 کھیلوں پر رواں تبصرہ عالمی سیاحت: امریکہ، فرانس، برطانیہ، ہالینڈ، بیلجیم، سپین، اٹلی، چین، آسٹریا، چیکو سلوواکیہ، سوئٹزرلینڈ، جاپان، ڈنمارک، ناروے، روس،جرمنی، جنوبی کوریا، سویڈن، سلوواکیہ، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات،سعودی عرب، بنگلہ دیش، ایران، بھارت، نیپال، قطر، شام، ازبکستان، ایتھوپیا تصانیف: ٭ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں ٭ بمبئی براستہ مدراس ٭ تری خوشبو سفر میں ہے ٭ تیرا میرا سارا سفر ٭ کھیل کا ارتقائی سفر ٭ اولمپکس اور فٹبال ٭ کھیل اور کھلاڑی ٭ اردو سفر نامے کا گل خود رو ٭ واہ کی تہذیب اور فنون ِ لطیفہ ٭ شمشیر و سناں اوّل ٭ کھلاڑی جاپان میں(سفر نامچہ)

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles