42.5 C
Lahore
Tuesday, June 25, 2024

Book Store

چوٹ

 

چوٹ

تحسین گُل

 

جوانی بڑی دیوانی اور مستانی ہوتی ہے، مگر تھوڑی سی نادانی بھی تو شامل ہوتی ہے۔ اس نادانی میں اصل نقل، اچھے بُرے کی تمیز کم ہی ہوتی ہے۔ مجھ میں بھی عقل کی کمی تھی۔ لہٰذا کنکر کو ہیرا خیال کر بیٹھی۔ وہ چچی کا بیٹا تھا۔ ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ بچپن کا ساتھ تھا۔ بچپن میں زہر لگا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ لڑائی میں اس کا دانت توڑ دیا۔ اس کا منہ خون سے بھر گیا۔ اتنا خون دیکھا، تو ڈر کر رونا شروع کر دیا۔ میں سمجھی کہ اتنا خون نکلا ہے، تو مر جائے گا۔ وہ تو نہ مرا، مگر پھر میں مر گئی۔
آہستہ آہستہ ہم دونوں کی دوستی ہونے لگی۔ اسکول اکٹھے جاتے تھے۔ ایک جماعت میں پڑھتے تھے۔ پانچویں کے بعد اسکول الگ ہو گئے۔ وہ لڑکوں کے اسکول جانے لگا اور میں لڑکیوں کے گھر سے اکٹھے نکلتے، آگے جا کر الگ ہو جاتا۔ واپسی پر یوٹرن لے کر پھر ایک رستہ بن جاتا۔ میٹرک تک دونوں ٹھیک ٹھاک رہے۔
سترہ کا سن لگتے ہی نجانے کیا ہوا؟ رُت بدل گئی۔ شاعری اچھی لگنے لگی۔ ایک مرتبہ کسی بات پر ہماری لڑائی ہو گی۔ میں نے غصے میں آ کر اسے خبیث کہہ دیا۔ سن کر ہنسا اتن اہنسا کہ میں حیران رہ گئی۔ دوسری دفعہ لڑائی ہوئی، تو پھر خبیث کہہ دیا۔
اس کی ہنسی نکل گئی۔ اس کی ہنسی میں خوشی زیادہ تھی۔ یوں لگا خبیث نہ کہا ہو کوئی تمغہ دے دیا ہو۔ جس کو جیت کر خوش ہو رہا ہو۔ آہستہ آہستہ خبیث اچھا لگنے لگا۔ کچھ دنوں بعد اس نے مجھے کتاب گفٹ کی۔ ’’دوسروں کو ہپناٹزم کریں‘‘ میں نے کتاب کا عنوان دیکھا پھر اسے دیکھا۔ یہ کیا؟ میں نے پوچھا؟
اس نے جواب دیا۔ کتاب مگر میں اس کا کیا کرو؟
’ہپناٹزم کرو‘ اس نے جواب دیا۔ کسے؟ میں نےپوچھا۔
مجھے اس نے جواب دیا۔ کیوں؟ میں نے پوچھا۔
’’تاکہ تمہارے علاوہ میں کسی کا اسیر نہ ہو سکوں‘‘ لو جی گل ہی مُک گئی۔ ہو گیا اظہار محبت۔ ڈال لیا گلے میں طوق۔ سُن کر مجھے شرم آنے کے بجائے ہنسی آ گئی زیادہ آنے جانے کا نقصان یہی ہوتا ہے۔ چارم ختم ہو جاتا ہے۔ میں نے مکا تان کر اس کے چہرے کے سامنے لہرایا اور بولی: ’’خبیث تیری یہ جرأت۔‘‘ لفظ خبیث سُن کر ہنسا نہیں۔ بلکہ دھیرے سے مسکرا کر بولا:
’’تمہارے منہ سے لفظ خبیث کتنا اچھا لگتا ہے۔ ساری عمر سُننا چاہتا ہوں۔ میں شرم سے نگاہ جھکا گئی۔ اس کے سامنے ٹھہر نہ سکی۔ آہستہ آہستہ محبت کا خمار دونوں پر چڑھنے لگا۔ مجھے دیکھ کر اس کی نظریں مسکراتیں۔ اسے دیکھ کر میری نظریں جھک جاتی۔ اس آنکھ مچولی میں ایک برس بیت گیا۔
کچھ دنوں سے یوں لگتا تھا۔ جیسے وہ اس کھیل سے بے زار ہو رہا ہے۔ چچی بھی اُکھڑی اُکھڑی سی رہنے لگیں تھیں۔ بہانے سے ہمارے گھر آنے والی چچی اب کم کم آتیں۔ ہمارے گھر کے در و دیوار انھیں اب اچھے نہیں لگتے۔ کبھی امی سے کہتیں بھابی پردے بدلوا لو، کبھی کہتیں فرنیچر نیا لے لو۔ کبھی کیا کبھی کیا۔
چچا کو کاروبار میں زبردست فائدہ ہوا تھا۔ انھیں یہ علاقہ بُرا لگنے لگا تھا۔ اب پوش علاقے میں گھر بنانے کا ارادہ تھا۔ میں خوش فہمیوں کے جھولے میں جھولتی رہی کہ وہ بڑا گھر میرا بھی ہو گا۔
ایک دن چچی نے تابوت میں کیل ٹھونک دی۔ اپنی دوست کی بیٹی بلکہ امیر دوست کی بیٹی سے اس کی بات پکی کر دی۔ میں ہکا بکا رہ گئی۔ اس کے گھر گئی۔ شاید وہ بھی میری طرح دل برداشتہ ہو گا۔
شاید مجھے یاد کر کے رویا بھی ہو۔ دروازہ اسی نے کھولا۔ خوش باش، میں حیران رہ گئی۔ آج اس نے مجھے ہنپانڑم کر دیا۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگا، کیا ہوا دروازے پر جم گئی ہو۔ میں خوموشی سے اندر آ گئی۔ آہستہ سے اسے مبارک باد دی۔ اس نے خوشی سے قبول کی اس کے خوش ہونے نے بتا دیا کہ وہ کتنا خوش ہے۔ میں خاموشی سے لوٹ آئی۔ اسے کچھ کہہ نہ سکی۔ پتہ تھا، اگر کچھ کہتی تو اپنے لفظ کھوتی، اپنی عزت نفس بڑی عزیز تھی۔ اس نے چھوڑ دیا، تو میں پیچھے کیوں جاؤں، ثابت ہو گیا۔ وہ پکا خبیث تھا۔ اس کی خیابث ظاہر ہو گئی تھی۔ نہ کسی کو دکھا سکتی تھی نہ سہلا سکتی تھی۔ اس چوٹ کو بھرنے میں عرصہ لگا، مگر نشان چھوڑ گئی تھی۔
کبھی کبھی اُداس شاموں میں درد دل بڑے زور کا اٹھتا تھا۔ آنکھیں لہو لہو ہو جاتی، مگر غلطی میری بھی تو تھی۔ کیوں بے شمار منزل کی مسافر بنی۔ دھیرے دھیرے دل کو قرار آنے لگا۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد ماموں کے گھر سے رشتہ آیا۔ والدین نے خوشی خوشی اقرار کیا۔
ماموں کا بیٹا بہت سادہ شریف اور نیک اطوار کا مالک تھا۔ میں نے اللہ سے اپنے گناہوں کی سچے دل سے توبہ کی اور پوری ایمانداری اور وفاداری سے اس کی زندیگ میں قدم رکھ دیا۔
نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے، اللہ سے توبہ کی اور دعا کی ’یا اللہ سدا سُہاگن رکھنا اور اس سے پہلے موت دینا‘
زندگی کی ابتدا بہت اچھی ہوئی، جیسے بہت سادہ اور شریف سمجھتی تھی۔ وہ تو ٹوٹ کر محبت کرنے وال انسان نکلا۔ نجانے اللہ نے کس نیکی کے صلے میں اسے میرا بنا دیا، مگر کہتے ہیں نا عورت اپنا پہلا پیار نہیں بھولتی، تو زخمی ناگن اپنی چوٹ نہیں بھولتی۔ مجھے بھی کبھی کھبی یہ چوٹ درد دیتی تھی۔
چچی شہر سے پرے چلی گئیں تھیں۔ آنا جانا بہت کم رہ گیا تھا۔ آخری دفعہ اس کی شادی پر گئی تھی۔ پھر کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اس کی بیوی اچھی تھی۔ کم عمر تھی۔ خوبصورت تھی اور امیر تو تھی ہی۔
سُنا تھا بہت شکی عورت تھی، مگر اس سے کبھی اتنی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ میرے شوہر نے مجھے بہت خوش رکھا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ میں روز اوّل کی دُلہن ہوں۔ وقت نے ۲۵ برس سر کا دیے۔
اس کے بڑے لڑکے کی شادی تھی۔ خود کارڈ دینے آیا تھا۔ خاندان کا معاملہ تھا۔ جانا ضروری تھا۔ ان ۲۵ برسوں میں بہت تبدیلی آ چکی تھی۔ وہ بہت موٹا اور گنجا ہو گیا تھا۔ اس کی بیوی ابھی بھی بڑی خوبصورت تھی۔ میرے اندر بہت اعتماد آ گیا تھا اور اس اعتماد کی وجہ میرے شوہر تھے۔ انھوں نے مجھ پر ہمیشہ اعتماد کیا، محبت دی۔اسی وجہ سے ہم دونوں ایک دوسرے پر مکمل بھروسہ کرتے تھے۔
اس اعتماد کی وجہ سے آج میں اس کے سامنے کھڑی تھی اور میری زبان روانی سے چل رہی تھی۔ سلام دعا ہوئی، ایک دوسرے کا حال احوال پوچھا گیا۔ چچا اور چچی اللہ کو پیارےہو گئے تھے۔ اس کی بیوی بہت اچھے طریقے سے ملی۔ کھانا کھانے کے بعد سب مل بیٹھے۔ باتوں کا دور چلا۔ ہنسی مذاق شروع ہو گیا۔ میں نے کہا تمہاری بیوی بڑی سخت لگتی ہے؟ کھسیانی سی ہنسی ہنسا اور بولا:
’’ٹھیک ہے۔ ‘‘اتنے میں اس کی بیوی آئی اور بولی:
’’کیا باتیں ہو رہی ہیں۔‘‘
میں جھٹ سے بولی۔ میں جوانی کے دنوں کی یادیں تازہ کر رہے تھے۔ وہ ایک دم سے چونک اٹھی۔ جوانی کے دن ہاں۔ تمہیں اس خبیث نے بتایا نہیں۔ سوری میں پیار سے خبیث کہتی تھی۔ جوانی میں یہ مجھ پر بُری طرح سے مرتا تھا، مگر اس کی اماں نے تم سے شادی کروا دی اور اللہ کا شکر ہے کہ میں بچ گئی۔
اللہ نے اس کے بدلے انتہائی نیک اور محبت کرنے والا ساتھی عطا کیا۔ اس کی بیوی نے قہر بھری نظروں سے اس کو دیکھا۔ آج وہ لفظ خبیث سُن کر ہنسا نہیں بلکہ اس کارنگ اُڑ گیا تھا۔ اس کی بیوی نے جن نظروں سے اسے دیکھا، تو مجھے یوں لگا کہ آج ۲۵ برس پہلے دل پر لگی چوٹ بھر گئی۔ ۲۵ برس پہلے جیسے میں اس کے دروازے پر چوٹ لیے لوٹی تھی۔ آج اس کا مداوا ہو گیا۔
آج دل کو تسکین مل گئی۔ اب پتہ چلے گا خبیث کو۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles