33 C
Lahore
Tuesday, June 18, 2024

Book Store

Carmeela|کارمیلا|Maqbool Jahangir

کارمیلا

مقبول جہانگیر

’’کارمیلا‘‘ آج سے ایک سو باون برس پہلے یعنی ۱۸۷۱ء میں پہلی بار لندن کے ایک رسالے ’ڈارک بلیو میگزین‘ میں شائع ہوئی۔ اِس کے مصنّف کا نام جوزف شیریڈان لی فانو ہے جو وِکٹورین عہد کا نامور اَفسانہ نویس تھا۔
خاص طور پر پُراسرار کہانیاں لکھنے میں صفِ اوّل کا ادیب سمجھا جاتا۔
یہ وہ دَور تھا جب خون آشام انسانی بلاؤں کے بارے میں کہانیاں کہنے اور لکھنے کا آغاز اِنگلستان میں ہوا تھا۔
برام سٹوکر کی شہرۂ آفاق کہانی ’’ڈریکولا‘‘ بھی اُسی دور کی پیداوار ہے۔
یہ ناول ۱۸۹۸ء میں پہلی بار شائع ہوا۔

’’کارمیلا‘‘ ویمپائر ایج (Vampire Age) کی بہترین کہانیوں میں شمار ہوتی ہے۔
اردو زبان میں اِسے پہلی مرتبہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
مَیں نے ضرورت کے تحت آزاد ترجمے سے کام لیا اور موجودہ ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے کہیں کہیں معمولی سے اضافے بھی کیے ہیں جس سے کہانی کی اصل دلچسپی اور پلاٹ میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ (مقبول جہانگیر)


آج اتنے برس گزر جانے کے بعد اپنی زندگی کا یہ عجیب مگر نہایت ہولناک واقعہ لکھنے بیٹھی ہوں۔ ممکن ہے بعض قارئین میری اِس کہانی کو حقیقت کے بجائے محض افسانہ سمجھیں اور اَگر وہ اَیسا خیال کریں، تو اُنھیں مطمئن کرنے کے لیے میرے پاس کوئی واضح دلیل نہیں۔
اُن لوگوں کے لیے جو عقل، سائنس یا مادے پر ایمان رکھتے ہیں، شاید یہ داستان من گھڑت قصّے سے زیادہ حیثیت نہ رکھے گی، لیکن جو مادے سے ہٹ کر ایک پُراسرار رُوحانی دنیا کے قائل ہیں، اُن کے لیے یقیناً سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کا خاصا مواد ہے۔

میری پیدائش جنوب مشرقی آسٹریا کے دور اُفتادہ صوبے سٹریا کے ایک عظیم الشان قدیم قلعے میں ہوئی۔
میرے والد انگریز تھے ۔
اُن کی عمر کا بڑا حصّہ آسٹریا میں گزرا اَور اُنھوں نے اپنے کاروبار کے ذریعے اتنی دولت یہاں پیدا کر لی کہ ایک پُرشکوہ قلعے کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے ایک وسیع و عریض جنگل اور اُس کی نواحی زمین بھی خرید لی۔
کبھی کبھی وہ اَپنے وطن انگلستان کا ذکر نہایت والہانہ انداز میں کرتے اگرچہ وہ جرمن زبان بڑی روانی سے بولتے اور اُنھوں نے مجھے بھی یہ زبان سکھائی تھی۔
مجھ سے ہمیشہ اپنی قومی زبان انگریزی ہی میں بات کرتے تھے۔

اُس قدیم، لیکن شان و شوکت کے ہر ممکن سامان سے معمور قلعے میں ہمارے شب و روز نہایت شاہانہ انداز سے گزر رَہے تھے۔
گرد و نواح میں دور دُور تک کوئی آبادی نہ تھی، البتہ دائیں بائیں ہاتھ چند میل کے فاصلے پر بعض اور اُمرا کے مکان تھے جن سے مہینے میں ایک آدھ بار ہماری ملاقات ہو جاتی۔
میرے والد ابتدا میں آسٹرین حکومت کی ملازمت میں رہے اور رِیٹائر ہونے کے بعد تجارت کرنے لگے جس میں توقع سے زیادہ کامیابی نصیب ہوئی۔

جس قلعے کا مَیں ذکر کرتی ہوں، وہ سرسبز پہاڑی پر سیاہ پتھر سے بنایا گیا تھا۔ اُس کے تین طرف سنگلاخ چٹانیں سینہ تانے کھڑی تھیں اور ایک جانب حدِ نگاہ تک گھنا جنگل تھا جس میں پتلی سی پگڈنڈی، سانپ کی مانند بَل کھاتی گزرتی۔ صدیوں سے لوگوں کی آمد و رفت کا یہی واحد راستہ تھا۔
قلعے سے کچھ فاصلے پر گہری خندق پانی سے لبریز رہتی اور جب مَیں نے ہوش سنبھالا، اُس میں پانی بہت کم رہ گیا۔
زیادہ تر کیچڑ، کائی، گھاس پھونس اور چھوٹے بڑے دروازوں تک جانے کے لیے لکڑی کے پُل بنائے گئے تھے۔
اَب یہ نہایت خستہ حالت میں تھے اور جب کوئی گھوڑا گاڑی اُن پلوں پر سے گزرتی، تو ہر لمحہ خوف رہتا بس پُل گرا۔ والد نے بعد میں سب پُل بند کرا دِیے۔
صرف ایک کھلا رہنے دیا جو قلعے کے بڑے دروازے کے سامنے واقع تھا۔

ہمارے وسیع اور گھنے جنگل میں جنگلی جانوروں کی کثرت تھی ….. خصوصاً گیدڑ اَور خنزیر تو اَن گنت تھے۔ کبھی کبھار اِردگرد کے اُمرا شکاری کتے اور توڑےدار بندوقیں لے کر آ جاتے اور کئی کئی دن تک ہنگامہ برپا رہتا۔
جنگل کے اندر مختلف مقامات پر ندیاں اور جھیلیں بھی تھیں جو گرمیوں کے موسم میں پہاڑی چشموں کے ٹھنڈے اور شیریں پانی سے لبریز رہتیں اور اُن کے کناروں پر لاتعداد حسین پھول کِھلا کرتے۔
چاندنی راتوں میں یہاں کی سیر زندگی کے اُن حسین خوابوں کا ایک حصّہ تھی جو ناقابلِ فراموش ہوتے ہیں۔
والد ہمیشہ میرے ساتھ ہوتے اور اُن کے پاس بھرے ہوئے پستول کے علاوہ بندوق بھی ہوتی، لیکن ہمیں کبھی کسی حادثے کا سامنا نہ کرنا پڑا …..
والد نے ایک مرتبہ بتایا قلعے سے لے کر دائیں ہاتھ یہ جنگل پندرہ میل لمبا اور بائیں ہاتھ بارہ میل چوڑا ہے۔ ساتویں میل پر جنگل کے اندر اُجڑی ہوئی بستی کے آثار ہیں اور بیس میل کے فاصلے پر ایک قدیم عمارت واقع ہے جس میں فوج کا ریٹائر جنرل سپل ڈاروف رہتا ہے۔
اُس کی رہائش سے تین میل دور ایک اور بستی کے آثار نظر آتے ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دو سو برس قبل یہاں آفت نازل ہوئی تھی۔
اب وہاں قدیم قبرستان میں چند ٹوٹی پھوٹی قبروں کے نشان، چند مکانوں کے خستہ دروازوں اور کھڑکیوں اور میلوں تک ملبے کے ڈھیر دیکھ کر دل کانپنے لگتا ہے۔

لوگوں کا خیال ہے یہاں اُس زمانے میں آسمان سے بدروحیں آتی تھیں اور اَبھی تک اُن کا اثر ہے۔
بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ بدروحیں نہیں آئیں، بلکہ اِسی آبادی میں پہلے سے انسانوں کی شکل میں موجود تھیں اور یہ کارن سٹین خاندان کے افراد تھے جنہوں نے بلاؤں کا روپ دھار لیا۔
اُن کے بوسیدہ اَور ڈراؤنے مقبرے آج بھی وہاں دیکھے جا سکتے ہیں جس پر کتبے لگے ہیں۔ یہ خاندان کسی دور میں اِس پورے علاقے کا حکمران تھا، پھر اُن لوگوں نے سفاکی، بہیمیت اور ظلم کی انتہا کر دی۔
اُس خاندان کی عورتیں اور مرد اِس حد خونخوار تھے کہ وہ زندہ اِنسانوں کے گلے کاٹ کر اُن کا خون پی لیتے اور گوشت کچا ہی کھا جاتے۔
میرے والد کو اُن داستانوں پر بالکل یقین نہ تھا اور اَیسی باتیں سن سن کر خوب ہنستے۔
تاہم اُس ویران بستی میں جاتے ہوئے ڈر اُنھیں بھی لگتا جس کا اظہار کئی بار اُنھوں نے مجھ سے کیا۔

سرِشام ہی جنگل پر ہولناک تاریکی چھا جاتی اور گیدڑوں کی چیخ پکار بلند ہونے لگتی اور ہمارے قلعے میں بھی پُراسرار سا ماحول بیدار ہوتا چلا جاتا۔
لمبی راہداریوں میں سائے سے رقص کرنے لگتے۔
صبح ہونے تک کوئی بھی اپنے کمرے سے باہر نہ نکلتا، گیلریوں اور ہال کمروں میں مومی شمعیں روشن کر دی جاتیں لیکن اُن کی روشنی وسیع و عریض کمروں کو تاریکی سے محفوظ رکھنے میں ناکام دکھائی دیتی۔
آسمان پر بڑی بڑی چمگادڑیں پھڑپھڑاتی ہوئی اڑا کرتیں اور چاندنی راتوں میں نہ جانے وہ کہاں سے آ جاتیں جن کے بازو کئی کئی فٹ لمبے اور آنکھیں مشعلوں کی مانند روشن ہوتیں۔
اُنھوں نے کبھی انسانوں پر حملہ نہیں کیا، لیکن نہ جانے اُنھیں دیکھ کر خوف کیوں آتا تھا۔

قلعے کی دنیا مختصر افراد پر مشتمل تھی۔ چار پانچ نوکر، دو خادمائیں، ایک میرے والد اور ایک خود مَیں …..
اُن دنوں میری عمر مشکل سے اٹھارہ، اُنیس برس تھی اور میرے والد بڑھاپے کی طرف تیزی سے جا رہے تھے۔
اُن کے قویٰ میں پہلی سی تیزی اور چستی نہ رہی تھی۔
میری ماں میری پیدائش کے دوران ہی میں انتقال کر گئی۔
وَالد نے مجھے بڑی محبت اور شفقت سے پرورش کیا۔ اُنھوں نے ایک شفیق اور خوددار خاتون میری دیکھ بھال کے لیے ملازم رکھ لی۔
سچ یہ ہے کہ اُس عورت نے اپنی جانب سے مجھے ماں کی محبت اور پیار دَینے میں کبھی کوتاہی نہ کی۔

اُس شفیق خاتون کا نام مادام پیری ڈون تھا اور اُسے کبھی اپنے سے جدا نہ پایا اور اُس کی موجودگی میں مجھے کبھی ماں کی کمی محسوس نہ ہوئی۔
مادام پیری ڈون کے علاوہ ہمارے گھر میں دوسری عورت مادام لافونٹن تھی جس کا کام ملازموں کی نگرانی اور گھر کا حساب کتاب رکھنا تھا۔
نہایت شریف، دیانت دار اَور محبت کے جذبات سے لبریز عورت۔ فرانسیسی اور جرمن زبانیں بےتکلفی سے بولتی اور مادام پیری ڈون کے بعد ہمارے گھر میں اُس کا دوسرا دَرجہ تھا۔
رات کھانے کی میز پر جب تک وہ نہ آ جاتی، کھانا شروع نہ ہوتا۔

کبھی کبھار گرد و نواح کے اُمرا کی بیٹیاں کئی کئی دن ہمارے ہاں قیام کرتیں اور یوں میرے جی کے بہلنے کا سامان ہو جاتا۔
مَیں تنہا کہیں نہ جا سکتی تھی، ہمیشہ اُن دونوں خواتین میں سے کوئی نہ کوئی میرے ساتھ ہوتی یا میرے والد میرے ہمراہ ہوتے۔
بچپن کے زمانے میں کئی برس تک مادام پیری ڈون میرے کمرے میں سویا کرتی اور جب مَیں بڑی ہوئی، تب وہ اَلگ کمرے میں سونے لگی۔

بچپن کے دور کا ایک عجیب واقعہ سناتی ہوں۔ ایک ایسا واقعہ جو میرے ذہن پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔ میری عمر چھے، سات سال کی ہو گی۔
قلعے کی دوسری منزل پر میری خواب گاہ تھی۔ مادام پیری ڈون کا بستر میرے ہی کمرے میں دوسری دیوار کے ساتھ بچھا رہتا تھا۔
وہ کمرا خاصا وسیع اور اُس کی جنوبی شمالی دیواروں میں کھڑکیاں تھیں جن پر بھاری ریشمی پردے پڑے رہتے۔ کمرے کی چھت لکڑی کی تھی اور کونوں میں مکڑیوں نے بڑے بڑے جالے تان رکھے تھے۔

وہ سردیوں کی ایک رات تھی۔ مَیں اپنے گرم بستر میں لیٹی بےخبر سو رہی تھی۔ دفعتاً میری آنکھ کھل گئی۔ شمع بجھ چکی تھی اور ہر طرف گہری تاریکی تھی۔
مَیں اٹھ کر بیٹھ گئی اور خوف زدہ ہو کر مادام پیری ڈون کو آوازیں دیتی رہی، کوئی جواب نہ ملا۔
چند لمحے بعد میری آنکھیں اندھیرے میں واضح طور دیکھنے لگیں۔ مجھے کچھ یوں نظر آیا جیسے میری نرس اپنے بستر پر موجود نہیں۔
تنہائی کا احساس ہوتے ہی خوف کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی۔ مَیں نے گھٹی گھٹی آواز میں نرس کو پھر پکارا، لیکن جواب ندارد۔
مَیں اپنے پلنگ سے نیچے اترنے ہی والی تھی کہ مجھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا جیسے کوئی لمبے لمبے سانس لے رہا ہو، پھر ایک عجیب سی خوشبو میرے ناک میں آئی۔
تب مَیں نے ایک نوجوان اور حسین عورت کو اَپنے پلنگ کی پائنتی کھڑے پایا۔ اُس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح تابدار اَور آنکھیں ستاروں کی مانند روشن تھیں اور وُہ سر سے پاؤں تک سیاہ رَنگ کے لبادے میں لپٹی تھی۔ اُس کے ہونٹ کبوتر کے خون جیسے سرخ تھے۔
مَیں اُسے دیکھ کر سکتے کے عالم میں رہ گئی۔ وہ ہلکے، ہلکے مسکرائی اور اُس کے موتیوںجیسے سفید سفیددانت نمایاں ہو گئے۔
اب وہ پائنتی سے ہٹ کر میرے اور قریب آ گئی اور اُس نے جھک کر اپنا ایک ہاتھ میرے کندھے پر رکھ دیا۔
مجھے اُس سے ذرا ڈر نہ لگااور مَیں بھی اُسے دیکھ کر مسکرائی۔

’’آپ کون ہیں اور میری نرس کہاں گئی؟‘‘

وہ کھلکھلا کر ہنسی اور مجھے یوں لگا جیسے کہیں دور گھنٹیاں سی بج رہی ہوں۔ اب وہ میرے بستر پر بیٹھ گئی اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگی۔
بےاختیار مَیں نے اُس کی گود میں اپنا سر رکھ دیا اور اُس نے دونوں ہاتھوں سے مجھے لپٹا لیا اور پھر مَیں گہری نیند میں ڈوبتی چلی گئی۔
پھر دفعتاً ایسا لگا جیسے دو سوئیاں میرے گلے میں چبھی ہوں۔ درد کی شدت سے میری چیخ نکل گئی ۔
ایک بار پھر آنکھ کھلی، مَیں نے دیکھا، وہ حسین و جمیل عورت میرے ساتھ ہی بستر پر لیٹی ہے۔
اچانک وہ بستر سے اٹھی اور آہستہ سے نیچے اتر گئی۔ مَیں نے خیال کیا شاید پلنگ کے نیچے چھپ گئی ہے۔

دہشت کے مارے پوری قوت سے مَیں چیخ اٹھی۔ چند لمحوں بعد مادام پیری ڈون، مادام لافونٹن اور دُوسرے نوکر دوڑے ہوئے آئے۔
اُنھوں نے بجھی ہوئی شمع روشن کی، مجھے دلاسا دیا اور پوچھا، کیا ہوا؟ مَیں نے روتے ہوئے پورا وَاقعہ سنایا۔
اُنھوں نے کمرے میں اِدھر اُدھر دیکھا، ایک ایک گوشہ اور ایک ایک کونا چھان مارا، مگر اُس حسین عورت کا کہیں پتا نہ چلا۔
نوکروں اور نرسوں کا خیال تھا، مَیں خواب دیکھ کر ڈر گئی۔ تاہم اُن کے چہرے بھی خوف سے زرد تھے۔ ایک بار پھر سبھی نے کمرا خوب دیکھا بھالا۔
دفعتاً مادام لافونٹن نے میرے بستر کی طرف دیکھا، خوف سے اُس کے ہونٹ لرزنے لگے، اُس نے نرس سے کہا:

’’خدا کی پناہ ….. لڑکی سچ کہہ رہی ہے ….. دیکھو، اِس کے بستر پر ضرور کوئی لیٹا رہا ہے ….. یہ سلوٹیں صاف بتا رہی ہیں …..
پھر اُس نے وہاں ہاتھ لگایا اور بولی یقیناً یہاں کوئی لیٹا رہا ہے ….. بستر کا یہ حصّہ ابھی تک گرم ہے۔‘‘

مادام پیری ڈون اور دُوسرے نوکروں نے بھی ہاتھ لگا لگا کر میرا بستر دیکھا اور تصدیق کی کہ مادام لافونٹن کی رائے درست ہے۔
پھر مَیں نے اُنھیں بتایا میری گردن میں سخت تکلیف ہو رہی ہے، تب اُنھوں نے میری گردن دیکھی بھالی اور کہا، یہاں تو کوئی نشان نظر نہیں آتا۔

قصہ مختصر، سب کے سب باقی تمام رات میرے ہی کمرے میں رہے اور آپس میں باتیں کرتے سنائی دیے۔
اگلے روز اُنھوں نے والد سے اِس کا ذکر کیا۔
اُنھوں نے وہم سمجھ کر بات ختم کر دی۔ البتہ ہدایت کی کہ نرس اپنا پلنگ میرے پلنگ کے ساتھ ہی بچھایا کرے۔

ابتدا میں بہت عرصے تک یہ واقعہ میرے ذہن میں تازہ رَہا۔ اُس نوجوان حسین عورت کا چہرہ ہر رات میری نگاہوں کے سامنے تصوّر ہی تصوّر میں نمودار ہوتا۔
مجھ پر اُس کا ایسا خوف تھا کہ ذرا سی آہٹ یا پردے کی سرسراہٹ سنتے ہی چونک چونک اٹھتی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مَیں بیمار پڑ گئی اور میرا اَعصابی نظام درہم برہم ہو گیا۔
آخر ایک دن والد نے ڈاکٹر طلب کیا جو بیس میل دور رَہتا تھا۔ وہ اَپنی گھوڑا گاڑی میں بیٹھ کر آیا۔

ڈاکٹر میرے والد کا ہم عمر تھا اور بےحد سنجیدہ۔ اُس نے دیر تک میرا معائنہ کیا اور کہا، گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ….. یہ محض عارضی کیفیت ہے۔
پھر اُس نے اپنے تھیلے میں سے دوائیں نکالیں۔ اُنھیں استعمال کرنے کے طریقے بتائے، اپنی فیس وصول کی اور چلا گیا۔ وہ ہفتے میں ایک بار خود آتا، مجھے دیکھتا اور چلا جاتا۔
چند روز تک مَیں نے دوائیں کھائیں، پھر چھوڑ دیں ….. دواؤں سے مجھے کبھی دلچسپی نہ رہی۔ البتہ اکیلے میں مجھے ڈر لگنے لگا۔
دن رات کے ہر لمحے میں کوئی نہ کوئی فرد میرے ساتھ رہنے پر مجبور تھا۔

کبھی کبھی والد میرے پلنگ کے قریب آن کھڑے ہوتے اور ہنس ہنس کر مجھ سے باتیں کرتے۔
مادام پیری ڈون بڑی بھولی طبیعت کی تھی۔ والد اُس سے بھی مذاق کرتے رہتے اور مَیں ہنس پڑتی۔
یہ تمام باتیں محض مجھے خوش کرنے کے لیے کرتے۔ پھر وہ میری پشت تھپتھپاتے اور کہتے:

’’خوابوں پر یقین نہیں کیا کرتے۔ ایسے ڈراؤنے خواب تو ہر شخص دیکھتا ہے، اگر ہم خواب دیکھ دیکھ کر ڈرنے لگیں، تو بس جی چکے۔‘‘

وہ جب تک خوش طبعی سے باتیں کرتے، تو خوف میرے نزدیک نہ آتا، لیکن جونہی وہ رُخصت ہوتے، دہشت کی نامعلوم سی لہر آتی اور مجھے اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی۔
پھر وہی حسین چہرہ اَور سر سے پا تک سیاہ لبادے میں لپٹا ہوا جسم میری نگاہوں کے سامنے رقص کرتا اور مَیں تھرتھر کانپنے لگتی اور بخار بھی چڑھ جاتا۔
سب لوگ یہی یقین دلانے کی کوشش کرتے، مَیں نے خواب دیکھا ہے۔

مادام پیری ڈون نے ایک بار قسم کھا کر مجھ سے کہا:

’’پیاری لڑکی! سچ کہتی ہوں، وہ تو مَیں خود تھی ….. تم نے مجھے پہچانا ہی نہیں …..
مَیں نے اُس روز سیاہ لبادہ پہنا تھا اور مَیں ہی تمہارے پاس بستر میں لیٹی تھی۔‘‘

بھلا مَیں اتنی بےوقوف تو نہ تھی کہ اُس حسین و جمیل چمکتے چہرے اور مادام پیری ڈون کے پھولے ہوئے گالوں میں تمیز نہ کر سکتی، تاہم مَیں نے ایسا ظاہر کیا جیسے مجھے نرس کی بات کا یقین آ گیا ہو۔

اِس واقعے کو کئی برس بیت گئے۔ مَیں عمر کی چودہ حدیں پھلانگ چکی تھی کہ ایک اور حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ وہ گرمیوں کی ایک دلآویز اور خوشگوار شام تھی۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے گرمی پڑ رہی تھی اور آسمان پر دور دُور تک بادل کا نام و نشان نہ تھا۔
سہ پہر کے وقت یکایک مغرب کی جانب سے ابرِ سیاہ کا ایک ٹکڑا اُٹھتا نظر آیا اور اُس کے ساتھ ہی فضا کی حدت کم ہوتی گئی۔
والد اُس روز اپنے کمرے میں بیٹھے نہ جانے کیا کر رہے تھے، جونہی اُنھیں اُس خوشگوار موسم کا احساس ہوا، اَپنے کمرے سے نکل کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے:

’’جی چاہتا ہے آج ہم دونوں جنگل کی سیر کو چلیں۔ کیا خیال ہے؟‘‘

’’ضرور! مَیں آپ سے یہ بات کہنے ہی والی تھی۔‘‘
مَیں نے خوش ہو کر کہا۔ والد نے چھڑی ہاتھ میں لی، بندوق کندھے سے لٹکائی اور سیر کے لیے تیار ہو گئے۔
جب پُل پر سے اتر کر جنگل کو جانے والی پگڈنڈی پر آئے، تو والد نے کہا:

’’جنرل ڈاروف کے آنے کی امید تھی، لیکن افسوس وہ اَب کچھ عرصے تک نہ آ سکیں گے۔‘‘

میرے لیے یہ خبر رنج کا باعث ہوئی۔ اِس لیے کہ مَیں جنرل ڈاروف کی آمد کا شدت سے انتظار کر رہی تھی۔ اُس کی بھتیجی میری ہم عمر تھی اور مَیں اُس سے پہلی بار ملنے والی تھی۔
مَیں نے سنا تھا، وہ بہت ہی پیاری اور ہنس مکھ لڑکی ہے۔ جنرل ڈاروف نے والد کو اَپنی آمد کی اطلاع کئی ہفتے قبل دی تھی اور اَگلے روز وُہ ہمارے قلعے میں پہنچنے والا تھا۔
جنرل سے زیادہ مجھے اُس کی بھتیجی این سے ملنے کا اشتیاق تھا اور مَیں واقعی اُن کی آمد کا ایک ایک دن بےچینی سے گن رہی تھی۔

’’آخر وہ کب تک آئیں گے؟‘‘ مَیں نے گلوگیر آواز میں پوچھا۔

’’غالباً موسمِ خزاں کے بعد ہی آ سکیں گے۔‘‘
والد نے سرد آہ بھرتے ہوئے جواب دیا۔
’’یعنی کم از کم دو ماہ بعد ….. اور یہ اچھا ہی ہوا، اُن کی بھتیجی سے تمہاری ملاقات نہ ہوئی۔‘‘

’’کیوں؟‘‘ مَیں حیرت سے اپنے والد کو تکنے لگی۔

’’وہ مر چکی ہے۔ اگر تم اُس سے ملی ہوتیں، تو نہ جانے رنج و غم سے تمہارا کیا حال ہوتا۔ مجھے افسوس ہے یہ خبر پہلے نہ سنائی۔
آج صبح جنرل ڈاروف کا خط آیا جس میں اُس نے اپنی جان سے عزیز بھتیجی کے مرنے کی اطلاع دی تھی۔
اُس وقت تم سو رہی تھیں اور مَیں نے مناسب نہ سمجھا کہ تمہیں جگا کر یہ منحوس خبر سناؤں۔‘‘

اگرچہ مَیں نے مس این کو دیکھا نہ تھا، لیکن اُس کی موت کی خبر نے مجھ پر سکتے کا عالم طاری کر دیا۔ بےاختیار میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
مَیں نے والد کو دیکھا، اُن کی آنکھیں بھی تر ہو گئی تھیں اور وُہ بڑی مشکل سے اپنے آپ پر قابو پائے ہوئے تھے۔
چند لمحوں بعد اُنھوں نے کوٹ کی جیب سے ایک خط نکال کر میری طرف بڑھایا۔

’’یہ جنرل کا خط ہے، تم خود پڑھ لو۔ مجھے خدشہ ہے وہ اُس لڑکی کی موت کا صدمہ برداشت نہ کر سکے گا۔ اگر وہ یہاں آ جائے، تو شاید ہم سب مل کر اُس کا غم بانٹنے کی کوشش کریں۔
اُس کی ساری زندگی فوج میں گزری اور مَیں جانتا ہوں وہ فولادی اعصاب اور مضبوط دل و دماغ کا آدمی ہے، لیکن وہ اُس لڑکی کو اَپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا۔
اُسے ایک پَل کے لیے بھی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیتا، کیونکہ وہ اُس کے سارے کنبے کی آخری نشانی تھی۔ اب اُس کے مر جانے سے جنرل کے دل پر جو بیت رہی ہو گی، اُس کا کچھ اندازہ مَیں کر سکتا ہوں۔‘‘

چیڑ کے چند گھنے درختوں کے نیچے لکڑی کا ایک سال خوردہ بینچ پڑا تھا۔ ہم دونوں اُس پر بیٹھ گئے۔ سورج غروب ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی ۔
مغربی افق پر گہرے نارنجی رنگ کی شفق آہستہ آہستہ سرخی میں بدلتی جا رہی تھی، ہوا کے جھونکے دم بدم تیز ہوتے گئے اور اُونچے اونچے درختوں کی شاخیں مستی میں جھومنے لگیں۔
مَیں نے جنرل ڈاروف کا طویل خط دو مرتبہ پڑھا۔ اُس کے ایک ایک جملے میں غم و اندوہ کے ہزاروں نشتر چھپے تھے۔
کئی جگہ حروف مٹ یا پھیل گئے تھے اور وَہاں کاغذ پر مَیں جنرل کی آنکھوں سے گرے ہوئے آنسوؤں کے نشان واضح طور پر دیکھ رہی تھی۔
خط پڑھتے پڑھتے مَیں خود رَونے لگی۔ والد نے مجھے اپنے ساتھ پیار سے لپٹا لیا اور کہنے لگے:

’’نہ روؤ پیاری بیٹی! خدا کی حکمت اور مشیت پر صبر کرو۔ مَیں سمجھتا ہوں، تم نے اپنی ایک ایسی عزیز سہیلی کھو دی جسے کبھی دیکھا نہ تھا۔
جنرل ڈاروف کا خط ایک بار بلند آواز سے پڑھو تاکہ مَیں پھر سن سکوں۔‘‘

مَیں نے رومال سے آنکھیں خشک کیں اور خط پڑھنے لگی:

’’پیارے بھائی اور عزیز دوست ….. کاش یہ اطلاع تمہیں دینے سے پہلے مَیں مر چکا ہوتا۔ تم جانتے ہو میرا پورا خاندان فنا ہو گیا اور دُنیا میں صرف یہ میری ایک بھتیجی اور مَیں باقی رہ گئے۔
اب وہ تعلیم مکمل کر کے ہوسٹل سے واپس میرے پاس آئی تھی اور مَیں خوش تھا، میری تنہائی دور ہوئی۔
تم نے اُسے دیکھا تھا نا! کتنی حسین، کتنی پیاری، کتنی خوش مزاج اور زِندہ دِل لڑکی تھی وہ ….. اُس میں کیسی رعنائی اور کیسی زندگی تھی۔
مَیں اُس کے لیے ویسا ہی شوہر تلاش کرنا چاہتا تھا۔ میری خواہش تھی اُس کی شادی کر دوں اور اَپنی تمام جائیداد اَور سارا مال اُسی کو دے دوں ….. لیکن آہ!
مجھے کیا معلوم تھا وہ صبح کا تارا تھی جو آفتاب کے نکلتے ہی نظروں سے غائب ہو جایا کرتا ہے۔ وہ اَچانک ایک پُراسرار مرض میں مبتلا ہوئی جس نے اُس گھن کی طرح چاٹ لیا۔
اُس کی رگوں میں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا۔ مجھے اندازہ نہ تھا، وہ اِتنی جلد مجھے چھوڑ کر رخصت ہو جائے گی، لیکن ….. وہ چلی گئی۔

’’اب میرے پاس اُس کی یاد میں بہنے والے چند آنسو رہ گئے ….. اور جب وہ جا چکی، تب مجھے اُس کی موت کا اصل سبب معلوم ہوا۔ مَیں صدمے اور طیش میں پاگل ہو رہا ہوں، کاش مجھے پہلے پتا چل جاتا۔
خدا مجھ پر رحم کرے۔ مَیں اپنی بھتیجی کی موت کا خود ذمےدار ہوں۔
مَیں نے اُس کے لیے موت کو ایک حسین و جمیل پیکر میں خود اَپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دی۔
یہ حالات اتنے پُراسرار، اتنے عجیب اور دَہشت انگیز ہیں کہ تم یقین نہ کرو گے۔ اِس دنیا میں ایسا بھی ممکن ہے۔ بخدا! مجھ جیسا احمق انسان روئے زمین پر کوئی نہ ہو گا۔
سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا اور کچھ نہ سمجھ سکا۔ میری پیاری لڑکی کا اُس حسین بلا نے سارا خون چوس لیا اور مَیں دم نہ مار سکا۔

’’کاش! مجھے احساس ہو جاتا ….. جس بلا نے اُسے میرے ہاتھوں سے چھینا ہے، مَیں مرتے دم تک اُسے ڈھونڈتا رہوں گا۔ دُنیا کو اُس کے ناپاک وجود سے پاک کر دوں گا۔
اب تو میرے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا ہے، تاہم کبھی کبھار اُمید کی ایک کرن چمک اٹھتی ہے جو یقیناً میری رہبری کے لیے بہت ہے۔ مَیں اب اُس بلا کی تلاش میں نکلتا ہوں، میرے لیے تم دعا کرنا۔
خدا مجھے اپنے اِس مقدس مشن میں کامیاب کرے۔ زندہ رَہا اور کبھی ملاقات ہوئی، تو سارا قصّہ زبانی کہوں گا۔ خط میں یہ تمام تفصیلات لکھنا ممکن نہیں۔
میری منزلِ مقصود اَب ویانا ہے۔ مجھے توقع ہے اپنا کام ختم کرنے میں کم از کم دو ماہ لگ جائیں گے۔
اَگر مَیں اُس بلا کو ختم کر سکا، تو ضرور تم سے ملنے آؤں گا، ورنہ سمجھ لینا تمہارا دوست بھی فنا کے گھاٹ اتر چکا ….. خدا حافظ!‘‘

ایک بار پھر میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور مَیں نے سچے دل سے مرنے والی کے حق میں دعا کی۔
والد کسی گہری سوچ میں گم تھے۔ اُنھوں نے اذیت ناک خاموشی توڑتے ہوئے کہا:

’’سمجھ میں نہیں آتا جنرل ڈاروف کس بلا کی تلاش میں ویانا کی طرف روانہ ہوا ہے۔ میرا خیال ہے صدمے سے اُس کا ذہن ماؤف ہو گیا۔
نہ جانے کیونکر اُس کے ذہن میں یہ بات سما گئی کہ ایک ناپاک وجود نے اُس کی بھتیجی کا خون چوسا ہے ….. بہرحال اب دو ماہ بعد ہی صحیح واقعات معلوم ہو سکیں گے۔
اِس دوران میں ہمیں صبر سے جنرل کی آمد کا انتظار کرنا ہو گا ….. آؤ! اب گھر چلیں۔
دیکھو سورج غروب ہو گیا اور تاریکی بڑھتی جا رہی ہے۔ چاند تھوڑی دیر بعد نکلے گا۔ آج چودھویں تاریخ ہے۔‘‘

ہم واپس قلعے کی طرف چلے اور اَب اندازہ ہوا ہم جنگل میں خاصی دور ….. قریباً ایک میل اندر تک ….. نکل آئے تھے۔
دور ہمارا قلعہ اور وَالد کے کمرے کی روشنی یہاں سے صاف نظر آ رہی تھی۔ جونہی ہم پُل کے نزدیک پہنچے، سامنے سے کسی گھوڑے کے دوڑنے کی آواز آئی۔ شاید کوئی گھڑ سوار آ رہا تھا۔
پھر ہم نے مادام پیری ڈون اور مادام فونٹن کو ٹہلتے دیکھا۔ اُنھوں نے ہمیں اشارے سے سلام کیا اور گردنیں موڑ موڑ کر جنگل میں اُس جانب دیکھنے لگیں، جدھر سے گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز آ رہی تھی۔
اُس طرف پہاڑی کی ڈھلوان تھی اور مَیں نے دیکھا اُدھر سے گہرے سرمئی رنگ کی رقص کرتی ہوئی کُہر یا دھند آہستہ آہستہ جمع ہو رہی ہے۔
اُسی لمحے مشرقی افق سے چاند کا روشن چہرہ اُبھرا اَور اُس کی روشنی میں پہاڑی کے دامن میں بنا ہوا وُہ قدیم مینار دِکھائی دیا جس پر کبھی مسلح پہرےدار متعین تھے۔
غالباً یہ مینار اُس راستے اور قلعے کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن اب صدیوں سے ویران پڑا تھا اور اُس کے اندر حشرات الارض اور چمگادڑوں نے اپنے اپنے مسکن بنا رکھے تھے۔

’’خدا جانے اِس وقت کون جنگل سے گزر رَہا ہے۔‘‘ مادام پیری ڈون نے کہا۔
’’سنا ہے چودھویں کا چاند طلوع ہوتے ہی بدروحیں آزاد ہو جاتی ہیں۔‘‘
یہ کہہ کر اُس نے زیرِلب کچھ پڑھا۔ گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز لمحہ بہ لمحہ قریب آ رہی تھی ۔ اَب یوں لگ رہا تھا جیسے کئی گھوڑے دوڑ رہے ہوں۔
والد محویت کے عالم میں چاند کی طرف تک رہے تھے۔ مادام پیری ڈون کو زیرِلب کچھ پڑھتے سن کر اُنھوں نے کہا:

’’مادام! تم بھی کیا عجیب بات کرتی ہو۔ بھلا چودھویں کے چاند کا بدروحوں سے کیا تعلق؟ ہاں! مَیں نے کتابوں میں پڑھا ہے، چاندنی بعض نفسیاتی امراض میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے یعنی پاگلوں کا پاگل پن بڑھ جاتا ہے یا چاندنی راتوں میں لوگ ڈراؤنے خواب کثرت سے دیکھتے ہیں۔
خصوصاً ایسے لوگ جن کے اعصاب کمزور ہوں۔ بس انہی امراض کا نام وہم پرستوں نے بدروحیں رکھ دیا ہے۔‘‘

’’آپ صحیح فرماتے ہیں۔‘‘ مادام پیری ڈون نے آہستگی سے کہا۔
’’لیکن مَیں نے ایسے واقعات سنے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے چاندنی راتوں میں بدروحیں بھی سفر کرتی ہیں اور کبھی کبھی خوں آشام چڑیلوں کی شکل میں بھی نمودار ہوتی ہیں ۔
بہت برس پہلے کی بات ہے، میرا ایک چچازاد بھائی کسی بحری جہاز پر کپتان کا ساتھی تھا۔ اُس نے خود مجھے ایک عجیب واقعہ سنایا۔
کہتا تھا، ایک چاندنی رات کو ہمارا جہاز گہرے سمندر میں سفر کر رہا تھا۔ رات کے پچھلے پہر جبکہ چاند پورے جوبن پر تھا۔
سمندر کا منظر نہایت دلفریب ہو رہا تھا، مَیں جہاز کے عرشے پر پشت کے بَل لیٹا چاند کو تک رہا تھا کہ آنکھیں خود بخود بند ہونے لگیں۔ پھر مَیں نے خواب دیکھا۔

’’فضا میں بےشمار ننھے ننھے ذرے رقص کر رہے ہیں۔ میرے دیکھتے دیکھتے یہ ذرے جمع ہونے شروع ہوئے، پھر اُنھوں نے ایک انتہائی حسین و جمیل عورت کی شکل اختیار کر لی۔
وہ عورت سر سے پیر سیاہ لبادے میں لپٹی ہوئی تھی۔ اُس کا چہرہ رَوشن اور آنکھیں مشعلوں کی مانند دمکتی ہوئیں۔
ہونٹ بےحد سرخ اور جب وہ مجھے دیکھ کر مسکرائی، تو اُس کے لمبے نوکیلے سفید دانت چاندنی میں موتیوں کی طرح چمک اٹھے۔
پھر آہستہ آہستہ وہ میرے نزدیک آئی اور مجھ پر جھک گئی ….. دفعتاً میری آنکھ کھل گئی۔
میرا دِل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور خدا کی قسم وہی عورت جسے مَیں نے خواب میں دیکھا تھا، میرے اوپر جھکی مجھے دیکھ رہی تھی۔
خوف سے میری چیخ نکل گئی۔ چند ملاح جو عرشے پر گھوم رہے تھے، دوڑتے ہوئے آئے۔ اُنھیں آتا دیکھ کر وہ عورت آہستہ آہستہ فضا میں تحلیل ہو گئی۔‘‘

مادام پیری ڈون یہ حکایت سنا رہی تھی اور میرے ذہن میں آٹھ سال پہلے کے اُس بھیانک واقعے کی یاد تازہ ہو رہی تھی جب مَیں نے آدھی رات کو ایسے ہی حلیے کی ایک عورت دیکھی تھی۔ دفعتاً والد نے ناراض ہو کر اُس سے کہا:

’’کیا اوٹ پٹانگ قصّے بیان کرتی ہو۔ اتنا بھی خیال نہیں لڑکی ڈر جائے گی۔‘‘

پھر وہ کان لگا کر ٹاپوں کی آواز سننے لگے۔ چند منٹ تک ہم پتھر کے بتوں کی مانند بےحس و حرکت کھڑے رہے۔ والد نے میری طرف دیکھ کر کہا:

’’نہ معلوم کیا بات ہے۔ میرا دِل آپ ہی آپ سینے میں بیٹھا جاتا ہے۔ خدا ہم پر رحم کرے۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم پر کوئی آفت ٹوٹنے والی ہے۔ ممکن ہے جنرل ڈاروف کا غم نامہ پڑھ کر میرے اندر اِس احساس نے جنم لیا ہو۔‘‘

عین اُسی لمحے ٹاپوں کی آواز اور تیز ہو گئی۔ اب معلوم ہوا گھڑ سواروں کے عقب میں کوئی بھاری گھوڑا گاڑی بھی دوڑ رہی ہے۔
پہاڑی سڑکوں اور سنسان جنگل میں اِس قسم کی آوازیں دور تک پھیلتی اور دَیر تک گونجتی رہتی ہیں۔ چند ثانیے بعد ہم نے اُنھیں دیکھ لیا۔
آگے آگے دو گھڑ سوار تھے جو بجلی کی مانند لکڑی کے پُل پر سے گزر گئے۔ اُن کے پیچھے شاندار رَنگ کی گاڑی تھی جس میں بےحد عمدہ نسل کے چار سیاہ گھوڑے جُتے ہوئے تھے۔
دو خادم اُس گاڑی کے پیچھے پائیدان پر نہایت مستعدی سے کھڑے تھے۔
صاف ظاہر تھا وہ خاصا طویل فاصلہ طے کر کے آئے ہیں اور یہ بات بھی عیاں تھی کہ اِس گاڑی میں اونچی حیثیت کے افراد سفر کر رہے ہیں۔

پُل پر سے گزرتے ہوئے یک لخت گھوڑوں نے ٹھوکر کھائی اور آناً فاناً گاڑی الٹ گئی۔ کوچبان بھی منہ کے بل گرا، مگر فوراً اُٹھ کھڑا ہوا۔ گاڑی کے اندر سے عورتوں کے چیخنے چلّانے کی آوازیں بلند ہوئیں۔
تیز دوڑتے ہوئے گھوڑے کچھ دور تک الٹی ہوئی گاڑی گھسیٹتے لے گئے، پھر رک گئے۔ یہ حادثہ اتنا غیرمتوقع تھا کہ دیر تک ہم سب دم بخود اَپنی جگہ کھڑے رہے۔
پھر یک لخت والد کو جیسے ہوش آیا۔ اُنھوں نے مجھے وہیں رکنے کا حکم دیا اور خادماؤں کو ساتھ لے کر اُلٹی ہوئی گاڑی کی طرف دوڑے۔

مجھ میں بلاشبہ حرکت کرنے کی ہمت نہ رہی تھی اور مَیں اُس حادثے کی تاب نہ لا کر دونوں ہاتھوں سے منہ ڈھانپے کھڑی تھی۔ گاڑی کی جانب سے ابھی تک عورتوں کے چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
یہ آوازیں تھم گئیں، تو مَیں نے ڈرتے ڈرتے منہ پر سے ہاتھ اٹھائے اور دَیکھا۔ دو گھوڑے زمین پر گرے پڑے تھے اور بدحواسی سے اچھل رہے تھے۔
پچھلے پائیدان پر کھڑے ہونے والے خادموں میں سے ایک غالباً مر گیا تھا اور دُوسرا زخمی ہونے کے باجود اُلٹی ہوئی گاڑی میں سے خواتین کو نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
آگے جانے والے دونوں گھڑسوار اَبھی تک شاید حادثے سے بےخبر تھے، ورنہ وہ ضرور وَاپس آ جاتے۔

میرے والد نے اُس خادم کی مدد سے پہلے ایک عورت کو گاڑی سے باہر نکالا، پھر دوسری کو جو یا تو بےہوش تھی یا مر گئی تھی۔ دوسری کو اُنھوں نے آہستہ سے زمین پر لٹا دیا۔
پہلی عورت طویل قامت اور بھاری جسم کی تھی۔ اُس کا چہرہ سیاہ رَنگ کی نقاب میں پوشیدہ تھا اور وُہ ایک لمبا سیاہ کوٹ پہنے تھی۔ اُس کے ہاتھ اور اُنگلیاں برف کی مانند سفید تھیں۔
دائیں ہاتھ میں رومال تھا جس سے وہ بار بار اَپنے آنسو پونچھتی تھی۔ اُس کا لہجہ تحکمانہ اور گفتگو کا انداز بےحد باوقار تھا۔
وہ کئی مرتبہ جھکی اور فرش پر پڑی ہوئی لڑکی کو دیکھا جس کی عمر سترہ اَٹھارہ برس سے زائد نہ تھی۔
میرے والد نے چند مناسب الفاظ میں تسلّی و تشفی کے کلمات کہے جس کے بعد باوقار خاتون نے رونا دھونا بند کیا اور چہرے سے نقاب الٹ دی۔

اب مَیں نے شام کی دھندلی دھندلی فضا میں دیکھا کہ وہ نہایت حسین عورت تھی۔ ناک خم دار، گردن لمبی، بھوئیں گہری سیاہ اور ہونٹ پتلے پتلے اور غیرمعمولی طور پر سرخ تھے۔
چہرے کا رنگ دودھ کی مانند سفید اور کسی قدر زردی مائل تھا۔ اُس نے ایک بار مڑ کر میری جانب دیکھا اور اُس کی تیز نگاہیں جیسے میرے دل و جگر کو چیرتی ہوئی نکل گئیں۔
مَیں نے گھبرا کر فرش پر پڑی ہوئی نازنین کی طرف دیکھا جس کا مرمرین بدن کسی قدر برہنہ ہو گیا تھا، لیکن چہرہ گھاس میں چھپا ہوا تھا۔ اُس کے سینے کے زیروبم سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ زندہ ہے۔

والد نے مادام پیری ڈون اور لافونٹن کو جلد پانی لانے کا حکم دیا۔
وہ دونوں دوڑتی ہوئی قلعے کی طرف گئیں اور چند منٹ بعد قلعے کے خادم پانی کی صراحی ….. گلاس اور ایک چھوٹا لوہے کا پلنگ اٹھائے نمودار ہوئے۔
اُنھوں نے مل جل کر بےہوش لڑکی کو پلنگ پر لٹایا اور پانی کے چھینٹے اُس کے منہ پر مارے۔
وہ سب کے سب پلنگ کو گھیرے کھڑے تھے، اِس لیے مَیں اِس مرتبہ بھی لڑکی کی صورت دیکھنے سے محروم رہی۔

باوقار عورت نے بتایا کہ بےہوش ہونے والی لڑکی اُس کی بیٹی ہے۔ پھر اُس نے بےقراری سے جھک کر شاید اپنی بیٹی کی نبض دیکھی اور اِعلان کیا نبض کی رفتار سست پڑتی جا رہی ہے۔
اِسے فوراً طبی امداد کی ضرورت ہے، لیکن اِن حالات میں فوری طور پر طبی امداد کیونکر دی جا سکتی تھی۔ والد نے کہا ہم اِسے اٹھا کر قلعے میں لے چلتے ہیں، پھر ایک ملازم ڈاکٹر کو بلانے روانہ ہو جائے گا۔
یہ سن کر عورت نے آہ بھرتے ہوئے کہا:

’’مگر مَیں یہاں رک نہیں سکتی ….. مجھے بےحد اہم کام سے آگے جانا ہے۔
مجھے افسوس ہے اِس حادثے کے باعث آپ لوگوں کو خواہ مخواہ زحمت برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ کاش! مَیں یہاں کچھ دیر رک سکتی۔
بس یوں سمجھ لیجیے موت اور زندگی کا معاملہ درپیش ہے۔ ایک ایک لمحہ میرے لیے قیمتی ہے اور مَیں دیکھتی ہوں، میری بچی اِس حالت میں سفر کے بالکل قابل نہیں۔
نہ جانے کب تک سفر کے قابل نہ ہو سکے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں، یہاں سے قریبی گاؤں کس قدر فاصلے پر ہے تاکہ مَیں اپنی بچی کو وَہاں چھوڑ دوں اور وَاپسی میں اپنے ساتھ لے جاؤں جو کم از کم تین ماہ تک ہو گی۔‘‘

والد ابھی کچھ جواب دینے نہ پائے تھے کہ مَیں نے والد کا کوٹ پکڑ کر اُنھیں اپنی طرف متوجہ کیا اور چپکے سے کہا:

’’ابا جان! کیا ہی اچھا ہو، اگر آپ اِن خاتون کی بیٹی کو اَپنے ہاں ٹھہرا لیں۔ اگر آپ درخواست کریں، تو یقیناً یہ مان جائیں گی۔‘‘

والد نے آہستہ سے میرا ہاتھ دبایا اور وُہ خاتون سے مخاطب ہوئے:

’’مادام! عجیب اتفاق ہے یہ حادثہ میرے مکان کے قریب پیش آیا اور مَیں ہر خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ آپ اپنی بیٹی کو اگر اتنے عرصے کے لیے میرے گھر چھوڑ جائیں، تو مَیں اور میری بیٹی آپ کی مہربانی کے نہایت شکرگزار ہوں گے۔
وعدہ کرتا ہوں، آپ کی بیٹی کو اَپنی بیٹی سمجھوں گا اور اِس کی اِسی طرح دیکھ بھال کی جائے گی جس طرح میری حقیقی بیٹی کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
میرے تمام نوکر چاکر اِس سے عزت و احترام اور محبت کا سلوک کریں گے۔ اگر آپ مجھے اعتماد کے لائق سمجھیں، تو یہ حقیر درخواست قبول فرمائیں۔

’’میری بیٹی لارا کی خواہش بھی یہی ہے کہ آپ کی صاحب زادی ہمیں اپنی میزبانی کا موقع دیں …..
مَیں یہ بھی عرض کر دوں کہ میری بیٹی اِن دنوں اپنی ایک ہم عمر لڑکی کے یہاں آنے کی توقع کر رہی تھی، مگر آج صبح ہی اُس کے چچا کا خط آیا جس میں اندوہناک خبر تھی کہ وہ اِنتقال کر گئی۔
اِس خبر نے مجھے اور میری بیٹی کو ازحد اداس کر دیا ہے اور مجھے یقین ہے آپ کی بیٹی کے ہمارے مکان میں کچھ عرصہ قیام کرنے سے ہماری اداسی دور ہو جائے گی۔
جہاں تک کسی قریبی گاؤں کا تعلق ہے، وہ یہاں سے کم از کم تیس میل دور ہے جہاں ایک معمولی سرائے ہے۔
اُس میں آپ اپنی بیٹی کو رکھنا کسی صورت پسند نہ کریں گی اور وَہاں اِس کی وہ دَیکھ بھال ممکن بھی نہیں جو میرے غریب خانے پر ممکن ہے۔‘‘

والد کی یہ تقریر اثرانداز ہوئی۔ خاتون کی آنکھوں میں تشکر اور ممنونیت کے آثار نمودار ہوئے۔ عین اُسی لمحے وہ دونوں گھڑسوار جو گاڑی کے آگے سرپٹ جا رہے تھے، واپس آئے اور کانپتے ہوئے اُس باوقار خاتون کے سامنے ادب سے کھڑے ہو گئے جس کا نام ابھی تک معلوم نہ ہوا تھا۔
خاتون نے جرمن زبان میں اُن سے نہ جانے کیا کہا کہ وہ فوراً اپنے ساتھی کی طرف متوجہ ہوئے۔
جب دیکھا وہ مر چکا ہے، تو اُسے وہیں پڑا رَہنے دیا۔ پھر اُنھوں نے گاڑی سیدھی کی، گھوڑوں کو چمکارا۔
اِسی لمحے مَیں نے دیکھا کہ گاڑی کے اندر سیاہ رَنگ کی ایک حبشی عورت بھی موجود ہے جس کے بڑے بڑے سفید چمکیلے دانت باہر نکلے ہیں۔
اُسے دیکھ کر مَیں سخت خوف زدہ ہو گئی اور مَیں نے والد کا بازو سختی سے تھام لیا۔ دوبارہ مجھے گاڑی کی طرف نگاہ اُٹھانے کی جرأت نہ ہوئی۔

نوکروں نے چند منٹ کے اندر اَندر گاڑی سفر کے قابل بنا دی اور اَب وہ خاتون کے حکم کے منتظر تھے۔ خاتون نے والد کی طرف مڑتے ہوئے کہا:

’’جناب والا! مَیں آپ کے اِس کرم کی حددرجہ ممنون ہوں اور آپ پر پورا پورا اِعتماد رَکھتی ہوں۔ اگر آپ خوشی سے میری بیٹی کو اَپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں، تو مجھے بھلا کیا انکار ہو سکتا ہے؟
یقیناً آپ کی شرافت اور اِمارت آپ کے چہرے مہرے سے ظاہر ہے۔ مَیں بخوشی اِسے عارضی طور پر آپ کے حوالے کرتی ہوں، لیکن میری ایک گزارش سن لیجیے۔‘‘

یہ کہہ کر والد کو کچھ فاصلے پر لے گئی اور دَبی دبی زبان میں کچھ کہتی رہی جو مَیں کوشش کے باوجود نہ سن سکی۔ مَیں نے دیکھا والد اُس کی شخصیت سے ازحد مرعوب ہیں۔
جو کچھ کہہ رہی ہے، اُسے اتنے ادب اور اِتنی توجہ سے سن رہے ہیں جیسے وہ اُس کے ادنیٰ غلام ہوں۔ اُنھوں نے جواب میں کچھ بھی نہ کہا، بلکہ اُس کے ہر ہر جملے پر گردن کو خم دیتے رہے۔
ایسا معلوم ہوتا اُس عورت نے والد پر کسی قسم کا جادو کر دیا ہے۔ مَیں نے سوچا بعد میں مَیں اُن سے پوچھوں گی، اُس عورت نے الگ جا کر کیا باتیں کی تھیں۔

تین یا چار منٹ بعد وہ وَاپس آئی اور اَپنی بیٹی پر نگاہ ڈالی جو اَبھی تک بےحس و حرکت پلنگ پر پڑی تھی اور مادام پیری ڈون کی زیرِ نگرانی تھی، پھر وہ گھٹنوں کے بَل جھک کر زمین پر بیٹھ گئی اور اَپنے ہونٹ بےہوش لڑکی کے ایک کان پر رکھ کر نہ جانے کیا کہا۔
اُس کی پیشانی کا بوسہ لے کر اُٹھ کھڑی ہوئی اور اَپنی گاڑی کی طرف چل دی۔ اُس نے مڑ کر ہم سب کو اشارے سے الوداعی سلام کیا۔ کوچبان نے بڑھ کر دروازہ کھولا، وہ اَندر جا بیٹھی، گاڑی کا دروازہ بند ہو گیا۔
دونوں گھڑ سوار اَپنے اپنے گھوڑوں پر سوار ہوئے۔
ایک خادم حسبِ معمول گاڑی کے پچھلے پائیدان پر کھڑا ہوا۔ کوچبان نے لمبا چابک فضا میں لہرا کر گھوڑوں کی پیٹھ پر رسید کیا ، چشمِ زدن میں گھڑسوار اَپنی وجیہ اور شاندار سواری لے کر جنگل میں گھس گئے۔ چند لمحوں تک ٹاپوں کی آواز آتی رہی اور پھر مدھم ہو کر غائب ہو گئی۔

گاڑی نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد بھی دیر تک ہم سب اُسی جانب نظریں جمائے دیکھتے رہے۔
تاریکی خاصی بڑھ گئی تھی اور دُھند لمحہ بہ لمحہ گہری ہوتی جا رہی تھی۔
ہمارے ایک نوکر کے ہاتھ میں لالٹین تھی، لیکن کوشش کے باوجود وُہ رَوشن نہ ہو سکی۔
کئی مرتبہ دیا سلائی رگڑی گئی، مگر جلتے ہی بجھ جاتی۔

’’قلعے میں چلو۔ اب یہاں رکنے کا کیا فائدہ؟‘‘ والد کی آواز گونجی۔
ملازم فوراً لوہے کے پلنگ کی طرف بڑھے تاکہ اٹھا کر لے چلیں۔ مَیں کچھ دور وَالد کے پاس کھڑی تھی۔
دفعتاً پلنگ پر لیٹی بےہوش لڑکی کے جسم میں حرکت ہوئی۔ پھر ایک سریلی آواز میرے کانوں تک پہنچی۔ وہ مادام پیری ڈون سے پوچھ رہی تھی۔

’’تم کون ہو اَور میری والدہ کہاں ہیں؟‘‘

چونکہ اُس نے کروٹ بدل کر اپنا منہ مادام کی طرف کر لیا تھا، اِس لیے مَیں اُس کا چہرہ نہ دیکھ سکی ۔
وَیسے بھی اُس اندھیرے میں اُس کے خدوخال کا اندازہ کرنا ممکن نہ تھا۔ مادام پیری نے خوش ہو کر جواب دیا۔

’’خدا کا شکر ہے تمہیں ہوش تو آیا۔ اچھا یہ بتاؤ زیادہ چوٹ تو نہیں لگی؟‘‘

’’نہیں! مجھے کوئی چوٹ نہیں لگی۔‘‘ لڑکی نے اپنی حددرجہ مترنم آواز میں کہا۔
’’مگر یہ بتائیے مَیں ہوں کہاں، یہ کون سی جگہ ہے۔ ہماری گاڑی کہاں گئی، میری ماں کہاں ہے؟‘‘

مادام پیری ڈون نے نہایت شفقت سے اُس کے تمام سوالوں کا جواب دیا۔ وہ خاموشی سے سنتی رہی، لیکن جب اُسے یہ بتایا گیا، اُس کی ماں اُسے تین ماہ کے لیے چھوڑ گئی ہے، تو اُس نے رونا شروع کر دیا۔
مَیں نے چاہا آگے بڑھ کر اُسے دلاسا دوں، مگر فوراً مادام لافونٹن نے مجھے روک دیا اور کان میں کہا:

’’بیٹی! تم اِس وقت کچھ نہ کہنا۔ فی الحال ہم ہی اُسے سنبھالتے ہیں۔ تم دور ہی رہو۔‘‘

مَیں پھر آگے نہ بڑھ سکی۔ لافونٹن نے چند تشفی آمیز جملے کہے اور لڑکی کا رونا بند ہوا۔
مجھے تعجب تھا رونے میں بھی اُس کی بےمثال سریلی آواز کی نغمگی باقی رہی۔

قلعے میں جاتے ہی ایک کھلے اور بہت صاف ستھرے کمرے میں اُس کے لیے بستر بچھایا گیا۔ اُس پر اُسے آرام سے لٹا دیا گیا اور وُہ دوبارہ سو گئی، تو مادام لافونٹن واپس میرے پاس آئیں۔
اُنھوں نے بتایا لڑکی بےحد خوبصورت اور معصوم ہے اور باتیں تو اِتنی پیاری کرتی ہے کہ بس سنا کرو۔
فی الحال مادام پیری ڈون اُس کے پاس نگرانی کے لیے موجود ہیں۔
یہ سن کر مجھے پھر اُس کے کمرے میں جانے کا اشتیاق ہوا، لیکن اِس مرتبہ والد نے مجھے روک لیا اور کہا:

’’اُسے بےآرام نہ کرو۔ جب وہ بیدار ہو جائے گی، تب ملاقات کر لینا۔‘‘

اِس دوران میں اُنھوں نے ایک خادم کو فوراً ڈاکٹر کو لانے کا حکم دیا تاکہ دیکھ لیں کوئی تشویش کی بات تو نہیں۔ والد کا حکم پاتے ہی وہ نوکر، ڈاکٹر صاحب کو لینے روانہ ہو گیا جو تیس میل دور ایک قصبے میں رہتے تھے۔

ہم سب اُس وقت ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے جو اُس قلعے کا سب سے اچھا کمرہ تھا۔ اُس کی چھت اندازاً تیس فٹ اُونچی اور شاہ بلوط کی بنی ہوئی تھی۔
دیواریں خاصی موٹی اور اُن پر سنہری رنگ کا روغن پھیرا گیا تھا۔ کمرے میں شمالاً جنوباً چار کھڑکیاں تھیں جن پر بھاری ریشمی پردے پڑے تھے۔
کمرے کا طول و عرض ساٹھ اور چالیس فٹ کے لگ بھگ ہو گا اور پورے کمرے میں قدیم طرز کا فرنیچر تھا ….. دیواروں پر بارہ سنگھوں، ہرنوں اور رِیچھوں کی کھوپڑیاں لٹکی ہوئی تھیں۔
کہیں کہیں زمانۂ قدیم کی تلواریں، بھالے، خنجر اور زرہ بکتریں آویزاں تھیں۔ اُن کے علاوہ دَس بارہ بڑی بڑی تصویریں بھی اُن افراد کی تھیں جو اَپنے اپنے دور میں اُس قلعے کے مالک رہ چکے تھے۔
ایک کھڑکی سے جنگل اور اُس کی پگڈنڈی اور لکڑی کا پُل صاف دکھائی دیتا
۔ اُس وقت مَیں ایک اونچی کرسی پر بیٹھی اُسی جانب دیکھ رہی تھی، جہاں تھوڑی دیر پہلے وہ حادثہ رونما ہوا تھا۔

کمرے میں لمبی لمبی مومی شمعیں روشن تھیں۔ والد ایک صوفے میں دھنسے پائپ سے شغل کر رہے تھے۔
مادام لافونٹن دیوار پر لگی ایک خاتون کی تصویر دیکھ رہی تھیں جو ڈیڑھ سو برس قبل اُس قلعے کے مالک کی بیوی تھی۔
چند لمحوں بعد مادام پیری ڈون بھی آ گئیں اور اُنھوں نے بتایا لڑکی اب گہری نیند سو رہی ہے اور وُہ باہر سے دروازہ مقفل کر کے چلی آئی ہیں تاکہ اُس کے لیے کھانے کا کچھ بندوبست کریں۔

’’اماں! سنائیے، آپ کا ہمارے معزز مہمان کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ مَیں نے پوچھا۔

’’ارے بیٹی! کیا بتاؤں؟ مَیں تو اُسے دیکھتے ہی فریفتہ ہو گئی۔ بخدا میری اتنی عمر ہونے کو آئی۔ سینکڑوں ہزاروں لڑکیاں ایک سے ایک حسین دیکھی ہوں گی، لیکن ایسی خوبصورت لڑکی آج تک نظر نہ آئی۔
جنت کی حُور ہے حور، بلکہ حوریں بھی اُسے دیکھ کر شرما جائیں۔
کہنے کو تم بھی بہت خوبصورت ہو، لیکن اُس لڑکی کی بات ہی کچھ اور ہے، تصویر ہے تصویر۔
آواز ایسی پیاری جیسے جلترنگ بج رہا ہو اَور باتیں اتنی بھولی بھالی کہ بیان سے باہر۔ میرا بس چلے، تو اُسے یہاں سے جانے ہی نہ دوں۔‘‘

سچ تو یہ ہے مَیں رشک کے جذبات سے اپنے آپ کو بچا نہ سکی۔
مادام لافونٹن نے اُن سب خوبیوں کی تائید کی جو پیری ڈون نے بیان کی تھیں۔ دفعتاً والد نے کہا:

’’یقیناً وہ بچی اِن تمام خوبیوں کی مالک ہے جو تم نے بیان کیں، لیکن کیا تم نے محسوس نہ کیا اُس گاڑی میں اُس لڑکی۔
اُس کی ماں کے علاوہ ایک عورت اور بھی تھی۔ بالکل سیاہ چہرے والی جو آخری وقت تک گاڑی سے باہر نہ آئی۔‘‘

مَیں نے چونک کر والد کی طرف دیکھا۔ اچھا تو اُنھوں نے بھی اُس حبشن کو دیکھ لیا تھا۔
اب معلوم ہوا، وہ میرا وَہم نہ تھا۔ بلاشبہ ایک ایسی عورت گاڑی کے اندر موجود تھی۔
دونوں خادماؤں نے نفی میں گردنیں ہلائیں۔
والد اُن کے بیان پر مایوس ہوئے، مگر جب مَیں نے اُنھیں بتایا واقعی اُس گاڑی میں ایک عورت اِس حلیے کی بیٹھی تھی، تو اُنھوں نے کہا:

’’بہت خوب! تم نے بھی اُسے دیکھا تھا۔ سوال یہ ہے وہ عورت کون تھی اور گاڑی سے باہر کیوں نہ آئی؟ اِس کا جواب ہمیں یہی لڑکی دے سکتی ہے۔‘‘

’’مَیں تو اُن کے کوچبان اور گھڑسواروں کو دیکھ کر ڈری تھی۔‘‘ مادام لوفنٹن نے کہا۔
’’خدا رَحم کرے! وہ کسی اور ہی دنیا کے دکھائی دیتے تھے ….. کیسے پیلے پیلے چہرے تھے اُن کے اور ہاتھ پاؤں گویا لکڑی کے بنے ہوں۔ جب وہ حرکت کرتے، تو ایسی مکروہ آواز آتی تھی جیسے کوئلے چٹخ رہے ہوں۔‘‘

’’ہاں! یہ بات مَیں نے بھی دیکھی۔‘‘ والد نے کہا۔ ’’وہ سب کے سب اُس خاتون سے ڈرتے اور سہمے ہوئے نظر آتے تھے۔ اُن کی ٹانگیں خوف سے لرزتی تھیں۔
اور تو اور مَیں نے اُن کے سیاہ گھوڑے دیکھے، وہ بھی دہشت سے کانپ رہے تھے، اگر یہ موسم سردیوں کا ہوتا، تو مَیں خیال کرتا اُن کے کانپنے کی وجہ سردی ہے، مگر …..‘‘

وہ یک لخت چپ ہو گئے اور اُنھوں نے جملہ نامکمل چھوڑ دیا۔

’’میرا خیال ہے ہم سب کچھ اُس لڑکی سے پوچھ لیں گے۔ یہ کون لوگ ہیں، کہاں سے آئے اور اُس کی ماں کو آخر زندگی اور موت کا کون سا مرحلہ درپیش ہے؟‘‘ مَیں نے کہا۔

والد یہ سن کر مسکرائے اور گردن ہلا کر بولے ’’اور میرا خیال ہے لڑکی ہمیں کچھ نہ بتا سکے گی۔‘‘

میرا دھیان فوراً اُس پُراسرار گفتگو کی طرف چلا گیا جو رخصت ہونے سے تھوڑی دیر پہلے اُس خاتون نے والد کو ایک طرف لے جا کر کی تھی۔
یقیناً وہ اُن کے کسی راز سے آگاہ کیے گئے ہیں اور شاید ہمیں بتانا پسند نہ کریں، مگر پوچھ لینے میں آخر ہرج ہی کیا ہے؟ چنانچہ مَیں نے اِس سلسلے کا آغاز کیا۔

’’اُس عورت نے آپ کو الگ لے جا کر سرگوشی میں کیا کہا تھا؟‘‘

والد کے لبوں پر ایک بار پھر معنی خیز تبسم نمودار ہوا اَور اُنہوں نے کہا:

’’وہ کہتی تھی آپ مجھ سے وعدہ کریں ہمارے بارے میں میری بیٹی سے کوئی سوال نہ کریں گے اور اَگر آپ نے کوئی سوال کیا بھی، تو یقین رکھیے وہ جواب میں ایک حرف بھی زبان سے نہ نکالے گی۔
مَیں نے اُسے سختی سے منع کر دیا ہے …..‘‘
والد ایک لمحے کے لیے رک گئے اور کہا ’’غالباً اُس نے بےہوش لڑکی کے کان میں یہی بات کہی تھی۔‘‘

’’تعجب ہے …..‘‘ مَیں نے کہا۔ ’’آخر بےہوش لڑکی سے کچھ کہنے کا کیا فائدہ؟‘‘

’’ہمیں اِس بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔‘‘ والد نے کہا۔
’’ہمیں اُن کے بھید سے آگاہ ہونے کا شوق نہیں اور نہ مَیں اُس لڑکی سے کچھ پوچھنے کی اجازت دوں گا۔ ہر فرد خوب غور سے سن لے کہ لڑکی سے اُس کے یا اُس کی ماں کے بارے میں کوئی جرح نہ کی جائے۔
ہاں وہ خود اَپنی مرضی سے کچھ بتا دے، تو ٹھیک ہے۔‘‘

مجھے اُس لڑکی کو دیکھنے اور اُس سے باتیں کرنے کا اتنا اشتیاق تھا کہ نیند بھی غائب ہو گئی، ورنہ رات کا کھانا کھا لینے کے بعد مَیں فوراً سو جانے کی عادی تھی۔
عشائیہ رات کے نو بجے کھایا گیا۔ اِس دوران میں مادام پیری ڈون دو مرتبہ معزز مہمان کے کمرے میں گئیں اور دونوں مرتبہ واپس آ کر بتایا کہ وہ گہری نیند سو رہی ہے۔
کھانے کے بعد دیر تک قہوے کا دور چلتا رہا اور اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ سب کو اَب اُس نوکر کا انتظار تھا جسے ڈاکٹر لانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

رات کے ٹھیک ایک بجے ڈاکٹر اور نوکر قلعے میں داخل ہوئے۔ والد نے مختصر الفاظ میں سارا وَاقعہ بیان کیا اور اُنھیں لے کر خود اُس کمرے میں گئے۔ مجھے اُس وقت بھی جانے کی اجازت نہ ملی۔
آدھ گھنٹے بعد والد واپس آئے۔ ڈاکٹر نے بتایا مریضہ قطعی صحت مند ہے، اُسے کوئی اندرونی اور بیرونی چوٹ نہیں لگی۔
اُس کی نبض ٹھیک چل رہی ہے، سانس کی آمد و رفت صحیح ہے، اُسے صرف ماں سے جدا ہونے کا صدمہ ہے اور وُہ یہ صدمہ برداشت کر لے گی۔ تین ماہ کی مدت کچھ زیادہ نہیں۔‘‘

’’ڈاکٹر صاحب! کیا مَیں اُس سے اِس وقت مل سکتی ہوں؟‘‘ مَیں نے پوچھا۔

’’ہاں ہاں ضرور! تمہیں اُس سے فوراً ملنا چاہیے۔ وہ تمہاری ہم عمر ہے اور تمہی جیسی حسین ….. یقیناً وہ تمہیں دیکھ کر بےحد خوش ہو گی۔‘‘

’’مگر دیکھو تو آدھی رات جا چکی ہے۔ اِس وقت ملنا غیرمناسب ہو گا ….. صبح …..‘‘
والد نے کہنا شروع کیا، مگر اب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ مزید کچھ کہے سنے بغیر مَیں دوسری منزل کی طرف دوڑی اور جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھ کر اُس کمرے کی طرف چلی جس میں وہ آرام کر رہی تھی۔
ایک ثانیہ دروازے پر رک کر مَیں نے اپنا پھولا ہوا سانس درست کیا، پھر دروازے پر انگلی سے دستک دی۔

’’آئیے!‘‘ اندر سے ایک دلفریب آواز آئی اور مَیں آہستہ سے دروازہ کھول کر کمرے میں چلی گئی۔
وہ مسہری پر پشت موڑے بیٹھی تھی۔ اُس کے لمبے گھنے سیاہ بال پوری کمر چھپائے ہوئے تھے۔ اُس کا سیاہ گاؤن گردن تک لپٹا ہوا تھا۔
کمرے میں دو سفید مومی شمعیں روشن تھیں۔ میرے قدموں کی آہٹ پا کر اُس نے اپنی لمبی گردن موڑ کر میری طرف دیکھا۔ دو بڑی گہری سیاہ چمک دار آنکھیں مجھے گھور رَہی تھیں۔
میری اُس سے نگاہیں چار ہوئیں۔ اُس کی حسین و جمیل صورت دیکھتے ہی مجھ پر سکتے کا عالم طاری ہو گیا۔
مَیں پتھر کے بےجان مجسمے کی مانند اپنی جگہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی اور پھٹی پھٹی نظروں سے اُسے تکنے لگی۔
وہی چہرہ،  ناک نقشہ، لباس،  سرخ سرخ ہونٹ، نوکیلے سفید دانت،  تبسم اور  جسم کے پار ہو جانے والی سحرانگیز نظریں۔
یہ وہی لڑکی تھی جسے برسوں پہلے، اپنے بچپن میں مَیں نے آدھی رات کو اَپنے بستر کے قریب کھڑے پایا تھا۔ اُس تصوّر کے ساتھ ہی دھڑام سے غش کھا کر گری اور گہری تاریکی میں ڈوبتی چلی گئی۔

کارمیلا! اُس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں۔ پھر اُس کے ہونٹ کھلے ۔
جب وہ میری گردن کا بوسہ لینے کو جھکی، تو اُس کے لمبے نکیلے سفید دانت باریک سوئیوں کی مانند میری گردن میں چبھے۔
درد کی ہلکی سی چیخ میرے منہ سے نکلی اور پھر مَیں بےہوش ہوتی چلی گئی۔

کارمیلا دستِ قدرت کا نادر اَور بےمثال شاہکار تھی۔ اُس کا جسم جیسے نور کے سانچے میں ڈھالا گیا تھا۔
اعضا اتنے متناسب اور نازک جیسے پھول کی پنکھڑی، اُس کی آواز میں ایک جادو تھا، ترنم کا جادو۔
جب وہ بولتی، تو یوں لگتا جیسے دور، بہت دور کسی معبد میں صبح صادق کی گھنٹیاں بج رہی ہوں۔
اُس کی بڑی بڑی غزالی آنکھوں میں بلا کی تیزی اور چمک تھی۔
جُوں جوں سورج مغرب میں جھکتا چلا جاتا، کارمیلا کی آنکھوں میں سرخی جھلکنے لگتی۔
اُس کے بےحد خوبصورت ترشے ہوئے یاقوتی ہونٹ خونِ کبوتر کی مانند سرخ تھے ۔
یہ سرخی مصنوعی نہیں، اصلی تھی۔ اُس کے دانت غیرمعمولی طور پر لمبے، نکیلے اور سفید تھے اور جب وہ مسکراتی، تو اُن خوبصورت دانتوں میں بجلیاں سی لہراتی نظر آتیں۔

مَیں نے اُسے پہلی مرتبہ دیکھا، تو دہشت سے غش کھا کر گر پڑی۔ یہ تو وہی لڑکی ہے جسے بارہ سال قبل، مَیں نے آدھی رات کو اَپنے بستر کے قریب کھڑے پایا تھا۔
اُس وقت سے لے کر اب تک ایک لمحے کے لیے بھی اُس کا یہ دلفریب چہرہ میرے حافظے کی لوح سے محو نہ ہوا تھا۔

چند لمحے بعد مَیں خود ہی ہوش میں آ گئی۔ کیا دیکھتی ہوں اُس کا حسین چہرہ مجھ پر جھکا ہوا ہے، پھر ایک مترنم اور دِل کش آواز میرے کانوں میں ہلکورے لینے گی۔

’’پیاری بہن! اٹھو ….. کیا تم مجھے دیکھ کر ڈر گئیں؟‘‘

اُس نے میرا ہاتھ پکڑا اَور ایک عجیب سی سنسنی میرے جسم کے روئیں روئیں میں دوڑ گئی۔
مَیں بلاشبہ اُس وقت کانپ رہی تھی اور یوں لگتا جیسے میری قوتِ گویائی سلب ہو گئی ہو۔
شاید آج پھر بارہ سال پہلے کا وہی بھیانک خواب دیکھ رہی تھی۔

’’اُف! ….. کیسی حیرت انگیز بات ہے۔‘‘ اُس نے ہنس کر کہا۔
’’ٹھیک بارہ برس قبل مَیں نے تمہاری صورت خواب میں دیکھی تھی اور جب سے اب تک ایک لحظے کے لیے بھی تمہارا چہرہ میرے تصوّر سے غائب نہ ہوا۔‘‘

یہ کلمات سن کر مَیں اور خوف زدہ ہو گئی۔ خدا رَحم کرے بالکل یہی بات تو مَیں سوچ رہی تھی اور پھر یک لخت میری گم شدہ قوتِ گویائی واپس آ گئی۔ مَیں نے کہا:

’’مجھے بھی تعجب ہے کہ آج سے بارہ برس پہلے جب مَیں چھوٹی سی تھی، آدھی رات کے بعد اپنی خواب گاہ میں مجھے تمہارا چہرہ نظر آیا تھا، لیکن وہ خواب نہیں تھا۔
مَیں نے حقیقت میں تمہیں اپنے بستر کے قریب کھڑے دیکھا اور پھر تم میرے برابر میں لیٹ گئی تھیں۔ اَب مَیں تمہیں دوبارہ دَیکھ رہی ہوں۔ خدا کی پناہ! یہ کیسا عجیب واقعہ ہے۔‘‘

اُس نے اپنی چمکیلی آنکھیں میرے چہرے پر گاڑ دیں۔ اُس کی نظروں کی تاب نہ لا کر مَیں نے گردن جھکا لی اور میرا دِل جیسے بیٹھنے لگا۔
دفعتاً اُس نے اپنا ہاتھ میرے شانے پر رکھا اور مسکرانے لگی۔ اُس وقت اُس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن تھا اور سرخ سرخ لبوں اور موتی کی طرح سفید دانتوں سے جیسے پھول برس رہے ہوں۔

’’ہاں! کیسا عجیب واقعہ ہے!‘‘ اُس نے کہا۔
’’مَیں نے تمہیں خواب میں دیکھا اور تم نے مجھے بیداری میں۔
اَب قسمت نے مجھے تمہارے پاس پہنچا دیا۔ یوں کہو تمہاری کشش مجھے یہاں کھینچ لائی۔ آہ! تم کتنی خوبصورت ہو، کیا نام ہے تمہارا؟‘‘

’’میرا نام لارا ہے اور تمہارا؟‘‘

’’مجھے کارمیلا کہتے ہیں ….. کیا تمہیں یہ نام پسند آیا؟‘‘

’’ہاں! بہت پیارا نام ہے۔ بالکل تمہاری طرح۔ تم بہت خوبصورت اور پیاری ہو کارمیلا ۔‘‘

اُس کے تر و تازہ اَور شاداب رخسار مزید سرخ ہو گئے اور اُس نے محبت سے میرا ہاتھ دبایا۔

’’تم بھی کچھ کم خوبصورت نہیں لارا پیاری۔ آؤ ہم تم دونوں پکی سہیلیاں بن جائیں۔‘‘

مَیں اُن دنوں خاصی شرمیلی تھی اور شاید اِس کی وجہ وہ تنہائی تھی جس میں میری پرورش ہوئی تھی۔ کارمیلا کی بات سن کر مَیں اِس طرح شرمائی جیسے کسی طرحدار نوجوان نے مجھ سے شادی کی درخواست کر ڈالی ہو۔

’’ہم تو پہلے ہی سہیلیاں ہیں۔ کیا ہماری دوستی بارہ سال پرانی نہیں؟‘‘
مَیں نے شرماتے ہوئے کہا اور کارمیلا ہنس پڑی …..  مجھے گلے سے لگا لیا اور پیار کرنے لگی۔
اُس کے جسم سے عجیب سحر انگیز خوشبو اُٹھ رہی تھی جس نے مجھے مدہوش کر دیا۔
مَیں نے دیکھا، اُس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی ہیں۔ پھر اُس کے ہونٹ کھلے اور جب وہ میری گردن کا بوسہ لینے کو جھکی، تو اُس کے لمبے نکیلے سفید دانت باریک سوئیوں کی مانند میری گردن میں چبھے۔
درد کی ہلکی سی چیخ میرے منہ سے نکلی اور کارمیلا نے فوراً اپنے ہونٹ گردن سے ہٹا لیے۔ دونوں ہاتھوں سے میرا منہ اوپر اٹھایا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:

’’مَیں تمہیں اپنا بارہ سال پرانا وہ خواب سناتی ہوں جب مَیں نے پہلی بار تمہیں دیکھا تھا
۔ بالکل اِسی طرح جیسے مَیں اب تمہیں دیکھ رہی ہوں۔ اُس وقت میری عمر چھے سال کی تھی اور یقیناً جب تم نے مجھے دیکھا، تو اُن دنوں تمہاری عمر بھی چھے سات برس کی ہو گی۔
گویا ہم دونوں کم سِن تھیں۔ خیر ایک رات سوتے سوتے میری آنکھ کھلی اور مَیں اپنے آپ کو اَجنبی جگہ دیکھ کر حیران رہ گئی۔
یہ وہ کمرا تو نہیں تھا جہاں میری والدہ مجھے سلایا کرتی تھیں۔ مَیں اپنے بستر پر اُٹھ کر بیٹھ گئی اور غور سے اپنے اردگرد کا جائزہ لیا۔
ہر طرف گہری تاریکی تھی اور خوفناک سناٹا۔ مَیں نے اپنے آپ کو وسیع و عریض کمرے میں پایا جس میں طرح طرح کا سامان کھچا کھچ بھرا تھا۔
لکڑی کی میزیں، کرسیاں، پلنگ، الماریاں اور پتا نہیں کیا کیا۔

’’کھڑکیوں پر سیاہ رَنگ کے بڑے بڑے پردے لٹکے ہوئے تھے اور دَروازے کھلے ہوئے تھے۔ دفعتاً ہوا کے جھونکوں سے ایک پردہ ہلا اور مَیں نے دیکھا سامنے ایک گھنا جنگل ہے جس میں کچھ فاصلے پر چراغ جل رہا ہے۔
مجھے اُس وقت بڑا خوف محسوس ہوا اَور وُہ خوف ایک اجنبی جگہ، اندھیرے اور تنہائی کا تھا۔ اب مَیں اندھیرے میں بخوبی دیکھنے لگی تھی۔
میرے دائیں بائیں دو پلنگ پڑے تھے جن پر بستر بچھے ہوئے تھے، مگر اُن پر سونے والا کوئی نہ تھا۔ میرے سرہانے لوہے کا ایک شمع دان دھرا تھا جس میں موم بتیاں لگی تھیں، مگر یہ سب کی سب بجھ چکی تھیں۔

’’یکایک مَیں نے عجیب سی آواز کمرے میں سنی جیسے کوئی دبے پاؤں چل رہا ہو۔ مَیں نے خوف سے چیخنے کی کوشش کی، لیکن حلق سے آواز ہی نہ نکلی اور پھر مَیں نے تمہیں دیکھا ….. تمہیں …..‘‘

کارمیلا ایک لمحے کے لیے رکی اور میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگی۔ مَیں چپ چاپ اُس کے ہونٹ تکے جا رہی تھی۔

’’تم گردن سے پیروں تک سیاہ لبادے میں لپٹی ہوئی تھیں۔ تمہارے سنہرے بال کھلے تھے اور تمہاری نیلی آنکھوں میں محبت کے کنول روشن تھے۔ تم مجھے دیکھ کر مسکرا رَہی تھیں۔
پھر تم نے اپنے دونوں بازو آگے کیے جیسے مجھے لپٹانا چاہتی ہو۔ مَیں بےاختیار تمہارے بازوؤں میں آ گئی اور پھر آنکھیں آپ ہی آپ بند ہو گئیں۔
شاید مَیں گہری نیند سو گئی تھی۔ یک لخت چیخوں کی آواز سن کر میری آنکھ کھلی۔ مَیں نے دیکھا تم میرے بستر پر بیٹھی بری طرح چیخ رہی ہو۔
تمہیں اِس حالت میں دیکھ کر مَیں خوف زدہ ہو گئی اور بستر سے نیچے اتری اور اُس کے بعد ایسا لگا جیسے مَیں بےہوش ہو گئی۔

’’دوبارہ آنکھ کھلی، تو مَیں نے اپنے آپ کو اُسی خواب گاہ میں پایا جہاں مَیں ہمیشہ سویا کرتی تھی۔ میری والدہ میرے سرہانے کھڑی تھیں۔ اُنھوں نے مجھے بتایا مَیں کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہی تھی اور میرے رونے اور چیخنے کی آواز سن کر وہ خواب گاہ میں آئی تھیں۔
اُس وقت سے لے کر اب تک تمہارا خوبصورت چہرہ مَیں نہیں بھولی۔ مَیں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ بارہ سال قبل جس لڑکی کو مَیں نے خواب میں دیکھا تھا، یقیناً وہ تم ہی تھیں۔‘‘

کارمیلا اپنا خواب بیان کر رہی تھی اور مَیں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔
اُس کا خواب ہو بہو وہی تھا جو مَیں نے اپنی بیداری میں دیکھا تھا۔ پھر مَیں نے تفصیل سے پوری بات سنائی۔ وہ بڑی دلچسپی سے سنتی اور مسکراتی رہی جب مَیں چپ ہوئی، تو اُس نے مجھے گلے سے لگاتے ہوئے کہا:

’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے ہم دونوں کے ساتھ نہایت حسین مذاق کیا۔
بچپن ہی سے ہمیں ایک دوسرے کی نہ صرف شکل دکھا دی بلکہ آپس میں محبت بھی پیدا کر دی۔ پیاری لارا! وعدہ کرو تم مجھ سے جدا نہ ہو گی۔‘‘

مَیں نے وعدہ کیا اور جب یہی وعدہ اُس سے لینا چاہا، تو ایک لمحے کے لیے وہ اُداس ہو گئی۔

’’ابھی کوئی وعدہ نہیں کر سکتی۔ مَیں اپنی ماں کے قبضے میں ہوں۔ وہ وَاپس آئے گی، تب بتا سکوں گی، اُن کا کیا ارادہ ہے۔ بہرحال مَیں تمہیں کبھی نہ بھولوں گی۔‘‘

کارمیلا نے سرد آہ بھری اور اُس کی غزالی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ مَیں بھی رونے لگی۔ کتنی ہی دیر ہم چپکے چپکے آنسو بہاتے رہے۔
دفعتاً جنگل میں سے کسی مرغ کے بولنے کی آواز آئی ….. کارمیلا چونک پڑی۔ اُس نے جلدی سے کہا:

’’لارا بہن! اب تم جاؤ۔ آرام کرو، مجھے بھی نیند آ رہی ہے۔ باقی باتیں کل ہوں گی۔‘‘

’’ارے معاف کرنا، مجھے باتوں باتوں میں پتا نہ چلا کہ صبح ہونے والی ہے۔‘‘
مَیں نے اُس کے بستر سے اٹھتے ہوئے کہا۔ ’’
ڈاکٹر کی رائے ہے تمہارے کمرے میں ایک خادمہ کو سونا چاہیے۔ وہ غالباً باہر انتظار کر رہی ہے۔ تمہیں اُس کی کسی بھی وقت ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘‘

’’نہیں، نہیں!‘‘ کارمیلا نے گھبرا کر کہا۔
’’مَیں ہمیشہ سے اپنے کمرے میں تنہا سونے کی عادی ہوں۔ کسی دوسرے کی موجودگی میں مجھے نیند نہیں آتی، تاہم تمہاری اِس مہربانی کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔
خادمہ سے کہو تکلیف نہ کرے۔ مجھے کسی کی ضرورت نہ پڑے گی۔ مَیں اندر سے ہمیشہ اپنا کمرہ مقفل کر کے سونے کی عادی ہوں۔
ایک بار ہمارے مکان میں ڈاکو گھس آئے تھے، تب سے ڈاکوؤں اور نقب زنوں کی ہیبت میرے دل پر بیٹھی ہوئی ہے۔ مجھے یقین ہے تم میری اِس حرکت کا بالکل برا نہ مانو گی۔
قفل کی کنجی مجھے نظر آ رہی ہے۔ اب تم جاؤ، آرام کرو، تمہاری آنکھوں میں نیند بھری ہوئی ہے۔ شب بخیر!‘‘

مَیں کمرے سے باہر نکل آئی۔ کارمیلا نے دروازہ بند کر لیا۔ پھر قفل میں کنجی گھومنے کی ہلکی سی آواز آئی۔
باہر سیڑھیوں کے قریب مادام پیری ڈون ایک کرسی پر بیٹھی اونگھ رہی تھی۔ مَیں نے اُس سے کہا:

’’اپنے کمرے میں چلی جاؤ، مہمان کو تمہاری ضرروت نہیں ہے۔‘‘

اگلے روز دوپہر کے بعد جب سورج مغرب کی طرف ڈھل رہا تھا، کارمیلا اپنے کمرے سے برآمد ہوئی۔ صبح ایک نوکر اُس کا ناشتا لے کر گیا، تو کمرے کا دروازہ مقفل نہ تھا۔
کارمیلا نے اُس کی آمد سے پہلے ہی دروازہ کھول رکھا تھا، لیکن وہ اَپنے بستر پر نہ تھی۔
شاید برابر والے کمرے میں ہو گی یا غسل خانے میں ….. نوکر ناشتا رکھ کر چلا آیا۔

دن کے اجالے میں کارمیلا کا حُسن اور نکھر آیا تھا۔ جو اُسے دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا۔ اُس کی شخصیت میں بڑی کشش اور بڑا وَقار تھا۔
چال شہزادیوں کی سی۔ ہمارے قلعے میں پالتو پرندوں کے علاوہ رُوسی نسل کے سفید کتوں کا ایک جوڑا بھی تھا۔ کارمیلا کو اُن کتوں نے دیکھا، تو وہیں ٹیاؤں ٹیاؤں کرتے پردے کے پیچھے جا چھپے۔ جب تک کارمیلا اُس کمرے میں بیٹھی رہی، وہ ایک کونے میں دبکے رہے۔

والد ایک زمانے میں جنوبی افریقا کی سیاحت کو گئے اور وَہاں سے طرح طرح کے طوطے خرید لائے۔ اُن میں میکاؤ نسل کے طوطوں کی ایک جوڑی بھی تھی۔
قد و قامت میں یہ طوطے چھوٹے موروں کے برابر تھے اور نہایت ذہین ۔
گھر کے تمام افراد کو بےتکلف اُن کے ناموں سے پکارتے اور گھنٹوں بولتے۔ مَیں نے کارمیلا سے کہا ’’آؤ تمہیں طوطے دکھاؤں۔‘‘

وہ مسکرائی اور میرے ساتھ چلتی ہوئی والد کے کمرے کی طرف گئی۔ وہ آگے آگے اِس بےتکلفی سے چلی جا رہی تھی جیسے اِس قلعے کے ایک ایک چپے سے آگاہ اَور برسوں سے یہاں رہ رَہی ہو۔
مَیں نے اُس وقت کارمیلا کی اُن پُراسرار خاصیتوں پر غور نہ کیا۔ اور اَب خیال آتا ہے اگر مَیں اُس وقت اُن باتوں پر غور کرتی، تو اُس لرزہ خیز بربادی اور تباہی سے ہمارا قلعہ محفوظ ہو جاتا جو کچھ عرصے بعد ہم پر نازل ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ مَیں اپنی ایک ہم عمر سہیلی پا کر سب کچھ فراموش کر چکی تھی۔
مَیں اوّل نظر ہی میں کارمیلا پر فریفتہ ہو گئی تھی اور کسی قیمت پر نہ چاہتی کہ وہ قلعے سے جائے۔

والد اپنے کمرے میں موجود تھے اور میز پر بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ طوطوں کی زور زور سے بولنے کی آوازیں ہمارے کانوں میں آ رہی تھیں۔
جونہی مَیں نے دروازے میں قدم رکھا۔ طوطوں نے ’’لارا آ گئی، پیاری بیٹی آ گئی‘‘ کے نعرے لگانے شروع کیے اور خوشی سے اپنے پنجرے میں رقص کرنے اور پھڑپھڑانے لگے، مگر دوسرے ہی لمحے اُن کی حالت میں عظیم تغیر رونما ہوا۔
وہ ایک دم ساکت و سامت ہو گئے۔ اُن کی کترنی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں بند ہو گئیں اور آنکھوں کی گردش کرتی ہوئی پتلیاں تھم گئیں۔
اُنھوں نے اپنے پھیلے ہوئے بڑے بڑے پَر سکیڑ لیے اور گردنیں جھکا کر ایک دوسرے کے پیچھے پناہ لینے کی کوشش کرنے لگے۔

طوطوں کے یک لخت خاموش ہوتے ہی والد نے گردن اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا، پھر اُن کی نظر ہم پر پڑی، وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور ہمیں اندر آنے کا اشارہ کیا۔

’’ابّا! مَیں اپنی سہیلی کی ملاقات طوطوں سے کرانے آئی ہوں، مگر شاید اِنھیں ہمارا آنا، ناگوار گزرا ہے۔ ذرا دیکھیے تو یہ ایک دم چپ ہو گئے اور اَب ہم سے نظریں چرائے ہوئے ہیں۔‘‘

والد نے پنجرے میں طوطوں کی حالت کا غور سے جائزہ لیا اور حیرت کے عجیب تاثرات اُن کے چہرے پر پھیل گئے۔ اُنھوں نے پنجرے کے قریب جا کر پیار بھرے انداز میں اُنھیں پکارا، مگر اُن کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔
وہ اِس طرح ڈرے اور سہمے ہوئے تھے جیسے اُنھوں نے بلی اپنے قریب دیکھ لی ہو۔ والد نے ہنس کر کہا:

’’تعجب ہے ابھی چند لمحے قبل یہ طوطے خوشی سے چلّا رہے تھے اور تم لوگوں کی آمد کے ساتھ ہی چپ ہو گئے۔ غالباً یہ ہماری معزز مہمان سے شرما رہے ہیں۔ شاید چند دنوں بعد مانوس ہو جائیں۔‘‘

کارمیلا نے زبان سے ایک لفظ بھی نہ کہا اور مسکراتی رہی، پھر اُس نے میرا ہاتھ پکڑا اَور وَالد کو سلام کر کے کمرے سے باہر آ گئی۔ اُس کا باہر آنا تھا کہ طوطوں کے بولنے اور باتیں کرنے کی آواز دوبارہ سنائی دینے لگی۔

’’تم نے تو ہمارے طوطوں کو ڈرا ہی دیا کارمیلا!‘‘ مَیں نے مذاق میں کہا۔ ’’اور یہی حال ہمارے کتوں کا ہوا۔ کہیں تم ہمیں ہی نہ ڈرانے لگنا۔‘‘

وہ قہقہہ مار کر ہنسی اور آہستہ سے کہا:

’’یہ سب تمہارا وَہم ہے۔ بھلا مَیں کتوں اور طوطوں کو کیوں ڈرانے لگی۔ کیا مَیں کوئی چڑیل ہوں یا بدروح؟‘‘

دن کا بڑا حصّہ ہم نے قلعے میں گھومتے پھرتے کاٹ دیا۔ اِس دوران میں دو مرتبہ مَیں نے پانی پیا اور کچھ پھل بھی کھائے، مگر اصرار کے باوجود کارمیلا نے کوئی چیز کھائی نہ اُسے پیاس ہی لگی۔
وہ کہتی تھی: اُس نے صبح اچھی طرح ناشتا کر لیا ہے اور چونکہ وہ بچپن ہی سے ایک مرتبہ ناشتا کرنے اور کھا پی لینے کی عادی ہے، لہٰذا دوپہر کے کھانے یا شام کے کھانے میں شمولیت پر اصرار نہ کیا جائے۔
اُس کی یہ بات سن کر مَیں کسی قدر حیران رہ گئی، مگر کارمیلا نے مجھے دوسری باتوں میں لگا لیا۔

’’یہ جنگل بہت خوبصورت ہے ۔ کیا خیال ہے کسی دن سیر کو چلیں؟‘‘

’’ضرور!‘‘ مَیں نے خوش دلی سے کہا۔ ’’مگر ابّا کو ہمارے ساتھ جانا پڑے گا۔ اُن کے پاس بندوق ہے۔ یہ جنگل جانوروں سے بھرا پڑا ہے۔
گیدڑ، بھیڑیے اور نہ جانے کون کون سے بلائیں، ہزاروں کی تعداد میں یہاں پھرتی ہیں۔
مَیں ہمیشہ والد کے ساتھ ہی جایا کرتی ہوں اور اِتنا عرصہ ہونے کو آیا، آج تک ایک دو میل سے زیادہ دُور نہیں گئی۔‘‘

’’اوہ لارا! تم کتنی اچھی ہو۔‘‘ کارمیلا نے کہا۔ ’’
مگر ایسی بھی کیا بزدلی کہ تم نے آج تک پورا جنگل ہی نہیں دیکھا۔ بندوق چلانا تو مَیں بھی جانتی ہوں۔ کیا تمہارے والد اپنی بندوق مجھے دے دیں گے؟
دیکھو نا، اگر وہ بھی ہمارے ساتھ گئے، تو ہم کھل کر باتیں نہ کر سکیں گی۔‘‘

’’ٹھیک ہے، یہ تو مَیں نے سوچا ہی نہ تھا۔ خیر! مَیں والد سے کہوں گی۔ وہ بندوق تمہارے حوالے کر دیں گے، پھر ہم جنگل میں چلیں گے ….. لیکن زیادہ دُور نہ جانا، واقعی اِس میں بھیڑیے بہت ہیں۔

کارمیلا نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ’’تم بھیڑیوں کی فکر نہ کرو، مَیں اُن سے نمٹنا اچھی طرح جانتی ہوں۔‘‘

سورج غروب ہونے سے چند منٹ پہلے وہ خاصی بےچین اور مضطرب نظر آئی۔
مَیں نے خیال کیا وہ اِتنی دیر گھومنے پھرنے سے تھک گئی ہے، چنانچہ اُسے اپنے کمرے میں جانے کی اجازت دے دی۔ کارمیلا نے جاتے ہوئے کہا:

’’لارا! دیکھو ایک ہدایت تمہیں کرتی ہوں اور تم گھر کے دوسرے افراد کو بھی سمجھا دینا کہ کوئی شخص رات کے وقت، اجازت کے بغیر میرے کمرے میں آنے کی زحمت نہ کرے۔
مَیں ابتدا ہی سے تنہائی پسند ہوں اور اَپنے آرام میں خلل اندازی پسند نہیں کرتی۔ صبح یا دوپہر کو مَیں خود آ جایا کروں گی۔
کوئی شخص مجھے جگانے یا بلانے کی کوشش بھی نہ کرے اور نوکر سے کہہ دو، وہ میرا ناشتا کمرے کے باہر ہی رکھ کر چلا جایا کرے۔ مَیں خود جب جاگوں گی، دروازہ کھول کر ناشتا اٹھا لیا کروں گی۔
ہے تو یہ بدتہذیبی کی بات، مگر مَیں کیا کروں۔ بچپن ہی سے میری یہ عادتیں پختہ ہو گئی ہیں۔
امید ہے تم اِن باتوں کا برا نہ مانو گی۔
یوں بھی مَیں تمہارے گھر میں ایک مہمان کی حیثیت سے آئی ہوں
۔ مہمان کی تکلیف اور خوشی کا خیال رکھنا معزز میزبانوں کا اخلاقی فرض ہے۔‘‘

اُس کا لب و لہجہ تحکمانہ تھا جیسے وہ اِس قلعے کی مالک ہو اَور سب اُس کے نوکر چاکر۔ ایک لمحے کے لیے اُس کی یہ باتیں میری طبع پر بےحد ناگوار گزریں، مگر مَیں نے اُنھیں نظرانداز کر دیا۔
اپنے کمرے میں آ کر بڑی دیر تک کارمیلا کی اِن باتوں پر غور کرتی رہی، لیکن کچھ سمجھ میں نہ آ سکا۔ آخر اِن کا مطلب کیا ہے؟
دن کی روشنی میں اُس کی شخصیت کے بارے میں کچھ اور باتوں کا مجھ پر انکشاف ہوا جس نے مجھے مزید سوچنے پر مجبور کر دیا۔

یہ تو مَیں پہلے ہی بتا چکی ہوں، کارمیلا کو قدرت نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا۔ اُس کے چہرے مہرے میں کہیں انگلی رکھنے کی گنجائش نہ تھی۔
اُس کا قد لمبا تھا نہ پست، بلکہ درمیانہ اور اُس کی چال میں شاہانہ انداز تھا، تاہم ایک دو مرتبہ مجھے یہ احساس ہوا، وہ لنگڑا کر چلتی ہے۔
ممکن ہے گاڑی سے گرنے میں اُس کی ٹانگ پر چوٹ آئی ہو اَور یہ بھی ممکن ہے میرا وَہم ہو۔ اُس کے بال نہایت نرم اور سنہری تھے جیسے ریشم کے لچھے۔
حیرت انگیز حد تک طویل اور گھنے۔ مگر سوال یہ تھا کہ ابھی اتنی چھوٹی عمر میں اُس کے بال اتنے طویل کیونکر ہو گئے؟
میرا خیال ہے سر سے پاؤں تک بال ایک دو برس میں نہیں بڑھتے، اِس کے لیے ایک طویل عرصہ چاہیے۔

اُس کے دونوں ہاتھ برف کی مانند سفید اور اُنگلیاں پتلی پتلی اور غیرمعمولی طورپر لمبی تھیں، لیکن مجھے جس مشاہدے نے خوف زدہ کیا، وہ یہ تھا کہ اُس کی دونوں ہتھیلیوں پر بھی بالوں کی طرح نرم نرم رواں موجود تھا۔
اُس کے ناخن ترشے ہوئے نوکیلے اور خاصے لمبے تھے۔ جب مَیں نے اُس سے پوچھا ہتھیلیوں پر بال کیسے اُگ آئے، تو اُس نے ہنس کر کہا:

’’یہ ہمارا خاندانی ورثہ ہے۔ میری والدہ کی ہتھیلیوں پر بھی ایسے ہی بال ہیں۔‘‘

ایک اور غیرمعمولی بات مَیں نے محسوس کی کہ کارمیلا کے سانس میں عجیب سی خوشبو آیا کرتی ہے۔
کچے گوشت یا خون کی ہلکی سی بُو۔
مَیں نے بارہا اُسے کریدنے کی کوشش کی کہ وہ اَپنے خاندان کے حالات بتائے، مگر ہر بار اُس نے ہنس کر ٹال دیا اور کہا:

’’مَیں اپنی ماں کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں بتا سکتی۔
صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ ہمارا خاندان کسی زمانے میں بہت قدیم اور عظیم تھا اور ہمارا گھر یہاں سے مغرب کی جانب بہت دور ہے۔‘‘

کبھی کبھی وہ پیار سے اپنی باہیں میرے گلے میں ڈال کر مجھے اپنے ساتھ لپٹا لیتی اور میری گردن اور رُخساروں پر بوسے دیتی۔
اُس وقت مجھ پر خوف کی سی کیفیت چھا جاتی اور یوں لگتا جیسے کوئی جانور اَپنی زبان سے مجھے چاٹ رہا ہو، مگر فوراً ہی یہ کیفیت ختم ہو جاتی اور مَیں سُروں میں آ کر آنکھیں بند کر لیتی۔
کارمیلا نے اِسی طرح ایک دن مجھے لپٹا لیا اور میرے کان میں چپکے سے کہا:

’’لارا! تم میری ہو ….. ہمیشہ کے لیے ….. تمہارا خون میرا خون ہے ….. اور میرا خون تمہارا۔‘‘

اُس وقت مَیں سمجھی وہ محبت سے مجبور ہو کر ایسا کہہ رہی ہے۔ آج اتنے برس بعد یہ تمام واقعات لکھتے ہوئے میرا ہاتھ کانپ رہا ہے۔
خدا کی پناہ! کاش مَیں اِس جملے کا مطلب بھی سمجھ جاتی۔

وہ روزانہ سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے اپنے کمرے میں چلی جاتی۔ اُس وقت دنیا کی کوئی طاقت کارمیلا کو اَپنے کمرے میں جانے سے باز نہ رکھ سکتی تھی۔
کئی مرتبہ ہم باتوں میں اِس قدر محو ہو جاتے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہتا، لیکن جونہی سورج مغرب میں اپنا چہرہ چھپا لیتا، وہ ایک دم اچھل کر کھڑی ہو جاتی۔

’’پیاری لارا! اب مَیں جاتی ہوں۔ کل دوپہر کو ملاقات ہو گی۔‘‘

یہ کہہ کر دوڑتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی جاتی۔ اُسے ہمارے گھر میں داخل ہوئے کئی دن ہو گئے، لیکن اُس کا لباس وہی تھا جو اُس نے اوّل دن سے پہن رکھا تھا۔
مَیں نے ایک دو مرتبہ اُسے اپنے نئے اور نفیس کپڑے دینے کی کوشش کی، مگر اُس نے نفی میں گردن ہلائی اور اِس انداز سے میری جانب دیکھا کہ مجھے دوبارہ اِس پیش کش کی جرأت نہ ہوئی۔

وہ ٹھیک ایک بجے دوپہر اپنے کمرے سے برآمد ہوتی اور سیدھی میرے پاس آتی۔
کتے اگر میرے قریب بیٹھے ہوتے، تو اُسے دیکھتے ہی بھاگ جاتے۔ ایک دفعہ اُس نے ایک کتا پکڑ لیا، تو بےچارے جانور پر اتنی دہشت طاری ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔
بالکل جیسے مر گیا ہو، لیکن جونہی اُسے چھوڑا، وہ دُم دبا کر بھاگا اور بہت دیر تک دکھائی نہ دیا۔

کارمیلا کو روشنی سے جیسے نفرت تھی۔ دن کے وقت بھی باغ کے اُس حصّے میں جاتی جو حد درجہ گنجان اور گھنا تھا۔
جہاں اونچے اونچے درختوں کی شاخیں آپس میں اِس طرح ملی ہوتیں کہ سورج کی روشنی مشکل سے زمین تک پہنچ پاتی۔ لکڑی کے ایک سال خوردہ بینچ پر ہم دونوں بیٹھ جاتیں اور باتیں شروع کر دیتیں۔

ایک دوپہر کا ذکر ہے، ہم دونوں باغ کے اُسی تاریک حصّے میں بینچ پر بیٹھی باتیں کر رہی تھیں کہ جنازے کا ایک جلوس آتا دکھائی دیا۔
ایک دن پہلے ہی جنگل کے چوکیدار کی لڑکی مر گئی تھی اور اَب وہ اُسے دفنانے جا رہے تھے۔ جنازے کے جلوس میں دس بارہ سے زیادہ آدمی نہ تھے اور سب کے سب ادنیٰ درجے کے۔
غم و اَندوہ سے اُن کے سر جھکے ہوئے، مدھم آوازوں میں دعائیہ کلمات پڑھتے ہوئے آ رہے تھے۔

جب وہ ہمارے قریب آئے، تو جنازے کے احترام میں مَیں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اُن کی آواز میں آواز ملا کر دعا کرنے لگی۔ کارمیلا ویسے ہی بیٹھی رہی۔ یک لخت اُس نے کرخت لہجے میں کہا:

’’لارا! چپ ہو جاؤ ….. مَیں کہتی ہوں چپ ہو جاؤ۔‘‘

مَیں نے حیرت سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا ’’کیوں؟ ہمیں جنازے کا احترام اور مرنے والے کے حق میں دعا کرنی چاہیے۔‘‘

’’نہیں، نہیں، نہیں …..‘‘ اُس نے چلّاتے ہوئے جواب دیا اور اُس کی حالت میں دفعتاً ایسا تغیر برپا ہوا کہ میرا دِل کانپ اٹھا۔
وہ بپھری ہوئی شیرنی کی طرح میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اُس کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں، منہ کھلا ہوا اَور سرخ سرخ ہونٹوں میں لمبے سے نوکیلے سفید دانت جھانک رہے تھے۔
ایک لمحے کے لیے مجھے یوں لگا جیسے کسی درندے کا جبڑا کھل گیا ہو۔
شدتِ غیظ سے اُس کا چہرہ بھی لال انگارہ ہو رہا تھا۔ چند ثانیے تک اُس کی یہی حالت رہی۔ پھر یک لخت پُرسکون ہو گئی۔

’’معاف کرنا لارا! مَیں کچھ زیادہ ہی ناراض ہو گئی۔‘‘ اُس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’تم خفا تو نہیں ہوئیں؟‘‘

’’نہیں ….. مَیں خفا تو نہیں ہوئی، مگر مجھے حیرت ہے دعائیں پڑھنے سے تمہیں چِڑ کیوں ہے؟‘‘

’’ہمارے خاندان میں ایسا رواج نہیں۔‘‘ کارمیلا نے سنجیدگی سے کہا۔
’’اِن دعاؤں سے بھلا کیا فائدہ؟ ہر شخص کو جلد یا بدیر مرنا ہے۔ مجھے بھی، تمہیں بھی، سب کو ….. آؤ اب گھر چلیں۔‘‘

’’والد گھر پر نہ ہوں گے۔‘‘ مَیں نے کہا۔
’’وہ قبرستان میں جنازے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ چوکیدار کی لڑکی بہت اچھی تھی۔
نہایت تندرست اور خوش و خرم، مگر چند دن کے اندر اَندر سُوکھ کر کانٹا ہو گئی اور پھر موت کے خونیں پنجے نے اُس کا گلا دبا دیا۔‘‘

’’لارا! اب یہ موضوع بند کرو۔‘‘ کارمیلا نے غصّے سے کہا۔
’’سبھی کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔ مجھے اِس ذکر سے وحشت ہوتی ہے۔‘‘

’’مگر سنو تو کارمیلا!‘‘ مَیں نے اُس کا غصّہ نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔
’’مرنے سے پہلے لڑکی بار بار یہی کہتی کہ اُس نے جنگل میں ایک چڑیل کو گھومتے دیکھا ہے اور وُہ چڑیل اُسے ہر رات تنگ کرتی رہی ہے۔‘‘

کارمیلا نے قہقہہ لگایا ’’کیسے بےوقوف ہیں یہ لوگ! چڑیلیں بھلا کسی کا کیا بگاڑ سکتی ہیں۔ مَیں تو تب جانوں جب کوئی چڑیل مجھے تنگ کرے۔‘‘

اِس طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہم دونوں قلعے میں واپس آ گئیں۔ شام قریب تھی۔
کارمیلا اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ مادام پیری ڈون اور مادام لافونٹن میرا اِنتظار کر رہی تھیں۔ خوف اور دَہشت سے اُن دونوں کے چہرے زرد تھے۔
اُنھوں نے مجھے ایک لرزہ خیز کہانی سنائی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ گرد و نواح میں گزشتہ کئی روز سے عجیب و غریب اور نہایت پُراسرار وَارداتیں ہو رہی ہیں۔
چوکیدار کی بیٹی کے علاوہ ایک کسان کی بیوی بھی اِسی بیماری سے مری ہے یعنی جسم سے خون کا غائب ہو جانا۔ جنگل میں اکثر جانوروں کو اِس عالم میں دیکھا گیا کہ اُن کی گردنیں روندی ہوئی تھیں۔
کئی گیدڑ اَور بھیڑیے اِس حالت میں پائے گئے۔ اُن کے علاوہ چرواہے کی دو بھیڑیں بھی یکے بعد دیگرے گم ہوئیں۔

چاندنی راتوں میں کئی لوگوں نے جنگل میں پہاڑی کے اوپر کسی کو چلتے پھرتے دیکھا ہے
۔ سب لوگ اِس خوف سے سہمے ہوئے ہیں کہ واقعی کوئی بلا نازل ہو گئی ہے۔

مادام پیری ڈون نے مجھے سمجھایا آئندہ تم جنگل کی طرف نہ جانا اور اَگر جاؤ بھی، تو صرف والد کے ساتھ۔
ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ والد آ گئے۔ اُن کے چہرے پر بھی غور و فکر کی گہری لکیریں نمایاں تھیں۔ آرام کرسی پر بیٹھ کر اُنھوں نے کہا:

’’چوکیدار کی لڑکی کی موت عجیب حالات میں واقع ہوئی۔ میرا خیال ہے وہ پاگل ہو گئی تھی۔ وہ رَاتوں کو سوتے سوتے چلّانے لگتی۔ مجھے چڑیل چمٹ گئی ہے اور خون چوس رہی ہے۔
جب اُس سے پوچھا جاتا چڑیل کیسی ہے، تو کہتی ایک بہت بڑی چمگادڑ جس کا چہرہ عورت کا ہے۔
لڑکی نہایت تندرست و توانا تھی اور سیب کی مانند اُس کا چہرہ سرخ تھا، لیکن چند دن کے اندر اَندر سوکھ کر کانٹا ہو گئی۔ حیرت انگیز طور پر خون اُس کے جسم سے غائب ہو رہا تھا۔
بظاہر اُسے کوئی بیماری نہ تھی اور نہ اُس کے جسم پر کوئی زخم دیکھا گیا اور عجیب بات یہ کہ مرنے کے بعد جب اُس کی لاش تابوت میں رکھی گئی، تو وہ پہلے کی طرح تندرست اور توانا دکھائی دینے لگی۔
اُس کا چہرہ وَیسا ہی سرخ اور سپید ہو گیا جیسا ہوا کرتا تھا اور اُسے تابوت میں پڑے دیکھ کر کوئی نہ کہہ سکتا یہ لڑکی مر چکی ہے۔
اُس کی آنکھوں میں گہری چمک اور ہونٹوں کا رنگ بھی سرخ تھا۔ لوگوں نے اُس کی لاش دیکھی، تو خوف زدہ ہو گئے۔
کہنے لگے یہ سب جادو ہے اور یقیناً اِس لڑکی کے جسم میں کوئی بدروح سما گئی ہے۔‘‘

والد یہ باتیں کر رہے تھے اور میرا خون خشک ہو رہا تھا۔ تمام ملازمین دائیں بائیں دم بخود کھڑے تھے اور اُن کے رنگ زرد تھے۔ چند لمحے چپ رہنے کے بعد والد پھر بولے:

’’بہرحال یہ سب اوہام ہیں۔ میرا خیال ہے وہ لڑکی کسی پُراسرار مرض میں گرفتار ہو کر مری ہے۔
کوئی اچھا تجربےکار معالج اُس کا سراغ لگا سکتا تھا اور بدقسمتی سے چوکیدار اِس قابل نہ تھا کہ بڑے معالج کو بلا کر اپنی بیٹی کا معائنہ کراتا۔
اِن چڑیلوں اور بدروحوں کے قصّوں کو مَیں پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا۔ اچھا، اب تم لوگ آرام کرو۔ رات سر پر آ چکی ہے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور اَپنے کمرے میں چلے گئے۔

اُس رات مادام پیری ڈون میرے کمرے ہی میں اپنا بستر لے آئی۔ وہ مسلسل زیرِ لب کچھ پڑھ رہی تھی اور اُس کا چہرہ غیرمعمولی طور پر سنجیدہ تھا۔
غالباً اُسے رات کو بھی نیند نہ آئی، کیونکہ کئی بار اُس کے اٹھنے اور کھڑکی سے باہر جھانکنے کی آہٹ پا کر میری آنکھ کھل گئی۔ ابھی سورج طلوع ہونے میں خاصی دیر تھی کہ مادام نے مجھے اٹھایا۔

’’لارا! جلدی سے اٹھو اور کھڑی سے باہر دیکھو۔‘‘

مادام نے دبے لفظوں میں کہا اور مَیں نے محسوس کیا دہشت سے اُس کی آواز کانپ رہی ہے۔ مَیں اٹھ کر کھڑکی کی طرف گئی۔ باہر سخت اندھیرا تھا، کچھ نظر نہ آیا۔

’’مجھے تو کچھ نظر نہیں آتا۔‘‘ مَیں نے کہا۔ ’’آخر تم نے کیا دیکھا؟‘‘

’’باغ میں دیکھو ….. باغ میں …..‘‘ مادام نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ ’’کوئی سفید سفید سی شے تمہیں دکھائی دے گی۔‘‘

اب مَیں نے غور سے باغ کی جانب دیکھا۔ درختوں کے جھنڈ کے اندر وَاقعی کوئی سفید سفید چیز حرکت کر رہی تھی۔ یقیناً یہ جانور نہیں ہو سکتا۔ کوئی انسان تھا، مگر اِس وقت قلعے کے باغ میں کون ہو سکتا تھا؟
ہم دونوں سانس روکے اور پلک جھپکائے بغیر باغ کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
وہ پُراسرار شے جس نے سر سے پیر تک سفید لبادہ اوڑھ رکھا تھا، کئی مرتبہ ہمیں نظر آئی اور پھر غائب ہو گئی۔
خوف سے ہمارا برا حال ہو گیا۔ مادام پیری ڈون نے کپکپاتی آواز میں دعائیہ کلمات پڑھنے شروع کر دیے اور جلدی سے کھڑکی بند کر دی۔ رات کا باقی حصّہ ہم نے جاگ کر گزارا۔

اگلے روز والد کو ہم نے یہ قصّہ سنایا۔ وہ ملازموں کو لے کر باغ میں گئے۔
ایک ایک گوشہ دیکھا بھالا، مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ اُنھوں نے اُسے ہمارا وَہم اور فریبِ نظر قرار دِیا۔

ایک بجے کارمیلا اپنے کمرے سے نکل کر میرے پاس آئی۔ میرے چہرے کی اڑی ہوئی رنگت سے اُس نے اندازہ کیا کوئی غیرمعمولی بات ہے۔
حال پوچھا، تو مَیں نے طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر دیا۔ کہنے لگی
’’آؤ جنگل کی طرف چلتے ہیں، وہیں بیٹھیں گے۔ شاید تمہاری طبیعت بحال ہو جائے۔‘‘

کارمیلا نے اِس پیار سے یہ بات کہی کہ مَیں بےاختیار اُس کے ساتھ ہو لی۔
اُسی سال خوردہ بینچ پر بیٹھ کر اُس نے کہا ’’ہاں! اب بتاؤ تم اتنی پریشان اور اُداس کیوں ہو؟‘‘

مَیں نے اُسے گزشتہ رات کا قصّہ سنایا۔ وہ چپ چاپ سنتی اور مسکراتی رہی۔ پھر مَیں نے والد کی زبانی سنایا ہوا وُہ وَاقعہ بیان کیا جب چوکیدار کی بیٹی تابوت میں رکھی گئی اور دیکھنے والوں کو یوں لگا جیسے وہ مری نہیں، زندہ ہے۔
مرنے سے چند روز پہلے وہ سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی اور خون کا ایک قطرہ بھی اُس کے جسم میں نہ تھا، لیکن مرنے کے بعد …..‘‘

یک لحظ رک کر مَیں نے جونہی کارمیلا کی طرف دیکھا۔
اُس کے جسم پر لرزہ طاری تھا اور چہرہ تپتے ہوئے تانبے کی مانند سرخ۔ وہ بار بار دَانت پیس رہی تھی اور مَیں نے دیکھا اُس کے نوکیلے ناخن لکڑی کے بینچ میں گڑے ہوئے تھے۔

’’کارمیلا! کیا بات ہے۔ تمہیں سردی تو نہیں لگ رہی؟‘‘

’’نہیں! مجھے سردی نہیں لگا کرتی۔‘‘ اُس نے سنجیدگی سے کہا۔
’’مَیں صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آئندہ تم چوکیدار کی بیٹی کا قصّہ میرے سامنے نہ کہو گی، مَیں اِسے سنتے سنتے عاجز آ چکی ہوں۔‘‘

مَیں خاموش ہو گئی۔ دیر تک ہم دونوں چپ چاپ رہیں۔ مغرب کی جانب سے یکایک سیاہ گھٹا تیزی سے امڈی۔ ہوا کے جھونکے جنگل میں سیٹیاں بجاتے گزر رَہے تھے۔
ہلتی شاخوں اور گرتے پتوں کا شور بےپناہ تھا۔ عین اُسی لمحے مَیں نے دیکھا پُل کی جانب سے ایک آدمی ہماری طرف آ رہا ہے۔ سر سے پاؤں تک اُس کا لباس سیاہ تھا اور زرد رنگ کے چہرے پر لمبی کالی ڈاڑھی۔
اُس کے رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں۔ بےحد دبلا پتلا، اُس کے بائیں ہاتھ میں لالٹین تھی
۔ کمر پر لکڑی کا ایک صندوقچہ دھرا ہوا تھا جس کی پیٹی اُس شخص کے گلے میں پڑی تھی۔ مَیں نے اُسے فوراً پہچان لیا۔

یہ ایک شعبدےباز تھا جو اَپنے آپ کو جادوگر کہا کرتا اور کبھی کبھی ہمارے قلعے میں آن کر عجیب عجیب شعبدے دکھاتا، والد خوش ہو کر اُسے انعام دیتے۔ سال بھر میں ایک دو مرتبہ ہی اِس کا پھیرا لگتا۔
اُس کا پالتو کتا پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ دفعتاً کتا پُل عبور کرتے ہی رک گیا۔ ایسا معلوم ہوا، کسی اَن دیکھی قوت نے اُسے وہیں جکڑ دیا ہو۔
اُس کی دم ٹانگوں میں دبی ہوئی تھی۔ پھر اُس نے منہ اوپر اٹھا کر بھیانک آواز میں رونا اور بھونکنا شروع کر دیا۔

شعبدےباز نے مڑ کر اُس کی طرف دیکھاور اُسے آنے کے لیے آواز دی، مگر وہ ٹس سے مَس نہ ہوا۔ تب وہ خود پُل کے پاس گیا اور کتے کا پٹا پکڑ کر اُسے گھسیٹنے لگا، لیکن اُس نے اپنے پنجے زمین میں گاڑ دیے۔
اب شعبدےباز اُسے گالیاں دے رہا تھا۔ اُس نے دو تین لاتیں بھی رسید کیں، مگر بےسود۔ وہ اَپنی جگہ سے ہلنے کا نام نہ لیتا تھا۔
تنگ آ کر شعبدےباز نے اُسے وہیں چھوڑا اَور سیدھا ہماری طرف آیا۔ اُس نے جھک کر باری باری ہم دونوں کو سلام کیا۔ پھر ہمارے سامنے ہی زمین پر بیٹھ گیا۔

’’مَیں آپ کے لیے ایک تحفہ لایا ہوں معزز خواتین!‘‘
اُس نے ہنس کر کہا۔ پھر گردن موڑ کر کتے کو موٹی سی گالی دی جو اَبھی تک منہ اٹھائے بری طرح رو رَہا تھا۔ ’’معافی چاہتا ہوں۔ آج اِس نامراد کو نہ جانے کیا دورہ پڑ رہا ہے رونے کا۔‘‘
یہ کہہ کر اُس نے اپنا ڈبہ کھولا اور جنگلی لہسن کے پھولوں کا ایک مرجھایا ہوا ہار نکال کر میری طرف بڑھایا۔

’’یہ آپ کے لیے ہے خاتون! اِسے اپنے پاس رکھیے یا گلے میں ڈالیے، یہ آپ کو بدروحوں سے محفوظ رکھے گا۔‘‘ مَیں نے جلدی سے ہار لے لیا۔
اب اُس نے دوسرا ہار نکال کر کارمیلا کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ کارمیلا نے وہ ہار اُس سے چھین لیا۔
توڑ مروڑ کر ایک طرف پھینک دیا۔ اُس کے لبوں پر عجیب سی مسکراہٹ تھی اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔

’’آہ! معزز خاتون کو میرا تحفہ پسند نہیں آیا۔‘‘
شعبدےباز نے کہا۔ ’’مگر مَیں دیکھتا ہوں معزز خاتون کے دانت بہت خوبصورت ہیں موتیوں کی طرح، تیز کانٹوں کی طرح لمبے اور نکیلے۔ ایسے حسین دانت کبھی کبھار ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔‘‘

کارمیلا نے دانت پیس کر ایک طمانچہ شعبدےباز کے منہ پر مارا اَور وُہ لڑھکنیاں کھاتا ہوا دُور جا گرا۔
مَیں حیران تھی اِس نازک لڑکی میں اتنی طاقت چھپی ہوئی ہے۔ اب وہ ایک خونخوار بلی کی مانند اُس پر نظریں جمائے ہوئے تھی جو خوف سے تھرتھر کانپ رہا تھا اور اُس میں اٹھنے کی سکت نہ تھی۔
دفعتاً وہ سجدے میں گر گیا اور اَپنے قصور کی معافی مانگنے لگا۔ کارمیلا نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا:

’’اِس نے میری سخت تذلیل کی ہے، اگر یہ ہمارے علاقے میں ہوتا، تو اب تک اِس کی لاش پھڑک رہی ہوتی۔ پھر بھی مَیں تمہارے والد سے اِس کی شکایت کروں گی اور اُن سے کہوں گی کہ ہنٹروں سے اِس کی خوب مرمت کریں۔‘‘

’’مگر پیاری کارمیلا! آخر اِس کا قصور کیا ہے جو تم اتنی خفا ہوئیں۔‘‘

’’یہ ادنیٰ درجے کا آدمی اور میرے دانتوں کی تعریف کرے۔‘‘ کارمیلا نے فخر سے گردن اٹھا کر جواب دیا۔
’’اب اِسے حکم دو یہاں سے دفان ہو جائے۔
ہاں تم بھی اِس کا یہ منحوس ہار پھینک دو۔‘‘ اُس نے میرے ہاتھ سے ہار لینا چاہا، لیکن مَیں نے بھی غیرشعوری طور پر ہاتھ پیچھے کر لیا اور ہار اُسے نہ دیا۔

’’اب غصّہ تھوک دو کارمیلا! دیکھو وہ بدنصیب اپنی گستاخی کی معافی مانگ رہا ہے۔‘‘

مَیں نے وہ ہار تفریحاً اپنے گلے میں ڈال لیا۔ کارمیلا نے دوبارہ کچھ نہ کہا اور شعبدےباز پر نفرت و حقارت کی نگاہ ڈالتی ہوئی قلعے کی طرف چل دی۔
مَیں وہیں بیٹھی رہی۔ کارمیلا نے ایک بار بھی مڑ کر میری طرف نہ دیکھا۔
مجھے اُس کے رویّے پر رنج ہوا۔ تھوڑی دیر بعد شعبدےباز نے گردن اٹھائی، ایک سرد آہ بھری اور میرے قریب آن کھڑا ہوا۔
مَیں نے دیکھا اُس کے کتے نے بھی رونا اور بھونکنا بند کر دیا اور دوڑتا ہوا آیا اور اَپنے مالک کے پاس کھڑا ہو کر دم ہلانے لگا۔

’’مجھے افسوس ہے مَیں نے معزز خاتون کو صدمہ پہنچایا۔‘‘
اُس نے معذرت آمیز لہجے میں کہا۔ ’’مگر کیا مَیں پوچھ سکتا ہوں یہ خاتون کون تھیںاور قلعے میں کب سے ہیں؟‘‘

’’تمہیں یہ سوال کرنے کا حق کیونکر ہے؟‘‘ اِس مرتبہ مجھے طیش آ گیا۔
’’وہ ہمارے یہاں مہمان ہے اور بڑے معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ تم کیوں پوچھتے ہو؟‘‘

’’مَیں پھر معافی چاہتا ہوں۔‘‘ اُس نے عاجزی سے کہا۔ ’’مجھے شک سا ہوا تھا …..‘‘

’’شک! کیسا شک؟‘‘ مَیں نے مزید ناراض ہو کر کہا۔

’’چلیے، جانے دیجیے۔‘‘ اُس نے سلام کرتے ہوئے کہا اور کتے کو لے کر قلعے کی طرف چل پڑا۔ اُس کا خیال ہو گا والد سے کچھ رقم اینٹھے۔ تھوڑی دیر بعد مَیں بھی اٹھی اور قلعے کی طرف چلی گئی۔
شعبدےباز دروازے کے باہر ہی بیٹھا تھا۔ مَیں اُس پر سرسری نگاہ ڈالتی ہوئی اندر چلی گئی۔

معلوم ہوا وَالد کہیں گئے ہوئے ہیں۔ اُن کے مزارعوں میں سے ایک چند منٹ پہلے آیا تھا۔ اُس نے کوئی پیغام دیا اور وہ فوراً چلے گئے۔
جاتے ہوئے کہہ گئے تھے کہ رات کے کھانے پر اُن کا انتظار نہ کیا جائے۔ کارمیلا اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔
مادام لوفنٹن نے بتایا وہ سر میں درد کی شکایت کر رہی تھی۔
سختی سے کہہ گئی ہے کسی فرد کو اُس کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں۔

والد رات کے کھانے سے قبل ہی آ گئے اور آتے ہی اُنھوں نے ایک ملازم کو باہر بیٹھے ہوئے شعبدہ باز کو کچھ نقدی اور کھانے پینے کی چیزیں دے کر رخصت کرنے کا حکم دیا۔
رات ہو گئی تھی۔ اُنھوں نے شعبدہ باز سے بہت کہا قلعے میں آ جاؤ اور صبح چلے جانا، مگر وہ اَندر آنے کے لیے تیار نہ تھا۔
اُس نے والد کو بھی جنگلی لہسن کے پھولوں کا ایک ہار تحفے میں دیا جسے اُنھوں نے کھانے کی میز پر ایک طرف رکھ دیا۔

مَیں نے دیکھا والد سخت مضطرب اور گھبرائے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے کھانے میں بھی دلچسپی نہ لی، چند لقمے بمشکل لیے اور اُٹھ کھڑے ہوئے۔
تھوڑی دیر بعد مَیں اُن کے کمرے میں گئی، تو وہ کچھ لکھ رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر لکھنا بند کر دیا اور بڑی شفقت سے اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔

’’ابّا! آپ خاصے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ کیا کوئی ایسی بات ہے جو مجھے نہیں بتائی جا سکتی؟‘‘

اُنھوں نے چند لمحے غور سے میری طرف دیکھا، پھر پھیکا سا تبسم ہونٹوں پر لا کر بولے:

’’نہیں بیٹی! بھلا ایسی بات کون سی ہو گی جو مَیں تم سے چھپاؤں۔ صرف اِس لیے ذکر نہیں کرتا تمہیں خواہ مخواہ پریشانی ہو گی۔ ناسمجھ ہو، اِس لیے …..‘‘

مَیں نے اُن کے گلے میں باہیں ڈال دیں اور کہا:

’’کیا آپ سمجھتے ہیں آپ کو پریشان دیکھ کر بھی مَیں افسردہ نہ ہوں گی؟‘‘

’’یہ بات تو ٹھیک ہے ….. مگر مَیں خود حیران ہوں کن الفاظ میں تم سے اُس حادثے کا ذکر کروں جو سہ پہر کو نہ صرف میرے کانوں تک پہنچایا گیا، بلکہ مَیں نے خود اَپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔‘‘

معاً میرا دِل زور سے دھڑکنے لگا۔ خدا خیر کرے! والد تو فولادی اعصاب کے مالک ہیں، اگر یہ کسی حادثے سے پریشان اور مضطرب ہو سکتے ہیں، تو اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
اُس کی نوعیت کیسی بھیانک ہو گی۔ اُنھوں نے خود ہی کہنا شروع کیا:

’’پیاری بیٹی! تم جانتی ہو ہر ہر مرحلے پر خدا کی مشیّت ہی کام کرتی ہے۔ سہ پہر کو مزارعوں میں سے ایک شخص آیا تھا اور اُس نے مجھے بتایا، میری نوجوان بہن عالمِ نزع میں ہے۔
چند روز قبل اُس نے غیرمعمولی تھکن اور کمزوری کی شکایت کی۔ اِس سے پہلے اُسے ہلکا سا سر درد اَور بخار بھی کبھی نہ ہوا تھا۔
ایکاایکی اُس کا صحت مند جسم گھلنے لگا اور چہرے پر پژمردگی چھا گئی۔ لڑکی کا بیان تھا رات کی تاریکی میں کوئی ذی روح اُس کے سینے پر سوار ہو جاتا ہے
۔ پھر اُسے کچھ ہوش نہیں رہتا۔ بیدار ہونے کے بعد حالت ایسی ہوتی ہے جیسے برسوں کی مریض ہو۔ ہلنے جلنے کی سکت بھی نہیں رہتی۔
کسانوں نے ٹونے ٹوٹکے سے اُس کا علاج کیا، مگر بےسود اَور آج شام سورج غروب ہونے سے چند لمحے پیشتر اُس کا انتقال ہو گیا۔‘‘

والد نے گہری آہ بھری اور پھر سلسلۂ گفتگو شروع کیا۔
’’حیرت کن بات یہ ہے جونہی لڑکی نے جان دی اور اُس کی نبض ساکت ہوئی، اُس کے جسم کی گم شدہ توانائی لَوٹ آئی۔ اُس کا چہرہ حسبِ معمول سرخ و سفید ہو گیا۔
اُس کی آنکھوں کی چمک دمک میں بھی پہلے سے اضافہ ہو گیا تھا۔ کسان تو یونہی توہم پرست ہوتے ہیں، اُنھوں نے لاش کے قریب جانے سے انکار کر دیا تھا۔
مَیں نے اُنھیں مجبور کیا، تو اِس حد تک تیار ہوئے کہ تابوت اٹھا کر قبرستان تک لے جائیں گے اور گورکن کی نگرانی میں چھوڑ دیں گے۔ دفن کا مرحلہ اب کل طے کیا جائے گا۔
اِس علاقے میں یہ دوسری پُراسرار اِنسانی موت ہے اور مَیں اِسی وجہ سے مضطرب ہوں۔ آخر معاملہ کیا ہے۔ آیا یہ کوئی مرض ہے یا واقعی …..‘‘

’’کوئی بدروح ہے۔‘‘ مَیں نے جملہ مکمل کر دیا۔ پھر وہ مسکرائے اور کہنے لگے:

’’مَیں نے ایک آدمی کے ہاتھ ڈاکٹر کو پیغام بھیج دیا ہے کہ صبح ہوتے ہی چل پڑے تاکہ دفن سے پہلے پہلے یہاں پہنچ جائے۔ مَیں چاہتا ہوں وہ بھی لاش کو ایک نظر دیکھ لے۔‘‘

’’کل مَیں بھی آپ کے ساتھ قبرستان چلوں گی اور لاش دیکھوں گی۔ آپ مجھے لے چلیں گے؟‘‘

’’ہاں! ضرور لے چلوں گا۔ مَیں نہیں چاہتا میری بیٹی کم ہمت اور بزدل بن جائے۔‘‘ اُنھوں نے کہا۔
’’اب جاؤ اور سو جاؤ۔‘‘

وہ رَات بھیانک خواب دیکھتے کٹی۔ لاشیں ہی لاشیں۔ چلتی پھرتی لاشیں جن پر بڑی بڑی چمگادڑیں جھپٹ رہی تھیں۔ چمگادڑیں جن کے چہرے انسانوں کے سے تھے اور اُن کے جبڑوں سے خون ٹپک رہا تھا۔

صبح اٹھی، تو طبیعت سخت مضمحل تھی۔ جسم کا جوڑ جوڑ دُکھ رہا تھا جیسے کسی نے میری خوب پٹائی کی ہو، تاہم ناشتے کے لیے آنا ہی پڑا۔
عین اُسی لمحے بوڑھا ڈاکٹر ہاتھ میں تھیلا سنبھالے کمرے میں داخل ہوا۔ والد نے اُسے خوش آمدید کہا اور اُسے بھی ناشتے میں شریک کر لیا۔ اِس دوران کوئی گفتگو نہ ہوئی۔
فارغ ہو کر ہم سب گھوڑا گاڑی میں سوار ہوئے اور قبرستان کی طرف چلے جو قلعے سے جنوب کی طرف کوئی پانچ میل دور ڈھلوانی راہ پر تھا۔
راستے میں والد اور ڈاکٹر دبی زبان میں کچھ ایسی باتیں کرتے رہے کہ کوشش کے باوجود ایک لفظ بھی میری سمجھ میں نہ آیا۔

قبرستان میں گورکن اور کسانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے سوا کوئی نہ تھا۔ وہ سب والد کا انتظار کر رہے تھے۔ گورکن کی کوٹھڑی میں تابوت رکھا تھا۔
ہم تینوں افراد کوٹھڑی میں داخل ہوئے۔ والد اور ڈاکٹر نے مل کر تابوت کا ڈھکنا اٹھا کر نیچے رکھا۔ ہم دم بخود رَہ گئے۔ مَیں نے بھی دھڑکتے دل سے تابوت میں جھانکا اور بمشکل اپنی چیخ روک سکی۔

تابوت کے اندر جو کچھ تھا، مَیں قسم کھا کر کہہ سکتی ہوں، وہ لاش ہر گز نہ تھی۔ اُس کی آنکھیں کھلی ہوئی اور اُن میں اتنی چمک تھی کہ نگاہ ملانا دشوار ہو گیا۔
اُس کے دونوں ہاتھ سفید کفن سے باہر نکلے ہوئے اور ہونٹ کبوتر کی طرح سرخ اور تر۔
ڈاکٹر نے جھک کر لاش کے دل پر ہاتھ رکھا، پھر جسم کے مختلف حصّے ٹٹولے اور مایوس ہو کر گردن نفی میں ہلائی۔

’’اِس میں زندگی کی رمق موجود نہیں، مگر ظاہری حالت ایسی ہے کہ اِسے مرا ہوا نہیں کہا جا سکتا۔ دل کی حرکت بالکل بند ہے۔ بہرحال اِسے دفن کر دینا چاہیے۔‘‘

تدفین کے مراحل جلد ہی طے ہو گئے اور ہم سب قبرستان سے نکل کر گاڑی میں سوار ہوئے۔
قلعے میں آئے، تو دوپہر ہو چکی تھی، لیکن سیاہ بادلوں کے باعث سورج کا چہرہ نظر نہ آیا۔
ایسا لگتا کسی بھی لمحے موسلادھار بارش شروع ہو جائے گی۔ فضا میں سردی دم بہ دم بڑھتی جا رہی تھی۔

والد ڈاکٹر کو لے کر سیدھے اپنے کمرے میں چلے گئے اور دیر تک نہ جانے اُن میں کیا گفتگو ہوئی۔ آخر کمرے کا دروازہ کھلا اور دونوں آدمی برآمد ہوئے، لیکن اِس حال میں کہ دونوں بےحد سنجیدہ تھے۔
مجھے دکھانے کو والد نے ڈاکٹر کی کسی سرگوشی پر ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہوئے کہا:
’’مَیں تو خواہ مخواہ ڈر گیا۔ اچھا یہ بات تھی؟‘‘

ڈاکٹر کی روانگی کے بعد والد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اَبھی بات شروع ہی نہ کی تھی کہ ملازم نے آن کر خبر دی، شہر سے تصویریں آ گئی ہیں۔ آدمی بھی ساتھ آیا ہے تاکہ اُنھیں دوبارہ اُن کی جگہ پر لگا دے۔ والد اٹھ کھڑے ہوئے اور صحن کی طرف چلے۔ مَیں بھی اُن کے ساتھ گئی۔

قصّہ یہ تھا کہ ہمارے قلعے میں بےشمار قدیم اور قیمتی تصویریں سجی ہوئی تھیں جو امتدادِ زمانہ کے باعث خاصی دھندلی ہو رہی تھیں۔ غالباً عرصے سے اُن کی صفائی نہ ہوئی۔
فریم نیم بوسیدہ ہو گئے۔ والد نے یہ سب تصویریں اتروا کر شہر گراز کے ایک مصوّر کو بھجوا دِی تھیں کہ وہ اِنھیں تروتازہ کر دے اور جن کے فریم خراب ہو گئے ہیں، اُن کے فریم بھی نئے بنوا دَے۔
لکڑی کے دو بڑے بڑے صندوقوں میں یہ تصویریں بھر کر آئی تھیں اور ملازم اُنھیں صندوقوں سے نکال نکال کر احتیاط سے رکھ رہے تھے۔
جو آدمی اُنھیں خچر گاڑی پر لاد کر لایا تھا، وہ روٹی کھا رہا تھا۔ اتنے میں وہ بھی منہ پونچھتا ہوا آ گیا اور وَالد کو سلام کیا۔

والد نے اُن تصویروں کی فہرست اپنے کمرے میں منگوائی اور پڑتال شروع کی۔ مَیں ایک طرف کرسی پر بیٹھ گئی۔ چند لمحے بعد کارمیلا بھی مسکراتی ہوئی آئی اور میرے قریب پڑی ہوئی دوسری کرسی پر آ بیٹھی۔
مَیں نے دیکھا اُس کا چہرہ پہلے سے کہیں زیادہ تروتازہ اور اُس کے گلابی رخسار بےحد شاداب تھے۔ لبوں کی سرخی میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ اُس نے محبت سے میرا ہاتھ دبایا اور کہا:

’’اخاہ، اتنی تصویریں ….. یہ کہاں سے آئیں؟‘‘

مَیں نے مختصر الفاظ میں اُسے اُن تصویروں کے بارے میں بتایا۔ والد نے مسکرا کر کارمیلا کی طرف دیکھا۔
مزاج پرسی کی اور پھر پڑتال میں لگ گئے۔
وہ جس تصویر کا نام لیتے یا نمبر شمار بتاتے، وہی تصویر فوراً اُنھیں دکھا دی جاتی۔
اُن میں سے اکثر دو سو اور تین سو سال پرانی تھیں۔ بعض چار چار فٹ لمبی اور اتنی ہی چوڑی تھیں۔
اُن میں سے بعض میری والدہ کے خاندانی افراد کی بھی تھیں۔

یکایک والد نے کہا ’’ایک تصویر غائب ہے جو مرسیا کرسٹین نامی ایک خاتون کی ہے اور تقریباً دو سو برس پرانی۔ وہ بہت میلی ہو گئی تھی۔
شاید مصوّر نے اپنے پاس ہی رکھ لی ہو، کیونکہ اُسے صاف کرنے میں اُس کا خاصا وقت صَرف ہو گا۔‘‘

تصویریں لانے والے آدمی نے باری باری دونوں صندوقوں میں جھانکا۔ پھر ایک صندوق سے تصویر نکالتے ہوئے بولا:

’’جی نہیں! وہ تصویر بھی حاضر ہے۔ صندوق میں رہ گئی تھی۔ مصوّر نے اِسے صاف کرنے میں بڑی محنت کی ہے۔‘‘

یہ کہہ کر اُس نے تصویر والد کی طرف بڑھائی۔ اب مجھے یاد آیا، مَیں نے یہ تصویر دیکھی ہے۔ یہ ڈیڑھ فٹ لمبی اور ڈیڑھ فٹ چوری تھی۔
قلعے کے ہال کمرے کے صدر دَروازے کے عین اوپر لگی ہوئی تھی اور مرسیا کرسٹین ۱۶۹۸ء صاف پڑھا جاتا تھا۔

والد نے تصویر کو ایک نظر دیکھا اور اُن پر جیسے سکتے کا عالم طاری ہو گیا۔
پتھر کے بت بنے، پلک جھپکائے بغیر اُسے تکتے رہے۔
اِسی حالت میں بمشکل دو منٹ گزرے ہوں گے کہ اُنھوں نے قہقہہ لگا کر تصویر میرے سامنے رکھ دی۔

’’ارے! یہ تو کارمیلا کی تصویر ہے۔‘‘
مَیں نے چلّا کر کہا۔
’’بالکل کارمیلا کی تصویر، وہی ناک نقشہ، ویسی ہی آنکھیں، ویسے ہی بال، ویسی ہی ٹھوڑی اور یہ دیکھو، اِس کے گلے پر بھی کارمیلا کی طرح ننھا سا تِل ہے۔ کارمیلا یہ یقیناً تمہاری تصویر ہے۔‘‘

کارمیلا نے میری بات پر دھیان نہ دیا۔ بےحس و حرکت بیٹھی سامنے خلا میں گھورتی رہی۔ اُس کے ہونٹوں پر خوشی اور سرمستی کی پُراسرار مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔

والد بولے ’’حیرت انگیز! دونوں میں خاصی مشابہت ہے۔‘‘

’’ابّا! دیکھیے، تصویر کے کونے میں سنہری حروف میں لکھا ہوا نام بھی اب صاف پڑھا جاتا ہے۔
یہ مرسیا نہیں، کاؤنٹس مرکلا کرسٹین ہے۔ امّی بھی تو کرسٹین خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
اُن کے ناطے سے مَیں بھی گویا اِسی خاندان کا فرد ہوئی۔
یہ تصویر مجھے دے دیجیے، اِسے مَیں اپنے کمرے میں لٹکاؤں گی۔‘‘

کارمیلا نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے پہلو بدلا۔ اُس کے منہ سے ہلکی سی آہ نکلی اور وُہ بڑے دل گرفتہ لہجے میں بڑبڑائی:

’’اور مَیں بھی ….. میرا خیال ہے میری بھی اِس خاندان سے دور دَراز کی رشتےداری ہے۔ کیا اِس خاندان کا کوئی آدمی اِن دنوں بھی زندہ ہے؟‘‘

’’نہیں!‘‘ والد نے جواب دیا۔ ’’
عرصہ ہوا اِس خاندان کا نام و نشان مٹ گیا۔
خانہ جنگی اُنھیں لے ڈوبی۔ اب تو اُن کی عظمتِ رفتہ کی یادگار ایک قلعے کے کھنڈر ہیں جو یہاں سے تین میل دور ہوں گے۔‘‘

’’خوب!‘‘ کارمیلا نے بےدلی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
پھر ہال کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے بولی ’’کتنی حسین چاندنی رات ہے، چلو ذرا کھلی ہوا میں گھومتے ہیں۔‘‘

’’ہاں ….. بالکل ایسی ہی خوبصورت چاندنی رات تھی جب تم پہلی مرتبہ یہاں آئیں۔‘‘

کارمیلا نے کوئی جواب نہ دیا۔ اپنی بڑی بڑی چمکیلی آنکھیں میرے چہرے پر گاڑے مسکراتی رہی۔
ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہم دونوں مٹرگشت کرتیں باغ میں پہنچ گئیں اور پختہ روشوں پر ٹہلنے لگیں۔ ٹہلتے ٹہلتے تھک گئیں، تو ایک بینچ پر بیٹھ گئیں۔
کارمیلا چاند کی طرف دیکھنے لگی۔ پھر اچانک اُس نے اپنا رخ میری طرف کیا اور سرگوشی کرتے ہوئے بولی:

تو تم اُس رات کے متعلق سوچ رہی تھی جب مَیں آئی تھی ….. کیا میرے آنے سے تم واقعی خوش ہو؟‘‘

’’بہت ….. کارمیلا پیاری! مَیں بہت خوش ہوں۔‘‘

’’تمہیں اُس عورت کی تصویر بھی اچھی لگتی ہے جس کی شکل مجھ سے ملتی جلتی ہے اور تم اُسے اپنے کمرے میں لٹکانا چاہتی ہو۔‘‘

’’بالکل!‘‘

اُس نے دفعتاً فرطِ جذبات سے بےقابو ہو کر مجھے اپنے جسم کے ساتھ لپٹا لیا اور پیار کرنے لگی۔ پیار کرتے کرتے اپنا سر میرے کندھے پر رکھ دیا اور اَپنے گال میری گردن سے رگڑنے لگی۔
’’لارا ….. تم کتنی اچھی ہو۔ ہم دونوں ایک جان دو قالب ہیں۔ مجھے ہر وقت تمہارا خیال رہتا ہے ۔
تم بھی مجھ پر مرتی ہو۔‘‘

اُس کے لہجے میں نہ جانے کیا بات تھی، میرے جسم میں بےاختیار خوف کی سرد لہر دوڑ گئی اور مَیں بدک کر نیچے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
وہ مجھے گھور رَہی تھی، لیکن اُس کی آنکھوں میں پہلی سی چمک اور رَوشنی نہ تھی۔
چہرہ بھی زرد اَور پھیکا پڑ گیا تھا۔ لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں یوں گویا ہوئی جیسے کوئی نیم غنودگی کے عالم میں بول رہا ہو۔

’’کیا ہوا میں ٹھنڈک ہے پیاری لارا؟ مجھ پر کپکپی کیوں طاری ہو گئی۔ مَیں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی تھی۔ چلو اندر چلیں۔‘‘

’’تمہاری طبیعت ناساز معلوم ہوتی ہے کارمیلا! غشی کا دورہ پڑ گیا تھا شاید۔ اندر چلتے ہیں شراب کے ایک جام سے تمہاری طبیعت فوراً سنبھل جائے گی۔‘‘

’’ہاں! مَیں اب ٹھیک ہوں۔ چند منٹوں میں میری طبیعت بحال ہو جائے گی۔ تھوڑی سی شراب مجھے ضرور دَینا۔‘‘ اُس نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔

دہلیز پر پہنچ کر رک گئی اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
’’آؤ آخری بار چاندنی کا نظارہ کر لیں۔ آج کے بعد شاید مجھے تمہارے ساتھ چاندنی کا نظارہ دوبارہ نصیب نہ ہو۔‘‘

اُس کی حالت میں اِس اچانک تغیر سے مجھے بےحد تشویش تھی۔
گرد و نواح میں پُراسرار بیماری کا زور تھا۔
رہ رَہ کر خیال آتا، کارمیلا بھی کہیں اِس وبا کا شکار تو نہیں ہو گئی۔
چنانچہ اُس کی بات سنی اَن سنی کر کے پوچھا:

’’اب طبیعت کیسی ہے؟ کیا واقعی ٹھیک ہو؟
پڑوس کے گاؤں میں ایک بہت اچھا اور تجربےکار ڈاکٹر رہتا ہے، وہی جو صبح ابّا کے ساتھ تھا۔ کہو تو اُسے بلوا بھیجیں۔‘‘

’’وہ ضرور تجربےکار ڈاکٹر ہو گا۔‘‘ کارمیلا مسکراتے ہوئے بولی۔
’’لیکن اچھی لڑکی! مجھے کسی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں۔
معمولی سی کمزوری اور نقاہت کے سوا کیا شکایت ہے؟
مَیں زیادہ محنت مشقت کی عادی نہیں نا۔ چلنا پڑ جائے، تو جلد نڈھال ہو کر بےدم ہو جاتی ہوں۔
مجھ پر غشی کا ہلکا سا دورہ پڑ جاتا ہے۔ ویسا ہی جس کا مشاہدہ تم نے آج کیا۔ دیکھ لو اب مَیں اچھی بھلی ہوں۔‘‘

رات کے کھانے پر کارمیلا اگرچہ میز پر موجود تھی، لیکن وہ کھانے میں شریک نہ ہوئی۔
ایک طرف بیٹھی باتیں کرتی رہی۔ اُس کی طبیعت خود بخود ٹھیک ہو چکی تھی۔
وُہ بڑی ہشاش بشاش نظر آتی تھی۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ہم سب تاش کھیلنے بیٹھ گئے۔ والد نے زیادہ دِلچسپی نہ لی۔
چند بازیاں کھیلنے کے بعد اُنھوں نے تاش ایک طرف ڈال دی اور اَچانک کارمیلا سے مخاطب ہوئے۔

’’تمہاری والدہ کی طرف سے ابھی تک کوئی خبر یا پیغام موصول نہیں ہوا۔
تم جانتی ہو اُسے کس پتے پر خط لکھا جا سکتا ہے؟‘‘

’’جی نہیں!‘‘ کارمیلا نے سر جھکائے جواب دیا۔
’’مَیں کچھ نہیں بتا سکتی۔‘‘ پھر قدرے توقف کے بعد دوبارہ بولی:
’’مَیں آپ سے اجازت چاہوں گی۔ میری وجہ سے آپ کو خواہ مخواہ زحمت اٹھانا پڑی۔
آپ کا مشفقانہ اور ہمدردانہ سلوک اور مہمان نوازی مجھے عمر بھر یاد رَہے گی۔
میرا اِرادہ ہے صبح سویرے پہلی گھوڑا گاڑی میں بیٹھ کر یہاں سے نکل جاؤں۔
مجھے یقین ہے، مَیں جلد ہی کسی نہ کسی طرح والدہ تک پہنچ جاؤں گی، لیکن کیسے؟
اِس کا جواب سرِ دست نہیں دے سکتی۔‘‘

’’پگلی کہیں کی!‘‘ والد نے اُسے ڈانٹا اور نہایت مشفقانہ لہجے میں بولے:
’’اِس طرح کا خیال بھی دل میں نہ لانا۔ جب تک تمہاری والدہ خود نہ آ جائے یا اُس کا کوئی پیغام نہ ملے، مَیں تمہیں اکیلے در بدر بھٹکنے کی اجازت نہ دوں گا۔
تمہاری والدہ تمہیں میرے سپرد کر گئی ہے۔ اُس کا کوئی پیغام آ جاتا، تو مجھے خوشی ہوتی۔ گرد و نواح میں پھیلی ہوئی پُراسرار وَبا روز بروز تشویش ناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
ڈرتا ہوں، تمہیں کچھ ہو گیا، تو مَیں تمہاری والدہ کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہوں گا۔
بیماری کے خطرے کے پیشِ نظر مَیں تمہیں یہاں سے تنہا جانے کی اجازت بھی نہیں دے سکتا۔‘‘

والد کا جواب سن کر مَیں نے اطمینان کا سانس لیا۔ میری دلی خواہش تھی کارمیلا ابھی یہیں قیام کرے۔
کارمیلا نے چند مناسب الفاظ میں والد کی اِس نوازش اور مہربانی کا شکریہ ادا کیا۔
اُٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑی۔ مَیں حسبِ معمول اُسے چھوڑنے کمرے تک گئی۔

کمرے میں پہنچ کر ہم بستر پر بیٹھ گئیں اور باتیں کرنے لگیں۔ مَیں نے قدرے شاکیت آمیز لہجے میں کہا:
’’تمہیں مجھ سے ہرگز سچی محبت نہیں، ورنہ اب تک ضرور مجھے اپنا رازدار بنا چکی ہوتیں۔ کیا مجھ پر بھروسا نہیں؟‘‘

کارمیلا پہلے تو کچھ نہ بولی۔ شوخ نظروں سے دیکھتی مسکراتی رہی۔ پھر کہنے لگی:
’’میری اچھی بہن! یہ بات نہیں۔ تم مجھے بےحد عزیز ہو۔ تم سے زیادہ اَور کون میرا رَازدار بن سکتا تھا۔ مجبوری یہ ہے، مَیں قول دے چکی ہوں۔
مَیں اپنا راز ابھی کسی پر ظاہر نہیں کر سکتی، تم پر بھی نہیں۔ تاہم وہ وَقت زیادہ دُور نہیں جب تمہیں سب کچھ خبر ہو جائے گی۔‘‘

گفتگو کے دوران میں اُس کی تیز اور چمکتی نظریں برابر میرے چہرے پر جمی رہیں۔
مَیں کمرے میں جدھر جاتی، اُس کی نظریں میرا پیچھا کرتیں۔ اُس کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز اور پُراسرار مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
مَیں کوشش کے باوجود اُسے کوئی معنی نہ پہنا سکی، لیکن نہ جانے کیوں میرا جی گھبرانے لگا اور اُس کی باتوں سے وحشت ہونے لگی۔ چنانچہ فوراً شب بخیر کہہ کر اپنے کمرے میں آ گئی۔

مجھے اکثر حیرت ہوتی کارمیلا کس وقت عبادت کرتی ہے۔ مَیں نے اُسے کبھی خدا کا نام لیتے یا اُس کے حضور جھکتے نہ دیکھا۔
صبح دن چڑھے بیدار ہوتی اور شام کو جب بالائی منزل کے ایک کمرے میں سب عبادت کے لیے اکٹھے ہوتے، وہ بدستور ڈرائنگ روم میں بیٹھی رہتی۔
مذہب کے موضوع پر ہم میں کبھی گفتگو نہ ہوئی۔ ایک دن اُس کے منہ سے اتفاقاً بپتس کا ذکر نہ سنتی، تو یہی سمجھتی وہ عیسائی نہیں کسی اور مذہب کی پیروکار ہے۔

اعصابی مریضوں کی احتیاط پسندی، متعدی امراض کی طرح غیرمحسوس طور پر پھیلتی ہے۔
کارمیلا کی طرح میرے ذہن میں بھی یہ خیال راسخ ہو گیا کہ آدھی رات کے وقت چوروں اور نقب زنوں کا خطرہ ہوتا ہے۔
چنانچہ لیٹنے سے پہلے ہمیشہ سب دروازے اور کھڑکیاں مضبوطی سے بند کر دیتی۔
رات بھر ایک شمع میرے سرہانے جلتی رہتی۔ یہ میری بچپن کی عادت تھی اور اسے ترک کرتے ہوئے مجھے خوف آتا تھا۔

حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے بعد کسی قدر اِطمینان ہو جاتا ۔
مَیں مزے سے بستر پر لیٹ جاتی، لیکن اِن تدبیروں سے بھلا خوابوں کو کب زنجیریں پہنائی جا سکتی ہیں جو موٹی پتھریلی دیواروں میں سے گزر کر بھیانک جلوے دکھاتے ہیں۔
اُس رات مَیں نے جو ہیبت ناک خواب دیکھا، وہ آنے والے دنوں میں کرب و اَذیت کے ایک طویل سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔

مَیں اُسے بھیانک خواب نہیں کہہ سکتی، کیونکہ نیند میں ہونے کے باوجود میرا شعور پوری طرح بیدار تھا اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ مَیں کمرے میں بستر پر دراز ہوں۔
کمرے کی ہر شے اپنی اپنی جگہ پر موجود تھی۔ صرف اتنی تبدیلی ضرور ہوئی تھی کہ روشنی کے بجائے میرے چاروں طرف گہری تاریکی مسلط تھی۔
دفعتاً محسوس ہوا جیسے پائنتی کی طرف کوئی جاندار شے حرکت کر رہی ہے۔
تھوڑی دیر تک محض ایک ہیولہ سا دکھائی دیتا رہا، پھر آہستہ آہستہ آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہو گئیں، تو ایک کالا بھجنگ جسیم اور قدآور جانور نظر آیا۔
اُس کی شکل خونخوار جنگلی بلّے سے مشابہہ تھی۔ وہ بار بار غرّاتا اور بےچینی سے کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا۔ فرطِ خوف سے مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ چیخنا چاہا، مگر منہ سے آواز نہ نکلی۔

جنگلی بلّے کی غراہٹ لمحہ بہ لمحہ بلند سے بلند تر ہوتی جا رہی تھی۔ اُس کی بےچینی میں اضافہ ہو گیا۔ اُس نے تیزی سے کمرے میں چکر لگانے شروع کر دیے۔

جلد ہی کمرے میں پھیلا ہوا اَندھیرا گہرا ہونے لگا اور اُس نے کمرے کی ہر شے نگل لی، لیکن جنگلی بلّے کی دہکتی ہوئی آنکھوں کی روشنی معدوم نہ ہوئی۔
اچانک اُس نے چھلانگ لگائی اور پلنگ پر چڑھ آیا۔ بڑی بڑی سرخ انگارہ آنکھیں آہستہ آہستہ میرے چہرے پر جھکنے لگیں۔
اگلے ہی لمحے مجھے اپنے سینے میں شدید چبھن محسوس ہوئی جیسے کسی نے دو لمبی، تیز اور نوکیلی سوئیاں جسم میں گھونپ دی ہوں۔ درد کی شدت سے بےاختیار چیخ نکل گئی اور مَیں تڑپ کر اُٹھ بیٹھی۔

کمرے میں شمع کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اُس روشنی میں نیا منظر دیکھا۔ پائنتی کی طرف ایک عورت کا ہیولیٰ سا دکھائی دیا۔۔ سر سے پاؤں تک لمبے ڈھیلے ڈھالے سیاہ لبادے میں لپٹی ہوئی۔
اُس کے لمبے سیاہ بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ عورت پتھر کا بت بنی بےحس و حرکت کھڑی تھی۔ سانس لینے کی ہلکی سی آواز سنائی نہ دیتی۔
مَیں اُسے ٹکٹکی باندھے گھورتی رہی، لیکن خوف کے مارے منہ سے کوئی آواز نہ نکلی۔ اچانک وہ دَروازے کے قریب جا کھڑی ہوئی۔ پھر دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی۔

پُراسرار عورت کے باہر نکلتے ہی جیسے ایکاایکی میرے سینے سے کوئی بھاری بوجھ ہٹ گیا اور مَیں پوری طرح بیدار ہو گئی۔ ہوش میں آنے کے بعد سب سے پہلے مجھے کارمیلا یاد آئی۔
مَیں نے سوچا ضرور یہ اُس کی کوئی شرارت تھی۔ رات دروازے کی چٹخنی کھلی رہ گئی اور اُسے اندر آنے کا موقع مل گیا۔

بستر سے کود کر دروازے کے پاس پہنچی، تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور سارا کمرا تیزی سے گھومتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ دروازہ اَندر سے بدستور مقفل تھا۔
مارے ڈر کے اُسے چھونے یا کھولنے کی جرأت نہ ہوئی۔ چند ثانیے بت بنی پاگلوں کی طرح آنکھیں پھاڑے، تالے کو گھورتی رہی۔
پھر جھرجھری سی لے کر بستر کی طرف دوڑی اور منہ، سر چادر میں لپیٹ کر دبک گئی۔ صبح ہونے تک یونہی مردوں کی طرح بےسدھ پڑی رہی۔

خوف کا یہ تجربہ میرے لیے بالکل انوکھا تھا۔ اُسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بھیانک اور ڈراؤنے خوابوں کا اثر اور اِحساس کچھ وقت گزرنے کے بعد خود بخود زائل ہو جاتا ہے، لیکن رات کے ڈراؤنے واقعے نے میرے قلب و ذہن کو بری طرح جھنجوڑ ڈالا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی شدت کم تو کیا ہوتی، کچھ اور بڑھ گئی اور جلد ہی میری یہ کیفیت ہو گئی کہ دن کے وقت بھی تنہائی سے خوف آنے لگتا۔ ایک منٹ بھی تنہا نہ بیٹھ سکتی تھی۔

اب سوچتی ہوں مجھے سارا وَاقعہ والد کے گوش گزار کر دینا چاہیے تھا، لیکن چند وجوہ سے ہمت نہ پڑی۔ اوّل تو اندیشہ تھا وہ میری کہانی سنتے ہی میرا مضحکہ اڑانے کی کوشش کریں گے۔
پھر اِس بات کا امکان بھی تھا کہ وہ مجھے پُراسرار وَبا کا شکار سمجھ بیٹھتے اور خواہ مخواہ پریشان ہوتے۔
پچھلے چند دنوں سے وہ ہر وقت کچھ کھوئے کھوئے سے نظر آتے تھے۔
ایسے میں اپنا قصّہ سنا کر مَیں اُنھیں مزید پریشان نہ کرنا چاہتی تھی، چنانچہ مجبوراً خاموشی اختیار کر لی۔

مادام پیری ڈون اور لافونٹن بھی کئی دن تک اصل واقعے سے بےخبر رہیں۔ اُن کا خیال تھا مجھ پر افسردگی کا دورہ پڑا ہے اور کسی اعصابی مرض میں مبتلا ہو گئی ہوں۔
دونوں مجھے خوش رکھنے کے لیے طرح طرح کے جتن کرتیں، لیکن بےسود۔ میری دہشت کم نہ ہونی تھی نہ ہوئی۔

ایک دن باتوں باتوں میں مَیں نے اُنھیں دل کے بوجھ کی حقیقت سے آگاہ کر دیا۔
دونوں کا ردِعمل مختلف تھا۔ مادام لافونٹن نے میری بات سنتے ہی زوردار قہقہہ لگایا اور بولی:
’’تم نے ضرور پھر کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے۔ میری بچی! اُسے بھول جاؤ، یہ سب وہم کی کارستانی ہے۔‘‘

بات ختم کرنے کے بعد مادام لافونٹن نے ایک اور قہقہہ لگایا، لیکن اُن قہقہوں میں کوئی جان نہ تھی۔ مادام کی آواز اور لہجہ اُس کے دلی اضطراب اور تشویش کی چغلی کھا رہا تھا۔

مادام پیری ڈون، منہ سے کچھ نہ بولی اور خاموش اپنے ہونٹ چباتی کچھ سوچتی رہی۔
تھوڑی دیر بعد مادام لافونٹن نے مسکراتے ہوئے انکشاف کیا، کارمیلا کے کمرے کی کھڑکی کے نیچے جو لیموں کا درخت ہے، وہ آسیب زدہ ہے۔
مارٹن گوالے نے کئی مرتبہ صبح منہ اندھیرے اُس مقام پر ایک پُراسرار عورت کو ٹہلتے دیکھا ہے۔

مادام پیری ڈون چپ چاپ باتیں سنتی رہی، آخر رہ نہ سکی۔ مادام لافونٹن کو ڈانٹتے ہوئے بولی:
’’مارٹن کی بکواس، لارا کو سنانے سے کیا فائدہ؟ فضول اور ڈرے گی۔‘‘

مادام لافونٹن خاموش ہو کر باہر جانے لگی، تو مادام پیری ڈون نے پکار کر کہا ’’کارمیلا سے آسیب زدہ دَرخت کا ذکر نہ کرنا۔ اُس کے کمرے سے وہ دَرخت نظر آتا ہے۔ کارمیلا، لارا سے بھی زیادہ ڈرپوک ہے، خواہ مخواہ ڈر جائے گی۔‘‘

اتنے برس بعد مجھے ٹھیک ٹھیک یاد نہیں کہ بھیانک خواب کی دہشت سے کس طرح نجات ملی، تاہم اتنی بات یقینی ہے، کچھ عرصے بعد مَیں اپنے کمرے میں پھر تنہا سونے لگی۔
ایک دن کارمیلا کی نظر اتفاقاً چینی کے ایک گلدان پر پڑ گئی۔
اُس میں جنگلی لہسن کے پھولوں کا ہار پڑا تھا جو شعبدہ باز نے مجھے بطور تحفہ دیا تھا اور مَیں اُسے گلدان میں رکھ کر بھول گئی تھی۔

کارمیلا نے اُسے میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
’’لارا! یہ ہار لے لو۔ رات سوتے وقت اپنے سرہانے رکھ لیا کرو۔ کہتے ہیں اِس کے ہوتے ہوئے ڈراؤنے خواب نظر نہیں آتے اور نہ کوئی روگ لگتا ہے۔
بدروحیں اِس کی بُو سے نفرت کرتی ہیں اور یہ جس کے پاس ہو، اُس کے نزدیک بھی نہیں پھٹکتیں۔ میرے پاس بھی اِسی طرح کا ایک ہار ہے۔ مَیں اُسے ہمیشہ اپنے سرہانے رکھ کر سوتی ہوں۔ خوب گہری نیند آتی ہے۔‘‘

کارمیلا کی سنجیدگی نے میرے دل میں اُس ہار کے لیے عقیدت سی پیدا کر دی۔ مَیں نے ہاتھ بڑھا کر ہار لے لیا۔ رات اُسے اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر سوئی۔ بستر پر لیٹتے ہی غنودگی چھا گئی۔
مَیں خلافِ معمول صبح تک مزے سے گہری نیند سوتی رہی، لیکن حیرت انگیز بات ہے۔
صبح بیدار ہوئی، تو سارا جسم ٹوٹ رہا تھا اور ایک بےنام سی تھکن اور کسل مندی طاری تھی حالانکہ نیند بھر کے سونے کا اثر خوشگوار ہونا چاہیے تھا۔ وہ سارا دِن عجیب بےمزگی اور اُداسی میں گزرا۔

اگلی رات بھی خوب گہری نیند آئی، لیکن طبیعت اُسی طرح بھاری تھی۔ لہسن کے پھولوں کا ہار اَپنے پاس رکھنے سے واقعی خوب نیند آتی تھی، مگر یہ بات کہ کوئی روگ نہیں لگتا، بالکل غلط تھی۔
راتوں کو مزے سے گہری نیند سونے کے باوجود میرا جسم روز بروز گھلتا جا رہا تھا اور نقاہت و دَرماندگی بڑھتی جا رہی تھی۔

چند دنوں میں میری شخصیت ہی بدل کر رہ گئی۔ مَیں خود کو ایک بدلی بدلی سی اجنبی لڑکی محسوس کرنے لگی۔
یہ اِحساس طاری رہنے لگا کہ آہستہ آہستہ موت کے منہ میں جا رہی ہوں۔
حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اِس طرح کے بھیانک خیال سے ڈر یا خوف آنے کے بجائے مجھے ایک عجیب سی طمانیت اور سرخوشی کا احساس ہوتا۔

والد ابھی تک میری اِس پُراسرار بیماری سے بےخبر تھے۔ ایک دن آمنا سامنا ہوا، تو میری ہلدی کی طرح زرد رَنگت اور اَندر کو دھنسی ہوئی آنکھیں دیکھ کر ٹھٹھک گئے اور بولے ’’تمہیں بخار تو نہیں آتا؟‘‘

مَیں نے کہا ’’نہیں! مَیں بالکل ٹھیک ہوں۔ مجھے کوئی تکلیف نہیں۔‘‘

وہ مطمئن ہو گئے اور مَیں اُن کا سامنا کرنے سے کترانے لگی۔ میرا جواب ایک لحاظ سے درست بھی تھا۔
مجھے کبھی درد کی شکایت ہوئی نہ جسمانی عارضہ لاحق ہوا، پھر مَیں کیونکر کسی بیماری یا تکلیف کی شکایت کرتی؟ میرا روگ جسمانی نہیں روحانی تھا۔

اُس روگ میں مبتلا ہوئے مجھے تین ہفتے ہو رہے تھے، لیکن میری ضدی طبیعت والد کو کچھ بتانے پر آمادہ نہ ہوئی۔ مَیں سچ مچ اپنے برے بھلے کی تمیز کھو بیٹھی تھی۔
لگتا تھا کسی غیرمرئی قوت کے زیرِاثر میری سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں کند اور مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔ کارمیلا بھی روز ڈراؤنے اور پریشان کن خوابوں کی شکایت کرتی۔
حیرت انگیز بات یہ تھی کہ مَیں رات جو ڈراؤنا خواب دیکھتی، صبح کارمیلا ہو بہو ویسا ہی اپنا خواب سنانے لگتی۔ کاش! میری عقل پر پتھر نہ پڑتے، تو میری تباہی اور بربادی کا اُسی وقت علاج ہو جاتا۔

اب مَیں اپنے ایک ایسے ڈراؤنے اور بھیانک خواب کا تذکرہ کرنے چلی ہوں جو ایک بالکل نئی اور حیرت انگیز ’’دریافت‘‘ کا سبب بنا۔

ایک رات سوتے میں اچانک میرے کانوں میں آواز آئی:
’’تمہاری ماں کہتی ہے، اپنے قاتل سے ہوشیار رَہو۔‘‘ عین اُسی لمحے کمرے میں روشنی کا ایک کوندا لپکا اور مَیں نے دیکھا کارمیلا میری پائنتی کھڑی ہے۔
اُس نے شب خوابی کا سفید لبادہ پہن رکھا ہے اور ٹھوڑی سے  لے کر پاؤں تک خون میں نہائی ہوئی۔ یہ منظر دیکھ کر مَیں پوری قوت سے چیخ اٹھی۔
میرے ذہن میں یہ خیال سمایا ہوا تھا کہ کارمیلا بےچاری کو کسی نے قتل کر ڈالا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے بستر سے کود کر مَیں دروازے کی طرف لپکی، تیزی سے چٹخنی کھولی اور مدد مدد چلّاتی ہوئی راہداری میں پہنچ گئی۔

میری چیخ پکار سن کر مادام پیری ڈون اور مادام لوفنٹن بھی گھبرا کر ننگے پاؤں، ننگے سر اپنے کمروں سے نکل آئیں۔ مَیں بری طرح خوف زدہ تھی۔
اُنھیں سامنے پا کر کسی قدر حوصلہ ہوا، پھر رک رک کر ٹوٹتے ہوئے الفاظ میں واقعہ سنایا۔

مادام پیری ڈون بولی ’’جلدی کرو، نجانے بےچاری پر کیا گزری ہے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتی کارمیلا کے کمرے کی طرف بڑھی۔
مادام لافونٹن اور مَیں بھی اُس کے پیچھے لپکیں۔ دروازے پر پہنچ کر مادام پیری ڈون نے دستک دیتے ہوئے کارمیلا کو آواز دی ’’کارمیلا، کارمیلا! دروازہ کھولو۔‘‘

اندر سے کوئی جواب نہ ملا، تو مَیں نے اپنی پوری قوت سے دروازہ کھٹکھٹایا، مگر خاموشی کا طلسم نہ ٹوٹا۔
چند لمحے ہم منتظر رہے، پھر تینوں نے ایک ساتھ دھڑ دھڑ کواڑ پیٹنے اور گلا پھاڑ پھاڑ کر آوازیں دینا شروع کر دیں۔
وہ قیامت کا شور بپا ہوا کہ مردے بھی اُٹھ کر بیٹھ جاتے، مگر وہاں جواب میں ایک خاموشی تھی۔
ہمیں دروازہ کوٹتے اور چلّاتے خاصی دیر ہو گئی ۔
کسی نے دروازہ نہ کھولا، تو ہم گھبرا گئے اور مجھے سو فی صد یقین ہو گیا، کارمیلا قتل کر دی گئی ہے۔

والد قلعے کے دوسرے حصّے میں سوتے تھے۔ اُن تک شور کی آوازیں نہ پہنچ سکتی تھیں۔ اُنھیں مطلع کرنے کے لیے ہمیں خود وَہاں جانا پڑتا، لیکن رات کے اِس پہر ہمت نہ پڑی۔
آخر آپس میں صلاح و مشورہ کر کے طے کیا کہ اُنھیں زحمت دینے کے بجائے قلعے کے ملازموں کو طلب کیا جائے اور وُہ دَروازے کا تالا توڑ دیں۔

کارمیلا کے کمرے میں داخل ہونے کے لیے اب اِس کے سوا اَور کوئی چارہ نہ تھا۔ واپس اپنے کمرے میں پہنچ کر رسی سے بندھی ہوئی گھنٹی بجائی جس کی آواز رات کے سناٹے کو چیرتی ہوئی گونجی۔

چند ثانیے کے اندر اَندر تین چار ملازم آنکھیں ملتے ہوئے آن موجود ہوئے۔ تالے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہم نے ایک مرتبہ پھر زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا اور آوازیں دیں، لیکن اِس بار بھی کچھ نتیجہ نہ نکلا۔
آخر مَیں نے ملازموں کو تالا توڑنے کا حکم دیا۔ اُنھوں نے چند منٹ میں اُسے توڑ کر پرے پھینک دیا۔

ملازموں کو اَندر ساتھ لے جانا مناسب نہ تھا۔ جانے کارمیلا کس حال میں ہوتی۔ ہم نے اُنھیں باہر ہی سے چلتا کیا اور خود شمع لے کر آگے بڑھیں۔ اندر تاریکی تھی۔
دہلیز پر رک کر پھر دو تین آوازیں دیں ’’کارمیلا، کارمیلا!‘‘ مگر صدائے برنخاست ہماری آوازیں فضا میں تحلیل ہو کر رہ گئیں۔ شمع کی روشنی میں آگے بڑھتے ہوئے کمرے کے وسط میں جا کھڑی ہوئیں۔
کسی افراتفری یا تشدد کے کہیں کوئی آثار نہ تھے۔ کمرے کی ہر شے جُوں کی تُوں اپنی جگہ پر تھی۔
بالکل ویسے ہی جیسے شام کے وقت مَیں نے دیکھی تھی۔
دل کو قدرے اطمینان ہوا کہ کارمیلا زندہ ہے، قتل نہیں ہوئی، مگر وہ چلی کہاں گئی؟

کارمیلا کا کمرے میں کہیں نام و نشان نہ تھا۔ مادام پیری ڈون کا کہنا تھا کہ دروازے پر شور اور ہنگامے کی آوازیں سن کر کارمیلا ڈر گئی ہے۔
کسی الماری، صوفے، میز، پردوں کے پیچھے یا غسل خانے میں چھپی ہوئی ہے، لیکن اُس کا خیال غلط نکلا۔
ہم نے کمرے کا ایک ایک گوشہ چھان مارا۔
مختصر وقفوں سے بار بار اُس کا نام لے کر آوزیں دیں۔ غسل خانہ بھی خوب اچھی طرح دیکھا بھالا، لیکن کارمیلا کی صورت کہیں نظر نہ آئی۔

مَیں روہانسی ہو گئی اور اُسے اپنی دوستی کا واسطہ دیتے ہوئے گڑگڑائی ’’کارمیلا، پیاری کارمیلا! یہ آنکھ مچولی ختم کرو۔ ہم تمہیں نہیں ڈھونڈ سکتے۔ کہاں چھپ گئی ہو، باہر نکل آؤ۔‘‘ اندر کوئی ہوتا، تو جواب ملتا۔

کمرے کی ساری کھڑکیاں اندر سے بند تھیں اور اُن میں چٹخنیاں لگی ہوئی تھیں۔ روشن دان خاصے اونچے تھے اور اُن تک کارمیلا کی رسائی کسی طرح ممکن نہ تھی۔
بہت دماغ لڑایا، کچھ سمجھ نہ آیا۔ آخر یہ معمہ کیا ہے؟ کارمیلا کہاں غائب ہو گئی؟
پھر خیال آیا اُسے کسی پرانی خفیہ سرنگ کا سراغ تو نہیں مل گیا؟
مَیں نے والد سے سن رکھا تھا قلعے میں بہت سی خفیہ سرنگیں ہیں لیکن اُن کی نشان دہی یا محلِ وقوع معلوم کرنا ممکن نہیں اور وُہ عرصے سے بند پڑی ہیں۔

آدھی رات کے وقت جب کارمیلا کے ملنے کی ساری امیدیں دم توڑ گئیں، تو ہم تھک کر چُور ہو گئے ۔
مَیں مادام پیری ڈون کے ساتھ اُس کے کمرے میں چلی آئی اور باقی ماندہ رَات وہیں بسر کی۔

صبح بھی کارمیلا کہیں نظر نہ آئی۔ چاروں طرف ڈھنڈیا پڑ گئی۔ والد نوکروں کی ایک جماعت لے کر اُسے گرد و نواح میں تلاش کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ اُنھوں نے چپہ چپہ چھان مارا۔
لوگوں سے دریافت کیا۔ قلعے کے قریب بہنے والی ندی کھنگال ڈالی، لیکن گمشدہ کا کوئی سراغ نہ پا سکے۔
والد پریشان تھے ۔ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہے تھے، کارمیلا کی ماں واپس آ گئی، تو اُسے کیا جواب دیں گے۔

صبح اِس افراتفری اور پریشانی کی نذر ہو گئی۔ سورج سر پر آ پہنچا، لیکن کارمیلا کی گم شدگی کا معمہ حل نہ ہوا۔ ایک بجے کے قریب مَیں ٹہلتی ہوئی دوبارہ کارمیلا کے کمرے کے باہر جا نکلی۔
دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا، تو حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں۔ کارمیلا میرے سامنے سنگھار میز کے پاس کھڑی تھی۔

مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ چند لمحے دہلیز میں حیران اور ششدر کھڑی اُسے بےیقینی کے عالم میں گھورتی رہی، پھر دوڑ کر اُس سے لپٹ گئی۔

’’کارمیلا ….. اچھی کارمیلا! تم ٹھیک تو ہو؟ کہاں چلی گئی تھیں؟ کب اور کیسے واپس آئیں؟ ہم رات سے تمہارے لیے پریشان ہو رہے ہیں۔‘‘ مَیں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔

’’پچھلی رات بھی عجیب و غریب تھی۔‘‘

’’خدا کے لیے پہیلیاں نہ بجھواؤ کارمیلا۔ تفصیل سے بتاؤ، کیا واقعہ پیش آیا؟‘‘

کارمیلا چند ثانیے خاموش کھڑی کچھ سوچتی رہی، پھر بولی:

’’مَیں خود کسی نتیجے پر پہنچنے سے قاصر ہوں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا، ماجرا کیا ہے؟ اب تمہیں کیا بتاؤں۔ رات حسبِ معمول دو بجے سونے کے لیے لیٹی۔
دروازے، کھڑکیاں سب بند تھے۔ رات بڑے سکون اور آرام سے کٹی۔ کسی ڈراؤنے خواب نے پریشان نہ کیا، لیکن حیرت ہے صبح آنکھ کھلی، تو مَیں اپنے بستر کے بجائے ڈریسنگ روم کے بڑے صوفے پر پڑی تھی۔
اٹھ کر دروازے دیکھے، تو چٹخنیاں لگی ہوئی تھیں۔
خدا جانے بند دروازوں کے بیچ میں سے گزر کر اندر کیسے پہنچ گئی۔ کسی نے اٹھا کر صوفے پر ڈال دیا ہو، یہ بھی ممکن نظر نہیں آتا۔ میری نیند بڑی کچی ہے، ہلکی سی آہٹ پر آنکھ کھل جاتی ہے۔‘‘

ہم ابھی باتیں کر رہے تھے کہ والد، مادام پیری ڈون، مادام لوفنٹن اور نوکروں کی ایک جماعت کے ساتھ آ پہنچے۔ آتے ہی سب نے کارمیلا کو گھیرے میں لے لیا اور اُس کی خیریت دریافت کرنے لگے۔ کارمیلا کا ایک ہی جواب تھا:

مَیں رات اپنے بستر پر سوئی تھی۔ صبح ہوئی، تو خود کو ڈریسنگ روم کے صوفے پر پڑے پایا۔ مجھے کچھ خبر نہیں، مَیں خواب گاہ سے ڈریسنگ روم تک کیسے پہنچی۔‘‘

والد اُس کی بات سن کر سوچ میں ڈوب گئے۔ دیر تک سر جھکائے کمرے میں ٹہلتے رہے۔ پھر اچانک سر اٹھایا۔
آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے کارمیلا کے پاس صوفے پر بیٹھ گئے اور اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بڑی شفقت سے بولے:

’’بیٹی! معاف کرنا میرے ذہن میں ایک خیال آیا ہے۔ مَیں تم سے چند سوال کروں گا، شاید اُس سے تمہاری گمشدگی کی عقدہ کشائی ہو سکے۔‘‘

’’ضرور جو سوال مرضی ہے، پوچھیے، لیکن میری کہانی بڑی مختصر اور اُلجھی ہوئی ہے۔
مجھے حقیقتاً کسی بات کی خبر نہیں۔‘‘

کارمیلا ہتھیلی پر ٹھوڑی رکھے کسی قدر آگے کی طرف جھکی بیٹھی تھی۔
کبھی کبھی کنکھیوں سے والد کی طرف دیکھ لیتی۔ مادام پیری ڈون اور مَیں دم سادھے ہمہ تن گوش تھیں۔
والد نے کنکھار کر اپنا گلا صاف کیا اور بولے:

’’کیا پہلے بھی کبھی تمہیں نیند میں چلنے کی شکایت لاحق ہوئی؟‘‘

’’بہت عرصہ پہلے جب مَیں چھوٹی سی تھی، لیکن ہوش سنبھالنے کے بعد ایسی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی۔‘‘

’’خوب!‘‘ والد نے اطمینان کا گہرا سانس لیا۔ ’’اِس کا مطلب ہے تمہیں نیند میں چلنے کا عارضہ لاحق رہا ہے۔‘‘

’’جی ہاں! میری بوڑھی نرس بچپن کی باتیں سناتے ہوئے اکثر اُس عارضے کا ذکر کرتی تھی۔‘‘

کارمیلا کی بات سن کر والد کے چہرے پر بشاشت کی لہر دوڑ گئی۔ وہ مسکراتے ہوئے صوفے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور سر ہلا کر بولے:

’’عقدہ حل ہو گیا۔ سنو! تمہاری گمشدگی کا واقعہ یقیناً کچھ اِس طرح پیش آیا۔
تم نے بستر سے اٹھ کر نیند کے عالم میں دروازہ کھولا۔ اُسے باہر سے مقفل کیا اور چابی تالے میں چھوڑنے کے بجائے ساتھ لیتی گئیں۔
پھر قلعے کی نچلی یا بالائی منزل کے کسی کمرے میں پڑ کر سو رہیں۔
یہاں بیسیوں کمرے ایک جیسے ہیں اور اُن سب کی اچھی طرح تلاشی لینے کے لیے پورے سات دن درکار ہیں۔
تم میرا مطلب سمجھ رہی ہو نا۔ مَیں کیا کہنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’جی ہاں!‘‘ کارمیلا نے ہولے سے اثبات میں سر ہلایا۔

والد کچھ اور کہنا چاہتے تھے کہ مَیں دوبارہ بول اٹھی:
’’لیکن ابّا! کارمیلا کے صوفے پر سونے کی توجیہہ کیونکر ہو گی؟ صوفہ بالکل خالی تھا اور مَیں سستانے کے لیے دو بار اُس پر بیٹھی۔ اُس وقت کارمیلا صوفے پر نہ تھی۔ بعد میں کیسے آ گئی؟‘‘

’’صبر لڑکی! بتاتا ہوں۔ تم لوگ اِسے تلاش کر کے چلے گئے، تو کارمیلا نیند میں چلتی ہوئی دوبارہ اِس کمرے میں آئی اور بجائے بستر پر سونے کے صوفے پر ہی دراز ہو گئی۔ یہ ہے سارا معمہ۔‘‘

اپنی بات ختم کر کے والد نے زوردار قہقہہ لگایا اور بولے:
’’کیا ہی اچھا ہوتا، سارے پُراسرار اَور اُلجھے ہوئے واقعات اور گتھیاں اِسی طرح چٹکی بجاتے میں سلجھائی جا سکتیں۔‘‘

شام کے وقت مادام لافونٹن نے بتایا وہ آئندہ کارمیلا کے کمرے میں سویا کرے گی تاکہ اُس کی نگرانی ہوتی رہے اور وُہ نیند کے عالم میں دوبارہ مٹر گشت کرنے اپنے کمرے سے نہ نکل کھڑی ہو۔
والد کی بھی یہی خواہش تھی۔ وہ چاہتے تھے دوبارہ اِس طرح کی ناخوشگوار صورتِ حال پیدا نہ ہو۔ کارمیلا کو پتا چلا، تو اُس نے بڑی سختی سے تجویز رد کر دی۔
وہ کسی طرح مادام لافونٹن کو اَپنے ساتھ کمرے میں سلانے پر رضامند نہ ہوئی، تو والد نے ایک نوکر کی ڈیوٹی لگا دی کہ وہ رَات کے وقت کارمیلا کی خواب گاہ کے باہر دروازے کے ساتھ اپنی چارپائی بچھا کر سویا کرے۔

میری صحت روز بروز گرتی جا رہی تھی۔ بظاہر کوئی بیماری یا تکلیف نہ تھی۔ اِس کے باوجود مَیں خود کو ہمیشہ تھکی تھکی سی اور نڈھال محسوس کرتی۔ چہرے اور ہاتھ پاؤں کی رنگت ہلدی کی طرح زرد پڑتی جا رہی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کسی نے جسم سے سارا خون نچوڑ لیا ہے۔
میری ضد اور ہٹ دھرمی ملاحظہ ہو۔ خرابیٔ صحت کے باوجود وَالد سے کبھی اِس کا تذکرہ نہ کیا
مَیں ڈرتی تھی، اُنھیں خبر ہو گئی، تو ڈاکٹروں اور دَواؤں کا ایک لمبا چکر شروع ہو جائے گا جس سے مجھے بےحد نفرت ہے، مگر والد کی تیز اور عقابی نظروں سے میری کیفیت زیادہ دنوں تک چھپی نہ رہ سکی۔
ایک دن جب میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا، اُنھوں نے بوڑھے ڈاکٹر کو بلوا بھیجا۔ وہ اَگلے دن صبح سویرے آ پہنچا۔

مادام پیری ڈون کو ساتھ لے کر مَیں ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی، تو وہ تنہا بیٹھا میرا اِنتظار کر رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی شفقت سے بولا :
’’آؤ لارا بیٹی! سنا ہے تمہاری طبیعت کچھ خراب رہتی ہے۔‘‘
مَیں ایک طرف بیٹھ گئی اور اُسے تفصیل سے اپنا حال سنایا۔
میرا بیان سننے کے بعد اُس کے چہرے پر پھیلی ہوئی سنجیدگی کچھ اور گہری ہو گئی۔ وہ کرسی سے اٹھا اور ٹہلنے لگا۔
اُس کی عینک کے شیشوں کے پیچھے سے جھانکتی ہوئی بڑی بڑی روشن آنکھوں میں تشویش و اِضطراب کے بھیانک سائے لہرا رَہے تھے۔
وہ منہ سے کچھ نہ بولا اور مَیں بھی خاموش بیٹھی اُس کی حرکات کا جائزہ لیتی رہی۔

پھر وہ ٹہلتے ٹہلتے رکا اور مادام پیری ڈون سے کہا وہ میرے والد کو بلا لائے۔ والد اپنے کمرے میں تھے، ڈاکٹر کا پیغام ملتے ہی فوراً پہنچ گئے۔ اُنھوں نے مسکراتے ہوئے دروازے میں قدم رکھا اور زور سے پکارے ’’ہیلو ڈاکٹر!‘‘

ڈاکٹر سنجیدہ اور خاموش رہا۔ والد حیرت سے اُس کا منہ تکنے لگے۔ اُن کا موڈ آف ہو گیا تھا۔ ساری بشاشت اور شگفتگی جاتی رہی۔
چند منٹ بعد ڈاکٹر نے اُن کا ہاتھ پکڑا اَور اُنھیں ڈرائنگ روم کے دوسرے کونے میں لے گیا، پھر آپس میں باتیں چھڑ گئیں۔ وہ نہایت مدہم آواز میں گفتگو کر رہے تھے۔
مادام پیری ڈون اور مَیں کوشش کے باوجود ایک لفظ بھی نہ سن سکیں۔

اچانک والد نے بلند آواز سے پکارا ’’لارا بیٹی! ذرا اِدھر آنا۔‘‘
بےاختیار میرے دل کی دھڑکن تیز ہوئی اور رَگ و پے میں خوف کی سردلہر دوڑ گئی۔ نجانے ڈاکٹر کیا فیصلہ سنانے والا ہے۔

آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اُن کے پاس پہنچی۔ والد نے ہاتھ بڑھا کر میرا بازو تھام لیا اور کھینچ کر مجھے اپنے قریب کر لیا۔
اُن کی نظریں ڈاکٹر کے چہرے پر جمی تھیں اور وُہ تشویش بھرے لہجے میں کہہ رہے تھے۔
عجیب بات ہے۔ میری تو عقل کام نہیں کرتی، کیا جواب دوں۔ پھر اُنھوں نے اپنا چہرہ میری طرف گھمایا اور آہستگی سے بولے:

’’بیٹی! ڈاکٹر تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہے، اچھی طرح یاد کر کے ٹھیک ٹھیک جواب دینا۔‘‘

مَیں نے اثبات میں سر ہلایا اور ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہو گئی۔ اُس نے پوچھا
’’پہلی مرتبہ جب تم نے ڈراؤنا خواب دیکھا اور گردن پر دو سوئیاں سی چبھتی ہوئی محسوس کی تھیں، کیا اُس جگہ اب بھی درد ہے؟‘‘

’’جی نہیں!‘‘

’’اچھا انگلی رکھ کر اپنے والد کو وہ مقام بتاؤ جہاں درد اَور چبھن محسوس ہوئی تھی۔‘‘

’’گلے سے ذرا نیچے ….. یہاں ….. ٹھیک اِس جگہ …..۔‘‘ مَیں نے ٹٹولتے ہوئے گردن پر ایک جگہ انگلی رکھ دی۔

گردن کا وہ حصّہ قمیص کے نیچے چھپا ہوا تھا۔ والد نے میرا کالر ذرا نیچے سرکایا اور گردن پر نظر ڈالی، لیکن اگلے ہی لمحے یوں تڑپ کر پیچھے ہٹے جیسے کسی بچھو نے اچانک ڈنک مار دِیا ہو۔
اُن کی یہ کیفیت صرف چند ثانیے قائم رہی۔ جلد ہی اُنھوں نے اپنے آپ پر قابو پا لیا اور کسی قدر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولے:

’’خدا رَحم کرے! تم ٹھیک کہہ رہے تھے، ڈاکٹر ….. اب کیا ہو گا؟‘‘

ڈاکٹر کے جواب دینے سے پہلے مَیں فرطِ خوف سے ایک سوالیہ نشان بن گئی۔ ’’ابّا! بتائیے نا، میری گردن پر کیا ہے؟‘‘

والد خاموش رہے۔ ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر میرا کندھا تھپتھپایا اور بڑی شفقت سے کہا
’’ارے کچھ نہیں بیٹی! ایک چھوٹا سا نیلگوں نشان ہے۔ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گی۔‘‘
پھر اُس نے مادام پیری ڈون کو قریب بلاتے ہوئے ہدایت کی کہ لارا کی طبیعت ٹھیک نہیں۔
اِس کی دیکھ بھال کے لیے ضروری ہدایات بعد میں دوں گا۔
اِس وقت یہ ذہن نشین کر لو کہ دن رات کے کسی لمحے لارا کو تنہا نہیں چھوڑنا ہے۔ تمہیں ہر وقت سائے کی طرح اِس کے ساتھ رہنا ہو گا۔

’’مادام کی محبت اور شفقت سے مجھے پوری امید ہے یہ ہمیں مایوس نہ کرے گی۔‘‘
والد نے بات آگے بڑھائی اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولے
’’لارا بیٹی! تم بھی ڈاکٹر کی اِس ہدایت پر سختی سے عمل کرتے ہوئے مادام کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھنا۔‘‘

یہ کہہ کر وہ ڈاکٹر کے ساتھ آہستہ آہستہ باتیں کرتے باہر کی طرف چل دیے۔ مَیں نے سنا، وہ کہہ رہے تھے
’’تمہیں ایک اور مریض بھی دکھانا تھا۔ اُس کی بھی بالکل یہی کیفیت ہے۔
لارا اَور وُہ دونوں ہم عمر ہیں اورکچھ عرصے سے ہماری مہمان ہے۔ اِس وقت تمہیں جانے کی جلدی ہے اور وُہ دوپہر سے پہلے بیدار نہیں ہوتی۔
خیر شام کو سہی۔ واپسی پر اِدھر آ جانا۔ رات کا کھانا اکٹھے کھائیں گے۔‘‘

ڈاکٹر نے دعوت قبول کر لی، لیکن وہ شام کو واپس نہ آیا۔

ڈاکٹر کو رخصت کرنے بعد والد دیر تک باہر لان میں ٹہلتے رہے۔ اندر آئے، تو اُن کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا، اُسے میری طرف پھینکتے ہوئے بولے:
’’جنرل ڈاروف کا خط ہے، وہ آج شام یا کل کسی وقت یہاں پہنچ رہا ہے۔‘‘

والد کی آواز بےحد سپاٹ تھی۔ مہمانوں کی آمد پر اُنھیں ہمیشہ خوشی ہوتی۔ جنرل ڈاروف اُن کا گہرا دوست تھا جس کی آمد خبر سن کر وہ خوشی سے کِھل اٹھتے، لیکن اُس دن اُن کی آواز اور لہجے میں گرم جوشی مفقود تھی۔
چہرے پر پھیلی ہوئی سنجیدگی اُن کے دلی اضطراب کی غماز تھی۔ مَیں نے ڈاکٹر اور اُن کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں پوچھا تو جھنجلا کر بولے ’’تنگ نہ کرو بیٹے!‘‘

وہ زندگی میں پہلی بار میرے ساتھ اِس قدر رُکھائی سے پیش آئے تھے۔
مَیں بھاری دل کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی۔ اُنھوں نے چہرے کے بدلتے ہوئے تاثرات سے میری اندرونی کیفیت بھانپ لی۔ اُنھوں نے پیار کے سے انداز میں کہا:

’’بیٹی! ذرا صبر سے کام لو، ایک دو روز میں سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔‘‘

وہ باہر جانے کے لیے مڑے ہی تھے کہ دروازے کے پاس پہنچ کر دوبارہ رُکے اور بلند آواز میں بولے:
’’ارے! اصل بات بتانا تو بھول ہی گیا۔ بارہ بجے کارن سٹین جانا ہے۔
فارد وِلیم سے ضروری مشورہ کرنا ہے۔ تم بھی تیار رَہنا۔ کارمیلا بیدار ہونے کے بعد مادام لوفنٹن کے ساتھ آ جائے گی، پھر سب مل کر وہاں پکنک منائیں گے۔‘‘

ٹھیک بارہ بجے گھوڑا گاڑی آ گئی اور ہم کارن سٹین کی طرف چل کھڑے ہوئے۔ راستے میں ایک موڑ پر اچانک جنرل ڈاروف سے مڈبھیڑ ہو گئی جو گھوڑے پر سوار ایک خادم کے ہمراہ قلعے کی طرف آ رہا تھا۔
والد نے اُسے دیکھ کر بگھی رکوا لی اور نیچے اُتر کر اُس سے بغل گیر ہوئے۔
رسمی علیک سلیک اور مزاج پرسی کے بعد والد نے کہا ’’تم قلعے میں چل کر آرام کرو، مَیں ذرا کارن سٹین سے ہو کر آتا ہوں۔‘‘

کارن سٹین کے ذکر پر جنرل کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اُس نے خاص انداز میں کہا:
’’مَیں بھی تمہارے ساتھ ہی چلتا ہوں۔‘‘ جنرل گھوڑے کو چھوڑ کر بگھی میں آ بیٹھا اور ہم دوبارہ آگے کی طرف روانہ ہوئے۔

جنرل کے چہرے پر کِھنڈی ہوئی زردی اور گہری شکنوں سے اُس کی ذہنی کشمکش نمایاں تھی۔
برسوں کا مریض نظر آنے لگا تھا، تیز اور چمکیلی آنکھوں کی روشنی محدوم ہو گئی تھی۔
شاید بھتیجی کی موت نے اُس کی ساری شادابیاں چھین لیں تھیں۔
والد نے مناسب الفاظ میں تعزیت کی۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا، پھر اچانک سر اٹھایا اور غم زدہ آواز میں کہنے لگا:

’’مَیں عجیب و غریب افتاد کا شکار ہو چکا ہوں۔
بچی کی پُراسرار بیماری اور موت نے مجھے بہت سی نئی باتیں سکھا دی ہیں۔ مَیں جب تک اُس کی جواں سال موت کا انتقام نہ لے لوں، چَین سے نہیں بیٹھوں گا۔‘‘

’’کیسا انتقام؟‘‘ والد نے بےچینی سے پہلو بدلتے ہوئے پوچھا۔

’’سب کچھ بیان کرتا ہوں، لیکن پہلے یہ بتاؤ کارن سٹین کا قلعہ کتنی دور ہے؟‘‘

’’چھے میل ….. اب وہاں وحشت ناک کھنڈر کے سوا کچھ نہیں۔ کارن سٹین خاندان کے سارے چشم و چراغ مر کھپ چکے، بستی بھی خالی پڑی ہے …..‘‘

والد شاید کچھ اور تفصیل بتاتے کہ جنرل نے ہاتھ کے اشارے سے اُنھیں روک دیا اور بےچَین ہوتے ہوئے کہا:
’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، کارن سٹین کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ سن چکا ہوں۔ اِس کا اندازہ میری سرگزشت سے ہو جائے گا۔‘‘

چند لمحے خاموش رہنے کے بعد جنرل نے اپنی دکھ بھری داستان سنانا شروع کی:

’’میری بدقسمتی کا آغاز کاؤنٹ کارفیلڈ کی ضیافت سے ہوا۔ تمہاری طرح کاؤنٹ بھی میرا گہرا دوست ہے۔
کارن سٹین سے آٹھ دس میل دور اُس کی وسیع جاگیر ہے۔ میری بچی اور مَیں کھانے پر مدعو تھے۔
گرد و نواح کے تقریباً سبھی جاگیردار آئے ہوئے تھے۔ مہمانوں کی تفریح طبع کے لیے رقص و سرود کا معقول انتظام تھا۔
یہ دعوت کے دوسرے دن کا ذکر ہے۔ رات کا کھانا ختم ہوا اَور ہم ہال کمرے میں چلے آئے۔ میری بچی ایک کرسی پر بیٹھ کر نوجوان جوڑوں کے رقص کا تماشا دیکھنے لگی۔
مَیں اُس سے ذرا ہٹ کر کھڑا ہو گیا اور اِدھر اُدھر نظریں دوڑانے لگا، شاید کوئی شناسا چہرہ نظر آ جائے۔

’’معاً ایک حسین اور خوش پوش لڑکی نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ وہ کارنس کا سہارا لیے ایک طرف تنہا کھڑی تھی۔ اُس نے اپنا چہرہ باریک نقاب میں چھپا رکھا تھا۔
مَیں نے اُسے پہچان لیا کہ اُس سے دو مرتبہ مڈبھیڑ ہو چکی تھی۔ پہلے دن شام کے کھانے پر وہ ہمارے گرد منڈلاتی رہی۔
آج سہ پہر لان میں بھی اُس کا سارا وَقت ہمارے تعاقب میں گزرا۔ اُس کے ساتھ بڑی عمر کی ایک عورت بھی تھی جو اُس نوجوان لڑکی کی سرپرست یا اتالیق نظر آتی تھی۔

’’میری بچی کو وہ نوجوان لڑکی مسلسل گھورے جا رہی تھی۔ مجھے محسوس ہوا جیسے اُس کی آنکھوں میں پُراسرار سی چمک اتر آئی ہے۔
مَیں نے اُسے اپنا واہمہ سمجھا اور مہمانوں میں گھل مل گیا۔ تھوڑی دیر بعد مَیں نے بےخیالی میں کارنس کی طرف دیکھا، نوجوان لڑکی کے ساتھ اُس کی سرپرست بھی موجود تھی۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے دونوں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی ہماری طرف بڑھیں۔ مَیں نے منہ پھیر لیا اور کنکھیوں سے دیکھنے لگا۔
میری بچی کے داہنے ہاتھ ایک کرسی خالی پڑی تھی، نوجوان لڑکی اُس پر براجمان ہوئی، دوسری عورت میرے پیچھے آ کر کھڑی ہو گئی۔
مَیں لاتعلق سا رہا، لیکن اُس کے منہ سے اپنا نام سن کر چونک پڑا اَور اُس کی طرف گھبرا کر دیکھا۔
نقاب میں چھپے چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ بڑی بےتکلفی سے بولی
’ارے جنرل! مجھے نہیں پہچانا؟ ….. بس بھول گئے، اپنے وعدوں کا پاس بھی نہ رہا۔‘

’’اِس سے قبل کہ مَیں کچھ سمجھ پاتا، اُس نے تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے۔ برسوں پرانی یادوں، واقعات اور حادثوں کا کچھ یوں تذکرہ چھیڑا کہ مَیں سراپا حیرت بن گیا۔
اُس کے بیان کردہ وَاقعات ہو بہو درست تھے۔ ذہن پر بہت زور ڈالا، مگر کچھ یاد نہ آیا کہ اِس محترمہ سے کب اور کہاں ملاقات ہوئی تھی۔ سوچا زندگی میں کتنے ہی لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔
اب بھلا کس کس کے نام اور چہرے یاد رَکھے جائیں۔
ہمت کر کے اُس سے نام پوچھا، وہ خوبصورتی سے یہ کہہ کر ٹال گئی کہ مَیں اپنی شخصیت ظاہر نہ کروں گی۔ تم خود یاد کرنے کی کوشش کرو۔

’’اِس اثنا میں نوجوان لڑکی جس کا نام ملارکا بتایا گیا، میری بچی کے ساتھ گھل مل گئی۔ اُس نے اپنا تعارف میرے ایک پرانے شناسا کی اکلوتی بیٹی کی حیثیت سے کرایا۔
میری بچی سادہ لوح تھی، اُس کی باتوں میں آ گئی اور اُس کی شخصیت میں اِس طرح جذب ہو گئی جیسے وہ گہری اور پرانی سہیلی ہو۔

’’اُدھر مَیں اُس ادھیڑ عمر عورت سے باتیں کرتا رہا اور وُہ شخصیت کو پُراسرا بناتی رہی۔ اتنے میں ایک خوش وضع آدمی اُسے ڈھونڈتا ہوا آ گیا۔ اُس نے کالا سوٹ پہن رکھا تھا۔
چہرہ غیرمعمولی طور پر زرد جیسے بدن میں خون کی ایک بوند نہ ہو۔ وہ اَجنبی عورت کے سامنے آداب بجا لایا اور مدہم آواز میں نہایت شائستگی سے بولا
’مَیں چند ضروری باتیں گوش گزار کرنے کی اجازت چاہوں گا …..‘
اجنبی عورت تیزی سے اُس کی طرف لپکی اور ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اُسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا، پھر چہرہ میری طرف پھیرتے ہوئے کہا ’جنرل! میری جگہ رکھنا، فارغ ہو کر اَبھی آتی ہوں۔‘

’’وہ مسکراتی ہوئی سیاہ پوش نوجوان کے ساتھ مہمانوں کے ہجوم میں غائب ہو گئی۔ اُس کی شخصیت میرے لیے پہلے سے زیادہ پُراسرار بن گئی تھی۔
زندگی کی گزرگاہ پر اُس کے نقوش کہیں نظر نہ آئے۔ سوچا ملارکا کی باتیں سنوں، شاید اُس کی گفتگو سے کوئی اشارہ مل جائے۔
چلنے کے لیے ایک قدم ہی اٹھایا تھا کہ اجنبی عورت واپس آ گئی۔
سیاہ پوش نوجوان اُس کے ساتھ تھا۔
قریب پہنچ کر کہنے لگا ’بگھی آنے کی مادام کو فوراً اِطلاع کر دی جائے گی۔‘ یہ کہہ کر اُس نے تعظیماً گردن کو ہلکا سا خم دیا اور اُلٹے قدموں چلتا ہوا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

’’آپ کہیں جانے والی ہیں؟ مَیں نے الجھے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔
’ہاں، شاید چند ہفتے ملاقات نہ ہو سکے۔ مجھے آپ کی قیام گاہ کا علم ہے۔ جب بھی موقع ملا، ضرور چکر لگاؤں گی۔
ملارکا چند دن پہلے گھڑسواری کرتے ہوئے گھوڑے پر سے گر پڑی تھی، اِسے کمر میں شدید چوٹ آئی۔ ابھی تک پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئی۔
ڈاکٹر نے لمبا سفر کرنے سے منع کر رکھا ہے۔ آتے وقت ہم جگہ جگہ پڑاؤ کرتے رہے، اِس لیے کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ اب مجھے دن رات سفر کرنا ہو گا۔
کام کی نوعیت ہی کچھ ایسی ہے، زندگی موت کا سوال ہے۔
اِس کی تفصیل آپ کو واپسی پر سناؤں گی۔ اُس وقت تک ملارکا آپ ہی کے پاس رہے گی۔‘ پُراسرار عورت جس کا نام کاؤنٹس تھا، نے کہا۔

’’اجنبی اور پُراسرار کاؤنٹس کے لہجے میں التجا سے زیادہ حکم کی جھلک تھی۔ مَیں شش و پنج میں پڑ گیا۔
عین اُسی لمحے میری بچی اپنی جگہ سے اٹھ کر میرے پاس آئی اور میرا ہاتھ تھام کر بڑی لجاجت سے بولی ’ملارکا کی امی کہہ رہی ہیں، تو میری سہیلی کو رکھ لیجیے نا۔ ہم دونوں اکٹھی رہیں گی۔‘
کوئی اور وَقت ہوتا، تو مَیں اُسے صبر سے کام لینے کا مشورہ دَیتا، مگر کاؤنٹس اور بچی نے مجھے کچھ سوچنے کا موقع نہ دیا۔ اُن کے پیہم اصرار سے میری قوتِ مدافعت ٹوٹ گئی۔

’’میری رضامندی حاصل کرتے ہی کاؤنٹس نے ملارکا کو اَپنے قریب بلایا اور اُسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگی
’میری بچی! مجھے اچانک نہایت ضروری کام سے فوراً جانا پڑ گیا ہے۔
تمہاری صحت طویل سفر کی اجازت نہیں دیتی۔ میری واپسی تک تم جنرل کے ہاں رہو گی۔ یہ میرے بہترین دوستوں میں سے ہیں۔ اِن کے ہاں تمہیں کوئی تکلیف نہ ہو گی۔‘

’’ذرا دَیر بعد سیاہ پوش خادم نے بگھی کے آنے کی اطلاع دی اور کاؤنٹس ہم سے رخصت ہو کر اُس کے ساتھ باہر چل دی۔ چلتے چلتے اُس نے ملارکا کو بھینچ کر پیار کیا اور اُس کے کان میں کچھ کہا۔
پھر میری طرف مڑی اور تقریباً سرگوشی کے سے انداز میں بولی
’جنرل! ایک آخری درخواست ہے۔ میری غیرحاضری میں میرے حالات کی ٹوہ لینے کی کوشش نہ کیجیے گا۔
بعض ناگزیر وُجوہ سے میری شخصیت کا ابھی پردۂ راز میں رہنا ضروری ہے۔
کئی لوگ ہمارے درپے آزار ہیں۔ مَیں نے ملارکا کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے۔ وہ بھی کسی سے میرے بارے میں کوئی گفتگو نہ کرے گی۔‘

’’ملارکا کی خواہش پر ہم کاؤنٹس کو الوداع کہنے بالکنی میں جا کھڑے ہوئے۔ نیچے پرانی وضع کی خوبصورت بگھی کھڑی تھی ۔
اُس کے پاس چاق چوبند نوکر اور محافظ۔ کاؤنٹس کے بیٹھتے ہی بگھی چل دی۔ اُس نے ایک مرتبہ بھی سر اٹھا کر ہماری طرف نہ دیکھا۔ شاید اُسے بالکنی میں ہماری موجودگی کا احساس نہ ہو سکا۔

’’بگھی نظروں سے اوجھل ہوئی اور ہم واپس ہال میں آ گئے جہاں رقص کا نیا دور شروع ہونے والا تھا۔
لڑکیاں کرسیوں پر بیٹھ گئیں اور مَیں گھوم پھر کر مہمانوں سے گپ شپ کرنے لگا۔
طلوعِ آفتاب تک ناچ کی محفل جمی رہی۔ اُس کے اختتام پر واپس ہال میں آیا۔
دیکھا ملارکا غائب ہے اور میری بچی تنہا بیٹھی اونگھ رہی ہے۔
مَیں نے کندھا پکڑ کے ہلایا، تو ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی اور پھر برابر والی کرسی خالی دیکھ کر پوچھا
’ملارکا کہاں ہے؟‘

’’کیا؟ میرے منہ سے بےاختیار نکلا۔ تمہیں نہیں معلوم؟

’’جی نہیں …..‘ میری بچی نے نیند سے بوجھل آنکھیں ملتے ہوئے جواب دیا۔
’آپ کے جانے کے بعد وہ ڈانس کرنے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ اُس کے بعد کہیں نظر نہیں آئی۔ میرا خیال تھا آپ کے ساتھ ہو گی، اِس لیے اطمینان سے بیٹھی اونگھتی رہی۔‘

’’مجھے پہلی مرتبہ شدت کے ساتھ اپنی بےوقوفی کا احساس ہوا اَور اَپنے آپ پر رہ رَہ کر غصّہ آنے لگا، پھر ذمےداری کا احساس غالب آ گیا ۔
مَیں نے اپنے طور پر اُسے تلاش کرنا شروع کر دیا۔ سارا لان اور نچلی منزل کے کمرے چھان مارے مگر بےسود۔
اِس بھاگ دوڑ اور اَفراتفری میں گیارہ بج گئے۔
تھک ہار کر اَپنے کمرے میں آرام کرسی پر گر پڑا اَور سر پکڑ کر سوچنے لگا، اب کیا ہو گا۔

’’اِسی سوچ بچار میں غرق تھا، اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور ایک نوکر اندر دَاخل ہوا۔
اُس نے اطلاع دی کہ ایک نوجوان لڑکی جو بےحد پریشان معلوم ہوتی ہے، جنرل ڈاروف اور اُس کی بھتیجی کے متعلق پوچھتی پھر رہی ہے۔ مَیں نے نوکر کو اُسے فوراً بلا لانے کی ہدایت کی۔

’’ملارکا نے پنے غائب ہونے کی سادہ سی کہانی سناتے ہوئے بتایا ’ناچنے کے بعد مَیں بری طرح تھک گئی۔
چنانچہ ہال سے نکل کر بالائی منزل کی ایک خالی خواب گاہ میں چلی گئی اور وَہاں دن چڑھے تک بےسدھ سوتی رہی۔
نوکر کسی کام سے اندر نہ آتا، تو شاید مَیں اور زیادہ دَیر تک سوتی رہتی۔‘

’’ملارکا کو ساتھ لیے ہم اُسی دن واپس اپنے گھر آ گئے۔ چند روز بعد عجیب و غریب اور پُراسرار وَاقعات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
سب سے پہلے ملارکا نے غنودگی اور تھکن کی شکایت کی۔
اُس کا کہنا تھا یہ حالیہ بیماری کا اثر ہے۔ دن چڑھے تک اپنے کمرے میں سوتی اور دوپہر سے پہلے کبھی باہر نہ آتی۔

’’چند دن بعد اُس کی عادات کے بارے میں کچھ اور باتوں کا انکشاف ہوا۔ وہ ہمیشہ اندر سے کمرہ مقفل کر کے سونے کی عادی تھی۔ چابی قفل میں لگی رہتی۔
دوپہر سے قبل کوئی نوکر اُس کے کمرے میں داخل نہ ہو سکتا۔ ایک دو بار صفائی کرنے والی خادمہ صبح سویرے اُس کے کمرے میں گئی، تو اُس کا بستر خالی پایا۔
وہ غسل خانے میں بھی نہ تھی۔ خادمہ نے کوئی خاص دھیان نہ دیا۔ اُس نے سوچا شاید ملارکا صبح کی سیر کرنے گئی ہے۔ شام کے وقت بھی اگر کبھی اُس کے کمرے میں جانا پڑتا، تو وہ اَکثر غائب ہوتی۔

’’باورچی نے اُسے کئی مرتبہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے صبح صادق کی ملگجی روشنی میں باہر گھومتے دیکھا۔
اُس کے دونوں بازو ہمیشہ پہلوؤں کی طرف جسم کے ساتھ چپکے ہوتے اور وُہ ناک کی سیدھ میں چلتی ہوئی مشرقی سمت درختوں کے جھنڈ میں غائب ہو جاتی۔
مجھے اِس بات کا علم ہوا، تو مَیں نے اندازہ لگایا وہ شاید نیند میں چلنے کی عادی ہے، لیکن معمہ یہ تھا ملارکا مقفل دروازے سے باہر کیسے نکل جاتی ہے۔
مجھے اِس پہلو پر زیادہ غور کرنے کا موقع نہ ملا، کیونکہ جلد ہی نئی مصیبت میں گرفتار ہو گیا۔

’’میری بچی کی صحت غیرمتوقع طور پر روز بروز گرنے لگی اور وُہ چند دنوں میں سُوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی۔ اُس کی یہ حالت دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے۔
اندر ہی اندر کڑھتا رہتا، مگر کچھ بس نہ چلتا تھا۔ کئی ڈاکٹروں سے مشورہ کیا۔ کوئی اُس کے مرض کی تشخیص نہ کر سکا۔ ابتدا میں وہ رَات سوتے وقت ڈراؤنے خواب دیکھ کر چونک پڑتی۔
پھر خیالی پیکر بھی نظر آنے لگے جو کبھی ملارکا جیسے نظر آتے اور کبھی کسی جنگلی درندے کی صورت میں۔ وہ ہیولے ہمیشہ اُسے اپنی پائنتی کی طرف بےقراری سے چکر کاٹتے دکھائی دیتے۔
اِسی دوران میں اُس پر غشی طاری ہونے لگتی۔ پھر اچانک گلے پر چبھن کا احساس ہوتا جیسے کسی نے دو تیز اور نوکیلی سوئیاں گھونپ دی ہوں۔
درد کی شدت سے تڑپ کر اٹھ بیٹھتی اور چیخ چیخ کر سارا گھر سر پر اٹھا لیتی۔‘‘

مَیں دم سادھے بیٹھی تھی۔ یوں محسوس ہوا جیسے مَیں خود اَپنی کہانی جنرل کی زبانی سن رہی ہوں۔ ڈراؤنے خواب ….. خیالی پیکر ….. اور گلے پر سوئیوں کی چبھن ….. اتنی حیرت انگیز مماثلت۔

جنرل کی معصوم بھتیجی جس پُراسرار مرض میں مبتلا رہی، اُس کی تمام تر علامتیں اور کیفیتیں میرے مرض میں موجود تھیں اور ملارکا کی عادتیں ہو بہو ہماری خوبصورت مہمان کارمیلا کی عادتوں سے مشابہہ تھیں۔
اِس حیرت انگیز مماثلت کا انکشاف ہونے کے بعد میرے دلِ ناتواں پر کیا کچھ بیت گئی، وہ مَیں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ جنرل کی معصوم بھتیجی کے المناک تصوّر سے بےاختیار بار بار جُھرجھری سی آ جاتی۔

معاً بگھی ایک دھچکے سے رکی اور مَیں اپنے خیالوں سے چونک اٹھی۔ ہم منزلِ مقصود پر آ پہنچے تھے۔ سہمی سہمی سی نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھتی نیچے اتری اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی جنرل اور وَالد کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔
ہم تینوں ہی اپنے اپنے خیالوں میں گم تھے۔ خاموشی سے فاصلہ طے کر کے کھنڈر کے قریب پہنچے، تو جنرل ٹھٹک کر رک گیا اور ملبے کے ایک ڈھیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
’’اچھا! یہ ہے کارن سٹین کا قلعہ اور یہاں کے حکمرانوں کی عظیم الشان رہائش گاہ۔
بڑے خبیث اور ظالم تھے وہ لوگ، سفاکی اور دَرندگی کی داستانیں اِن پتھروں میں دفن ہیں۔
مَیں اِنھیں نیست و نابود کر کے دم لوں گا ….. اور ….. ہاں سنو، یہ آواز کیسی ہے۔
معلوم ہوتا ہے کوئی لکڑہارا قریب ہی لکڑیاں کاٹ رہا ہے۔
اُسے تلاش کرتے ہیں شاید وہ مطلوبہ معلومات بہم پہنچا سکے اور کاؤنٹس آف کارن سٹین مرکالا کے مقبرے تک ہماری رسائی ہو جائے۔‘‘

’’گھر میں ہمارے پاس مرکالا کی ایک بڑی اور خوبصورت تصویر ہے، واپسی پر دکھائیں گے۔‘‘ والد نے کہا۔

’’اچھا!‘‘ جنرل نے ناگواری سے منہ بناتے ہوے کہا۔

’’میرا خیال ہے مَیں کاؤنٹس آف کارن سٹین کو اصلی روپ میں دیکھ چکا ہوں۔ خدا کی لعنت ہو اُس پر۔‘‘

’’ناممکن ….. اُسے مرے ہوئے سو سال گزر چکے ہیں، کہیں خواب دیکھا ہو گا تم نے۔‘‘ والد نے مذاق اڑانے کی کوشش کی، مگر جنرل بدستور سنجیدہ رہا۔

’’تمہارے ذہن میں اُس کی موت کا جو تصوّر ہے، اُس کی نوعیت دوسری ہے۔ مرکالا کے جسم اور رُوح کا رشتہ ابھی پوری طرح منقطع نہیں ہوا۔
وہ اَبھی زندہ ہے اور میرے یہاں آنے کا بڑا مقصد اُس کا کھوج لگا کر بنی نوع انسان کو اُس کے شر سے محفوظ کر دینا ہے۔‘‘ جنرل کی باتوں سے شدید غم و غصّہ اور جوش ٹپک رہا تھا۔
والد نے کوئی جواب نہ دیا۔ خاموشی سے اُس کا منہ تکتے رہے۔

کھنڈر کے مغربی کونے میں بھاری بھر کم شہتیر زمین پر گرا پڑا تھا۔ جنرل اُس کے پاس پہنچ کر رک گیا اور میری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
’’بیٹی! تم تھک چکی ہو گی، یہاں تھوڑی دیر سستا لیا جائے۔ مَیں اپنی سرگزشت بھی مکمل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

مَیں سچ مچ بہت تھکی ہوئی تھی، فوراً بیٹھ گئی۔
جنرل نے آواز دے کر لکڑہارے کو اَپنے پاس بلایا جو قریب ہی ایک درخت کاٹنے میں مصروف تھا۔ کلہاڑا تھامے وہ چلا آیا۔ جنرل کو اُس سے کوئی کام کی بات معلوم نہ ہو سکی۔
اُسے مرکالا کے مقبرے کا علم نہ تھا، تاہم اُس نے بتایا بوڑھا فارسٹ رینجر اِس معاملے میں بڑی مدد کر سکتا ہے۔
وہ کھنڈر کے چپے چپے سے واقف ہے۔ آج کل دو میل دور ایک قصبے میں فادر وِلیم کے ساتھ رہتا ہے۔
قدرے پس و پیش کے بعد اُس نے بوڑھے فارسٹ رینجر کو ساتھ لانے کی حامی بھر لی۔
وقت کی قلت کے پیشِ نظر بگھی کا ایک گھوڑا کھول کر اُسے دے دیا گیا۔
اُس نے اپنا کلہاڑا وَہیں چھوڑا اور اُسی وقت گاؤں کی طرف چل کھڑا ہوا۔
اُس کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی جنرل نے اپنی سرگزشت کے اوراق الٹنا شروع کر دیے۔

’’بچی کی بگڑتی ہوئی صحت سے پریشان ہو کر مَیں نے گراز کے ایک مشہور تجربےکار اَور عمررسیدہ ڈاکٹر کو بلوا بھیجا۔ اُس کے آنے میں کئی روز لگے۔
ایک مقامی ڈاکٹر کے ہمراہ اُس نے مریضہ کا معائنہ کیا، پھر دونوں صلاح مشورے کے لیے ایک کمرے میں چلے گئے۔ مَیں بےترتیب دھڑکنوں کے ساتھ دروازے کے باہر ٹہلتا رہا۔

’’معاً اندر سے اونچی آواز میں زور زور سے باتیں کرنے کا شور سنائی دیا۔ دونوں ڈاکٹر کسی بات پر جھگڑ رہے تھے۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا۔ بےاختیار دَروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔
مجھے دیکھتے ہی مقامی ڈاکٹر نے طنزیہ لہجے میں کہا ’جناب! میرے فاضل دوست کا خیال ہے، آپ کو ڈاکٹر کی نہیں کسی جادوگر کی ضرورت ہے۔‘

’’کچھ پلے نہ پڑا۔ حیرت سے بوڑھے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔ اُس کے چہرے پر ناگواری کے واضح اثرات تھے، تاہم اُس نے بڑی ملائمت سے کہا ’مَیں مریضہ کے بارے میں اپنے نظریات کا تفصیلی ذکر بھی کسی مناسب وقت پر کروں گا۔ مجھے دلی رنج ہے جنرل! میرا علم اور تجربہ آپ کے کسی کام نہیں آ سکتا۔ تاہم رخصت ہونے سے قبل مَیں چند ضروری باتیں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔

’’پھر وہ میز پر جا بیٹھا اور تھوڑی دیر سوچنے کے بعد ایک کاغذ پر تیزی سے کچھ لکھنے لگا اور اُسے تہ کر کے اٹھ کھڑا ہوا اَور میری طرف وہ کاغذ بڑھاتے ہوئے بولا ’مَیں نے اپنی تشخیص اِس رقعے میں تحریر کر دی ہے۔
مختصراً الفاظ میں اتنا بتائے دیتا ہوں کہ بچی کی بیماری عام بیماریوں سے یکسر مختلف ہے۔ آپ نے خاصی دیر کر دی۔ مریضہ زیادہ سے زیادہ ایک دو روز کی مہمان ہے۔
میری صاف گوئی معاف کیجیے۔ اُس کی جان بچانا چاہتے ہیں، تو حملہ آور ہستی کو ٹھکانے لگانے کا بندوبست کیجیے۔ اِس میں خاصی احتیاط اور مہارت کی ضرورت ہے۔‘

’’حملہ آور ہستی کون ہے؟ مَیں نے امید و بیم کی حالت میں پوچھا۔ ڈاکٹر نے میرے چہرے پر گہری نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔ ’مَیں نے سب کچھ لکھ دیا ہے، میرے جانے کے بعد اِسے غور سے پڑھ لیجیے۔‘

’’دونوں ڈاکٹر جونہی رخصت ہوئے، مَیں نے جھٹ رقعہ کھول کر پڑھنا شروع کر دیا۔ وہ خرافات اور لایعنی باتوں کا پلندہ تھا۔ حد ہو گئی یہ ڈاکٹر کیسا ہے۔ اِسے تو کسی پاگل خانے میں بند ہونا چاہیے۔
مَیں نے دل ہی دل میں کہا۔ اُس نے رقعے میں لکھا تھا بچی کی بیماری کا اصل سبب ویمپائر ہے جو تمہاری بچی کا خون چوس رہی ہے۔
گردن پر ہلکا سا نیلگوں نشان اور مرض کی دوسری علامات اِس خیال کی تصدیق کرتی ہیں ….. طب کی پرانی کتابوں میں اِس طرح کے واقعات درج ہیں۔
ذہن ڈاکٹر کی یہ توہم پرستانہ تشریح قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔ اِس کے باوجود رُقعے میں لکھی ہوئی حفاظتی تدابیر پر عمل کرنے کا پروگرام بنایا۔

’’رات کے وقت مَیں بچی کی خواب گاہ سے ملحق ایک تاریک کمرے میں چھپ گیا اور ننگی تلوار سونتے ویمپائر کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ میری بچی جلد ہی گہری نیند سو گئی۔
اُس کے سرہانے موم بتی روشن تھی۔ رات کے ایک بجے مَیں نے اچانک دروازے کی دراڑ سے جھانکا، اُس کی پائنتی کی طرف کالی سی ایک چیز حرکت کرتی نظر آئی۔
اُس کے خدوخال واضح نہ تھے۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ پلنگ پر چڑھی اور خوابیدہ بچی کے گلے سے لپٹ گئی۔ اگلے ہی لمحے اُس کی جسامت بڑھنا شروع ہوئی اور اُس کا جسم تیزی سے پھولنے اور پچکنے لگا۔
یہ منظر دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آنے لگا، پھر اپنے آپ پر قابو پایا اور تیزی سے دروازہ کھول کر اندر دَاخل ہوا۔ آہٹ پاتے ہی وہ مکروہ شے پھرتی سے نیچے اتر کر پائنتی کی طرف ہو گئی۔

مَیں نے اُسے ذرا قریب سے دیکھا، تو گھبرا کر پیچھے ہٹا۔ میرے سامنے ملارکا کھڑی تھی اور اُس کی شرر بار آنکھیں مجھے گھور رَہی تھیں۔ مَیں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، پوری قوت سے اُس پر تلوار کا وار کیا۔
اُس نے حیرت انگیز پھرتی سے اپنے جسم کو بَل دیا اور فضا میں جیسے اڑتی ہوئی دروازے کے پاس جا رکی۔ وار خطا ہو جانے سے مجھ پر دیوانگی کا شدید دورہ پڑا۔
مَیں تیزی سے اُس کے پیچھے لپکا اور دوبارہ تلوار کا بھرپور ہاتھ مارا، لیکن وہ اَچانک غائب ہو گئی۔ تلوار دَروازے سے ٹکرائی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔

’’مَیں اُس وقت کی محشربداماں کیفیتیں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ رات بھر پاگلوں کی طرح صحن میں چکر کاٹتا اور اَپنے سر کے بال نوچتا رہا۔
ملارکا پھر کہیں نظر نہ آئی، لیکن میری بچی بھی جانبر نہ ہو سکی۔ صبح ہوتے ہی اُس نے دم توڑ دیا۔‘‘

داستان ختم ہوئی، تو چاروں طرف گہری سوگوار سی خاموشی چھا گئی اور اُس نے بھائیں بھائیں کرتے کھنڈر اَور وحشت ناک سناٹے سے ابھرنے والے تاثر کو زیادہ ہولناک بنا دیا۔
والد اپنا دھیان بٹانے کی خاطر مقبروں کے کتبے اور تختیاں پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔ مَیں اپنے حالات کے بارے میں سوچنے لگی۔

معاً اداس اور آسیب زدہ سناٹے میں کارمیلا کی کھنکتی ہنسی سنائی دی اور مَیں نے اطمینان کا گہرا سانس لیا۔ اُس کے آنے سے کچھ سہارا سا ہوا۔
وہ مادام لوفنٹن کے ساتھ آئی تھی، لیکن وہ بلند ٹیلے کی اوٹ میں تھیں۔ اُن کی آوازیں ہر لمحے قریب آتی جا رہی تھیں۔ ناگاہ پرانی اور شکستہ محراب کے پیچھے سے کارمیلا کا مسکراتا چہرہ نمودار ہوا۔
جنرل، قریب ہی درخت کا سہارا لیے سر جھکائے اداس کھڑا تھا اور آنکھوں میں امڈتا ہوا سیلِ اشک روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
قدموں کی چاپ سن کر اُس نے سر اٹھایا اور پھر اِس سے پہلے کہ مَیں کارمیلا کو اپنی طرف متوجہ کرتی، جنرل نے قریب ہی پڑا ہوا کلہاڑا اُٹھایا اور ایک گرجدار نعرہ بلند کرتا ہوا اُس کی طرف لپکا۔

گرجدار آواز سن کر کارمیلا نے اُس سمت میں دیکھا اور ٹھٹک کر رہ گئی۔ اگلے ہی لمحے اُس کے چہرے پر شدید نفرت اور غصّے کی علامتیں نمودار ہوئیں۔
مٹھیاں بھنچ گئیں اور یکسر مختلف شخصیت نظر آنے لگی۔ جنرل نے اُس پر کلہاڑے کا وار کر دیا، لیکن کارمیلا نے پھرتی سے اچھل کر جگہ بدل لی۔ وار خطا گیا۔

جنرل دوبارہ حملے کے لیے پَر تول رہا تھا کہ بپھری ہوئی کارمیلا نے یکایک جست لگائی اور اُس کا کلہاڑے والا ہاتھ پکڑ لیا۔ جنرل نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی بےپناہ کوشش کی، مگر بےسود۔
کارمیلا ایسی نحیف و نزار لڑکی کے جسم میں اُس وقت نجانے کہاں سے اتنی طاقت آ گئی تھی کہ مضبوط تن و توش رکھنے والا جنرل بھی بےبس ہو کر رہ گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے کلہاڑے پر جنرل کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور کلہاڑا ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے آ رہا۔ کارمیلا اُس کا ہاتھ نفرت سے جھٹک کر چھلاوے کی طرح غائب ہو گئی۔

جنرل لڑکھڑاتا دیوار کی طرف بڑھا اور ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ اُس کی پیشانی عرق آلود تھی اور رَنگ پھیکا پڑ چکا تھا۔ مَیں گم صم بیٹھی خلا میں گھورتی رہی۔
یہ سارا وَاقعہ اِس ڈرامائی انداز سے رونما ہوا کہ کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ ملا۔ اِس پر حقیقت سے زیادہ خواب کا گمان ہوتا تھا۔

تھوڑی دیر بعد حواس بحال ہوئے، تو مادام لوفنٹن کو پہلو میں کھڑا پایا۔ وہ بار بار پوچھ رہی تھی ’’کارمیلا کہاں ہے؟‘‘

’’مَیں نہیں جانتی۔ ایک منٹ پہلے سامنے والی شکستہ محراب میں داخل ہوئی تھی۔‘‘

’’مَیں راستے میں کھڑی تھی۔  اُسے واپس آتے نہیں دیکھا۔‘‘

مَیں نے کوئی جواب نہ دیا اور مادام کارمیلا کارمیلا پکارتی رہی۔
جنرل ستون کے ساتھ لگا، پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ مادام لوفنٹن کے منہ سے کارمیلا کا نام سنا، تو اُس نے پوچھا ’’کیا اُس لڑکی کا نام کارمیلا تھا؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘ مَیں نے مختصر سا جواب دیا اور اُس کے منہ سے بےاختیار نکلا ’’ارے وہ تو ملارکا تھی، میری بچی کی قاتل۔ نام خواہ کوئی ہو، وہ اَصل میں پُراسرار مرکالا کاؤنٹس آف کارن سٹین ہے۔‘‘

اتنے میں لکڑہارا وَاپس آ گیا۔ فارسٹ رینجر اُس کے ساتھ تھا۔ رسمی علیک سلیک اور مزاج پرسی کے بعد سنجیدہ گفتگو چھڑ گئی۔
فارسٹ رینجر نے اپنی جیب سے تہ کیا ہوا ایک بوسیدہ کاغذ نکالا اور اُسے کھول کر ایک قبر کے تعویذ پر پھیلا دیا۔ پھر وہ سب اُس پر جھک گئے۔ یہ کارن سٹین کے قلعے کا تفصیلی نقشہ تھا۔
فارسٹ رینجر اُس پر پنسل سے آڑھے ترچھے نشان لگاتا رہا۔

مَیں دور ہونے کی وجہ سے اُن کی گفتگو سننے سے قاصر تھی۔ خاموش بیٹھی تعجب سے اُن کی حرکات دیکھتی رہی۔ بحث مباحثے کے بعد اُنھوں نے نقشہ لپیٹ دیا۔ سامنے ملبے کا ایک ڈھیر مرکزی نقطہ قرار پایا اور وُہ مشرقی سمت میں مختلف زاویوں سے زمین ماپنے لگے۔
اِس طرح جلد ہی ایک قبر کے سرہانے جا کر رک گئے۔ یہ ایک ٹوٹی پھوٹی قبر تھی اور سرہانے کا پتھر غائب تھا، چنانچہ اُس میں دفن ہونے والی شخصیت کا پتا نہ چلتا تھا۔
فارسٹ رینجر نے لکڑہارے سے قبر کھدوانا شروع کی۔ جنرل بھی اُس کے ساتھ شامل ہو گیا، نیچے سے بھاری بھر کم سنگی تابوت برآمد ہوا۔ سب نے مل کر اُسے باہر نکالا۔

جنرل نے دعائیہ انداز میں آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور بلند آواز میں کہا ’’یا رب العالمین! تیرا لاکھ لاکھ شکر کہ تُو نے مجھے اپنے مقصد میں کامیاب کیا۔
اب اِسے ٹھکانے لگانے کی توفیق عطا کر تاکہ بنی نوعِ انسان اِس خبیث بدروح کے شر اور کارستانیوں سے نجات پائیں۔‘‘

تابوت کا بالائی حصّہ مضبوطی سے بند تھا۔ اُسے کھولنے میں بہت دشواری پیش آئی۔ ڈھکنا اٹھتے ہی مَیں نے آگے بڑھ کر تابوت کے اندر جھانکا، لیکن ڈر کر پیچھے ہٹ گئی۔
وہاں خون ہی خون تھا اور اُس کے بیچوں بیچ میری حسین و جمیل کارمیلا بڑے مزے سے لیٹی تھی۔ اُس کی آنکھیں کچھ یوں کھلی تھیں جیسے وہ اَبھی اٹھ کر بیٹھ جائے گی۔

جنرل کو اصرار تھا، یہ ملارکا ہے۔ بوڑھے رینجر نے بتایا کارمیلا، ملارکا یا مرکالا ایک ہی شخصیت کے تین روپ ہیں۔ کاؤنٹس آف کارن سٹین بڑی ظالم اور سفاک عورت تھی، لیکن اُسے عشق میں ناکامی کا داغ اٹھانا پڑا
۔ اُس نے خودکشی کر لی۔ بنی نوع انسان سے انتقام لینے کے لیے بدروح کا روپ دھار لیا۔
علاقے کی تاریخ اور کارن سٹین خاندان کے بارے میں اُس کی معلومات اور رَائے سند مانی جاتی تھی۔
اُس کے پاس لاتعداد پرانی کتابیں اور کارن سٹین خاندان کے افراد کی ذاتی ڈائریاں محفوظ تھیں۔ یہ بات سن کر مزید بحث ختم ہو گئی۔ ہم سب دوبارہ تابوت کی طرف متوجہ ہوئے۔

کارمیلا کی لاش بالکل صحیح حالت میں تھی۔ اعضا میں زندہ اِنسانوں کی سی لچک اور چہرہ دَمک رہا تھا۔ یہ اُس کے ویمپائر ہونے کی واضح علامات تھیں۔
ایک نوکیلا کھونٹا اُس کے قلب میں بھونکا گیا۔ کارمیلا کے منہ سے فلک شگاف چیخ نکلی، پھر اُس کی گردن تلوار سے کاٹ کر الگ کر دی گئی اور اُسے باقی جسم کے ساتھ جلا ڈالا۔
جنرل نے راکھ دریا میں بہانے کے لیے محفوظ کر لی۔

اِس کام سے فارغ ہو کر ہم واپس گھر آئے، تو دن ڈھل چکا تھا۔ رات بھر کارمیلا کا معصوم اور خوبصورت چہرہ نظروں کے سامنے گھومتا رہا، لیکن حیرت کی بات اُس رات کسی ڈراؤنے خواب نے پریشان نہ کیا۔
چند دن بعد والد مجھے سیر و تفریح کے لیے اٹلی لے گئے اور وَہاں میری صحت قابلِ رشک حد تک اچھی ہو گئی۔ کارمیلا کے تمام نقوش مٹ گئے اور میری زندگی میں خوشیاں رقص کرنے لگیں۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles