36 C
Lahore
Saturday, May 25, 2024

Book Store

شریف طوائف

تحریر، جاوید راہی

اسٹیشن کا پورا ماحول برقی روشنیوں کے سیلاب میں ڈوبا ہوا تھا کراچی ایکسپریس مذکورہ اسٹیشن پر کئی ایک مسافروں کو اُتار کر کب کی اگلی منزل کیلئے آگے بڑھ چکی تھی۔
چند ایک قلیوں اور اسٹیشن کے عملہ کے علاوہ پلیٹ فارم کے آخری بینچ پر کالی چادر میں لپٹی ایک جواں سال عورت دس سالہ بچی اور آٹھ سالہ بچے کے ہمراہ بیٹھی شاید کسی کا انتظار کر رہی تھی۔
قُلی اکبر عر ف اکّو دوسری بار اس کے قریب سے گزرا اور ایک بھرپور نظر اس پر ڈالتے آگے گزر ہی رہا تھا کہ اس خاتون نے اسے سر کے اشارے سے اپنی طرف بلایا ۔وہ تیزی سے مڑا اورقریب آتے بڑے میٹھے لہجہ میں بولا ’’جی آپ نے کونسی گاڑی میں جانا ہے ؟‘‘
’’نہیں۔ میں نے کہیں نہیں جانا آپ سے پوچھنا تھا کہ اس وقت چائے اور ساتھ میں کچھ کھانے کو مل جائے گا؟‘‘۔
’’جی مل جائیگا۔ اسٹیشن پر کیک رس بسکٹ وغیرہ ہی چائے کے ساتھ لاتے ہیں ‘‘۔اس بار اکّو نے غور سے اس کے چہرے کا جائزہ لیا تھا۔ گورا چٹا رنگ ،موٹی موٹی آنکھیں ، خوبصورت ناک اور ہونٹ زیور اور لباس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ کسی کھاتے پیتے گھر کی تھی۔ دونوں بچوں کا لباس بھی ان کی حیثیت ظاہر کر رہا تھا اکو نے دونوں کو اپنی ماں کی مامتا میں سمٹتے پاکر اس خاتون کے ہاتھوں میں پکڑے دو سو روپے لئے اور ٹکٹ گھر والی سائیڈ کی جانب چل پڑا۔
زیادہ دیر نہ لگی وہ چائے کے برتن اور کھانے کیلئے بسکٹ وغیرہ لے کر وہاں پہنچ گیا ۔ چائے اور بسکٹ وغیرہ سے فارغ ہو کر اس خاتون نے خاموشی توڑی۔
’’کیایہاں کسی محفوظ جگہ پر رہائش مل سکتی ہے‘‘؟
اس کی زبان سے یہ جملہ سن کر اکّو کو آس پاس کا منظر گھومتا ہوا محسوس ہوا جیسے کسی نے اسے اُٹھا کر ریل کی پٹری پر اُچھا ل دیا ہو۔
’’جی میں کچھ سمجھا نہیں؟‘‘ اکو نے تذبذب کے سے انداز میں پہلو بدلتے اس کی طرف دیکھتے جواباً پوچھا۔؟
’’میں اپنے گھر سے آگئی ہوں دونوںبچوں کو ساتھ لیکر‘‘۔ اس نے دونوں بچوں کو اپنے ساتھ لگاتے کہا۔
’’یہاں تو شاید آپ کو کوئی ایسا ٹھکانہ نہ مل سکے ۔میرا گھر ہے تو بس سر چھپانے کا بہانہ مگر آپ کو وہ سب کچھ میسر ہو گا جو ایک غریب کی چھت کے نیچے ہوتا ہے ‘‘۔اکو نے کچھ سوچتے ہوئے اس خاتون کو اپنے گھر میں رہنے کی آفر کر دی۔
وہ چند پل سوچتی رہی پھر اس نے اکّو کے ساتھ چلنے کیلئے رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ اکو نے اس کے پاس پڑا اٹیچی اور دو بڑے بڑے بیگ سنبھالے اور ان کو ساتھ آنے کا کہا۔
مال گودام والا گیٹ ٹکٹ گھر کے عقب میں تھا اس طرف آمدو رفت نہ ہونے کے برابر تھی اس لئے اکو قلی کو سامان او ر ان کو ساتھ لے جاتے کسی نے نہ دیکھا ۔باہر آکر اس نے چنگ چی میں سامان رکھا اور ان کو سوار ہونے کاکہا ۔ خود لڑکے کو لیکر اگلی سیٹ پر آبیٹھا اور وہ دونوں ماں بیٹی اٹیچی کو سنبھالتی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔
سارا بازار بند ہونے کی بنا پر چنگ چی رکشہ فراٹے بھرتا اکو کے بتائے ہوئے پتہ پر آگے بڑھ رہا تھا۔ ریلوے پھاٹک کراس کر کے ٹیکسی اسٹینڈ والی گلی کے اندر جانے کا کہا اکو نے۔ رکشے والے نے مین روڈ چھوڑ کر رکشہ گلی کے اندر موڑ لیا تھا جہاں تک رکشہ آسانی سے چلتا گیا ۔ آخر کار رکشے والے کو ہاتھ کھڑے کرنا پڑے ۔
اکو قلی نے اٹیچی سر پر رکھا اور ایک بیگ کندھے پر لٹکاتے لڑکے کا ہاتھ تھام کر چلنا شروع کر دیا ۔ ایک گلی چھوڑ کر دوسرے والی گلی کے کونے کے چھوٹے سے مکان کے باہر رُکتے اس نے دروازہ کھٹکھٹاتے آواز دی ’’اماںدروازہ کھولو‘‘۔
’’آئی بیٹا! ‘‘
اند ر سے نحیف آواز گونجی پھردروازہ کھلا اور ایک ادھیڑ عمر اماں نے سر باہر نکالتے پہلے اپنے بیٹے اور پھر ان تینوں کو حیرت سے دیکھا ۔
’’اماں راستہ تو چھوڑو‘‘ اکو نے اپنی والدہ کو ایک طرف کرتے ان کو اندر آنے کا کہا۔
وہ تینوں اکو کے پیچھے چلتے اندر آگئے دو کمروں کا چھوٹا سا پرانی طرز کا مکان تھا ۔ دونوں ماں بیٹے اکیلے ہی رہ رہے تھے۔ چھوٹی بہن کی شادی ہو گئی تھی اور وہ اپنے گھر سدھار گئی۔ والد کو مرے تیسرا سال ہو رہا تھا باپ قلی تھا اب بیٹا اس کے بعد لال پگڑی اوڑھے اسٹیشن پر قلی رجسٹرڈ تھا۔ اماں کھانستی ہوئی ان کے قریب آئی اور بڑی محبت سے تینوں کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے اکو کی جانب استفہامیہ نظروں سے دیکھا؟
’’اماں یہ لوگ کچھ دن ہمارے گھر بطور مہمان رہیں گے‘‘۔
’’جی بسم اللہ۔ مہمان تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتا ہے ‘‘۔کہتے ہوئے وہ چھپر کے نیچے پڑے چولہے کی طرف ہو گئی۔
صبح کی سفیدی پوری طرح پھیل چکی تھی اکو نے اس خاتون اور دونوں بچوں کی طرف دیکھا جن کے چہروں پر پھیلی پریشانی نمایاں دکھائی دے رہی تھی
’’اماں تم چائے بنائو میں ناشتہ لاتا ہوں ‘‘کہتے ہوئے اکو ان کو کمرے میں بٹھا کر خود باہر نکل گیا۔
اپنی بساط کے مطابق وہ اچھا ہی ناشتہ لا یا تھا تینوں بے صبری سے ناشتہ کر رہے تھے۔ دونوں ماں بیٹا ان کو دیکھ کر کسی بھی نتیجہ پر نہیں پہنچے تھے۔ اکو نے اپنا کمرہ ان کو دے دیا۔ خود اپنی اماں کے کمرے میں شفٹ ہو گیا۔ کمرے کیا تھے بس سر چھپانے کاآسرا تھا۔
ناشتہ سے بعد وہ تینوں بے خبر ہو کر سو گئے ۔ اکو ان کے کھانے کا بندوبست کر نے نکل گیا ۔ دوونوں ماں بیٹے نے مل کر کھانا تیار کیا اور ان کے جاگنے کا انتظار کرنے لگے۔
’’بیٹا!یہ آخر ہیں کون؟دیکھنے میں تو کسی بڑے گھر کے لگتے ہیں‘‘۔
’’ماں جی مجھے تو خود بھی ابھی تک ان کے ناموں کی خبر بھی نہیں ۔ اسٹیشن پر پریشان حال بیٹھے تھے اس سے پہلے کہ کسی مصیبت میں پڑتے میں انہیں اپنے ساتھ لے آیا۔ اماں تمہیں تو اسٹیشن کے ماحول کا پتہ ہی ہے ‘‘۔اکو نے بڑے اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی والدہ کو سمجھایا۔
’’بیٹا تم نے بہت اچھا کیا جو اِن کو گھر لے آئے۔ کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر ان سے بات کرتے ہیں‘‘
’’ میرا بھی یہی خیال تھا‘‘۔اکو نے ماں کی بات پر سر ہلاتے جواب دیا۔
دوپہر ڈھلتے وہ جاگ گئے۔ یہ شکر تھا کہ پچھلے سال اکو نے ڈھنگ کا واش روم اوپر چھت پر بنوایا تھا اپنی شادی کیلئے کیونکہ اس کی ماں کئی ایک جگہ پر بات چلا رہی تھی اکو کی شادی کی۔
تینوں باری باری نہا کر کپڑے تبدیل کر کے برآمدے میں آگئے ماں جی نے کھانا لگادیا۔ آج مدت کے بعد گھر میں رونق تھی دسترخوان پر ورنہ بہت کم ہوتااکو باہر سے کھاکر آتا ماں جی اپنے لئے تھوڑا بہت پکا لیتی یا آس پڑوس سے کوئی کھانا دے جاتا۔
تینوں خاموشی سے کھانے میں مصروف تھے برتن اُٹھانے ماں جی کا ہاتھ بٹاتے وہ خاتون مخاطب ہوئی۔
’’ میرا نام ثریا ہے ،بیٹی کا نام شاہدہ اور بیٹے کا نام شاویز ۔ ہم بہاولپور کے رہائشی ہیں ان کے والد کا نام محمد اقبال ہے اور وہ محکمہ شاہرات میں بطور آفسیر تعینات ہیں۔‘‘ بتا کر ثریا ماں جی کے ساتھ برتن صاف کرنے میں مصروف ہو گئی۔
شاہدہ اور شاویز دونوں اُٹھ کر اندر چلے گئے تھے۔ ثریا چائے بنانے کیلئے چولہا جلانے لگی تھوڑی دیر بعد ثریا نے چائے بنا کر سب کو دی اوراکو کے قریب آبیٹھی۔
’’آپ کی بڑی مہربانی ہے جو آپ نے سہارا دیا ورنہ پتہ نہیں کہاں دھکے کھانے پڑتے؟ ۔‘‘ثریا کا لہجہ رقت آمیز تھا۔
’’کوئی بات نہیں بیٹی۔ جس نے پیدا کیا ہے وہ سبب بھی خود ہی پیدا کر تا ہے مگر اتنا بڑا اقدام تم نے اُٹھایا کیوں ہے؟‘‘اکو کی والدہ نے براہ راست ثریا سے سوال کیا۔
’’ماں جی تقدیر نے زندگی کے ساتھ جو بھی سلوک کیا وہ میرا مقدر تھا ۔میرے ساتھ بچے بھی دربدر ہو گئے۔ اقبال کے ساتھ شادی میں نے اپنی مرضی سے کی تھی ۔ میرے والدین میرے آگے بے بس ہو گئے تھے۔ پہلے چند سال تو وہ میرے ساتھ بڑا اچھا رہا پھر آہستہ آہستہ اس کے رویہ میں فرق آنا شروع ہو گیا۔
شاہدہ کے بعد شاویز پیدا ہو ا اُسی دوران مجھے اقبال کی دوسری شادی کا پتہ چلا ۔ میں نے بڑے تحمل سے اسے کہا کہ اقبال اگر تم نے دوسری شادی کر لی ہے تو اسے گھر لے آئو میں اس کے ساتھ گزارہ کر لوں گی۔ جب تم کئی کئی دن تک گھر نہیں آتے ہوتو بچے مجھ سے طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں ۔ میں ان کو ڈھنگ سے کوئی جواب نہیں دے پاتی مگر اس نے بجائے کوئی بات کرتا اُلٹا میرے منہ پر تھپڑوں کی بارش کر دی اور کہا کہ میں نے تمہیں اتنی اجازت نہیں دی کہ تم براہ راست میری نجی زندگی میں کوئی دخل اندازی کر و اور ہاں کان کھول کر سن لو تم اپنے گھر اور اپنے بچوں تک خود کو محدود رکھو ورنہ انہیں ساتھ لو اور اپنے والدین کے گھر چلی جائو مجھے کوئی فرق نہیں پڑنے والا
اقبال اپنا سامان اُٹھا کر گھر سے چلا گیا ۔ میں کئی دن انتظار کرتی رہی فون بھی نہیں سنتا تھا ایک دو بار آفس کا ملازم کچھ پیسے دے گیا اور بس۔ بڑی جدو جہد کے بعد میں نے پتہ لگا لیا کہ وہ کہاں رہ رہا تھا۔
بچوں کو اسکول بھیج کر میں اس فلیٹ پر پہنچ گئی ۔ کال بیل پر دروازہ کھولنے والی لڑکی سے میں نے اندازہ لگا لیا کہ یہ وہ بد بخت ہے جس نے یہ آگ لگائی ہے۔ اُسے بھی خبر ہو گئی کہ میں اقبال کی بیوی ہوں۔ اس نے مجھے اندر آنے کا کہا ۔میں چلتی ہوئی اس کے پیچھے اس کے بیڈ روم تک آگئی سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر اقبال کی بڑی سی تصویر کونے میں پڑی تھی۔ میرے جسم پر جیسے کسی نے کھولتا پانی انڈیل دیا ہو۔
آپی میں نے ان کو بار بار کہاہے کہ گھر بچوں میں جائیں مگر وہ مجھے بھی ڈانٹ کر چپ کروا دیتے ہیں اس نے مجھے بیٹھنے کا کہتے کارنر میں پڑی چھوٹی فریج سے ٹین پیک کوک نکالتے ایک خود اور دوسری میری سامنے رکھ دی۔ میں بغور اس کا جائزہ لینے میں مصروف تھی۔وہ خاصا قیمتی سوٹ پہنے ہوئے اور سونے سے پیلی ہو رہی تھی۔صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اقبال اس پر دل کھول کر خرچ کر رہا تھا گھر کا خیال جتنا انہیں ہوتا اس میں ہمارا گزارہ ہی ہو رہا تھا۔
میں نے اپنے اندر کے طوفان کو چھپاتے اسے مخاطب کیا ۔آپ کا نام ؟
ناہید۔ اس نے ڈبہ اپنے ہاتھ میں گھماتے اپنا نام بتایا۔
دیکھو ناہید اقبال کو میں نے فری ہینڈ دے دیا ہے کہ آپ اور ہم اکٹھے ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں اگر آپ چاہو تو وہ مان جائیں گے بچوں کو بہت ضرورت ہے باپ کے سایہ کی۔میں نے اُسے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
ٹھیک ہے آپی وہ آتے ہیں تو میں بات کرونگی ۔ناہید نے روایتی اندازمیں مجھے جواب دیا ۔ تھوڑی دیر بعد میں اُٹھی اور واپس گھر آگئی وہ آنسو جو میں نے وہاں روک رکھے تھے مسہری پر گرتے بے اختیار میری آنکھوں سے بہہ نکلے۔
شام کو اقبال نے فون کیا اور جو اس کے منہ میں آیا کہہ دیا کہ تمہاری جرأت کیسے ہوئی جو تم نے میرا پیچھا کیا اور گھر کی دہلیز سے قدم باہر نکالا۔ وہ غصہ میں تھا اور میں صرف سوری اقبال، سوری اقبال کے سوااور کوئی جواب نہ دے پائی۔ انہوں نے فون بند کر دیا۔
میں نے بہت کوشش کی کہ وہ واپس گھر آجائیں مگر ان کا دل پتھر ہو چکا تھا ۔میری توجیسے انہیں ضرورت نہیں تھی مگر بچوں کو بھی انہوں نے لاوارث کر دیا۔ میں کب تک یہ سب سہتی جب اس نے مجھے اپنے دل سے ہی نکال دیاتو میں کیوں اس کی دنیا میں رہتی اور میں نے اس فیصلہ کے باوجود دو تین بار اسے اپنے ارادے سے آگاہ کیا ۔جواب میں اس نے یہ کہہ کر فون کاٹ دیا کہ مجھے تم پر اعتبار نہیں ۔مجھے تو ان دونوں بچوں پر بھی یقین نہیں ۔جو میرے لئے اپنے ماں باپ ، بہن بھائیوں کو چھوڑ سکتی ہے وہ میری غیر موجودگی میں کیا کچھ نہیں کر تی ہو گی؟۔
اقبال کے منہ سے ایسی غلیظ گفتگو کی مجھے بالکل توقع نہیں تھی مگر اس کے سر پر ناہید کا بھوت سوار تھا شاید وہ اُس وقت اس کے قریب ہی ہو جو وہ اس کو خوش کر نے کیلئے مجھ پر ایسی گندی گفتگوکے کوڑے برسا رہا تھا ‘‘۔
بتاتے بتاتے ثریا بیگم سسک اُٹھی۔ دونوں ماں بیٹے نے اسے دلاسا دیا اورکہا کہ جب تک تمہارا دل چاہے اس گھر کو اپنا گھر سمجھ کر اپنے بچوں کے ساتھ رہے انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
اکو قلی جس آبادی میں رہتا تھا اس کی آخری دیوار نئی آبادی کے ساتھ ملتی تھی ۔یہ ریڈ لائٹ ایریا تھا جو بلدیہ کے ریکارڈ میں نئی آبادی ’’چکلہ‘‘ کے نام سے موسوم تھی۔
اوپر چھت پر چارپائیاں لگادی گئی تھیں کیونکہ گرمیوں کے موسم میں آس پاس کے لوگ چھتوں پر ہی زیادہ تر سوتے تھے ۔ شام ڈوبتے ہی نئی آبادی کی روشنیاں جا گ اُٹھیں۔ سازوں اور گھنگھرئوں کی جھنکار پر ثریا بیگم بُری طرح چونکی تو اکو قلی نے بتایا کہ یہ یہاں کا بازار حسن ہے ۔ شروع دن سے ہی یہ چلا آرہا ہے بہت کوشش کی اہل محلہ نے ہٹانے کی مگر یہ لوگ عدالتوں تک پہنچ گئے اور یہ آج تک شریفوں کے محلہ کے ساتھ اپنا بازار سجائے ہوئے ہیں۔
اوپر چھت پر کھڑے کھڑے بازار میں بیٹھی طوائفیں اور وہاں آنے جانے والے لوگ صاف دکھائی دیتے۔
شاہدہ نے بڑی حیرت سے یہ سب کچھ دیکھ کر اپنے بھائی شاویز کو مخاطب کیا۔
’’شاویز یہ جو عورتیں دروازوں کے باہر کرسیوں پر بیٹھی ہیں یہ کیا کر رہی ہیں؟ کبھی دروازہ بند کر لیا تھوڑی دیر بعد کھول لیا اور پھر کسی اور کے ساتھ جا کر دروازہ بند کر لیتی ہیں۔‘‘
’’مجھے کیا معلوم ؟ہو گا ان کو کوئی گھر کا معاملہ‘‘۔ شاویز نے ایک دروازہ کھلتے اور ساتھ والا بند ہوتے دیکھ کر جواب دیا۔
روز رات کے پچھلے پہر سے لیکر رات گئے تک یہ سلسلہ دیکھتے ثریا بیگم بھی بڑی دیر تک اس صورتحال کا مشاہدہ کرتی جیسے اپنے اندر کوئی بہت بڑا فیصلہ کرنے میں مصروف ہو۔
جو تھوڑی بہت رقم وہ ساتھ لائی تھی وہ آہستہ آہستہ ختم ہو گئی اب جو زیورات اس کے پاس تھے ان میں سے ایک چین اور لاکٹ فروخت ہو گئے۔
اکو قلی اور ثریا بیگم اوپر چھت پر الگ الگ چارپائی پر بیٹھے دیوار کے دوسری طرف بند ہوتے، کھلتے دروازوں کی جانب دیکھ رہے تھے۔
’’اکو ‘‘! ثریا نے اسے مخاطب کیا۔
’’ہاں بولو۔‘‘
’’یہ دھندا کرنے والیوں کو پولیس پکڑتی نہیں؟‘‘
’’نہیں ان کو سرکار نے دھندا کرنے اور مجرہ کرنے کا لائسنس جاری کر رکھا ہے یہ لوگ اس حدود کے اندر رہتے یہ کام کرتے ہیں باقاعدہ ایک قانون ہے ان سب کیلئے ۔‘‘اکو قلی نے بڑے عالمانہ انداز میں اپنی معلومات دہرائیں۔
’’تم کبھی گئے ہو اُدھر؟‘‘ثریا نے آنکھوں سے اشارہ کرتے پوچھا۔
’’ہاں کبھی کبھار چلا جاتا ہوں جب ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ اس بار اکو کے اندر کا قلی کروٹ لے کر اُٹھا۔
’’کیوں ؟خیر ہے تم کیوں پوچھ رہی ہو یہ سب کچھ؟‘‘
’’کئی دنوں سے میرے اندر ایک عجیب طرح کی جنگ جاری ہے ۔میں اقبال کو بتانا چاہتی ہوں کہ جب عورت انتقام لینے پر آجائے تو وہ تمام حدیں پار کرجاتی ہے‘‘۔
’’میںکچھ سمجھا نہیں‘‘؟اکو نے چونک کر پوچھا
’’میں اس بازار میں رہنا چاہتی ہوں‘‘۔
’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا‘‘؟اکو نے برہمی کا اظہار کرتے اپنی ناگواری اپنے چہرے پر سجاتے اسے ڈانٹا۔
’’اکو تم میری زندگی کے نشیب و فراز سے واقف نہیں ہو ۔ میں نے اقبال کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا اس کی خدمت اور اس کی عزت کی حفاظت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی مگر مجھے دیا کیا اس نے ؟۔‘‘یکدم اس کی آواز بھرا گئی۔
اکو نے اسے دلاسا دیا اور بولا ’’تم اپنا خیال بتائو میں پھر ہی کوئی مشورہ دیتا ہوں‘‘۔
’’تم نے مجرہ کی بات کی ہے میں شاہدہ کو باقاعدہ مجرہ کی تربیت دلوانا چاہتی ہوں‘‘۔ ثریا نے اپنا فیصلہ اسے سنایا تو اکو گہری سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ پل خاموش رہنے کے بعد بولا ’’میں اس آبادی کے چودھری دارا سے بات کرونگا‘‘
دوسرے دن اکو نے چکلہ کے چودھری سردار عرف دار ا سے بات کر کے ثریا بیگم کو اس سے ملوا دیا۔
شاہدہ کی معصومیت اور خوبصورتی ،ثریا بیگم کی بھرپور جوانی نے چودھری کے دل پر زبر دست وار کیا ۔ اس نے شاطرانہ چال چلتے ثریا بیگم کو اپنا گھر پیش کر دیا او ر مقامی تھانہ میں جاکر ثریا بیگم کے طوائف بننے کی درخواست جمع کر وا دی۔
استادوں کے زیر سایہ ماں بیٹی نے چند دنوں میں ہی رقص اور گانے میں سبقت حاصل کر لی۔
پہلی بار جب دونوں ماں بیٹی اپنی بیٹھک میں سج دھج کر بیٹھیں تو تماش بینوں کا رش لگ گیا ۔ شاہدہ کی آواز اچھی تھی پھر چکلہ میں یہ بات پھیل چکی تھی کہ یہ کوئی بڑے گھر کی شریف زادی ہے جس نے اپنی مرضی سے طوائف بننا پسند کیا ۔ اس کو مکمل حمایت حاصل تھی دارے کنجر کی جو اسے اپنی بیٹی بنا کر اپنے گھر لایا تھا۔
بہت چرچا تھا چاروں جانب شاہدہ کے حسن کا۔ شہر کے بڑے بڑے توتڑ خان شاہدہ کی زلف کے اسیر ہو چکے تھے جب شاہدہ اپنی آواز کا جادو جگاتی تو نوٹوں کے انبار لگ جاتے اس کے ایک ٹھمکے پر جیبوں سے نوٹ نکل کر بیٹھک کی دیواروں سے ٹکرانے لگتے۔
شاویز کے خون میں بے غیرتی کے ذرات شامل تو ہو گئے مگر اندر سے اس کی رگوں میں دوڑنے والا خون اکثر بے غیرتی پر غالب آجاتا اور وہ اپنی ماں اور بہن پر بر س پڑتا مگر دونوں اس کی ایک نہ چلنے دیتیں۔
شاہدہ کی نتھ اتروائی کی رسم شہر کے بڑے نامی گرامی بدمعاش اسلم لون والے کے ہاتھوں انجام پائی ۔ لاکھوں کی رقم پاس آگئی خریداری کے انبار لگ گئے۔ اسلم آتا تو ڈھیروں ضروریات زندگی کا سامان ساتھ لاتا ۔ بدمعاش تھا ،ذرا ذرا سی بات پر چھری پستول نکال لیتا مگر شاہدہ کی زلفوں کا اسیر ایسے ہوا کہ قدموں کی مٹی چاٹتا۔
شہر میں ناجائز فروشی ،جوأ اور غنڈہ گردی سے کمایا ہوا پیسہ پانی کی طرح بہا رہا تھا۔ ایک دوبار اسلم نے دبی زبان میں شاہدہ کو مجرہ بند کرنے کی بابت کہا مگر ثریا کی ایک ہی دھمکی کے ہاتھوں چت ہو گیا کہ تمہارے جیسے بے شمار تماش بین ہیں میری شہزادی کا خرچہ اُٹھانے والے ، تم مت آیا کرو میرے گھر۔
اسلم کی بولتی بند ہو گئی ۔ اس کی غیر موجودگی میں کئی ایک سرمایہ دار دوچار گھنٹے گزار جاتے شاہدہ کے بیڈ پر۔ اگر کوئی شکایت ہوتی تھی تو اسلم کی جرأت نہ پڑتی کہ شاہدہ سے یا ثریا بائی سے اس کا ذکر کرتا۔
ثریا بائی اکّو قلی کو بھی کبھی کبھار کچھ نہ کچھ دیتی رہتی کیونکہ اس کی احسان مند تھی جس کی بدولت وہ بازار حُسن میں راج کر رہی تھی۔
پورے شہر میں شاہدہ اسلم کے حوالے سے جانی جاتی تھی ۔روز شام کو پشاوری تانگہ میں ماں بیٹی بن ٹھن کر نکلتیں اور شہر کی سڑکوں پر خود کی نمائش کرتیں۔
دوسرے تیسرے دن کا یہ دورہ ان کا کاروباری دورہ ہوتا تھا۔ان کے دام ِ فریب میں شہر کے باذوق حضرات پھنستے ،نکلتے رہتے تھے۔
شاویز آج بھی اپنی والدہ اور بہن سے بُری طرح اُلجھا تھا ۔بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ شاہدہ کے منہ پر پڑنے والے تھپڑ نے اس کے رخسار پر خاصا نشان بنا دیا تھا۔ ثریا بیگم نے آپے سے باہر ہوتے اپنے بیٹے کو گھر سے نکل جانے کا حکم دیا ۔
شاویز بد زبانی کرتا ہوا گھر باہر نکل کر شہزاد دواخانہ پر آبیٹھاجہاں وہ حکیم کے پاس دن بھر بیٹھتا تھا۔ یہاں بیٹھنے پر ماں بیٹی کو اعتراض ہوتا تھا کیونکہ ان کے خیال میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ وہ ہی اسے ان کے بارے میں بھرتا رہتا تھاکیونکہ ایک دو بار شاوی نے اسلم سے اور دوسرے ایک دو پکے گاہکوں سے بھی بد تمیزی کا مظاہرہ کیا تھا۔ یہاں کے ماحول نے شاویز کو نشہ کا عادی بنانے کے ساتھ ساتھ جوأ کھیلنے کی لت میں بھی ڈال دیا تھا۔ اس کے اخراجات بڑھ رہے تھے مگر ثریا بیگم اس کو مناسب خرچہ دیتی تھی ۔
لڑائی جھگڑا وہ جان بوجھ کر مول لیتا ۔ کئی بار تھانہ کاوزٹ کر آیاتھا اس لئے اس کے اندر سے پولیس کا خوف نکل چکا تھا۔
رات گئے تک وہ دواخانہ کے باہر تھڑے پر بیٹھا رہا جب بازار بند ہوا تو ثریا بیگم کو شاوی کی فکر ہوئی۔ دونوں ماں بیٹی گھر سے نکل کر باہر روڈ پر آئیں تو انہیں شاویز شہزاد دواخانہ کے تھڑے پر بیٹھا ملا ۔بڑی مشکل سے دونوں نے اسے منایا اور لے کر گھر آگئیں۔
اُدھرآخر کار اقبال کو اپنی بیوی ،بیٹی اور بیٹے کا پتہ چل گیاکہ بازار حسن میں اس کی عزت کا جنازہ نکالے ہوئے بد کاری کا دھندہ کر رہے ہیں۔اقبال نے اپنی عزت کے خوف سے ثریا اور بچوں کے گھر سے جانے کی اطلاع تک پولیس کو نہیں دی تھی۔ تین سال بعد کسی جاننے والے نے بازار حسن میں ثریا بیگم اور شاہدہ کو دیکھا اور اقبال کو آکر بتایا ۔
وہ چاہتا تو پولیس کو اپنے ساتھ لا سکتا تھا مگر اس نے دانشمندی کا مظاہر ہ کیا اور اکیلا ہی ان کے پیچھے چلا آیا۔ بازار حسن جنرل بس اسٹینڈ کے ایک جانب تھا۔ اقبال نے ہوٹل میں کمرہ لیا اور شام کے ڈھلنے کا انتظار کرنے لگا۔
بازار حسن کی تاریکی اُجالے میں ڈوب گئی تو وہ کمرہ لاک کر کے نکلا اور ریڈ لائٹ ایریا کے اندر آگیا۔ اسے ثریا بیگم کو تلاش کرنے میں دقت نہ ہوئی دونوں ماں بیٹی بیٹھک میں بَن سنور کربیٹھی گانا سننے والوں کے انتظار میں تھیں۔ اقبال پر نظر پڑتے ہی دونوں پتھر کی طرح ساکت ہو کر رہ گئیں۔
تینوں ایک دوسرے کی طرف جس انداز میں دیکھ رہے تھے انکی کیفیت کو محسوس کرنا قدرے مشکل تھا۔
دونوں یکدم اُٹھیں اور اسے اندر رہائش کی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ اقبال ان کے پیچھے اندر چل پڑا۔ شاویز بیڈ پر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا جو نہی باپ پر نظرپڑی تو جلدی سے اُٹھ کر بیٹھ گیا۔
کمرے میں چاروں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ اقبال نے خاموشی توڑی۔
’’ ثریا مجھے اتنی بڑی سزا دے ڈالی مری چھوٹی سی غلطی کی۔ تمہارے جانے کے بعد میں نے اسے بھی چھوڑ دیا ۔تمہارا کہاں کہاں پتہ نہیں کیا مگر تقدیر نے مجھے اس دن کیلئے زندہ رکھا ہوا تھا۔ کاش میں اس لمحہ کو دیکھنے سے پہلے ہی مر چکا ہوتا‘‘۔
اقبال کی آنکھوں کے بند ٹوٹ چکے تھے ۔ ثریا بیگم کے دل میں کسی جگہ چھپا اقبال کیلئے پیار چھلک پڑا اور وہ اقبال کے قریب آتے اُسے دلاسا دینے لگی۔ دونوں بچے اپنے والد کے ساتھ لگ کر بلک بلک کر رورہے تھے۔ ان کو روتے دیکھ کر چودھری دارا گھر کے اندر آیا تو اقبال پر نظر پڑتے وہ بھی ٹھٹھک گیا۔
ثریا بیگم نے دارے کو بتایا کہ یہ اقبال ہے ۔ دارا نے اسے روائتی انداز میں لیا۔جب اچھی طرح اندر کے غباردُھل گئے تو اقبال نے ثریا بیگم سے واپس گھر چلنے کی بات شروع کی تو اس نے یہ کہہ کر اس کی پیشکش کو رَد کر دیا کہ اب ہم شریف لوگوں میں واپس نہیں جاسکتیںاگر شاویز جانا چاہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
’’بیٹی تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
’’ابو جی یہ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔‘‘شاہدہ نے اپنی والدہ کی طرف داری کرتے اقبال کو جواب دیا۔
’’ابو جی چلیں‘‘ ۔شاویز نے اپنے والد کا ہاتھ تھامتے اسے اُٹھاتے ہوئے کہا۔ اقبال اپنے بیٹے کے ساتھ اُٹھ کر کمرے سے باہر نکل آیا۔دونوں چلتے ہوئے ہوٹل کے کمرے میں آگئے۔
شاویز باپ سے ملکر اپنے آپ کو بڑا محفوظ پا رہا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو اپنے اپنے دُکھ سناتے سناتے سو گئے تھے۔
صبح ناشتہ سے فارغ ہو کر شاویز نے اقبال سے اجازت لی او راپنی والدہ اور بہن کو سمجھانے بازار حُسن کی طرف چل پڑا۔
ثریا بیگم نے شاویز پر نظر پڑتے برجست کہا ’’ایک رات بھی نہیں کاٹ سکے ہو اپنے باپ کے ساتھ؟‘‘
’’نہیں ماں یہ بات نہیں۔ تمہیں بھی اس حقیقت کا علم ہے کہ سارا کیا دھر ا تمہارا اپنا ہے ۔ ہمیں گھر سے بے گھر کیا اور شرافت کی دنیا سے نکال کر گندگی کے ڈھیر میں لا پھینکا۔‘‘
شاہدہ نے پھنکار کر اپنے بھائی کی طرف دیکھا اور غُرا کر بولی’’ یہ تقریر بند کرو اگر یہاں رہنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ اپنا بوریا بستر اُٹھائو اور چلے جائو ہمارے گھر سے۔‘‘
’’تم بکواس بند کرو گی؟ ۔ میں اماں سے بات کر رہا ہوں۔‘‘
’’یہ ٹھیک کہہ رہی ہے شاوی۔ اگر تمہیں یہاں رہنا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ یہی صلاح میری بھی ہے‘‘۔
’’ماں آپ اتنی پتھر دل مت بنو ۔ ابو تمام رات اپنے کئے پر نادم رہے ہیں اور وہ آپ دونوں کو اس کے باوجود واپس لے جانے کیلئے تیار ہیں۔ اس گھنائونی زندگی سے نکل کر آپ ہمارے ساتھ چلیں۔ ‘‘اسی اثناء میں شاہدہ آپے سے باہر ہو گئی اور اس کو گھر سے نکل جانے کا کہا۔
شاویز اس کے ہتک آمیز رویہ سے دلبرداشتہ ہو کر اپنے اوپر والے کمرے کی طرف بھاگا۔ جب واپس آیا تو اس کے ہاتھوں میں چمکتا ہوا تیز دھار خنجر تھا۔ اس سے پہلے کہ ماں بیٹی سمجھتیں شاویز نے بھر پوروار کرتے شاہدہ کے پیٹ میں خنجر گھسیڑ دیا دوسرا وار ثریا بیگم پر کیا ۔ دونوں گر کر تڑپ رہی تھیںجب تک وہ ٹھنڈی نہ ہو گئیں وہ ان کے سر پر سوار رہا جب اسے یقین ہو گیا کہ اب وہ زندگی کی بازی ہار چکی ہیں تو وہ خنجر لہراتا ہو ا باہر نکلا۔ جس کی بھی نظر اس پر پڑی وہ بھاگ کر اِدھر اُدھر ہو گیا۔ باہر سڑک پر آکر اس نے تانگہ روکا اور تھانہ کا بتا کر بیٹھ گیا۔
انسپکٹر رشید مرتضیٰ تھانہ کے بڑے سے دالان میں موجود تھا۔ شاویز نے خنجر اس کے سامنے رکھتے گرفتاری دیتے اپنی ماں اور بہن کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔
پوسٹ مارٹم کے بعد اقبال دونوں کی لاشیں وصول کر کے اپنے ساتھ لے گیا اور اپنی بیوی اور بیٹی کا مقدمہ اپنے بیٹے کے خلاف اندراج کرنے کی درخواست تھانہ سٹی میںپیش کر دی۔

٭٭٭٭٭

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles