33 C
Lahore
Tuesday, June 18, 2024

Book Store

دلیر مجرم

دلیر مجرم
ابن صفی
تلخیص
انجم،انڈیا

ڈاکٹر شوکت اپنی چھوٹی سی خوب صورت کار میں بیٹھ کر شہر کی طرف روانہ ہو گیا ۔ وہ سول ہسپتال میں اسسٹنٹ سرجن کی حیثیت سے کام کر رہا تھا ۔ دماغ کے آپریشن کا ماہر ہونے کی حیثیت سے اس کی شہرت دور دور تک تھی ۔ وہ چوبیس پچیس برس کا ایک خوب صورت اور وجیہہ نوجوان تھا۔ اپنی عادات و اطوار اور سلیقہ مندی کی بنا پر وہ سوسائٹی میں عزت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا ۔ آج کا آپریشن وہ کل پر بھی ٹال سکتا تھا لیکن اس کے ضمیر  نے گوارا نہ کیا ۔
سیتا دیوی اکثر اس کی بھاگ دوڑ پر جھلا بھی جایا کرتی تھیں ۔ انھوں نے اپنی دم توڑتی سہیلی جعفری خانم سے جو وعدہ کیا تھا، اسے آج تک نبھائے جا رہی تھیں ۔ انھوں  نے ان کے بیٹے کو ان کی وصیت کے مطابق ڈاکٹری کی اعلیٰ تعلیم دلا کر اس قابل کر دیا تھا۔ وہ ڈاکٹر شوکت اور ایک ملازمہ  کے ساتھ نشاط نگر نامی قصبے میں رہ رہی تھیں جو شہر سے پانچ میل کی دوری پر واقع تھا ۔
دوسرے دن صبح آٹھ بجے جب ڈاکٹر شوکت واپس آیا تو اس نے ملازمہ کو حد درجہ پریشانی اور سراسیمگی کی حالت میں پایا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ سیتا دیوی خلاف معمول ابھی سو رہی ہیں ، حالانکہ ان کا روزانہ کا معمول تھا کہ صبح تقریباً پانچ ہی بجے سے اٹھ کر پوجا پاٹ کے انتظام میں مشغول ہو جایا کرتی تھیں۔
شوکت کو بھی اس واقعے سے تشویش ہو گئی۔ نو بج گئے لیکن سیتا دیوی نہ اٹھیں۔ اب شوکت کی پریشانی حد سے زیادہ بڑھ گئی ۔ اس  نے دروازہ پیٹنا شروع کیا لیکن بے سود ۔ اندر سے کوئی جواب نہ ملا ۔ تھک ہار کر اس نے ایک بڑھئی بلوایا ۔
دروازہ ٹوٹتے ہی اس کی چیخ نکل گئی ۔
سیتا دیوی سر سے پاؤں تک کمبل اوڑھے چت لیٹی ہوئی تھیں اور ان کے سینے میں ایک خنجر اس طرح پیوست تھا کہ صرف ایک دستہ نظر آرہا تھا ۔ بستر خون سے تر تھا ۔
* * *
سارے گھر میں ایک عجیب سی ماتمی فضا طاری تھی ۔ قصبے کے تھانے پر اطلاع ہو گئی تھی اور اس وقت ایک انسپکٹر اور دو ہیڈ کانسٹیبل مقتولہ کے کمرے کے سامنے بیٹھے سرگوشیاں کر رہے تھے ۔
تقریباً دو گھنٹے بعد انسپکٹر فریدی بھی اپنے اسسٹنٹ سارجنٹ حمید کے ساتھ وہاں پہنچ گیا ۔
ڈاکٹر شوکت! فرید نے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔ اس نقصان کی تلافی ناممکن ہے، البتہ رسمی طور پر میں اپنے غم کا اظہار ضرور کروں گا ۔
انسپکٹر! آج میری ماں مرگئی۔ شوکت کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔
کہیے داروغہ جی! کچھ سراغ ملا ؟ اس نے سب انسپکٹر کی طرف مڑکر کہا۔
ارے صاحب! ہم بے چارے بھلا سراغ لگانا کیا جانیں۔ سب انسپکٹر طنزیہ انداز میں بولا۔
فریدی نے واقعات سننے کے بعد خادمہ کا بیان لینے کی خواہش ظاہر کی ۔
کیا تم بتا سکتی ہو کہ رات میں تم  نے کوئی آواز سنی تھی ؟
جی نہیں، سوائے اس کے کہ وہ دیوی جی کے بڑبڑانے کی آواز تھی۔ وہ اکثر سوتے وقت بڑبڑایا کرتی تھیں۔
ہوں! کیا تم بتاسکتی ہو کہ وہ کیا بڑبڑا رہی تھیں؟
وہ راج روپ نگر، راج روپ نگر چلا رہی تھیں ۔ میں نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا کیونکہ میں ان کی عادت سے واقف تھی ۔
ہوں! اچھا۔ فریدی نے کہا ۔اب میں ذرا لاش کا معائنہ کرنا چاہتا ہوں ۔
وہ سب لوگ اس کمرے میں آئے جہاں لاش پڑی ہوئی تھی۔ اس نے وہ چھرا سب انسپکٹر کی اجازت سے مقتولہ کے سینے سے کھینچ لیا اور اس کے دستوں پر انگلیوں کے نشانات ڈھونڈنے لگا ۔ پھر وہ کھڑکی کی طرف گیا اور جھک کر نیچے کی طرف دیکھنے لگا۔ کھڑکی پر پڑی ہوئی گرد کی تہ کئی جگہ صاف تھی اور ایک جگہ ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کے نشان ۔
یہ تو صاف ظاہر ہے کہ قاتل اس کھڑکی سے داخل ہوا ۔ فریدی  نے کہا ۔  قاتل نے دستانے پہن رکھے تھے اور وہ ایک مشاق خنجر باز معلوم ہوتا ہے ۔
پھر فریدی نے بلند آواز میں کہنا شروع کیا، ڈاکٹر! یہ خنجر دراصل تمہارے سینے میں ہونا چاہیے تھا۔ سیتا دیوی دھوکے میں قتل ہو گئیں۔ جب قاتل کو اپنی غلطی کا علم ہو گا تو وہ پھر تمہارے پیچھے پڑ جائے گا۔ لاش والے کمرے میں چل کر میں اس کی تشریح کروں گا ۔
سب لوگ پھر لاش والے کمرے میں واپس آئے۔ انسپکٹر فریدی کھڑکی سے کارنس پر اتر گیا اور اس لائن کے سارے کمروں کی کھڑکیوں کا جائزہ لیتا ہوا لوٹ آیا ۔
اب معاملہ بالکل صاف ہو گیا کہ سیتا دیوی ڈاکٹر ہی کے دھوکے میں قتل ہوئی ہیں۔ اگر قاتل سیتا دیوی کو قتل کرنا چاہتا تو اسے کیا معلوم کہ سیتا دیوی شوکت کے کمرے میں سوئی ہوئی تھیں ۔ اگر قاتل چوری کی نیت سے اتفاقاً اسی کمرے میں داخل ہوا جس میں وہ سو رہی تھیں تو کیا وجہ ہے کہ کوئی چیز چوری نہیں کی گئی؟
انسپکٹر فریدی نے نہایت سکون کے ساتھ دوبارہ کہنا شروع کیا،  جس وقت شوکت نے مقتولہ کو دیکھا، وہ سر سے پیر تک کمبل اوڑھے ہوئے تھی۔
اب ذرا لاش کے قریب آئیے۔ یہ دیکھیے، مقتولہ کا نچلا ہونٹ اس کے دانتوں میں دب کر رہ گیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قاتل نے ایک ہاتھ سے مقتولہ کا منہ دبایا تھا اور دوسرے ہاتھ سے وار کیا تھا ۔ ہونٹ کا دانتوں میں دبا ہونا ظاہر کر رہا ہے کہ وہ تکلیف کی شدت میں صرف اتنا کر سکی کہ اس نے دانتوں میں ہونٹ دبا لیا ۔ قاتل کے ہاتھ کے دباؤ کی وجہ سے ہونٹ پھر اپنی اصلی حالت میں نہ آ سکا اور اسی حالت میں لاش ٹھنڈی ہو گئی ۔ قاتل کو اپنے مقصد کی کامیابی پر اتنا یقین تھا کہ اس نے کمبل الٹ کر اپنے شکار کا چہرہ تک دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی ۔
پھر انسپکٹر فریدی ڈاکٹر شوکت کو مخاطب کرکے بولا ’’ ڈاکٹر ! تمہاری جان خطرے میں ہے۔ ہر ممکن احتیاطی تدابیر کرو۔ یہ پلاٹ تمہارے ہی قتل کے لیے بنایا گیا تھا ۔ سوچ کر بتاؤ، کیا تمہارا کوئی ایسا دشمن ہے جو تمہاری جان تک لے لینے میں دریغ نہ کرے گا ؟
تقریباً پندرہ دن پہلے کا ذکر ہے، ایک رات میں ایک بہت خطرناک قسم کا آپریشن کرنے جارہا تھا کہ ایک اچھی حیثیت کا نیپالی میرے پاس آیا اور مجھ سے درخواست کی کہ میں اس وقت ایک مریض دیکھ لوں جس کی حالت خطرناک تھی۔ میں نے معذوری ظاہر کی ۔ وہ رونے اور گڑگڑانے لگا ۔ میں مجبور تھا کیونکہ پہلے ہی ایک خطرناک کیس میرے پاس تھا ۔ آخر جب وہ نیپالی مایوس ہو گیا تو مجھے برا بھلا کہتے ہوئے واپس چلا گیا۔ دوسرے دن جب میں اسپتال جا رہا تھا اور چرچ روڈ کے چوراہے پر پٹرول لینے کے لیے رکا تو وہاں مجھے وہی نیپالی نظر آیا۔ مجھے دیکھ کر اس نے نفرت سے برا سا منھ بنایا ، پھر میری طرف مکا تان کر کہنے لگا ، شالا ! ہمارا آدمی مرگیا ۔ اب ہم تمہاری خبر لے لے گا ۔ میں نے ہنس کر موٹر اسٹارٹ کی ۔ ‘‘
’’ خیر ، اپنی حفاظت کا خاص خیال رکھو ۔ اچھا ، اب اجازت چاہوں گا ۔ ذرا کار تک چلو ۔ ‘‘
کار کے قریب پہنچ کر فریدی نے جیب سے ایک چھوٹا سا پستول نکالا اور ڈاکٹر شوکت کو تھما دیا ۔
* * *
فریدی نے سگار منھ سے نکال کر حمید سے کہا، ہاں بھئی ، سنا ہے کہ دو تین دن ہوئے ، ریلوے گراؤنڈ پر سرکس آیا ہوا ہے ۔ بہت تعریف سنی ہے ۔ چلو ، آج سرکس دیکھیں ۔ تم نے سرکس کا اشتہار دیکھا ہو گا ۔ بھلا بتاؤ، کس کھیل کی خصوصیت کے ساتھ تعریف تھی ؟
وہاں ایک لڑکی ایک لکڑی کے تختے سے لگ کر کھڑی ہو جاتی ہے اور ایک نیپالی اس طرح خنجر پھینکتا ہے کہ وہ اس کے چاروں طرف لکڑی کے تختے میں چبھتے جاتے ہیں ۔ آخر جب وہ ان خنجروں کے درمیان سے نکلتی ہے تو لکڑی کے تختے پر چبھے ہوئے خنجروں میں اس کا خاکہ سا بنا رہ جاتا ہے ۔
فریدی نے حمید کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے جوش میں کہا، اچھا میرے دوست! آج سرکس ضرور دیکھا جائے گا ۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ سیتا دیوی کے قتل میں اسی نیپالی کا ہاتھ ہو ؟
وہ سرکس شروع ہونے سے پندرہ منٹ قبل ریلوے گراؤنڈ پہنچ گئے اور بکس کے دو ٹکٹ  لے کر رنگ کے سب سے قریب والے صوفے پر جا بیٹھے۔ ایک ناٹے قد کا مضبوط نیپالی ایک خوب صورت لڑکی کے ساتھ رنگ میں داخل ہوا ۔
خواتین و حضرات! رنگ لیڈر کی آواز گونجی ۔ اب دنیا کا خوف ناک ترین کھیل شروع ہونے والا ہے ۔ یہ لڑکی اس لکڑی کے تختے سے لگ کر کھڑی ہو جائے گی اور یہ نیپالی اپنے خنجر سے لڑکی کے گرد اس کا خاکہ بنائے گا ۔ ملاحظہ فرمائیے ۔
دو خنجر تو لڑکی کے سر کے بالوں اور فراک کے پف کو چھوتے ہوئے تختے میں دھنس گیا ۔ لڑکی سر سے پیر تک لرز گئی ۔ دیکھنے والوں پر سناٹا چھا گیا ۔ تیسرے خنجر پر لڑکی کے منہ سے چیخ نکل گئی ۔ اس کے بازو سے خون نکل رہا تھا ۔
فریدی نے نیپالی کو شرابیوں کی طرح لڑکھڑاتے ہوئے رنگ کے باہر جاتے دیکھا ۔ فوراً پانچ چھے جوکروں نے رنگ میں آ کر اچھل کود مچادی ۔
خواتین و حضرات! رنگ ماسٹر کی آواز گونجی ۔  مجھے اس واقعے پر حیرت ہے ۔ نیپالی پندرہ بیس برس سے ہمارے سر کس میں کام کر رہا ہے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا۔ ضرور وہ کچھ بیمار ہے جس کی ہمیں اطلاع نہ تھی ۔ بہرحال ابھی بہت سے دلچسپ کھیل باقی ہیں ۔
آؤ، چلیں ۔  فریدی نے حمید کا ہاتھ پکڑکر اٹھتے ہوئے کہا۔
متعدد خیموں کے درمیان سے گزرتے ہوئے وہ تھوڑی دیر بعد منیجر کے دفتر کے سامنے پہنچ گئے ۔
منیجر اٹھ کر ہاتھ ملاتے ہوئے پرتپاک لہجے میں بولا، فرمائیے، کیسے تکلیف فرمائی ؟
میں خنجر والے نیپالی کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ۔
مجھے سخت شرمندگی ہے۔ کئی دن سے اس کی حالت بہت ابتر ہے۔ وہ بے حد شراب پینے لگا ہے۔ ابھی کل ہی نشے میں اپنے ایک ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ میں اب اتنا دولت مند ہو گیا ہوں۔ اس نے نوٹوں کی کئی گڈیاں بھی دکھائی تھیں ۔
میں اس سے بھی کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں۔
وہ تینوں خیموں کی قطاروں سے گزرتے ہوئے ایک خیمے کے سامنے رک گئے ۔
اندر چلیے ۔  منیجر بولا ۔
نہیں، صرف آپ جائیے۔ آپ اس سے ہمارے بارے میں کہیے گا۔ اگر وہ ملنا پسند کرے گا تو ہم لوگ ملیں گے ، ورنہ نہیں ۔ فرید ی نے کہا ۔
منیجر پہلے تو کچھ دیر تک حیرت سے اسے دیکھتا رہا، پھر اندر چلا گیا ۔
میں معافی چاہتا ہوں۔ مجھے افسوس ہے !نیپالی خود کو سنبھال کر بولا ۔
میں اس وقت اس معاملے پر گفتگو کرنے نہیں آیا ہوں ۔ منیجر بولا ۔ بات دراصل یہ ہے کہ ایک صاحب تم سے ملنا چاہتے ہیں ۔
فریدی حمید کے ساتھ خیمے میں داخل ہوا ۔
میں آپ کو نہیں جانتا ۔  اس نے خود کو سنبھال کر کہا ۔ میرا خیال ہے کہ اس سے پہلے میں آپ سے نہیں ملا ۔ ‘‘
میں تمھیں پریشان نہیں کرنا چاہتا لیکن اگر تم میرے سوالات کا صحیح صحیح جواب دو گے تو پھر تمھیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ کیا تم کل رات نشاط نگر ڈاکٹر شوکت کی کوٹھی پر گئے تھے ؟
فریدی نے یہ جملہ نہایت سادگی اور اطمینان سے ادا کیا لیکن اس کا اثر کسی بم دھماکے سے کم نہ تھا ۔ نیپالی بے اختیار اچھل پڑا ۔
نہیں، نہیں۔ وہ کپکپاتی ہوئی آواز میں چیخا۔ تم سفید جھوٹ بول رہے ہو ۔ میں وہاں کیوں جاتا ؟ نہیں ، یہ جھوٹ ہے، پکا جھوٹ ۔
اس سے کوئی فائدہ نہیں مسڑ !  فریدی بولا ۔ میں جانتا ہوں کہ کل رات تم ڈاکٹر شوکت کو قتل کرنے گئے اور اس کے دھوکے میں سیتا دیوی کو قتل کر آئے۔ اگر تم سچ بتا دو گے تو میں تمہیں بچانے کی کوشش کروں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تمھیں کسی دوسرے  نے قتل پر آمادہ کیا تھا ۔
نیپالی انسپکٹر فریدی کے اس اچانک حملے سے پہلے ہی سراسیمہ ہو گیا تھا ۔ اس  نے ایک بے بس بچے کی طرح کہنا شروع کیا۔ اس نے مجھے دس ہزار روپے پیشگی دیے تھے اور قتل کے بعد دس ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا تھا اس کا نام … ہاں، اس کا نام ہے … ارررہا … اف !  وہ چیخ کر آگے کی طرف جھک گیا۔
کسی  نے خیمے کے پیچھے سے نیپالی پر حملہ کیا تھا۔ خنجر خیمے کی کپڑے کی دیوار پھاڑتا ہوا اس کی پیٹھ میں گھس گیا تھا ۔ وہ بکس پر بیٹھے بیٹھے دو تین بار تڑپا، پھر خنجر کی گرفت سے آزاد ہو کر فرش پر آ رہا ۔
چیخ کی آواز سن کر کچھ اور لوگ بھی آ گئے ۔ سب نے مل کر قاتل کو تلاش کرنا شروع کیا لیکن بے سود۔ منیجر کو گھبراہٹ کی وجہ سے غش آ گیا ۔
* * *
راج روپ نگر میں نواب وجاہت مرزا کی عالی شان کوٹھی بستی سے تقریباً دیڑھ میل کے فاصلے پر واقع تھی ۔ کوٹھی  سے دیڑھ فرلانگ کے فاصلے پر ایک قدیم وضع کی عمارت تھی جس میں ایک چھوٹا سا مینار تھا۔ اس عمارت میں مشہور ماہر فلکیات پروفیسر عمران رہتا تھا۔ نواب صاحب  نے یہ پرانی عمارت اسے کرائے پر دے رکھی تھی۔ اس نے اس مینار کی بالائی منزل کو چاروں طرف سے بند کرا کے اس پر اپنی ستاروں کی رفتار کا جائزہ لینے والی بڑی دوربین فٹ کرالی تھی ۔
فریدی برآمدے سے گزر کر ہال میں داخل ہوا۔ ہال کی دیواروں پر چاروں طرف نواب صاحب کے آباؤ اجداد کی قد آدم تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ فریدی ان کا جائزہ لیتے لیتے چونک پڑا ۔ اس کی نظریں ایک پرانی تصویر پر جمی ہوئی تھیں ۔
وہ قدموں کی آہٹ سے چونک پڑا ۔ سامنے کے دروازے میں ایک لمبا تڑنگا نوجوان قیمتی سوٹ میں ملبوس کھڑا تھا ۔
صاحب! آپ نامہ نگاروں سے تو میں تنگ آ گیا ہوں ۔ وہ نوجوان ہنس کر بولا ۔ کہیے ، آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں ؟
نواب صاحب کا اب کیا حال ہے ؟
ابھی تک ہوش نہیں آیا ۔
کب سے بے ہوش ہیں ؟
پندرہ دن سے ۔ فیملی ڈاکٹر کی رائے ہے کہ آپریشن کیا جائے لیکن کرنل تیواری اس کے حق میں نہیں ہیں ۔ اچھا بس، اب مجھے اجازت دیجیے ۔ وہ پھراس طرف گھوم گیا جس طرف سے آیا تھا ۔
جب فریدی واپسی پر پرانی کوٹھی کے پاس سے گزر رہا تھا تو یک بیک اس کی ہیٹ اچھل کر اس کی گود میں آ رہی۔ ہیٹ میں بڑا سا چھید ہو گیا تھا ۔
* * *
فریدی نے اپنی کار کا رخ قصبے کی طرف پھیر دیا۔ اب وہ نواب صاحب کے فیملی ڈاکٹر سے ملنا چاہتا تھا۔ ڈاکٹر توصیف ایک معمر آدمی تھا۔ اس کا شمار قصبے کے ذی عزت اور دولت مند لوگوں میں ہوتا تھا ۔
مجھے فریدی کہتے ہیں۔ اس نے اپنا ملاقاتی کارڈ پیش کرتے ہوئے کہا۔
میں آپ کو جانتا ہوں۔  ڈاکٹر توصیف نے مضطربانہ انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔ فرمائیے، کیسے تکلیف فرمائی
کیا کرنل تیواری آپ کے مشورے سے نواب صاحب کا علاج کر رہے ہیں ؟ وہ اچانک ہی پوچھ بیٹھا ۔
ڈاکٹر توصیف چونک کر اسے گھورنے لگا ۔ لیکن آپ یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں ؟
ڈاکٹر صاحب! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس قسم کے مرض کا علاج صرف ایک ہے، آپریشن۔ یہ چیز ہمارے لیے باعث تشویش ہے کہ کرنل تیواری کو جسے کئی نوجوان ڈاکٹر ذہنی امراض کے سلسلے میں بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں، معالج کیوں مقرر کیا گیا ؟
بات دراصل یہ ہے انسپکٹر صاحب! خود نواب صاحب کی یہی خواہش تھی۔ انھیں دو ایک بار کرنل تیواری کے علاج سے فائدہ ہو چکا ہے ۔ میں آپ کو وہ خط دکھاتا ہوں جو نواب صاحب  نے دورہ پڑنے سے ایک دن قبل مجھے لکھا تھا ۔
ڈاکٹر توصیف اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا اور فریدی سگار کے کش لیتا ہوا ادھ کھلی آنکھوں سے خلا میں تکتا رہا ۔
یہ دیکھیے، نواب صاحب کا خط۔  ڈاکٹر توصیف نے فرید ی کی طرف خط بڑھاتے ہوئے کہا ۔
فریدی خط پڑھنے لگا ۔
ہوں! فریدی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر صاحب ! ذرا اس پر غور کیجیے، کیا آپ نے کبھی اتنی چوڑائی رکھنے والے کاغذ کا اتنا چھوٹا سا پیڈ بھی دیکھا ہے؟ کس قدر بے ڈھنگا معلوم ہو رہا ہے۔
اوہ! یہ دیکھیے، صاف معلوم ہے کہ دستخط کے نیچے سے کسی نے کاغذ کا بقیہ ٹکڑا قینچی سے کاٹا ہے۔ ڈاکٹر ! کیا آپ کو یہ اسی حالت میں ملا تھا ؟
جی ہاں۔ ڈاکٹر نے متحیر ہو کر کہا۔ لیکن میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا ؟
کیا یہ ممکن نہیں کہ نواب صاحب  نے خط لکھ کر دستخط کر دینے کے بعد بھی نیچے کچھ لکھا ہو جسے کسی نے بعد میں قینچی سے کاٹ کر اسے برابر کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ نواب صاحب فطرتاً اتنے کنجوس نہیں کہ باقی بچا ہوا کاغذ کاٹ کر دوسرے مصرف کے لیے رکھ لیں ۔
اف میرے خدا! ڈاکٹر  نے سر پکڑ لیا۔  یہاں تک میری نظر نہیں پہنچی تھی ۔
اب تو معاملہ بالکل صاف ہو گیا۔ فریدی نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ ممکن ہے خط لکھ چکنے کے بعد نواب صاحب نے یہ لکھا ہو، اگر کرنل تیواری نہ مل سکیں تو ڈاکٹر شوکت کو لیتے آئیے گا۔ اسی حصے کو کسی  نے غائب کر دیا ۔
ہوں! توصیف نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
میرا خیال ہے کہ آپ ڈاکٹر شوکت سے ضرور رجوع کیجیے۔ کم از کم اس صوبے میں وہ اپنا جواب نہیں رکھتا ۔
میں اس کی تعریفیں اخبار میں پڑھتا ہوں اور اس سے ایک بار مل بھی چکا ہوں۔ میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ نواب صاحب کا سو فی صدی کامیاب آپریشن کرے گا لیکن فریدی صاحب! میں کرنل تیواری کی موجودگی میں بالکل بے بس ہوں ۔ ایسا جھکی آدمی تو آج تک میری نظروں سے نہیں گزرا ۔
کرنل تیواری کی آپ فکر نہ کریں، اس کا انتظام میں کر لوں گا۔ آپ جتنی جلد ممکن ہو سکے، ڈاکٹر شوکت سے مل کر معاملات طے کر لیجیے ۔
* * *
فریدی کی کار تیزی سے شہر کی طرف جا رہی تھی۔ سڑک بالکل سنسان تھی۔ ایک جگہ اسے بیچ سڑک پر ایک خالی تانگہ کھڑا نظر آیا۔ سڑک زیادہ چوڑی نہ تھی ، لہٰذا فریدی کو کار روک کر اترنا پڑا ۔ تانگہ کنارے لگاکر وہ کار کی طرف لوٹ ہی رہا تھا کہ اسے دور جھاڑیوں میں ایک بھیانک چیخ سنائی دی ۔ فریدی نے جیب سے ریوالور نکال کر آواز کی طرف دوڑنا شروع کیا۔
دفعتاً ایک فائر ہوا اور ایک گولی سنسناتی ہوئی اس کے کانوں کے قریب سے نکل گئی۔ وہ پھرتی کے ساتھ زمین پر لیٹ گیا، پھر ایک کھائی کی آڑ میں ہو گیا ۔ فریدی نے کھائی کی آڑ سے سر ابھارا ہی تھا کہ فائر ہوا۔ اگر وہ تیزی سے پیچھے کی طرف نہ گر گیا ہوتا تو کھوپڑی اڑ ہی گئی تھی۔ دوسری طرف سے پھر اندھا دھند فائر ہونے لگے ۔ فریدی نے بھی دو تین فائر کیے، پھر چیختا کراہتا سڑک کی طرف بھاگا ۔ دوسری طرف سے اب بھی فائر ہو رہے تھے لیکن وہ گرتا پڑتا بھاگا جا رہا تھا۔ کار میں پہنچتے ہی وہ تیز رفتاری سے شہر کی طرف روانہ ہو گیا ۔
شام کا اخبار شائع ہوتے ہی شہر میں سنسنی پھیل گئی۔ اخبار والے گلی کوچوں میں چیختے پھر رہے تھے۔ انسپکٹر فریدی کا قتل۔ ایک ہفتے کے اندر اندر آپ کے شہر میں تین قتل۔ شام کا تازہ پرچہ پڑھیے ۔
اخبار میں پورا واقعہ درج تھا ۔
یہ خبر آگ کی طرح آناً فاناً سارے شہر میں پھیل گئی۔ انسپکٹر فریدی کے دوستوں  نے لاش حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں لاش دیکھنے تک کی اجازت نہ دی گئی۔ کئی خبروں سے معلوم ہوا کہ پوسٹ مارٹم کرنے پر پانچ یا چھے زخم پائے گئے ہیں ۔
یہ سب کچھ ہو رہا تھا لیکن سارجنٹ حمید نہ جانے کیوں چپ تھا۔ دوسرے جاسوسوں اور بہتیرے لوگوں  نے اس سے ہر طرح پوچھا لیکن اس نے ایک کو بھی کوئی تشفی بخش جواب نہ دیا ۔
* * *
ڈاکٹر شوکت کی کار راج روپ نگر کی طرف جا رہی تھی۔ وہ اپنے اسسٹنٹ اور دو نرسوں کو ہدایت کر آیا تھا کہ وہ چار بجے تک آپریشن کا ضروری سامان  لے کر راج روپ نگر پہنچ جائیں ۔
نواب صاحب کے خاندان والے ابھی تک کرنل تیواری کے تبادلے اور توصیف کے نئے فیصلے سے ناواقف تھے۔ ڈاکٹر شوکت کی آمد سے وہ سب حیرت میں پڑ گئے۔ خصوصاً نواب صاحب کی بہن تو آپے سے باہر ہو گئیں ۔
ڈاکٹر شوکت نے نواب صاحب کے خاندان والوں کو بہت اطمینان دلایا ۔ نواب صاحب کی بہن اور ان کی بھانجی کو کسی طرح اطمینان ہی نہ ہوتا تھا ۔
آپریشن کب ہوگا ؟  نواب صاحب کی بہن نے پوچھا ۔
آج ہی ۔ آٹھ بجے رات سے آپریشن شروع ہو جائے گا ۔ چار بجے تک میرا اسسٹنٹ اور دو نرسیں یہاں آ جائیں گی ۔
ڈاکٹر شوکت، ڈاکٹر توصیف اور کنور سلیم بالائی منزل پر مریض کے کمرے میں چلے گئے اور دونوں ماں بیٹی ہال ہی میں رک کر آپس میں سرگوشیاں کرنے لگیں ۔
انجکشن سے فارغ ہو کر ڈاکٹر شوکت، کنور سلیم اور ڈاکٹر توصیف کے ہمراہ باہر آیا ۔
اچھا کنور صاحب! اب ہم لوگ چلیں گے۔ چار بجے تک نرسیں اور میرا اسسٹنٹ آپ کے یہاں آ جائیں  گے اور میں بھی ٹھیک چھے بجے یہاں پہنچ جاؤں گا۔  ڈاکٹر شوکت  نے کہا ۔
ڈاکٹر کار میں بیٹھ گیا لیکن ڈاکٹر شوکت کی پے در پے کوششوں کے باوجود کار اسٹارٹ نہ ہوئی ۔
یہ تو بڑی مصیبت ہوئی۔ ڈاکٹر شوکت نے کار سے اتر کر مشین کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ۔
فکر مت کیجیے، میں اپنی گاڑی نکال کر لاتا ہوں ۔ کنور سلیم  نے کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا گیراج کی طرف چلا گیا جو پرانی کوٹھی کی قریب واقع تھا ۔
تھوڑی دیر بعد نواب صاحب کی بہن آ گئیں ۔
ڈاکٹر شوکت کی کار خراب ہو گئی۔ کنور صاحب کار کے لیے گئے ہیں ۔  ڈاکٹر توصیف نے ان سے کہا ۔
اوہ ! کار تو میں نے صبح ہی شہر بھیج دی ہے اور بھائی جان والی کار عرصے سے خراب ہے ۔
اچھا تو پھر آئیے ڈاکٹر صاحب! ہم لوگ پیدل ہی چلیں۔ صرف دیڑھ میل تو چلنا ہے ۔ ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔
ڈاکٹر شوکت جیسے ہی پرانی کوٹھی کے قریب پہنچا، دفعتاً قریب کی جھاڑیوں سے ایک بڑا سا کتا اس پر جھپٹا ۔ وہ گھبرا کر کئی قدم پیچھے ہٹ گیا۔ کتے نے ایک جست لگائی اور بھیانک چیخ کے ساتھ زمین پر آ رہا۔ چند سیکنڈ تک وہ تڑپا، پھر بے حس و حرکت ہو گیا۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ ڈاکٹر شوکت کو کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع نہ مل سکا۔ اس کے بعد کچھ سمجھ ہی میں نہ آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔
دفعتاً ڈاکٹر شوکت کے ذہن میں ایک خیال پیدا ہوا۔ وہ اس کے پنجوں کا معائنہ کرنے لگا ۔
اوہ ! اس کے منہ سے حیرت کی چیخ نکلی۔ اس نے کتے کے پنجے میں چبھی ہوئی گرامو فون کی ایک سوئی کھینچ لی اور حیرت سے اسے دیر تک دیکھتا رہا ۔
پھر وہ قصبے کی طرف چل پڑا ۔ ایک شخص کھائیوں اور جھاڑیوں کی آڑ لیتا ہوا اس کا تعاقب کر رہا تھا ۔
* * *
گھڑی نے چھے بجائے ۔ ڈاکٹر شوکت  نے کپڑے پہنے اور چسٹر کاندھے پر ڈال کر آہستہ آہستہ ٹہلتا ہوا روانہ ہو گیا ۔ چاروں طرف تاریکی پھیل گئی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف گھنی جھاڑیاں اور درختوں کی لمبی قطاریں تھیں جن کی وجہ سے سڑک خصوصاً اور زیادہ تاریک ہو گئی تھی۔ اس سے تقریباً پچاس گز پیچھے ایک دوسرا آدمی جھاڑیوں سے لگا ہوا چل رہا تھا۔ شاید اس نے ربڑ سول کے جوتے پہن رکھے تھے جس کی وجہ سے ڈاکٹر شوکت اس کے قدموں کی آواز نہیں سن رہا تھا ۔
ڈاکٹر شوکت دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنی دھن میں چلا جا رہا تھا ۔ اچانک اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور ہاتھ اوپر اٹھ گئے ۔ اس کے گلے میں ایک موٹی سی رسی کا پھندا پڑا ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ پھندے کی گرفت تنگ ہوتی گئی اور ساتھ ہی ساتھ وہ اوپر اٹھنے لگا۔ گلے کی رگیں پھول رہی تھیں۔ آنکھیں حلقوں سے ابلی پڑی تھیں۔
آہستہ آہستہ اسے تاریکی گہری ہوتی ہوئی معلوم ہوئی۔ وہ زمین سے دو فٹ کی بلندی پر جھول رہا تھا۔ کوئی اسی درخت پر سے کود کر جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ پھر ایک آدمی اس کی طرف دوڑ کر آتا دکھائی دیا۔ اس کے قریب پہنچ کر اس نے ادھر ادھر دیکھا۔
دوسرے لمحے میں وہ پھرتی سے درخت پر چڑھ رہا تھا ۔ وہ اس ڈال پر پہنچ گیا جس سے رسی بندھی ہوئی تھی۔ اس نے رسی ڈھیلی کر کے آہستہ آہستہ ڈاکٹر شوکت کے پیر زمین پر ٹکا دیے اور نیچے اتر آیا ۔ اس نے جیب سے چاقو نکال کر رسی کاٹی اور شوکت کو ہاتھوں پر سنبھالے ہوئے سڑک پر لٹا دیا ۔ پھندا ڈھیلا ہوتے ہی بے ہوش ڈاکٹر گہری گہری سانسیں لے رہا تھا ۔ دو تین منٹ گزر جانے پر اس کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور اجنبی جلدی سے جھاڑیوں کے پیچھے چھپ گیا ۔
وہ کپڑے جھاڑتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔ چسٹر قریب ہی پڑا تھا ۔ اس نے جلدی سے چسٹر اٹھاکر کندھے پر ڈالا اور تیزی سے کوٹھی کی طرف روانہ ہو گیا ۔ اس نے سوچا کہ گھڑی میں وقت دیکھے لیکن پھر دیا سلائی جلا کر دیکھنے کی ہمت نہ پڑی ۔
* * *
ڈاکٹر شوکت کچھ دیر قبل پیش آئے ہوئے حادثے کو قطعی بھلا چکا تھا ۔ اب اس کا دھیان صرف آپریشن کی طرف تھا ۔ ایک آدمی کی زندگی خطرے میں تھی ۔ وہ اسے خطرات سے نکالنے جا رہا تھا ۔ اس نے اپنی تمام تر کوششیں صرف کر دینے کا تہیہ کر لیا تھا ۔
باہر برآمدے میں نواب صاحب کی بہن اور نجمہ بیٹھی تھیں ۔ دونوں پریشان نظر آ رہی تھیں ۔ کنور سلیم ٹہل ٹہل کر سگریٹ پی رہا تھا ۔
اتنے میں ایک نوکر داخل ہوا ۔
کیوں ، کیا ہے ؟ سلیم  نے اس سے پوچھا ۔
پروفیسر صاحب نیچے کھڑے ہیں ۔ آپ کو بلا رہے ہیں ۔ نوکر  نے کہا ۔
پروفیسر … مجھے … اس وقت ؟ سلیم  نے حیرت سے کہا ۔
جاؤ بھئی ، نیچے جاؤ ۔ ‘‘ بیگم صاحبہ بے زاری سے بولیں ۔  کہیں وہ پاگل یہاں نہ چلا آئے ۔
سلیم نیچے آیا ۔ پروفیسر باہر کھڑا تھا ۔ اس نے سردی سے بچنے کے لیے اپنے سر پر مفلر لپیٹ رکھا تھا اور چسٹر کے کالر اس کے کانوں کے اوپر تک چڑھا تھا ۔ ان سب باتوں کے باوجود وہ سردی سے سکڑا جا رہا تھا ۔
کیوں پروفیسر ! کیا بات ہے ؟  سلیم  نے اس کے قریب پہنچ کر پوچھا ۔
میں تمھیں بہت تعجب خیز چیز دکھانا چاہتا ہوں ۔ ایسی چیز تم  نے کبھی نہ دیکھی ہو گی ۔ اس  نے سلیم کا بازو پکڑ کر اسے پرانی کوٹھی کی طرف  لے جاتے ہوئے کہا ۔
سلیم چلنے لگا لیکن اس  نے لوہے کی موٹی سلاخ کو نہ دیکھا جو پروفیسر اپنی آستین میں چھپائے ہوئے تھا ۔
کھٹ ۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد پروفیسر  نے وہ سلاخ سلیم کے سر پر دے ماری ۔ سلیم بغیر آواز نکالے چکرا کر دھم سے زمین پر آ رہا ۔ پروفیسر حیرت انگیز پھرتی کے ساتھ جھکا ، بے ہوش سلیم کو اٹھا کر اپنے کاندھے پر ڈال لیا اور مینار پر چڑھنا شروع کیا ۔ بالائی کمرے میں اندھیرا تھا ۔ اس  نے ٹٹول کر سلیم کو ایک بڑے صوفے پر ڈالا اور موم بتی جلا کر طاق پر رکھ دی ۔
ہلکی روشنی میں چسٹر کے کالر کے سائے کی وجہ سے اس کا چہرہ اور زیادہ خوف ناک معلوم ہونے لگا تھا ۔ اس  نے سلیم کو صوفے سے باندھ دیا ۔ پھر وہ دور بین کے قریب والی کرسی پر بیٹھ گیا اور دوربین کے ذریعے نواب صاحب کے کمرے کا جائزہ لینے لگا ۔ ڈاکٹر شوکت کھولتے ہوئے پانی سے ربڑ کے دستانے نکال کر پہن رہا تھا ۔ وہ سب آپریشن کی میز کے گرد کھڑے تھے ۔ آپریشن شروع ہونے والا تھا ۔
پروفیسر بڑبڑایا۔  آخر اس سردی کے باوجود انھوں  نے کھڑکیاں کیوں نہیں بند کیں ؟
پروفیسر دور بین پر جھکا ہوا اپنے گرد و پیش سے بے خبر بیمار کے کمرے کا منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ اتنا محو تھا کہ اس  نے سلیم کے جسم کی حرکت کو بھی محسوس نہ کیا ۔ سلیم آہستہ آہستہ ہوش میں آ رہا تھا ۔ اس  نے اٹھنے کی کوشش کی۔ رفتہ رفتہ کچھ دیر قبل کے واقعات اسے یاد آ گئے ۔
پروفیسر! آخر یہ کیا حرکت ہے ؟  اس نے بھرائی ہوئی نحیف آواز میں قہقہہ لگا کر کہا ۔ آخر اس مذاق کی کیا ضرورت تھی ؟
تم یہاں بالکل بے بس ہو۔ یہاں میں تمہاری خبر گیری بھی کروں گا اور بیمار کے کمرے کا منظر بھی دیکھ سکوں گا ۔ پروفیسر دور بین کے شیشے میں آنکھ لگاتے ہوئے کہا ۔  نہ تو میں احمق ہوں اور نہ میری دور بین محض مذاق ہے ۔ کیا سمجھے ؟
سلیم  نے سکون کے ساتھ کہا، اگر تم نے یہ رسی فوراً نہ کھول دی تو میں پولیس کو اطلاع دے دوں گا کہ تم قاتل ہو، اپنے اسسٹنٹ کے قاتل۔ کیا تم  نے اپنے اسسٹنٹ نعیم کو اپنے بنائے ہوئے غبارے میں بٹھا کر نہیں اڑایا تھا جس کا آج تک پتا نہیں چل سکا ؟
پروفیسر خاموش ہو گیا۔ اس کے چہرے پر عجیب قسم کی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔ ہاں ، اس حادثے کے بعد سے میرا دماغ خراب ہو گیا۔ تمھیں اس واقعے کا علم ہو گیا تھا، لہٰذا تم  نے مجھے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ مجھ سے روپیہ اینٹھتے رہے ۔ میں تمھیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نعیم میرے غبارے کے ٹوٹنے سے نہیں مرا بلکہ وہ اس وقت مدراس کے کسی گھٹیا سے شراب خانے میں نشے سے چور اوندھا پڑا ہو گا۔ مجھے اس بات کا بھی علم ہے کہ اس  نے جو خطوط مجھے لکھے تھے، تم  نے راستے ہی سے غائب کر دیے۔ کہو سلیم میاں ! کیسی رہی؟ کیا اب میں تمھیں وہ باتیں بھی بتاؤں جو میں تمہارے متعلق بھی جانتا ہوں ؟
کنور سلیم سہم کر رہ گیا تھا۔ اسے ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے پروفیسر کا پاگل پن کسی نئے موڑ پر پہنچ گیا ہے ۔
اس سے کیا ہوتا ہے ۔ سلیم نے کہا۔
میں بہرحال نواب صاحب کا وارث ہوں۔ کیا میں کم دولت مند ہوں؟
خیر، تمہاری دولت کا حال تو میں اچھی طرح جانتا ہوں، اسی لیے تم ایک بے بس بوڑھے سے روپے اینٹھتے رہے۔ سنو بیٹے! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہاری تنگ دستی اب نواب صاحب کی موت کی خواہاں ہے۔ کیا تم  نے آج ڈاکٹر توصیف کو اسی لیے شہر نہیں بھیج دیا کہ نوجوان ڈاکٹر سچ مچ پیدل آنے پر مجبور ہو جائے ؟
کیا فضول بکواس ہے۔  سلیم نے دوسری طرف منہ پھیرتے ہوئے کہا۔
پھر تم ایک رسی لے کر درخت پر چڑھ گئے ۔ پرفیسر بولتا رہا ۔
تم کچھ نہیں جانتے ۔ سلیم نے مردہ آواز میں کہا ۔ یہ محض تمہارا قیاس ہے ۔
کیا تم  نے اس خنجر باز نیپالی کو روپے دے کر اس کے قتل پر آمادہ نہیں کیا تھا؟ اس احمق نے دھوکے میں ایک بے گناہ عورت کو قتل کر دیا ۔
یہ جھوٹ ہے ۔ سلیم بے صبری سے بولا ۔ یہ محض قیاس ہے ۔
مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس دن تم نے ایک رپورٹر پر گولی چلائی تھی اور رائفل میرے ہاتھ میں دے کر خود بھاگ گئے تھے، محض اس لیے کہ مجھے پاگل تصور کرتے ہوئے اس واقعے کو محض اتفاقیہ سمجھا جائے ۔
نہ جانے تم کس کی باتیں کر رہے ہو ؟ سلیم نے سنبھل کر کہا ۔
انس … پک … ٹر … فری … دی کی ۔ پروفیسر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے رک رک کر کہا ۔
سلیم کے ہاتھ پیر ڈھیلے ہوگئے ۔ وہ یک لخت سست پڑگیا ۔
اس نے آخری پانسا پھینکا۔  اس رسی کو کاٹ دو۔ میں تمہارے لیے ایک شان دار آبزر ویٹری بنوا دوں گا ۔
تمہارا ذہن کسی وقت بھی چال بازیوں سے باز نہیں آتا۔ اچھا ، میں تم سے صلح کر لوں گا، اس شرط پر کہ تم اس مینار میں کسی راز کو راز نہ رکھو  گے۔ میں اسی لیے تم سے یہ سب اگلوا رہا ہوں کہ تم نے مجھے بھی بہت دنوں بلیک میل کیا ہے۔ اچھا ، پہلے یہ بتاؤ کہ واقعی تم  نے اس نیپالی سے ڈاکٹر شوکت کو قتل کرانے کی سازش کی تھی ؟
ہاں ، میں نے اس کے لیے اس کو روپیہ دیا تھا ۔
پھر تم ہی نے اسے قتل بھی کر دیا ، اس لیے کہ کہیں وہ نام نہ بتا دے ؟
ہاں ۔
انسپکٹر فریدی پر قتل کی نیت سے تم ہی  نے گولیاں چلائی تھیں ؟
ہاں ۔ تم تو اس طرح سوال کر رہے ہو جیسے … جیسے
تم  نے ڈاکٹر شوکت کے گلے میں رسی کا پھندا بھی ڈالا تھا ؟  پرفیسر نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے روک دیا ۔
سلیم  نے کہا  ہاں ، میں نے پھندا تو ڈالا تھا لیکن
تمہارے ہوائی قلعے بہت زیادہ مضبوط نہیں معلوم ہوتے ۔ پروفیسر  نے کہا ۔ اس بار اس کی آواز بدلی ہوئی تھی۔ سلیم چونک پڑا ۔
پروفیسر تن کر کھڑا ہو گیا ۔ اس  نے اپنے سر پر بندھا ہوا مفلر کھول دیا، چسٹر کے کالر نیچے گرا دیے اور موم بتی طاق پر سے اٹھا کر اپنے چہرے کے قریب لا کر بولا ۔
لو بیٹا ! دیکھ لو ۔ میں ہوں تمہارا باپ ، انسپکٹر فریدی ۔
ارے !  سلیم کے منھ سے بے اختیار نکلا اور اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہونے لگا ۔ اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ خود پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے ۔
تم کون ہو ؟ میں تمھیں نہیں جانتا ۔ اس حرکت کا مطلب ؟ سلیم نے گرج کر کہا ۔
شور نہیں، شور نہیں ۔ فریدی نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔  تم سے زیادہ مجھے کون پہچان سکتا ہے، جبکہ تم میرے جنازے میں شریک تھے ۔ اگر میں اپنے مکان سے ایک عدد جنازہ نکلوانے کا انتظام نہیں کرتا تو تمھیں میری موت کا ہرگز یقین نہیں ہوتا۔
میں  نے ایک بار رپورٹر کے بھیس میں مل کر سخت غلطی کی تھی ، اس لیے کہ تم مجھے پہچانتے تھے ۔ تمھیں شبہ  ہو گیا کہ میں تمھیں مشتبہ سمجھتا ہوں ، لہٰذا واپسی پر تم  نے مجھ پر گولی چلائی اور رائفل پروفیسر کے ہاتھ میں دے کر فرار ہو گئے ۔
تم  نے مجھے قصبے کی طرف مڑتے دیکھا ۔ اس موقعے کو غنیمت جان کر تم وہاں سے دو میل کے فاصلے پر جھاڑیوں میں جا چھپے ۔ پھر تم  نے گولیاں چلانی شروع کر دیں ۔ اسی وقت میرے ذہن میں یہ نئی تدبیر آئی جس کے نتیجے میں آج تم ایک چوہے دان میں پھنسے ہوئے چوہے کی طرح بے بس نظر آ رہے ہو ۔
انسپکٹر فریدی اتنا کہہ کر سگریٹ سلگانے کے لیے رک گیا ۔
* * *
سلیم تیزی سے بولا، آخر تم  نے مجھے کس قانون کے تحت یہاں باندھ رکھا ہے ؟
اس لیے کہ تم ایک اقبالی مجرم ہو ۔ ابھی ابھی تم  نے اپنے جرموں کا اعتراف کیا ہے ۔
ہوش کے ناخن لو مسٹر سراغ رساں ! سلیم نے بولا ۔  کچھ دیر قبل میں ایک پاگل آدمی سے گفتگو کر رہا تھا ۔ میں اس کے ظالمانہ رحجانات سے اچھی طرح واقف ہوں، لہٰذا جان بچانے کے لیے اس کے علاوہ اور چارہ ہی کیا تھا !
فریدی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔ وہ سلیم کو حیرت سے دیکھ رہا تھا اور سلیم کے ہونٹوں پر شرارت آمیز مسکراہٹ کھیل رہی تھی ۔
خیر، کوئی بات نہیں۔ فریدی نے سنبھل کر بولا۔ لیکن آج تم  نے ڈاکٹر شوکت کو قتل کرنے کی جو کوشش کی ہیں ، وہ خود میں نے دیکھی ہیں ۔ ڈاکٹر شوکت کی کار میں  نے ہی بگاڑی تھی، محض یہ دیکھنے کے لیے کہ حقیقتاً سازشی کون ہے ۔ کیا تم کار کا بہانہ کرکے وہاں سے نہیں ٹل گئے تھے ؟ کیا تم نے زہریلی سوئی سے ڈاکٹر شوکت کو مارنے کی کوشش نہیں کی تھی ؟ جب تم نے اس کے گلے میں پھندا ڈالا تھا ، اس وقت بھی میں تم سے تھوڑی دور موجود تھا اور میں نے ہی شوکت کو بچایا تھا ۔
سلیم  نے اکتا کر کہا۔ آخر میں ڈاکٹر شوکت کی جان کیوں لینا چاہوں گا جبکہ وہ میرے لیے قطعی اجنبی ہے ؟
فریدی  نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ تم اس کے لیے اجنبی ہو سکتے ہو لیکن وہ تمہارے لیے نہیں ۔ کیا بتا دوں کہ تم اس کی جان کیوں لینا چاہتے ہو ؟
فریدی کے الفاظ کا اثر حیرت انگیز تھا ۔ سلیم پھر سست پڑ گیا۔ اس کی آنکھوں سے خوف کا اظہار ہو رہا تھا ۔ اس کے ذہن میں خوف اور دلیری باہمی کشمکش میں مبتلا تھے ۔ آخر کار اس نے خوف پر قابو پا لیا ۔
آخر تم کیا چاہتے ہو ؟ اس نے فریدی سے کہا ۔
تمھیں قانون کے حوالے کرنا ۔ تم نے ابھی ابھی اپنے جرموں کا اعتراف کیا ہے ۔
وہ بولا، لیکن تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں نے اقبال جرم کیا ہے ؟
فریدی نے بوکھلا کر کہنا شروع کیا، تم نے ابھی میرے سامنے اقبال جرم کیا ہے کہ … تم … ق … ق … قاتل ہو ۔
ہکلاؤ نہیں پیارے !  سلیم بے ساختہ ہنستا ہوا بولا ۔
لو ، میں ایک بار پھر اقبال جرم کرتا ہوں کہ میں  نے ہی شوکت کو قتل کرنے یا کرانے کی کوشش کی تھی ۔ میں  نے ہی نیپالی کو بھی قتل کیا تھا ۔ میں  نے تم پر بھی گولیاں برسائیں تھیں ۔ پھر تم میرا کیا کر سکتے ہو ؟ تمہاری بکواس پر کسے یقین ہو گا ؟
بہت اچھے برخوردار ! فریدی نے ہنستے ہوئے کہا ۔ واضح رہے کہ اب تم  نے جو اقبال جرم کیا ہے ، وہ پاگل پروفیسر کے سامنے نہیں بلکہ محکمۂ سراغ رسانی کے انسپکٹر فریدی کے سامنے کیا ہے ۔
ادھر دیکھو ، اس الماری میں ۔ یہ ایک بہت زیادہ طاقتور ٹرانس میٹر ہے اور ابھی حال ہی کی ایجاد ہے ۔ کیا سمجھے ؟ اس کے ذریعے میری اور تمہاری آوازیں محکمۂ سراغ رسانی دفتر تک پہنچ رہی اور ریکارڈ ہو رہی ہوں گی ۔ اب کہو ، کون جیتا ؟ فریدی  نے قہقہہ لگایا اور سلیم نڈھال ہو کر رہ گیا ۔
سگریٹ کا جلتا ہوا ٹکڑا اس کے قریب ہی پڑا تھا ۔ اس  نے کچھ دیر بعد فریدی کی نظر بچا کر اسے پیر سے آہستہ آہستہ اپنی طرف کھسکانا شروع کیا ۔ اب سگریٹ کا جلتا ہوا حصہ رسی کے ایک بل سے لگا ہوا اسے آہستہ آہستہ جلا رہا تھا ۔ آگ اپنا کام کر رہی تھی ۔ دفعتاً سلیم صوفے سمیت دوسری طرف پلٹ گیا ۔ فریدی چونک کر اس کی طرف جھپٹا ۔ سلیم رسی کے بلوں سے آزاد ہو چکا تھا ۔
فریدی اس پر ٹوٹ پڑا ۔ تھوڑی دیر بعد دونوں گتھے ہوئے ہانپ رہے تھے ۔ سلیم کو سست پا کر فریدی کو جیب سے پستول نکالنے کا موقع مل گیا ۔ سلیم  نے اس پھرتی کے ساتھ اس سے پستول چھین لیا جیسے وہ اس کا منتظر تھا ۔ اسی کشمکش میں پستول چل گیا ۔ فریدی نے چیخ ماری اور گرتے گرتے اس کا سر دوربین سے ٹکرا گیا ۔ وہ بالکل بے حس و حرکت زمین پر اوندھا پڑا تھا ۔
سلیم کھڑا ہانپ رہا تھا ۔ دفعتاً وہ ٹرانس میٹر کے سامنے کھڑا ہو کر بری طرح کھانسنے لگا ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس پر کھانسیوں کا دورہ پڑا ہو ۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولنے لگا،
میں انسپکٹر فریدی بول رہا ہوں ۔ سلیم میری قید میں ہے ۔ میں اسے مقامی پولیس کے سپرد کرنے جا رہا ہوں ۔ بقیہ رپورٹ کل آٹھ بجے صبح ۔
اب سلیم  نے ٹرانس میٹر فرش پر پٹخ دیا ۔ اس کے پرزے ادھر ادھر بکھر گئے ۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں طے کرتا ہوا نیچے اتر رہا تھا ۔
* * *
جب فریدی کو گئے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا تو حمید کا دل گھبرانے لگا ۔ اس  نے سوچا کہ کہیں کوئی حادثہ نہ پیش آ گیا ہو ۔ مینار میں پہنچ کر حمید بدقت تمام اپنی چیخ روک سکا ۔ اس  نے دوڑ کر فریدی کو اٹھانے کی کوشش کی ۔ وہ بے ہوش تھا ۔ تھوڑی دیر کے بعد کراہ کر اس  نے کروٹ بدلی ۔ حمید اسے ہلانے لگا ۔ وہ چونک کر اٹھ بیٹھا ۔
تم ؟  اس نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا ۔  وہ مردود کہاں گیا ؟
کون ؟
وہی سلیم ؟ فریدی نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا ۔  افسوس ! ہاتھ آ کر نکل گیا ۔  پھر اس  نے جلدی جلدی سارے واقعات بتا دیے ۔
پھر اس  نے دوربین کے شیشے سے آنکھ لگا دی ۔ تھوڑی دیر تک خاموش رہا ۔
ارے ! وہ چونک کر بولا ۔ یہ پائپ کے سہارے دیوار پر کون چڑھ رہا ہے؟ سلیم ۔ یہ اس  نے جیب سے کیا چیز نکالی؟ یہ نلکی کیسی ؟ وہ اس نلکی کو ہونٹوں میں دبا رہا ہے ۔
حمید ! اب ڈاکٹر شوکت اتنی خاموشی سے قتل ہو جائے گا کہ اس کے قریب کھڑی نرس کو بھی اس کی خبر نہ ہو گی ۔ اف ! کیا کیا جائے ؟ کم بخت پستول بھی تو اپنے ساتھ لیتا گیا ۔
اوہ ! ٹھیک ، یاد آ گیا ۔ میں  نے وہ رائفل نیچے دیکھی تھی ۔ ٹھہرو ، میں ابھی آیا ۔  فریدی یہ کہہ کر دوڑتا ہوا نیچے چلا گیا ۔
واپسی پر اس کے ہاتھ میں چھوٹی سی رائفل تھی ۔ اس نے اسے کھول کر دیکھا ۔ اس کی میگزین میں کئی کارتوس باقی تھے ۔
اس  نے کھڑکی سے نشانہ لیا ۔ بیمار کے کمرے سے آتی ہوئی روشنی میں سلیم کا سر صاف نظر آ رہا تھا ۔ فریدی  نے رائفل چلا دی ۔ سلیم اچھل کر ایک دھماکے کے ساتھ زمین پر آ رہا ۔
وہ مارا ۔  اس نے رائفل پھینک کر زینے کی طرف دوڑتے ہوئے کہا ۔
حمید بھی اس کے پیچھے تھا ۔ یہ لوگ اس وقت پہنچے جب بیگم صاحبہ ، نجمہ ، ڈاکٹر اور کئی ملازمین وہاں اکٹھے ہو چکے تھے ۔
فریدی  نے شوکت کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا، کہو ڈاکٹر! آپریشن کا کیا رہا ؟ شوکت چونک کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا ۔
کامیاب ۔  شوکت  نے بوکھلا کر کہا ۔  لیکن … لیکن …
میں محض تمہارے لیے مرا تھا میرے دوست ! یہ دیکھو ، آج جس نے تمہارے گلے میں پھندا ڈالا تھا ، تمہارے سامنے مردہ پڑا ہے ۔
اب سارے لوگ فریدی کی طرف متوجہ ہو گئے ۔
تم کون ہو ؟  بیگم صاحبہ گرج کر بولیں ۔
محترمہ ! میں محکمۂ سراغ رسانی کا انسپکٹر ہوں ۔  فریدی نے کہا ۔ میں سرکس والے نیپالی کے قاتل اور ڈاکٹر شوکت کی جان لینے کوشش کرنے والے کی لاش تھانے  لے جانا چاہتا ہوں ۔
* * *
نواب صاحب گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے انگور کھا رہے تھے ۔ فریدی کو دیکھ کر بولے، آؤ آؤ میاں فریدی! میں آج تمھیں ہی یاد کررہا تھا۔
آپ کو اچھا دیکھ کر مجھے انتہائی مسرت ہوئی ہے ۔  فریدی نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
تھوڑی دیر تک ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد نواب صاحب نے کہا، فریدی میاں ! تمھیں اس بات کا علم کیوں کر ہوا تھا کہ شوکت میرا بیٹا ہے ؟
جب میں پہلی بار سلیم سے رپورٹر کے بھیس میں ملا تھا، اس وقت میں نے آپ کے والد ماجد کی تصویر دیکھ کر اندازہ لگایا تھا کہ اس کوٹھی کا کوئی فرد ڈاکٹر شوکت کو کیوں قتل کرنا چاہتا ہے ۔ شوکت کی شکل ہوبہو نواب صاحب مرحوم سے ملتی ہے ۔ مجھے حیرت ہے کہ جس بات کا علم ڈاکٹر شوکت کو نہیں تھا ، اس کا علم سلیم کو کیونکر ہوا ۔
غالباً میں بے ہوشی کے دوران میں کچھ بک گیا ہوں ۔ سلیم زیادہ تر میرے قریب ہی رہتا تھا ۔ میں تمھیں شروع سے سناتا ہوں ۔ شوکت کی ماں ہمارے خاندان کی نہ تھی ۔ ہم دونوں والد صاحب مرحوم کے ڈر سے کھلم کھلا شادی نہ کر سکتے تھے، لہٰذا چھپ کر شادی کر لی ۔ شوکت کی پیدائش کے چھے ماہ بعد وہ ایک مہلک مرض میں مبتلا ہو گئیں ۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر کے خدمت خلق کرے ۔
جب وہ دم توڑ رہی تھیں تو انھوں نے مجھ سے وعدہ لے لیا تھا کہ اس وقت تک میں شوکت پر یہ بات ظاہر نہ کروں گا جب تک وہ ایک اچھے کردار کا مالک نہ ہو جائے گا ۔ پھر انھوں  نے شوکت کو سیتا دیوی کے سپرد کر دیا ۔ میں خفیہ طور پر سیتا دیوی کی مدد کیا کرتا تھا ۔ میں  نے دوسری شادی نہیں کی اور دنیا یہی سمجھتی رہی کہ میں ساری زندگی کنوارا ہی رہا ۔
نواب صاحب  نے پھر شوکت اور نجمہ کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھ کر کہا، اب میری زندگی میں پھر سے بہار آ گئی ہے ۔ ان کی آواز گلوگیر ہو گئی اور ان کی آنکھوں میں آنسو چھلک پڑے ۔
فریدی میاں !نوا ب صاحب بولے ۔ اس سلسلے میں تمھیں جو پریشانیاں اٹھانی پڑی ہیں ، ان کا حال مجھے معلوم ہے ۔ بخدا ! میں تمھیں شوکت سے کم نہیں سمجھتا ۔ تم بھی مجھے اتنے ہی عزیز ہو جتنے شوکت اور نجمہ ۔
بزرگانہ شفقت ہے آپ کی ۔ فریدی نے سر جھکا کر آہستہ سے کہا ۔
ہاں بھئی ، وہ بے چارے پروفیسر کا کیا ہوا ؟ کیا و ہ کسی طرح رہا نہیں ہو سکتا ؟ نواب صاحب بولے ۔
تاوقتیکہ کوکین فروشوں کا گروہ گرفتار نہ ہو جائے ، ضمانت بھی نہیں ہو سکتی ۔  فریدی  نے کہا ۔  لیکن میں اسے بچانے کی حتی الامکان کوشش کروں گا ۔
تھوڑی دیر کے بعد چاروں ڈرائنگ روم میں بیٹھے چائے پی رہے تھے ۔
ہاں بھئی فریدی ! یہ تو بتاؤ تم مرے کس طرح تھے ؟ مجھے یہ آج تک معلوم نہ سکا ۔  ڈاکٹر شوکت نے پوچھا ۔
مجھے شروع ہی سے سلیم پر شبہ تھا لیکن میں نے ایک بنیادی غلطی کی تھی جس کی بنا پر مجھے مرنا پڑا ۔ مجھ سے جو غلطی ہوئی ، وہ یہ تھی کہ میں سلیم سے رپورٹر کے بھیس میں ملا تھا ۔ اس نے واپسی پر مجھے ہوائی رائفل سے فائر کیا لیکن ناکام رہا ۔
اس  نے رائفل پروفیسر کے ہاتھ میں تھما دی اور خود غائب ہو گیا ۔ سلیم پروفیسر کو اپنا آلہ کار بنائے ہوئے تھا ۔ کئی سال کی بات ہے جب پروفیسر ایک تجربہ کر رہا تھا ۔ اس نے چاند کا سفر کرنے کے لیے ایک غبارہ بنایا تھا ۔ تجربے کے لیے اس نے پہلی بار اپنے اسسٹنٹ نعیم کو اس غبارے میں بٹھا کر اڑایا ۔
غبارہ پھر پروفیسر کی دانست میں زمین کی جانب نہ لوٹا ۔ نعیم غبارے سمیت مدراس کے ایک گائوں میں گرا ۔ وہ گائوں والوں کی تیمار داری اور دیکھ بھال کی بنا پر بچ گیا اور وہ وہیں رہ گیا ۔ پرفیسر ان سب باتوں سے ناواقف خود کو مجرم سمجھ رہا تھا ۔ اسی پریشانی میں وہ قریب قریب پاگل ہو گیا ۔ اس کے بعد اس  نے شہر کی سکونت ترک کر دی اور راج روپ نگر میں آ گیا ۔
نعیم نے اسے خط لکھے جو کسی طرح سلیم کے ہاتھ لگ گئے اور اس طرح اسے ان واقعات کا علم ہوگیا ۔ اب اس نے پروفیسر کو بلیک میل کرنا شروع کیا ۔
مجھے ان سب باتوں کا علم اس وقت ہوا جب میں نے ایک رات چوروں کی طرح سلیم کے کمرے کی تلاشی لی ۔ نعیم کے لکھے ہوئے خطوط مجھے اچانک مل گئے ۔ اسی وقت میں اس نتیجے پر بھی پہنچا کہ مجھ پر گولی سلیم ہی نے چلائی تھی ۔
جب میں سلیم اور ڈاکٹر توصیف سے مل کر واپس جارہا تھا ، سلیم نے راستے میں دھوکا دے کر مجھے روکا اور جھاڑیوں کی آڑ سے مجھ پر گولیاں چلانے لگا ۔ میں نے بھی فائر کرنے شروع کردیے ۔ اسی دوران میں اچانک مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور میں نے تہیہ کر لیا کہ مجھے کسی نہ کسی طرح سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اب میرا وجود اس دنیا میں نہیں ، ورنہ ہوشیار مجرم ہاتھ آنے سے رہا ۔ میں نے ایک چیخ ماری اور کار میں شہر کی سمت چل پڑا ۔ میں سیدھا اسپتال پہنچا ۔
ڈاکٹر کو اپنی ساری اسکیم سے آگاہ کر دیا اور اپنے چیف کو بلوا بھیجا ۔ اسے بھی میں نے سب کچھ بتایا ۔ پھر وہاں سے میرے جنازے کا انتظام شروع ہوا ۔ اس دن اتفاق سے اسپتال میں ایک لاوارث مریض مر گیا تھا ۔ میرے محکمے کے لوگ اسے اسٹریچر پر ڈال کر اچھی طرح ڈھانک کر میرے گھر  لے آئے ۔
پڑوسی اور دوسرے جاننے والے اسے میری ہی لاش سمجھے ۔ میری موت کی خبر اسی دن شام  کے اخبارات میں شائع ہو گئی تھی ۔ اس طرح سلیم دھوکا کھا گیا ۔ اسے اطمینان ہو گیا کہ اس پر شبہ کرنے والا اب اس دنیا سے چل بسا اور اب وہ نہایت آسانی کے ساتھ اپنا کام انجام دے سکے گا ۔
میں چاہتا تھا کہ تمھیں کسی طرح راج روپ نگر لے جاؤں ۔ جب تم وہاں پہنچے تو میں سائے کی طرح تمہارے ساتھ لگا رہا تھا ۔ تمہاری کار میں نے ہی خراب کی تھی ۔ مجھے معلوم تھا کہ اس وقت کوٹھی میں کوئی کار موجود نہیں ہے ، لہٰذا تم اس صورت میں پیدل ہی جاؤ گے ۔
مجھے یہ بھی یقین تھا کہ سلیم تمھیں نواب صاحب کے آپریشن سے پہلے ہی ختم کرنے کی کوشش کرے گا ، لہٰذا میں نے اسے موقع واردات ہی پر گرفتار کرنے کے لیے تمھیں پیدل لے جانا چاہا ۔ اس کم بخت نے وہ حربہ استعمال کیا جس کا مجھے گمان تک نہ تھا ۔ تم واقعی قسمت کے اچھے تھے کہ وہ سوئی تمہاری بجائے کتے کے پنجوں میں لگی اور تم بچ گئے ، ورنہ تم ختم ہو جاتے اور مجھے پتا بھی نہ چلتا ۔ اسی دوران میں مجھے پروفیسر کے بارے میں کچھ اور باتیں بھی معلوم ہوئیں ، مثلاً ایک تو یہی کہ وہ کوکین کھانے کا عادی ہے اور غیر قانونی طریقے پر اسے حاصل کرتا ہے ۔ بہرحال یہ تھی میرے مرنے کی داستان ۔
خدا تمہاری مغفرت کرے ۔ ڈاکٹر شوکت نے کہا ۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles