33 C
Lahore
Tuesday, June 18, 2024

Book Store

Relationships|رشتوں کی ڈور

رشتوں کی ڈور

مصنفہ: صالحہ محبوب

فی زمانہ چار بیٹیوں کو بیاہنا کتنا کٹھن ہے نادرہ بیگم سے زیادہ کسے معلوم تھا۔ متوسط اور مستحکم طبقے سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان معاشی لحاظ سے خوش حال تھا۔ چلتا ہوا کاروبار تھا۔ اپنا گھر تھا اور سب سے برھ کر نادرہ بیگم کی چاروں بیٹیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت اور سلیقہ شعار بھی تھیں۔ رشتے کے کے لیے آنے والوں کی ڈیمانڈ کے عین مطابق بے حد دبلی پتلی بھی تھیں۔ مگر ہر بیٹے کی ماں کے ذہن میں اپنی متوقع بہو کے لیے کچھ انوکھا ہی نقشہ ہوتا۔
جانے انھیں اپنی بہو لانی ہوتی تھی یا تمام تشنہ خواہشات کو بہو کے متوقع جہیز سے پورا کرنا تھا۔ چوہدری گلزار صاحب ایک مناسب جہیز دینے کے قابل تھے مگر متوقع سسرالی ان سے بیٹوں کے لیے نئی گاڑی اور گھر کی امید بھی لگا لیتے تھے۔ جانے یہ رشتے ہو رہے تھے یا سودے بظاہر ان میں فرق بہت ہی کم تھا۔
چوہدری گلزار صاحب نے اپنی بڑی بیٹی رمشہ کی شادی سیف اللہ سے کی جو ان کی طرح کاروباری خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ رمتہ کوئی ڈیڑھ دو برس مختلف خواتین کے سامنے ٹرالی سجا کر چائے پیش کرتی رہی تھی۔ جس میں ہر مرتبہ لذیذ اور خوش ذائقہ پکوان ڈھیروں کی تعداد میں ہوتے۔ اس کی تینوں چھوٹی بیٹیوں کو مہمانوں کی آمد کے موقع پر چھپا دیا جاتا۔ مگر پھر بھی خواین انکار کر جاتیں۔

نادرہ بیگم آنے والی خواتین کے اس انکار پر حیران و پریشان رہ جاتیں۔ کسی کو رمشہ کے زیادہ گورے ہونے پر اعتراض ہوتا تو کسی کو اس کے زیادہ لمبے ہونے پر۔ کسی کو اس کی معصومیت میں بناوٹ نظر آتی تو کسی کو اس کے سلیقے میں جھوٹ اور مبالغے کی آمیزش۔ اپنی بیٹیوں کے اس باریک چھلنی سے جائزوں پر نادرہ بیگم پریشان ہو جاتیں۔ ان کا رب جانتا تھا کہ وہ ان آٹھ دس سالوں میں اس کے سامنے کتنا گڑگڑائی تھیں کتنی منتیں مانگی تھیں فریادیں کی تھیں۔
بیٹیوں کے جہیز کے لیے اپنی جائز ترین ضروریات کو بھی قربان کیا تھا۔ سب سے بڑھ کر اپنے سب سے بڑے اور اکلوتے سپوت کی شادی کو چاروں چھوٹی بہنوں کی شادی تک ٹالے رکھا تھا۔ چوہدری فیاض ان کی پہلوٹی کی اولاد پڑھائی مکمل کرنے کے بعد سے باپ کے کاروبار میں ان کا بازو تھا۔ چاروں بہنیں اس سے چھوٹی تھیں۔ رمشہ کے بعد عزہ، زوبیہ اور پھر ماہ نو۔ ان دس برسوں میں ان کے گھر آنے والے لڑکوں کی ماؤں کے نخرے گھر بھر کے سامنے تھے۔ چوہدری گلزار کو سب سے تکلیف دہ اپنے خاندان والوں کا رویہ لگتا تھا۔ جنہوں نے ان کی بچیوں کے لیے کبھی سوال نہ کیا تھا۔ ان کے سب بھائی اپنے بیٹوں کے لیے غیروں میں سے دلھنیں لائے۔ بہن کو بھی اپنے اکلوتے فرزند کے لیے کوئی بھتیجی نہ بھائی۔ یہی رویہ نادرہ بیگم کے میکے والوں کا رہا۔ کہیں جوڑ نہ تھا اور کہیں جوڑ ہونے نہ دیا گیا۔ دس برسوں میں چار بیٹوں کو بیاہنے کے بعد اب نادرہ بیگم کے دل میں بیٹے کی ماں بن کر بہت سے بدلے لینے کے ارمان تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ بھی بہت سے گھروں میں مہمانِ خصوصی بن کر جائیں اور پھر ویسے ہی لڑکیاں مسترد کریں جیسے ان کی بیٹیاں کی گئیں۔ وہ اپنی اس خواہش کا اظہار بارہا کرتی تھیں۔
چوہدری گلزار صاحب اب مزید وقت ضائع کرنے کے موڈ میں نہ تھے۔ ان کے خیال میں اب ان کی بہو آ جانی چاہیے تھی۔ اب نادرہ بیگم کی نگاہ میں ڈاکٹر سے نیچے بہو سما نہ رہی تھی۔ کم عمر ہونا بھی ضروری تھا۔ جبکہ چوہدری فیاض تقریباً پینتیس 35 برس کے ہو چکے تھے۔ لڑکی کا بے حد خوبصورت ہونا تو لازم تھا۔ ساتھ ہی ساتھ سرکاری اسپتال میں ملازم ہونا بھی۔ پھر جہیز میں نئی گاڑی… سلیقہ شعار اتنی کہ گھر سنبھالے۔ چاروں نندوں کی دعوت کر سکے کھانا پکانے میں ماہر ہو اور روٹی تازہ تازہ گول اور پھولی ہوئی بنانا آتی ہو۔ اتنی خوبیوں کا ایک لڑکی میں اکٹھا ہونا کسی طرح بھی ممکن نہ تھا۔ چوہدری گلزار تو ان خوبیوں کے مطابق چار لڑکیوں کا انتخاب کر پاتے۔ مگر نادرہ بیگم بڑی سنجیدگی سے اپنی بہو کی تلاش میں تھیں۔ لڑکیوں کی ماں والی بے چارگی تو اسی دن رخصت ہو گئی تھی جب ان کی ماہ نور بیاہی گئی۔ اب چھے ماہ سے تلاشِ دلھن مہم اپنے عروج پر تھی۔ بلا مبالغہ وہ بیس پچیس لڑکیاں مسترد کر چکی تھیں۔ پندرہ بیس بے حد پرتکلف چائے پی چکیں تھیں اور اپنے پورے کنبے سمیت دس بارہ کھانے بھی کھا چکی تھیں۔ اپنے خاندان کی لڑکیوں کو تو انھوں نے کسی گنتی میں ہی نہ رکھا تھا۔
بدلتے موسم میں چوہدری گلزار کی بھانجی عائشہ کی شادی کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ ان کی بہن زینب پھوپھو نے بھائی سے دبے لفظوں میں اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے بات کی مگر نادرہ بیگم اس بات کو سننے کی بھی روادار نہ تھیں۔ سو اب یہ رشتہ بھی غیروں میں ہو رہا تھا۔ زینب پھوپھو نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر بیٹی کے لیے جہیز بنایا تھا۔ مگر نئے ماڈل کی گاڑی دینا کسی طور ممکن نہ تھا۔
عائشہ بے حد اچھی بچی تھی۔ ماہ نور کی ہم عمر… مگر نادرہ بیگم کے دل میں نند کی بیٹی کے لیے مخصوص نفرت سی تھی۔… دولہا والوں کے لالچ کی خبر سب کو ہی ہو رہی تھی مگر شادی کی تاریخ اور تقریبات کا انتظام کر لیا گیا۔ بارات آئی۔ مگر عین نکاح کے وقت دلھا میاں گاڑی کی ضد پر اڑ گئے۔ پھوپھو اور پھوپھا جان کی تمام منتیں رد کرتے ہوئے بارات واپس لے جانے کی دھمکی دے دی۔ عجیب ہی صورتحال تھیں۔ چوہدری گلزار نے بہن بہنوئی کے سامنے اسی وقت بیٹے کا رشتہ رکھا اور سارے خاندان کی رضامندی سے فیاض چوہدری کا نکاح عائشہ سے کر دیا گیا۔ سابقہ بارات سے ہار اتروا کر کھانا کھائے بغیر، اُسے روانہ کیا اور اب دونوں چوہدری گلزار اور فیاض اسٹیج پر بڑی شان سے بیٹھے تھے۔ نادرہ بیگم کو اس سب کی خبر نکاح کے بعد ہی ملی وہ اور ان کی بیٹیاں خوش تھیں یا ناراض دونوں صورتوں میں بات ایک ہی تھی۔ بے حد خوبصورت دلھن کے ساتھ دلھا کو بٹھا دیا گیا اور شادی سے واپسی پر ماموں جان کے ساتھ ان کی بہو ان کی بھانجی دلھا کے ہمراہ تھی۔
پھوپھو جان کو تو نئی زندگی مل گئی تھی۔ بھائی نے بہن کو شرمندگی اور رسوائی سے بچا لیا تھا۔ بس نادرہ بیگم کی تلاشِ بہو مہم کا ایمرجنسی میں اختتام ہو گیا تھا۔
چوہدری گلزار کا گھر خوشی اور غم کی عجیب ہی حالت میں تھا۔ دلھا میاں کی خوشی تو چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔ دلھا کے ابا بھی بہت شاداں و فرحاں تھے۔ دلھا کی بہنیں بھی خاصی خوش تھیں۔ مگر نادرہ بیگم کے تو خواب چکنا چور ہوئے تھے۔ جذبات کو ٹھیس لگی تھی۔ دل کے بے شمار ارمان دل میں ہی رہ گئے تھے۔ خاصا سپاٹ چہرہ لیے وہ گاڑی میں دلھن کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ شوہر اور بیٹے کے سامنے اپنی ناراضگی کا اظہار ممکن نہ تھا۔
چار پانچ گاڑیوں میں قافلہ گھر پہنچا۔ دلھا کے کمرے کو ہنگامی طور پر صاف کر کے وہاں پھولوں کے گلدستے رکھے گئے دلھن کو اس کے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ جانے دلھن کتنا شرما رہی تھی۔ دلھا خوش تھا یا پریشان مگر چوہدری گلزار اپنی متوقع پیشی سے خاصے خوفزدہ تھے۔ انھیں علم تھا کہ گھر پہنچتے ہی اپنی بیگم کی سخت جرح کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ مسلسل مختلف دلائل سوچ رہے تھے۔ مگر سب سے شاندار بیٹے کی ترکیب رہی۔

’’ابا کا بلڈ پریشر گھر پہنچتے ہی شوٹ کر گیا اور انھیں دوائیاں اور نیند کی گولیاں دے کر گیسٹ روم میں سلا دیا گیا ہے‘‘ بہنیں اپنے اپنے گھروں کو چل دیں اور نادرہ بیگم اپنے بیڈ روم میں۔
اگلے پورے ہفتے میں چوہدری صاحب کی طبیعت ’ناساز‘ رہی۔ گو وہ کام پر جاتے رہے۔ دلھا دلھن کو اگلے ہی روز سیر سپاٹے پر روانہ کر دیا۔ پندر روز میں انھوں نے نادرہ بیگم کو اپنی بھانجی کو بطورِ بہو تسلیم کرنے پر کسی نہ کسی طرح راضی کر ہی لیا۔ دلھا دلھن کی واپسی پر ولیمے کی تقریب بھی منعقد کی گئی اور رفتہ رفتہ گھر کی روٹین دوبارہ معمول پر آ گئی۔ نادرہ بیگم نے اپنے گھر کی تمام ذمہ داریاں بہو کو دے کر اللہ اللہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ اب وہ گھر کے ہر کام سے مکمل آزاد ہو گئی تھیں۔
’’ماموں جان! مجھے تو باورچی خانے کے کام نہیں آتے۔‘‘ عائشہ نے سسر کے سامنے اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔ ’’ماں نے کل سارے خاندان کو دعوت پر بلا لیا ہے کہ دلھن سارا کھانا اور خصوصاً کھیر پکائے گی۔‘‘
بیٹا یہ ساس کو جیتنے کا امتحان ہے۔ ہم تینوں یہ کھانا بھی پکائیں گے اور دعوت بھی کریں گے۔ بس تم نے ہمت کرنی ہے۔ سسر نے بہو کو حوصلہ دیا۔ چوہدری فیاض نے کھانے کا آڈر کیا۔ زینب پھوپھو سے کھیر کی ترکیب پوچھی گئی اور اگلے روز سارا دن تینوں سسر، میاں اور بیگم نے کھیر میں چمچ ہلایا۔ بادام کاٹے پستے کاٹے اور مزیدار کھیر تیار ہو گئی۔ دعوت خوب کامیاب رہی۔ نادرہ بیگم اب زیادہ تر اپنے کمرے میں رہتیں۔ غیر اعلانیہ ناراضگی چل رہی تھی۔ گھر کا تمام ہی کام عائشہ کے کندھوں پر آن پڑا۔ ممانی جان کو اچانک صبح صبح فجر کے وقت بیڈ ٹی کی عادت پڑ گئی تھی۔ پھر صبح سات بجے ان کا ناشتہ ماموں اور شوہر دس گیارہ بجے کام پر جاتے۔ ٹھیک گیارہ بجے ممانی جان کو فریش جوس چاہیے ہوتا۔ دو بجے کھانا اور پھر شام کی چائے اور رات کا کھانا سب باقی اہل خانہ کے اوقات سے بالکل الگ اور مختلف۔ وہ گھ رکے کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی تھیں مگر بہو کی ہمہ وقت ناقد کا کردار کیا خوبی سے ادا کر رہی تھیں۔ بیٹیوں کی آمد پر اس تنقید کی تیزی سے اپنے عروج پر پہنچ جاتی۔ ہر بیٹی کی خاطر تواضع بہت اہتمام سے کرواتیں۔ میاں اور بیٹے کی عائشہ کی حمایت سے انھیں چڑ ہونے لگتی۔ ماں کے حقوق اور کا لیکچر صبح شام بیٹے کے گوش گزار کیا جاتا۔ ’ماں باپ کو بڑھاپے میں اُف تک نہ کہو‘ کچھ اس انداز سے سناتیں کہ عائشہ کو اپنا آپ غاصب کا سا لگنے لگتا۔
؏ درد ہوں اس لیے تو اٹھتا ہوں
زخم ہوتا تو بھر گیا ہوتا!!!
بیٹے کی شادی کے بعد سب کو ہی ایک نئی نادرہ بیگم نظر آنے لگیں تھیں انتہائی ضدی، بے حد شاکی، انتہائی غصیل، طمطراق اور غیض و غضب سے بھری، تنک مزاج، ’امی جی‘ جو اپنی بہو سے ہمیشہ اکھڑے لہجے میں مخاطب ہوتیں۔ عائشہ کے ہ رکام پر ناراض ہو کر چیختی، ڈھاڑتیں، جھڑکتیں، گالم گلوش کرتیں، چیزیں اٹھا کر پھینکتیں اور خود کو اذیت دینے لگتیں۔ ان کی اس شدید بد اخلاقی سے گھر کا ماحول مکدد ہو کر رہ گیا تھا۔ اس تکلیف دہ ماحول میں رنجشیں اور کدورتیں جنم لینا شروع ہوتی جا رہی تھیں۔ وہ اپنی بہو کو اپنی زبان اور ہاتھوں دونوں سے اذیتیں پہنچا رہی تھیں۔
وہ روز بہو کے لیے نت نئے کام نکال کر رکھ دیتیں۔ اگر وہ کام نہ کر پاتی تو اس پر برس پڑتیں۔ اگر مارے باندھے کچھ کر لیتی تو وہ نادرہ بیگم کی پسند کا نہ ہوتا تب بھی وہ اس کا حشر کر دیتیں۔ کام میں دیر سویر ہو جاتی تو طنز کے تیر برساتیں غلطی ہو جاتی تو مذاق بنا لیتیں۔ ان کے سوچے گئے روایتی طریقے سے ہٹ کر کرتی تو اس کا ناطقہ بند کر دیتیں۔ اس حدیث سے کوسوں دور کر کہ جھو چھوٹوں پر شفقت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔
عائشہ کو سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی جب وہ ہر آئے گئے کے سامنے عائشہ کی بارات کی واپسی اور چوہدری فیاض کی قربانی کا حال تفصیل سے بیان کرتیں۔ اپنے احسانات کو ہر آئے گئے کے سامنے بار بار گنتیں اور جتاتی رہتیں۔ قرآن کی تلقین، قول حسن سے نابلد، قول لین سے ناآشنا… یہ ہرگز نہ تھا کہ وہ ہر اچھی بات سے لاعلم تھیں۔ بس اب کسی بھی اخلاقی اصول پر عمل کرنے سے طویل رخصت پر تھیں۔ عائشہ کی ہر ہر بات پر انتہائی اونچے سروں سے فوری رد عمل کا مظاہرہ کرتیں۔ بہو کے لیے ممانی جان کا یوں روایتی، سخت اور متعصب ساس کا روپ دھار لینا خاصا نیا تھا۔ مگر ہ بے حد تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ اس صبر میں ماموں اور شوہر کی ہمہ وقت محبت اور تعاون بھی مددگار ثابت ہوتے تھے۔ ماموں اکثر چھٹی کے دن دونوں کو بارہ گھومنے پھرنے بھیج دیتے۔ اس کے ہر کام کی تعریف کرتے اور چوہدری فیاض تو ماں کے سامنے بیوی کی ڈھال بن جاتا۔ بس یہی دونوں سہارے اسے ان تندو تیز آندھیوں میں سہارا دیے ہوئے تھے۔
نادرہ بیگم کو اب ہر وقت اپنا گھر گندہ اور بکھرا ہوا محسوس ہونے لگا تھا۔ بہو کو روز صفائی کے لیے نئے نئے احکامات جاری کرتی رہتیں۔ کپرے، بستر کی چادریں، کھڑکیوں کے پردے، قالین صوفے، برتن، چولہے غرض ہر چیز کے اُجلے اور صاف ہونے کی فکر تھی۔ فرش بالکل بے داغ اور چمکدار پسند تھے مگر اپنے رویے کی بدصورتی اور گندگی کا احساس ہی نہ تھا۔
عائشہ کے لیے اسی گھر میں ماموں چوہدری گلزار کا وجود ایک مضبوط سہارا تھا۔ وہ صابر، پُر حکمت، پُر مزاج، شفیق اور فرشتہ صفت باپ تھے۔ وہ اپنی بیگم کے ہر نئے حملے کے سامنے بہو کی ڈھال بن جاتے۔ دونوں کو تسلی دیتے اور نادرہ بیگم کو بھی درست سمت دکھانے کی کوششیں کرتے رہتے۔
عائشہ نادرہ بیگم سے اجازت لے کر دو تین روز کے لیے اپنی ماں کے ہاں گئی تو چوہدری فیاض بھی وہیں کے ہو رہے۔ بیٹے اور بہو کی غیر موجودگی سے گھر بالکل ہی خالی لگنے لگ گیا تھا۔ سارا دن بہو کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ اور غصے میں نادرہ بیگم کا وقت بڑا اچھی طرح گزر جاتا تھا۔ کل ہی تو عائشہ نے ان کی فرمائش پر کھیر بنائی اور اوپر سجاوٹ کے لیے بادام پستوں کے ساتھ کھوپرے کی جگہ اسپغول ڈال دیا۔ انھوں نے اس وقت تو کتنی کلاس لی تھی عائشہ کی مگر اب انھیں یاد آ رہا تھا کہ اسی طرح وہ بھی ایک مرتبہ کھوپرے کی جگہ اسپغول والی غلطی کر چکی تھیں۔ عائشہ کی حیرت اور شرمندگی والا چہرہ یاد کر کے انھیں آج ہنسی آ رہی تھی۔ مگر ساتھ ہی تنہائی کا احساس بھی گہرا ہونے لگا تھا۔
میاں شام دیر سے گھر آئے بھی تو اخبار لے کر بیٹھ گئے۔ نادرہ بیگم سارا دن تنہا اور خاموش رہنے کے بعد اب باتیں کرنا چاہ رہی تھیں مگر خوش گوار ماحول ختم ہوئے تو اب مہینوں بیت چکے تھے۔ ان کے زہریلے الفاظ نے انھی کے گرد تھور کی فصل کھڑی کر دی تھی۔ بہو کی شکایتیں اور برائیاں تو اب ان کی چاروں بیٹیوں نے بھی سننا بند کر دی تھیں۔ بدمزاج، بدزبان اور غصہ ناک پہ دھرے ساس کسی کو بھی پسند نہ تھیں۔ جبکہ نادرہ بیگم خود کو صاف گو اور سچا بزرگ ماننے لگی تھیں۔
’’چوہدری صاحب! کبھی کبھی مجھ سے بھی بات کر لیا کیجیے۔ اخبار چھوڑتے ہیں تو یہ موبائیل اٹھا لیتے ہیں۔ انھوں نے بات کا آغاز کر ہی دیا۔‘‘
؏ ٹھہرو کہ میں عینک سے ذرا گرد ہٹا لوں۔
لگتا ہے کہ ہم دونوں جوانی میں ملے ہیں۔
چوہدری صاحب نے سنجیدگی سے بیگم کو دیکھا۔ ’’بیگم کیا بات کروں؟ آپ نے تو عرصہ ہوا ہم سے گفتگو کرنا ہی چھوڑ دی ہے کہ بہو کی حمایت آپ سننا نہیں چاہتیں اور کوئی موضوع اب یہاں بچا ہی نہیں…‘‘
’’اچھا آپ بتائیں کہ میں کیا کروں؟‘‘ نادرہ بیگم نرمی سے بولیں گویا وہ اب اپنے رویے میں تبدیلی لانے کو تیار تھیں۔
’’بیگم! سب سے پہلے تو یہ مان لو کہ ہم نے عائشہ پر کوئی احسان نہیں کیا۔ اس کا اور تمہارے بیٹے کا مقدر رب تعالیٰ نے ساتھ لکھا تھا۔ جب اللہ کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا تو ہم کس طرح اس کے حکم کے بغیر یہ رشتہ کر سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ بہت اچھی بچی ہے، ہماری اپنی ہے، ہماری اکلوتی بہو ہے۔ اگر تمہارے اس رویے سے مجبور ہو کر وہ دونوں الگ ہو گئے تو کیا ہو گا؟‘‘
’’ہاں یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں‘‘ نادرہ بیگم اب چونکیں۔
’’چھوٹوں پر فرض ہے کہ وہ بڑوں کی خدمت کریں، عزت کریں، تو وہ اپنا فرض پورا کر رہے ہیں مگر جواب میں آپ ان پر شفقت والی ذمہ داری ادا نہیں کر رہیں۔ آپ نے اپنے رویے سے خود ہی اس گھر کو جہنم بنا دیا ہے۔ اب یہاں خوشی اور اطمینان کیوں ڈھونڈ رہی ہیں؟‘‘ چوہدری صاحب خاصا سوچ سوچ کر بول رہے تھے۔
’’اچھا ٹھیک ہے میں مانتی ہوں کہ میں نے غلط کیا ہے۔ لیکن اب میں کیا کروں؟‘‘ اپنے بیٹے اور بہو سے معافی مانگوں؟ نادرہ بیگم شرمندگی سے بولیں۔
’’بیگم! یوں کریں ایک صفحے پر درمیان میں لائن کھینچ کر دو کالم بنا لیں۔ ایک طرف آپ عائشہ سے اچھے تعلقات کے فائدے لکھیں اور دوسری طرف اپنی شکایتیں، گلے اور اس کے دور ہو جانے کے نقصان اگر فائدے زیادہ ہیں تو سارے شکوے، شکایتیں اور رنجشیں بھلا کر نئے تعلقات کی بنیاد رکھیں اور اگر شکوؤں کا وزن زیادہ ہے تو پھر اس کے نتائج پر بھی نگاہ ڈال لیں۔ مگر آپ کا یہ گھر کے کاموں سے یوں کنارہ کش ہو کر بہو کی نقاد بن جانے کا رویہ میرے اور فیاض دونوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ میرے پاس تو کوئی راستہ نہیں مگر ااپ کا بیٹے ہم سے جدا ہو کر ایک نئی زندگی کی ابتداء کرنے کا سوچ رہا ہے اور وہ یہ کرنے کے قابل بھی ہے اور درست بھی ہے۔‘‘
’’آپ بالکل ٹھیک ٹھاک، صحت مند ہوتے ہوئے کیوں بالکل ہی مجبور اور ضعیف بن کر بیٹھ گئی ہیں۔ بہو کے آنے سے پہلے بھی تو آپ یہ گھر چلا رہی تھیں۔ اب ایک گلاس پانی یا ایک کپ چائے بھی بہو ہی لا کر دے۔ اپنے گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنے میں کیا حرج ہے۔ کم از کم اپنے اور میرے ذاتی کام تو خود کر لیا کریں۔ بہو کے ساتھ بھی ویسے ہی مل جل کر رہ لیں جیسے رشتہ، ماہ نور، عزہ اور زوبیہ کے ساتھ رہتی تھیں۔ گھر کی بڑی بن کر یہ بدمزاج ساس اور سست کاہلی اور کام چور اماں والا کردار تو بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔‘‘ چوہدری صاحب نے بہت صاف الفاظ میں نادرہ بیگم کو ان کی غلطی کا احساس دلایا تھا۔
نادرہ بیگم نے بہت مرتبہ سوچا کہ ہر مرتبہ خود کو ہی قصور وار پایا اب انھیں نئے سرے سے اپنے اور بہو کے تعلقات کو استوار کرنا تھا۔ شفقت، محبت اور تعاون ان کی بنیاد تھا۔ حرکت کاموں میں شمولیت، ذمہ داریوں میں شراکت ان کے اصول تاکہ ایک اچھے اور مضبوط خاندان کی تعمیر کی جا سکتی۔
سلسلے تعلق کے
خود سے بن تو جاتے ہیں
لیکن ان شگوفوں کو
لوٹنے بکھرنے سے
روکنا بھی پڑتا ہے
کیونکہ
عشق کے علاقے میں حکمِ یار چلتا ہے
ضابطے نہیں چلتے
اگلے روز رات کو عائشہ اور فیاض دونوں گھر واپس آ گئے۔ نادرہ بیگم اگلی صبح بھی عائشہ سے معذرت کے الفاظ ہی ڈھونڈتی رہیں۔ انھوں نے اس روز نماز کے بعد اپنے رب سے معافی مانگی تھی اور اب شام کو مغرب کے بعد وہ ہمت کر کے اپنے کمرے سے باہر لاؤنج میں آ گئیں۔
تینوں بہو، بیٹا اور سسر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ دو دن کی ساری رودار بھی ساتھ ساتھ سُنائی جا رہی تھی۔ عائشہ کی دھیمی دھیمی سمکان اس کے میکے میں گزارے خوشگوار لمحوں کی گواہی دے رہی تھی۔ نادرہ بیگم کو باہر دیکھ کر تینوں حیران ہوئے۔ فیاض تیزی سے اٹھا اور خوش ہو کر ماں کو ساتھ ہی بیٹھا لیا۔ عائشہ بھاگ کر ساس کے لیے بھی چائے لے آئی۔ گلزار صاحب بچوں کو کوئی پرانا قصہ سنا رہے تھے۔ سب کچھ ٹھیک تھا بس اپنی تعصب کی عینک اترنے کے بعد سب کچھ نیا نیا سا لگ رہا تھا۔ اپنی اہمیت کا احساس دلاتے دلاتے وہ خود کو اپنے ہی خاندان سے منفی کرتی رہی تھیں کاموں سے کنارہ کش ہو کر انھوں نے خود کو عزت کے استھان پر فائز کر لیا تھا۔ چھوٹوں پر شفقت کے بغیر بڑوں کی عزت کا مطالبہ کیسے جائز تھا؟ بھلا بزرگ بن جانے کا ی مطلب کب تھا کہ انھیں صرف آرام کرنا اور عبادت کرنی تھی۔ زندگی تو مسلسل حرکت کا نام ہے۔
آج پہلی مرتبہ وہ عائشہ کو دیکھ کر مسکرائیں۔ سارے دن کی تھکن اس کے چہرے سے واضح تھی۔ وہ بھی ان دنوں ماں کے منصب پر فائز ہونے جا رہی تھی بھلا اُسے آرام، عزت اور محبت کی ضرورت کیسے نہیں تھی؟؟
بیٹی تم چائے پی کر جاؤ آرام کر لو۔ شام کا کام میں دیکھ لوں گی نادرہ بیگم نے بہت محبت سے کہا۔ عائشہ کے چہرے پر حیرت اور پھر ممنونیت کے اثرات آ گئے۔ فیاض بھی ماں کو دیکھ کر مسکرا دیا۔ رشتے اور رویے اپنے اپنے مقام پر آتے محسوس ہو رہے تھے نادرہ بیگم اب چھوٹوں پر شفقت کے بعد بزرگوں کے احترام کا مطلب سمجھ چکی تھیں۔ اب وہ معاملات میں توازن رکھنے پر آمادہ تھیں… اپنی ذات کو گھمنڈ و انا سے باہر نکال کر اپنے شفاف وجود کو ہتھیلی پر رکھنے کا نام ممتا ہے۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles