30 C
Lahore
Tuesday, April 16, 2024

Book Store

بن بلائے مہمان

بن بلائے مہمان

ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی

ہمارے ایک بزرگ کہا کرتے تھے کہ مہمان خدا کی رحمت کا فوّارہ ہوتا ہے۔ انھیں اندازہ نہ تھا کہ بعض مہمان اپنے میزبان کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ اس کے رخصت ہو جانے کے بعد بے چارہ میزبان شکر کا ٹھنڈا سانس بھر کے غالبؔ کا یہ مصرع پڑھتا ہے
ع دھوئے گئے ہم ایسے کہ بس پاک ہو گئے۔
گزشتہ ہفتے جیسے ہی ہمیں اپنے بچپن کے دوست شاہ صاحب کا لندن سے کراچی آمد کا فون موصول ہوا۔ ہم نے اپنے گھر میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔ ہم ان کے قدیم مزاج شناس ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے جذبات کے اظہار میں کوئی تکلّف برتنے کے روادار ہیں۔ بیگم سے ہم نے مؤ دبانہ التجا کی کہ گھر کی صفائی ستھرائی کا خصوصی اہتمام کریںا ور اس مقصد کے لیے اپنی والدہ اور بہنوں کی خدمات بھی حاصل کر لیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ بچوں کو وارننگ دی کہ اپنی آوازوں کا والیوم ہلکا رکھیں اس لیے کہ شاہ صاحب کے کان اس شور سے ناآشنا ہیں۔(موصوف دادا جان کی عمر کو پہنچنے کے باوجود خیر سے مجر ّد ہیں اور شاید اسی لیے خاصے مچرب ہیں۔)
وہ پچیس سال بعد مختصر عرصے کے لیے کراچی آ رہے تھے۔ فولادی دل اور بارودی دماغ کے حامل ہیں اور جانتے ہیں کہ ہمارے سوا کوئی بھی ان کے ناز نخرے اُٹھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا چنانچہ انھوں نے کسی اور کو اپنے آنے کا اطلاع نہیں دی تھی۔
وقتِ معیّنہ پر ہم ان کے استقبال کے لیے ہوائی اڈّے پہنچ گئے۔ طویل انتظار اور اس اثنا میں کسٹمز کی ’’ضروریات‘‘ کی تکمیل کے بعد شاہ صاحب بالآخر لائونج میں نمودار ہوئے۔ بقول ان کے، پرواز دردِزہ سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوئی (خدا جانے اس کا اندازہ انھوں نے کیسے لگا لیا؟) باہر آ کر ہم نے انھیں بڑوں کی آزمودہ، بچوں کی ناپسندیدہ اپنی سوزوکی وین میں بیٹھنے کی پیشکش کی تو تیوری چڑھا کر بولے:
’’یہ تو لکھنؤ کے کسی بگڑے نواب کا تانگا لگتی ہے۔ کوئی مہذب گاڑی میسّر نہیں آپ کو؟‘‘ ہم نے احساس ندامت پر قابو پاتے ہوئے جواب دیا:
’’اس گاڑی کے رنگ ڈھنگ اور زنگ پر نہ جائیں۔ یہ ہمارے مختصر سے نقل پزیر اثاثوں کا اٹوٹ انگ ہے لیکن چلنے میں تنگ نہیں کرتی۔ آپ اس میں بے خطر کود پڑیں۔‘‘
فرمانے لگے: ’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم نے اپنی چالیس سالہ ملازمت میں اور کچھ نہیں بنایا۔‘‘
’’کیوں نہیں؟‘‘ ہم نے ان کی تصحیح کی: ’’اس کے علاوہ ایک عدد بیوی اور نصف درجن بچے بھی ان اثاثوں میں شامل ہیں۔‘‘ وہ بُرا سامنہ بنا کر خاموش ہو گئے اور بادلِ نخواستہ گاڑی میں بیٹھ گئے لیکن بیٹھتے وقت ان کا انداز ہُو بہو ایسا تھا جیسے ہماری آنے والی نسلوں پر احسانِ عظیم کر رہے ہوں۔
راستے میں سڑک کے ہر جھٹکے پر شاہ صاحب اپنے چہرے پر اس مخصوص تکلیف کا تاثر دیتے جس کا اظہار انھوں نے فلائٹ کے ضمن میں کیا تھا۔ پھر بار بار آتشیں نظروں سے ہمیں گھورتے جیسے ہم ہی اس کے ذمے دار ہوں۔ یہی نہیں بلکہ وہ لندن کی سڑکوں، وہاں کے قانون پسند لوگوں اور صاف ستھرے ماحول کا ہمارے عروس البلاد سے بلاجواز موازنہ کر کے ہمارے قلب نازک کو سنگسار کرتے رہے۔
اﷲ اﷲ کر کے ہم شاہ صاحب کو لے کر گھر پہنچے جسے باہر سے دیکھ کر ان کا پہلا تبصرہ یہ تھا: ’’تم نے واقعی شادی کے علاوہ کچھ نہیں کیا اور میں نے شادی کے علاوہ سب کچھ کیا ہے۔ (اب انھیں کون سمجھائے کہ جو شادی کرلیتا ہے وہ کچھ اور کرنے کے قابل کہاں رہ جاتا )
شاہ صاحب کو تین کمروں کے مکان کا 33 فیصد حصہ دے کر ہمارا خیال تھا کہ ہم نے حاتم طائی کی قبر کے ساتھ وہی کچھ سلوک کیا ہے جو اشرف طائی صاحب اپنی فری کک کے ذریعے مخالف کے جبڑے کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ چناںچہ ہم نے داد طلب نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔ تاہم انھوں نے بے رُخی سے آنکھیں پھیر لیں جیسے کہہ رہے ہوں؎
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یاں آپڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
شاہ صاحب نے اچھا کیا کہ اپنے اوامر ونواہی کی ایک مکمل فہرست ہمیں آتے ہی مہیا کر دی جس سے ہمارے مصائب میں قدرے کمی واقع ہو گئی۔ مزید طمانیت ان کی اس اطلاع سے حاصل ہوئی کہ وہ لندن سے ہمارے لیے قیمتی تحائف لے کر آئے ہیں۔ کھانے کاوقت آیا تو ہم انھیں ایک اعلیٰ درجے کے ہوٹل میں لے گئے کیوں کہ گھر کا کھانا ان کی طبعِ نازک سے لگا نہیں کھاتا تھا۔ انھوں نے مینو کارڈ کے بغور مطالعے اور بیرے کے تفصیلی انٹریو کے بعد فِش پر مبنی اپنی پسندیدہ ڈِش کا آرڈر دے دیا۔ کھانے کا پہلا لقمہ لیتے ہی تُرش لہجے میں بولے: ’’اس ہوٹل کے مالک کا کیا نام ہے اور وہ اس وقت کہاں دستیاب ہو گا؟‘‘
’’کیا ایف آئی آر کٹوانی ہے؟‘‘ ہم نے دریافت کیا۔ اس پر انھوں نے بگڑ کر کہا: ’’سوال پر سوال کی عادت مجھے ہرگز اچھی نہیں لگتی۔ تم سے جو پوچھ رہا ہوں وہی بتائو۔‘‘
پھر پلیٹ ہماری طرف بڑھاتے ہوئے برسے: ’’یہ کھانا ہے؟ معلوم ہوتا ہے افسران بالا اور صاحبانِ اقتدار کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا ہے جسے وہ بلا قیمت خوشی خوشی کھا کر چلے جاتے ہیں لیکن تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ ’مفتی‘کا یہ بلند مرتبہ تمھارے جیسے چھوٹے موٹے افسر کو حاصل نہیں ہو جاتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بندہ اچھی حیثیت، بے عیب شہرت اور عیب دار کردار کا مالک ہو۔ تم کس کھیت کی مولی ہو۔‘‘
اس سے قبل کہ وہاں لاء اینڈ آرڈر کا کوئی مسئلہ پیدا ہوتا، ہم نے کھانے کا بل (مع ٹِپ)ادا کر کے ایک دوسرے ہوٹل کی راہ لی۔ اس طرح تین ہوٹلوں میں کھانا چکھنے اور بیرے کے ساتھ اسی ’’حسنِ سلوک‘‘ کے بعد شاہ صاحب نے چوتھے ہوٹل میں کھانا کھایا۔ (بقول اُن کے زہرمار کیا)
بعد ازاں اس پر یہ رائے زنی فرمائی: ’’اس ہوٹل کا کھانا ذرا کم بد ذائقہ تھا لہٰذا آئندہ بھی یہیں آئیں گے۔ رہی دُور کی تکلیف، سو وہ میں تمہاری خاطر برداشت کر لوں گا۔‘‘ رات کو انھوں نے اپنے موبائل پر مغربی موسیقی لگا کر ناول کا مطالعہ شروع کر دیا۔ ہمیں اس ناول کا صرف ٹائٹل دیکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ خاصا مفرح قلب تھا اور اس سے مندرجات کا اندازہ لگانا مشکل نہ تھا۔ بہرحال اس قسم کی موسیقی اور ایسا ہی ناول ان کا روز کا معمول بن گیا۔
آدھی رات کے بعد بہت دیر تک موسیقی کی کرخت آوازیں گھر کے تمام افراد کو بے آرام کیے رکھتیں لیکن اس کا ایک خوشگوار پہلو یہ تھا کہ جب تک وہ ہمارے یہاں قیام پزیر رہے، اس غیر مترنم اور بے ہنگم شور کے باعث علاقے میں بھونکنے والے کتوں کی آوازیں دبی رہیں!
پہلی رات ہی انھوں نے فرمان جاری کردیا کہ ’’ـ بیڈٹی‘‘ صبح پانچ بجے نوشِ جاں کریں گے۔ اس کے بعد سوئیں گے تو اپنی مرضی سے اُٹھیں گے(اگرچہ دوسرا کوئی کام بھی انھوں نے ہماری مرضی سے نہیں کیا تھا)۔ اہلِ خانہ نے وہ رات آنکھوں اور باتوں میں کاٹی۔ ہم سب کو یہ فکر دامن گیر تھی کہ وہ لندن سے کیا تحفے لے کر آئے ہیں۔ پورٹیبل ٹی وی سے لے کر پرسنل کمپیوٹراور ہیرے کے ہار تک، ہر امکان پر غور کیا گیا۔ بیگم کا مشورہ تھا کہ صبح پوچھ ہی لیں گے لیکن چوں کہ بقول جوش
ؔ ع ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں
اس لیے ہم نے اس مشورے کو اپنی عزتِ نفس کے خلاف سمجھا۔ صبح ہم نے شاہ صاحب کو ان کے فلک شگاف خراٹوں کے ساتھ بستر پر چھوڑا اور دفتر روانہ ہو گئے۔ شام کو گھر لوٹے تو شاہ صاحب کا پیغام ملا کہ وہ اپنے کسی عزیز کے یہاں گئے ہیں۔ ہمارے لیے حکم یہ تھا کہ رات کے کھانے سے پہلے ان کو وہاں سے اُٹھا لیں۔ ہم نے حکم کی تعمیل کی۔ مقررہ ہوٹل سے انھیں کھانا کھلانے کے بعد راستے میں ہمیں ایک بار پھر اپنے ملک کے بارے میں وہ سب کچھ سننا پڑا جسے جانتے ہوئے بھی ہم انجان بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ (شاہ صاحب نے اسے بے حسی سے تعبیر کیا۔ کیسی زیادتی کی بات ہے؟ کم ازکم مہمان کو اس قسم کی صاف گوئی زیب نہیں دیتی)
گھر پہنچ کر انھوں نے ہماری بیگم سے پہلا سوال یہ کیا:
’’بھابی، آپ نے میرے کپڑے دھو کر استری کر دیے؟‘‘ جواب اثبات میں ملا تو ایسا لگا کہ ان کے چہرے کی کئی شکنوں پر استری پھر گئی ہے۔ ساتھ ہی موصوف نے نحیف سی آواز میں شکریہ ادا کیا۔ اب بیگم کا بھی کچھ حوصلہ بڑھا۔ چہک کر بولیں:
’’بھائی صاحب! یہ تو میرا فرض تھا۔ اب دیکھیے نا آپ بھی تو اتنے خلوص سے ہمارے لیے لندن سے تحفے لائے ہیں جو یقینا بہت قیمتی ہوں گے۔‘‘
شاہ صاحب نے اس بات کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا بلکہ موضوع بدلنے کے لیے ہمارے ٹی وی پروگراموں کے غیر معیاری ہونے کا شکوہ کرنے لگے۔ بعد ازاں ان کی تفریح طبع کے خیال سے ہم نے اپنا اکلوتا ٹی وی (مع ریموٹ کنٹرول) ان کے کمرے میں رکھ دیا کہ اپنی مرضی سے چینل گھماتے رہیں۔
شاہ صاحب نے تقریباً ایک ہفتہ ہمارے غریب خانے کو غریب تر کیے رکھا۔ اس دوران ہم نے ایک فرمانبردار اور صابر و شاکر شوہر کی طرح اُن کی خدمت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ ہم تو خیر اس جبری مشقت کے عادی ہیں لہٰذا یہ صدمہ سہہ گئے لیکن بیگم اور بچوں کے لیے ان کا قیام نا قابلِ برداشت ہوتا جا رہا تھا۔ ہم نے ان سب کو پرانی دوستی اور ان کے لائے ہوئے تحفوں کے ناتے قابو میں رکھا۔ آخرکار ان کی جدائی کا خوشگوار لمحہ آن پہنچا۔ ایک روزناشتے پر انھوں نے یہ فرحت بخش خبر سنائی کہ آج شام میں یہاں سے رخصت ہو جائوں گا۔ ہم نے چہرے پر مصنو عی افسردگی کے تاثرات دیتے ہوئے کہا:
’’ایسی بھی کیا جلدی ہے؟ آپ کو آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں؟ یہ تو وہی کیفیت ہو گئی جس کا نقشہ غالبؔ نے اپنے محبوب کی آمد و روانگی کے ضمن میں کھینچا تھا؎
بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا‘‘
کہنے لگے: ’’اب بہت ہو گیا اور ہاں میری فلائٹ کے وقت آپ آفس میں ہوں گے لہٰذا مجھے رخصت کرنے کی زحمت نہ فرمائیں۔‘‘ ہمارے منہ سے نکل گیا: ’’زحمت کیا، یہ بات تو میرے لیے باعثِ مسرت ہو گی۔‘‘
شاہ صاحب نے ایک نگاہِ غلط انداز ہم پر ڈالی اور ایسا تاثر دیا کہ جیسے کچھ نہ سمجھے ہوں۔ بیگم کو تحفوںکا تجسّس تھا چناںچہ انھوں نے ہمارے کاندھے پر بندوق رکھ کرفائر کیا:
’’بھائی صاحب، یہ آپ کے دوست ہروقت آپ کے لائے ہوئے تحائف کے بارے میں قیاس آرائی کرتے رہتے ہیں۔ اب اس بلی کو تھیلے سے باہر نکال ہی دیجیے۔‘‘
’’ہاں…ہاں۔‘‘شاہ صاحب نے بیگم سے اتفاق کیا اور سوٹ کیس میں سے دو بڑے بنڈل نکالے جنہیں نہایت نفاست سے پَیک کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ پہلے ہم سے مخاطب ہوئے: ’’تمہیں لکھنے کا شوق ہے اور تم صحافت پڑھاتے بھی رہے ہو۔‘‘ پھر بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے بولے، ’’اور بھابی، آپ کو پڑھنے کا شوق ہے۔‘‘ ہم دونوں نے اعتراف جرم کر لیا۔
اب انھوں نے ایک پیکٹ ہماری طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ’’اس میں لندن کے کچھ پرانے اور کچھ نئے اخبارات کے شمارے ہیں۔ ان سے تمہیں وہاں کی صحافت کے رجحانات کا اندازہ ہو گا۔‘‘ دوسرا بنڈل انھوں نے بیگم کے آگے کیا اور فرمایا: ’’بھابی، اس میں آپ کے لیے کچھ پرانی کتابیں ہیں جن سے آپ کے علم میں اضافہ ہو گالیکن تمام کتابیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔‘‘
شاہ صاحب نے دلوں کی اتنی ہی جراحت پر اکتفا نہ کیا۔ نمک پاشی کی رسم ادا کرنے کے لیے اُلٹا ہم سے سوال کیا:
’’کہو کیسے تحفے ہیں؟‘‘ ہم نے زبان سے ان کا شکریہ ادا کیا اور دل میں اُستاد قمر جلالوی کا یہ شعر پڑھا؎
آپ اک پھول بھی دیں گے تو اس احسان کے ساتھ
جیسے گلزار کا گلزار دیے دیتے ہیں

یہ بھی پڑھیئے
https://shanurdu.com/main-ek-miyan-hoon/

 

 

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles