32 C
Lahore
Thursday, July 18, 2024

Book Store

بہادر لڑکی

 

ایک نہتی بہادر لڑکی

مسکان خان تم چند لمحوں میں عالم اسلام کی شہزادی بن گئی ہو!۱

جاوید ایاز خان

اس کے سامنے ایک انتہا پسند مشتعل ہجوم تھا اور وہ برقع میں اپنے آپ کو ڈھانپتی اکیلی اور نہتی مسلمان لڑکی تھی۔ چاہتی تو عقلی تقاضوں کے تحت ادھر اُدھر ہو سکتی تھی۔ تھوڑا جھک کر تیزی سے گزر سکتی تھی مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔
سامنے اس کے خون کے پیاسے حملہ کرنے کو بڑھ رہے تھے۔ وہ ڈری نہیں، وہ دوڑی نہیں۔ اس  نے اس اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے بے قابو مشرک ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر خدائے واحد کی بڑائی کا نعرہ لگایا

“اللہ اکبر “

جو بڑی دلیری اور  جگرے کا کام تھا ۔اتنی دلیر بڑے جگرے کی مالک اگر صنف نازک ہو تو اس کی بہادری، جرات اور قوت ایمانی کی داد نہ دینا انتہائی کم ظرفی اور بزدلی شمار ہو گی ۔
اے ملت اسلامیہ کی بہادر بیٹی، ہمیں تم پر اور تمہاری عظمت و عزیمت اور غریت ایمانی پر فخر ہی نہیں، بے پناہ رشک بھی ہے ۔

سلام ہو تمہاری قوت ایمانی پر
سلام ہو تمہاری استقامت اور بہادری پر
سلام ہو تمہارے ماں باپ اور اساتذہ کی تربیت پر
تم  نے ہمیں جرت وحمیت کا جو پیغام دیا، وہ اب ہماری تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔
تمہارا یہ جذبہ ایمانی ضرور ایک دن رنگ لائے گا ۔
انتہا پسند بھارت میں آئے روز مسلمانوں کی زندگی کو مختلف پابندیوں سے اجیرن کیا جا رہا ہے۔ زندگی ان پر تنگ کرنے کی کوشش جاری ہے۔

اب کشمیر کے بعد یہ ظلم وستم پورے بھارت میں پھیلتا جا رہا ہے ۔ کشمیر میں ظلم و بربریت کے بعد اب پورے انڈیا میں مسلم بچیوں کو اسکولوں حجاب اور مسلم لباس پر پابندیوں کا سامنا ہے ۔ جس پر بھارت میں مسلم بچیاں کئی دنوں سے اسکولوں کے باہر احتجاج کر رہی ہیں۔

اسی احتجاج کے دوران اس دلیر بیٹی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہے۔ جب شرپسند ہندو ہجوم  نے اس احتجاج کو ختم کرانے کے لیے نفرت آمیز اور اسلام دشمن نعروں کے ساتھ منتشر کرنے کی کوشش کی تو رب کعبہ کی اس ابابیل  نے ہزاروں کے ہجوم میں اکیلے کلمہ حق بلند کیا اور تنہا اللہ اکبر کے واشگاف نعرے بلند کر کے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔

یہ مسلما ن نڈر بچی مسکان خان ہے، جو انتہا پسندوں سے ذرا بھی خوفزدہ نہ ہوئی اور ظلم اور جبر کے مقابلے میں تنہا ڈٹ کر کھڑی ہوئی اور چند لمحوں میں عالم اسلام کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔
کہتے ہیں ایمانی جذبہ اور دین اسلام کی محبت ہو جھنڈ کے جھنڈ بھی کیڑے مکوڑے نظر آتے ہیں ۔ اور تن تنہا ممکن ہی نہیں بلکہ آسان و سہل ہو جاتا ہے ۔سدا سلامت رہو۔

بے شک اس عظیم بیٹی  نے خاتون ” احد ” حضرت اُم عمارہ رضی اللہ عنہا کی یاد تازہ کر دی۔ جن کی جنگ احد میں ڈیوٹی تو زخمیوں کی مرہم پٹی اور پانی پلانے کی تھی مگر جب انہوں  نے دیکھا کہ کفار بھاری ہو رہے ہیں تو خود تلوار اُٹھا کر میدان میں آ گئی تھیں۔
آپ کے جسم مبارک پر اس جنگ میں ستر زخم لگے جس پر حضور پاک ؐ نے فرمایا تھا
آج میں جدھر دیکھتا ہوں، اُم عمارہ ؒ کو پاتا ہوں۔ الہہ کریم سب کو ایسی غیرت ایمانی اور عظمت عطا فرمائے۔آمین مسکان خان آپ کا کارنامہ صرف حجابی لڑائی نہیں بلکہ ہندو سوچ کے لیے ایک انقلابی چیلنج ہے

تو یہیں ہار گیا ہے میرے بزدل دشمن
مجھ سے تنہا کے مقابل تیرا لشکر نکلا

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles