30 C
Lahore
Saturday, May 18, 2024

Book Store

اَندازِ شگفتہ

اَندازِ شگفتہ

قاضی شارق محمود

گلشنِ اقبال کے انتہائی بائیں جانب گرے نیلے رنگوں والا ہزار گز کا شاندار بنگلہ ریاض صاحب کا ہے، ریاض صاحب نے گریڈ سترہ سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ جب ملازمت سے ریٹائر ہوئے، تو گریڈ اکیس میں تھے۔ اب ریاض صاحب کو ریٹائر ہوئے کئی سال گزر گئے ہیں۔ ریاض صاحب اس وقت بُہتر سال کے ہیں۔ ریاض صاحب کو دائیں طرف سے دیکھیں یا بائیں طرف سے اُوپر سے دیکھیں یا نیچے سے دیکھیں دور سے دیکھیں یا قریب سے دیکھیں چشمہ لگا کر دیکھیں یا بغیر چشمے کے دیکھیں غرض یہ کہ آپ اُنھیں کسی بھی زاویے نگاہ سے دیکھ لیں۔ یہ کسی طرح بھی بُہتر برس کے نظر نہیں آتے۔
آپ دس آدمیوں سے پوچھ لیں بیس آدمیوں سے پوچھ لیں یا سو آدمیوں سے پوچھ لیں۔ سب کے سب یہی کہیں گے کہ ریاض صاحب کی عمر چالیس یا پینتالیس سال ہے۔ ریاض صاحب کی شخصیت بڑی شاندار ہے۔ پانچ فٹ نو انچ قد انتہائی مناسب جسم سرخ و سفید رنگت ڈاڑھی مونچھ بالکل صاف سر پر گھنے سیاہ بال کوئی ایک بال بھی سفید نہیں کوئی بھی یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ بالوں کا یہ رنگ قدرتی ہے یا مصنوعی اگر یہ کلر مصنوعی ہے، تو واقعی بڑے کمال کا مصنوعی ہے۔ اس کمال کے ساتھ ساتھ اُن کی چال ڈھال بھی بڑے کمال کی ہے۔ کورونا کی آمد سے پہلے یہ چال ڈھال زیادہ گھر سے باہر ہوتی تھی۔
اب کورونا کی آمد کی وجہ سے یہ چال ڈھال گھر کی حدود میں محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ سارا دن پورے گھر میں منڈلائے پھرتے ہیں۔ کبھی اِدھر کبھی اُدھر کبھی لان میں کبھی ٹی وی لاؤنچ میں کبھی بیڈو روم میں کبھی ڈرائنگ روم میں چال ڈھال سے تو لگتا ہے کہ اُن کی عمر چالیس سال کی بھی نہیں۔ بیس تیس سال کی ہے۔ یہ سب کچھ ہے، لیکن اُن کی کھانسی کی عمر بہرحال بُہتر سال ہی ہ، کھانستے ہیں، تو پھر کھانستے ہی چلے جاتے ہیں۔ کھوکھوکھو کھی کھی غوغوغا کھو تقریباً ہر قسم کی آوازوں کی کھانسی کھانستے ہیں۔ کھانستے ہوئے ذرا اُنھیں جھجھکتے ذرا نہیں گھبراتے ذرا نہیں شرماتے، وہ شرمائیں تو شرمائیں کیوں گھبرائیں تو گھبرائیں کیوں یہ سارے کا سارا مکان اُن کا اپنا ہے گھر کا سارے کا سارا سامان اُن کا اپنا ہے، تو پھر شرمانا کیسا کسی سے گھبرانا کیسا۔
وہ دوسروں کا کھاتے نہیں بلکہ دوسروں کو کھلاتے ہیں۔ کون ہے جو اُنھیں روک سکے کون ہے جو اُنھیں ٹوک سکے۔ وہ تو بس سگریٹ کے کش پر کش لگائے چلے جاتے ہیں اور دل بھر کے کھانستے چلے جاتے ہیں۔ سگریٹ کا ساتھ بیس سال کی عمر سے ہے، وہ محض کھانسی کی وجہ سے اپنی اس دیرینہ دوست کا ساتھ تو نہیں چھوڑ سکتے۔ ریاض صاحب کی اکلوتی بہو آمنہ کورونا کی آمد سے پہلے اُن کی کھانسی پر اتنی توجہ نہیں دیتی تھی۔ لیکن اب کورونا کی آمد کی وجہ سے آمنہ کو دن با دن اُن کی کھانسی کھِلتی چلی جا رہی ہے اور پھر ایک دن یہ کھانسی اتنی کھلی کہ وہ بڑے فیصلہ کن انداز میں اپنے شوہر کے پاس پہنچی اوسر بڑے ٹوٹ انداز میں بولی:
’’الیاس میں دونوں بچوں کو لے کر امی کے گھر جا رہی ہوں، کم از کم دو ماہ کے لیے، میں تمہارے ابا کی کھانسی سے تنگ آ گئی ہوں، سگریٹ پیتے چلے جاتے ہیں اور مسلسل کھانستے چلے جاتے ہیں۔ ذرا خیال نہیں کرتے کہ آگے کون بیٹھا ہے۔ میں اپنے بچوں کو اُن کی کھانسی کے رحم ر کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔ آگ لگے اُن کی اس خبیث سگریٹ کو۔‘‘
ٹھیک ہے جاؤ… لیکن میرا کیا ہو گا؟
آپ کا کیا ہونا ہے، میں آپ کے پیروں پر مہندی لگا کر تو نہیں جا رہی جب چاہیں وہاں آ جایا کریں، پندرہ بیس منٹ کا فاصلہ ہی تو ہے۔ امی تو ویسے ہی آپ کو دیکھ کر باغ باغ ہو جاتی ہیں۔ اُن کے ہاتھ کے پکے کھانوں کے آپ عاشق ہیں۔
اچھا چلو ٹھیک ہے۔ تمہارا فیصلہ ان دنوں کے لحاظ سے بالکل درست ہی لگتا ہے۔
آمنہ کا مسئلہ حل ہو گیا لیکن کالونی میں رہنے والی عطیہ کا مسئلہ ابھی باقی ہے۔
عطیہ کا مسئلہ بھی تقریباً وہی ہے، جو آمنہ کا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عطیہ کے سسر ایک پتلے پتلے سانولے سے رنگ کے مسکین سے آدمی ہیں۔ ۶۵ سال کی عمر میں ۶۵ سال کے ہی نظر آتے ہیں۔ اس وقت اپنی کوئی ذاتی آمدنی نہیں۔ بس ایک چھوٹے سے اَسّی گز کے مکان کے مالک ہیں۔ دو کمرے نیچے اور ایک کمرا اُوپر عطیہ کے سسر سیدھے سادھے آدمی ہیں۔ نہ زیادہ بولتے ہیں نہ زیادہ کھاتے ہیں۔ نہ زیادہ سوتے ہیں۔ بس اتنا ہے کہ سگریٹ بہت زیادہ پیتے ہیں اور سگریٹ بی، پی کر کھانستے بہت زیادہ ہیں۔
کورونا کی آمد سے پہلے عطیہ نے اُن کے سگریٹوں کی بدبو بھی برداشت کی اور اُن کی طوفانی کھانسی بھی لیکن اب جبکہ کورونا کی آمد کی وجہ سے ایک عجیب سا خوف گھر گھر مسلط ہو گیا ہے، تو عطیہ کو بھی اپنے سسر کی جانی پہچانی کھانسی سے خوف محسوس ہونے لگا ہے۔ عطیہ نے کافی عرصے تک یہ خوف برداشت کیا۔ لیکن ایک دن جب اُس کا پانچ سال ساجد کافی دیر تک کھانسا، تو عطیہ کا خوف ناقابلِ برداشت ہو گیا۔ وہ اپنے شوہر کے سامنے کھڑی ہو گئی اور اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی:
’’عابد آپ نے سنا آج ساجد کو بھی بُر طرح کھانسی اُٹھی تھی، ابو کی کھانسی کہیں اس پورے گھر کو نہ لے ڈوبے۔ کورونا کی آمد کے بعد ابو کو چاہیے تھا کہ سگریٹ نوشی کی عادت ترک کر دیتے لیکن میں دیکھ رہی ہوں کہ اُن کی سگریٹ نوشی کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ لگتا ہے اب اُن کے صرف دو کام رہ گئے ہیں۔ ایک سگریٹ پینا اور دوسرے سگریٹ پی کر مسلسل کھانستے رہنا… خا کے لیے ابو سے کہیں کہ اُوپر والے کمرے میں جا کر رہیں۔ ہم پر نہیں تو کم از کم اپنے چھوٹے چھوٹے پوتے پوتی کا ہی کچھ خیال کر لیں۔ عابد نے عطیہ کی بات بڑی توجہ سے سنی کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر گہری طویل سانس لے کر بولا:
’’عطیہ تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو، میں تو خود بھی ابو سے یہ بات کہنے کا سوچ رہا تھا۔ لیکن ہمت نہیں ہو رہی تھی، لیکن اب مجھے ہمت کرنی ہی ہو گی… تم بالکل فکر مت کرو۔ میں آج آج ہی ابو سے اس سلسلے میں بات کرتا ہوں۔‘‘
سگریٹ اور کھانسی کا مسئلہ عرفان صاحب کا بھی ہے۔ ان کا مسئلہ کچھ زیادہ ہی خطرناک ہے۔ وہ اس طرح کہ وہ اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ اُس کے مکا میں رہتے ہیں۔ یہ مکان بڑے بیٹے نے خالصتاً اپنی کمائی سے خریدا تھا ورنہ عرفان صاحب تو ساری زندگی کرائے کے مکانوں میں ہی رہتے چلے آئے تھے۔ عرفان صاحب بیٹے کے مکان میں رہتے ہیں، بیٹے کی کمائی کھاتے ہیں۔ لہٰذا خاصے دباؤ میں رہتے ہیں، ڈرتے ڈرتے سگریٹ پیتے ہیں اور ڈرے ڈرے انداز میں ہی کھانستے ہیں۔ اُن کی بہو کورونا کی آمد سے پہلے کسی نہ کسی طرح اُن کی کھانسی کو برداشت کرتی رہی۔ لیکن اب اُس کی برداشت جواب دے گئی ہے۔ شوہر سے تڑخ کر بولی:
’’اپنے ابا سے کہیں کہ چند ماہ کے لیے اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس جا کر رہیں، ہم نے ساری عمر کے لیے کوئی ان کا ٹھیکا نہیں لے رکھا، چھوٹے بیٹے کا گھر بڑا بھی ہے اور اُس کا کوئی بچہ بھی نہیں، ہمارا گھر چھوٹا ہے اور بچے بھی تین ہیں۔ چھوٹے بیٹے کے گھر جا کر جتنی مرضی سگریٹ پئیں اور جتنا مرضی کھانسیں اُسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن اب اس چھوٹے سے گھر میں اُن کی کھانسی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
مندرجہ بالا تین گھروں کا مسئلہ آپ نے پڑھا کورونا کی وجہ سے اب یہ مسئلہ صرف تین گھروں کا نہیں بلکہ دنیا بھر کے لاکھوں کروڑوں گھروں کا ہے، اگر مس شگفتہ نہ ہوتیں، تو میں خود بھی اس مسئلے کا شکار ہوتا۔ مس شگفتہ مجھے ساری زندگی یاد آئیں، لیکن اب کورونا کی آمد کے بعد سے بے تحاشا یاد آ رہی ہیں اور میرا سر اُن کے خراجِ عقیدت میں جھُکتا چلا جا رہا ہے۔
٭٭٭
مارچ کے آغاز کے دن تھے۔ سردی دن با دن دور ہوتی چلی جا رہی تھی، موسم خاصا خوشگوار تھا، موسم کے ساتھ ساتھ ہم پانچوں دوستوں حیدر، رفیق، سلطان، کامران اور میرا موڈ بھی بہت خوشگوار تھا۔ اسکول کی آدھی چھٹی ہوئی، تو ہم دوستوں نے دہی بلّے کی مزیدار چاٹ کھائی۔ پھر موسم سے مزید لطف اندوز ہونے کے لیے اسکول کی پشت والی گلی میں چلے آئے اور اپنی اپنی سگریٹیں سلگا کر خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے۔ ہمیں اسکول کے وقفے کے دوران جب بھی سگریٹ پینی ہوتی تھی،ہم اسی جگہ آ کر پیتے تھے۔ کیونکہ یہ ایک محفوظ جگہ تھی۔ اسکول کی پشت پر اسکول کا صرف ایک چھوٹا سا کالے رنگ کا دروازہ کھُلتا تھا۔ حال ہی میں اسکول کی انتظامیہ نے یہاں پھولوں کے چند گملے رکھوائے تھے۔ سلطان نے پہلے سگریٹ کا ایک بھرپور کش لیا، پھر پھولوں کی طرف نگاہ جما کر بولا:
’’یارو ذرا ہوشیار رہنا، کبھی کبھار مس شگفتہ ان پھولوں کو دیکھنے کے لیے مس عالیہ کے ساتھ ادھر آ نکلتی ہیں، سلطان کا جملہ ابھی ختم ہوا ہی تھا کہ آواز کے ساتھ پشت والا دروزہ کھُلا، ہم نے مس شگفتہ کو اور مس شگفتہ نے ہم پانچوں دوستوں کو بمع ہماری سگریٹوں کے ساتھ دیکھا۔ میں  نے اس ایک لمحے میں بڑے واضح انداز میں دیکھا کہ مس شگفتہ پر لرزے کی سی کیفیت طاری ہو گئی تھی، اُن کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئی تھیں اور آنکھوں میں آنسوؤں کے موٹے موٹے قطرے اُتر آئے تھے۔ پھر کھٹ کی آواز آئی اور دروازہ بند ہو گیا۔ بس چند لمحوں ہی کی بات تھی لیکن ان چند لمحوں نے ہم پر بہت بُری طرح قیامت ڈھا دی تھی۔ ہمارے سگریٹ تو بجھ ہی گئے تھے لیکن اُن کے ساتھ ساتھ ہمارے چہرے بھی بُری طرح بجھ گئے تھے۔
وقفے کے بعد ہم جب کلاس میں آ کر بیٹھے، تو ہمارے چہرے دُھواں دُھواں ہو رہے تھے۔ احساسِ شرمندگی ہمیں بُری طرح مارے چلا جا رہا تھا۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب مس شگفتہ کا سامنا کریں گے، تو کس طرح کریں گے۔ یہ پیریڈ بھی مس شگفتہ کا تھا لیکن جب کلاس میں مس شگفتہ کی جگہ مس روبینہ داخل ہوئیں اور اُنھوں نے ہمیں بتایا کہ مس شگفتہ چھٹی لے کر گھر چلی گئی ہیں، تو ہماری جان میں جان آئی۔‘‘
٭٭٭
مس شگفتہ ہماری کلاس ٹیچر تھیں۔ وہ ہماری کلاس کو انگلش اُردو اور تاریخ پڑھایا کرتی تھیں، وہ صرف ہماری ہی نہیں بلکہ اسکول بھر کی سب سے زیادہ پسندیدہ ٹیچر تھیں۔ اُن کے پڑھانے کا انداز انتہائی منفرد اور نہایت دلکش تھا۔ پڑھاتے ہوئے اُن کا انہماک دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ مس شگفتہ نصابی علم کے علاوہ روزانہ تقریباً پندرہ بیس منٹ ہمیں آداب زندگی اور اندازِ زندگی کے بارے میں لیکچر دیا کرتی تھیں۔ اُن کی زبان سے ادا شدہ ایک لفظ فوراً ہمارے دل میں اُتر جایا کرتا تھا۔ نہ صرف ہماری کلاس بلکہ سارا اسکول ہی اُن کی صلاحیتوں کا معترف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مس شگفتہ اسکول کے جس گوشے سے بھی گزرتیں، اسکول کے طلبہ کی نظریں اُن کے قدموں میں بجھ بجھ جایا کرتی تھیں۔
مس شگفتہ نے جہاں اور سارے موضوعات پر ہمیں لیکچر دیے، وہاں سگریٹ نوشی کے بارے میں بھی کئی ایک لیکچر دیے۔ اُنھوں نے سگریٹ نوشی کے نہ صرف طبی نقصانات سے ہمیں آگاہ کیا، بلکہ سگریٹ نوشی کے معاشی، معاشرتی اور ماحولیاتی نقصانات سے بھی ہمیں بڑی تفصیلی سے آگاہ کیا۔ مس شگفتہ کی عادت تھی کہ وہ جب بھی کسی اخبار یا رسالے میں طالبِ علموں کے فائدے کا کوئی مضمون دیکھتی، وہ اُسے فوٹو اسٹیٹ کرا کر بلیک بورڈ پر لگا دیتیں اور تمام طلبہ کو اُسے پڑھنے کی تلقین کرتیں۔
زندگی کا کوئی بھی مسئلہ ہوتا، تو وہ اس مسئلے کو درمیان میں نہیں چھوڑا کرتی تھیں، بلکہ نہایت مؤثر انداز میں اُس کا حل بھی بتایا کرتی تھیں۔ مثلاً صفائی کے موضوع پر گفتگو ہوتی، تو کہتیں، آپ صرف یہ سوچ کر جلتے کڑھتے مت رہیے گا کہ آپ کا شہر گندا ہے شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔
آپ اس مسئلے کو اپنی بساط کے مطابق حل کرنے کی کوشش کیجیے گا۔ آپ اپنے جسم اور اپنی پوشاک کو صاف ستھرا اور پاک رکھیے گا۔ اپنے گھر اور اپنی گلی کو صاف ستھرا رکھیے گا، اگر پوری گلی نہیں تو کم از کم اپنے دائیں بائیں کے گھر اور سامنے کے دو گھروں کے آگےاچھی طرح صفائی کر دیجیے گا۔ اس طرح آپ کا ضمیر بھی مطمئن ہو گا اور آپ کی روح بھی خوش و خرم رہے گی۔ غرض یہ کہ زندگی کا شاید ہی کوئی پہلو ہو جسے کے مطابق اُنھوں نے گفتگو کی ہو اور ہمیں اُس کا حل بتانے کی کوشش نہ کی ہو۔ ہم پانچوں دوستوں کے دل میں اُن کی بے پناہ عزت اور انتہائی زیادہ احترام تھا اور ہم اس بات سے بھی باخوبی آگاہ تھے کہ اُنھیں ہم پر بڑا مان تھا۔ کیونکہ ہم نے آج تک اُنھیں کسی بھی قسم کی ادنا سے ادنا شکایت کا موقعہ بھی نہیں دیا تھا۔ نیز یہ کہ ہم پانچوں اسکول کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں ہمیشہ آگے آگے رہا کرتے تھے۔ نیز یہ کہ ہمیں جب بھی اور جہاں کہیں بھی موقع ملتا، ہم اس بات کا بڑا برملا اعتراف کیا کرتے تھے کہ ہماری صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں مس شگفتہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ہم پر لازم ہے کہ ہم اُن کا شکریہ ادا کریں۔ ہم پانچوں میں سے جب بھی کوئی اُنھیں خراجِ تحسین پیش کر رہا ہوتا، تو ہم دیکھتے کہ اُن کی آنکھوں میں آنسوؤں کے موتی نما قطرے آ کر ٹھہر جایا کرتے تھے اور وہ ہمیشہ اپنی انتہائی مضبوط قوتِ ارادی سے ان موتیوں کو اپنے رخساروں پر بہ آنے سے روک لیے کرتی تھیں۔ اُن کا یہ خوبصورت انداز ہمیں یقین دلا دیتا تھا کہ وہ خوش ہیں اور اُنھیں خوش دیکھ کر ہمیں جو روحانی خوشی ملتی وہ یقیناً ناقابلِ بیان ہے۔
غرض یہ کہ مس شگفتہ بہترین انداز میں ہمیں علم کی روشنی دے کر ہمارا مستقبل سنوارنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ جواباً ہم اُنھیں اپنی باتوں اور عمل کے ذریعے اُنھیں عزت دے کر اُنھیں خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتے تھے۔ لیکن آج ہم نے اُنھیں بجائے خوشی دینے کے بہت بڑا دُکھ دے ڈالا تھا اور اب ہمارا ضمیر ہمیں ملامت پر ملامت کیے چلا جا رہا تھا۔
اسکول کی چھٹی ہوئی، ہم پانچوں دوست ایک مرتبہ پھر اکٹھے ہوئے۔ پہلے تو ہم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ہمیں فوری طور پر مس شگفتہ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پھر ہم نے اس بات پر غور کرنا شروع کیا کہ کل ہمیں کن الفاظ میں مس شگفتہ سے معافی مانگنی چاہیے، الفاظ ایسے ہونے چاہیے کہ مس شگفتہ کا دل دُکھ بھول کر یکدم خوشی سے بھر جائے۔ لیکن کافی دیر تک غور کرنے کے پر بھی ہمیں ایسے الفاظ سمجھ میں نہیں آئے۔ ہم افسردہ ہو کر کچھ دیر کے لیے بالکل چپ ہو گئے۔ لیکن پھر کچھ ہی دیر بعد کامران خوشی سے یکدم اُچھل پڑا اور بڑے پُرجوش انداز میں بولا: ’’سنو… ہم اپنے منہ سے کوئی ایک لفظ بھی ادا نہیں کریں گے، کوئی ایک لفظ بھی۔ کیونکہ خود بقولِ مس شگفتہ تحریر کی طاقت زبان کی طاقت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم کل کلاس روم میں اُن کی آمد سے قبل بلیک بورڈ پر لکھ دیں گے۔
مس کل ہم سے بہت بڑی غلطی ہوئی، ہم آپ سے بے حد شرمندہ ہیں۔ ہمیں معاف کر دیں، معاف کر دیں، معاف کر دیں۔ ہم آپ کے سامنے مرغا بنے ہوئے ہیں اور اُس وقت تک مرغا بنے رہیں گے، جب تک کہ آپ ہمیں معاف نہیں کر دیتیں۔‘‘
یہ تحریر لکھ کر ہم سب مرغا بن جائیں گے۔ مس شگفتہ کلاس روم میں داخل ہوتے ہی ہمیں مرغا بنیں دیکھیں گی، بلیک بورڈ پر تحریر دیکھیں گی، تو یقیناً بے ساختہ مسکرا دیں گی اور ہمیں دل سے معاف کر دیں گی۔ کامران کی تجویز ہم سب کو بہت پسند آئی اور پھر سب بڑے مسکین اور پُرسکون ہو کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ اگلے دن ہم نے بالکل ایسا ہی کیا۔ بلیک بورڈ پر تحریر لکھ کر خود مرغا بن گئے لیکن اُس وقت ہمیں بہت مایوسی ہوئی۔ جب کلاس روم میں مس شگفتہ کے بجائے مس رعنا داخل ہوئیں اور اُنھوں نے ہمیں بتایا کہ آج مس شگفتہ چھٹی پر ہیں۔ دوسرا پیریڈ مس روبینہ کا تھا۔ اُن کا پیریڈ جیسے ہی ختم ہوا، ہیڈ مس فائزہ شاہد کلاس روم میں داخل ہوئیں۔ پوری کلاس اُن کے احترام میں خاموش اور باآدب کھڑی ہو گئی۔
ہیڈ مس نے پویر کلاس پر ایک گہری نظر ڈالی۔ پھر ایک طویل سانس بھر کر بولیں: ’’آپ کی کلاس نے مجھے بہت مایوس کیا ہے۔ آپ کی نالایقی کی وجہ سے ہمارے اسکول کی بہترین ٹیچر اسکول چھوڑ کر چلی گئی۔ پھر اپنے ہاتھ میں پکڑی فائل کو کھولتے ہوئے بولیں: ’’مس شگفتہ نے میرے نام اپنا استعفیٰ لکھ کر بھیجا ہے۔ میں یہ استعفیٰ پڑھ کر بے ساختہ رو پڑی تھی۔ میں یہ استعفیٰ پڑھ کر آپ کو سنانا چاہتی ہوں۔ میرا خیال ہے، اگر آپ لوگوں کے ضمیر زندہ ہیں، تو آپ بھی بے ساختہ رو پڑیں گے… سنیے۔
قابلِ صدر احترام ہیڈ مس صاحبہ
السلام علیکم!
انسانی زندگی میں دن سدا ایک سے نہیں رہتے کچھ دن دوسروں سے مختلف اور کچھ بہت زیادہ مختلف ہوتے ہیں۔ گزشتہ کل کا دن بھی میرے لیے ایسا ہی تھا، اسکول سے واپسی میں، میں نے اس امر پر مجبور ہوئی کہ خود کو خود اپنی لگائی ہوئی عدالت میں پیش کروں، میں خود ہی وکیل استغاثہ اور خود ہی اپنی وکیل صفائی تھی میری وکیل صفائی میری صفائی پیش کرتے کرتے تھک گئی۔ لیکن وکیل استغاثہ مجھ پر الزام عائد کرتے کرتے بالکل نہ تھکی آخر میں میرے دل و دماغ کے جج نے بڑے دو ٹوک انداز میں یہ فیصلہ سنایا کہ مجھے اب اپنی نااہلی کا برملا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ حاضر خدمت ہے از راہِ کرم قبول فرمائیں۔
اس استعفیٰ کا تھوڑا سا پسِ منظر آپ کی آگاہی کے لیے بیان کر دیتی ہوں۔ میڈم میں کل اسکول کے ہاف ٹائم میں مس عالیہ کے ساتھ اسکول کے پشت والے دروازے کی طرف جا نکلی۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہاں رکھے گئے گملوں میں نئے نئے رنگ برنگے پھول نکلے ہیں۔ میں ان پھولوں کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل و دماغ کو راحت پہنچانا چاہتی تھی۔ لیکن افسوس میری آنکھوں کو ایک انتہائی مختلف قسم کا منظر دیکھنا پڑا۔ میری جماعت دسویں اے کے پانچ طالب علم گلی میں کھڑے سگریٹوں کے کش پر کش لگائے جا رہے تھے۔ میڈم دسویں جماعت کے یہ پانچ لڑکے وہ تھے جنہیں اسکول کی شان اور آن بان سمجھا جاتا ہے۔ یہ تعلیمی میدان میں بھی اور اسکول کی دیگر سرگرمیوں میں بھی سب سے آگے آگے رہتے ہیں۔ تحریری مقابلہ ہو یا تقرری مقابلہ انعامات زیادہ تر انھیں کا مقدر ٹھہرتے ہیں۔ یہ انتہائی خوش مزاج خوش لباس اور خوش اخلاق لڑکے ہیں۔ خوبصورت دل و دماغ کے مالک ان ذہین ترین لڑکوں کے ہاتھوں میں سگریٹ یہ میرے ایک ناقابل یقین سا منظر تھا۔ میڈم میں ایک ایسی ٹیچر ہوں جو نصابی علم کے علاوہ زندگی کے دیگر امور پر بھی اپنے طلبہ سے کھُل کر گفتگو کرتی ہے۔ میں نے زندگی کے مختلف موضوعات کے علاوہ سگریٹ نوشی کے موضوع پر بات کی سگریٹ نوشی کے نقصانات کے ہر ہر پہلو پر لیکچر پر لیکچر دیے۔
میری خوش فہمی دیکھیے کہ میں سمجھ رہی تھی کہ میں یہ سب کچھ ٹھیک کر رہی ہوں۔ لیکن اب مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں کچھ بھی ٹھیک نہیں کر رہی تھی، سب کچھ غلط کر رہی تھی، اگر ٹھیک کر رہی ہوتی تو ان پانچ طلبہ کے ہاتھوں میں آج سگریٹ نہ ہوتے۔
اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں اپنے طالب علموں کا وقت ضائع کر رہی تھی۔ مجھے اپنے آپ کو نصابی علوم تک محدود رکھنا چاہیے تھا۔ میرے غیر نصابی لیکچر تاثر سے خالی انتہائی بے اثر اور قطعاً غیر مؤثر تھے۔ میں اب اپنے طالب علموں سے بہت شرمندگی محسوس کر رہی ہوں۔
میں یقیناً ان کی مجرم ہوں۔ میں اگر اپنے آپ کو نصابی علوم تک محدود رکھتی، تو میرے طالب علم آج تعلیمی میدان میں کہیں آگے ہوئے۔ میں آپ سے اور اسکول کے تمام طلبہ سے معافی مانگتی ہوں اور اس بات کا اعتراف کرتی ہوں کہ میں معلمی جیسے اعلیٰ منصب کی کسی صورت حقدار نہیں۔ میں آپ سب سے وعدہ کرتی ہوں کہ اگر آئندہ مجھے ملازمت کرنا پڑی، تو کسی فیکٹری میں کلرکی کر لوں گی، مزدوری کر لوں گی، کسی ہوٹل کے برتن مانچھ لوں گی، کسی گھر میں جھاڑو پونچہ لگا لوں گی۔ لیکن معلمی جیسا اعلیٰ منصب حاصل کر کے طالب علموں کا قیمتی وقت کسی صورت ضائع نہیں کروں گی۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
دیگر طلبہ کے بارے میں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا صرف اپنی کیفیت بیان کر سکتا ہوں اور میری کیفیت یہ تھی کہ اپنے اردگرد کا کچھ احساس نہیں تھا، میری ساری کی ساری توجہ استعفیٰ کے الفاظ کی طرف مرکوز تھی۔ آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سیلاب بہے چلا جا رہا تھا۔ جب استعفیٰ اپنے آخری الفاظ پر پہنچا، تو میں اپنے آپ میں نہ رہا، بے اختیار ہو کر میں اسکول سے بھاگ نکلا اور انتہائی طوفانی رفتار سے دوڑتا ہوا۔ مس شگفتہ کے دروازے تک جا پہنچا، دروازے پر پہنچ کر مجھے حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا۔ مجھ سے پہلے سلطان وہاں پہنچ چکا تھا اور اب اُکڑوں بیٹھے گھُٹنوں میں منہ دیے زارو قطار رو رہا تھا۔ میری دروازے پر نظر پڑی، تو سلطان کے اس طرح بیٹھ کر رونے کی وجہ سمجھ آ گئی۔ دروازے پر بڑا سا کالے رنگ کا تالہ ہمارا منہ چڑھا رہا تھا۔ میری آمد کے چند سیکنڈ بعد حیدر، رفیق اور کامران بھی وہاں پہنچ گئے تھے اور اب ہم سب مل کر باجماعت رو رہے تھے۔
اُس دن شام تک ہم پانچ دوستوں نے مس شگفتہ کے گھر کے ہر گھنٹے آدھ گھنٹے بعد کئی چکر لگائے۔ لیکن تالا ہی نظر آیا بالآخر رات نو بجے تالا کھلایا کہ ہمارے بجھے ہوئے چہرے بھی کھِل اُٹھے۔ ہم اپنے مرتب کردا پروگرام کے مطابق فوراً ہیڈ مس کے گھر پہنچے اور اُنھیں لے کر دوبارہ مس شگفتہ کے گھر گئے۔
ہیڈ مس ہمارا معافی نامہ لے کر مس شگفتہ کے گھر میں داخل ہو گئیں اور ہم پانچوں اُن کے گھر کے سامنے مرغا بن گئے۔ کچھ دیر بعد ہیڈ مس مس شگفتہ کو لے کر گھر سے باہر نکلیں، مس شفتہ نے ہمیں باجماعت مرغا بنا دیکھا، تو دھرے سے ہنس دئیں۔ پھر بے ساختہ رو پڑیں یہ آنسو بھی بڑی عجیب و غریب چیز ہیں۔ جب انسان بہت زیادہ غمزدہ ہوتا ہے، تو رو پڑتا ہے۔ جب بہت زیادہ خوشی ملتی ہے، تب بھی بے ساختہ رو پڑتا ہے؟
مس شگفتہ کے لیکچروں نے ہمیں سگریٹ نوشی سے بچایا یا نہیں۔ لیکن اُن کے استعفیٰ نے ہمیں سگریٹ نوشی سے ضرور بچا لیا تھا اور ایسا بچایا کہ اب بھی راہ میں سگریٹ کا کوئی ٹوٹا پڑا نظر آئے، تو ہم انتہائی نفرت سے اُسے اپنے پیروں تلے کچل دیا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

https://shanurdu.com/fasana-kahen-jise/

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles