42.1 C
Lahore
Friday, July 12, 2024

Book Store

الوداع چندا

الوداع چندا

شہباز اکبر الفت

شہباز اکبر الفت
شہباز اکبر الفت

کئی دنوں کی تھکن اور رتجگوں کے اثر سے جسم ٹوٹ رہا تھا۔ لڑکھڑاتے قدموں سے بیسن کی طرف بڑھا۔ نل کھول کر جھکا اور ہاتھوں میں پانی لے کر منہ پر چھینٹے تاکہ کچھ تازہ دم ہو سکوں۔
پانی پڑتے ہی جسم کو جھٹکا لگا۔ سر اٹھایا تو دیوار گیر آئینے پر نظر پڑی۔
ستا ہوا چہرہ، کھچڑی بال، بڑھی ہوئی شیو، سوجے ہوئے پپوٹے اور پپوٹوں کے پیچھے لال انگارہ آنکھیں۔
اپنا ہی چہرہ اجنبی اجنبی سا لگا۔ کچھ دیر خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا۔ چند ثانیے اسی ادھیڑبن میں گزر گئے کہ میں کون ہوں؟ کیا ہوں؟ کہاں ہوں؟ اور کس لیے ہوں؟
سماعت سے کچھ سرگوشیاں ٹکرا رہی تھیں۔ کچھ ادھورے لفظ اور نامکمل جملے جو بےچینی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔
اچانک کسی انجانے خدشہ نے آن گھیرا۔ دل کی دھڑکن یکلخت ہی تیز ہوئی اور پلکوں پرجما خون بھی جیسے پگھل کر بہ نکلا۔
کچھ دیر میں ہی سارا منظر دھندلا گیا اور آئینے میں صرف ایک چیز باقی رہ گئی، میری آنکھیں۔ نظروں نے نظروں کا تعاقب کیا اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔ زندگی میں پہلی بار مجھے اپنی آنکھوں میں خوف محسوس ہوا۔
”موت کا خوف”
مزید چند ثانیے اسی طرح چپ چاپ، دبے قدموں گزر گئے۔
سرگوشیاں واضح ہونا شروع ہو گئیں۔
آوازیں قریب آتی جا رہی تھیں۔
اور پھر آدھے ادھورے لفظوں نے مکمل جملوں کی قبا اوڑھ کر قیامت ہی ڈھا دی۔
یعنی وہی ہوا جس کا دھڑکا لگا ہوا تھا۔
انہونی ہو کر رہی۔ ہونی کو تو ویسے بھی کوئی نہیں ٹال سکتا۔
” بھائی۔“ اصغر نے سسکتے ہوئے مجھے جھنجھوڑا۔
” کیا ہوا؟ ” میں نے تڑپ کر پوچھا۔
” دل بند ہو گیا ہے۔” اس نے چندا بارے ڈاکٹروں کی آخری رپورٹ سنائی اور خود کسی کٹے ہوئے شہتیر کی طرح میرے بازؤوں میں جھول گیا۔
خدا گواہ ہے کہ اس لمحے مجھے خود بھی یہی لگا کہ جیسے میرا اپنا دل بند ہو گیا ہے۔
میں نے آنکھیں مل مل کر ادھر ادھر دیکھا۔
ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔
کوئی بھیانک اور ڈراؤنا خواب۔
ہر طرف آنسو، آہیں، چیخ و پکار۔
زندگی میں پہلی بار اُوپر، آسمان کی طرف دیکھا۔ ہاتھ بلند کیے اور پوری شدت سے دعا مانگی کہ
کاش یہ کوئی خواب ہو اور ابھی آنکھ کھل جائے۔
لیکن، ایسا نہیں ہوا۔
پتا نہیں رب کی کیا منشاء تھی؟
آئی سی یو کا وہ بند دروازہ، جس کے کھلنے سے دل اچھل کر حلق میں آ جاتا تھا، اب پوری طرح کھل چکا تھا۔
72 گھنٹوں میں 72 خون کی بوتلیں لگنے، ہر قسم کی مہنگی اور نایاب دوائیں استعمال کرنے کے باوجود بھی ڈاکٹر اس کی زندگی نہیں بچا سکے۔
اور چندا ۔۔۔۔ ہم سب کی لاڈلی چندا، ہم سب کو ہمیشہ کے لیے روتا ہوا چھوڑ کر اپنے ابدی سفر پر روانہ ہو گئی۔
سچ پوچھیں تواپنی چندا کے بارے میں کچھ لکھنا میرے لیے آسان نہیں۔ ابھی تک سکتے کی سی کیفیت میں ہوں۔
زندگی میں پہلی بار احساس ہوا ہے کہ درد سہنے اور کہنے میں بہت فرق ہوتا ہے اور یہ کہ کرب کی کوئی زبان نہیں ہوتی اور یہ بھی کہ خون کے رشتوں کی کسک بھی جسم سے خون تک نچوڑ لیتی ہے۔
چندا زندگی سے بہت دُور جا چکی اور میں اسے ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ کر زندگی کی طرف واپس لوٹنے کی کوشش میں ہوں۔
لمحہ موجود تک میری نم آنکھوں میں صرف دو مناظر جھلملا رہے ہیں۔
ایک اس کا ہنستا، مسکراتا گول مٹول سا چہرہ، جس پر ہمیشہ کسی باربی ڈول کا گمان ہوا۔
دوسرا آئی سی یو کے باہر کا وہ منظر جس میں ہر نظر اس بند دروازے پر لگی تھی۔ جس کے پیچھے وہ دھان پان سی لڑکی اپنی زندگی کے سب سے مشکل دور سے گزر رہی تھی۔
وہ بظاہر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھی لیکن میں جانتا تھا کہ وہ درحقیقت دست اجل سے نبرد آزما تھی۔
وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہونے کے باوجود اپنی زندگی کی طرف لوٹنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی۔ اپنے تین سالہ معصوم سے عبداللہ کے لیے اور اس ننھے وجود کے لیے جس کو دنیا میں لانے کے لیے اس نے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔
اللہ پاک اسے اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ آمین ثم آمین۔

۞۞۞۞

آئیے! اب آپ کو قدرے تفصیل سے بتاتا ہوں کہ چندا کون تھی؟ میرے لیے کیوں اتنی اہم تھی؟ کہ اس کی ناگہانی موت نے مجھے امی، ابو اور بھائی کی موت کا غم بھی وقتی طور پر بھلا دیا ہے۔
مہناز عرف چاندی، چندا میرے بڑے بھائی، میرے مربی و مشفق مخدوم اشفاق اکبر اسد کی منجھلی بیٹی تھی۔ مہناز سے پہلے گلناز اور امداد ہمارے گھر کی رونق بڑھا چکے تھے۔
گلناز چونکہ خاندان کی پہلی اور بڑی بیٹی ہے تو اس کے حوالے سے فکرمندی بھی ہمیشہ زیادہ رہی۔ مہناز کو البتہ کبھی کسی روک ٹوک کا سامنا نہیں رہا۔
اس کی آمد نے ہمارے گھر کو گویا خوشیوں کا گہوارہ بنا دیا تھا۔ گھر میں ایک بہن کی اصل کمی مہناز نے ہی پوری کی۔ اپنے امی ابو، تایا، چاچوؤں، ماموؤں، بہن اور بھائیوں کی آنکھوں کا تارا تھی میری چندا۔
اس نے ایک بہن اور بیٹی کا پورا پروٹوکول سمیٹا۔ اس کی پیدائش سے پہلے بھابھی نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کا نام علی حیدر رکھیں گی۔ بیٹی ہونے کے باوجود اسے علی حیدر کے نام سے بھی پکارا گیا ۔
اب یہی نام اس کے نوزائیدہ بیٹے کو تفویض کیا گیا ہے۔ چندا کا بچپن اور میرا لڑکپن ساتھ ساتھ گزرا۔ گوری چٹی اور گول مٹول سی مہناز کو چاندی کا لقب بھی پہلی بار میں نے ہی دیا تھا۔
اسے لاڈ سے ربڑ کی گڑیا بھی کہا کرتا۔ اسکول سے لوٹتے ہی اسے اٹھا لیتا اور سارا دن گود میں اُٹھائے بھاگا پھرتا۔
اسے نیند بھی میرے سینے پر ہی آتی تھی۔ گلے میں بانہیں ڈالتے ہی گالوں پر پیار کرتی اور آنکھیں بند کر لیتی۔ میری کتابیں اور ڈائجسٹ پھاڑنے میں بھی اس کو بڑی خوشی ملتی تھی۔ میری جھنجھلاہٹ دیکھ کر کھکھلا کر ہنستی، قلقاریاں مارنے لگتی۔
میں نے ہی اسے انگلی پکڑ کر ہر قدم چلنا، لفظ بولنا سکھایا، لڈو سے اسٹاپو اور کینچوں سے کرکٹ تک سارے کھیل ہم  نے مل کر کھیلے۔ مجھے چاچو, مجھ سے چھوٹے اصغر کو ہمیشہ بھائی کہہ کر بلایا۔
چندا کے حوالے سے یادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو کم و بیش ستائیس, اٹھائیس سالوں پر محیط ہے۔ اتنے واقعات ہیں کہ لکھتے لکھتے عمر بیت جائے۔
میری چندا دھان پان سی ہونے کے باوجود بڑی بہادر بچی تھی۔ بچپن میں پنسل کا سکہ نگلنے کا خمیازہ اسے دل میں تکلیف کی صورت بھگتنا پڑا۔ جس کی وجہ سے نوبت آپریشن تک پہنچی۔
اسی طرح تار پر کپڑے پھیلاتے ہوئے اسے بجلی کا زوردار جھٹکا بھی کم عمری میں ہی لگ چکا تھا۔ اس کی شادی سگے ماموں کے گھر ہوئی جہاں بڑی بہن گلناز پہلے سے موجود تھی۔
میں بوجوہ شادی والے دن عین اس وقت گھر پہنچا جب بارات پہنچنے میں بھی کچھ دیر ہی باقی تھی۔ میرے آنے کا سنتے ہی اس نے فورا مجھے اپنے کمرے میں طلب کیا، جہاں وہ دلہن بنی بیٹھی  تھی۔
مجھے دیکھتے ہی فوراً اٹھی, گلے میں بانہیں ڈالیں اور پھر بازو پکڑ کر پاس بٹھا لیا۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹہ ہم چچا بھتیجی گپیں مارتے رہے۔ اچانک مجھے شرارت سوجھی اور میں نے ایک مصنوعی سی جھنجھلاہٹ چہرے پر سجا کر کہا:
” چندا اب جانے بھی دو مجھے۔ کسی سہیلی کو کمپنی کے لیے بلا لو۔”
سدا کی ہنس مکھ میری بچی قدرے سنجیدگی سے بولی۔
” چاچو! میں شاید دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی ہوں جس کے چاچوؤں اور بھائیوں نے اسے ہمیشہ اتنا پیار, اتنی توجہ دی کہ مجھے کبھی کسی سہیلی کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔”
مجھے اکثر کہا کرتی تھی:
” چاچو! آپ نے سب کو اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے۔ دیکھیں نا بھائی فخر ( گلناز کا شوہر) اور اسد بھی ہر وقت فیس بک پر لگے رہتے ہیں۔” اور ایسے مواقع پر اسد کو بھی صرف ایک ہی بہانہ سوجھتا۔
” میں تو ماموں کی پوئٹری پڑھتا رہتا ہوں۔” اور یہ بہانہ اس کا مصنوعی غصہ دور کرنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔
اشفاق بھائی میرے خاندان کے پہلے شاعر ہیں جنہوں نے باقاعدہ مشاعرے بھی پڑھے۔ انہی کی دیکھا دیکھی مجھے بھی تک بندی کا شوق چرایا۔ ان کے بچوں میں سے گلناز, امداد اور علی رضا نے کئی اچھی نظمیں لکھی ہیں۔ علی رضا, الفتح سپر اسٹور کی ایک برانچ میں سپروائزر ہونے کے باوجود بچوں کے رسائل بڑے شوق سے پڑھتا ہے۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ ایک دن گھر گیا تو چندا بھی آئی ہوئی تھی۔ مجھے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح خوشی سے نہال ہو گئی۔ مجھ سے کہنے لگہ  کہ چاچو کچھ نیا لکھا ہے تو سنائیں۔
میں نے موبائل نکال کر ” قسمت کی پڑیا” سنانا شروع کر دی۔ عبداللہ کو گود میں لیے وہ پوری دلچسپی سے کہانی سن رہی تھی۔ جب میں ان سطور تک پہنچا ؛
” یہ میری کہانی ہے ….. ” تو پتا نہیں کیوں میرا گلا رندھ گیا, آواز بھرا گئی۔ اس نے جھٹ موبائل میرے ہاتھ سے چھینا۔
” یہ میری کہانی ہے۔ میری یعنی شہباز اکبر الفت کی کہانی۔”
اس نے بلند آواز میں پڑھا اور پھر پتا نہیں کیا ہوا, اگلی سطر پڑھتے ہی اسے چپ سی لگ گئی۔ خاموشی سے پڑھتی رہی اور آنسو اس کی گود میں گرتے رہے۔ کہانی پڑھ کر اس نے سر اوپر اٹھایا تو چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ کچھ دیر میری طرف دیکھتی رہی اور پھر بھرائے ہوئے لہجے میں صرف اتنا کہا۔
” ہمیں اس کہانی پر فخر ہے چاچو۔”
ہمیں بھی اس کی زندگی کی کہانی پر فخر ہے۔ اس نے دنیا میں ایک بہن, بیٹی, ماں اور بیوی کی حیثیت سے اپنا کردار ہمیشہ انتہائی ذمہ داری اور خوب صورتی سے نبھایا۔
اس کی ذات سے ننھیال, ددھیال , میکہ اور سسرال میں کبھی کسی کو کوئی شکایت نہیں رہی۔ وہ ایک عظیم فریضہ انجام دیتے ہوئے شہادت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوئی۔ مجھے یقین ہے کہ میرا اللہ بھی میری چندا سے بہت راضی ہوا ہو گا. ان شاء اللہ
7 دسمبر 2019ء

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles