16 C
Lahore
Tuesday, February 27, 2024

Book Store

پراسرار عورت

تحریر، جاوید راہی

میرے والد صاحب بڑے ہونے کے ناطہ پوری فیملی کو ایک ہی سائبان کی چھت کے نیچے لئے ہوئے تھے ۔دادا جان کی وفات کے بعد سارے خاندان کا بوجھ اُٹھانامیرے والد صاحب کی ذمہ داری بن گئی ۔سارے چھوٹے بھائی والد صاحب کو چودھری بھائی کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔
سارے کاروبار کو تینوں بھائی یوں سنبھالے ہوئے تھے کہ زمینوں کی دیکھ بھال چچا اقبال اورچچا افضال کرتے جبکہ شہر کا سارا کاروباری معاملہ والد صاحب کے سپرد تھا۔غلہ منڈی میں آڑھت اور ساتھ میں کھاد کی ایجنسی بھی تھی۔
چچا اقبال کی تین بیٹیاں ہی تھیں جبکہ چچا افضال کے دونوں لڑکے امتیاز اور امجد والد صاحب کے ساتھ آڑھت پر ہی ہوتے تھے۔ ہم دونوں بہن بھائی شروع دن سے ہی تعلیم کی طرف راغب چلے آرہے تھے ۔گریجویشن کے بعد حمیرا باجی کی شادی امتیاز بھائی سے کر دی گئی اور میں ابھی کالج میں ہی تھا۔
میری والدہ صاحبہ نے دونوں کی بیویوں کو کبھی بھابھیوں کا رشتہ نہیں دیا تھا بلکہ شروع سے ہی اپنی چھوٹی بہنیں تصور کیا۔
چچا اقبال کی بڑی بیٹی فری نے مشکل سے ایف اے کیا جبکہ دوسری دونوں بہنوں نے میٹرک میں ہی اسکول کو خیر آباد کہتے گھر داری سنبھال لی۔
والدہ صاحبہ نے امجد بھائی کیلئے فری کو منسوب کر رکھا تھا ،ویسے بھی ایک گھر میں رہتے دونوں ایک دوسرے میں دلچسپی رکھتے تھے۔
باتوں باتوں میں میرا نام مریم کیلئے لیا گیا مگر والدہ صاحبہ نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ رضوان تو ابھی پڑھ رہا ہے ۔
والد صاحب کے پاس اکثر ایک بزرگ آیا کرتے جنہیں وہ پیر صاحب کہہ کر بلاتے تھے۔ گھنٹوں وہ اوپر والے حصے میں پتہ نہیں کیا راز و نیاز کرتے ؟پھر رات بسر کر کے وہ اپنے گائوں واپس چلے جاتے۔
والد صاحب سٹہ کا دھندہ بھی کرتے تھے کئی بار پیر صاحب (بقول والد صاحب) کی دُعا سے بڑا فائدہ ہوا ۔ یہاں تک کہ پیر صاحب اگر کسی بات کی نفی کر دیتے تو مجال ہے کہ والد صاحب اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھتے۔
میں اپنے کمرے میں سٹڈی کر رہا تھا کہ میرے والد صاحب کی آوازآئی’’او رضو‘‘۔
گھر والے سبھی مجھے رضو کہہ کر بلاتے تھے ۔ میں جی آیا جی کہتے تیزی سے اوپر کی طرف لپکا۔ وہ کمرے میں زمین پر بیٹھے تھے جبکہ پیر صاحب اوپر بیڈ پر ۔ مجھ پر نگاہ پڑتے وہ بولے جلدی سے جاکر سوا کلو گوشت لے آئو۔ انہوں نے پانچ سو کا نوٹ میری طرف بڑھاتے کہا۔ میں انہی قدموں واپس ہو گیا اور نیچے آکر موٹر سائیکل سنبھالی اور مارکیٹ کی طرف چل پڑا۔
مارکیٹ کے اندر بڑے گوشت کی ایک ہی شاپ تھی مگر اس پر گوشت ختم ہو چکا تھا اب مجھے بڑا گوشت تلاش کرنے کیلئے اِدھر اُدھر بھاگنا ہوگا۔ میںنے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور چل پڑا مگر گہر ی مایوسی ۔ ایک دوکاندار نے بتایا کہ باہر والے موڑ پر ایک دوکان ہے شاید وہاں سے مل جائے۔شہر سے خاصا فاصلہ تھا اس دوکان کاجبکہ والد صاحب نے جلد آنے کی تاکیدکی تھی اس لئے میں موٹر سائیکل کو اُڑائے لئے جا رہا تھا ۔ وہاںگوشت مجھے آسانی سے مل گیا۔
واپسی پر میری اسپیڈ پہلے سے بھی زیادہ تھی یکدم ایک سات آٹھ سالہ لڑکا سڑک کراس کرتا موٹر سائیکل کے سامنے آگیا اور میں اسے بچا نہ پایا۔ موٹر سائیکل کی ٹکر سے وہ دور جا گرا میں بھی سڑک پر لڑکھڑاتا کافی دور تک گھسٹرتا چلا گیا۔ میرے بھی چوٹیں آئیں مگر وہ لڑکا کافی حد تک زخمی ہو ا تھا۔ لوگ اس کی طرف متوجہ تھے میں نے موقعہ غنیمت جانتے گوشت اور موٹر سائیکل اٹھایا اور وہاں سے بھاگ نکلا۔
والد صاحب نے ڈانٹ کر پوچھا کہ اتنی دیر کہاں لگا دی تو میں نے تفصیل بتاتے گوشت اور بقایا پیسے ان کے آگے رکھ دیئے اور خود کمرے سے نکل کر نیچے آگیا۔ والدہ صاحبہ نے میرے زخموں سے نکلتے خون کو دیکھ کر وجہ پوچھی توا نہیں بھی میں نے سچ سچ سب کچھ بتا دیا۔ انہوں نے میرے زخم صاف کر کے ان پر مرہم لگائی اور آرام کرنے کا کہا اور پیر صاحب کی شان میں قصیدے پڑھتی کچن کی طرف چلی گئیں۔
صبح ہمارے گھر پولیس آ پہنچی ۔ اُن کی زبانی پتہ چلا کہ جو لڑکا میری موٹر سائیکل سے ٹکرایا تھا اسے ہسپتال سے نازک حالت میں لاہور ریفر کر دیا گیا ۔ وہاں کسی نے میری نشاندہی کرتے بتایا کہ میں چودھری بھائی کا بیٹا تھا اوریوں پولیس گھر پہنچ گئی۔
پولیس کو دیکھ کر آس پاس کے لوگ اکٹھے ہوگئے۔ والد صاحب نے بہت کوشش کی مگر کوئی بات نہ بنی اور مجھے ملازم اپنے ساتھ تھانہ لے آئے۔ میں اس صورتحال سے خاصا دلبرداشتہ اور سہما ہوا تھا۔ لڑکے کے ورثا گو اتنی پہنچ والے نہیں تھے مگر اس لڑکے کی حالت کے پیشِ نظر پولیس ان کی ہی طرفداری کر رہی تھی۔ والد صاحب شہر میں خاصے اثر و رسوخ والے تھے مگر کوئی بھی حربہ کارگرنہیں ہو رہا تھا ۔ میں حوالات میں بند اسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ اگر لڑکے کو کچھ ہو گیا تومیرا کیا بنے گا؟
مجھے اپنے والد صاحب پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا اور پیر صاحب پر تو میرا بس نہیں چل رہا تھا جن کے جادو گنڈے کیلئے گوشت لینے نکلا اور حادثہ پیش آگیا۔
رات حوالات میں بیٹھا آنسو بہاتا رہا۔ دوسرے دن ایکسیڈنٹ کی دفعہ کے مطابق میرا چالان کر دیا گیا۔ تیسرے دن لاہور ہسپتال سے لڑکے کے مرنے کی اطلاع موصول ہوگئی ،ڈر کے مارے میرے اوسان خطا ہو گئے۔ میرے خلاف زیر دفعہ304 ایف بھی مقدمہ میں شامل کر لی گئی۔ سارے گھر میں اس صورتحال پر صفِ ماتم کا سا ماحول تھا۔
میرا چالان مکمل کرکے عدالت پیش کیا گیا، میرے وارنٹ تیار ہو رہے تھے۔ عدالت لانے والا تھانیدار اور کانسٹیبل مجھے لے کر عدالت کے سامنے بنے گراسی پلاٹ کے دونوں جانب درختوں کے سائے میں آبیٹھے ۔ کچھ دیر بعد تھانیدار یہ کہتا ہوا اُٹھا کہ میں وکیل کے چیمبر سے ہوکر رضوان کے وارنٹ کا پتہ کر آئوں تم خبردار ہو کر بیٹھنا۔
’’جی جناب ‘‘۔کانسٹیبل (جو ریٹائرڈ ہونے کی عمر میں تھا) نے سر ہلاتے تھانیدار کو مطمئن کیا تو وہ عدالت کی طرف چلا گیا۔
میں نے ڈرے سہمے لہجہ میں کانسٹیبل کو مخاطب کیا ۔ ’’سر اَب کیا ہوگا‘‘؟
’’کچھ نہیں، تمہارے وارنٹ سائین ہو جائیں تو تمہیں جیل روانہ کر دیا جائیگا اگر ورثا کو راضی کر لیا تمہارے والدین نے تو شاید مقدمہ خارج ہو جائے۔ ‘‘
’’اگر مقدمہ چلا تو عدالت مجھے کیا سزا دے گی ؟‘‘
’’اب مضروب چونکہ مر چکا ہے اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عدالت تمہیں رعایت دی گی ،مرا تو تیری غلطی سے ہے نا، اب بھگتو ‘‘کہہ کر کانسٹیبل نے جیب سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالتے سگریٹ ہونٹوں میں دبایا اورماچس جلانے میں مصروف ہوگیا۔
ہتھکڑی کا سنگل اس نے اپنے پیر کے نیچے دبا رکھا تھا۔ ایک لمحہ گزرا اور میں نے زور کا جھٹکا دیتے سنگل کھینچا اور اندھا دھند بھاگتا ہوا عدالت کی دیوارپھاند گیا۔یہ بھی اچھا تھا کہ اس کانسٹیبل نے ہتھکڑی کے دونوں کڑے میرے ایک ہی بازو میں لگائے تھے۔ اسے توشاید مجھ سے یہ توقع نہیں تھی اور میرے اندر بھی ایسی کوئی بات نہیں تھی خدا جانے مجھ میں یہ طاقت کہاں سے آگئی کہ میں بھاگ نکلا۔
میرے پیچھے صرف کانسٹیبل بھاگا آرہا تھا میں لوگوں کے سامنے بھاگا جا رہا تھا مگر کسی نے مجھے پکڑنے کی کوشش نہ کی،یہ شایدپولیس کے خلاف نفرت تھی ورنہ کسی کو بھی مجھے قابو کرنے میں کوئی دقت نہ ہوتی۔ کانسٹیبل کافی پیچھے رہ گیا تھا۔ میں نے بھاگتے ہوئے ہتھکڑی کا سنگل اپنے بازو پر لپیٹ کر قمیض کا بازو اس کے اوپر چڑھا دیا۔
پہلی نظر میں دیکھنے پر کسی کو شبہ نہیں ہوتا کہ میرے بازو پر ہتھکڑی لگی ہوئی ہے۔ میرا رُخ کھیتوں کی طرف تھا۔ میں بجائے شہر کی طرف رُخ کرتا میں نے ریلوے لائن والی سائیڈ کو سامنے رکھ لیا اُدھر جھاڑیاں او رآمدو رفت بھی کم تھی اس لئے کوئی دشواری پیش نہیں آرہی تھی بھاگنے میں۔ کالج کی ٹیم کے ساتھ کھیلوں میں حصہ لیتے رہنے کی وجہ سے مجھے بھاگنے میں کوئی دِقت بھی نہیں ہو رہی تھی۔
کبھی کبھار گزرنے والوں کی نظروں سے بچتا ہوا میں کافی دور نکل آیا تھا۔ اب سب سے پہلا کام خود کو ہتھکڑی سے آزاد کرنا تھا اس کیلئے مجھے ریلوے لائن کے دونوں اطراف لگے لوہے کے بڑے کیل جن سے لائن کے درمیان لگے لکڑی کے پھٹے اپنی جگہ جمے ہوئے تھے ایک دو کو ہاتھ میں پکڑے پتھر کی مدد سے اُکھاڑنے کی کوشش کی مگر سخت مایوسی ہوئی لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ جب چلتے چلتے تھک جاتا تو کسی جھاڑی کی اوٹ میں رُک کرذرا سا آرام کر لیتااور پھر آگے چل پڑتا۔
کوئی چھوٹا سا غیر آباد اسٹیشن تھا جس کی عمارت دور سے دکھائی دی جب میں قریب گیا تو پتہ چلا کہ وہ ٹوٹے پھوٹے کوارٹر تھے جن کے دروازے کھڑکیاں غائب تھیں۔ شاید ریلوے نے یہ چھوٹا سا اسٹیشن لاوارث قرار دے دیا تھا اور لوگ یہاں کی ہر چیز اُکھاڑ کر لے گئے تھے۔ بھوک سے نڈھال اور خوف سے بھرا اپنا وجود سمیٹے میں نامعلوم راستوں پر آگے بڑھ رہا تھا۔
کبھی مجھے اپنے گھر سے باہر تک جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا مگر اب میں جس انداز سے چل رہا تھا اس سے میرے اندر خود کو بچانے کی جدوجہد جاگ اُٹھی تھی ۔ تھوڑی دیر سستانے کے بعد میں اُٹھ کر دوبارہ چل پڑا جب کوئی گاڑی گزرتی تو میں خود کو اِدھر اُدھر چھپا لیتا اسی طرح مسلسل آگے بڑھتے دِن ڈھل گیا۔
میرے سامنے ریلوے لائن سے ذرا ہٹ کر شاید کسی پرائیویٹ کمپنی نے اپنے گودام بنا رکھے تھے جس جگہ چھپ کر میںجائزہ لے رہا تھا ۔ مجھے وہاں کچھ لوگ کھانا بناتے دکھائی دیئے وہ یا تو لیبر والے تھے یا پھر ان گوداموں کے کرتا دھرتا ہوں گے۔ میں ایک لمبا چکر کاٹ کر گوداموں کے پچھواڑے پہنچ گیا ۔ میرا اور ان کا فاصلہ تھوڑا ہی تھا۔ میں ان کی نظروں سے بچتا ہوا رہائشی حصہ کی طرف آگیا۔ وہ سب کھانے کے چکر میں لگے ہوئے تھے اور مجھے تلاش تھی کسی ایسے اوزار کی جس کی مدد سے میں خود کو ہتھکڑی سے آزاد کر لیتا مگر بے سود۔
یہاں سے نکل کر میں گوداموںکے شیڈ والے بلاک کو عبور کرکے پرانے ناکارہ کھڑے ایک ٹریکٹر کے پاس پہنچ گیا۔ وہ لوہے کی ایک ہُک تھی جو شاید ٹرالی کو ٹریکٹر کے ساتھ جوڑنے کیلئے کام آتی ہوگی جس کو میں نے آہستگی سے کھینچ کر باہر نکال لیا اور رینگتا ہوا گوداموں سے کافی فاصلے پر آگیا۔
وہاںسے چلتے ہوئے میں نے ایک پتھر بھی اُٹھا لیا تھا جو میری بغل میں تھا۔ جب مجھے یقین ہو گیا کہ میں ان کی نظروں سے خاصا دور ہوں تو قمیض بازو سے اوپر کرتے ہتھکڑی کے تالے میں لوہے کی ہُک پھنسا کر ہتھکڑی پر ضرب لگائی تو وہ کھُل گئی اسی طرح میں نے دوسرا تالا بھی توڑ دیاپھر وہ سنگل اور ہتھکڑی کو زمین سے مٹی ہٹا کر دفن کر دیا۔
اب میں آزاد تھا پھر ایک فیصلہ کرتے دوبارہ گودام کی طرف چل پڑا ۔اب میں چھپنے کی بجائے سیدھا اس طرف جا رہا تھا جہاں وہ لوگ کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ قریب جاکر میں نے سلام دُعا کے بعد پانی مانگا تو ان میں سے ایک نے میرے آگے پلیٹ میں سالن رکھتے کھانے کا اشارہ کیا تو میں کچھ بولے بغیر کھانے میں جُٹ گیا۔ جب پیٹ بھر گیا توذہن نے بھی کام کرنا شروع کر دیا۔
اسی نے مجھ سے پوچھا کہ’’ اس وقت کدھر‘‘؟ تو میں نے فوراً من گھڑت کہانی تراشتے اسے بتایا کہ دوسری طرف ہمارا گائوں ہے کالج کے ہوسٹل میں رہائش پذیر ہوں ۔دو ماہ کی فیس نہیں ادا کر سکا جس کی وجہ سے ہوسٹل سے نکال دیاگیا اب میں گھر جارہا ہوں۔
’’اتنی رات گئے؟
’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہمارا آنا جاتا لگا رہتا ہے‘‘۔ میں نے اس ہوشیاری سے جھوٹ بولا تھا کہ سب کو میری بات پر یقین آگیا ۔مجھے چائے بھی دی گئی اور رات رُکنے کی بھی آفر کر دی اس نے جس سے میں نے پانی مانگا تھا اور اس نے کھانا میرے آگے رکھ دیا تھا۔’’جی ٹھیک ہے‘‘ میں نے چائے کی پیالی سنبھالتے جواباًکہا۔
وہ رات میں نے گوداموں میں گزاری صبح ناشتہ ا ن کے ساتھ کیا اور اجازت لے کر دوبارہ نامعلوم منزل کی طرف چل پڑا۔
ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے میں اپنے گھر والوں کے بارے میں بھی سوچتا جا رہا تھا کہ پولیس والے میرے فرار ہونے کے بعدضرور گھر والوں سے پوچھ گچھ کرنے پہنچ گئے ہوں گے۔ اپنے پکڑے جانے کا خوف اپنی جگہ الگ تھا ۔
اب جو راستہ میں نے اختیار کر رکھا تھا وہ کوئی نہر تھی جس کے دونوں کناروں پر گھنے درختوں کا سلسلہ پانی کے بہائو کی جانب تاحد نظر پھیلا ہوا تھا ۔ ریلوے لائن کو میں نے اس لئے چھوڑ دیاکہ اب آنے جانے والوں کی آمدورفت تھی ۔
ناشتہ میں نے پیٹ بھر کر کیا تھا اور ایک پراٹھا میں نے شاپر میں بھی ڈال لیاتھا ۔ پانی کی بوتل بھی ہاتھ میں رکھ لی تھی۔ راستے میں دو تین آبادیاں آئیں مگر میں رُکا نہیں چلتا جا رہا تھا۔ جب کافی تھک گیا تو ایک جگہ بیٹھ کر پراٹھا کھا کر پانی پیا اور دوبارہ سفر شروع کر دیا۔
دوپہر ڈھل چکی تھی اور میں ایک ایسی جگہ پر آرُکا جہاںکوئی پرانے زمانے کا قبرستان تھا۔ ایک دو دربار بھی تھے جن پر کئی ملنگ ٹائپ بابے ڈیرہ ڈالے نظر آئے ۔ میرا رُخ قبرستان کے داخلی حصہ میں بنے دربار کی طرف تھا۔ دربار کے باہر بڑا سا گڑھا تھا جس میں لکڑیاں روشن تھیں اور اس کے چاروں اطراف بڑے ادب سے چند ایک لوگ ایک بزرگ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے میں بھی ان میں شامل ہو گیا۔ وہ بزرگ دین کے بارے میں واعظ کر رہا تھا اور وہاں موجود سبھی لوگ بڑی توجہ سے سُن رہے تھے۔
دو ملنگ مٹی کی بڑی سی دوری میں کوئی سبز سی چیز رگڑ رہے تھے میرا دھیان بزرگ کی باتوں کے ساتھ ساتھ ان دونوں کی طرف بھی تھا جو سلور کے ڈول میں وہ رگڑا اُنڈیل کر اس میں دودھ ڈال رہے تھے۔ واعظ ختم ہونے پر سب کو مٹی کے پیالوں میں وہ سبز سفید مشروب پیش کیا گیا ۔ مجھے بھی پیالہ ملا میں نے سب کی تلقین میں پہلا گھونٹ بھرا تو اس کا ذائقہ میری سمجھ سے باہر تھا مگر میں نے پیالہ پی کر خالی کر دیا۔ اسی دوران خالی پیالے کو پھر بھر دیا گیا۔ جہاں وہ بزرگ اس محفل کی امامت کررہے تھے وہاں وہ سارے نظام کی نگرانی بھی کر رہے تھے۔ جس کا پیالہ خالی ہوتا وہ آواز دے کر دوبارہ بھروادیتے۔ دوسرا پیالہ بھی میں نے خالی کرتے واپس پکڑا دیا۔ وہاں موجود لوگوں میں سے کچھ اُٹھ کر جا چکے تھے اور بقایا جو میرے سمیت بیٹھے تھے وہ شاید دربار کے اور بزرگ کے پکے خادمین ہونگے۔
میرا سارا وجود عجیب قسم کی غنودگی میں ڈوبا ہوا تھا اور میں وہاں سے اُٹھ کر دربار شریف کی باہر والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔وہ لوگ باتیں کر رہے تھے مجھے انکی آواز دور سے آتی سنائی دے رہی تھی۔
جس دن سے پولیس مجھے پکڑ کر تھانے لائی تھی اسی دن سے پہنا ہوا شلوار سوٹ دھول سے اَٹا پڑا تھا ۔ میرے اپنے جسم سے سڑند سی اُٹھ کر مجھے ناگوار محسوس ہو رہی تھی تو دوسروں کو یہ بد بو کیسی لگتی ہوگی؟
میں اسی طرح دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے دنیا مافیا سے بے خبر رات بھی پڑا رہا میرا سارا جسم ساکت ذہن بوجھل تھا ۔ دربار کے متولی بزرگ اپنے بستر پر پڑے خراٹے لے رہے تھے۔ دونوںبابے بھی نظر نہیں آرہے تھے قبرستان میں چند عورتیں اور مرد شاید اپنے پیاروں کی قبروں پر مٹی ڈالتے اور فاتحہ خوانی کرتے پھر رہے تھے۔ میں اُٹھ کر کھیتوں کی طرف چل پڑا ۔قدم زمین پریوں پڑ رہے تھے جیسے میں ہوا میں تیر رہا تھا ۔ پتہ نہیں وہ کیا چیز تھی؟ جو انہوں نے مجھے پلا دی جس کی وجہ سے میرا بُرا حال ہو گیا تھا۔
واپس آیا تو بابا جی اُٹھ کر بیٹھے ہوئے تھے اور دونوں ملنگ بھی آچکے تھے ان کی بالٹیوں میں طرح طرح کے سالن اور روٹیاںدیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ کہیں سے مانگ تانگ کر لائے ہیں۔مجھے بھی کھانے کیلئے روٹی مل گئی۔ پھر یہ معمول ہو گیا میرا کہ میں قبرستان میں ان ملنگوں کے ساتھ قبروں کی مرمت اور لیپا تاپی میں ان کا ہاتھ بٹانے لگا ۔
میرا حلیہ بھی بدل گیابھنگ چرس کے نشہ نے مجھے بھی درویش بنا دیا میں کون تھا ؟اور کہاں سے آیا تھا ؟نہ کسی نے پوچھا نہ میں نے بتایا۔آس پاس کے کئی بڑے چھوٹے دیہات تھے جہاں میں بھی سائیں چڑی اور ساوی بابا کے ہمراہ بھیک مانگنے جانے لگا تھا۔ میری شکل بگڑ گئی ، نہانا دھونا نہ صفائی ستھرائی بس بھیک مانگ کر کھا لیا اور بھنگ چرس پی کر کسی کونے میں خارش زدہ کُتے کی طرح سر پھینک کر پڑے رہنا یہ تھی میری زندگی جو والد صاحب کے پیر صاحب نے میرے مقدر میں لکھ دی۔
دربار کے متولی پیر بالے شاہ مجھ سے اس لئے بھی بہت خوش تھے کہ میں کئی کئی گھنٹے ان کی ٹانگیں دباتا رہتا۔
اب میں سائیں چڑی کی شاگردی میں بھنگ گھوٹنے اور چرس کے سگریٹ بنانے میں بھی ماہر ہو چکا تھا۔ دونوں نے مجھے قبر کھودنے اور مرمت کرنے کا بھی ہنر دے دیا ۔
سائیں چڑی پھیر ی پر گیا ہوا تھا اور ساوی بابا کے دو دِن سے کھانسی بخار میں پڑا ہونے کی وجہ سے سارے کام مجھے ہی سرانجام دینے پڑتے تھے۔
قریبی گائوں میں ایک بچہ گزر گیا اور قبر بنانے کیلئے اس کا رشتہ دار مجھے ہزار روپے پکڑا کر چلا گیا جنازہ چار بجے آنا تھا ۔ میں قبر کھودنے کا سامان اُٹھا کر اس کونے کی طرف چل پڑا جہاں اب قبریں بنائی جاتی تھیں۔
خالی جگہ کا انتخاب کر کے میں نے کُدال، کھُرپی اور دوسرے اوزار نیچے رکھے اور کُدال سے زمین کی مٹی ہٹانے لگا جب میں نے لحد تک کھدائی کر لی تو سستانے کیلئے قبر سے باہر نکلا اور قریب کھڑے برگد کے درخت کے نیچے آبیٹھا۔ جیب میں رکھا چرس بھرا سگریٹ نکال کر سلگایا اور کش لگانے لگا ۔ دوچار لمبے لمبے سوٹے کھینچ کر میں نے کمر درخت کے تنے سے لگا کر آنکھیں موند لیں چرس کا سرور دماغ میں تاریکی بھر چکا تھا۔ وجودکی تھکاوٹ کو سمیٹ کر میں دوبارہ اُٹھا اور قبر میں اُتر کر کام کرنے لگا جب مجھے یقین ہو گیا کہ قبر ہر طرح سے تیار ہو چکی ہے تو اپنے اوزار سمیٹتا قبر سے باہر نکل کر جب کھڑا ہو اتو سامنے برگد کے درخت کے تنے کے ساتھ ٹیک لگائے ایک خوبرو لڑکی کو بیٹھے دیکھا جو میری طرف ہی دیکھ رہی تھی پہلے میں سمجھا کہ شاید مرنے والے کی کوئی عزیزہ ہے جو بچے کی قبر دیکھنے آپہنچی ہو گی مگر جب ذرا قریب ہو کر اس کا جائزہ لیا تو اس کے چہرے کی تازگی بتا رہی تھی کہ اسے کوئی پریشانی نہیں۔ میرے قریب کھڑے ہونے کا اس نے کوئی نوٹس نہ لیا اور ’’بولی تیار ہو گئی قبر؟‘‘
’’جی ہاں مگر آپ یہاں ؟‘‘
اس نے میرے منہ سے لفظ اُچک لیا۔
’’کیوں قبرستان میں آنا منع ہے کیا‘‘؟اس کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔
’’نہیں یہ بات ہرگز نہیں میں نے تو یونہی پوچھ لیا تھا ‘‘۔میں نے اپنے اوزار ترتیب سے ایک جگہ رکھتے جواباً کہا۔
’’مرنے والا بچہ آپ کا کچھ لگتا ہے ؟‘‘
’’نہیں تو‘‘! اس نے لا پرواہی سے جواب دیا۔
’’تو پھر آپ یہاں‘‘؟میں نے اپنے اوزار اُٹھاتے پھر سوال کیا۔
’’بتا تو چکی ہوں کہ یہاں قبرستان آنا منع ہے‘‘ ؟میں لا جواب سا ہو کر دربار کی طرف چل پڑا۔
بچہ دفنا کر اس کے لواحقین کب کے جا چکے تھے۔
میں اپنے نشہ پانی سے فارغ ہو کر اپنے بستر پر آگیا جومیں نے پیر بالے شاہ کے پائوں کی جانب زمین پر بچھا رکھا تھا۔لیٹتے ہی مجھے نیند نے دبوچ لیا۔
صبح فجر کے وقت میں اُٹھ کر جایا کرتا تھا ۔ مجھے گائوں میں روٹی سالن اکٹھا کرنے کی پھیری لگانا ہوتی تھی ۔ کھیتوں سے فراغت کے بعد میں ہاتھ منہ دھو کر اپنی بالٹی اور تھیلا اُٹھاتا قبرستان سے باہر جانے والے راستے کی طرف ہو گیا جب پھیری لگا کر واپس آیا تو پیر بالے شاہ کے پاس کئی لوگوں کو بیٹھے دیکھا ۔ پہلے تو میں گھبرا گیا کہ کہیں پیچھے سے میرے لئے تو کوئی نہیں آگیامگر وہ تو اس مرنے والے بچے کے لواحقین اور گائوں کے لوگ تھے۔
مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ میری طرف متوجہ ہوئے۔ ’’سائیں تمہیں پتہ ہے کہ ہمارے بچے کی لاش کون نکال کر لے گیا؟صبح جب اس کی قبر پر اس کی والدہ اور کچھ دوسری عورتیں آئیں تو قبر کھلی ہوئی تھی اور کفن باہر پڑا تھا‘‘۔
میں اس صورت حال سے پریشان ہو گیا کیونکہ قبر بھی میں نے بنائی تھی اور دفن کرنے تک وہاں موجود رہا تھا۔ میری لاعلمی کے اظہار پر وہ پیر بالے شاہ اور چڑی سائیں سمیت مجھ پر برس رہے تھے۔ بڑی مشکل سے ان کو یقین دلا کر واپس بھیجا کہ شاید کسی آدم خور کی شرارت ہے جو لاش چٹ کر گیا ہوگا۔
ان کے جانے کے بعد میں مسلسل اس لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا جو میرے قبر تیار کرتے وقت مجھے برگد کے درخت کے نیچے بیٹھی ملی تھی جس کو میں وہیں چھوڑ کر وہاں سے چلا آیا تھا۔ خوف کی سرد لہر میرے پورے جسم میں سرائیت کر رہی تھی جب ذرا آسودگی ہوئی تو میں قبروں کی طرف چل پڑا۔ چڑی سائیں نے قبر دوبارہ دُرست کر دی تھی۔ میں بڑے محتاط انداز میں چاروں اطراف دیکھتا اس بچے کی قبر کے قریب گیا تو مجھے یوس محسوس ہوا جیسے کوئی میرے آس پاس ہے ۔
قبرستان کے ماحول میں رہتے کئی ماہ ہو چکے تھے ڈر ، خوف سرے سے ختم ہو چکا تھا مگر آج میں خود کو اندر سے خوفزدہ سا لگ رہا تھا۔وہاں زیادہ دیر تک نہ رُک سکا اور واپس دربار پر آکر اپنے کاموں میں اُلجھ گیا۔
رات گئے تک ڈیرہ پر لوگ بیٹھے رہے اور بچے کی لاش کے بارے میں باتیں چلتی رہیں ہر کوئی اپنی اپنی کہانی سنا رہا تھا۔جب سب چلے گئے تو پیر بالے شاہ سمیت ہم بھی سونے کیلئے اپنے اپنے بستروں پر آلیٹے۔ میرے پورے وجود میں ایک ہی سوال محو گردش تھااور وہ تھا اس پر اسرار لڑکی کا کہ آخر وہ کون تھی؟اسی سوچ بچار میں میری آنکھ لگ گئی۔
ایسا لگا جیسے کسی نے مجھے بُری طرح جھنجھوڑ ا ہو میں ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھا اور غیر ارادی طور پر میری نظر قبرستان کے اندر کی طرف گئی تو مجھے تھوڑے فاصلے پر وہی لڑکی اور ساتھ میں چھوٹا سا لڑکا کھڑے دکھائی دیئے۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنی طرف بُلا رہی تھی میرا پورا وجود خوف کی علامت بنا ہوا تھا مگر اس کے باوجود میں اپنا بستر چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے بچتا ہوا ان دونوں کی طرف آہستہ قدموں سے چل پڑا ۔
قریب جاکر میں نے غور سے دیکھا وہی لڑکی تھی اور وہی بچہ جس کو میں نے خود لحد میں اُتار کر قبر بند کی تھی۔وہ اس کے ساتھ یوں لگا ہوا تھا جیسے وہ اس کا اپنا بچہ ہو۔ میری زبان حلق میں اٹک کر رہ گئی۔میں کوئی سوال کرتا اس لڑکی کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی ۔
’’رضو! تم واپس اپنے گھر جائو تمہارے والدین نے مرنے والے کے والدین سے راضی نامہ کر لیا ہے تم جو پولیس والوں سے فرار ہوئے تھے اس کا مقدمہ درج ہے جب تم وہاں پیش ہوگئے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا۔‘‘ کہتے ہوئے وہ بچے کا ہاتھ تھام کر قبروں میں سے ہوتی ہوئی برگد کے درخت کی طرف بڑھنے لگی ۔میرے پائوں زمین نے جکڑ رکھے تھے اور میں دونوں کو جاتے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
وہ کون تھی؟اسے میرے بارے میں سب کچھ کیسے پتہ تھا؟ان ساری باتوں کو ایک طرف رکھتے میں صبح پھیری کے وقت اُٹھا اور بغیر بالٹی اور تھیلے کے قبرستان سے باہر کی طرف جانے والے راستے کی جانب چل پڑا۔
واپس گھر پہنچ کر میں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا مقدمہ چلا ،مجھے پولیس کی حراست سے فرار ہونے کے جرم میں دو سال قید کی سزا ہو گئی ۔آج بھی وہ مافوق الفطرت لڑکی اور مرنے والا بچہ میرے ذہن کو سختی سے دبوچے ہوئے ہے کہ کیا وہ سب حقیقت تھی یا میراکوئی جاگتی آنکھوں دیکھا خواب تھا۔
٭٭٭٭٭

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles

Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO