28 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

patience and endurance| صبر و برداشت کی اہمیت

اسلامی نظامِ زندگی میں صبر واستقامت کی اہمیت

پروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی

اللہ رب العزت نے سورہ آل عمران کی آخری آیت میں ارشاد فرمایا:
“يٰـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا قف وَاتَّقُوا اﷲَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ”
’’اے ایمان والو! صبر کرو اور ثابت قدمی میں (دشمن سے بھی) زیادہ محنت کرو اور (جہاد کے لیے) خوب مستعد رہو،
اور (ہمیشہ) اللہ کا تقویٰ قائم رکھو تاکہ تم کامیاب ہو سکو‘‘۔
(آل عمران، 3: 200)

زندگی میں بیشتر ایسے واقعات پیش آتے ہیں، جن میں انسان جذبات سے مغلوب ہوجاتا ہے اور غیظ و غضب سے رگیں پھڑکنے لگتی ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ فوری طورپر انتقامی کارروائی کی جائے، جیسا بھی ہوسکے سامنے والے کو اپنی برتری اور طاقت کا ایسا کرشمہ دکھایا جائے کہ دشمن طاقتیں ہمیشہ کے لیے زیر ہوجائیں، ممکن ہے اس سے ذہنی و قلبی سکون ملے اور مختلف خطرات سے نجات بھی؛ مگر اسلام نے جذبات میں آکر کسی فیصلہ کی اجازت نہیں دی ہے، تمام ایسے مواقع پر جہاں انسان عام طورپر بے قابو ہوجاتا ہے، شریعت نے اپنے آپ کو قابو میں رکھنے ، عقل وہوش سے کام کرنے اور واقعات سے الگ ہوکر واقعات کے بارے میں سوچنے اور غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے، جس کو قرآن کی اصطلاح میں ”صبر“ کہاجاتا ہے۔
قرآن میں ” صبر“ مختلف معانی میں استعمال کیا گیا ہے، اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ برائی کرنے والوں کی برائی اور بدخواہ لوگوں کے قصور کو معاف کیا جائے یعنی حاسدین اور دشمنوں کے تکلیف دہ کاموں پر غصہ اور اشتعال کے بجائے تحمل، بردباری اور برداشت سے کام لیا جائے،

ارشادِ باری ہے: وَ لَاتَسْتَوِیْ الْحَسَنَةُ ولا السَّیِّئَةُ اِدْفَعْ بالَّتِی ھِیَ أَحْسَنُ فَإذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبیْنَہ عَدَاوَةٌ، کَأَنَّہ وَلِیٌّ، حَمِیمٌ، وَ مَا یُلَقّٰھَا اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ مَا یُلَقّٰہَا اِلاَّ ذُوْ حَظٍّ عَظِیْم۔ (سورہ فصلت: ۳۴)

اور بھلائی اور برائی برابر نہیں، اگر کوئی برائی کرے تو اس کا جواب اچھائی سے دو،پھر تو تیرے اور جس کے درمیان دشمنی ہے وہ ایساہوجائے گا گویا دوست ہے ناتے والا اور یہ بات ملتی ہے انھیں کو جنھیں صبر ہے اور یہ بات ملتی ہے اس کو جس کی بڑی قیمت ہے۔
انسانی معاشرے میں ہر انسان کا کردار اور انفرادی و اجتماعی دونوں سطح پر مسلم ہے۔ ایمانیات، عبادات اور معاملات میں اسلام نے بڑی تفصیل سے احکامات و ہدایات دی ہیں۔ اگر ہم آج اپنے روزمرہ کے معاملات کا بغور جائزہ لیں تو یہ بات ناقابل تردید ہوگی کہ ہمارے جملہ معاملات کا بیشتر حصہ دینی تعلیمات سے کوسوں دور ہے۔ ہم انفرادی یا اجتماعی سطح پر رحمانی راستے سے ہٹ کر شیطانی راہ پر گامزن ہیں۔ جس کی ایک بڑی دلیل ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں سے صبر، برداشت اور تحمل و بردباری کا رفتہ رفتہ ختم یا کم ہونا ہے۔ عدم برداشت ہماری عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ اس کی بڑی وجہ دین اسلام سے دوری ہے۔
صبر کرنے والوں کا اجر
چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایک مقام پر صبر کرنے والوں کے لئے اجر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِنَّمَا يُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِحِسَابٍ.
(الزمر،39: 10)
’’بلاشبہ صبر کرنے والوں کو اُن کا اجر بے حساب انداز سے پورا کیا جائے گا‘‘۔
مندرجہ بالا آیت مقدسہ کے تحت حضرت صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادیؒ لکھتے ہیں:
’’حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا سوائے صبر کرنے والوںکے کہ انہیں بے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا اور یہ بھی مروی ہے کہ اصحاب مصیبت و بلا حاضر کئے جائیں گے نہ ان کے لئے میزان قائم کی جائے گی نہ ان کے لئے دفتر کھولے جائیں گے۔ ان پر اجرو ثواب کی بے حساب بارش ہوگی۔ یہاں تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے انہیں دیکھ کر آرزو کریں گے کہ کاش وہ اہل مصیبت میں سے ہوتے او ران کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے کہ آج یہ صبر کا اجر پاتے‘‘۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ خدا نے اس آیت میں ایمان والوں کو غیظ و غضب میں صبر کا اور نادانی وجہالت کے وقت حلم و بردباری کا اور برائی کے مقابلہ میں عفو و درگزر کا حکم دیا ہے، جب وہ ایسا کریں گے تو خدا ان کو شیطان کے اثر سے محفوظ رکھے گا۔ (تفسیر کبیر: ۱۳/۶۴۰)
معلوم ہوا کہ غصہ اور اشتعال شیطانی اثر ہے، شیطان انسان کو مختلف تدابیرکے ذریعہ ابھارنا چاہتا ہے؛ تاکہ وہ جذبات میں آکر کوئی ایسا کام کربیٹھے جو اس کے لیے دور رس نقصانات کا باعث بنے؛ اسی لیے قرآن نے ہمیشہ عفو و درگزر کی تعلیم دی ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ معاف کرنے والوں کے لیے آخرت میں بڑا اجر ہے۔ بدخواہ اور حاسدین دنیا میں جتنا چاہیں تمسخر اور مذاق اڑالیں، ایک دن ضرور ان کو اپنے کیے ہوئے پر افسوس کا اظہار کرنا ہوگا، دنیا میں اگر کسی مصلحت کے سبب نجات مل بھی گئی تو قیامت جو عدل و انصاف کا دن ہے، وہاں پر ہر ایک کو اچھے اور بُرے عمل کا بدلہ مل کر رہے گا۔ خدا نے اپنا یہ فیصلہ ان الفاظ میں سنایا ہے

: قُلْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَایَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ لِیَجْزِیَ قَوْمًا بِمَاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہ وَ مَنْ أَسَاءَ فَعَلَیْھَا ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ۔ (سورہ جاثیہ: ۲۴) ”

ایمان والوں سے کہہ دیجیے کہ ان کو جو اللہ کے جزاو سزاکے واقعات پر یقین نہیں رکھتے معاف کردیا کریں؛تاکہ لوگوں کو ان کے کاموں کا بدلہ ملے، جس نے اچھا کیا اس نے اپنے بھلے کے لیے کیا اور جس نے براکیا اس نے اپنا برا کیا، پھر تم اپنے پروردگار کے پاس لوٹائے جاوٴگے“ اس آیت کے شانِ نزول میں لکھا ہے کہ کسی منافق یا کافر نے کسی مسلمان سے کوئی بدتمیزی کی بات کہی تھی، اس سے بعض مسلمانوں کو طیش آیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی اور مسلمانوں کو عفو و درگزر کی نصیحت کی گئی۔ (تفسیر کبیر ۱۴/ ۱۷۳)
اس مفہوم پر مشتمل متعدد آیات قرآن میں نازل کی گئی ہیں، جن میں مختلف پیرا یہ سے جذباتیت کے بدلے حقیقت پسندی، غصہ اور اشتعال کے بجائے صبر و تحمل اور انتقامی کارروائی چھوڑ کر بردباری اور قوتِ برداشت کی صفت اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ صبر کا راستہ جنت کا راستہ ہے اور کسی ناخوشگوار واقعہ پر کسی بھائی کے خلاف نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھنا شیطانی راستہ ہے اور شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے؛ اس لیے اس سے جہاں تک ہوسکے پرہیز کرنا چاہیے۔ (سورہ فاطر: ۶)
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ط اِنَّ اﷲَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَo
(البقرة، 2: 153)
’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقینا اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے‘‘۔
حضرت مولانا حافظ صلاح الدین یوسف اپنی تفسیر احسن البیان میں رقمطراز ہیں:
’’انسان کی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں: آرام و راحت (نعمت) یا تکلیف و پریشانی۔ نعمت میں شکر الہٰی کی تلقین اور تکلیف میں صبر اور اللہ سے استعانت کی تاکید ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اسے خوشی پہنچتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے۔ دونوں ہی حالتیں اس کے لئے خیر ہیں‘‘۔
(صحيح مسلم، کتاب الزهد والرقائق. حديث نمبر2999)
حضرت معاذبن انس سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنا غصہ اتارنے اور بدلہ لینے پر قادر ہو اور اس کے باوجود وہ اپنے غصہ کو دبائے اور قابو میں رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن مخلوق کے سامنے بلائیں گے اور اختیار دیں گے کہ وہ جنت کی آہو چشم حوروں میں سے جس کو چاہے لے لے۔ (ترمذی)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے کوئی وصیت فرمائیے۔ جس پر میں عمر بھر کاربند رہوں، آپ نے فرمایا : غصہ کبھی مت کرنا، راوی کہتے ہیں اس شخص نے اپنی کوتاہ فہمی کی وجہ سے باربار یہی سوال لوٹایا، مجھے وصیت کیجیے، آپ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا، غصہ کبھی مت کرنا۔ (صحیح بخاری)
غصہ ایمان و عمل کے لیے انتہائی مہلک ہے، خلافِ مزاج کسی واقعہ پر جب انسان بے قابو ہوجاتا ہے تو تمام شرعی رکاوٹیں اس کے لیے بے اعتبار ہوجاتی ہیں اور وہ غصہ کی حالت میں جو چاہتا ہے کرڈالتا ہے؛ اس لیے آپ نے حدیثِ مذکور میں غیظ و غضب سے دور رہنے کی تاکید کی ہے، مشہور عالمِ دین مولانا محمد ادریس میرٹھی اس حدیث کے تحت غصہ کی قباحت اور اس کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
”حقیقت یہ ہے کہ اچھے سے اچھا سمجھدار انسان بھی شدید غصہ کی حالت میں عقل و خرد سے خارج اور بالکل پاگل ہوجاتا ہے، نہ خدا ورسول کی تعلیمات کا ہوش رہتا ہے، نہ اخلاق و انسانیت کے تقاضوں کا؛ اسی لیے کہا گیا ہے: أَلْغَضبُ جُنُوْنُ سَاعَةٍ (غصہ تھوڑی دیر کی دیوانگی کا نام ہے) علماء اخلاق نے لکھا ہے کہ بعض مرتبہ شدتِ غیظ و غضب سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے یا مستقل طورپر پاگل ہوجاتا ہے اور یہ تو بالکل عام بات ہے کہ غصہ فرو ہونے کے بعد انسان خود کو اپنے کیے پر ملامت کیا کرتا ہے اور بسااوقات بڑے بڑے دوررس نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں اور اس غصہ کے بھوت پرقابو پانا صبر و ضبط کا ملکہ پیدا کیے بغیر اور برداشت و تحمل کی عادت ڈالے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا غصہ نہ کرنے کی وصیت کا منشا درحقیقت صبر و ضبط کی عادت ڈالنے کی وصیت فرمانا ہے“ (شرح ریاض الصالحین: ۱۳۵)
جذبات کو قابومیں رکھنے اور صبر و تحمل کی فضیلت اور ثواب کی کثرت اس بنیاد پر بھی ہے کہ اس میں ایک شخص کو امتحان کی مختلف راہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ کہیں ملتے ہوئے فائدوں سے محرومی کو گوارا کرنا پڑتا ہے، کبھی خارجی مجبوری کے بغیر خود سے اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند کرلینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی بے عزتی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کہیں زیادہ کو چھوڑ کر کم پر قانع ہونا پڑتا ہے، کہیں قدرت رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ پاوٴں کو روک لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی مقبولیت کو دفن کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے، کہیں شہرت اور استقبال کے راستے کو چھوڑ کر گمنامی کے طریقے کو اختیار کرنا پڑتا ہے، کہیں الفاظ کا ذخیرہ ہوتے ہوئے اپنی زبان کو بند کرلینا پڑتا ہے ، کہیں جانتے بوجھتے دوسرے کا بوجھ اپنے سر پر لے لینا پڑتا ہے، کہیں اپنے آپ کو ایسے کام میں شریک کرنا پڑتا ہے جس میں کسی قسم کا کوئی کریڈٹ ملنے والا نہیں، ان تمام مواقع پر نفس کو کچل کر خلافِ نفس کام کرنے پر اپنے آپ کو مجبور کرنا پڑتا ہے ، یہی وہ راز ہے جس سے انسان کا سفر ہمیشہ بلندی کی طرف جاری رہتا ہے، وہ کبھی ٹھوکر نہیں کھاتا اور نہ کبھی سخت مایوسی کا شکار ہونا پڑتا ہے؛ لیکن جذبات اور غیظ وغضب سے ہمیشہ انسان کو نقصان پہنچتا ہے، اس میں فائدے کا کوئی پہلو نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری قوتوں کے باوجود کبھی انتقامی جذبات سے کام نہیں لیا۔ قریش نے آپ کو گالیاں دیں، مارنے کی دھمکی دی، راستوں میں کانٹے بچھائے، جسمِ اطہر پر نجاستیں ڈالیں، گلے میں پھندا ڈال کر کھینچا، آپ کی شان میں ہزار گستاخیاں کیں؛ مگر کوئی ایسی مثال نہیں کہ غیظ و غضب سے بے قابو ہوکر آپ نے کوئی کارروائی کی ہو، اگر آپ چاہتے تو ایک اشارہ میں ہزاروں خون آشام تلواریں نکل سکتی تھیں جو آپ کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں کا کام تمام کرنے کے لیے کافی ہو جاتیں؛ مگر قربان جائیے رحمت ِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے اس راہ کو اختیار کیا اور نہ مسلمانوں کو اس کی ہدایت دی؛ بلکہ موقع بہ موقع آپ صحابہٴ کرام کے جذبات کو سکون دینے کی کوشش کرتے اور انھیں صبر و ضبط تواضع و بردباری کا سبق سکھاتے رہتے، یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق جیسے سخت مزاج صحابیٴ پیغمبرکا بھی مزاج اسلام قبول کرنے کے بعد نرم پڑگیا تھا، وہی عمر جو معمولی باتوں میں تلواریں سونت لیا کرتے تھے، جب اسلام کی دولت سے سرفراز ہوئے اور مزاجِ نبوت سے آشنا ہوئے تو تحمل و بردباری کا حیرتناک جذبہ ان میں پیدا ہوا۔ عین اس وقت جب کہ عام انسانوں کا قابو میں رہنا مشکل ہوتا ہے، حضرت عمر فاروق معافی کا اعلان کردیا کرتے تھے۔ امام نووی نے اپنے منتخب کردہ حدیث کے مجموعہ ”ریاض الصالحین“ میں حضرت عمر فاروق کے صبر و تحمل کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جو بہت دلچسپ ہے اور عبرتناک بھی، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذیل میں ایک نظر اس پر ڈال لی جائے:
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ایک عرب قبیلہ کا سردار عیینہ بن حصن مدینہ آیا اور اپنے بھتیجے حُربن قیس کے پاس ٹھہرا، حربن قیس ان لوگوں میں سے تھے جن کو فاروق اعظم کے پاس بڑی قربت تھی؛ بلکہ وہ اراکینِ شوریٰ میں سے تھے، راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر فاروق کے مقرب وہم نشیں علماء و حفاظِ قرآن ہی ہوا کرتے تھے خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ، سن رسیدہ ہوں یا نو عمر، بہرحال عیینہ نے اپنے بھتیجے حُربن قیس سے کہا: برادر زادے! تمہیں امیرالمومنین سے خاص قرب حاصل ہے، تم مجھے ملاقات کی اجازت لے دو؛ چنانچہ حربن قیس نے ملاقات کی اجازت طلب کی، حضرت عمرنے اجازت دے دی، جب یہ دونوں فاروقِ اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عیینہ نے کہا: اے خطاب کے بیٹے: وہ شکایت جس کے پیش کرنے کے لیے میں آیا ہوں یہ ہے کہ خدا کی قسم، تم ہم کو زیادہ نہیں دیتے ہو اور ہمارے حق میں عدل و انصاف کا معاملہ بھی نہیں کرتے ہو، فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اس دریدہ دہنی اور افترا پردازی پر سخت غصہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ آپ نے قصد کرلیا کہ اسے عبرتناک سزادی جائے۔ حُربن قیس فوراً بول پڑے: امیر الموٴمنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے: خُذِ الْعَفْوَ وَ أْمُرُ بِالْعُرْفِ وَ اعْرِضْ عَنِ الْجَاھِلِیْن۔ ”عفو کو اختیار کرو، بھلی بات کا حکم دو اور جاہلوں سے درگزر کرو“ میرا چچا عیینہ بن حصن یقینا جاہلوں میں سے ہے اور اسلامی اخلاق و آداب سے نابلد ہے، راوی حدیث حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ خدا کی قسم جوں ہی حُربن قیس اس آیت کریمہ کی تلاوت کی، حضرت عمر کا غصہ بالکل سرد پڑگیا اور انھوں نے آیتِ کریمہ کے حکم سے بال برابر بھی تجاوز نہیں کیا۔ (شرح ریاض الصالحین از مولانا محمد ادریس میرٹھی، صفحہ ۱۳۶-۱۳۷)
کسی شخص کی کامیابی اور بلندی کا راز یہ ہے کہ انتہائی جذباتی مواقع پر انتہائی عقل و دانش سے فیصلہ کرے۔ انفرادی زندگی میں تحمل اور صبر و ضبط کی ضرورت تو ہے ہی؛ لیکن اس کی اہمیت اجتماعی جگہوں میں مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں مختلف اذہان اور طبیعت کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، ظاہر ہے کہ کسی فیصلہ یا میمورنڈم پر غور کرتے ہوئے تمام ذہنوں کی رعایت نہیں کی جاسکتی۔ اس میں بعض کی موافقت ہوگی تو بعض کی مخالفت بھی، ساتھ رہتے ہوئے بہت سی ناموافق باتیں بھی پیش آتی ہیں، کبھی مزاجوں کا اختلاف دل شکنی کا باعث ہوتا ہے تو کبھی کسی کی تنقید سے خفت اٹھانی پڑتی ہے؛ بلکہ قدم قدم پر ہزار امتحانی راہوں سے گزرنا پڑتا ہے، اگر تحمل اور صبر و ضبط سے کام نہ لیا جائے تو ایک دن بھی اجتماعی جگہوں میں شریک رہنا مشکل ہوگا۔ اس طرح سماجی تنظیموں اور اداروں کا نقصان تو ہوگا ہی؛ مگر خود اس کی زندگی تباہ اور ناکارہ ہوجائے گی، ہزار صلاحیتوں کے باوجود اس کا علم و ہنر بے فیض اور ناکام ہوگا؛ اس لیے اپنی شخصیت کو نکھارنے، مسائل سے نجات پانے اور خوش گوار زندگی گزارنے کے لیے ضرورت ہے کہ جذبات کو قابو میں رکھا جائے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا اعلان کیا تو مکہ کا سارا ماحول آپ کے لیے اجنبی بن گیا، وہی لوگ جن کے بیچ آپ کا بچپن اور آپ کی جوانی گزری، جو آپ کی امانت و صداقت کے بڑے مداح اور عاشق تھے، آپ کے مخالف اور جانی دشمن ہوگئے، آپ کے رشتہ دار اور اہل خاندان جن سے آپ کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں، ان کا بھی آپ کو کوئی سہارا نہیں ملا، وہ بھی انجانے اورنا آشنا ثابت ہوئے ، تنِ تنہا توحید کا پیغام لیے گھر سے باہر نکلے؛ مگر کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ حالات کا رخ بدل گیا، ناموافق ہوائیں اب موافق ہوگئیں، دشمنوں کے دل پسیج گئے اور پھر وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے دیوانے بنے کہ تاریخِ انسانیت میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
’’صبر و تحمل اور برداشت‘‘ شیوہ پیغمبری
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا: جب حنین کا معرکہ پیش آیا تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم میں کچھ لوگوں کو ترجیح دی۔ حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے اور حضرت عینیہ بن حصن کو بھی اتنا ہی مال عطا فرمایا۔ آپ نے عرب کے معزز لوگوں کو مال عطا فرمایا اور انہیں تقسیم میں ترجیح دی تو ایک آدمی نے کہا: خدا کی قسم! یہ ایسی تقسیم ہے جس میں عدل نہیں کیا گیا اور اس تقسیم سے خداوند کریم کی رضا کا قصد نہیں کیا گیا۔ میں نے کہا: خدا کی قسم! میں یہ بات حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کروں گا۔ میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو وہ بات بتائی جو اس آدمی نے کہی تھی تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوکر سرخ ہوگیا۔ پھر آپ نے فرمایا:
فمن تعدل اذا لم يعدل الله ورسوله ثم قال يرحم الله موسی قد او ذی باکثر من هذا فصبر.
’’اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر کون عدل کرے گا؟ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ان کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی اور انہوں نے صبر کیا۔ میں نے (اپنے جی میں) کہا: آئندہ ایسی بات حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض نہیں کروں گا‘‘۔
(بخاری و مسلم)
ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام ۔ نومبر2015
عرب کی اجڈ اور گنوار قوموں کے دل و دماغ میں اسلام اور آپ کی بے پناہ محبت اتنی جلدی کیسے رچ بس گئی اور کس طرح ان جانے دشمنوں نے دل و جان سے آپ کی امارت واطاعت کو قبول کرلی، یقینا اس پر انسانی عقلیں دَنگ رہ جاتی ہیں اور حیرت کی انتہا نہیں رہتی۔ سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے اس تاریخی انقلاب میں جہاں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شیریں زبان، اعلیٰ اخلاق، بہترلب ولہجہ اور پیہم جدوجہد کا حصہ ہے؛ وہیں آپ کا صبر و تحمل، بردباری اور قوتِ برداشت نے بھی بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ بلاشبہ صبرو تحمل کا وصف سراپا نیک ، صالح ، انتہائی مفید و معنی خیز ہے، اس سے سعادت و بھلائی، سکون و اطمینان اور کیف و نشاط کے مواقع ہاتھ تو آتے ہی ہیں، ساتھ ہی صبر و استقامت کی راہ پر چل کر لوگوں کی قیادت و امامت کا درجہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، خدا نے اپنا یہ دستور اور قانون بہت پہلے ہی ان الفاظ میں سنایا ہے : وَ جَعَلْنَا مِنْھُمْ أَئِمَّةً یَّصُدُّوْنَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا (السجدہ:۲۴) ” ہم نے ان میں سے بعض کو قائد اور امام بنایا جو ہماری باتوں سے لوگوں کو واقف کراتے تھے، یہ ان کے صبر کا بدلہ ہے۔“ موٴمن کی زندگی کا وہ کون سا لمحہ ہے جس میں اس کو کسی نہ کسی طرح جسمانی اور روحانی اذیت و پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو، تاریخ شاہد ہے کہ جس نے بھی ان تکلیف دہ مواقع میں صبرو تحمل سے کام لیا، اس کے لیے بعد میں راستے ہموار ہوگئے، کامیابی کی منزل قریب ہوگئی اور پھر بعد میں دشمنوں کے دل بھی بدل گئے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی دَور کی تمام مصیبتوں کو مسکراتے ہوئے قبول کرلیا، اعلانِ توحید کے بعد بت پرستوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اذیت رسانی کے لیے جو نت نئے طریقے ایجاد کیے تھے، اس کی طویل اور دردناک داستانِ سیرت کی تقریباً تمام کتابوں میں موجود ہے، وہ عام راستہ جس میں ہر کس و ناکس کو چلنے کا اختیار تھا، جب سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تو پتھر کی بارش برسائی جاتی، کانٹے بچھائے جاتے، تنگ کیا جاتا، جسم ِ اطہر پر نجاستیں ڈالی جاتیں؛ بلکہ حرمِِ مکی جہاں عام چرند و پرند کو بھی سکون و اطمینان اور تحفظ کا یقین ہوتا ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سکون سے نماز پڑھنے کا موقع تک نہیں دیا گیا، ابوجہل کے اشارے سے بدبختوں نے آپ کی پشت ِ مبارک پر اونٹ کی ناپاک اوجھڑی رکھ دی، یہ مخالفت کے دیوانے انسانی حدوں کو پارکرگئے اور آپ کی شرافت کو چیلنج کیا۔ کبھی آپ کو بیہودہ گالیاں دیں، کبھی جادوگر اور کبھی پاگل اور کبھی شاعر کہا اور ہزار طرح سے گستاخیوں اور بے ادبی کی وہ راہیں وضع کی گئیں جن سے غریب سے غریب اور کمزور سے کمزور تر انسان غصہ سے کانپ اٹھتا ہے؛ مگر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر وتحمل سے کام لیا اور کبھی آپ نے ان باتوں پر برہمی تک ظاہر نہیں فرمائی۔
طائف کا واقعہ کسے یاد نہیں ہے، بڑی تمنا اور آرزووٴں کے ساتھ اہل مکہ سے تنگ آکر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا سفر کیا کہ شاید وہاں کے لوگ کچھ موافقت کریں؛ مگر وہ لوگ چار قدم اور آگے نکلے، صرف گالی اور تمسخر پر اکتفا نہیں کیا گیا؛ بلکہ اوباشوں کے ذریعہ اتنے پتھر برسائے گئے کہ قدمِ مبارک خون سے بھیگ گئے، ضعف و کمزوری سے طبیعت بوجھل ہوگئی۔ آپ تھک کر جب بیٹھ جاتے تو زبردستی آپ کو اٹھایا جاتا اور پھر پتھروں کی بارش برسائی جاتی۔ اس عظیم حادثہ سے عرش پہ کہرام مچ گیا، عذاب کے فرشتے نازل کیے گئے؛ مگر نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا: اگر ان لوگوں نے ایمان قبول نہیں کیا تو مجھے امید ہے کہ ان کی نسلیں ضرور اسلام سے وابستہ ہوں گی، اس صبر و برداشت کی کیا دنیا مثال پیش کرسکتی ہے؟
یہیں تک نہیں، دشمنوں سے انتقام کا سب سے بڑا موقع فتح مکہ کا تھا۔ دشمن اس دن مکمل آپ کے قابو میں تھے کہ اگر آپ چاہتے تو ایک ایک اذیت کا بدلہ لے سکتے تھے؛ مگر آپ نے یہ کہتے ہوئے سب کو معاف فرمادیا لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ اذْھَبُوْا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاء” تم پر کوئی ملامت نہیں جاوٴ تم سب آزاد ہو“ (سیرةالنبی ۲/۳۶۲)
وہ لوگ جو خون کے پیاسے تھے اور جن کے دست ِ ستم سے آپ نے طرح طرح کی اذیتیں اٹھائی تھیں، وحشی جو آپ کے عزیز ترین چچا حضرت حمزہ کا قاتل تھا، ہندہ (ابوسفیان کی بیوی) جس نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا سینہ چاک کیا اور دل و جگر کے ٹکڑے کیے، ان سے آپ نے کوئی بازپرس نہیں کی اور نہ ہی ان سے کوئی انتقام لیا، ہندہ اس کرشمہٴ اعجاز سے متاثر ہوکر بے اختیار بول اٹھی: یا رسول اللہ! آپ کے خیمہ سے مبغوض تر خیمہ کوئی میری نگاہ میں نہ تھا؛ لیکن آج آپ کے خیمہ سے زیادہ محبوب کوئی دوسرا خیمہ میری نگاہ میں نہیں۔ (صحیح بخاری)
ان کے علاوہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر و تحمل اور قوتِ برداشت کے متفرق حیرت انگیز واقعات کتابوں میں موجود ہیں، جن میں بڑی عبرتیں پوشیدہ ہیں اور مصیبت زدگان کے لیے تسلی کا سامان بھی؛ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند واقعات اپنی نگاہ میں لے آئیں اور آنکھوں کی راہ سے دل میں اتارنے کی کوشش کریں۔
(۱) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب فتحِ مکہ کے بعد جنگ ِ حنین کا واقعہ پیش آیا اور اللہ تعالیٰ نے وقتی شکست کے بعد شاندار فتح نصیب فرمادی اور بے شمار مالِ غنیمت فاتحین کے ہاتھ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کی تقسیم میں شرعی مصلحت کے تحت بعض لوگوں کو جو فتح مکہ کے وقت ہی مسلمان ہوئے تھے اور ابھی مسلمان ہوئے ایک مہینہ بھی نہ گزرا تھا تالیف ِ قلوب کے طورپر ترجیح دی؛ چنانچہ ایک نومسلم قبیلہ کے سردار اقرع بن حابس کو سواونٹ دیے، عینیہ بن حصن# کو بھی اتنے ہی دیے، ان دونوں کے علاوہ اور بھی سردارانِ قریش کو گراں قدر مالِ غنیمت دیا، پرانے مسلمان انصار و مہاجرین پر ان کو ترجیح دی، تو ایک گستاخ شخص بولا: خدا کی قسم اس مالِ غنیمت کی تقسیم میں انصاف نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ تقسیم اللہ کے لیے کی گئی ہے؛ بلکہ اپنی قوم قریش کو خوش کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودراویِ حدیث کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں کہا: بہ خدا میں اس گمراہ کن پروپیگنڈے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دوں گا؛ چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو اس شخص نے کہا تھا آپ کو اس کی اطلاع دی، ناانصافی اور قوم پروری کا الزام سن کر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہٴ مبارک سرخ ہوگیا، پھر قدرے سکون کے بعد ارشاد فرمایا: تو پھر اور کون انصاف کرے گا؛ جب اللہ اور اس کے رسول بھی انصاف نہ کریں۔ حقیقت صرف یہ ہے کہ اس شخص کو کچھ نہیں ملا؛ اس لیے یہ بکواس کررہا ہے، اس کے بعد سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ہزاروں ہزار رحمتیں نازل فرمائیں، بے شک ان کو ان کی امت کی جانب سے اس سے بھی زیادہ ایذائیں پہنچائی گئی ہیں؛ مگر انھوں نے ہمیشہ صبرو ضبط سے کام لیا اور کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی، اسی طرح ہمیں بھی صبر و ضبط سے کام لینا چاہیے۔ (شرح ریاض الصالحین: ۴۲۱)رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نومسلم قبائل اور ان کے سرداروں کو مالِ غنیمت کی تقسیم میں قدیم ترین مہاجر و انصار غازیوں پر فوقیت اور ترجیح محض اپنی مصلحت اور شرعی حکم تالیف ِ قلب (نومسلموں کی دلجوئی) کے تحت دی تھی۔ مال کی تقسیم میں ظلم اور ناانصافی کا الزام یقینا غلط تھا، آپ چاہتے تو گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنے والے کو سزا دے سکتے تھے؛ مگر آپ نے صبر وضبط سے کام لیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ یاد کرکے اپنے غم و غصہ کو تسکین دی۔
(۲) زید بن سعنہ جس زمانہ میں یہودی تھے، لین دین کا کاروبار کرتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ قرض لیا، میعادِ ادا میں ابھی کچھ دن باقی تھے، تقاضے کو آئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر پکڑ کر کھینچی اور سخت سست ہوکر کہا: ”عبدالمطلب کے خاندان والو! تم ہمیشہ یوں ہی حیلے حوالے کیا کرتے ہو!“ حضرت عمر وہیں تھے۔ یہ گستاخانہ جملہ سن کر وہ غصہ سے بے تاب ہوگئے، اس کی طرف مخاطب ہوکر کہا او دشمن خدا! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراکر فرمایا: عمر! تم سے کچھ اور امید تھی، اس کو سمجھانا چاہیے تھا کہ نرمی سے تقاضا کرے اور مجھ سے یہ کہنا چاہیے تھا کہ میں اس کا قرض ادا کردوں، یہ فرماکر حضرت عمرسے ارشاد فرمایا کہ قرض ادا کرکے بیس صاع کھجور کی مقدار زیادہ دے دو۔ (بیہقی و ابن حبان)
زید بن سعنہ کی سخت کلامی اور انداز کے صحیح نہ ہونے کے سبب حضرت عمرکو فطری طورپر غصہ آگیا، وہ تلملا اٹھے؛ اس لیے کہ یہ وہ وقت تھا جہاں کوئی بھی انسان بے قابو ہوجاتا ہے، آپ کا اشارہ ہوتا تو حضرت عمرؒکی تلوار سے زیدبن سعنہ کی گردن تن سے جدا ہوجاتی؛ مگر اس کے نتائج بہتر ثابت نہ ہوتے؛ اس لیے آپ نے صبر و تحمل سے کام لیا اور عین انتہائی جذبات کے موقع پر اسلام کا یہ بے مثال دلکش قانون اور طریقہ بتایا: عمر! تم سے کچھ اور امید تھی، اس کو سمجھانا چاہیے تھا کہ نرمی سے تقاضا کرے اور مجھ سے یہ کہنا چاہیے تھا کہ میں اس کا قرض ادا کردوں، بلاشبہ دنیا کا کوئی بھی مذہب حسنِ معاملگی اور اخلاقِ عظیم کی یہ مثال پیش نہیں کرسکتا۔
(۳) حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ آپ کی عادت تھی کہ ہم لوگوں کے ساتھ مسجد میں بیٹھ جاتے اور باتیں کرتے، جب اٹھ کر گھر میں جاتے تو ہم لوگ بھی چلے جاتے، ایک دن حسب ِ معمول مسجد سے نکلے، ایک بدو آیا اور اس نے آپ کی چادر اس زور سے پکڑ کر کھینچی کہ آپ کی گردنِ مبارک سرخ ہوگئی۔ آپ نے مڑکر اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا کہ میرے اونٹوں کو غلہ سے لاد دے، تیرے پاس جو مال ہے وہ نہ تیرا ہے اور نہ تیرے باپ کا، آپ نے فرمایا: پہلے میری گردن کا بدلہ دو تب غلہ دیا جائے گا، وہ باربار کہتا تھا کہ خدا کی قسم میں ہر گز بدلہ نہیں دوں گا، آپ نے اس کے اونٹوں پر جو اور کھجوریں لدوادیں اور کچھ تعرض نہ فرمایا۔ (ابوداوٴد، کتاب الادب)
بدو عموماً وحشی مزاج ہوتے ہیں، تہذیب و تمدن سے نابلد اس بدو نے نہ صرف بدکلامی کی؛ بلکہ اس زور سے چادر کھینچی کہ گردنِ مبارک سرخ ہوگئی۔ اس حرکت پر کسی قائد، رہبر، پیشوا، بادشاہ اور امام نہیں؛ بلکہ ایک عام آدمی کے دل میں انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اپنے سماج و معاشرہ کے حالات نگاہوں میں ہیں، بات بات پر انتقامی کارروائی اور پھر اختلاف کا ماحول گرم ہوجاتا ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری قوتوں اور سرکارِ دوعالم ہونے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی؛ بلکہ بددعا تک کے الفاظ زبان سے نہیں نکلے۔ قربان جاوٴں میں آپ کے صبر و تحمل پر جس نے آپ کو دنیا کا امام بنایا۔
(۴) ۵ھ میں امّ المومنین حضرت عائشہ پر منافقین نے تہمت لگائی، یقینا یہ عفو کے حد سے متجاوز تھا؛ اس لیے کہ ہر انسان کو اپنی ماں، بہن اور بیوی کی عزت پیاری ہوتی ہے، ان کے بارے میں آبروریزی کا کوئی بھی جملہ ہر ایک کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، یہ کبر نہیں؛ بلکہ عین غیرت اور ثواب کا کام ہے، شریعت نے ان کی عزت و آبرو کے تحفظ کی بڑی تاکید کی ہے؛ بلکہ اس کے لیے جان دینے کو شہادت کا درجہ دیا گیا ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نازک موقع پر بھی تحمل اور برداشت سے کام لیا۔ مشہور سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
” سب سے بڑھ کر طیش اور غضب کا موقع ”افک“ کا واقعہ تھا، جب کہ منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ کو نعوذ باللہ تہمت لگائی تھی، حضرت عائشہ آپ کی محبوب ترین ازواج اور ابوبکرجیسے یارِغار اور افضل الصحابہ کی صاحبزادی تھیں، شہر منافقوں سے بھرا پڑا تھا، جنہوں نے دَم بھر میں اس خبر کو اس طرح پھیلا دیا کہ سارا مدینہ گونج اٹھا، دشمنوں کی شماتت، ناموس کی بدنامی ، محبوب کی تفضیح، یہ باتیں انسانی صبر و تحمل کے پیمانہ میں نہیں سماسکتیں، تاہم رحمت ِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب باتوں کے ساتھ کیا کیا؟“ (سیرة النبی ۲/۶۰۳)
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی صبر و تحمل سے لبریز ہے، کسی موقع پر بھی آپ نے نفسانی جذبات کا استعمال نہیں کیا، غیظ و غضب اور وقتی معاملات سے طیش میں آکر کوئی بھی اقدام بلاشبہ ہزار مفاسد پیدا کرتا ہے؛ اس لیے ضرورت ہے کہ تمام شعبہائے حیات میں صبر و تحمل سے کام لیا جائے، آقا اپنے ملازم کے قصور اور لغزشوں کو معاف کرے اور اگر وقتی طورپر کبھی آقا ناراض ہوجائے تو ملازم کو بھی اسے برداشت کرنا چاہیے، باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اور بیٹااپنے باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرے، میاں بیوی میں خلش ایک فطری بات ہے؛ مگر اسے باہمی صبرو تحمل سے دور کرتے ہوئے زندگی کو خوش گوار بنانے کی کوشش کی جائے۔ غرض پرسکون اور کامیاب زندگی کے لیے صبر و تحمل اور قوتِ برداشت بنیادی عنصر ہے۔ ہماری پستی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم وقتی طورپر جذبات کے رَو میں بہہ جاتے ہیں، جس سے دوررس نگاہ متأثر ہوجاتی ہے اور سوچ و تدبر کا مزاج نہیں رہتا۔ موجودہ حالات میں خاص طورپر سیرتِ نبوی کے اس پہلو کو اپنانے کی سخت ضرورت ہے،نہیں ہوتی۔
اسلام عالمی بھائی چارے کا مذہب :
زندگی خدا تعالی کی طرف سے سب سے بڑی اور نمایاں رحمت ہے اور سچی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی آخرت ہے۔ اور چونکہ ہم یہ زندگی خدا کو خوش کرکے گزار سکتے ہیں اس لئے انسانیت پر رحم کرتے ہوئے اس نے پیغمبر بھیجے اور کتاب ہدایت نازل فرمائی۔ انسانوں پر اپنی رحمت کا بیان کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے۔
“رحمن، وہ جس نے قرآن کی تعلیم دی،اس نے انسان کو پیدا کیا اور بولنا سکھایا”۔( الرحمن: 1-4)
اس زندگی کے سارے جوانب آخرت کی مشق ہیں۔ اور ساری مخلوق اسی کام میں مشغول ہے۔ ہر چیز میں ترتیب اور ہر کامیابی میں رحمت نمایاں ہے۔ کچھ قدرتی واقعات یا معاشرتی تشنج سے اولاً شاید یہ لگے کہ زندگی اس کے برعکس ہے۔ لیکن اس سے ہمیں اللہ کی رحمت سے عدم مطابقت پر قیاس نہیں کرنا چاہئے۔ انکی مثال کالے بادلوں، بجلی کودنے اور جھکھڑ چلنے کی سی ہے جس سے خوف پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے بعد بارش کی شکل میں خوشی بھی ملتی ہے۔ اس طرح پوری کائنات اس رحیم ذات کی تعریف کرتی ہے۔
حضرت محمدﷺ لق و دق صحرا میں صاف پانی کے فوارے کی طرح ہیں اور گھٹا توپ اندھیروں میں روشنی کا ذریعہ ہیں۔ جو اس فوارے تک پہنچ جاتے ہیں وہ اتنا پانی لے لیتے ہیں جس سے انکی پیاس بجھ سکے تا کہ وہ اپنے گناہوں سے پاک ہو سکیں اور ایمان کی روشنی سے منور ہو سکیں۔ حضورﷺ کے ہاتھوں میں رحم، ایک کنجی کی طرح تھا، جس کےذریعے آپﷺ نے ایسے قلوب کو کھولا جو سخت اور زنگ آلود ہو چکے تھے اور جنہیں کھولنے کا کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ آپﷺ تو اس سے زیادہ کر گئے کہ ان دلوں میں ایمان کی شمع روشن کر دی۔
رسول خداﷺ کا کرم ہر مخلوق پر محیط تھا۔ انکی تمنا تھی کہ سب کو ہدایت نصیب ہو اور ان کے لئے اسکی اہمیت سب سے زیادہ تھی۔
“تو کیا یہ لوگ ایمان نہ لا ئیں گے تو آپ اپنے آپ کو انکے غم میں ہلاک کر دیں گے”(الکہف:6 (
لیکن آپ نے ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جنہوں نے آپ پر زیادتی کی اور ستایا۔ وہ جنہوں نے آپ اور آپ کے صحابہ کو خدائے واحد کی عبادت سے روکا۔ جنہوں نے آپﷺ کو ختم کرنے کے لئے اسلحہ اٹھایا۔ آپ کو ان سے لڑائی بھی کرنا پڑی لیکن پھر بھی رحم انکے دامن سے نہ چھوٹا اسی وجہ سے احد کی لڑائی میں جب آپﷺ شدید زخمی تھے تو اپنے ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی:
“اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے کہ وہ جانتے نہیں”[12]
اہل مکہ جو آپﷺ کے اپنے تھے انہوں نے آپ کو اتنا ستایا کہ آخر کار آپ کو مدینہ ہجرت کرنا پڑی۔ حتی کہ ہجرت کے بعد بھی ۵ برس تک امن نہ تھا۔ لیکن نبوت کے اکیسویں برس جب مکہ فتح ہوا تو آپﷺ نے اہل مکہ سے پوچھا” تم مجھ سے کیا توقع رکھتے ہو کہ تمہارے ساتھ معاملہ کروں گا؟ ان سب نے جواب دیا: “آپﷺ شریف ہیں اور شریف باپ کے بیٹے ہیں۔ پھر آپﷺ نے اپنا فیصلہ یوں سنایا “آج تم پر کوئی قدغن نہیں؛ اللہ تمہیں معاف کرے! اس لئے کہ وہ بہت معاف کرنے والاہے”۔[13] اس واقعے کے825 برس بعد سلطان محمد دوئم[14] نے قسطنطنیہ فتح کر کے بازنطینی حکمرانوں کو یہی جملے دہرائے۔ اسلام کی رحمت ایسی ہے۔
آپﷺ مسلمانوں کے لئے انتہائی رحیم اور شفیق تھے؛ چنانچہ قرآن میں ہے:
“تحقیق تمہارے پاس، تم میں سے ہی پیغمبر آگئے ہیں، جنکو تمہاری تکلیف گراں گزرتی ہے، تمہارے بارے میں حریص ہیں اور مومنوں کیساتھ رحمدل اور مہربان ہیں”۔(التوبہ:128)
“اس نے مسلمانوں پر اپنے نازک پر، رحمت کےساتھ اتارے”۔ (الحجر:88)
“(وہ پیغمبر) مومنوں کا نگہبان ہے اور خود انکی ذات سے بھی زیادہ انکے قریب ہے۔(الاحزاب:33)
جب ایک صحابی کا انتقال ہوا تو آپ نے جنازہ والوں سے پوچھا کہ متوفی مقروض تو نہیں ۔ اور جب بتایا گیا کہ ایسا ہی ہے تو آپﷺ نے مذکورۃ الصدر آیت سنانے کے بعد فرمایا اگر کوئی قرضخواہ ہے تو آ کر مجھ سے اپن قرضہ وصول کریں۔
آپ ﷺ کا کرم منافقین اور کفار پر بھی برابر رہتا تھا۔ آپ کو اچھے طریقے سے پتہ تھاکون کون منافق ہیں لیکن آپ نے کبھی انکی شناخت نہین کرائی کہ کہیں وہ اسلامی شہریت کے اس حق سے جسے وہ ظاہراً اسلام قبول کر کے اپنا چکے تھے سے محروم نہ ہو جائیں۔ چونکہ وہ مسلمانون کے بیچ رہ رہے تھے ان کا اپنے سے جدا کرنا شکوک کو بڑھا سکتا تھا جس سے انکا موت کا خوف اور مرنے کے بعد ابدی عدم وجود کا درد ختم ہو جاتا۔
خدا تعالی آج کافروں کو ایک ساتھ کبھی ہلاک نہیں کرتا، حالانکہ ماضی میں ایسا کئی بار ہوا:
“اور آپﷺ کے ہو تے ہوئے خدا کبھی انکو عذاب نہ دے گا اور نہ ہی جبتک وہ استغفار کرتے رہے تو عذاب میں مبتلا ہوں گے”۔ (الانفال:33)
یہ آیت کفار ، چاہے وہ کسی بھی دور یا جگہ کے ہوں کے متعلق ہے۔ جب تک ان میں سے کچھ نبیﷺ کے پیروں کار ہوں گے، خدا مجموعی طور پر لوگوں کو ہلاک نہیں کرے گا ۔ اسی طرح خدا نے توبہ کا دروازہ بھی قیامت تک کھلا رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی شخص اسلام قبول کر سکتا ہے اور کوئی بھی شخص کسی بھی وقت چاہے وہ کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو، اللہ سے معافی مانگ سکتا ہے۔
اس بنا پر مسلمانوں کا کفار کے ساتھ دشمنی رکھنا قابل جرم ہے۔ حضرت عمر ایک مرتبہ 80 سالہ بوڑھے کو دیکھ کو بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ کسی نے رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے، “خدا نے اسکو اتنی لمبی عمر عطا کی ہے لیکن پھر بھی وہ صراط مستقیم تک نہ پہنچ سکا”۔ حضرت عمر پیغمبر خدا کے خلیفہ تھے اس پیغمبر کے جنہوں نے فرمایا تھا۔
“مجھے لوگون کے لئے زحمت بنا کر نہیں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے”[15]
“میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں مقفی (آخری نبی) ہوں، میں حاشر(وہ آخری نبی جن کی نبوت کے ساتھ حشر ہوگا)، میں توبہ کا نبی ہوں (یعنی وہ نبی جس کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے) اور رحمت کا نبی ہوں”۔[16]
فرشتوں کے سردار جبریل امینؑ نے بھی قرآن سے فائدہ اٹھایا؛ ایک مرتبہ حضورؑ نے جبریلؑ سے پوچھا کہ کیا کبھی اس رحمت سے جو قرآن میں ہے اسے بھی فائدہ ہوا؟ تو جبریل نے جواب دیا” مجھے اپنے انجام کا پہ نہیں تھا لیکن جب یہ آیت اتری: “وہ جسکی اتباع کی جاتی ہے اور وہ (ملا اعلی میں) امین ہے” (التکویر:21) تو مجھے تحفظ کا احساس ہوا۔[17]
پیغمبر خدا ﷺبچوں کے ساتھ خصوصاً مہربان تھے۔ جب کبھی وہ کسی بچے کو روتا دیکھتے تو اسکے ساتھ بیٹھ جاتے اور اس کے احساسات سنتے۔ ان کو بچوں کی ماؤں سے زیادہ ان کا درد ہوتا تھا ایک دفعہ آپﷺ نے فرمایا۔
“میں نماز کے لئے کھڑا ہو جاتا ہوں اور اسے لمبی کرنا چاہتا ہوں تو مجھے کسی بچے کی رونے کی آواز آتی ہے، جس کی وجہ سے نماز مختصر کرتا ہوں تا کہ اسکی ماں کی پریشانی کم ہو”۔[18]
آپ بچوں کو اپنے بانہوں میں لے کر ان کو سینے سے لگاتے۔ ایک مرتبہ آپﷺ نے حضرت حسن کو سینے سے لگا کر پیار کیا تو حضرت اقرع بن حابس کہنے لگے “میرے تو ۱۰ بچے ہیں، لیکن میں نے کسی کو آج تک بوسہ نہیں دیا!’ تو رسول خداﷺ نے جواب دیا: جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم کیا بھی نہیں جاتا”۔[19] ایک اور روایت میں ہے “اگر خدا نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کروں”[20]
آپؑ کا فرمان ہے: “تم زمین والوں پر رحم کرو ، آسمان والا تم پر رحم کرے گا”۔[21] جب حضرت سعد بن عبادہ بیمار ہوئے تو آپﷺ انکی عیادت کرنے انکے گھر گئے۔ اپنے ایک وفادار صحابی کی بری حالت دیکھ کر آپﷺ سے رہا نہ گیا اور آپﷺ کے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا: “خدا کسی کو آنسوؤں یا غم کی وجہ سے عذاب نہیں دیتا بلکہ اسکی وجہ سے عذاب دیتا ہے” اور آپ نے اپنی ‘زبان’ کی طرف اشارہ فرمایا”[22]۔ جب حضرت عثمان بن مظعون کا انتقال ہوا تو آپﷺ بہت روئے۔ جنازے کے دوران ایک عورت نے کہا: عثمان جنت میں پرندے کی طرح اڑ رہے ہیں”۔ اس غم کے عالم میں بھی آپﷺ نے توازن برقرار رکھا اور اس خاتون کی اصلاح فرمائی؛ “تمہیں کیسے پتہ چل گیا جبکہ مجھے نبی ہونے کے باوجود پتہ نہیں؟”[23]
قبیلہ مقرن کے ایک شخص نے ایک مرتبہ اپنی لونڈی کو مارا۔ اس نے پیغمبر خدا ﷺکو اطلاع دی۔ آپ نے مالک کو بلایا اور فرمایا “تم نے ناحق اس کو مارا، اس کو آزاد کر دو”[24]۔ ایک لونڈی کو آزاد کرنا آسان تھا، بنسبت اس کے کہ برائی کا بدلہ کل قیامت کو ملے۔ رسول خداﷺ نے ہمیشہ بیواؤں، یتیموں، غریبوں اور معذوروں کی، اعلان نبوت سے قبل بھی، حفاظت اور مدد کی۔ جب آپﷺ غار حرا سے پہلی وحی لیکر تحیّر کے عالم میں واپس آئے، تو انکی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ نے فرمایا:
“مجھے امید ہے آپ اس قوم کے نبی ہوں گے اس لئے کہ آپ نے ہمیشہ سچ بولا، وعدے کو پورا کیا، اپنے اقربا کی مدد کی، غریبوں اور کمزوروں کی امداد کی اور مہمانوں کا کھاناکھلایا”۔[25]
آپﷺ کی محبت جانوروں کے لئے بھی عام تھی چنانچہ مروی ہے:
“ایک فاحشہ عورت کو خدا نے ھدایت عطا کی اور وہ صرف اس وجہ سے جنت میں داخل ہوگئی کہ اس نے ایک کتے کو کنویں کے پاس پیاس کی حالت مین پانی پلایا تھا۔ ایک اور عورت کو دوزخ میں اس لئے ڈال دیا گیا کہ اس نے ایک بلی کو قید کر کے بھوکا مار دیا تھا”۔[26]
ایک مرتبہ ایک غزوہ سے لوٹتے ہوئے چند صحابہ نے گھونسلے سے پرندے کے بچوں کو شغل کے طور پر نکال لیا۔ پرندوں کی ماں آئی اور بچوں کو گھونسلے میں نہ پا کر ادھر ادھر پھڑپھڑانے لگی۔ جب آپﷺ کو پتہ چلا تو آپﷺ نہایت غضبناک ہوئے اور حکم دیا کہ پرندوں کو واپس ان کے گھونسلوں میں چھوڑ دیا جائے۔[27]
ایک مرتبہ منیٰ میں کچھ صحابہ نے ایک سانپ کو مارنے کی کوشش کی لیکن وہ بھاگ گیا۔ آپﷺ جو تھوڑے فاصلے سے انہیں دیکھ رہے تھے نے فرمایا۔”یہ تمہاری شر سے ایسے ہی بچ گیا جیسے تم اسکی شر (ڈسنے) سے بچے”۔[28] ابن عباس نے حضورﷺ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص اپنی بھیڑ کے سامنے چھری تیز کر رہا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا: “کیا تم اسے ایک سے زیادہ بار مارنا چاہتے ہو؟”[29]
آپ کی مخلوقات سے محبت آج کے خود ساختہ انسانی حقوق کے نمائندوں سے یکسر مختلف تھی۔ وہ اپنی محبت اور شفقت میں مخلص اور پکے تھے۔ وہ خدا کی طرف سے پیغمبر تھے جو سب مخلوق کا خالق اور پالنے والا ہے۔ جنہیں ثقلین – جن و انس- کی رہنمائی اور فلاح کے لئے اور موجودات میں ہم آہنگی کے لئے بھیجا گیاتھا۔ اس طرح وہ اپنوں کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے جیتے تھے۔ وہ تمام عالم کے لئے رحمت تھے۔
آپﷺ نے رنگ اور نسل کی بنیاد پر قائم ہر طرح کے تضادات ختم کئے۔ ایک مرتبہ حضرت ابو ذر ،حجرت بلال سے ناراض ہوئے اور انکی بے عزتی کردی” اور کالی عورت کے لڑکے” کہا “حضرت بلال حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئےاور روتے ہوئے واقعہ سنایا۔ آپؑ نے حضرت ابو ذر کو بلا کا تنبیہ کی اور فرمایا “کیا ابھی بھی تمہارے اندر جاہلیت کی نشانی موجود ہے؟” اس پر اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے حضرت ابو ذر زمین پر لیٹ گئے اور فرمانے لگے” میں یہاں سے اپن سر اس وقت تک نہیں اٹھاؤں گا جب تک حضرت بلال اپنا پاؤں اس پر نہیں رکھ دیتے” حضرت بلال نے ان کو معاف کردیا اور اس طرح دونوں کی صلح ہوگئی”[30]۔ یہ وہ تعلق اور رشتہ تھا جو اسلام نے ان لوگوں میں پیدا کیا تھا جو کبھی وحشی ہوا کرتے تھے۔
تحمل اور مکالمہ قرآن و سنت کی روشنی میں
قرآن ہمیشہ تحمل کو بنیادی اصول کے طور پر لیتا آیا ہے۔ یہان تک کہ عبادالرحمن کا تعارف قرآن مین اسطرح کرایا گیا ہے۔
“اور اللہ کے بندے وہ لوگ ہیں جو زمین پر عجز و انکساری سے چلتے ہیں اور جب کوئی جاہل ان سے مخاطب ہوتا ہے تو یوں کہتے ہیں: سلامتی ہو (الفرقان: 63)
“اور جب وہ لغو (بات یا رویہ سے) گزرتے ہیں تو باعزت طریقے سے گزر جاتے ہیں”(الفرقان: 72)
“اور جب وہ بیہودہ بات سنتے ہیں تو وہاں سے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال اور تمہارے لئے تمہارے اعمال” (القصص: 55)
ان آیات کا عمومی خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جنہیں خدا کی عبدیت سے نوازا گیا ہے جب انکا بے فائدہ اور بری باتوں سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ کوئی بری بات نہیں کہتے بلکہ با عزت طریقے سے قریب سے گزر جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ”ہر ایک اپنی طرز پر عمل کرتا ہے”(الاسراء: 84) اور اسی طرح اپنا کردار دکھلاتا ہے۔ تحمل کے ہیرؤں کا کردار شرافت، خیال کرنا اور برداشت کرنا ہوتا ہے۔ جب خدا نے موسیؑ اور ہارونؑ کو اس شخص کے پاس بھیجا جس نے خدائی کا دعوی کیا تھا یعنی فرعون تو اللہ نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ جب اس سے بات کرنا تو نرمی سے کرنا۔(طحہ: 44)

آپﷺ کی حیات طیبہ بھی عفو و درگزر اور برداشت میں گزری۔ حتی کہ آپﷺ نے ابو سفیان کے ساتھ بھی نرمی والا معاملہ کیا، حالانکہ اس نے ساری زندگی آپﷺ پر طعن و تشنیع کی تھی۔ فتح مکہ کے دوران، اسکے باوجود کہ ابو سفیان نے کہا کہ وہ ابھی بھی اسلام کے متعلق شک میں ہے، آپﷺ نے اعلان کروایا کہ جو ابو سفیان کے گھر پناہ لے لے اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ بالکل اسی طرح جس طرح خانہ کعبہ میں داخل ہونے والامامون قرار دیا اسی طرح ابو سفیان کا گھر تحفظ کے اعتبار سے خانہ کعبہ کے ساتھ مذکور ہوا۔ میری عاجزانہ رائے میں اس طرح کے تحمل کی زیادہ قیمت تھی، بنسبت اسکے کہ ابو سفیان کو ٹنوں وزنی سونا دیا جاتا۔ کیونکہ وہ ستر برس کا ہو چکا تھا۔ اور انا اور سرداری اسکی طبعیت میں راسخ ہو چکی تھی۔
اپنا کام سرانجام دیتے ہوئے تحمل اور مکالمہ کا حکم ہونے کے ساتھ ساتھ پیغمبرﷺ کو یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اشیاء جو اہل کتاب (عیسائی اور یہودی) کے ساتھ مشترکہ ہیں ان کی طرف بھی دعوت دیں۔
“کہہ دیجئے اے اہل کتاب! ہمارے اور تمہارے درمیان جو باتیں مشترکہ ہیں ان کی طرف آؤ ! یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ یہ کہ ہم اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور یہ کہ ہم سے کوئی اللہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو معبود نہ بنائے”۔(آل عمران:64)
ایک دوسری آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ عفو و درگزر، تحمل کا معاملہ ان لوگوں کے ساتھ بھی کریں جنہیں آخرت پر یقین نہیں ہے۔
“ایمان والوں سےکہہ دیجئے کہ ان لوگوں کو جنہیں اللہ کے دنوں پر یقین نہیں ہے، کو معاف کردیں اس لئے کہ یہ اسی خدا کا کام ہے کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دے(الجاثیۃ: 14)
جو سمجھتے ہیں کہ وہ ان آیات کا مخاطب ہیں یعنی محبت کے وہ رضاکار جو خدا کا سچا بندہ بننا چاہتے ہیں۔ جو ایمان کا اقرار کرکے مسلمان ہوگئے ہیں اور انہوں نے محض انسان ہوتے ہوئے مذہبی فریضے بھی ادا کرنا شروع کر دیئے ہیں، انکو اپنے سلوک میں ضرور بضرور تحمل اور برداشت پیدا کرنا چاہئے اور دوسروں سے بدلے میں کسی چیز کی توقع نہ رکھنی چاہئے۔ انہیں یونس آمرے کا نظریہ اپنانا چاہئے؛ یعنی جو انہیں مارے اسے نہ مارے، جو برا بھلا کہے اسے خاموشی سے سنے اور جو گالی نکالے اس کے لئے دل میں بغض بھی نہ رکھے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں تحمل اور مکالمہ:
قرآن ہمیشہ تحمل کو بنیادی اصول کے طور پر لیتا آیا ہے۔ یہان تک کہ عبادالرحمن کا تعارف قرآن مین اسطرح کرایا گیا ہے۔
“اور اللہ کے بندے وہ لوگ ہیں جو زمین پر عجز و انکساری سے چلتے ہیں اور جب کوئی جاہل ان سے مخاطب ہوتا ہے تو یوں کہتے ہیں: سلامتی ہو (الفرقان: 63)
“اور جب وہ لغو (بات یا رویہ سے) گزرتے ہیں تو باعزت طریقے سے گزر جاتے ہیں”(الفرقان: 72)
“اور جب وہ بیہودہ بات سنتے ہیں تو وہاں سے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال اور تمہارے لئے تمہارے اعمال” (القصص: 55)
ان آیات کا عمومی خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جنہیں خدا کی عبدیت سے نوازا گیا ہے جب انکا بے فائدہ اور بری باتوں سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ کوئی بری بات نہیں کہتے بلکہ با عزت طریقے سے قریب سے گزر جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ”ہر ایک اپنی طرز پر عمل کرتا ہے”(الاسراء: 84) اور اسی طرح اپنا کردار دکھلاتا ہے۔ تحمل کے ہیرؤں کا کردار شرافت، خیال کرنا اور برداشت کرنا ہوتا ہے۔ جب خدا نے موسیؑ اور ہارونؑ کو اس شخص کے پاس بھیجا جس نے خدائی کا دعوی کیا تھا یعنی فرعون تو اللہ نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ جب اس سے بات کرنا تو نرمی سے کرنا۔(طحہ: 44)
آپﷺ کی حیات طیبہ بھی عفو و درگزر اور برداشت میں گزری۔ حتی کہ آپﷺ نے ابو سفیان کے ساتھ بھی نرمی والا معاملہ کیا، حالانکہ اس نے ساری زندگی آپﷺ پر طعن و تشنیع کی تھی۔ فتح مکہ کے دوران، اسکے باوجود کہ ابو سفیان نے کہا کہ وہ ابھی بھی اسلام کے متعلق شک میں ہے، آپﷺ نے اعلان کروایا کہ جو ابو سفیان کے گھر پناہ لے لے اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ بالکل اسی طرح جس طرح خانہ کعبہ میں داخل ہونے والامامون قرار دیا اسی طرح ابو سفیان کا گھر تحفظ کے اعتبار سے خانہ کعبہ کے ساتھ مذکور ہوا۔ میری عاجزانہ رائے میں اس طرح کے تحمل کی زیادہ قیمت تھی، بنسبت اسکے کہ ابو سفیان کو ٹنوں وزنی سونا دیا جاتا۔ کیونکہ وہ ستر برس کا ہو چکا تھا۔ اور انا اور سرداری اسکی طبعیت میں راسخ ہو چکی تھی۔
اپنا کام سرانجام دیتے ہوئے تحمل اور مکالمہ کا حکم ہونے کے ساتھ ساتھ پیغمبرﷺ کو یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اشیاء جو اہل کتاب (عیسائی اور یہودی) کے ساتھ مشترکہ ہیں ان کی طرف بھی دعوت دیں۔
“کہہ دیجئے اے اہل کتاب! ہمارے اور تمہارے درمیان جو باتیں مشترکہ ہیں ان کی طرف آؤ ! یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ یہ کہ ہم اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور یہ کہ ہم سے کوئی اللہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو معبود نہ بنائے”۔(آل عمران:64)
ایک دوسری آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ عفو و درگزر، تحمل کا معاملہ ان لوگوں کے ساتھ بھی کریں جنہیں آخرت پر یقین نہیں ہے۔
“ایمان والوں سےکہہ دیجئے کہ ان لوگوں کو جنہیں اللہ کے دنوں پر یقین نہیں ہے، کو معاف کردیں اس لئے کہ یہ اسی خدا کا کام ہے کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دے(الجاثیۃ: 14)
جو سمجھتے ہیں کہ وہ ان آیات کا مخاطب ہیں یعنی محبت کے وہ رضاکار جو خدا کا سچا بندہ بننا چاہتے ہیں۔ جو ایمان کا اقرار کرکے مسلمان ہوگئے ہیں اور انہوں نے محض انسان ہوتے ہوئے مذہبی فریضے بھی ادا کرنا شروع کر دیئے ہیں، انکو اپنے سلوک میں ضرور بضرور تحمل اور برداشت پیدا کرنا چاہئے اور دوسروں سے بدلے میں کسی چیز کی توقع نہ رکھنی چاہئے۔ انہیں یونس آمرے کا نظریہ اپنانا چاہئے؛ یعنی جو انہیں مارے اسے نہ مارے، جو برا بھلا کہے اسے خاموشی سے سنے اور جو گالی نکالے اس کے لئے دل میں بغض بھی نہ رکھے۔
***
حوالہ جات :
[1] ابو داؤد ، آداب:142
[2] احمد یسیوی (متوفی :1166) صوفی شاعر اور ترکی کے مشہور روحانی قائد تھے جنکا صوفیانہ ترتیب میں ترکی زبان کے دنیا بھر کے لوگوں پر بہت بڑا اثر تھا۔
[3] بدیع الزمان سید نورسی (1960: 1877ء) سید اعلی درجے اور گہری روحانیت کے حامل ترکی عالم جنہیں عصری اور جدید علوم پر عبور تھا۔ انکا خیال تھا کہ انسانیت بحرانوں سے بچ کر صحیح کامیابی اور خوشی تب پا سکتی ہے جب اسے اپنی فطرت کا صحیح پتہ ہو۔ اور خدا کے سامنے جھکنا آتا ہو۔ انکا رسالہ نور (روشنی کا خط) اسلام کے عقائد، خیالات، عبادات، اخلاقیات اور کائنات میں الہی عمل کا قرآنی نظریہ پر مشتمل ہے۔ قرآنی حقائق کا عقلی اور نظری جواب درحقیقت ان لوگوں کے لئے رد ہے جو سائنس کے نام پر قرآنی حقیقتوں کا انکار کرتے ہیں۔ اس کتاب میں وہ انکی بہت ساری خامیوں اور غیر عقلی باتوں کو آشکار کرتے ہیں۔
[4] امام ربانی (شیخ احمد سرہندی)1624:1564)) ہندوستان کے مشہور صوفی اور مفکر جنہوں نے مغل بادشاہ اکبر کے دور مین پیدا شدہ مذہبی باطل رجحانات کے خلاف اسلامی عقیدے کے اصولوں کو ہندوستان میں دوبارہ زندہ کیا۔ ان کے وصال کے بعد انہین مجدد الف ثانی (اسلام کی دوسری ہزاری کی تجدید کرنے والے) کا خطاب دیا گیا۔
[5] مولانا خالد البغدادی(1827-1778) ایک نقشبندی سلسلے کے رہنم جنہیں تیسری اسلامی صدی کا مجدد مانا جاتا ہے
[6] شاہ الی اللہ دہلوی (1762: 1702) بارہویں صدی کے عظیم سکالر تھے کچھ مؤرخین نے انہیں “ختم المحدثین” ( یعنی محدثین میں سے بالکل آخری محدث) لکھا ہے۔
[7] نیازی مصری (1618-1694) ایک صوفی شاعر جو خلوتی سلسلے کے رکن تھے۔
[8] حاکم ، مستدرک،3:41، متقی الہندی، کنزالاعمال، 13:50
[9] مسلم، ایمان، 145؛ ترمذی، البر،4
[10] مسلم، حدود، 17،23؛ بخاری ، حدود،28
[11] ابو داؤد، حدود،14 (4394)؛ نسائی، سارق،4 (8،68)؛ مؤطا، حدود، 28(2،834)
[12] قاضی عیاض۔ شفاء ،1: 78-9؛ھندی، کنزالعمال،4:93
[13] ابن ہشام،سیرۃ النبویۃ، 4:55 ؛ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، 4:344
[14] سلطان محمد دوئم (الفاتح) 1431-1481، ساتواں عثمانی خلیفہ جس نے 1453 ء میں استنبول فتح کیا۔
[15] مسلم، بر،87
[16] حنبل، مسند، (4:395) ؛ مسلم، فضائل، 126
[17] قاضی عیاض، الشفاء الشریف،1:17
[18] بخاری، اذان ، 65 ؛ مسلم، صلواۃ :192
[19] بخاری، آداب: 18
[20] ایضاً، آداب18، مسلم، فضائل:64
[21] ترمذی، بر:16
[22] بخاری، جنائز : 45
[23] ایضاً، جنائز : 3
[24] مسلم، اَیمان: 31،33؛ حنبل، مسند، 3:447
[25] ابن سعد، طبقات الکبری، 1:95
[26] بخاری ، انبیاء، 54؛ مسلم ، سلام، 153
[27] ابو داؤد، آداب :164، ابن حنبل، مسند،1:404
[28] سسنن نسائی : حج:114 ؛ بن حنبل، مسند ، 1:385
[29] حاکم، مستدرک، 4:231
[30] بخاری، ایمان،22
*****************
تحقیق و تحریر: پروفیسرڈاکٹرسیّد مجیب ظفرانوارحمیدی
سابق پرنسپل:سراج الدولہ گورنمنٹ ڈگری کالج،کراچی BS20

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles