31 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

بلوچستان کے بھائیوں کے درمیان تین دن

January 2, 2013
صورتِ حال
الطاف حسن قریشی

altaf hasan qureshi | الطاف حسن قریشی
altaf hasan qureshi | الطاف حسن قریشی

گزشتہ سال بلوچستان پر بہت بھاری گزرا اور سپریم کورٹ کو بدامنی کے معاملے کی
مسلسل سماعت کرنا پڑی تھی
اُس نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ بلوچستان کی حکومت اپنے آئینی فرائض کی
بجاآوری میں ناکام ہونے کے بعد اپنی حکمرانی کا جواز کھو بیٹھی ہے۔
اِس کے علاوہ لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ سربریدہ لاشوں کے
واقعات پورے ملک میں اضطراب اور تشویش پیدا کرنے کا باعث بن رہے تھے۔
ہزارہ قبیلے کے مردوں اور عورتوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی ایک انجانے خوف کو جنم دے رہی تھی۔
ڈاکٹروں اور انجینئروں کا اغوا برائے تاوان کاروبار کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا تھا اور
اساتذہ اور لاکھوں آبادکاروں کی نقل مکانی ذہن کو ماؤف کیے دے رہی تھی۔
راقم الحروف پائنا کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے بلوچستان پر قومی کانفرنس کا
لاہور میں انعقاد کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس کر رہا تھا تاکہ بلوچ بھائیوں کا
براہ راست حالِ دل سنا جائے
اور بلوچستان جو پاکستان کا اسٹریٹیجک علاقہ ہے ٗ اس کے لیے امن اور ترقی کا
ایک روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔
میں نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران سے
اپنے اِس خیال کا اظہار کیا تو اُنہوں نے بڑی خوش دلی سے قومی یک جہتی کو
فروغ دینے میں ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔
کئی بار تاریخوں میں تبدیلی کے بعد دو روزہ قومی کانفرنس کے لیے 2اور 3جنوری مقرر ہوئی۔
اِن دنوں موسم انتہا کا سرد اور کہر آلود تھا ٗ مگر ہماری دعوت پر کوئٹہ ٗ کراچی
اور اسلام آباد سے سیاست دان ٗ اہلِ دانش ٗ عظیم صحافی ٗ بیورو کریٹ اور سیکورٹی امور کے ماہرین تشریف لائے۔
لاہور کی معزز شخصیات نے بھی کانفرنس میں گہری دلچسپی لی اور
یوں باہمی تبادلۂ خیال کا ایک مفید سلسلہ چل نکلا۔ شرکاء میں تقریباً سبھی
قومی اور نیشلسٹ جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔
مسلم لیگ نون کے ممبر قومی اسمبلی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے
بلوچ علاقوں میں بغاوت کا اصل سبب نواب اکبر بگتی کی شہادت کو قرار دیا ٗ
جبکہ اُن کے مطالبات انتہائی معمولی درجے کے تھے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائم مقام صدر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی
جو ایک زیرک سیاست دان ہیں ٗ اُن کا کہنا تھا کہ بار بار کی وعدہ خلافیوں سے
اسلام آباد اور بلوچستان کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہوا ہے
اور طاقت کے غیر ضروری استعمال سے اُن سیاسی عناصر کے لیے کام کرنا دشوار ہو گیا ہے
جو وفاق اور جمہوریت کے استحکام پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے کارکن قتل کیے جا رہے ہیں ٗ
جبکہ باغی لوگ بھی ہماری جان کے دشمن ہیں۔ نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل جناب طاہر بزنجو
کی رائے میں ناراض بلوچوں سے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کیے جا سکتے ہیں۔
یہی رائے ہمارے عظیم صحافی ڈاکٹر سید فصیح اقبال کی بھی تھی جو کہہ رہے تھے کہ
میں جناب خیر بخش مری کے ساتھ مذاکرات کرانے میں کردار ادا کر سکتا ہوں ٗ
جبکہ پی پی پی کے ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر آیت اﷲ درانی اور بگتی پیٹریاٹک کونسل
کے چیئرمین جناب سرفراز بگتی کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ مذاکرات صرف اُن لوگوں سے کیے جانے چاہئیں
جو ریاست کے خلاف ہتھیار اُٹھانے سے باز رہیں۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر عبدالخالق ہزارہ نے
اپنے قبیلے کی ٹارگٹ کلنگ کا احوال سنایا اور اِس غم کا اظہار کیا کہ
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے قاتل گرفتار کرنے کے بجائے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہا کہ
میں آنسو پونچھنے کے لیے ٹشو پیپرز کا ایک ٹرک بھیج دوں گا۔
اُنہوں نے کہا کہ مذہبی روداری اور سیاسی عمل کو فروغ دینے سے امن کے راستے کشادہ ہو سکتے ہیں۔
جماعت اسلامی کے نائب امیر جناب حاجی عبدالقیوم کاکڑ جو بائیس گھنٹے سفر کر کے لاہور پہنچے تھے
اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان بہت بڑا قومی اور سیاسی مسئلہ ہے اور سیاسی اور فوجی قیادت کو
مل بیٹھ کر اِس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
اِس ضمن میں ہمارا میڈیا بھی نہایت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
جناب عبد الحکیم بلوچ جو بلوچستان میں چیف سیکرٹری رہے اور طالب علمی کے زمانے میں
طلبہ سیاست میں بھی بہت فعال تھے اور اُنہوں نے بلوچستان پر ایک قابلِ قدر کتاب تصنیف کی ہے
اُن کے خیال میں وفاقی حکومت نے بلوچ عوام کے حقوق بری طرح پامال کیے اور اُن کے وسائل پر
قبضہ کیے رکھا ہے اور اب اٹھارویں ترمیم کے ذریعے جو صوبائی خود مختاری دی گئی ہے
اور این ایف سی ایوارڈ میں جو مالی وسائل فراہم کیے گئے ہیں ٗ اُن کا عوام کو ذرا بھی فائدہ نہیں پہنچا۔
جمعیت علمائے اسلام کے حافظ حسین احمد وفاقی حکومت کی بے اعتنائی کاگلہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے
کہ صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کو بلوچستان میں طویل قیام کرنے اور عوامی مسائل کو سمجھنے اور موقع پر احکام جاری کرنے کی توفیق نہیں ہوئی ٗ اُن کے اور جنرل مشرف کے طرزِ عمل میں کوئی فرق نہیں۔
جناب انوار الحق کاکڑ جنہوں نے اسلامی تاریخ اور علامہ اقبال کا گہرا مطالعہ کیا ہے
اُن کا تجزیہ اور مشورہ یہ تھا کہ ریاستِ مدینہ کے ماڈل پر عمل کرنے سے پورے ملک اور بلوچستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے سابق سپیکر کے فرزند نواب غوث بخش باروزئی کہہ رہے تھے
میجر جنرل (ر) محمد فاروق جو بلوچستان کے ساتھ _________اور آخر میں جی او سی بھی رہے ٗ اُنہوں نے بتایا کہ عسکری قیادت بلوچستان کی تعلیم اور انفراسٹرکچر کی تعمیر پر بڑی توجہ دے رہی ہے۔
آرمی چیف جنرل پرویز کیانی نے بلوچ قیادت کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے فوجی چھاؤنیوں کا سلسلہ ختم کر دیا ہے اور اُن کی جگہ ایجوکیشن سٹی آباد کیا ہے۔
ہسپتال اور کیڈٹ کالج کھولے جا رہے ہیں اور بلوچستان کے ہزاروں نونہال پورے ملک میں فوج کے تعلیمی اداروں میں علم حاصل کر رہے ہیں۔
حالیہ پاسنگ پریڈ کے بعد فوج میں بلوچستان کو اپنی آباد کے تناسب سے نمائندگی حاصل ہو گئی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے میں ایک دوسرے سے تعاون کریں اور ناراض بلوچوں کو یہ باور کرائیں کہ اُن کا مستقبل پاکستان ہی سے وابستہ ہے
کیونکہ مانگے تانگے کی فریب خوردہ آزادی بیرونی طاقتوں کو اپنا کھیل گریٹ گیم کھیلنے کا موقع فراہم کرے گی۔
کانفرنس میں لاہور کے متعدد سیاست دانوں اور
دانش وروں نے جن میں ممتاز قانون دان جناب ایس ایم ظفر ٗ سید فخر امام ٗ جناب شاہد حامد ٗ
جناب ہمایوں اختر خاں ٗ جناب احسان وائیں اور جناب قیوم نظامی شامل تھے ٗ اُنہوں نے اِس امر پر کسی قدر اطمینان کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ ٗ تمام سیاسی جماعتیں اور __________
بلوچستان میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور بلوچستان کی سیاسی اور انتظامی قیادت کو
اِن مواقع سے پورا پورا فائدہ اُٹھانا چاہیے جو اسے اٹھارویں ترمیم نے فراہم کیے ہیں۔ بلوچستان سے آئے ہوئے

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles