28 C
Lahore
Monday, July 15, 2024

Book Store

جھگی واسیوں کی زندگی

عافیہ مقبول جہانگیر

A Pakistani girl comforts her brother near her family’s makeshift tent in a slum in Islamabad, Pakistan, Monday, Oct. 21, 2013. Slums, which are built on illegal lands, have neither running water or sewage disposal. (AP Photo/Muhammed Muheisen)

آج بھی میں اس سڑک سے گزری جہاں ہمیشہ میرے قدموں کی رفتار سست ہو جایا کرتی تھی۔ میری نظریں اس بچی کو ڈھونڈ رہی تھیں جو چند دن پہلے مجھے ایک سبزی کی دکان پر نظر آئی تھی۔
ہاتھ میں چھوٹا سا لفافہ جس میں دو پیاز، ایک ٹماٹر اور چند ٹہنیاں دھنیے کی صاف جھانکتی نظر آ رہی تھیں۔

سبزی والے نے اسے پانچ کا سکہ واپس کیا اور وہ اس سکے کو متاعِ جاں کی طرح چھوٹی سی گندی غلیظ مٹھی میں دبائے اس طرف بھاگنے لگی جہاں اس کا ’’گھر‘‘ تھا۔
میری نظروں نے دور تک اس کا تعاقب کیا اور پھر میں وہاں سے چلی آئی۔

دوسری بار وہی بچی مجھے دوبارہ نظر آئی، جب میں دفتر کی فائلیں ہاتھ میں تھامے گیٹ سے نکل رہی تھی۔ وہ سامنے ہی سے آ رہی تھی۔
لااُبالی انداز، جھلنگا سا ڈوپٹا بڑی بوڑھیوں کی طرح کندھوں پر ڈالے، پاؤں میں اپنے سائز سے تین گنا بڑی چپل بمشکل گھسیٹتی وہ بچی خوش و خرم چلی جا رہی تھی۔

میری نگاہوں میں اسکول جاتی وہ چمچماتی نکھری نکھری یونیفارم میں ملبوس بچیاں گھوم گئیں۔ کیا اسے وہاں نہیں ہونا چاہیے؟ یہ کیسی بچی ہے؟
ہر وقت ہنستی کھیلتی مسکراتی، گال تمتماتے ہوئے، پکی رنگت مگر چمکدار روشن جلد اور کشادہ پیشانی۔ کچھ بھی تو جدا نہیں تھا ان اسکول جاتی بچیوں سے…پھر؟؟

ہاں جدا تو تھا کچھ۔ بھلا کیا…؟ نصیب۔
٭٭٭


جھگی واسی…؟تاریخ کیا کہتی ہے؟
وطنِ عزیز میں ان جھگی واسیوں کی شروعات پاکستان کے خوبصورت شہر کراچی سے ہوئی۔ جب تقسیم کے بعد ہجرت کر کے آنے والوں نے اس پرسکون شہر میں سکونت کی تلاش سے اپنے لیے رہائش کا انتظام کرنا شروع کیا۔
ان بے سہارا، غریب، لٹے پٹے لوگوں کے پاس سوائے آنکھوں میں چند سنہرے خوابوں کے، اور کچھ نہ تھا۔

دلوں میں امیدیں، وہ سب کچھ پھر سے حاصل کرنے کی، جو کچھ وہ اپنے پیچھے چھوڑ آئے تھے۔
ان میں زیادہ تر وہ تھے جو بھارت سے اپنی چلتی دکانیں اور کاروبار چھوڑ کر آئے اور اس بڑے سے شہر میں سمندر کے آس پاس اپنے تجارتی کام کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے بسنے لگے۔

ان میں بیشتر کا ذریعہ معاش ماہی گیری تھا۔
یوں انھوں نے سمندر کے ارد گرد ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں کے قریب اپنی عارضی رہائش گاہیں قائم کیں تاکہ انھیں روزگار اور کام کے لیے رہائش سے دور کہیں سفر نہ کرنا پڑے۔
ان کی آمد کے بعد پھر ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

تقسیم برصغیر کے بعد کراچی نوزائیدہ پاکستان کا دارالخلافہ بنا۔ یہ وسیع و پرسکون شہر ان مہاجرین کی آماجگاہ بنتا اور پھر دھیرے دھیرے پھیلتا ہی چلا گیا۔
کراچی ان دنوں ایک ایسا شہر تھا جہاں آنے والوں کو امید نو نظر آتی تھی۔ جہاں زندگی مسکراتی تھی اور جہاں کی فضا تارکینِ وطن کو اپنی جانب کھینچتی۔
یہی وجہ کہ ہجرت کر کے آنے والوں میں جو تاجر برادری تھی یا اونچے گھرانوں کے وہ لوگ جو اپنا سب کچھ تیاگ کر پاکستان پہنچ رہے تھے. ان کی اولین ترجیح کراچی جیسے بڑے شہر میں رہائش اختیار کرنا تھا۔

یہاں اپنی زندگی اسی آن بان سے شروع کرنا ان کے لیے قابلِ فخر تھا۔ اور پھر یہ حقیقت ہے کہ جہاں تجارتی مراکز یا کاروباری طبقہ پایا جائے, وہیں مزدور بھی اپنے روزگار کے مواقع زیادہ پاتے ہیں اور ایسے ہی شہر میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
جہاں انھیں روزی روٹی بلا تعطل ملتی رہے۔ یوں یہ شہر آباد ہوتا چلا گیا اور مہاجر اپنی آسانی کے لحاظ سے گھروں یا عارضی تنبو (خیمے) لگا کر اپنی زندگیوں کے جام ہوئے پہیے پھر سے رواں کرنے میں جت گئے۔


اورنگی…غریبوں کی جائے پناہ
کراچی کے سب سے بڑے اور قدیم علاقے اورنگی نے ان بے سہاراؤں کو نہ صرف سہارا دیا بلکہ خوش دلی سے ان تارکین وطن کو خوش آمدید کہا۔
وہ تارکین جو ۱۹۴۷ء کی ہجرت میں آئے، وہ تارکین جو ۱۹۷۱ء میں یہاں منتقل ہوئے۔
یوں اورنگی مہاجروں اور تارکین کو پناہ اور رہائش دینے والا کراچی کا سب سے بڑا علاقہ بن گیا اور یہاں ان کی مسلسل آمد جاری رہی۔

رفتہ رفتہ ان مہاجرین کی کچی بستیاں زندگی کے بے رحم اور ظالمانہ روپ سے ہمیں روشناس کروانے لگیں۔
دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ غریب اور غربت کی اصل زندگی کی نمائندگی یہی علاقہ کرتا ہے۔
یہ علاقہ معاشرے کے دھتکارے ہوئے سامان کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیتا ہے۔
سماج کی گندگی ،شرفاء کی چھوڑی اور پھینکی ہوئی چیزوں کو اس علاقے اور یہاں کے باسیوں نے گلے سے لگایا۔

نتیجتاً یہاں کے باسی آپ کو کوڑے کے ڈھیر سے اپنی اپنی زندگی کھوجتے، چنتے اور امراء کے پھینکے ہوئے گند میں اپنا رزق تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اس شہر نے کبھی اف تک نہ کی۔
کراچی بڑھتا گیا، ترقی کرتا گیا اور شہر کا ’’فالتو کچرا‘‘ جن میں ’’انسان‘‘ بھی شامل تھے، ان کو یہ علاقہ اپنے دامن میں سموتا، تسلیاں دیتا اور انھیں اپنے سینے سے لگاتا رہا۔
اس آبادی میں نہ کوئی پکی سڑک تھی، نہ ہی وہاں کے باسیوں کے لیے مناسب انتظامات۔ یہاں تک کہ پینے کا صاف پانی بھی انھیں میسر نہیں تھا۔ غریب انسانوں کے وجود سے انکاری معاشرے نے پھر وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف کراچی اورنگی بلکہ پورے ملک میں ان کی نفی کرنے کی ٹھانی اور ان کی ذات کو بیکار ٹوٹے پرزے سے زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے ایک کچرے کی صورت اپنی زندگیوں سے نکال باہر کیا۔

یوں یہ مہاجر طبقہ انسانوں کی صف سے نکال کر جانوروں اور کوڑے کرکٹ کی کیٹگری میں ڈال دیا گیا۔ ایک ایسا طبقہ جسے ماڈرن سوسائٹی نے اپنانے سے انکار کیا تو کہیں امراء نے ان کا وجود ہی سرے سے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انھیں دھتکارنا شروع کر دیا۔
یوں یہ تارکین جو ایک آزاد ملک میں دوسرے شہریوں کی ہی طرح ایک باعزت اور پروقار زندگی گزارنے کے خواب دیکھتے ہوئے آن بسے تھے، محض ایک بدصورت اور بدنما داغ بن کر رہ گئے۔
جن کی اگر میں بے رحم الفاظ میں تشریح کروں تو حقیقت یہ ہے کہ انھیں قربانی کے گوشت میں بھی حصے دار نہیں سمجھا جاتا۔
ان کے حصے میں آتے ہیں تو چند چھیچھڑے۔ جنہیں شاید کسی امیر کا پالتو جانور بھی ’’منہ‘‘ نہ لگائے۔


جھگیوں کی تشویشناک پھیلتی آبادی
پاکستان میں ان خانہ بدوشوں کی تعداد میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا گیا ،اسی شرح سے یہ جھگی واس بھی ملک کے دوسرے شہروں میں پھیلتے گئے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ تمام جھگی واسی مہاجرین نہیں ہیں۔ ان میں وہ عوام بھی شامل ہے جو پاکستان میں سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے یا گزارنے پر مجبور ہیں۔
ان میں سے بیشتر مزدور طبقہ یا گداگروں کا وہ طبقہ ہے جو ان جھگیوں میں رہائش پزیر ہے اور پورے ملک میں ہر صوبے، شہر میں یہ جھگیاں ہر کالونی میں بسی نظر آتی ہیں۔
پاکستان میں غربت کی شرح
حالیہ اکانومی سروے ۲۰۱۸ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کل آبادی کا ۲۴ء۳ فیصد حصہ سطح غربت سے نیچے ہے۔
جبکہ ۲۰۱۵؍۲۰۱۶ میں اس شرح میں ۲۰۰۵؍۲۰۰۶ کی نسبت ۵۰ فیصد اضافہ ہوا ہے جو انتہائی قابلِ تشویش صورت حال ہے۔


بلوچستان، پاکستان کا غریب ترین صوبہ
یو این ڈی پی کی حالیہ رپورٹ فروری ۲۰۱۸ کے مطابق صوبہ بلوچستان، وطنِ عزیز کا سب سے غریب ترین صوبہ ہے۔ کسی بھی صوبے کے متوسط، امیر یا غریب ہونے کا اندازہ اس کے شہریوں سے کیا جاتا ہے۔

اس رپورٹ کے بھیانک ترین انکشاف کے مطابق صوبہ بلوچستان میں، قلعہ عبد اللہ کے ۹۳ فیصد عوام سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے۔
رپورٹ کی رُو سے بلوچستان کے بعد غربت میں دوسرے نمبر پر خیبر پختونخواہ ہے جہاں ۴۹ فیصد آبادی غربت کی چکی پیس رہی ہے۔
بڑھتی ہوئی غربت کی وجوہ
کسی بھی ملک میں غربت کا پھیلنا عام طور پر تین وجوہ کی بنا پر ہے۔
آبادی میں اضافہ،ناخواندگی کی شرح میں اضافہ اور ٹیکسوں کا غیر معتدل ہونا۔


٭آبادی میں اضافہ
پاکستان میں شرح پیدائش اس وقت باقی ممالک کی نسبت سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر آبادی میں اضافے کی صورت حال یہی رہی تو ۲۰۵۰ ء تک پاکستان کی آبادی ۳۵۰ ملین سے تجاوز ہو جانے کے امکانات ہیں
جو پوری دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ لگایا جانے والا اندازہ ہے۔

آبادی میں اس قدر تیزی کی بنیادی وجہ اول ناخواندگی، عورتوں میں اپنی صحت کے حوالے سے معلومات نہ ہونے کے برابر ہونا اور غربت کی سطح یا اس سے نچلی سطح پر زندگی گزارنے والے عوام کے گھروں میں بے تحاشا بچوں کی اوپر تلے پیدائش کا ہونا ہے۔
ایک جھگی واس، جہاں آمدن نہ ہونے کے برابر ہو، وہاں ایک گھر میں سات یا آٹھ بچے ہونا معمولی بات ہے۔


٭ناخواندگی کی شرح
حالیہ سروے اور رپورٹوں کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی تقریباً آدھی فیصد آبادی ناخواندہ ہے۔
۷ء۲۶ فیصد بچے غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جا پاتے۔ انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ان ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آتا ہے جہاں بچوں کی اتنی بڑی تعداد اسکولوں سے محروم ہے۔

پہلے نمبر پر نائجیریا ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ ساؤتھ ایشئین ممالک میں پاکستان وہ ملک ہے جہاںتعلیم کی مد میں سب سے کم جی ڈی پی مختص کیا جاتا ہے۔
لہٰذا جس ملک میں شرح تعلیم اتنی نیچے ہو وہاں ملازمتیں کرنے اور کمانے والے کم اور کھانے والے زیادہ پائے جائیں گے۔ یہ ناخواندہ بچے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے گداگری یا مزدوری کرتے ہیں۔
٭ٹیکسوں کی عدم وصولی
کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار ٹیکس پر ہوتا ہے۔
جس ملک میں ٹیکس دینے والے عوام کی شرح اسّی سے نوے فیصد ہو وہاں ملک میں کاروبار، روزگار اور ملازمتوں کے نئے در وا ہوتے ہیں۔ ٹیکس نہ دینے والی قوم اپنے ہاتھوں خود اپنے لیے بربادی کا گڑھا کھودتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہر طرف کرپشن نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔

جہاں حکمرانوں سے لے کر عام آدمی تک اپنا ’’حصہ‘‘ کھانا نہیں بھولتا۔ نتیجتاً خمیازہ غریب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ایک غریب اور ایماندار آدمی کو ناجائز بِلوں، اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا کر مر جانے پر مجبور کرتی زندگی اور دوسری طرف امراء کی بڑھتی جائیدادیں اور بینک بیلنس۔
اس عدم توازن سے غربت جنم لیتی اور ملک معاشی و اقتصادی بحرانوں میں مدغم ہو کر رہ جاتا ہے۔
آپ جان کر حیران ہوں گے کہ بعض اوقات ایک ایسے گھر میں جہاں محض ایک بلب یا ٹیوب لائٹ اور ایک پنکھا چلتا ہو، وہاں کے مکینوں کو بھی پانچ ہزار بجلی کا بل ادا کرتے میں نے دیکھا ہے۔

سسٹم کا یہ غیر ذمہ دارانہ فعل قوم کو لے ڈوبتا ہے۔ پھر ایسے میں دل چاہتا ہے کہ؎
رہیے ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو


لاہور میں بسی جا بجا خانہ بدوش آبادیاں
پاکستان کے دل شہر لاہور میں آپ کو ہر علاقے میں ایک چھوٹی سی جھگیوں پر مشتمل آبادی نظر آئے گی۔ ان میں سے بعض الگ الگ مقامات پر تو کئی جگہوں پر باقاعدہ ان کی کالونیاں قائم ہیں۔

ایک بڑے پلاٹ پر باقاعدہ ترتیب سے چاروں اطراف یہ جھگیاں قائم کی جاتی ہیں اور زمین کے عین درمیان میں ایک چوکور یا مستطیل شکل کا بڑا سا اجتماعی صحن بنا لیا جاتا ہے جہاں شام اور رات کے وقت تمام جھگی واسی اپنی اپنی چارپائیاں بچھا کر ایک گاؤں کی شکل میں ڈھل جاتے ہیں۔
یہاں باقاعدہ محافل سجتی ہیں، گپ شپ چلتی اور خاندانوں کے مرد مل کر بیٹھتے اور ہنسی ٹھٹھول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
صحن کے عین وسط میں مشترکہ ٹی وی بھی رکھ دیا جاتا ہے جہاں سب مل کر ٹی وی دیکھتے ہیں۔

کچی یا پکی اینٹوں کی دیواروں کے ساتھ خواتین اپنا باورچی خانہ سجا لیتی ہیں اور مل جل کر روٹی کھانا پکایا اور کھایا جاتا ہے۔ یہ بالکل ہی ایک الگ دنیا ہے۔
جہاں اگر آپ اچانک چلے جائیں تو یہ آپ کی دخل اندازی بالکل پسند نہیں کرتے اور ناگواری ان کے چہروں سے ٹپکتی ہے۔

ٹھیک اسی طرح جس طرح اگر یہ آپ کے بڑے بڑے گھروں میں داخل ہو جائیں تو آپ برا مناتے ہیں۔ انھیں اپنی پرائیویسی یعنی اپنی زندگیوں میں اہلِ محلہ کی بے جامداخلت ہرگز گوارا نہیں ہوتی۔
اس بڑے سے صحن میں یہ اپنی پنچایت بھی لگاتے ہیں،
جہاں عام گھریلو جھگڑے نپٹانے کے ساتھ ساتھ روز مرہ زندگی کے معمولات بھی زیر بحث لائے جاتے ہیں۔
ان کی زندگی عام شہری سے کس قدر مختلف ہوتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے ان کی زندگی میں جھانکنا اور قریب سے جاننا بہت ضروری ہے۔
مجھے ان کی زندگی کو قریب سے دیکھنے ، ان سے گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ اس کے نتیجے میں کچھ تلخ حقائق میرے سامنے آئے جو قارئین کی نذر ہیں۔


جھگی واسیوں کے بنیادی مسائل
ایک عام متوسط طبقے کی نسبت جھگی واسیوں کے بنیادی مسائل بالکل مختلف ہوتے ہیں جنہیں شاید ہم جیسے لوگ گنتی میں بھی نہ لائیں۔
مثلاً بجلی کی فراہمی، گیس کا نہ ہونا، پانی کے عام نلکے تک سے محروم یہ طبقہ اپنی تمام زندگی ہی ادھار کی جیتا ہے۔
یہ جھگی واسی جس جگہ پڑاؤ ڈالتے ہیں وہاں ساتھ والے گھر سے عموماً بجلی کی ایک تار سے کنکشن جوڑ کر اپنی چھوٹی سی دنیا روشن کر لیتے ہیں۔

گھر کے مالک سے ماہانہ رقم طے کر لی جاتی ہے یا بعض اوقات پڑوسی اگر اچھے دل کے ہوں تو وہ خدا ترسی کرتے ہوئے ایک بلب یا پنکھے کے لیے بجلی کی تار لگوا دیتے ہیں۔
وسائل اور ذریعہ آمدنی
ان لامکینوں کا مستقل ذریعہ معاش کچھ خاص نہیں ہوتا۔
مرد حضرات کبھی کہیں مزدوری مل جائے تو کر لیتے ہیں ورنہ عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ زیادہ کام کرنے کے حق میں نہیں ہوتے۔

غربت ان کی ہڈیوں میں اس طرح اثر انداز ہوتی ہے کہ پھر یہ صرف اتنا ہی کماتے ہیں جس سے ان کا پیٹ بھر جائے۔ اگلے دن کی فکر میں نہیں گھلتے۔
شرح خواندگی اور آگہی


عام انسان کی طرح یہ ارد گرد کے ماحول یا ملکی حالات سے اتنے باخبر نہیں ہوتے یا شاید رہنا نہیں چاہتے۔ تعلیم ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ طبقہ عموماً غیر تعلیم یافتہ ہوتا ہے۔

بہت کم ایسے جھگی واس ہیں جو معمولی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔
لیکن کبھی کبھی ان کے بچوں میں کوئی پڑھنے لکھنے کا شوقین ہو تو وہ اپنی مدد آپ کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔
اس کی ایک مثال کچھ عرصہ قبل چکوال کی ایک جھگی واس بچی نرگس ہے جس نے میٹرک میں ۱۰۰۴ نمبروں سے شاندار کامیابی حاصل کر کے بڑے بڑوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔

وزیر اعلیٰ نے اسے لیپ ٹاپ دینے کی پیشکش بھی کی اور ایک اچھا گھر بھی، جس کے جواب میں اس معصوم  نے صرف ایک مطالبہ کیا کہ حکومت اس کی بیمار نانی کا علاج کروا دے۔


حساس طبقہ یا بے حسی کی تصویر
اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ان جھگیوں میں رہنے والے باسی غربت اور مناسب خوراک یا رہائش نہ ہونے کے باعث نازک مزاج یا حساس اور نرم دل کے مالک ہوتے ہیں،
تو آپ سراسر غلطی پر ہیں۔ یہ طبقہ انتہائی مضبوط قوتِ برداشت، قوتِ ارادی اور ذہانت و چالاکی کا اعلیٰ امتزاج کہلایا جا سکتا ہے۔

ایسے رہنا ان کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ وہ اس لیے کہ جن حالات اور حقارت آمیز نظروں کا یہ آئے روز سامنا کرتے ہیں،
اگر یہ مضبوط دل ودماغ کے حامل نہ ہوں تو ان کے لیے جینا عذاب ہو جائے۔ ان کی زندگیاں پہلے ہی مسائل اور مشکلات سے گھری ہوتی ہیں اوپر سے اگر یہ نازک مزاج بھی ہوتے، تو ان کے لیے ایسے نامساعد حالات کا مقابلہ کرنا دوبھر ہو جاتا۔
یہ قدرتاً مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے اور بچوں کو بھی اپنے جیسا بناتے ہیں۔
ورنہ کیا آپ جون کی تپتی دوپہر میں کالی تارکول کی پگھلتی سڑک پر ننگے پاؤں چل سکتے ہیں؟

کیا ہمارے لیے ایسا کرنا ممکن ہے کہ ہم اپنے شیر خوار بچے کو کوڑے کے ڈھیر پر بٹھا کر بے فکر ہو جائیں اور ذرا پروا نہ کریں کہ کہیں وہ رینگتا ہوا سڑک پر نہ چلا جائے یا اسے کچرے کے ڈھیر میں کوئی کیڑا جانور کتا بلی کاٹ نہ لے۔
شاید کچھ لوگ اسے ان کی بے حسی سمجھتے ہوں مگر حقیقت یہی ہے کہ اگر یہ اپنا دل ایسے معاملات میں عام والدین جیسا نرم رکھیں تو جی نہ پائیں۔


گھر کی سربراہ…عورت
جھگی واسیوں میں جو ایک چیز میرے مشاہدے میں آئی وہ یہ کہ ان خاندانوں میں مرد کاہل اور سست جبکہ عورتیں کام کرتی اور کماتی ہیں۔
میرے سروے کے مطابق جن خانہ بدوشوں سے میری گفتگو ہوئی ان میں ہر ۵ میں ۳ گھروں کا چولہا عورتوں کی وجہ سے جلتا ہے اور مرد گھر بیٹھ کر آرام کرنے، سستا نشہ یا آوارہ گردی کے عادی ہوتے ہیں۔

یہ عورتیں اپنے نکمے خاوندوں سے جہاں تنگ ہیں وہیں یہ ان کو کما کر کھلاتی بھی ہیں۔ بقول ان کے، مرد کا ہونا ہی ان کے لیے کافی ہے۔
یہ خواتین عموماً ٹولے کی شکل میں صبح کاموں پر نکل جاتی ہیں۔ قریبی گھروں میں صفائی، برتن، کپڑے دھو نے کا کام کرتیں اور پھر شام کو ایک جگہ جمع ہو کر ٹولیوں کی صورت ہی واپس اپنے اپنے ٹھکانوں کو لوٹ جاتی ہیں۔

کثیر اولاد اور ان کی تربیت
مناسب آگہی یا طبی معلومات کے فقدان کی وجہ سے ان کے بچوں کی تعداد کافی ہوتی ہے۔ یہ بات واقعی حیران کن ہے کہ ایک کمرے کی رہائش میں یہ مشترکہ خاندانی نظام کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور ایک ہی کمرے میں سونے کے باوجود کسی پردے یا شرم کا لحاظ نہیں کرتے۔
ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔
ان کے لیے یہ عام بات ہے۔ پرائیویسی کے لیے محض ایک ٹاٹ یا کپڑے کی چادر جھگی کے داخلی حصے پر لگا دینا ہی ان کے لیے کافی ہوتا ہے۔ کچھ اس کی بھی زحمت نہیں کرتے۔

یہی وجہ ہے کہ ان گھرانوں کے چھوٹے بچے بچیاں ان سب چیزوں سے بچپن میں ہی واقف ہو جاتے ہیں جن سے ایک عام گھرانے کا بچہ بالغ ہونے کے بعد ہی واقفیت حاصل کر پاتا ہے۔
یہ شوق نہیں مجبوری ہے کہ ان کے پاس علیحدگی میں میاں بیوی کی طرح ازدواجی زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں۔

بہ بحیثیت مسلمان سوچنے میں بہت اذیت ناک اور تکلیف دہ تلخ سچائی ہے جس سے ہم صرفِ نظر تو چاہے کر لیں لیکن یہ بہرحال اگر ان کے لیے قابلِ شرم ہے تو مذمت کرنے کا ہمیں بھی کوئی حق نہیں۔
کیونکہ وہ مجبور ہیں اور ہم ان کی کوئی مدد کرنے سے لاچار۔ بے چاری عورتیں ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
نیز ان کی نہ کوئی مناسب راہنمائی کرنے والا ہوتا ہے نہ کوئی طب و صحت سے متعلق رائے دینے والا۔

لہٰذا یہ ایک ہی ڈگر پر جیئے جاتے ہیں۔ ان کے پاس موضوع سخن صرف ان کی ’’باجیاں‘‘ ہوتی ہیں، جہاں یہ کام کرتی ہیں، یا پھر بچے پیدا کرنا ان کی زندگی کو متحرک بنائے رکھتا ہے۔
محنت کش یا پیشہ ور گداگر


جس طرح ہم اپنی زندگیاں مختلف وسائل، تعلیم یا دوسرے محرکات بروئے کار لا کر گزارتے ہیں اسی طرح ان کی بھی مختلف اقسام ہیں۔
ہم سبھی جھگی واسیوں کو ایک ہی کسوٹی کی لاٹھی پر نہیں پرکھ سکتے۔ ان میں بعض صحیح معنوں میں ضرورت مند ،ہنر مند اور محنت کش ہوتے ہیں۔

ان کی بھی درجہ بندیاں ہیں۔ ایک وہ جو دہاڑی پر کام کرتے اور اپنے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔
دوسرے وہ جو کام چور، محنت سے جی چرانے والے اور محض بھیک مانگ کر زندگی کو سہل پسندی سے گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ اب تک خانہ بدوش کیوں ہیں؟
ان کے پاس وسائل ہوں بھی، تب بھی اپنی ہجرت کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم و جدید تہذیب سے آراستہ نہیں کر پاتے، تو اس کی خواہش نہیں یا روایات کی بندش ہے؟

ان کاخاندانی نظام اور مذہبی امور عام لوگوں سے کتنے مختلف ہیں؟یہ دوسروں کو اپنی زندگیوں میں قبول کر لیتے ہیں؟
یہ وہ سوالات تھے جن کا جواب جاننے کے لیے مجھے ان سے ملنا تھا۔
اس میں کتنی حقیقت کتنا افسانہ جاننے کے لیے میں نے جب معلومات یکجا کرنا شروع کیں تو ایک اور نتیجہ میرے سامنے آیا:
جرائم کے اڈے اور منشیات کا فروغ
مشہور ہے کہ جھگی واسیوں میں اکثر مجرمانہ خصائل کے افراد پناہ گزیں ہوتے ہیں۔
اس کی مثال حال ہی میں اس خبر کا شائع ہونا ہے جس میں یہ رپورٹ پیش کی گئی کہ دینہ شہر میں مشکوک افراد کی چہل پہل، مختلف روپ دھارے افراد نظر آتے ہیں۔
جن میں اکثر جوگی، بہروپیے، فقیر اور مجذوب نما فقیر ہیں۔
ان کے پاس کسی قسم کا شناختی کارڈ نہیں ہوتا۔ ڈی پی او جہلم سے نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

ان افراد سے اگر آپ بات کرنے کی کوشش کریں تو یہ زیادہ تر خاموش ہی رہتے ہیں۔ میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس یہ افراد کوئی شناخت نہیں رکھتے۔
اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ کس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں یا انھیں شناختی کارڈ دکھانے کو کہا جائے تو ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا۔

موجودہ حالات کے پیش نظر ایسے افراد پر نظر رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔ کیونکہ مختلف روپ دھارے افراد کا پتہ چلانا بہت ضروری ہے کہ ان کا تعلق کس ملک سے ہے؟
آیا یہ کوئی غیر ملکی تو نہیں یا کسی مشن پر کام تو نہیں کر رہے؟
شہر کے زیادہ تر افراداور سیکورٹی ادارے ان کو فقیر یا مجذوب سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے کسی حادثے کا سامنا بھی کرناپڑ سکتا ہے۔
عوام الناس نے ڈی پی او جہلم سے مطالبہ کیا کہ شہر میں گھومنے والے ایسے افراد کا نوٹس لیا جائے۔


عام معاشی صورت حال اور سہولیات
یہ جھگی واس یوں تو غربت کی سطح سے بھی نیچے کی زندگی گزار رہے مگر کئی ایک جگہوں پر ان کی مالی حیثیت میں مختلف صورتِ حال نظر آئے گی۔

مثلاً آمنے سامنے بنی دو جھگیوں میں سے ایک کچی اینٹ اور گارے کی ہے، چند اینٹوں کو کھڑا کر کے دو طرف دیوار اور دو طرف پردے لگا کر بنے بیت الخلا کی سہولت بھی موجود ہے۔

ان کے صحنوں میں آپ کو پیڈسٹل فین، چائنا کی ہلکی سستی ایل ای ڈی، جھگی کے باہر ’’پارک‘‘ ہوئے ایک دو رکشا، اور چارپائیوں پر لیٹے نوجوان ہاتھوں میں بڑے اینڈرائیڈ پکڑے لیٹے نظر آئیں گے۔

اب آپ سوچیں گے کہ جہاں تعلیم نہیں وہاں موبائل سے یہ لوگ کیا کرتے ہیں۔ تو جناب آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ یہ نہ صرف ایس ایم ایس، بلکہ واٹس، فیس بک پر بھی پائے جاتے ہیں۔

ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک دفعہ رکشا والا سواری لے جاتے ہوئے راستے میں فیس بک اسٹیٹس بھی چیک کرتا جا رہا تھا۔ ہے نا حیرانی کی بات؟
یہاں ایک لطیفہ مجھے یاد آ گیا جو سوشل میڈیا پر بہت مشہور بھی رہا۔

ایک سگنل پر گاڑی رکی۔ کار کی کھڑکی کا شیشہ بجا کر ایک فقیر نے اندر بیٹھی خاتون کو مخاطب کیا اور بھیک مانگی۔
خاتون نے اسے کہا ’’لگتا ہے میں نے تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔‘‘ اس پر بھکاری بولا، ’’ جی ہاں میڈم، ہم فیس بک فرینڈز ہیں۔‘‘

٭٭٭٭٭
دوسری درجہ بندی میں بالکل ہی لاچار بے چارے حقیقی غریب جھگی واس ہوتے ہیں ۔
ان کے گھر پھٹے ہوئے خیموں، ٹاٹ کے پردوں اور بغیر دیواروں والے کھلے پلاٹ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یعنی ان میں بھی ’’امیر‘‘ اور ’’غریب‘‘ کا فرق موجود ہے۔…


بچوں کا مستقبل، بہتر طرزِ زندگی:
ایمان داری کی بات یہ ہے کہ ان کے بڑے چاہے اپنی مرضی سے جھگی میں رہیں، کام چور ہوں، آرام پسند یا پیشہ ور گداگر۔ حقیقت میں ان کے بچے قابلِ ترس ہوتے ہیں جو اپنے بڑوں کی وجہ سے ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جسے انھوں نے خود نہیں چنا۔
جھگی واس یا خانہ بدوش اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلواتے۔

ایک خاتون نے بتایا کہ میں اپنی کام والی ماسی، جو قریبی جھگی میں رہاش پزیر ہے، کئی دفعہ کہہ چکی کہ اپنی چھوٹی بچی کو ساتھ کام پر نہ لایا کرو بلکہ اسے اسکول میں داخل کروا دو۔ اس کا خرچہ ہم دیں گے۔‘‘
اس پر اس عورت نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا اگر اسے ہم نے اسکول کی راہ دکھا دی تو ہمارے ساتھ مل کر کمائیاں کون کرے گا؟‘‘

ان کے خاندان میں جتنے زیادہ بچے ہوں اتنے ہی ان کے پاس کمائی کے مواقع زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ گھر کی سب سے بڑی بچی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے بعد آنے والے چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالے اور کام بھی کرے۔
یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔
دوسرا رخ یہ ہے کہ جو خاندان اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں ان کے لیے ایسا کرنا اس لیے ممکن نہیں ہوتا کہ اکثر انھیں اپنا ’’گھر‘‘ تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

نیز اسکول کے اخراجات برداشت کرنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں ۔ حالانکہ بہت سی این جی اوز اور ادارے ان کی تربیت و ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔

آئے روز کوئی نہ کوئی تنظیم ان کی مدد اور معاونت کے لیے کچھ نہ کچھ کردار ادا کرتی رہتی ہے مگر اس مدد کی حیثیت ان کی تعداد کے لحاظ سے آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

چند ایک فلاحی ادارے مل کر بھی ان کی حالت مستقل بنیادوں پر نہیں سنوار سکتے جب تک حکومت کوئی ٹھوس اور مناسب اقدامات نہ کرے۔
حکمرانوں سے توقعات


جوہر ٹاؤن کے ایک بلاک میں بنی جھگی واسیوں کی وسیع آبادی کے رہائشی ایک ستّر سالہ بوڑھے کا کہنا تھا:
’’ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ پاکستان کا وزیر اعظم کون بنے گا؟ یا کس کی پارٹی جیتے گی۔

ہمیں اس بات سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ
لاہور میں کتنی سڑکیں نئی بنیں یا کتنی میٹرو چلیں۔
ہمیں فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ
ہماری زندگیوں میں کیا کسی حکومت نے تبدیلی لانے کا سوچا؟

ہمارے بچے اگر حالات سے لڑ کر پڑھ لکھ بھی جائیں تو کیا فائدہ؟
ملازمت ملتی ہے نا روزگار۔ نوکریاں سفارشوں پر ہوتی ہیں۔
حکومت کی ذمہ داری
یہ سطور جب آپ پڑھ رہے ہوں گے تو یقیناً الیکشن گزرے دس دن گزر چکے ہوں گے۔ نئی حکومت وطنِ عزیز کی باگ ڈور بھی سنبھال چکی ہو گی۔

یہ خانہ بدوش جھگی واس صرف اس امید پر ہیں کہ کبھی کوئی حکومت ان پر بھی توجہ کرے۔ اسپتالوں، سڑکوں، بسوں کے علاوہ بھی ملک میں کئی مسائل ہیں جنہیں در خور اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔

چند ایک نجی طور پر فلاحی ادارے کھول لینے سے جھگیوں کا یہ جمِ غفیر کم ہو گا نہ ہی ختم۔ اسے مناسب منصوبہ بندی اور مکمل حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
تاکہ انھیں کم از کم جینے کے لائق زندگی اور قابلِ عزت مقام دیا جا سکے
جو ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔

انھیں روزگار کے مواقع دیے جائیں۔
تعلیم نسواں، بالغاں کا بھی بڑے پیمانے پر منصوبہ بنایا جائے جو خود حکومت کے زیر کفالت ہو
اور بچوں کو پاکستانی ہونے کا ’’اعزاز‘‘ بخشا جائے۔
تاکہ یہ طبقہ بھی معاشرے کا کمزور ہی سہی مگر عزت دار اور سلجھا ہوا کہلائے۔
ان کے بچوں کو بھی وہی سہولیات میسر ہوں جو ہر پاکستانی کو حاصل ہوتی ہیں۔
قارئین کی آراء
میں نے کوشش کی کہ زیر نظر مضمون میںنہ صرف ذاتی رائے اور سروے پر مبنی معلومات ہوں بلکہ دیگر کے تجربات و مشاہدات بھی اس مضمون کی زینت بنائے جائیں۔
تاکہ یہ وسیع موضوع سخن حتی الامکان احاطۂ تحریر میں لایا جا سکے۔

اس ضمن میں مصنفوں اور لکھاریوں نے اپنے تاثرات قلمبند کروائے۔
مصنفہ حمیرا فضا کے مطابق:
’’ میں یہ نہیں کہتی کہ سب جھگی واسیوں کے پاس وسائل ہوتے ہوں گے،
مگر جن کے پاس ہیں کم از کم ان کو بہتر زندگی کی طرف ایک قدم بڑھانا چاہیے ۔
میرے گھر سے کچھ دور ایک خالی پلاٹ میں جھگی واسیوں نے اپنا ٹھکانا بنا رکھا ہے۔
آتے جاتے ان پر نظر پڑتی ہے۔ ان کے پاس مال مویشی ہیں۔

موٹر سائیکلیں ہیں۔ ایل ای ڈی ہے۔
یہاں تک کہ اندھیرے میں ان کے بڑے موبائل بھی ٹمٹماتے دیکھے ہیں۔
میں اکثر سوچتی ہوں کہ جب ان کے پاس وسائل بھی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کا عقل و شعور بھی،
تو آخر یہ اس طرح کی زندگی کیوں گزارتے ہیں؟
اسے بہتر کیوں نہیں کرتے؟
شاید گھومتے رہنا ہی ان کی فطرت ہے۔

یہ اپنی فطرت سے مجبور ہیں۔ اگر آپ ایسے لوگوں سے ملیں جہاں آپ کو ضروریات زندگی کی کافی سہولیات نظر آئیں تو ان سے ایک سوال ضرور پوچھیے گا
جب وہ سب کچھ بنا سکتے ہیں تو ایک گھر کیوں نہیں بناتے؟ چاہے چھوٹا اورکچا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘


مصنفہ صبا ایشل
نے بتایا:’’
ہمارے گاؤں میں ہر چند ماہ بعد ان کا کوئی نہ کوئی قافلہ آتا ہے۔
ان کے پاس کئی گائے بھینسیں، اونٹ ہوتے ہیں۔
بکریوں کا بھی بڑی تعداد میں ریوڑ ہوتا ہے۔
ان کی عورتیں زیورات سے لدی پھندی ہوتی ہیں لیکن ہر شام گاؤں کے ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر ایک روٹی اور سالن مانگتی ہیں۔

صبح کے وقت دودھ بیچنے آتی ہیں اور مختلف حیلے بہانوں سے پیسے مانگتی اور نہایت ہوشیاری سے لوٹ کر چلی جاتی ہیں۔‘‘
مصنفہ حمیرا تبسم
کی رائے میں اس طبقے کی عورت نہ صرف مظلوم بلکہ غیر محفوظ بھی ہوتی ہے۔ اپنے ایک افسانے میں وہ لکھتی ہیں:
’’جھگی واسی عورتیں نہایت صبر کی حامل ہوتی ہیں۔
ان کے بدن پر پھٹے پرانے کپڑے ان کے خوابوں کی طرح ادھورے ہوتے ہیں۔
اس کے باوجود انھیں محنت کی عادت ہوتی ہے۔
کچھ تو چوڑیاں بیچتیںاور کچھ شوہروں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔

شام ڈھلتے ہی جھگیوں میں جلتی ذرا سی زرد روشنی،
ان کے چہرے کی زردی کو مزید پیلا کر دیتی ہے۔ ایک خوف غالب آ جاتا ہے…
کیونکہ ان کے پاس عزت کی چار دیواری نہیں ہوتی۔
یہ خود کو انتہائی غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔
ان کی زندگی مشکلات سے بھری ہوتی ہے۔
لوگ انھیں تضحیک آمیز انداز سے دیکھتے ہیں۔

ان کام بس چلتے رہنا ہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ۔
کبھی مویشیوں کی رسی تھامے،
تو کبھی گدھا گاڑی پہ سانولے سلونے چہرے کے ساتھ بیٹھے یہ لوگ،
اپنی قسمت پر شاکی تو کبھی مطمئن نظر آتے ہیں۔
انھیں کوئی بھی خوبصورت یا اچھی چیز تب ہی میسر آتی ہے،
جب وہ استعمال شدہ ہو اور کسی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پہ پڑی مل جائے۔
ان کی مائیں چاہتی ہیں کہ وہ اچھی زندگی گزاریں لیکن قبیلے کے خلاف نہیں جاتیں۔
یہ جھگی واسی‘‘ زمانے کی تپش برداشت کرتے اور اپنا ازلی سفر برقرار رکھتے ہیں۔‘‘
روشن پاکستان کی امید:
ایک پورا دن شہر لاہور کے مختلف علاقوں میں بسے ان جھگی واسیوں کے ساتھ گزار کر،
ان سے گفتگو اور ان کے مسائل سن کر،
ان کے بچوں کے ساتھ باتیں ،
شرارتیں کر ،
ان کی ڈھیروں تصاویر کیمرے میں محفوظ کر کے ،
میں شام کو تمام یادداشتیں ڈائری میں لکھنے بیٹھی تو ذہن میں ایک ہی خیال گردش کرتا رہا۔

’’ایک ایسا سفر ،جو ۱۹۴۷ء کی ہجرت سے شروع ہوا،
پھر اس سفر میں مسافر بدلتے گئے۔
بڑھتے بھی گئے۔ کسی کی منزل آتی گئی ،تو کسی کی راہ کھوٹی ہوئی۔
کوئی چلتے چلتے گر گیا ، توکوئی ان تھک محنت کے جذبوں کی سیڑھی چڑھ کر کامیابی کی منزل پا گیا۔

اُمید ہے کہ ہمارے ان مہاجر نما لٹے پٹے، اجڑے خانہ بدوشوں کو ،
ایک دن ان کے حقوق ضرور ملیں گے۔
کبھی ان کی بھی سنی جائے گی۔  یہ بھی عام شہری کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
لیکن اس کے لیے انھیں خود بھی پہلے اپنے آپ کو بدلنا ہو گا۔
بقول شاعر؎
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
باغی روحوں کی بازگشت
کہ ان کی اپنی شناخت کیسی؟
غلام زادوں کی اوقات ہی کیا؟
حضورِ والا برا نہ مانیں!
کہ گُنگ صدیوں کا گُنگ ورثہ
زبان ملتے ہی گستاخ ٹھہرا
بجا جسارت بری ہے لیکن
یہ باغی روحوں کی بھٹکی سوچوں
کی پرکاہ برابر بھی وقعت نہیں ہے
ہماری چپ کی زباں درازی
شمارکیوں ہو، حساب کیوں ہو؟
کہ اس کی ڈوری بھی درحقیقت
حضورِ والا کے ہاتھ میں ہے

حضورِ والا!
بہ فیضِ ثروت،بزورِ قوت
بطرزِ سطوت،بصد رعونت
یہی حقیقت، یہی صداقت
کہ ذی شرف ہیں حضورِ والا
حضورِ والا ہی ذی حشم ہیں
جو آپ کہتے ہیں معتبر ہے
وہ حرفِ آخر ہے مستند ہے
جو آپ سوچیں، ہمالہ چوٹی
جو آپ کرتے ہیں وہ ہنر ہے

حضورِ والا یہ جادونگری
یہ جادونگری ہے، جادونگری
فریب نظری ہے دستور اس کا
اورآپ ہی بس یہاں سامری ہیں
یعنی خدائے ساحری ہیں
یہ باقی سارے خدام ارذل
غلام پیکر، غلام روحیں
جو آپ بخشیں زباں کو ان کی
وہ حرف ہی بس ادا ہیں کرتے
جو آپ سوچیں، وہ فکر ان کی
جو آپ ان کو دکھانا چاہیں
یہ ویسا دیکھیں، یہ ویسا سوچیں
ہو آپ کا گر ذرا اشارہ
تو ان میں جنبش، ہے ان میں حرکت
وگرنہ ساکت یہ جم کے پتھر

حضورِ والا!
یہاں پہ چہرہ بس اک آپ کاہے
وگرنہ باقی تو تن ہی تن ہیں
ہیں تن بھی ایسے کہ سر بریدہ
جو آپ چاہیں تو سر وسہرا
جو آپ چاہیں تو کوئی چہرہ
اُگا دیں ان پر، سجا دیں ان پر
کہ ان کی اپنی شناخت کیسی؟
غلام زادوں کی اوقات ہی کیا؟

حضورِ والا برا نہ مانیں
کِیا مجسم ہے آج جس کو
یہ کچھ صداؤں کی، بازگشت ہے
یہ خاص لمحوں کا اترا سچ ہے
جو تلخاب صورت چکھا بہت ہے
جو زہراب صورت پیا بہت ہے
حضورِ والا ذرا سی تلخی
قبول کرلیں، قبول کرلیں

watch documentary on the link below
https://shanurdu.com/urban-slums-video-part-1/

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles