42.5 C
Lahore
Tuesday, June 25, 2024

Book Store

ناقابلِ معافی

ناقابلِ معافی

نیلم احمد بشیر

ارے رہنے بھی دیں صغیر بھائی! مَیں اُٹھا لوں گی۔ آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں؟
ناعمہ نے اپنے میزبان کو اپنا بھاری سوٹ کیس گاڑی میں سے گھسیٹتے ہوئے دیکھ کر آواز لگائی۔
بھئی آپ بےفکر ہو جائیں۔ ابھی تو ہم جوان ہیں اور آپ ہماری مہمان ہیں۔
نکال لیں گے آپ کا سامان۔ آپ بس اپنا بیگ اٹھائیں اور چلیں اپنی سہیلی کے ساتھ۔
صغیر نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور دونوں خواتین کو گھر کے اندر جانے کا کہہ کر سامان اٹھانے لگا۔
ناعمہ نے اردگرد کے ماحول پر نظر دوڑائی۔ سب کچھ کتنا سرسبز ٹھنڈا، صاف ستھرا اَور خوبصورت تھا۔
یہ پرانا انگلستانی شہر اپنے خوبصورت گردوپیش کی وجہ سے جنت کا ٹکڑا محسوس ہوتا تھا۔
کہاں کھو گئیں بھئی سیّاح صاحبہ! چلو گھر کے اندر چلو نا ….. ٹھنڈ بڑھتی جا رہی ہے۔
فیروزہ نے ناعمہ کو ہلکا سا ٹہوکا دیا، تو وہ چونک کر مسکرائی اور تیز تیز قدم اُٹھاتی
اپنی سہیلی کی جانب چلنے لگی۔
اُن کا پرانے انگلش سٹائل کا بڑا سا پُروقار، شاندار اَور بارعب گھر بہت متاثر کن تھا۔
لکڑی کے بڑے بڑے قدیم طرز کے دروازے، اُن پہ لگے آہنی کنڈے، تالے، چمک دار فرش اور
وَال پیپر سے مزین دیواریں دیکھ کر ناعمہ تو کھو سی گئی۔
گھر میں گھستے ہی کان پھاڑ دینے والی خاموشی کی آواز نے اُن کا سواگت کیا،
تو ناعمہ نے ایک لمحے کو سوچا۔ کیا سناٹا اتنا پُرشور بھی ہو سکتا ہے کہ
اُس میں انسان کو اَپنے دل کی دھڑکن تک سنائی دے جائے۔ گھر میں کوئی ذی روح
دکھائی نہیں دے رہا تھا حالانکہ اُس نے سن رکھا تھا کہ صغیر بھائی کے بچے بھی اِسی گھر میں رہتے ہیں۔
وہ اَپنی دووست فیروزہ کے بےحد اصرار پر اُس کے نئے شوہر صغیر سے ملنے اور
اُس کا نیا گھر بار دَیکھنے اُن کے شہر مانچسٹر آئی تھی۔ صغیر صاحب اور فیروزہ
دونوں اپنی اپنی زندگی کے پہلے شریکِ سفر ساتھیوں کو کھو چکے تھے
مگر اب باقی ماندہ زندگی گزارنے کے لیے اُنھوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا تھا
اور خوب گزر رَہی تھی اِن دو دِیوانوں کی۔ سبھی رشتےدار، دوست احباب خوش تھے
کہ فیروزہ اَور صغیر ایک دوسرے کے ساتھ تھے اور اب اُنھیں تنہائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا تھا۔
بچے کہاں ہیں فیروزہ ….. ارے بھئی اُنھیں بھی بلاؤ نا۔ اکٹھے مل کر کھانا کھا لیں۔
ناعمہ نے میز پر پُرتکلف کھانا سجا دیکھ کر سادگی سے سوال کیا۔ کیا وہ ہمارے ساتھ نہیں کھائیں گے؟
نہیں! فیروزہ نے مختصراً جواب دیا اور توے پہ روٹی ڈالنے لگی۔
وہ تینوں خوشگوار ماحول میں گپ شپ کرنے لگے۔
کبھی انگلستان کے سرد موسم کے حوالے سے رویوں کے سرد ہو جانے کا ذکر ہوا
اَور کبھی پاکستان کے سیاسی حالات پہ تبصرے ہوئے۔
آپ کو انگلستان آئے ہوئے کتنے برس ہو گئے صغیر بھائی؟‘‘ ناعمہ نے پوچھا۔
جب ایوب خان نے ہری پور، میرپور اَور قریبی علاقوں سے انگلستان کی فیکٹریوں میں
کام کرنے کے لیے لیبر بھیجی تھی، ہم بھی نکل آئے تھے۔
میری شادی پاکستان میں ہوئی تھی، مگر ہمارے بچے انگلستان میں ہی پیدا ہوئے۔
کتنے خوش تھے ہم میاں بیوی کے ہمارے بچوں کو انگریزی شہریت اور تعلیم و تربیت نصیب ہو رہی ہے۔
ناعمہ اِنگلستان پہلی بار آئی تھی، اِس لیے وہ صغیر کی باتیں دلچسپی سے سن رہی تھی۔
’’توبہ اتنے سال ہو گئے آپ کو یہاں۔‘‘ ناعمہ نے یقین نہ آنے والے انداز میں کہا۔
ہاں مگر بہت دکھ کاٹا …..‘‘ صغیر کی آواز کپکپانے لگی اور ناعمہ نے موضوع بدلنے میں ہی عافیت جانی۔
وہ اُن دونوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی رہی کہ یہ اب ایک دوسرے کے دکھوں کا مداوا
بنے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ اتنی اچھی طرح ایڈجسٹ ہوئے نظر آ رہے تھے۔
اُن کے بڑے سے بھول بھلیاں والے گھر کے لاؤنج سے اوپر جاتی چوبی سیڑھیاں
دیکھ کر ناعمہ کو پُراسرار اَنگریزی فلمیں یاد آنے لگیں۔ ایسے ہی تو گھر دکھاتے ہیں اُن میں۔
سیڑھیوں سے اوپر کی منزل کو جاؤ، تو شب خوابی کے کمرے یوں سجے سجائے ملتے جیسے کسی رسالے کے فوٹوشوٹ میں سے نکالے گئے ہوں۔ ہر چیز اتنی مناسب، اتنے قرینے سے تھی کہ
ناعمہ فیروزہ کی انتظامی صلاحیتوں اور گھر کی دیکھ بھال پہ واہ واہ کر اُٹھی۔
آنے والے دنوں میں ناعمہ نے صغیر صاحب کے دونوں بچوں کو بھی راہ داریوں میں سے گزرتے،
سیڑھیوں سے اترتے، چڑھتے دیکھ ہی لیا۔ یہ پندرہ سولہ برس کے جڑواں بچے تھے
ایک لڑکی اور ایک لڑکا جنہیں صغیر صاحب پیار سے چنو اور منو کہہ کر پکارتے تھے۔
’’کتنے پیارے نام ہیں اِن کے چنو اور منو ….. بالکل دیسی۔ کس نے رکھے تھے یہ نام؟‘
ناعمہ نے خوش ہو کر صغیر صاحب سے سوال کیا۔
’’اُن کی امی نے، اللہ بخشے زرینہ اِن دو چھوٹے بچوں سے حد سے زیادہ پیار کرتی تھی۔
وہ اکثر رات کو سونے سے پہلے اُنھیں چنو اور منو کی کہانی سناتی، تو وہ بہت خوش ہوتے اور اُس کہانی سے کبھی نہ اکتاتے ….. اب تو کہانی ہی ختم ہو گئی …..‘‘ صغیر بھائی اداس ہو گئے۔
’’ارے چلیں آئیں، آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔‘‘ فیروزہ نے صورتِ حال کو بگڑتا دیکھ کر خیال پیش کیا،
تو صغیر بھائی کے چہرے پہ چھائے اداسی کے بادل چھٹ گئے اور دھوپ نکل آئی۔
چنو اور منو صبح سویرے اٹھ کر سکول جانے کے لیے چپکے سے نکل جاتے
تو صغیر بھائی اوپر جا کر اُن کے کمرے صاف کرتے، کپڑے واشنگ مشین میں دھوتے
اُن کے غسل خانے چمکاتے ….. فیروزہ کے فرائض میں یہ سب کچھ شامل نہ تھا،
اِس لیے باقی گھر کا کام کاج وہی سنبھالتی۔ شامل ڈھلے چنو اور منو گھر آتے
تو فاسٹ فوڈ کا کوئی بیگ اُن کے ہاتھوں میں ہوتا جسے وہ سیدھے تہ خانے میں بنے
ٹی وی روم میں نیچے لے جاتے۔ وہیں کھاتے اور ٹی وی دیکھتے رہتے۔ رات گئے
وہ سیڑھیاں چڑھتے اور خاموشی سے
اپنی خواب گاہوں میں جا کر سو جاتے۔
ایک دو بار ناعمہ نے اُنھیں اپنے سامنے پا کر خوش دلی سے ہیلو، ہائے، ہاؤ آر یو (تم کیسے ہو؟) کہا
تو وہ تمیز کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر ہلا کر آگے بڑھ گئے اور وُہ وَہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔
نہ جانے کیوں اُسے اُن بچوں سے خواہ مخواہ کی دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔
وہ حیران ہوتی کہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے اِن بچوں کی ایک اتنی علیحدہ سی زندگی کیوں ہے؟
ایک روز جب فیروزہ نے کوئی انوکھی سی ڈش بنائی، تو ناعمہ کہے بغیر نہ رہ سکی۔
’’بچوں کو بھی بلا لیں صغیر بھائی۔ وہ بھی اپنی نئی ماں کے ہاتھ کا کھانا کھا لیں۔‘‘
’’وہ لوگ یہ کھانا نہیں کھاتے۔‘‘ صغیر نے مختصراً جواب دیا اور خود کانٹے سے سلاد کھانے میں مصروف رہے۔
’’حیرت کی بات ہے، اُنھیں گھر کا پکا ہوا اِتنا مزےدار کھانا پسند نہیں؟‘‘
ناعمہ نہ رہ سکی۔ فیروزہ اَور صغیر خاموش رہے۔ ناعمہ کھڑکی سے باہر گرتے ہوئے
سنہری پتوں کی سرسراہٹ اور دِیوانی ہواؤں کی مدھم دستک سن کر سوچنے لگی
’اِس تنے بڑے خوبصورت، قدیم انگلش کنٹری سائیڈ ہوم میں کیا زندہ اِنسانوں کے ساتھ ساتھ کچھ مردے بھی اقامت پذیر ہیں؟ بچوں کا معمہ اُسے الجھائے چلا جا رہا تھا اور وُہ اُلجھتی چلی جا رہی تھی۔
ایک روز صغیر اور فیروزہ کی کسی دوست پاکستانی فیملی نے اُنھیں کھانے پر بلایا
تو وہ ناعمہ کو بھی اپنے ساتھ لیے اُن کے ہاں جا پہنچے۔
یہ مانچسٹر میں سالہاسال سے رہنے والے قادر بخش ٹیکسی ڈرائیور کا گھر تھا
جو کیمبل پور (اٹک) پاکستان کے کسی نواحی قصبے سے ہجرت کر کے یہاں آئے تھے۔
قادر بخش اور اُن کی بیوی زرینہ نے روایتی پاکستانی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے
حد سے زیادہ پُرتکلف کھانا تیار کیا جس میں مرغ پلاؤ، شامی کباب، کریلے گوشت سے
لے کر سوجی کا حلوہ تک شامل تھا۔ سب نے پیٹ بھر کر کھایا اور پکانے والی کی خوب تعریف کی۔
کھانے پر قادر بخش کا ایک بھانجا بھی موجود تھا جو ماحولیات پر پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔
دیکھنے میں وہ زیادہ پڑھا لکھا یا ذہین نہیں لگتا تھا، مگر اُس کی گفتگو بہت بامعنی اور بامقصد تھی۔
’’آپ کے کتنے بچے ہیں؟‘‘ ناعمہ نے دیوار پہ لگی تصویروں کو دیکھ کر زرینہ سے پوچھا۔
’’چار بیٹیاں اور ایک بیٹا۔‘‘ جواب ملا۔
’’پڑھتی ہیں؟‘‘ ناعمہ نے سوال کیا۔
’’نہیں پڑھ چکیں ….. اب لندن میں رہتی ہیں، ملازمتیں کرتی ہیں۔ اپنی اپنی زندگی ہے اُن کی۔
زرینہ کے لہجے سے بےبسی جھلکنے لگی۔
مرد حضرات تھوڑی ہی دیر میں ڈرائنگ روم میں جا کر ٹی وی دیکھنے لگے اور
قادر بخش کی بیوی اپنی ماں اور ساس کو جو اُن کے ساتھ ہی رہتی تھیں، کھانا دینے لگی۔
تقریباً اسّی اسّی برس کی دو ضعیف دیہاتی عورتیں، آنکھوں پہ عینکیں لگائے،
گرم سوٹ پہنے، شالیں اوڑھے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھی خاموشی سے ہیٹر کی گرمی سے
لطف اندوز ہوتی نظر آ رہی تھیں۔
’’ہائے یہ بےچاریاں یہاں ….. اپنے کیمبل پور سے دور ….. رشتےداروں کے بغیر، مانچسٹر کے
اِس ٹھنڈے، پرانی وضع کے مکان میں ….. نہ جانے کتنی اداس ہوتی ہوں گی۔
ناعمہ کے دل میں رحم کا طوفان موجزن ہو گیا۔
’’آپ کو اپنا گاؤں، محلہ، اپنے لوگ تو یاد آتے ہوں گے۔ کتنے برسوں سے آپ یہاں ہیں؟
ناعمہ نے پیار سے دونوں خاموش بتوں سے سوال کیا۔
دونوں ضعیف عورتوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ شاید اکیلی رہ رَہ کر وہ بولنے کی
ضرورت اور خواہش سے بھی آزاد ہو چکی تھیں۔
’’آپ کو یہاں رہنا اچھا لگتا ہے؟‘‘ ناعمہ نے اُنھیں کریدا۔
دونوں بوڑھیوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’اچھا! وہ کیوں؟‘‘ ناعمہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
’’کیونکہ یہاں نلکوں میں ہر وقت گرم پانی آتا ہے۔‘‘ ایک نے جواب دیا۔
’’یہاں ہمارا علاج مفت ہوتا ہے۔ پھر بچے ہمارے پاس ہیں، وہاں رہیں، تو آنکھوں سے دور ہوتے ہیں۔
دوسری نے جواب دیا۔
ناعمہ خاموشی سے اُنھیں تکتی چلی گئی۔ اُس کا جی چاہا اِنھیں بتائے کہ اُس وقت کے میرپور
ہری پور، کیمبل پور اَور آج کے اُنھی شہروں میں اب بہت فرق ہے۔
اب پاکستان میں بھی نلکوں میں گرم پانی آتا ہے۔ البتہ علاج کی سہولیات اور
بچوں کی موجودگی کے بارے میں اُس کے پاس کوئی خاطرخواہ جواب نہیں تھا، اِس لیے وہ خاموش رہی۔
اُسی وقت ٹی وی پہ خبر چلی۔ ایک پاکستانی لڑکی کو عین شادی کے دن اُس کے کزن نے قتل کر دیا ہے۔
انگلش ٹی وی والے اُس لڑکی کے قاتل کا انٹرویو نشر کر رہے تھے
جس میں وہ کہہ رہا تھا لڑکی نے ہماری مرضی کے خلاف شادی کی تھی،
اِس لیے یہ ہماری غیرت کا سوال تھا ….. اُسے سزا دینا ہی تھی …..
ٹی وی پہ بہت سے شلوار قمیص والے پاکستانی مرد اَور اَنگریز پولیس کے اہلکار
آپس میں گتھم گتھا ہوئے نظر آ رہے تھے۔
’’توبہ یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ فیروزہ اَور ناعمہ ہکا بکا ہو کر ٹی وی دیکھنے لگیں۔
اتنی جہالت اور پس ماندگی ….. ناعمہ کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔
’’آنٹی جی! آپ لوگوں کو شاید پتہ نہیں ہے انگلستان میں پاکستانیوں کے ذہن اور
رَہن سہن میں اب بھی قبائلی نظام رچا بسا ہوا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں چھوٹے
شہروں سے اٹھ کر آنے والے، رہنے والے یہاں اپنے اپنے میرپور، ہری پور اَور کیمبل پور
بنا کر زندگی گزار رَہے ہیں۔ اُن کا ذہن موجودہ اِنگلستانی نظام اور قانون کو قبول نہیں کرتا
اِسی لیے یہاں بھی عورتوں پہ اُسی طرح تسلط قائم رکھنے کی خواہش کی جاتی ہے
جیسے اپنے وطن میں ہوتا ہے۔‘‘
ہائے بڑے مسائل ہیں یہاں، ماں باپ بھی کیا کریں۔ لڑکیاں پڑھ لکھ جاتی ہیں
تو اپنے کزنوں سے شادی نہیں کرنا چاہتیں۔ ہم کہاں سے اُن کے لیے اُن کے مطابق رشتے لائیں۔
ہماری بیٹیاں بھی اِسی لیے ابھی تک غیرشادی شدہ ہیں۔‘‘ زرینہ نے اپنے دل کا حال کہہ ڈالا
اور ناعمہ سوچنے لگی۔ کیمبل پور کے کسی نواحی قصبے کی یہ فیملی انگلستان
میں بیٹھ کر کریلے گوشت، پلاؤ، پودینے کی چٹنی تو بنا اور کھا سکتی ہے
مگر اَپنی انگلستان کی جم پل لڑکیوں کی تقدیر پر اُنھیں کوئی اختیار نہیں ہوتا۔
سہولت اور فراوانی کی زندگی اپنا خراج لے کر رہتی ہے۔
گھر لَوٹنے پر ناعمہ نے ٹی وی روم کی درز سے چھن کر آتی ہوئی روشنی میں دیکھا،
صغیر بھائی کے دونوں بچے خاموش بت بنے ٹی وی کے آگے برگر اور فرنچ فرائز کے ڈبے رکھے
میکانکی انداز میں ہولے ہولے کھا رہے تھے۔ کھانے کے بعد اُنھوں نے کاغذ کے پیک لفافے
اُسی کمرے میں پڑے کوڑے کے ڈبے میں پھینکے اور خاموشی سے سیڑھیاں چڑھ کر
اُوپر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ نہ کسی سے ہیلو نہ ہائے، نہ سلام نہ بائے ….. بچے تھے یا روبوٹ؟
ناعمہ نے متذبذب ہو کر سوچا۔
فیروزہ ….. ایک بات پوچھوں؟‘‘ اگلی صبح ناشتے کی میز پر سوئس پنیر کا ٹکڑا
ٹوسٹ پہ رکھتے ہوئے ناعمہ نے اپنی سہیلی سے سوال کیا۔
’’ہاں ….. بھئی بولو ….. کیا پوچھنا ہے؟‘‘ فیروزہ مسکرائی۔
’’تم خوش تو ہو نا؟ دیکھو مجھ سے نہ چھپانا۔‘‘ ناعمہ نے سوال کیا۔
’’ارے یہ کیا سوال کر دیا تم نے ….. ارے پگلی نظر نہیں آتا
تمہیں ہم دونوں کتنا چاہتے ہیں ایک دوسرے کو ….. اتنے برسوں بعد تو زندگی نے
ہمیں خوش ہونے کا موقع دیا ہے ….. خوش کیوں نہ ہوں …..
صغیر بہت اچھے انسان ہیں۔ مَیں خوش قسمت ہوں کہ وہ مجھے مل گئے۔
کل تم نے قادر بخش کی بیوی سے سن ہی لیا تھا یہاں کے رہنے والوں کو کیا مسائل درپیش ہوتے ہیں۔
بس صغیر بھی تقریباً اُنھی حالات کا شکار تھے۔ اُن کی تین بیٹیاں ہیں ….. تھیں …..
فیروزہ نے انکشاف کیا۔
’’تھیں! کیا مطلب؟ کیا ہوا؟‘‘ ناعمہ حیران ہوتی چلی گئی۔
ہونا کیا تھا ….. بس وہی مسئلہ۔ لڑکیاں جوان ہو گئیں، تو ماں باپ کو شادی کی فکر ہوئی۔
لڑکیاں پڑھ لکھ کر قابل ہو گئی تھیں، وہ کسی ایسے شخص سے شادی نہ کر سکتی تھیں
جو صرف پاکستانی ہو اَور کچھ بھی نہ ہو۔ اُنھیں اپنی سطح اور معیار کے لڑکے
ڈھونڈنے میں مشکل آ رہی تھی۔ صغیر اُس وقت ایک سخت گیر باپ، پنڈی وال کے روایتی آدمی تھے
جو ہر صورت اپنی روایات اور تمدن برقرار رَکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔
یہاں رہنے والے اُن کے دوست، رشتےدار باتیں بنانے لگے کہ لڑکیوں کی شادی نہیں کر رہا۔
وہی تنگ نظر برادری سسٹم جس نے اُن کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔
’’دراصل تیس چالیس سال پہلے انگلستان اٹھ کر آ جانے والے لوگ ذہنی طور پہ
اُسی ٹائم زون میں قید ہو کر رہ جاتے ہیں جس میں اُنھوں نے وطن سے ہجرت کی تھی۔
وہ نہ اِدھر کے رہتے ہیں نا اُدھر کے۔ بڑی لڑکی ثریا جوان ہو کر قابل ہو گئی تھی۔
صغیر اُس کی کسی کزن پاکستانی لڑکے سے شادی کرنا چاہتے تھے،
مگر وہ کسی انگریز لڑکے سے شادی کے عہد و پیماں کر چکی تھی۔‘‘
’’اچھا!‘‘ ناعمہ یہ سن کر پریشان سی نظر آنے لگی۔
عین اُسی وقت کھٹکا ہوا اَور دونوں سہیلیوں نے دیکھا، صغیر ہاتھ میں کئی طرح کا پھل
چاکلیٹ اور گفٹ باکس اٹھائے اندر دَاخل ہوئے۔
’’ارے کیا پورا سٹور ہی اٹھا لائے ہیں۔ اتنی چیزیں، خیریت تو ہے؟‘
فیروزہ نے سامان ہاتھ سے لیتے ہوئے پوچھا۔
’’آج خاص دن ہے فیروزہ جی! آج چنو اور منو کی سالگرہ ہے …..
صغیر کی خوشی سے باچھیں کِھلی جا رہی تھیں۔
’’وہ تو گھر نہیں ہیں۔ لائیے مَیں یہاں رکھ دوں۔‘‘ فیروزہ نے چیزیں لے کر سنبھالنا شروع کر دیں۔
صغیر نے آتش دان روشن کر دیا اور لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز سے ماحول
بڑا آرام دہ، گرم اور دوستانہ محسوس ہونے لگا۔
’’صغیر بھائی! اگر آپ برا نہ منائیں، تو مَیں آپ سے آپ کی کہانی پوچھ سکتی ہوں؟
فیروزہ نے مجھے تھوڑا سا بتایا ہے۔‘‘ ناعمہ نے اُن کے ہاتھ میں تھمائی ہوئی
کافی سے اٹھتی بھاپ پر نظریں جما کر پوچھا۔
’’بس ناعمہ! کیا بتاؤں، شاید مجھ سے کچھ غلطی ہوئی، شاید میری بیوی سے یا بچوں سے
پتہ نہیں۔ سب کچھ گڈمڈ ہو کر رہ گیا ہے۔ ہم لوگ دو ملکوں، دو معاشروں کے
درمیان معلق ہو کر رہ گئے ہیں۔‘‘
’’مَیں نے اِسے بتایا تھا، آپ ثریا کی شادی کرنا چاہتے تھے اپنی مرضی سے اور بس کچھ نہیں بتایا۔
فیروزہ نے اپنے شوہر کو گرم شال اڑھا کر پیار سے اُس کا کندھا تھپتھپا کر کہا۔
صغیر نے ایک گہری سانس لے کر کہنا شروع کیا:
’’مَیں نے ثریا کو مجبور کیا کہ وہ شادی کے لیے ہاں کر دے حالانکہ
اُس کی ماں نے مجھے بہت روکنے کی کوشش کی، مگر مَیں تو اپنی بیٹی کی بھلائی ہی چاہتا تھا۔
اُسے کسی انگریز کے ساتھ زندگی بِتاتے کیسے دیکھتا؟ ….. ثریا نے بالآخر میرا کہا مان لیا
اور دُلہن بن کر بیٹھ گئی، مگر …..‘‘ صغیر کی آواز کپکپانے لگی۔
اُس نے بہت سی خواب آور گولیاں کھا لی تھیں، اِس لیے وہاں دلہن کی جگہ
سرخ کپڑوںمیں ملبوس ایک لاشہ پڑا تھا۔‘‘
’’اوہ میرے اللہ! صغیر بھائی ….. یہ تو بہت افسوس ناک بات ہے۔ مَیں معذرت چاہتی ہوں …..
ناعمہ اظہارِ تاسف میں سر ہلانے لگی۔
صغیر نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے اپنے آنسو پونچھے۔
میری بیوی زرینہ کو بیٹی کی موت کے صدمے نے تقریباً مفلوج کر کے رکھ دیا۔
اُس نے گھر کی اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا چھوڑ دی اور بستر پر پڑ گئی۔
بس ہر وقت مجھے ظالم، خودغرض اور قاتل ہونے کے طعنے دیتی رہتی۔
اُس نے ہماری دوسری جوان بیٹی صبیحہ کو گھرچھوڑ کر چلے جانے کو کہہ دیا اور
صبیحہ لندن کے ایک فلیٹ میں منتقل ہو گئی۔ وہ وَہیں ملازمت کرتی اور
ماں اور چنو منو سے کبھی کبھار ملنے آ جاتی، مگر مجھ سے کوئی ٹھیک طریقے سے بات تک نہ کرتا۔
زرینہ نے بالآخر کھانا پینا بھی چھوڑ دیا۔ ڈاکٹر کہتے تھے وہ ڈپریشن کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔
’’بےچارے صغیر بھائی!‘‘ ناعمہ کو اُن پر ترس آنے لگا۔
’’زرینہ مجھ سے لڑتی جھگڑتی، کبھی روتی اور کبھی ہنستی تھی۔
پھر ایک روز اُس کا مکمل نروس بریک ڈاؤن ہو گیا اور اُس نے اُسی عالم میں ثریا کی طرح
خواب آور گولیاں کھا کر ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔‘‘ صغیر ہچکیاں لے لے کر رونے لگے …..
فیروزہ کی بھی آنکھیں بھیگ گئیں۔
’’یہاں تو کوئی ہوتا بھی نہیں ہے، یہ جو سیڑھیاں ہیں نا ….. جو تمہیں بڑی اچھی لگتی ہیں
اِنھی سیڑھیوں سے مَیں اور میرے یہ چھوٹے سے بیٹی بیٹا منو اور چنو، ماں اور
بہن کے مردہ جسموں کو اُٹھا کر نیچے لائے تھے ….. دو بار بچوں نے لاشے گھسیٹے۔‘‘
ناعمہ نے اُن شاہانہ قدیم انداز میں بنی ہوئی خوبصورت چوبی سیڑھیوں کو دیکھا،
تو ایک لحظے کے لیے تو وہ کانپ کے رہ گئی۔ ’’کیسا دکھ بھرا اَور خوفناک منظر ہو گا وہ۔‘‘ …..
اُس نے تصوّر کیا ….. ’’توبہ!‘‘ ….. اُس نے کچھ کہنا چاہا، مگر اُسے کہنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے تھے،
لہٰذا وُہ خاموش رہی۔
’’بس تبھی سے یہ دونوں بچے چپ ہو کے رہ گئے ہیں۔ مجھے مجرم گردانتے ہیں،
کیونکہ مَیں نے ہی اپنی ضد کی وجہ سے اِن کے گھر کی خوشیاں برباد کی تھیں۔‘‘
’’آپ نے وہی کیا جو ایک ذمےدار، فرض شناس باپ سوچتا ہے
اپنی سوچ کے مطابق ہی کیا ….. آپ اپنے آپ کو الزام نہ دیں۔‘‘ فیروزہ نے شوہر کو تسلی دینا چاہی۔
’’ابھی ذرا چھوٹے ہیں۔ بڑے ہوں گے، تو یہ بھی پھڑپھڑا کر اُڑ جائیں گے اور گھونسلہ خالی رہ جائے گا
اور پھر شاید کبھی کبھار ہی باپ کی شکل دیکھیں۔‘‘ صغیر بھائی دھیمے لہجے میں بولتے چلے گئے۔
’’ایک رائے ہے صغیر بھائی! کیوں نہ آج ہم سب چنو، منو کی سالگرہ منائیں، کیک کاٹیں،
موسیقی لگا کر ڈانس کریں، ہلا گلا ہو، تو شاید اُن کا موڈ بھی بہتر ہو جائے۔‘‘
ناعمہ نے تجویز پیش کی، مگر اگلے ہی لمحے صغیر اور فیروزہ کی شکلیں دیکھ کر
اُسے اندازہ ہو گیا کہ اتنے کچھ کی توقع کرنا شاید کچھ زیادہ ہو گا، اِس لیے چپکے ہو کر بیٹھ رہی۔
’’آج کے دن تو وہ لوگ اپنی ماں اور بہن کی قبروں پہ جاتے ہیں۔‘‘ فیروزہ نے ہولے سے کہا۔
’’دیکھو چنو کے لیے یہ جیکٹ لایا ہوں، اچھی ہے نا ….. اُسے یقیناً پسند آئے گی …..
یہ اُس کا پسندیدہ رنگ ہے۔‘‘ صغیر نے تحفے کا پیکٹ کھول کر دکھاتے ہوئے کہا۔
’’اور منو کے لیے کیا لائے ہیں؟‘‘ فیروزہ نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’منو کے لیے؟ یہ سونے کے زیورات کا سیٹ۔ اچھا لگے گا نا اُسے۔‘‘
’’صغیر بھائی! بہت اچھا ہے سب کچھ۔ لائیں مَیں اِسے اچھی طرح پیک کر دوں۔‘‘
ناعمہ نے اُن کے ہاتھ سے چیزیں لے لیں اور ڈبوں کو خوبصورت ربن اور زیبائش لگا کر پیک کرنا شروع کر دیا۔
کچھ ہی دیر میں صغیر اوپر جا کر وہ تحفے کے ڈبے سرپرائز کے طور پر اُن کے کمروں میں چھوڑ آئے
اور خود اُن کے ردِعمل کا انتظار کرنے لگے۔
خلافِ توقع بچے اُس دن گھر ہی نہیں آئے۔ صغیر بھائی نے فون کر کے پتہ کیا، تو علم ہوا
کہ وہ بڑی بہن صبیحہ کے گھر لندن چلے گئے ہیں۔ فیروزہ نے پھر بھی کیک لا کر کاٹا،
موم بتیاں جلائیں اور بچوں کی غیرموجودگی میں ہی تالیاں بجا کر ناعمہ کے ساتھ
’’سالگرہ مبارک چنو، منو‘‘ کے نغمے گائے جس سے صغیر بہت خوش ہوئے اور
بار بار آنکھوں کے کونوں سے نمی صاف کرتے نظر آتے۔
’’فیروزہ! تمہارے آنے سے میری سُونی زندگی میں بہار آ گئی ہے شکریہ۔ اور
ناعمہ اب سے تم نے انگلستان بار بار آنا ہے، سنا؟ مَیں خود تمہیں ٹکٹ بھیجا کروں گا ….. فکر نہ کرنا۔‘‘
صغیر بھائی نے جذبات سے مغلوب ہو کر ناعمہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
چنو اور منو جس طرح خاموشی سے گھر سے گئے تھے، اُسی طرح چپ چاپ ایک دن بعد گھر چلے آئے
اور اَپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ صغیر توقع کر رہے تھے وہ نظر آئیں، تو اُن سے پوچھیں کہ تحفے پسند آئے؟
مگر بچے اگلے پورے دن اُنھیں دکھائی نہ دیے اور صغیر کو اُنھیں وِش کرنے اور
بات کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
اگلے روز موسمِ بہار کی آمد پر شہر کے محکمۂ صفائی والوں کا موسمِ بہار کی
صفائی کا دورہ لگنا تھا، اِس لیے سبھی لوگ اپنے اپنے گھروں، لان اور سٹورز کی
صفائی کرنے میں جُتے ہوئے نظر آنے لگے۔ ناعمہ اور فیروزہ نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا
تو صغیر اکیلے ہی لان میں بڑا سا جھاڑو تھامے خشک پتے، ٹہنیاں اکٹھے کرتے نظر آئے۔
’’ارے چلو ہم بھی صغیر کی مدد کرتی ہیں۔‘‘ فیروزہ نے ہلکی سی جیکٹ پہنتے ہوئے ناعمہ کو دعوت دی
جسے اُس نے مسکرا کر قبول کر لیا اور وُہ دونوں باہر کو چل دیں۔
بڑے بڑے پلاسٹک کے تھیلوں میں کوڑا، پتے وغیرہ بھر کے صغیر نے اپنے مکان کے
پچھلے صحن میں لگے بڑے سے کچرے والے ڈرم میں پھینکنے شروع کر دیے
تو فیروزہ اَور ناعمہ بھی اپنا اپنا اکٹھا کیا ہوا کوڑا لیے آ گئیں اور اُسے پھرتی سے
ڈرم میں انڈیلنا شروع کر دیا۔ یکایک ناعمہ کو اُس میں کچھ نظر آیا، تو وہ ٹھٹکی …..
’’کیا ہوا؟‘‘ صغیر نے پوچھا اور پاس آ کر ڈرم میں جھانکنا شروع کر دیا۔
اُنھیں زیادہ دَیر کھنگالنا نہیں پڑا، کیونکہ جلد ہی اُنھیں وہ پیک شدہ تحفوں کے ڈبے نظر آ گئے
جو وہ چنو اور منو کے کمرے میں چھوڑ آئے تھے۔ لگتا تھا اُنھوں نے اُنھیں کھولا تک نہیں تھا،
کیونکہ اُن پر ٹیپ اُسی طرح چپکی ہوئی تھی۔ صغیر کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا
اور وُہ بےاختیار زمین پر دھپ سے گر گئے۔
کیا ہوا صغیر؟‘‘ فیروزہ لپک کر آئی اور ڈبے دیکھ کر سب سمجھ گئی۔
مجھے کبھی معافی نہیں ملے گی۔ مجھے کبھی معافی نہیں ملے گی۔
وہ بچوں کی طرح بلبلانے لگے۔ ’’یا اللہ! میرا قصور کیا ہے؟
اُنھوں نے آسمان کی طرف دیکھ کر چیخنا، چلّانا، بال نوچنا شروع کر دیا
اور اَپنے کپڑے پھاڑتے ہوئے سڑک پہ دیوانہ وار دوڑنے لگے۔

 

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles