31 C
Lahore
Sunday, April 21, 2024

Book Store

تعلقات کی ڈور مضبوط کیسے ہو؟

ارم ناز

کمیونیکیشن گیپ کیا ہے؟

لفظ ’’کمیونیکیشن‘‘ یعنی ابلاغ لاطینی زبان سے اخذ شدہ ہے جس کا مطلب ہے ’’بانٹنا یا پہنچانا‘‘.
یعنی یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے دوران معلومات، پیغام یا کوئی بات ایک جگہ، شخص یا گروپ سے دوسری جگہ منتقل کی جاتی ہیں۔ یہ یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ عمل ہے۔

اس میں نہ صرف بات چیت بلکہ ایک دوسرے کے احساسات، جذبات اور تکالیف کو بھی سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپس کی بات چیت اچھی ہو تو تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔
اگر بات چیت میں تعطل یا کمی آ جائے، معلومات صحیح طرح ایک شخص سے دوسرے کو منتقل نہ ہوں یا پھر دوسرا فرد آپ کی بات کو سمجھ نہ سکے تو اس سے دونوں اشخاص کے درمیان فاصلہ پیدا ہوجاتا ہے جسے ’’کمیونیکیشن گیپ ‘‘کا نام دیا جاتا ہے۔

دورِ جدید میں نت نئی ایجادات بالخصوص انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے انسان کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔
یہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اور ایپس ابنِ آدم کو ایک دوسرے سے دور کرتی جا رہی ہیں۔

اب تو صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے کہ
ایک ہی جگہ اور ایک ہی کمرے میں بیٹھے  افراد آپس میں بات چیت کے بجائے اپنے  موبائل اور دیگر آلات کے ساتھ مصروفِ عمل ہوتے ہیں۔

نتیجتاً دوست احباب ہوں، اولاد ، والدین یا گھر کے باقی افراد سب ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنا، دکھ سکھ کرنا اور وقت گزارنا بھول گئے ہیں،
جس کی وجہ سے تمام رشتوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔
ہر دوسرا فرد تنہائی کے باعث ڈپریشن کا شکار ہے اور وجہ ہے کمیونیکیشن گیپ ایک دوسرے سے بات نہ کرنا، اپنے ہی آپ میں مگن رہنا اور دوسروں کی خبر تک نہ لینا۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ کم گفتگو کرتے ہیں ، وہ لوگ ذہنی طور پر پریشان رہتے، ان میں سکون کی کمی اور مایوسی کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے اور ایسے افراد معمولی باتوں پر جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں،
اس لیے اگر ہم نے اپنے تعلقات پر توجہ نہ دی تو وقت گزرنے کے ساتھ  رشتوں کے درمیان فاصلوں کی اس خلیج کو پاٹنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

رشتوں میں کمیونیکیشن گیپ

آپ اس دنیا میں جہاں پر بھی موجود ہیں، پیدائش کے ساتھ ہی اللہ تعالی نے آپ کے اردگرد بہت سے رشتے ناتے بنا دیے ہیں۔ اگر آپ انہیں وقت دیں،
ایک دوسرے سے بات کریں تو ان کے درمیان کبھی بھی فاصلے نہیں آئیں گے۔
والدین اور اولاد کے درمیان
والدین اور اولاد کی محبت ایک فطری عمل ہے۔ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی کہ ان کی اولاد کامیاب ہو۔ اس کے لیے وہ دن رات محنت کر کے انہیں پالتے پوستے اور اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں تاکہ معاشرے میں وہ اپنا مقام بنا سکیں

اکثر اوقات ایسا کرتے ہوئے وہ اپنی ہی اولاد کو خود سے دور بھی کر دیتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی اولاد سے بات نہیں کرتے، ان کے مسائل نہیں سنتے،
ان کی مشکلات  نہیں سمجھتے، انہیں لگتا ہے پریشانیاں تو صرف والدین کو ہیں ،
بچے کو کیا ٹینشن ۔ حالانکہ بچوں کو اپنے لیول کے مطابق مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

ہمارے ہاں والدین محبت کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات اور خواب بھی بچوں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بچوں کو وہ نہیں کرنے دیتے جس کی انہیں خواہش یا لگن ہوتی  ہے بلکہ وہ بنانا چاہتے ہیں جس کی تمنا ان کے اپنے دل میں ہوتی ہے
مثلاً اگر کوئی ڈاکٹر نہیں بن سکا تو وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کو ڈاکٹر بنانا چاہے گا حالانکہ بچوں کی دلچسپی کسی اور شعبے میں ہو گی ۔یہی بات بچوں کو والدین سے دور کرنے کا سبب بنتی ہے۔

اگر والدین چاہیں تو بچوں سے بات چیت کر کے، ان کی قابلیت کو مد نظر رکھ کر بھی شعبے کا انتخاب کر سکتے،جس میں وہ مستقبل میں نام کما سکتے ہیں۔


مزید برآں یہ دور کیونکہ مقابلے اور نمبروں کا دو ر ہے تو والدین کی یہ آرزو ہوتی کہ ان کا بچہ جس بھی امتحان میں بیٹھے وہاں سے فاتح بن کر نکلے۔

کم نمبروں یا گریڈ پر تو گزارا ہی نہیں ۔ اگر خدانخواستہ کم نمبر آ جائیں تو بچے کو اتنا ڈانٹا جاتا ہے کہ بعض دفعہ وہ اس دباؤ کو برداشت  نہیں کر پاتا۔
پھر اگر گھر میں ایک سے زیادہ بچے ہوں تو جو  ہونہار ہوتا ہے سب کی توجہ کا مرکز بن جاتا اور باقی  والدین سے دور ہو  جاتے ہیں

کیونکہ والدین ان کی محنت پر شاباشی دینے کی بجائے کم نمبروں پر ڈانٹنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔  تب بچے تنہائی کا شکار ہو کر دور ہو جاتے اور وجہ والدین بچوں سے بات نہیں کرتے۔
ان کی ہمت نہیں بڑھاتے، حوصلہ نہیں دیتے تو یہ کمیونیکیشن گیپ ان کی قابلیت کو کھا جاتا ہے۔

بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے وہ اپنے اردگرد ماحول کو دیکھتے  اور محسوس بھی کرتے ہیں۔ والدین اگر ہر وقت لڑنے جھگڑنے کے عادی ہوں گے تو ایسی صورتحال میں وہ بچے کو کیا خاک وقت دیں گے۔
ان کے دل کی بات ، پسند و ناپسند یا دلچسپیوں کے بارے میں بات تو تب کریں جب وہ خود آپس میں کسی ایک نکتے پر متفق ہوں، ایسے بچے گھر سے باغی ہو جاتے ہیں۔

جب ان سے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ تو انہیں یوں محسوس ہوتا
جیسے ان پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور ان کی مرضی سے سانس لینے نہیں دیا جا رہا۔

یہی اگر والدین اور بچوں کے درمیان دوستانہ رویہ ہو
اور وہ اپنے ہر مسئلے کو والدین کے ساتھ بانٹتے ہوں تو بچے کبھی بھی غلط سمت نہیں چلتے
لیکن اگر درمیان میں کمیونیکیشن گیپ آ جائے
تو بچے والدین کے قریب رہتے بھی خود کو ان سے کوسوں دور محسوس کرتے ہیں ۔

اس لیے والدین کو چاہیے بچوں سے بات چیت کرتے رہیں
تاکہ وہ کمیونیکیشن گیپ نامی بلا سے بچے کر مثبت انداز میں زندگی گزاریں۔

میاں بیوی کے درمیان

اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کی بھلائی اور راحت کے لیے شوہر اور بیوی کا خوبصورت رشتہ قائم کیا ہے۔ میاں بیوی میں اگر محبت، خلوص اور
دوستانہ رویہ ہو تو گھر گل و گلزار بن جاتا ہے ۔
کیونکہ وہ ایک دوسرے سے بات چیت کے ذریعے اپنے ہر مسئلے کا حل تلاش کرتے اور
آزمائش میں ایک دوسرے کو سمجھتے ہوئے ڈھال بنتے ہیں۔

لیکن اگر میاں بیوی میں کمیونیکیشن گیپ ہو،
وہ ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہوں، ایک دوسرے سے باتیں چھپاتے ہوں ۔
مسائل کا حل مل بیٹھ کر نکالنے کی بجائے ایک دوسرے کو الزام دیتے رہتے ہوں۔

ایسے رشتوں میں بہت سے لوگ نقب لگا کر حالات مزید خراب ہی کرتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسے رشتے میں فاصلہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے،
جو بڑھتے بڑھتے ایک خاندان کو تباہ کر دیتا ہے۔

اس لیے شوہر اور بیوی میں ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ
وہ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہیں ۔
اپنے رشتے کے درمیان دوریاں نہ بڑھنے دیں، اسی میں ان کی بھلائی اور خاندان کا سکون ہے۔

استاد اور شاگرد کے درمیان

کسی بھی قوم کی تعلیم و تربیت میں استاد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
اسی لیے اسے روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے ۔
پرانے زمانے میں استاد خلوص دل سے بچوں کی کردار سازی اور تربیت کے حوالے سے کام کرتے تھے ۔

طلبہ بھی استاد کےاحترام میں کوئی کسر نہیںچھوڑتے تھے ۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ رشتہ بھی زنگ آلود ہو چکا ہے۔

اب  طلبہ کے دل میں استاد کی عزت باقی ہے
اور نہ ہی استاد میں محبت و خلوص کا وہ عنصر پایا جاتا جس سے وہ تربیت کرتے تھے۔
اب  شاگرد اگر چھوٹی سی بھی غلطی کرے تو
استاد طنزیہ اور تحقیر آمیز انداز میں سب کے سامنے اس کی سرزنش کر کے مزید شرمندہ کرتا ہے۔

بعض اساتذہ تو شاگردوں کے لیے الٹے سیدھے القابات بھی استعمال کرتے ہیں۔
حالانکہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ محبت و شفقت سے ان کے مسائل اور پریشانی کے بارے میں بات کریں تاکہ طلبہ بلاجھجک اپنی بات کہہ دیں۔

ان کا انداز اس قدر نرم اور متاثر کن ہونا چاہیے کہ شاگردوں کی عزت نفس پر آنچ بھی نہ آئے اور مقصد بھی پورا ہو جائے۔
یہ صرف تبھی ممکن ہے جب اساتذہ اپنے اور شاگردوں کے درمیان سختی اور نفرت کی دیوار قائم نہ کریں۔
ورنہ طلبہ کے دل میں استاد کے لیے عزت و تعظیم کی جگہ بغض اور عناد لے لیتا ہے ۔

بات چیت کرتے رہیں اس میں فرق یا تعطل نہ آنے دیں۔
اگر دونوں کے درمیان کمیونیکیشن گیپ پیدا ہو گیا تو پھر پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے میں بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دفاتر اور کام کرنے کی جگہوں پر

دفاتر اور کام کرنے والی تقریباً ساری جگہوں پر ہی کمیونیکیشن گیپ پایا جاتا ہے۔
اعلی عہدوں کے حامل افراد کم عہدے والے ملازمین سے کھل کر بات کرنا پسند نہیں کرتے۔
جس کی وجہ سے ماتحت افراد اپنے مالکوں یا اعلی افسران کے ساتھ بات کرنے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔

نیز ان کی باڈی لینگویج کے ساتھ ساتھ ٹون بھی غیر مناسب ہوتی ہے۔
ایسا سخت رویہ اور لیے دیے رہنے کا انداز خوف کے احساس کو مزید بڑھا دیتا ہے ،
لہذا افسران جو باتیں بھی بتائیں ملازمین اس پردرست انداز میں توجہ نہیں دے پاتے۔
اسی طرح اگر دو ملازمین یا گروپوں کے مابین بدگمانی پائی جاتی ہے تو وہ یا تو ایک دوسرے کو افسران کا پیغام پہنچاتے ہی نہیں ۔
اگر پہنچائیں بھی تو پیغام کا سیاق و سباق بدل کر مالک اور ملازم کے درمیان موجود کیونیکیشن گیپ کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

جب یہ فاصلہ مزید بڑھتا ہے تو اس سے کام کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔
مالک اور ملازمین میں دوستانہ رویہ اور خوشگوار ماحول ہو
تو وہ پر مسئلے اور پریشانی کو چٹکیوں میں حل کر سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق خوف کی حالت میں درست ہوتا ہوا کام بھی غلط ہو جاتا ہے۔
اسی لیے اگر دفاتر کے مالکان چاہتے کہ
ان کے ملازم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں تو وہ ان سے بات چیت کرتے رہیں ۔

ہو سکے تو ہر ہفتے ایک مشترکہ میٹنگ کریں جس میں سب ملازمین شامل ہوں۔
مختلف امور پر اپنی رائے دیں تاکہ کمیونیکیشن گیپ دور ہو سکے۔

کمیونیکیشن گیپ کی وجوہ

بات چیت یا ابلاغ میں تعطل اور دوری کی چار بڑی وجوہات ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
۔جنریشن گیپ
کمیونیکیشن گیپ کی سب سے بڑی وجہ والدین ، بزرگوں اور نوجوان نسل کے درمیان پیدا ہونے والا نظریاتی اختلاف ہے۔  اسے جنریشن گیپ کہا جاتا ہے۔
یہ گیپ یا فاصلہ لوگوں کو تقسیم کر دیتا ہے اور تعلقات اور رشتوں میں دراڑ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

عام طور پر یہ گیپ اٹھارہ سے چالیس سال کی عمر کے افراد کے درمیان پایا جاتا ہے۔
یہ گیپ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب والدین یا عمر رسیدہ افراد اور نسل نو کے درمیان نظریات ایک دوسرے سے میل نہ کھائیں
وہ دونوں اپنی اپنی جگہ الگ الگ زاویے سے سوچیں۔

بڑے اپنے وقت کے نظریات کو درست مانتے اور بچوں پر تھوپنے کی کوشش کرتے جبکہ بچے جدید دور کے اصول و روایات کو مانتے ہیں۔
وقت کے ساتھ چیزیں بدلتی ہیں لیکن والدین اور دیگر بزرگ اس تبدیلی کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ معاملات اب بھی پہلے جیسے ہیں ۔
نتیجتاً دونوں فریقین ایک دوسرے کی بات ماننے کی بجائے ،اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اسے سمجھنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

یہ فرق اور تبدیلی کام کرنے کے انداز سے جدید ایجادات اور ٹیکنالوجی کے استعمال تک واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
نوجوان نسل ٹیکنالوجی کی خامی نظر آتی جب کہ بزرگ اسے فضولیات گردانتے ہیں۔

یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے بڑے فاصلے پیدا کرتی ہیں۔
اس کا نتیجہ سوائے دوری کے کچھ اور نہیں ہوتا۔
یہ اختلافات بڑھتے بڑھتے پھر اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ رشتوں میں ہمیشہ کے لیے دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
۔غصہ
غصہ بھی کمیونیکیشن گیپ کی وجہ ہو سکتا ہے۔  غصے میں لوگوں پر منفی جذبات بہت جلد حاوی ہو جاتے ہیں ۔
وہ لوگوں اور حالات کے بارے میں بری چیزیں سوچنا اور سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔

نتیجتاً مفروضوں کو دل و دماغ میں رکھتے ہوئے ہر چیز کے بارے میں منفی رویہ اپنا لیتے ہیں ۔ دوسرے لوگوں کو سمجھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔
وہ ناراضگی میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ان کا غصہ سامنے والے کو تکلیف اور دکھ پہنچا کر اداس کر رہا ہے۔

لہذا جب بھی آپ غصے میں ہوں ، برا کہنے اور برا سمجھنے کی بجائے سیر کے لیے نکل کر اس صورتحال سےدور ہو جائیں۔
جب آپ کو لگے کہ اب آپ کے جذبات قابو میں ہیں تو پھر اس شخص کے سامنے بیٹھیں اور شائستگی سے اپنی بات اور نظریہ سمجھائیں۔

یہ چیز آپ کو اچھا اور مطمئن بنائے گی۔ اس طرح آپ کو ذہنی سکون بھی محسوس ہو گا۔
۔بات سمجھنے سے قاصر
لوگوں سے بات چیت کرنے میں ناکام ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ
بعض دفعہ افراد خود سے یہ تصور کر لیتے ہیں کہ ان میں اعتماد اور فصاحت و بلاغت کی کمی ہے۔

اس لیے شاید مخالف شخص کو اس کی بات سمجھ نہیں آئے گی
یا میں اس قابل یا اہم نہیں ہوں کہ کسی کو بھی اپنی بات وضاحت کے ساتھ سمجھا سکوں۔

ایسے موقع پر دوسروں کی بجائے خود کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اپنا حالِ دل، جذبات و احساسات بیان کرنے کے لیے آپ کو لفاظی کی ضرورت نہیں۔
بلکہ آپ کا مقصد صرف اپنے دکھ درد اور خیالات کو کسی کے ساتھ بانٹنا ہوتا ہے۔

اس کو جس طرح مرضی بانٹیں تاکہ آپ ذہنی طور پر پرسکون ہو سکیں۔
۴۔کمیونیکیشن یا ابلاغ صرف بات کرنا نہیں
کمیونیکیشن یا ابلاغ صرف بات کرنا نہیں
بلکہ اپنے احساسات و محسوسات کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا نام ہے۔

اس کے لیے آپ کو ایسے مخلص شخص کی ضرورت ہوتی
جو نہ صرف آپ کی بات کو سنے بلکہ سمجھے ،محسوس کر کے صحیح مشورہ بھی دے کر آپ کی پریشانی کو حل بھی کرے۔

ایسے مخلص افراد آپ کے والدین، بہن بھائی ، عزیز و اقارب اور دوستوں میں کوئی بھی ہو سکتے ہیں۔
اس لیے ہمیشہ دوسروں کی بات کو صرف سنیں نہیں بلکہ محسوس کریں ۔
کمیونیکیشن گیپ کیسے کم کریں؟
کمیونیکیشن گیپ کا سامنا زندگی کے کسی بھی شعبے میں کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ ایک دوسرے سے بات نہ کرنا
یا پھر اپنی بات کو صحیح طرح بیان نہ کر سکنا ہے ،جس کی وجہ سے دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔

اس فاصلے کو ختم کرنے کے لیے درج ذیل نکات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
۔توجہ مرتکز کریں
جب دوسروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں تو ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سب سے پہلے غور کریں کہ کونسا پیغام کس کے لیے ہے؟ اور کس انداز میں پہنچانا زیادہ متاثر کن ہو گا؟

مثال کے طور پر بچوں سے بات کرنے کا طریقہ بچگانہ ہو گا،
ان کی سوچ کے مطابق جبکہ عمر رسیدہ افراد سے مختلف طرح۔
پھربات کرنے یا پیغام بھیجنے سے پہلے سامعین پر توجہ مرکوز کریں کہ
آیا آپ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر رہے ہیں ،یا پھر ریڈیو، ٹی وی اور ای میل کے ذریعے۔

اگر آپ آمنے سامنے ایک دوسرے سے مخاطب ہیں تو الفاظ کے ساتھ آپ اپنی جسمانی حرکات اور آواز کے اتار چڑھاؤ سے بات کی سنگینی یا اہمیت بیان کر سکتے ہیں،
لیکن اگر ای میل کے ذریعے بات کر رہے ہیں تو
اپنے الفاظ کو اس طرح بیان کریں گے کہ پڑھنے والے کو وہ اہم محسوس ہوں۔

اس لیے اگر آپ چاہتے کہ آپ کی بات کو اہم جانا جائے اور لوگ آپ کی بات کو سنیں تو پہلے توجہ مرکوز کر کے طے کریں کہ کس سے، کیا اور کیسے بات کرنی ہے؟
تبھی کمیونیکیشن گیپ نہیں آئے گا ، نیز آپ کی بات اثر رکھے گی۔
متاثر کن پیغام اور الفاظ کا چناؤ
جب بھی کسی سے بات کریں آپ کا اندازِ بیاں اور پیغام اتنا دلچسپ و معلومات سے بھرپور ہو ،
کہ سامنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ پائے۔
اگر آپ کسی بھی سوال کے جواب میں آئیں بائیں کریں گے تو کوئی بھی آپ کی بات پر توجہ نہیں دے گا۔

اس لیے ہمیشہ اپنی بات لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کے لیے مدلل اور جامع الفاظ کا چناؤ کریں،جن سے بات سب کی سمجھ میں آ کر آپ کا اچھا تاثر قائم ہو۔
۳۔مناسب آواز
بات کرتے ہوئے ہمیشہ مناسب آواز کا استعمال کریں۔
نہ تو آواز اتنی بلند ہو کہ دوسروں کے سر میں درد کر دے اور آپ بدتمیز لگیں،
نہ اتنی آہستہ کہ سنائی ہی نہ دے،
ہمیشہ جیسا ماحول ہو اس کے مطابق اپنی آواز کو دھیما یا تیز کریں۔

مزید برآں آپ کی آواز صاف اور واضح ہونی چاہیے
تاکہ سننے والا بات کو آسانی سے سمجھ سکے۔
خود ساختہ سوچوں سے گریز کریں
کبھی بھی بات کرنے سے قبل خود سے یہ فرض نہ کرلیں کہ کوئی آپ کی بات سنے گا نہیں یا سمجھے گا نہیں، اپنے دل میں مختلف اندیشوں کو جگہ نہ دیں
بلکہ اعتماد کے ساتھ اپنا مدعا کسی کے بھی سامنے بیان کر یں تو آپ کو مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

جس چیز یا بات کے بارے میں آپ قبل از وقت ہی منفی سوچنا شروع ہو جائیں گے تو ہ کبھی بھی اچھی نہیں ہوگی۔
درست ذرائع ابلاغ کا استعمال
کسی سے بھی بات چیت کرنے کے لیے ہمیشہ درست ذریعہ استعمال کریں۔
اگر آپ اپنے والدین سے کسی مسئلے کے بارے میں بات کرنا چاہتے تو آمنے سامنے کریں ناکہ میسجز یا فون کال کے ذریعے،
اس طرح وہ آپ کی مشکل کو صحیح طرح سمجھ ہی نہیں پائیں گے۔

بالکل اسی طرح اگر آپ گائوں میں کوئی آگاہی مہم چلاناچاہتے ہیں تو انہی کی مقامی زبان میںریڈیو یا ٹی وی کے ذریعے چلائیں گے تو وہ زیادہ قابلِ فہم ہو گی
بہ نسبت سوشل میڈیا کے۔
اس لیے ہر آدمی سے اس کے لیول کے مطابق طریقہ کار اختیار کرنے کی صورت میں بات زیادہ آسانی سے سمجھی جائے گی۔
۔وقت دیں
کمیونیکیشن گیپ کی بڑی وجہ وقت کا نہ دینا ہے۔
سب لوگ اپنی اپنی زندگی میں اتنا مصروف ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کے لیے وقت ہی نہیں نکال پاتے،
ایک دوسرے کو سنتے نہیں، بات نہیں کرتے، صرف اپنے ہی خیالات اور سوچوں میں گم رہتے ہیں۔

جب یوں گلے شکوے دلوں میں رہ جائیں تو دوریاں و فاصلے مقدر بن جاتے ہیں۔
اس لیے سوچیں ضرور کہ آپ کا ذرا سا وقت ،چھوٹی سی بات،تھوڑی سی توجہ اور چند لمحے کسی دوسرے کی زندگی کے لیے کتنے خوش کن اور پراثر ہو سکتے
کہ اس کو مایوسی، تنہائی اور اداسی سے نکال کر دوبارہ زندگی کی طرف لا سکتے ہیں۔
بقول اقبال

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles