33 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

احساس کے انداز

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

تحریر،۔جاوید ایاز خان

ڈیرہ نواب صاحب کے تاریخی ریلوے اسٹیشن کی خستہ حالی

۱۹۶۰ء میں جب میں پہلی مرتبہ کوٹ ادو سے ڈیرہ نواب صاحب پہنچا تو میں اس اسٹیشن کی خوبصورتی دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔
یہ مین لائن پر واقع ہے۔  میں نے اس سے قبل اتنی خوبصورت گول گنبدوں والی بہاولپوری فن تعمیر کی شاندار عمارت اور سرسبز پھلواریاں کہیں نہیں دیکھی تھیں ۔
صفائی ستھرائی کا یہ عالم تھا کہ پورا پلیٹ فارم جگمگ کرتا نظر آتا تھا ۔ جب پاکستان کے بیشتر حصوں میں بجلی نہ تھی،
تو یہاں نواب صاحب نے ریاست میں اپنی بجلی کا انتظام کیا ہوا تھا۔
جب رات میں ٹرین یہاں آ کر رکتی تو لوگوں کو لگتا کہ وہ اندھیروں سے اجالوں میں آ گئے ہیں ۔
نواب صاحب کے سیلون کا راستہ خوبصورت پھولوں اور لہلاتے سرسبز درختوں سے مزین تھا۔
سیلون کی تاریخ ساز عمارت اپنی جگہ اپنی مثال آپ تھی۔
اس میں موجود نواب صاحب کی ذاتی ٹرین کی بوگیاں دیکھنے سے تعلق رکھتی تھیں۔ جن کے اندرونی حصوں پر سونے کے پانی چڑھایا گیا تھا۔ اس کی تزین و آرائش قابل دید تھی ۔اس سیلون کے ساتھ ہی شاہی مہمان خانہ قائم تھا ۔
جب نواب صاحب اور انکے معزز مہمانوں کا سیلون براہ راست ایک علیحدہ راستے سے ریلوے لائن کے ذریعے یہاں پہنچتا،  تو ان کا پر تپاک استقبال کیا جاتا۔
دنیا کے تمام نامور بادشاہ ،حکمران اور عہدیداران سبھی یہاں کا دورہ کر چکے۔ اس مہماں خانے کو راجے مہارجوں ،برطانوی شاہی خاندان ،شاہ عراق ،شاہ ایران ، شاہ عرب ، انگریز وائسرے اور پاکستانی حکمرانوں کی میزبانی کا شرف حاصل رہا۔
یہاں ریاست بہاولپور کی افواج کا ایک دستہ ہمہ وقت موجود ہوتا تھا ۔اس کی صفائی اور حفاظت کے لیے بے شمار ملازمین موجود رہتے تھے ۔
ریاست بہاولپور کے دارلخلافہ ہونے کی وجہ سے پاکستان ریلوے کی تمام ٹرینیں یہاں رکتی تھیں جو اس پلیٹ فارم کو اور بھی پُرونق بناتی تھیں ۔
اسٹیشن کے باہر خوبصور ت تانگے گھوڑوں کا اڈا تھا، جو لوکل سواری فراہم کرتا تھا ۔ڈیرہ نواب صاحب دراصل احمدپور شرقیہ کے ریلوے اسٹیشن کا نام ہے، جو ڈیرہ نواب صاحب سے تین کلو میڑ دور ہے۔
یہاں سے ڈیرہ نواب صاحب تک خوبصورت اور پختہ سڑک بنی ہوئی تھی۔ یہ تمام راستہ باغوں سے گھرا ہوا تھا۔ جو اس کی خوبصورتی کو اور بھی چار چاند لگا دیتا تھا ۔
ڈیرہ نواب صاحب میں نواب صاحب کی وسیع و عریض رہائش گاہ اور شاہی محل واقع ہے جو صادق گڑھ پیلس کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ اب صرف نام کا ہی محل رہ گیا ہے ۔
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
نہ گل ہیں نہ غنچے نو بوٹے نہ پتے
ہوے باغ نذر خزاں کیسے کیسے
ریاست بہاولپور کے الحاق پاکستان کے ساتھ ہی ریاست کی روشنی ماند پڑنے لگی۔ رفتہ رفتہ ہر جانب زوال کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے تھے ۔
عمارتیں ویرانوں اور کھنڈروں میں بدلی تو باغات کٹ کر پلاٹوں کی شکل اختیار کر گئے۔ دوسری عمارات اور محلوں کے مانند یہ تاریخی ریلوے اسٹیشن بھی ویرانی اور بربادی کی تصویر بن چکا ہے۔
یہ خستہ حال عمارت مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کسی اجڑے دیار کا منظر پیش کر رہی ہے۔
عہد رفتہ کی ایک دلخراش اور لمبی داستان لیے ہوئے ہے۔ یقین نہیں آتا کہ یہ ہندوستان کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کے دارلخلافہ کا اسٹیشن ہے ۔
اس کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ عمارت اس وقت زبوں حالی کا شکار ہے۔ شاید اب صرف دو ٹرینیں ہی یہاں رکتی ہیں۔ ورنہ تمام دن بے رونقی اور ویرانی چھائی رہتی ہے۔
۔آج بھی جب نان اسٹاپ گاڑیاں اس پلیٹ فارم سے بغیر رکے گزرتی ہیں تو مسافر بڑی حسرت سے ریاست بہاولپور کے درالخلافہ کی اس تاریخی عمارات کے کھنڈر دیکھ کر کف افسوس ضرور ملتے ہیں۔
دکھ تو یہ ہے کہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے نواب صاحب کا سیلون اور مہمان خانہ بھی اب گردش زمانہ کی نذر ہو کر کھنڈر میں تبدیل ہو چکا۔
اس کے در و دیوار کی اینٹیں تک چوری ہو چکی ہیں ۔ اب وہاں پھول ہیں نہ سرسبز درخت۔  پودے سب سوکھ کر سیاہ ہو چکے ہیں۔
لگتا ہے جیسے کسی نے ان کی ہریالی اور خوشبو چوس لی ہے ۔شاید اسی کو زوال کہتے ہیں یا پھر یہ ہماری قومی بے حسی ہے۔ جس نے اس شاندار تاریخی عمارت اور ورثے کو کھنڈر میں بدل دیا ہے ۔
احمد پور شرقیہ پنجاب کی آبادی اور رقبہ کے لحا ظ سے شاید سب سے بڑی تحصیل ہے اور کئی مرتبہ اسے ضلع بنانے کی بات اور وعدے کئے جاتے ہیں، لیکن اس شہر کی محرومیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔
یوں تو پورا شہر توجہ چاہتا ہے، لیکن یہاں صرف چند ٹرینوں کا رکنا اس ریاست کے عوام سے ایک بڑی زیادتی ہے ۔
اس شہر کی تاریخی اہمیت ،خوبصورت اور شاہکار عمارت اور کثیر آبادی کی ضروریات ارباب اختیار سے خصوصی توجہ کی منتظر ہیں ۔
یہ ڈیرہ نواب صاحب کا ریلوے اسٹیشن ہی نہیں ریاست بہاولپور کا تاریخی ورثہ بھی ہے۔ چولستان ڈیزرٹ کار ریلی کے بعد پاکستان اور پاکستان کے باہر سے سیاحوں کی یہاں کی ثقافت سے دلچسپی میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔
اس پر تھوڑی سی توجہ اسے پھر سے خوبصورت دیدہ زیب بنا سکتی ہے۔ سیاحت کے فروغ کے لیے گاڑیوں کے اسٹاپ بڑھا کر اس پلیٹ فارم کی رونق بحال کرسکتے ہیں۔
خالی اور ویران پلاٹ خوبصورت پارکوں میں بدل سکتے ہیں۔ سیلون کی تاریخی عمارت کو انتظار گاہ اور ٹکٹ گھر میں بدلا جاسکتا ہے۔
ایک اچھا ریسٹورنٹ یا ہوٹل بھی بنایا جاسکتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہاں کے لوگوں کی محرومیوں کے ازالہ کے لیے کچھ کیا جائے گا؟ اس تاریخی عمارت کا مستقبل اب کیا ہے؟
کیا یہ قیمتی اور ثقافتی ورثہ ماضی کا ایک قصہ بن کر رہ جائے گا؟ ہا پھر اس کی بحالی کی کوئی صورت ممکن ہے؟
کیا یہ پھر سے پاکستان کا خوبصورت ترین ریلوے اسٹیشن بن سکتا ہے؟
جی ہاں صرف ارباب اختیار کی تھوڑی سی توجہ درکار ہے !

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles