32 C
Lahore
Thursday, July 18, 2024

Book Store

سی سیکشن

سی سیکشن

شکیل احمد چوہان 

قصائی کی دکان میں اُنیس بیس سالہ سرفراز عرف ’’سرفو‘‘ اور اُس کا ہم عمر عابد عرف ’’عابی‘‘ ہی تھے۔  ایل سی ڈی پر پنجابی گانا ’’ظالما وے‘‘ چل رہا تھا۔
’’سرفو ! اُستاد عزیز کہتا ہے۔ سویرے سویرے دُکان میںتلاوت لگایا کرو۔ تم نے نرگس کے گانے لگا رکھے ہیں‘‘ سرفو نے سنی اَن سنی کرتے ہوئے سگریٹ لگا لیا۔ عابی کے منہ سے عجلت میں نکلا
’’اوپر سے سگریٹ بھی لگا لیا…
’’رشتے دار ہو کے بھی تو جو اُستاد عزیز کو چونا لگاتا ہے۔ بیٹا آج بتاتا ہوں اُسے ‘‘
’’دیکھ بھائی نہیں ہے ! ‘‘ عابی نے التجائیہ انداز میں کہا۔ گرگٹ کی طرح فوراً ہی عابی کا رنگ بھی بدل گیا ۔ سرفو نے سگریٹ کا کش لگانے کے بعد کہا
’’اب جتنے کی ڈنڈی مارے گا… اُس میں سے آدھے میرے ! ‘‘
سرفو ! ڈاکو‘‘ عابی کے مطلع کرنے پر سرفو نے شیشے کے پار دکان کے سامنے دیکھا۔ کاٹن کی سفید شلوار قمیض میں ملبوس ایک لمبا چوڑا شخص اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا دکان کی طرف آ رہا تھا۔ عابی نے پاس پڑے ریموٹ سے ایل سی ڈی کا چینل بدل کر تلاوت لگا دی۔
’’اُلّو نا ہو تو… اچھے بھلے شریف بندے کو ڈاکو بول رہا ہے‘‘ سرفو نے بڑے اطمینان سے سگریٹ کو لٹکی ہوئی بکرے کی ایک ران کے ساتھ بجھایا، پھر بجھی ہوئی سگریٹ کو اپنی جیب میں رکھ لیا۔ فٹ سے اُس نے اگر بتیاں سلگائیں اور دکان کے چاروں کونوں میں لگانے لگا۔
’’اب بھی دنیا میں ایماندار قصائی ہیں! تم لوگ گوشت کو پانی بھی نہیں لگاتے اور وزن بھی پورا ہوتا ہے۔‘‘ گاہک نے دکان کے اندر داخل ہوتے ہی اپنی رائے دے دی۔
’’ہم اور ہمارا اُستاد حرام نہیں کھاتے جی !‘‘ عابی نے معنی خیز مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے بتایا۔ گاہک نے عابی کی بات پر دھیان ہی نہیں دیا۔
’’یہ ران بنا دو۔‘‘ گاہک نے اُسی ران کی طرف اشارہ کیا، جس کے ساتھ سرفو نے سگریٹ بجھائی تھی۔
سرفو ران کا وزن کرنے کے بعد اُسے بیٹھ کر بنانے لگا۔ گوشت شاپنگ بیگ میں ڈالنے کے بعد سرفو نے گاہک کو تھما کر عابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :
’’اُسے پانچ ہزار پانچ سو پچھتر دے دیں… ‘‘ گاہک نے کھا جانے والی نظروں کے ساتھ سرفو کو دیکھا پھر متکبرانہ لہجے میں بولا :
پندرہ، پانچ، پچھتر… پچھتر چھتر پڑنے کے بعد تجھے بندے بندے کی پہچان ہو جائے گی… اس علاقے کا نیا ایس ایچ او ہوں میں ! ‘‘ اللہ کے کلام کی آواز کانوں میں پڑنے کے باوجود ایس ایچ او اپنا رتبہ بتا رہا تھا۔ عابی نے  ایل سی ڈی کو بند کر دیا۔
گوشت لے کر پیسے دیے بغیر ایس ایچ او وہاں سے چلا گیا۔ سرفو  نے جھُرجھری لی۔ پھر آنکھیں سکیڑتے ہوئے عابی کی طرف دیکھا اور دانت پیستے ہوئے کہنے لگا
’’ڈاکو … ڈاکو… کیا لگا رکھی تھی … پولیس والا غنڈہ بولتا نا… !‘‘ سرفو نے چند لمحے توقف کیا پھر افسردگی سے کہنے لگا :
’’اتنے سالوں میں صرف چند پولیس والے ایماندار دیکھے ہیں۔ جس بھی بڑے سرکاری ملازم کا کہیں ہاتھ پڑتا ہے وہ اپنے ٹھاٹھ دکھا کر ہمارا کچومر نکالنا چاہتا ہے۔ قصائی کم نا تولے گوشت کو پانی نہ لگائے تو کیا کرے…؟‘‘
’’سارا خاندان کہتا ہے … عزیز میں قصائیوں والی کوئی بات ہی نہیں ہے… ‘‘ عابی نے ماتمی انداز میں کہا۔
اُستاد عزیز ! گڑ بڑ بھی نہیں کرتا… پتہ نہیں اُس کی پوری کیسے پڑتی ہے …؟‘‘ سرفو شش و پنج میں گھرا ہوا تھا۔
’’اُستاد عزیز کے کون سے بچے ہیں۔‘‘ عابی نے جلدی سے خبر دیتے ہوئے بات کاٹ دی۔
’’شریک نا بن … بندے دا پتر بن… شادی کے بارہ تیرہ سال بعد رب سوہنے نے استاد عزیز کی سنی ہے۔ خوش ہونے کی بجائے اُستاد عزیز کے سارے شریکے کو آگ لگی ہوئی ہے۔‘‘
’’ اوئے بھائی ! مجھے اُن میں نا شامل کر ! ‘‘ عابی نے جلدی سے وضاحت پیش کی۔ پھر کہنے لگا :
’’میں تو بڑا خوش ہوں … میں نے تو اُستاد عزیز کو دعوت کے لیے بھی منا رکھا ہے۔‘‘
’’بڑی لمبی عمر ہے اُستاد کی ! ‘‘ سرفو نے دُکان کے باہر ایک کار کو رکتے ہوئے دیکھ کر کہا۔ اُس کار میں سے چالیس کے آس پاس دو افراد نکلے۔ اُن دونوں نے ٹریک سوٹ پہنے ہوئے تھے۔ وہ کار کے پاس کھڑے ہو کر کسی سنجیدہ موضوع پر بات کرنے لگے۔
’’پچھلے نو، دس سال سے میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اُستاد نے کسی دن کلب سے چھٹی کی ہو۔‘‘ سرفو نے بتایا۔
’’باڈی ایسے ہی تو نہیں بنتی سرفو صاحب ! ‘‘
’’وہ تو ہے ! ‘‘
’’یہ ڈاکٹر کی کب سے یاری ہے اُستاد سے … ؟‘‘ عابی نے پوچھا۔
’’نو دس سال سے تو میں دیکھ رہا ہوں۔‘‘ سرفو نے بتایا۔
’’مٹن ہو یا بیف ! سب سے اچھا گوشت اُستاد نے ڈاکٹر کے گھر والوں کو ہی کھلایا ہے۔ ‘‘ عابی نے بتایا۔
’’بڑے بڑے ہوٹلوں والے ’’ کٹ پیس‘‘ کے لیے اُستاد کی منتیں کرتے ہیں۔ مگر استاد ڈاکٹر کو کٹ پیس بھی آدھی قیمت پر دے دیتا ہے۔‘‘
’’ڈاکٹر پیسے تو دیتا ہے نا ! اِدھر کبھی ایس ایچ او آ جاتا ہے اور کبھی فوڈ انسپکٹر … ‘‘ عابی نے بیزاری سے کہا۔
’’کیا پیسے دیتا ہے …؟ اُستاد سے یاری کا فائدہ اُٹھاتا ہے۔ عید پر سب سے پہلے جانور ذبح کرواتا ہے اور پیسے سب سے کم!‘‘ سرفو نے بے دلی سے بتایا۔
’’ڈاکٹر کم نہیں دیتا…اُستاد اُس سے لیتا ہی کم ہے۔ اُستاد کا جگری یار جو ہوا ! ‘‘
سرفو اور عابی کی گفتگو مزید جاری رہتی اگر عزیز قصائی اور ڈاکٹر پرویز دکان کے اندر نہ آجاتے۔
’’سرفو ! ڈاکٹر صاحب کا گوشت بنا دو ! ‘‘ عزیز نے اندر آتے ہی کہا۔ اُسی لمحے عزیز کے موبائل کی گھنٹی بج اُٹھی۔ اُس نے کال رسیو کی۔ دوسری طرف سے چند باتیں سننے کے بعد عزیز نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔
تم بھابھی کو لے کر ہاسپٹل پہنچو میں آتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر نے عزیز کے کچھ بتانے سے پہلے ہی اپنی سنا دی۔
عزیز فوراً وہاں سے چلا گیا۔ ڈاکٹر نے ٹریک سوٹ کے اپر کی سائیڈوالی پاکٹ سے اپنا موبائل نکال کر نمبر ملایا
’’عزیز اپنی بیوی کو لے کر ہاسپٹل آ رہا ہے۔ میرے آنے تک پیشنٹ کے تمام ٹیسٹ ہو جانے چاہئیں …‘‘ ڈاکٹر نے یہ بول کر فون بند کر دیا۔ ڈاکٹر نے عابی کو پیسے دینے کے بعد ہی اپنا گوشت پکڑا تھا۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد سرفو دعائیہ انداز میں کہنے لگا
’’ربا سوہنیا ! اُستاد عزیز کو ایک پیارا سا بیٹا دے، دے‘‘
٭٭٭٭٭٭٭
کلپ بورڈ پر تمام رپورٹس لگائے ہوئے نرس ڈاکٹر کے انتظار میں کھڑی تھی۔ جیسے ہی ڈاکٹر اپنے آفس میں داخل ہوا، اُسے دیکھتے ہی نرس بول پڑی :
سر !  ای سی جی، سی بی او ٹھیک ہے۔ ہارٹ بیٹ نارمل، بچے کی ڈائریکشن درست سمت میں ہے۔ پیشنٹ کو لیبر پین بھی اسٹارٹ ہو گئی ہے۔ نارمل ڈلیوری ہو جائے گی۔‘‘ نرس نے بڑے اطمینان سے بتایا ۔ ڈاکٹر نے سنجیدگی سے جواب دیا
’’کراس میچ کے لیے ڈونر کا بولو اور سی سیکشن کی تیاری کرو۔
سی سیکشن سر ! ؟ ‘‘ نرس نے بے یقینی سے پوچھا۔ عزیز بغیر دستک دیے ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہو۔
’’ہاں ! سی سیکشن ‘‘ ڈاکٹر نے حتمی انداز میں بتایا۔
سی سیکشن کیا ہوتا ہے …؟‘‘عزیز نے ڈاکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے فکر مندی سے پوچھا۔
بڑے آپریشن کو سی سیکشن کہتے ہیں‘‘ ڈاکٹر نے بڑے آرام سے بتایا۔ اس کے باوجود عزیز ڈر گیا۔ عزیز کو تسلی دینے کی غرض سے ڈاکٹر کہنے لگا
گھبراؤ نہیں عزیز ! روز کا کام ہے۔‘‘ عزیز کو مطمئن کرنے کے لیے یہ جملہ نا کافی تھا۔ ڈاکٹر نے اُس کے کندھے پر بڑی اپنائیت سے ہاتھ رکھا پھر بولا
’’تم خون اور پیسوں کا بندوبست کرو۔‘‘
کتنے پیسوں کا… ؟‘‘ عزیز نے آفس سے باہر جاتے ہوئے پریشانی سے پوچھا۔ ڈاکٹر نے عزیز کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے بتایا
دوسروں سے توالاکھ لیتے ہیں۔ تم اسّی ہزار جمع کروا دو۔‘‘ جیسے ہی وہ دونوں آفس سے باہر نکلے۔ نرس نے دانت پیستے ہوئے کہا
’’کتنے سی سیکشن کرو گے…؟‘‘

…٭…

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles