32 C
Lahore
Thursday, July 18, 2024

Book Store

مزمل

مزمل

شکیل احمد چوہان

مزمل کھانے سے فارغ ہوا تو اُس نے اپنی رولیکس گھڑی میں ٹائم دیکھا، تین بجنے والے تھے۔
واپسی کب تک ہے؟ مزمل  نے مبشر کے کان میں سرگوشی کے انداز میں پوچھا۔
مغرب ہو ہی جائے گی۔ مبشر نے اُسی انداز میں بتایا۔
میں نماز کے لیے جا رہا ہوں۔ جب جانا ہو تو مجھے کال کر لینا۔ مزمل نے یہ کہا اور شادی ہال سے باہر نکل آیا۔ باہر آ کر اُس  نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ جی ٹی روڈ کی دوسری جانب اُسے مین سڑک سے اندر جاتی ہوئی ایک چھوٹی سڑک پر ایک چھوٹی سی مسجد نظر آ گئی تھی۔
مزمل نے اپنی وائٹ مرسڈیز کی طرف دیکھا جو دُلہن سے زیادہ سجی ہوئی تھی۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد مزمل  نے پیدل جی ٹی روڈ کراس کیا اور سڑک کی دوسری طرف پہنچ گیا۔
سڑک کی دوسری طرف مین جی ٹی روڈ پر صرف سرامک کی بند پڑی فیکٹری اور م گرلز ہائی اسکول تھا۔ فیکٹری اور اسکول کے درمیان جی ٹی روڈ سے ایک چھوٹی سڑک معراج کے گاؤں تک جاتی تھی۔ اُسی سڑک پر فیکٹری کی مسجد تھی جس کا ایک دروازہ فیکٹری کے احاطے میں کُھلتا اور دوسرا چھوٹی سڑک کی طرف تھا۔ مسجد کے دروازے کے سامنے اسکول کے پیچھے ایک مخروطی چھتوں والا دو منزلہ مکان بھی تھا جس کی کھڑکیاں پرانی طرز کی تھیں۔ لوہے کی سلاخوں کے پیچھے لکڑی کے تختے۔
مسجد کے دروازے کے ساتھ مسلم دواخانہ اُس کے ایک طرف میں حکیم مسلم انصاری کا گھر۔ فیکٹری کے پیچھے آٹھ دس گھر اور بھی تھے۔ اس کے برعکس جس طرف ملن شادی ہال تھا، وہاں کافی رونق تھی۔ شادی ہال کے اردگرد بہت ساری دُکانیں تھیں۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ مناہل نے شادی ہال کے باہر کھڑی ماہم کو پیچھے سے جھنجھوڑ کر پوچھا۔
اندر دودھ پلائی کی رسم ہونے والی ہے، مسرت کی امی مجھ سے بار بار پوچھ رہی ہیں ماہم کہاں ہے؟ اُسے ڈھونڈ کر لاؤ، چلو میرے ساتھ۔۔۔! مناہل نے حکمیہ انداز میں کہا۔ اُس نے ماہم کو ہتھیلی سے پکڑا اور ہال کے اندر لے گئی، ماہم نے مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا وہ مسجد میں داخل ہو رہا تھا۔
مزمل  نے ظہر کی نماز ادا کی اور مسجد کو دیکھنے لگا بڑے غور سے۔ جس کا محراب لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ مزمل  نے دوسری بار محراب کے اندر لکڑی کا اتنا عمدہ کام دیکھا تھا۔ محراب کی طرح ہی منبر بھی اُتنا ہی خوب صورت۔ سوا تین کا وقت تھا، جب مزمل نے مسجد کے کلاک پر نظر ڈالی۔ پونے چار بجے عصر کی جماعت، اُسی ڈیجیٹل کلاک کے نیچے جماعت کے اوقات بھی درج تھے۔
مزمل بیگ نے قرآن پاک الماری سے اُٹھایا اور تلاوت شروع کر دی۔ ساڑھے تین بجے کے قریب ایک نصف صدی باریش شخص مسجد کے اندر داخل ہوا۔ اُس نے اسپیکر کھول کر اذان دی۔ مزمل نے قرآن پاک الماری میں رکھا اور اذان کا جواب دینے لگا۔
پوری بارات میں سے آپ اکیلے ہی نماز پڑھنے آئے ہو؟‘‘ مؤذن نے اذان ختم کرنے اور دُعا مانگنے کے بعد مزمل سے پوچھا۔
آپ تو وہی ہیں نا جنھوں نے نکاح پڑھایا تھا؟ مزمل نے سوال کا جواب دینے کی بجائے اپنا سوال پوچھ لیا۔
جی جناب۔۔۔! میں وہی ہوں۔ میرا نام حکیم مسلم انصاری ہے۔ لوگ حکیم صاحب کہتے ہیں۔ مسلم انصاری کوئی نہیں کہتا۔
ادب کی وجہ سے آپ کا نام نہیں لیتے ہوں گے۔ مزمل نے بے تاثر چہرے کے ساتھ اپنا نقطہ بیان کیا۔
’’میرا نام مزمل بیگ ہے اور میں۔۔۔‘‘
آپ مبشر کے سیٹھ ہیں۔ مبشر آپ کا ڈرائیور ہے اور آپ لاہور سے آئے ہیں۔ میں نے ٹھیک بتایا نا؟ حکیم صاحب نے مسکراتے ہوئے تفصیل بتائی۔
حکیم صاحب۔۔۔! جماعت کا وقت ہو گیا ہے۔ مہتاب خان نے اقامت کے لیے کھڑے ہوتے ہوئے اطلاع دی۔ تین افراد  نے باجماعت نماز ادا کی تھی۔ مہتاب خان  نے دُعا مانگی اور مسجد سے چلا گیا۔ مزمل اور حکیم صاحب نماز کے بعد کچھ دیر باتیں کرتے رہے پھر مزمل نے اپنا موبائل دیکھا جس پر دو مس کالز آئی ہوئی تھیں۔
مزمل نے مسجد کی سیڑھیاں اُترتے ہوئے مبشر کو کال بیک کی۔ اچانک اُس کی نظر مسجد کے سامنے والے گھر کی دوسری منزل پر پڑی۔ ایک لڑکی کھڑکی میں کھڑی ہوئی مزمل کو ہی دیکھ رہی تھی۔ جب مزمل کی نظر اُس لڑکی پر پڑی تو وہ پیچھے ہٹ گئی۔
سر جی۔۔۔! کہاں ہیں آپ؟ جلدی سے آجائیں۔ مبشر موبائل کی دوسری طرف سے التجا کر رہا تھا۔
یہ ماہم کہاں مر گئی ہے؟ مناہل اپنی اور ماہم کی سہیلیوں سے پوچھ رہی تھی۔
کمینیو۔۔۔! دودھ پلائی کی طرح پانچ ہزار پر ہی ایگری مت ہو جانا۔ اس بار بیس ہزار سے کم نہیں لیں گے۔
مناہل نے اپنی سہیلیوں کو سمجھایا۔ مناہل اور اس کی سہیلیوں نے مبشر کا گھٹنا ایک چنری سے باندھ دیا تھا۔ مبشر اپنے سر جی کو بڑا بنا کر لایا تھا گو کہ مزمل بیگ اور مبشر علی ہم عمر ہی تھے پھر بھی مبشر نے اپنے رشتے داروں کے بجائے مزمل بیگ پر ذمے داری کی پگڑی رکھی تھی۔
مزمل بیگ جو ڈرائی فروٹ کی طرح تھا۔ توانائی سے بھرپور مگر خشک۔ توانائی اُس کے جذبوں اور اس کی سوچ میں تھی اور خشکی اُس کے مزاج کا حصہ۔ وہ بداخلاق نہیں لیکن کوئی ایسا خوش اخلاق بھی نہیں تھا۔ ایک اتنا بڑا بزنس مین اپنے ڈرائیور کی بارات کے ساتھ آیا تھا، وہ بھی خود اُس کا ڈرائیور بن کر۔ مزمل بیگ من موجی تھا۔ پہلے تو اُس نے صاف انکار کر دیا تھا۔
سر جی۔۔۔! پلیز چلیں، میری کون سی روز روز شادی ہونی ہے؟
مبشر کی عرضی میں پتا نہیں کون سی بات تھی جو مزمل بیگ نے ہاں کر دی تھی۔ اب مزمل خود سے کہہ رہا تھا
میں بھی ایڈیٹ ہوں جو یہاں آ گیا۔
مزمل کافی دیر دُور کھڑا مبشر اور دُلہن کی سہیلیوں کی بحث و تکرار دیکھتا رہا۔ وہ مبشر کی آواز پر چونکا۔
’’سر جی۔۔۔! میری جان چھڑائیں اِن چڑیلوں سے۔‘‘
مزمل وقار سے چلتا ہوا مبشر کے پاس گیا۔
پہلے ان چڑیلوں نے دودھ پلائی کے مجھ سے پانچ ہزار لے لیے اب میرا گھٹنا باندھ کر پورے بیس ہزار مانگ رہی ہیں۔ مبشر ایسے بول رہا تھا جیسے کم زور بچہ اپنے سے تگڑے بچوں کی شکایت اپنے ماں باپ سے کرتا ہے۔
جیجا جی۔۔۔! پورے بیس ہزار دینا پڑیں گے۔ ایک کالی کلوٹی لڑکی نے مناہل کا سبق با آواز بلند دُہرایا تھا۔
مزمل نے اُس لڑکی کی طرف دیکھا۔ اُس کا انداز بڑا عجیب سا تھا جیسے جگا ٹیکس مانگ رہی ہو۔ مزمل کے چہرے پر ایک میٹھی مسکراہٹ اُبھری۔ سب کے زور زور سے ہنسنے کی آواز اُس کے کانوں میں پڑی۔ اُس نے اُس کالی کلوٹی کے چہرے سے نظر ہٹا کر سب چہروں کی طرف باری باری دیکھا۔ سب پاگلوں کی طرح ہنس رہے تھے۔
یہ بھی کوئی ہنسنے والی بات ہے؟
مزمل کے دل میں خیال آیا۔ ہنستے ہوئے چہروں کے درمیان ایک سنجیدہ چہرہ بھی تھا جو مزمل کو ہی دیکھ رہا تھا۔ مزمل اُس کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہا تھا مگر اُس کی بلّی کی طرح جلتی آنکھیں اُسے نظر آرہی تھیں، جو گُھپ اندھیرے میں دُور سے دیکھو تو انگاروں کی طرح دہکتی ہوئی لگتی ہیں۔
میں پانچ ہزار سے ایک ٹیڈی بھی زیادہ نہیں دوں گا۔ مبشر بول رہا تھا۔ دُلہن کی سہیلیوں میں پھنسا ہوا۔
پندرہ۔۔۔ آخر۔۔۔ مناہل نے انداز سے کہا۔
دس۔۔۔! مزمل نے سنجیدگی سے آفر دی۔
ڈن۔۔۔! مناہل نے مہندی لگی ہتھیلی آگے بڑھا دی۔ مزمل نے ہزار ہزار کے دس کڑکتے نوٹ اُس کی ہتھیلی پر رکھے۔ مناہل نے نوٹ پکڑتے ہوئے مزمل کے ہاتھ پر سوئی چبھو دی۔ مزمل کو کرنٹ سا جھٹکا لگا۔ اُس نے جلدی سے ہاتھ پیچھے ہٹایا۔ مزمل نے غصے سے مناہل کی طرف دیکھا تھا۔
رخصتی کے وقت دُلہن کی ساری سہیلیاں ایک بار پھر دُلہے کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں تھیں۔ جب وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھنے لگا۔
رستہ روکنے کی رسم تو بارات آنے کے وقت ہوتی ہے۔ مبشر کی بہن منیبہ نے کہا۔
اُس وقت ہم بھول گئے تھے۔ وہ کالی کلوٹی پھر بولی اپنے مخصوص انداز کے ساتھ۔
آپ سب ادھر آئیں۔ مزمل نے سب لڑکیوں سے کہا تھا۔ پچھلی سیٹ پر دُلہن کے ایک طرف مبشر اور دوسری طرف مبشر کی ماں بیٹھ گئی۔ اگلی سیٹ پر مبشر کی چھوٹی بہن منیبہ بیٹھی، جو دسویں میں پڑھتی تھی۔ اب دلہن کی سب سہیلیوں نے مزمل کو گھیرا ہوا تھا جو پیسوں کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
تم میں سے کل ولیمے میں کون کون آ رہی ہے؟ آدھے ہاتھ کھڑے ہوئے۔
کل ولیمے پر میرا دوست حمزہ علی عباسی بھی آ رہا ہے۔ تم میں سے کون کون اُس سے ملنا چاہتی ہے؟
کسی نے بھی گرم جوشی نہیں دکھائی۔
تم میں سے کسی نے بھی پیارے افضل ڈرامہ نہیں دیکھا؟ مزمل بیگ حیران تھا۔
پیارے افضل۔‘‘ ’’پیارے افضل۔‘‘ چند دبی دبی آوازیں نکلیں۔
حمزہ علی عباسی، مطلب ’’پیارے افضل‘‘ وہ میرا دوست ہے۔‘‘ مزمل نے سنجیدگی سے بتایا۔
’’مسٹر مزمل بیگ۔۔۔! آپ ہنستے تو بالکل بھی نہیں وہ الگ بات ہے۔ آپ مسکرا کر بھی بتا سکتے تھے کہ پیارے افضل آپ کا دوست۔
ہنسنے کی ڈیوٹی معراج والوں کے ذمے ہے۔ مزمل نے سنجیدگی سے بات لگائی۔
’’مس مناہل۔۔۔! کچھ غم ہونٹوں سے مسکراہٹ چھین لیتے ہیں۔‘‘
مسٹر مزمل۔۔۔! اگر میں کہوں جو غم آپ کو ہے وہی مجھے بھی ہے مگر میں پھر بھی ہنستی ہوں۔‘‘ مناہل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مزمل بھائی۔۔۔! چلیں بھی۔۔۔ ساری گاڑیاں نکل گئی ہیں۔‘‘ منیبہ کو جانے کی جلدی تھی۔
پیارے افضل سچ میں آپ کا دوست ہے؟‘‘ کالی کلوٹی نے تصدیق چاہی۔
جھوٹ۔۔۔ یہ مذاق کر رہے ہیں۔‘‘ مناہل نے اپنی سہیلیوں کو بتایا۔
سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کل ہو جائے گا، تم سب بتاؤ پیسے لینے ہیں یا پھر پیارے افضل سے ملنا ہے؟‘‘
سب نے یک زبان ہو کر کہا
’’پیارے افضل سے ملنا ہے۔‘‘
مزمل گاڑی میں بیٹھنے لگا تو اُسے سیڑھیوں سے اوپر ہال کے داخلی دروازے سے آگے وہ بلّی آنکھیں دوبارہ نظر آئیں جو مزمل کو ہی دیکھ رہی تھیں۔
بھائی۔۔۔! پیارے افضل واقعی آپ کا دوست ہے؟‘‘ منیبہ نے بھی اشتیاق سے پوچھا۔
نہیں گڑیا۔۔۔! وہ تو میں نے مذاق کیا تھا۔ نہیں تو تمھارے بھائی کے دس ہزار اور چلے جاتے۔‘‘ مزمل نے گاڑی ڈرائیور کرتے ہوئے منیبہ کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔
وہ اپنے ٹیرس پر کھڑا لان میں لگے سمبل اور سندری کے اونچے درختوں کو دیکھ رہا تھا جہاں اُسے وہ بلّی آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ وہ ٹیرس سے کمرے کے اندر آیا۔ فریج سے پائن ایپل کے جوس کی بوتل نکالی اور منہ لگا کر پینے لگا۔ بستر پر لیٹ کر اُسے سیلنگ کے اوپر بھی اُس لڑکی کی آنکھیں ہی نظر آرہی تھیں۔ ولیمے میں نہ آنے کی اطلاع اُس نے گوجرانوالہ سے واپسی پر ہی مبشر کو دے دی تھی۔
وہ ڈیفنس روڈ پر واقع اپنی فیکٹری سے دو بجے نکل آیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اُس نے اپنی گاڑی موٹر وے پر ڈال دی تھی۔ کالا شاہ کاکو کے مقام سے وہ موٹروے سے جی ٹی روڈ پر آ گیا۔ مریدکے سے گزرتے ہوئے وہ کامونکی کے پاس تھا۔ بیک ویو مرر میں اُس نے جب بھی دیکھا وہی آنکھیں اُسے دیکھ رہی تھیں۔
مزمل کو پتا ہی نہ چلا کب اُس نے گوجرانوالہ شہر سے چند کلومیٹر دور مین جی ٹی روڈ کے اوپر سرامک کی بند پڑی فیکٹری کی دیوار کے ساتھ اپنی بلیک لینڈ کروزر کھڑی کی۔ اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھا ساڑھے تین بجنے والے تھے۔ اسپیکر پر حکیم صاحب کی آواز بلند ہوئی۔ عصر کی اذان ہو رہی تھی۔ مزمل گردن جھکائے مسجد کے اندر داخل ہو گیا۔
مزمل بیگ صاحب۔۔۔! حکیم صاحب نے مزمل کو دیکھ کر حیرت سے کہا۔ مزمل کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ اُبھری۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد مزمل سب سے آخر میں مسجد سے نکلا۔ اُس نے نظر اُٹھائی۔ لوہے کی سلاخوں کے پیچھے لکڑی کے تختوں والی کھڑکی بند تھی۔ مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد بھی نظر کو مایوسی ملی۔ عشاء کے بعد بھی انتظار ہی ملا۔
فجر کی نماز حکیم صاحب نے پڑھائی۔ پانچ مقتدیوں میں سے پانچواں مزمل تھا۔ حکیم صاحب اور مہتاب خان اُس مسجد کے پکے نمازی تھے۔ فجر اور مغرب کی نمازوں میں دو چار لوگوں کا اضافہ ہو جاتا۔ حکیم صاحب کو کچھ تشویش ہوئی۔ مزمل کو دیکھ کر، مگر انھوں نے مزمل سے کچھ پوچھا نہیں۔
سارے نمازی جا چکے تھے۔ حکیم صاحب اور مزمل مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مزمل نے حکیم صاحب کو سلام کیا اور مسجد سے نکلتے ہوئے نگاہ اُٹھائی۔ وہ پہلے سے کھڑکی کھولے کھڑی تھی۔ مزمل کی بھی آنکھوں میں نور اُتر آیا۔ وہ گردن جھکائے اپنی گاڑی میں بیٹھا اور لاہور واپس چلا گیا۔
پھر مزمل کا یہ معمول بن گیا۔ وہ سارا دن اپنے کام کرتا۔ رات کو جلدی سو جاتا۔ رات کے دوسرے پہر اُٹھتا، اپنی گاڑی نکالتا اور گوجرانوالہ روانہ ہو جاتا۔ فجر کی نماز پڑھتا۔ سب نمازیوں کے جانے کے بعد مسجد سے نکلتا۔ وہ کھڑکی میں نور بانٹنے کے لیے کھڑی ہوتی۔ مزمل آنکھوں سے آنکھوں میں نور اُتارتا، پھر گردن جھکا کر واپس لاہور چلا جاتا۔
تین ماہ کا عرصہ گزر گیا۔ حکیم صاحب کو سب کچھ پتا چل گیا تھا۔ علاقے کے لوگوں کی تشویش بڑھ گئی۔ ایک دن علاقے کے لوگوں کو پتا چلا کہ سیٹھ مجیب کی بند پڑی فیکٹری مزمل بیگ نے خرید لی ہے۔ اعتراض ہونے کے بجائے عرضیاں ہونے لگیں۔ مزمل نے بند پڑی فیکٹری میں دوبارہ کام شروع کروا دیا۔ علاقے کے نوجوانوں کو روزگار مل گیا۔ مزمل کی علاقے میں لوگ عزت کرنے لگے۔ عزت کیوں نہ کرتے، وہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔
ایک سال گزر گیا۔ مزمل نماز پڑھ کر نکلتا وہ دیکھتی اور وہ گردن جھکا کر چلا جاتا۔ ایک بھی ناغہ نہ تھا دونوں اطراف سے۔ ایک دن حسبِ معمول سب نمازیوں کے جانے کے بعد مزمل اُٹھا تو حکیم صاحب نے اُسے روک لیا۔
بیگ صاحب۔۔۔! بیٹھ جائیں۔ حکیم صاحب نے شفقت سے کہا۔
آج آپ کو کھڑکی بند ملے گی۔ مزمل نے نظریں اُٹھا کر حکیم صاحب کی طرف دیکھا ۔ اُس کی نگاہوں میں کئی سوال تھے مگر وہ خاموش رہا۔ اُس نے دل میں سوچا
’’حکیم صاحب کو کس نے بتایا؟‘‘
بیگ صاحب۔۔۔! عشق اور مشک نہیں چھپتے۔۔۔! حکیم صاحب نے مزمل کے چہرے پر بکھری حیرت کو ختم کیا۔
’’ماہم بیٹی کا کل رات کو اپینڈس کا آپریشن ہوا تھا۔ وہ اس وقت ہسپتال میں ہے۔‘‘
مزمل کے چہرے پر حیرت کی جگہ پریشانی آن بیٹھی۔
وہ اب بالکل ٹھیک ہے مزمل بیٹا۔۔۔! تم فکر مت کرو۔ حکیم صاحب نے چہرے پر بیٹھی پریشانی اُٹھانے کی کوشش کی تھی۔
اُس کا آپریشن ہوا ہے؟‘‘ مزمل نے ہولے سے پھر پوچھا۔
’’مزمل بیٹا۔۔۔! تم میرے ساتھ آؤ۔ یہاں مسجد میں بات کرنا غیر مناسب ہے۔‘‘
ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد حکیم صاحب نے خود ہی بات شروع کی
بیگ صاحب سے مزمل بیٹا اور آپ سے تم تک میں خود ہی آگیا ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ تمھیں میری بات سمجھ آ جائے۔ ماہم اپنے تایا کے بیٹے ماجد کی منگیتر ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک بے جوڑ رشتہ ہے۔ ماسٹر محمود خود اس رشتے کے حق میں نہیں تھا اگر ماہم کا دادا یہ فیصلہ نہ سناتا تو یہ رشتہ کسی صورت نہیں ہو سکتا تھا۔ ماسٹر محمود اپنے باپ کا بہت ادب کرتا تھا۔ اس لیے اُس نے آمین کہہ دیا۔
یہی حال ماہم بیٹی کا بھی ہے۔ وہ اپنے باپ سے زیادہ اپنے باپ کا ادب کرتی ہے۔ ماجد ایک آوارہ اور بدچلن لڑکا ہے۔ ماسٹر محمود اور چوہدری مقصود کی مشترکہ زمین دو سو ایکڑ کے لگ بھگ ہے۔ جس کا کرتا دھرتا ماجد ہی ہے۔
ماسٹر محمود اور چوہدری مقصود چند سال پہلے جہلم سے واپس آرہے تھے۔ کار کا ایکسیڈینٹ ہو گیا۔ ماسٹر محمود اور ڈرائیور اُسی جگہ دم توڑ گئے۔ چوہدری مقصود پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اُس حادثے میں اُس کی دونوں ٹانگیں کٹ گئیں۔
ماجد اپنے گھر میں بڑا ہے۔ ادھر ماہم سب سے بڑی ہے۔ ماہم پڑھے لکھے باپ کی بیٹی ہے۔ ماہم خود بھی ایم اے، ایم ایڈ ہے جب کہ ماجد میٹرک فیل۔۔۔
مسجد کے سامنے جو اسکول ہے۔ یہ ماہم نے اپنے باپ سے کہہ کر بنوایا۔ اُسے گاؤں کا ماحول پسند نہیں تھا، اس لیے اپنا گھر بھی اسکول کے ساتھ ہی تعمیر کروا لیا۔ ایسے گھر عموماً پہاڑی علاقوں میں ہوتے ہیں مگر ماہم بیٹی کو ایسا گھر ہی پسند تھا۔
مہتاب خان پہلے سیٹھ مجیب کے پاس سیکورٹی گارڈ تھا۔ ماہم کے اسکول میں اُس کی بیٹیاں پڑھتی ہیں۔ فیکٹری بند ہونے کے بعد ماہم نے مہتاب خان کو اپنے پاس سیکورٹی گارڈ کی نوکری دے دی۔
دیکھو مزمل بیٹا۔۔۔! میری بات کافی لمبی ہو گئی۔ تمھاری شادی کسی صورت میں بھی ماہم سے نہیں ہو سکتی ۔ اس لیے تم کسی اور لڑکی سے شادی کر لو۔  حکیم صاحب نے ساری تفصیل بتانے کے بعد لگے ہاتھوں مزمل کو مشورہ بھی دے ڈالا۔
اُمید کو آگ لگانے سے اندھیرے ملتے ہیں۔ حکیم صاحب۔۔۔! اُمید پانی کی طرح ہوتی ہے جو کبھی بھی رحمت کے بادلوں سے برس سکتی ہے۔ میں آپ کی محبت، آپ کے خلوص کی قدر کرتا ہوں۔ میں یہ ساری باتیں مبشر کی شادی کے دوسرے دن سے جانتا ہوں۔ آپ کو یاد ہو گا جس دن میں نے یہاں عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کی تھیں اُس دن سے۔۔۔
اس بار حکیم صاحب ششدر تھے۔
بیٹا۔۔۔! اگر میں تنگ نظر ہوتا تو شاید تمھاری عبادت کو ہی منافقت قرار دے دیتا۔ تم لاہور سے یہاں نماز پڑھنے آتے ہو یا اُسے دیکھنے؟ حکیم صاحب نے مزمل بیگ کے ماتھے کے اوپر پڑے محراب کو دیکھ کر سوال کیا۔
نماز تو میں فرض ہونے کے بعد سے پڑھ رہا ہوں۔ مجھ میں بے شمار بُرائیاں ہیں مگر نماز میں نے کبھی نہیں چھوڑی۔
مزمل بات کرتے کرتے خاموش ہو گیا۔ حکیم صاحب کو ابھی تک اپنے سوال کا جواب نہیں ملا تھا۔ وہ مزمل کے جھکے ہوئے چہرے کو دیکھ رہے تھے۔ کچھ دیر دونوں اطراف سے خاموشی رہی۔ مزمل کچھ کہنا چاہ رہا تھا آخر اُس نے کہہ دیا
حکیم صاحب۔۔۔! میں ایک سال کا تھا میرے ماں باپ میں طلاق ہو گئی، میرے باپ نے طلاق کے بعد دوسری شادی کر لی۔ میری ماں نے بھی بڑی مشکل سے عدت کے دن گزارے تھے۔ اگر میری نانی زندہ نہ ہوتیں تو شاید میری ماں عدت بھی پوری نہ کرتی۔ میری ماں کے دوسرے شوہر کی صر ف ایک ہی شرط تھی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے جو میری ماں نے خوشی خوشی مان لی۔
میری ماں فارن چلی گئی اپنے شوہر کے ساتھ اور میرا باپ اسلام آباد سیٹل ہو گیا اپنی دوسری بیوی کے ساتھ۔ میری نانی بہت مذہبی تھیں۔ انھوں نے میری تربیت کی۔ میری ماں اکلوتی تھی۔ نانا نے الگ سے کافی کچھ نانی کے نام کروایا تھا۔ وہ سب کچھ نانی نے میرے نام کر دیا تھا۔ دو سال پہلے نانی کی بھی ڈیتھ ہو گئی۔ اب میں اکیلا رہتا ہوں۔
مزمل بیٹا۔۔۔! یہ سب کچھ میں پہلے سے جانتا ہوں پھر بھی تمھاری کہانی سن کر افسوس ہوا مگر یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔ حکیم صاحب مزمل کی روداد سن کر بھی اپنا سوال نہیں بھولے۔
آپ یہ سب کچھ کیسے جانتے ہیں؟‘‘ مزمل نے حیرانی سے پوچھا۔
’’سب کچھ بتاؤں گا پہلے تم میرے سوال کا جواب دو۔‘‘
حکیم صاحب۔۔۔! آپ نے کافی مشکل سوال پوچھ لیا ہے۔ جب میں لاہور سے نکلتا ہوں تو میں نے نماز کے خیال سے ہی مسجد کی طرف جاتا ہوں۔ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے۔ جب میں مسجد کی سیڑھیاں چڑھتا ہوں تو مجھے کبھی اُس کا خیال نہیں آیا۔ ہاں۔۔۔! اُترتے وقت میری نظر اُٹھ جاتی ہے۔ جس پر میرا اختیار نہیں ہوتا۔ میں روز خود سے عہد کرتا ہوں اور روز ہی توڑ دیتا ہوں۔میری نظر صرف چند سیکنڈ کے لیے اُٹھتی ہے۔ آپ کو کیسے خبر ہو گئی کیا اور لوگوں کو بھی۔۔۔؟ مزمل مسلسل حیران تھا حکیم صاحب اُس کے ماضی اور حال سے باخبر تھے۔
نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ بیٹا۔۔۔! میرے علاوہ کسی کو خبر نہیں۔ چھوٹے قصبوں، دیہاتوں میں نائی، دائی اور حکیم سے کم ہی باتیں چھپتی ہیں۔ دیہاتوں میں لوگ اب بھی اکٹھے بیٹھتے ہیں۔ یہاں سب کو سب کی خبر ہوتی ہے۔
میری دُکان پر سارا دن عورتیں ایک دوسری کی چغلیاں کرتی ہیں، خبریں سناتی ہیں۔ لاکھ دفعہ منع کیا مگر بے سود۔۔۔ مزمل بیٹا۔۔۔! اچھی باتیں خوش بو کی طرح پھیلتی ہیں اور بُری باتیں بدبو کی طرح پھیلتی ہیں۔
پھیلتی دونوں ہیں بیٹا۔۔۔! بڑی بات کہنا آسان ہے عمل کرنا مشکل بلکہ بہت ہی مشکل۔ کیا کہا تھا تم  نے؟ اُمید پانی کی طرح ہوتی ہے جو کبھی بھی رحمت کے بادلوں سے برس سکتی ہے۔ تمھارے منہ سے بڑی بات سن کر اچھا لگا۔ اب میری بھی ایک بات یاد رکھو۔۔۔! آم اور عشق جل کر ہی پکتا ہے۔ حکیم صاحب نے تفصیل سے سمجھایا تھا جو کہ مزمل کے مزاج کے برعکس تھا اُس نے کچھ خفگی سے کہا
حکیم صاحب۔۔۔! نہ تو میں آپ کا مرید ہوں اور نہ ہی مریض۔ میں تو بزنس مین ہوں۔ یہ عشق وشق پر میرا تو یقین نہیں ہے۔ میرے پیرنٹس بھی ایک دوسرے سے عشق کرتے تھے۔ میں اُن دونوں کے عشق کی راکھ ہوں۔
اُمید کی بات کرتے ہو اور خود کو راکھ بھی کہتے ہو۔ بیٹا۔۔۔! اگر کہنا ہی ہے تو راکھ کی بجائے خاک کہہ لو۔ راکھ میں مایوسی ہے اور خاک میں عاجزی۔ عشق عاجزی کے راستے کا ہی مسافر ہے۔ اس بار حکیم صاحب نے قدرے شگفتگی سے سمجھایا۔
حکیم صاحب۔۔۔! پتا نہیں کیوں اپنی نانی کے بعد میرا دل چاہ رہا ہے کہ آپ سے سب کچھ کہہ دوں جو میرے دل میں ہے۔ مزمل کو کچھ اپنائیت کا احساس ہوا تھا حکیم صاحب کی حلیمی کی وجہ سے۔ حکیم صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ امڈ آئی۔
تم کہہ سکتے ہو، میں تمھارا اپنا ہوں کوئی غیر نہیں۔ اسی لیے میں نے تمھیں بیگ صاحب کی بجائے بیٹا کہا تھا۔ تم سب کچھ کہہ دو۔ میں سن رہا ہوں۔
مجھے نفرت ہے۔۔۔ شدید نفرت۔۔۔ اپنے والدین سے۔۔۔ وہ دونوں اپنی اپنی زندگیوں میں خوش ہیں۔ اگر میری نانی نہ ہوتی تو۔۔۔۔۔ مزمل کی آنکھیں سرخ اور اُس کی رگیں تن گئیں۔
اُن کے ہونے نا ہونے سے نو پرافٹ۔۔۔ نو لوس۔۔۔‘‘
حکیم صاحب نے مزمل کو ایک گلاس پانی دیا
’’یہ پی لو مزمل بیٹا۔۔۔!
مزمل نے غٹاغٹ پانی پی لیا۔
’’کتنے خودغرض تھے وہ دونوں۔‘‘
مزمل بیٹا۔۔۔! تم واقعی اچھے بزنس مین ہو۔ رشتے فائدے اور نقصان سے ماورا ہوتے ہیں۔ تم رشتوں کو بھی فائدے اور نقصان کی طرح دیکھ رہے ہو۔ ماہم کی سوچ تم سے مختلف ہے۔ کل دوپہر کو مریم بہن آئی تھی میرے پاس۔ ماہم کے پیٹ میں درد تھا۔ میں گھر چلا گیا۔ میں نے مریم بہن سے کہا آپ نیم گرم پانی لے کر آئیں۔ وہ پانی لینے چلی گئیں۔ میں نے ماہم سے پوچھا
بیٹی۔۔۔! کہو تو میں تمھارے تایا سے بات کروں کہ وہ ماجد کی دُوسری جگہ شادی کر دیں اور تمھاری۔۔۔ اُس لڑکے سے۔۔۔
حکیم چاچا۔۔۔! محبت کی چھری سے عشق کا گلا نہیں کاٹا جاتا۔ پتا نہیں یہ کیا ہے۔ مجھے اُسے دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ مجھے اُس کا انتظار بھی رہتا ہے۔ جب وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے میں تب بھی اُسے دیکھ رہی ہوتی ہوں مگر اُس نے کبھی نظر نہیں اُٹھائی۔ میں کھڑکی میں کھڑے رہ کر نماز ختم ہونے کا انتظار کرتی رہتی ہوں۔ جب وہ باہر آتا ہے صرف اِک نظر وہ مجھے دیکھتا ہے اُس کے بعد نظریں جھکا کر چلا جاتا ہے۔میں نے خود ہی اپنی اس بے وقوفی کو محبت کا نام دے دیا ہے۔
بھائی صاحب۔۔۔! یہ لیں نیم گرم پانی۔۔۔‘‘ وہ اپنی ماں کی آواز پر خاموش ہو گئی تھی۔
میں آپ کے لیے چائے لے کر آتی ہوں۔‘‘ مریم بہن نے جاتے ہوئے کہا تھا۔ ماہم گردن جھکائے بیٹھی رہی۔
’’ماہم بیٹی۔۔۔! تم مجھے اپنا باپ سمجھ کر بات کر سکتی ہو۔‘‘
حکیم چاچا۔۔۔! میں آپ کو ابو کی جگہ سمجھتی ہوں اسی لیے وہ بات کہہ رہی ہوں جو میں نے امی سے بھی نہیں کہی۔ مجھے مزمل سے محبت ہے مگر اپنے ماں باپ سے عشق ہے۔۔۔ سب سے بڑے عاشق تو ماں باپ ہی ہوتے ہیں۔۔۔ جو اپنی اولاد کی خاطر ہنستے مسکراتے ساری تکالیف سہہ جاتے ہیں۔۔۔ والدین سے بڑا عاشق تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔
’’ماہم بیٹی۔۔۔! یہ عشق ہے کیا؟‘‘
میں ماہم کو سمجھنا چاہتا تھا۔
حکیم چاچا۔۔۔! عشق کے بارے میں کیا کہہ سکتی ہوں۔ میری رائے ہے عشق تو صرف ماں باپ کرتے ہیں اپنے بچوں سے۔ اللہ میاں جب اولاد کی نعمت دیتا ہے تو ساتھ ہی والدین کے سینوں پر عشق کا نزول بھی ہو جاتا ہے۔ عشق عطائی ہے۔۔۔ اور محبت حکمی۔۔۔ اللہ میاں والدین کو اولاد سے محبت کا حکم نہیں دیتا کیوں کہ وہ تو عطا کر چکا ہوتا ہے۔ ہاں اولاد کو محبت کا حکم ضرور دیتا ہے۔ میں حکم ماننے والوں میں سے ہوں۔
’’ماہم بیٹی۔۔! ایسے والدین بھی ہیں جو اپنے بچوں سے عشق نہیں کرتے۔‘‘
’’حکیم چاچا۔۔۔! میں نے تو آج تک ایسے والدین نہیں دیکھے۔‘‘
ماہم بیٹی۔۔۔! تمھارے نہ دیکھنے سے حقیقت تو نہیں بدل سکتی۔ ایسے والدین بھی ہیں۔ اُن میں سے چند ایک کو میں بھی جانتا ہوں۔
بھائی صاحب۔۔۔! آپ کی چائے۔۔۔! مریم بہن نے چائے میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
’’بھائی صاحب۔۔۔! آپ کی پھکی نے تو کمال کر دیا ہے۔ ماہم تو بالکل ٹھیک ہو گئی ہے۔‘‘
’’مریم بہن۔۔۔! یہ پیٹ کا درد نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے یہ اپینڈس کا درد ہے۔ آپ اسے ہسپتال لے جائیں۔‘‘
میں مومنہ کو ابھی کہتی ہوں کہ وہ اپنے تایا جی کو فون کر دے کہ ماجد کو بھیج دیں۔ مریم بہن یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی تھی۔
’’حکیم چاچا۔۔۔! واقعی سچ میں ایسے ماں باپ بھی ہوتے ہیں جو اپنی اولاد سے عشق نہیں کرتے؟‘‘
ماہم بیٹی۔۔۔! عشق کہہ لو یا پھر محبت۔ والدین کے دلوں میں اولاد کی محبت اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہی ڈالتا ہے۔ یہ صحیح کہا تھا تم  نے۔ اس میں انسان کا کیا کمال ہے یہ تو میرے مولا کی ہی دین ہے۔ ہاں۔۔۔! اگر اولاد اپنے ماں باپ سے تمھارے جیسی محبت کرے یہ بڑی بات ہے۔ اُف کے بغیر۔۔۔ محبت اور ادب۔۔۔
پھر بھی ایسے والدین ہوتے ہیں؟ ماہم حیرت سے بولی۔
ہاں۔۔۔ کچھ بدبخت اس جذبے سے زیادہ اپنی خواہشات کو اہمیت دیتے ہیں۔ اولاد کو چھوڑ کر اپنی خواہشوں، حسرتوں، حرصوں کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔
حکیم صاحب۔۔۔! آپ بھی کسی ایسے انسان کو جانتے ہیں جس نے اپنی اولاد کو چھوڑ دیا ہو؟ مزمل نے عجلت میں پوچھا۔
’’ہاں بیٹا۔۔۔! جانتا ہوں۔ مدثر، مدیحہ، ماریہ اور معید۔‘‘
مزمل  نے حکیم صاحب کے منہ سے چار نام سنے تو اُس کے چہرے کی رنگت بدل گئی۔ اُس کا رخسار سرخ پڑ گیا تھا۔ اسی دوران حکیم صاحب کو کسی  نے فون کیا کہ مریض کی حالت بہت خراب ہے۔ فوراً آئیں۔
مزمل بیٹا۔۔۔! تم بیٹھو۔۔۔ مناہل بیٹی گھر پر ہے۔ تم اُس سے گپ شپ لگاؤ۔ میں آدھے گھنٹے تک آتا ہوں۔ معراج  کے گاؤں تک جانا ہے۔ حکیم صاحب نے کہا اور بیٹھک سے چلے گئے۔
مزمل کا دماغ ماؤف تھا۔ اُس نے ہاتھ اپنی کنپٹیوں پر رکھے۔ وہ گردن جھکائے بیٹھا ہوا تھا۔ حکیم صاحب کے جانے کے بعد مناہل بیٹھک میں آئی۔ اُس نے ناشتے کے برتن اُٹھائے، میز صاف کی۔ وہ مسلسل مزمل کو ٹکٹکی باندھے پرکھتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ مزمل کا چہرہ فق تھا۔
مناہل شش وپنج میں مبتلا تھی کہ اس صورتِ حال میں مزمل کو مخاطب کرے یا نہیں۔ اُس وقت وہ دونوں متضاد کیفیات میں مبتلا تھے۔ جہاں مناہل کے چہرے پر سکون اور اطمینان تھا، وہیں مزمل کے چہرے پر کرب تھا۔ مناہل کے ہونٹوں پر میٹھی مسکراہٹ تھی تو مزمل کے ماتھے پر کڑوی شکنیں۔ مناہل کے لیے مزمل خاص الخاص تھا۔ دوسری طرف مزمل مناہل کی موجودگی سے بھی بے خبر تھا۔
مزمل۔۔۔! آپ کے لیے چائے  لے آؤں یا پھر تایا ابو کا انتظار کریں گے؟ مناہل نے احتراماً پوچھا۔ مزمل نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے مناہل کی طرف دیکھا۔ مزمل کرب کی وادی سے لوٹا تھا۔ اُس کے سامنے مناہل کھڑی تھی۔ ہونٹوں پر مسکان سجائے ہوئے۔
تم۔۔۔! مزمل نے تندوتیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں۔۔۔ میں۔۔۔! مناہل معید انصاری۔‘‘ اس بار مناہل نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
مزمل نے معید انصاری سنا تو اُس کا غصہ کم ہونے کی بجائے بڑھ گیا۔ وہ اُٹھا جانے کے لیے۔
’’مزمل۔۔۔! رُکیں۔۔۔! مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔‘‘
مزمل اپنی جگہ سے اُٹھ گیا تھا۔ وہ بیٹھنے کی بجائے وہیں کھڑا رہا۔
مدثر، ماریہ، مدیحہ اور معید یہ میری زندگی کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں۔ میں نے ان چاروں کو معاف کر دیا ہے۔ آپ بھی کر دیں۔ مناہل ایسے بول رہی تھی جیسے کوئی بڑی بات نہ ہو۔
میں آپ سے اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ وہ پھر کبھی۔ میرے پاس آپ کا موبائل نمبر ہے۔ مسرت کی شادی والے دن سے میں فون کی بجائے آپ سے مل کر بات کرنا چاہتی تھی۔
میں چلتا ہوں۔ مزمل نے روکھے انداز میں کہا۔ اُس کے لیے مناہل کی کوئی بھی بات اہم نہیں تھی۔
’’آپ کو فون یا میسج کر سکتی ہوں؟ مناہل نے مزمل کی پشت کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’ایک شرط پر۔۔۔ تم اُن چاروں کا ذکر دوبارہ نہیں کرو گی۔‘‘
’’آپ میری بات سے ہرٹ ہوئے ہیں۔ سوری مزمل۔۔۔! ڈونٹ وری میں اُن کا ذکر دوبارہ نہیں کروں گی۔‘‘
مزمل حکیم صاحب کے گھر سے چلا گیا۔ باہر سردی بھی تھی اور دُھند بھی۔ مزمل نے مسجد کی سیڑھیوں کے پاس سے گزرتے ہوئے گردن اُٹھا کر کھڑکی کی طرف دیکھا جو بند تھی۔ مناہل بیٹھک کی کھڑکی سے بند کھڑکی اور بے نور آنکھوں کو دیکھ رہی تھی۔ وہ بے نور آنکھیں مزمل کی تھیں اور بند کھڑکی ماہم کی۔
یہ کیوں اُن چاروں کو معاف نہیں کر دیتا کب تک خود سے لڑتا رہے گا۔ مناہل نے خودکلامی کی۔
’’کاش۔۔۔! مز مل کو بھی تایا ابو جیسا کوئی ملا ہوتا۔‘‘
حکیم مسلم انصاری بھی محبت کرنے والا شخص تھا۔ مناہل چند ماہ کی تھی جب حکیم صاحب کی بیوی مہوش نے اُس کی پرورش کی ذمے داری اُٹھائی۔ حکیم صاحب کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اُنھوں نے مناہل کو اپنی اولاد ہی سمجھا تھا۔ دو سال پہلے حکیم صاحب کی بیوی مہوش کا انتقال ہو گیا۔
محبت بڑے مہنگے داموں ملتی ہے اور موت مفت میں۔ وہ خیال کی آنکھ سے اپنی نانی کو کہتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ مزمل کا سر تکیے پر تھا اور جسم بستر پر مگر وہ وہاں نہیں تھا۔
زندگی جینے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور موت ہمیشہ بغیر مشقت کے آپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
ماہم نے مناہل کو جواب دیا جو اُس کی تیمارداری کے لیے آئی تھی۔
یعنی تم یہ کہہ رہی لائف کلوز ونڈو کے دوسری طرف ہے اور ڈیتھ روم کے اندر آپ کے سامنے۔ مناہل نے بند کھڑکی کی طرف دیکھ کر کہا۔
نہیں۔۔۔ میری زندگی تو کھڑکی سے نیچے مسجد کے زینوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ مجھے جینے کی اُمید دلاتی ہے اور چوبیس گھنٹوں کے لیے غائب ہو جاتی ہے۔ میں اگلے چوبیس گھنٹے اُس لمحے کے انتظار میں گزار دیتی ہوں۔
ماہم وال کلاک کی طرف دیکھ کر اپنے دل کا حال بتا رہی تھی۔
مناہل۔۔۔! میری زندگی آٹھ گھنٹے بعد مسجد کے زینوں پر کھڑی ملے گی۔ پھر مجھے اگلے چوبیس گھنٹوں کے لیے آکسیجن مہیا کر کے چلی جائے گی۔ ماہم نے ٹھنڈی سانس بھری جو اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اور مناہل اُس کے سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی۔
مناہل۔۔۔! تمھیں یاد ہو گا جب تم نے مجھے گاڑی سے اُترتے ہوئے مزمل بیگ کے متعلق بتایا تھا۔ میں نے اُسے دیکھا اُسی لمحے اُسے دل دے بیٹھی۔ پتا نہیں اُس میں کیا خاص بات تھی۔ شادی کی تقریب کے دوران میں اُسے ہی دیکھتی رہی۔
آج صبح وہ ہمارے گھر آیا تھا تایا ابو کے ساتھ۔ میری اُس سے بات بھی ہوئی تھی۔ اُس نے ناشتا بھی ہماری طرف ہی کیا۔‘‘ مناہل نے یہ بتایا ہی تھا ماہم کے جسم میں بجلی دوڑ گئی۔ وہ درد کے باوجود اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’کیا بات ہوئی تھی؟‘‘ ماہم نے بے تابی سے پوچھا۔
’’نتھنگ اسپیشل۔۔۔! دراصل ہم دونوں کا ایک پرانا رشتہ ہے۔‘‘
’’کیسا رشتہ؟‘‘ اِس بار ماہم نے تشویش سے پوچھا۔
’’وہ پھر کبھی بتاؤں گی۔۔۔ میرے پاس اُس کا نمبر ہے۔۔۔ بات کرو گی۔۔۔ ملاؤں نمبر؟‘‘
نہیں۔۔۔ماہم نے دو ٹوک کہہ دیا۔
ماہم۔۔۔! بات کرنے سے ریلشن مضبوط ہوتے ہیں۔‘‘ مناہل نے جانچتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بتایا۔ ماہم کے ہونٹوں پر میٹھی سی مسکراہٹ اُبھری۔
’’تو کیا گونگے بہروں میں رشتے مضبوط نہیں ہوتے؟
مناہل۔۔۔! میری جان۔۔۔! خاموشی کی بھی ایک زبان ہوتی ہے۔
ماہم۔۔۔! مائی ڈئیر۔۔۔! تم تو زبان رکھتی ہوپھر یہ ڈم اینڈ ڈف سی محبت کیوں؟ میں نمبر ملاتی ہوں اُسے سب کچھ کہہ دو جو تمھارے دل میں ہے۔
جب میں اُسے دیکھتی ہوں تو نظروں ہی نظروں میں میرے دل کی ہر بات اُس کے دل میں اُتر جاتی ہے۔‘‘ ماہم نے یقینِ کامل سے جواب دیا تھا۔ مناہل نے سُنا تو ہلکا سا قہقہہ لگایا۔
’’مجھے تو تم جولیٹ جیسی لگ رہی ہو۔ مزمل کی خبر لیتی ہوں وہ رومیو ہے کہ نہیں؟
مناہل نے یہ کہا اور مزمل کا نمبر ملا دیا۔ بیپ ہو رہی تھی۔ مناہل نے موبائل کا اسپیکر اوپن کر دیا۔
ہیلو۔۔۔! مزمل نے کال ریسیو کی۔
’’مزمل۔۔۔! میں مناہل بات کر رہی ہوں۔‘‘
’’مناہل کون؟‘‘
مناہل انصاری۔ مناہل نے ’’انصاری‘‘ پر زور دے کر کہا۔
جی مناہل۔۔۔! فرمائیں۔۔۔! مزمل نے بے تاثر لہجے میں پوچھا۔
میں ماہم کے پاس گئی تھی اُس کی طبیعت کا پوچھنے کے لیے۔ مناہل نے اتنا کہا اور خاموش ہو گئی۔
دوسری طرف سے بھی خاموشی ہی تھی۔
’’مزمل۔۔۔! ہیلو مزمل۔۔۔! آپ سن رہے ہیں؟ میں ماہم کے پاس گئی تھی۔‘‘
’’وہ میں جان چکا ہوں، آپ ماہم کے پاس گئی تھیں۔‘‘
اُس کی خیریت نہیں پوچھیں گے؟ مناہل نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
’’آپ تو ایسے ریلکس ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ یو نو، ماہم کا آپریشن ہوا ہے۔‘‘
مناہل۔۔۔! آئی نو، ماہم کا آپریشن ہوا ہے۔ مزمل نے بے فکری سے جواب دیا۔
میں کنفیوز ہوں۔ یہ کیسی محبت ہے؟ مناہل نے حیرانی کے ساتھ ہلکا سا طنز بھی کیا۔
مناہل۔۔۔! سوری ٹو سے، میں نے آپ سے کب کہا کہ میں ماہم سے محبت کرتا ہوں اور جہاں تک اُس کی طبیعت کے پوچھنے کا سوال ہے مجھے پتا ہے وہ اب بالکل ٹھیک ہیں۔ آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
آپ کو کس نے بتایا؟ مناہل نے جلدی سے پوچھا ماہم کی طرف دیکھتے ہوئے جانچتی نظروں سے۔
’’بتایا تو کسی نے نہیں۔ بس میرا دل مطمئن ہے۔ مناہل بی بی میں کچھ مصروف ہوں مزید بات نہیں کر سکتا۔‘‘
ماہم کی اگلے مہینے شادی ہے۔ مناہل نے جلدی سے بڑی خبر دی۔
بریکنگ نیوز کا شکریہ۔۔۔ میں جانتا ہوں۔ مزمل نے سنجیدگی سے کہا اور فون بند کر دیا۔
مناہل نے ماہم کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر بھی اطمینان تھا۔
انگیجمنٹ رنگ تم نے ماجد کی پہنی ہے اور کمٹمنٹ مزمل سے۔۔۔ مناہل نے قدرے خفگی سے کہا۔ اُتنی ہی نرمی سے ماہم نے جواب دیا
مناہل۔۔۔! نہ تو میں نے اپنی مرضی سے منگنی کی انگوٹھی پہنی ہے اور نہ ہی کسی سے محبت کے وعدے کیے ہیں، یہ بھی سچ ہے کہ مجھے مزمل سے محبت ہو گئی ہے۔ میں شادی سے انکار کروں گی اور نہ ہی اپنی محبت کا اظہار۔ جو قسمت میں لکھا ہو گا، ہو جائے گا۔
مناہل باجی۔۔۔! حکیم چاچا آپ کو لینے آئے ہیں۔ ماہم کی چھوٹی بہن مومنہ نے آ کر اطلاع دی۔
مناہل اپنے بستر پر لیٹی ہوئی مزمل اور ماہم کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ اُن دونوں کے تصور میں گم تھی۔ خیالوں ہی خیالوں میں خود سے باتیں کر رہی تھی
مزمل کبھی بھی ماہم کا نہیں ہو سکتا، ماجد یہ کبھی نہیں ہونے دے گا۔ ماہم میری دوست ہے۔ میں اُس کے ساتھ تو ہوں مگر میں کیا کر سکتی ہوں؟ میں مزمل کو بتا دیتی ہوں کہ ماجد کتنا خطرناک آدمی ہے۔
مناہل بیٹی۔۔۔! دودھ پی لو۔ حکیم صاحب پاس کھڑے ہوئے مخاطب تھے۔ مناہل نے جلدی سے اپنی چادر سر پر لی اور اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ خیالوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا تھا۔
معاف کرنا بیٹی۔۔۔! دروازہ کھلا تھا میں بغیر دستک دیے اندر آ گیا۔ حکیم صاحب نے مناہل کی بوکھلاہٹ دیکھ کر کہا۔
تایا ابو۔۔۔! میں خود لے لیتی آپ نے کیوں تکلیف کی؟ مناہل نے خود کو نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
مناہل بیٹی۔۔۔! بڑوں کی بات، آملہ اور ہڑیڑ کھانے کا اثر ہمیشہ بعد میں پتا چلتا ہے۔۔۔ میں نے کہا تھا نا مزمل کا یہاں آنا ٹھیک نہیں ہے۔ ہڑیڑ کی طرح حقیقت بھی اکثر کڑوی ہوتی ہے۔
مجھے پتا ہے تم یہ چاہتی ہو کہ ماہم اور مزمل کی شادی جیسے بھی ہو بس ہو جائے۔ غلط تو غلط ہے۔ مناہل۔۔۔! تم نے ثابت کرنا ہے کہ تم حکیم مسلم انصاری کی بیٹی ہو۔ معید انصاری کی نہیں۔۔۔ پیٹ درد کی پھکی تو میرے پاس ہے۔ تم کھا لو یا پھر تمھاری سہیلی ۔ بیٹی دل کے درد کی پھکی میں لاکھ کوششوں کے باوجود نہیں بنا سکا۔ ماہم میرے مرحوم دوست ماسٹر محمود کی بیٹی ہے اور تمھاری سہیلی بھی۔ دوسری طرف مزمل بھی اپنا بچہ ہے۔
کچھ فیصلے وقت کرتا ہے، تم بھی انتظار کرو اگلے مہینے تک۔۔۔ اگلے مہینے کی اکیس تاریخ طے پائی ہے۔ حکیم صاحب نے شفقت سے ہاتھ پھیرا مناہل کے سر پر اور کمرے سے چلے گئے۔ مناہل کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھا اور اُس کی یاد میں بارات والا دن۔
مزمل جب مسجد کی سیڑھیاں اُتر رہا تھا، حکیم صاحب نے ماہم کو کھڑکی میں کھڑے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ اُس کے بعد مزمل کے پیچھے شادی ہال تک جاتے ہوئے بھی۔ پھر ماہم ہجوم میں سب سے پیچھے کھڑی ہو گئی تھی۔ حکیم صاحب نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا گھر آ کر اُنھوں نے مناہل کو سمجھایا۔
مناہل بیٹی۔۔۔! تم جانتی ہو وہ لڑکا کون ہے؟ وہ مزمل بیگ ہے تمھارے باپ معید انصاری کی دوسری بیوی ماریہ کا بیٹا اور تمھاری ماں کے دوسرے خاوند مدثر بیگ کا بھی۔ مناہل بیٹی مجھے فخر ہے تم پر۔
تم نے اپنے ماں باپ کو معاف بھی کر دیا اور اپنی محرومی کا طوق بھی اپنے گلے سے اُتار دیا ہے مگر مزمل کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ دُعا کرو ماہم اور مزمل ایک دوسرے سے دُور رہیں۔‘‘
’’تایا ابو۔۔۔! دادو نے بتایا تھا مزمل کو شادی ہی سے نفرت ہے۔‘‘
مزمل بیٹا۔۔۔! پتا نہیں موت کب آ جائے۔ یہ میری ساری پراپرٹی کے کاغذات ہیں، جو میں نے تمھارے نام کر دی ہے۔ زندگی کے بعد۔۔۔ موت سے پہلے یہ تھوڑا سا وقت ہے میرے پاس۔ میرے سینے میں چند راز ہیں جو میں تمھیں بتانا چاہتی ہوں۔‘‘ ممتاز بیگم اپنے آخری وقت میں اپنے نواسے مزمل بیگ سے مخاطب تھی۔
میری سب سے بڑی بہن میمونہ آپا کے بیٹے مسلم انصاری اور معید انصاری ہیں۔ معید انصاری تمھارے باپ مدثر بیگ کا سب سے قریبی دوست بھی تھا۔ دونوں نے لڑجھگڑ کر اپنی اپنی پسند سے شادی کی تھی۔ ماریہ تمھاری ماں نے معید کو شادی کے بعد دیکھا تھا، اُسے بعد میں پتا چلا تھا کہ معید اُس کے شوہر کا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اُس کی خالہ کا بیٹا بھی ہے۔ ایک دن تمھاری ماں مجھے کہنے لگی
ممی۔۔۔! آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں معید میری خالہ کا بیٹا ہے۔ اتنا ہینڈسم اور سمارٹ بندہ وہ مدیحہ جیسی کے ساتھ میچ نہیں کرتا۔ اگر میں نے اُسے پہلے دیکھا ہوتا تو مدثر کی بجائے معید انصاری سے شادی کرتی۔
دوسری طرف تمھارے باپ کی نظر مدیحہ پر تھی۔ چاروں کے دل میں چور تھا۔ وہ سب روزانہ ملتے، گھنٹوں باتیں کرتے۔ دونوں شادیوں کو ایک ایک سال گزر گیا تھا۔ تمھاری ماں اور مدیحہ دونوں مائیں بننے والی تھیں۔ بڑی مشکل سے دونوں نے اپنے اپنے بچوں کی پیدائش کا انتظار کیا۔
تمھاری ماں کی عدت تو بڑی مشکل سے میں نے پوری کروا دی تھی۔ اُس بے غیرت مدیحہ کا پتا نہیں اُس نے عدت بھی پوری کی یا نہیں۔ مزمل بیٹا۔۔۔! مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی۔ اُن چاروں میں سے بڑا بے شرم اور بے غیرت کون تھا۔ تمہاری ماں کے کینیڈا جانے کے چند دن بعد میرا بڑا بھانجا حکیم مسلم انصاری مجھ سے اپنے چھوٹے بھائی معید انصاری کی اس حرکت پر معافی مانگنے آیا تھا۔
خیال کے جانے کے بعد مزمل کی زبان پر ایک نام رہ گیا ’’حکیم مسلم انصاری‘‘ مزمل نے منہ میں کہا اور اپنے بستر سے اُٹھ گیا۔ کمرے سے ٹیرس پر آ گیا۔
مجھے پہلے کیوں نہیں خیال آیا کہ یہ حکیم مسلم انصاری وہی حکیم مسلم انصاری ہیں۔
مزمل نے دائیں ہاتھ کا مکا بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر مارا تھا۔ صبح کے چار بجنے والے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب مزمل گوجرانوالہ کے لیے نکلتا تھا۔
جاؤں یا نہ جاؤں۔۔۔؟ وہ خود سے پوچھ رہا تھا۔ دماغ اور دل کی بحث کے بعد اُس نے دل کی بات مان لی۔
اس سب میں حکیم صاحب کا تو کوئی قصور نہیں۔ مزمل کے دل نے اُسے بتایا۔
قصوروار تو وہ چاروں ہیں جنہوں نے میری اور مناہل کی زندگیاں برباد کر دیں ہیں۔
دماغ  نے بھی دل کی بات کی تصدیق کر دی۔ پہلی بار مزمل کے دل میں مناہل کے لیے ہمدردی جاگی تھی۔ اُسے لگا وہ بھی اُس جیسی ہے مگر اُس سے بہت مضبوط۔ وہ اپنے ماضی نے نکل کر حال میں جیتی ہے۔ مزمل نے گاڑی کی چابی پکڑی اور گوجرانوالہ روانہ ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد اُس نے ماہم کی صحت یابی کی دُعا مانگی اور یہ دُعا بھی مانگی
’’یااللہ۔۔۔! مناہل کے دل کی مرادیں پوری کر دے۔‘‘
یااللہ۔۔۔! ماہم کو مزمل کے نصیب میں لکھ دے۔‘‘ مناہل نے منہ پر ہاتھ پھیرے اور بھاگ کر بیٹھک کی کھڑکی کی طرف آئی جہاں وہ ایک سال سے ماہم اور مزمل کی خاموش محبت کو دیکھ رہی تھی۔
مزمل نے مسجد سے باہر قدم نکالے ہی تھے اُس کی نظریں خودبہ خود بے قرار ہو کر اُٹھ گئیں۔ سامنے کھڑکی میں ماہم کھڑی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں نور کے ساتھ ساتھ اُلفت، بے قراری، فکر تھی پھر بھی اُس دن پہلی بار ماہم کے ہونٹوں پر تبسم بھی تھا۔
وہ تبسم مناہل نے بھی دیکھا۔ ماہم روز مزمل کی آنکھوں میں دیکھتی اور مناہل کو صرف اُس کی پشت ہی نظر آتی۔ اُس دن بھی اُسے مزمل کی پشت ہی نظر آرہی تھی۔ مزمل گاڑی میں بیٹھا ہوا لاہور واپس جا رہا تھا۔ پہلی بار اُسے واپسی پر ماہم کے علاوہ کسی اور کا بھی خیال آیا تھا۔ اُس نے موبائل پکڑا اور ایک میسج کر دیا۔
موبائل اُس کے ہاتھ میں ہی تھا ’’میم‘‘ کے نام سے اُس نے جو نمبر سیو کیا تھا اُس سے میسج آیا تھا
’’سوری۔۔۔ مناہل۔‘‘
میسج میں صرف دو لفظ تھے۔مناہل کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ مزمل نے اُسے میسج کیا۔
اِٹس اوکے۔ مناہل نے بھی دو لفظوں کا ہی سہارا لیا۔
مناہل اُسی دن رات آٹھ بجے کے لگ بھگ ماہم کی طرف گئی۔ مناہل کو ماہم اور مزمل کی فکر ہو رہی تھی۔
مناہل۔۔۔! ایک بات بتاؤ۔۔۔! تمھیں کیوں اتنی فکر ہے میری اور اپنے رشتے دار کی؟
ماہم نے جانچتی نظروں سے مناہل کو کریدا تھا۔
کیوں ہے فکر؟ ایک کفارہ ہے۔۔۔ اور دوسرا احسان۔ مناہل نے کھوئے ہوئے جواب دیا۔
’’دوستی میں کوئی احسان نہیں ہوتا۔ ماہم نے غور سے مناہل کو دیکھا۔
ٹھیک کہا تم نے۔ میں تو صرف کوشش کر رہی ہوں، جو تم نے میرے لیے کی تھی۔ میں تو تایا ابو سے شاید بات بھی نہ کر سکتی۔ تم نے اُنہیں راضی کر لیا تھا۔ مجھے تو خواب ہی لگتا ہے کہ میرا نکاح ہو گیا۔ وہ بھی اُس سے جسے میں نے چاہا۔
مجتبیٰ بھائی سے بات ہوتی ہے؟ ماہم نے پوچھا۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے اُن کا فون آیا تھا۔ کہہ رہے تھے جلدی جلدی انگریزی بولنا سیکھ لو۔ جلد ہی میں تمھیں بلا لوں گا۔ مناہل کے چہرے پر خوشیوں کا جھرنا بہہ رہا تھا۔
’’ماہم تمھاری شادی سے پہلے تو میں لندن  کبھی بھی نہیں جاؤں گی۔‘‘
ماہم یہ سن کر خاموش ہی رہی۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور سنگھار میز کے سامنے آ کر بیٹھ گئی۔ ماہم کی بلّی آنکھوں میں سرخ ڈورے تھے۔ ماہم نے آئینے میں اپنی آنکھوں کو دیکھا جن میں نیند کی بھوک تھی۔
آرام سے بیٹھ جاؤ۔ ابھی تو تمھارے ٹانکے بھی نہیں کھلے۔ کیا تمھیں درد نہیں ہو رہا؟ مناہل نے حلیمی سے پوچھا تھا۔ اُتنی ہی بے فکری سے ماہم نے سنگھار میز کے سامنے بیٹھے ہوئے نفی میں گردن ہلا دی۔
درپن (آئینہ) سامنے بیٹھے ہوئے شخص کی صورت ہی دکھا سکتا ہے، اُس کا درد نہیں۔۔۔
ایک دفعہ مجتبیٰ نے کہا تھا۔ مناہل آئینے کے سامنے بیٹھی ہوئی ماہم کے عکس کو دیکھ کر کہہ رہی تھی۔
تم کس درد کی بات کر رہی ہو؟ ماہم نے سنجیدگی سے پوچھا۔
وہ درد جو تمھارے دل میں ہے اور اس وقت تمھاری آنکھوں میں خون بن کر اُتر آیا ہے۔  قسم سے تم ابھی رو دو تو خون کے آنسو ٹپکیں گے، تمھاری ان خوب صورت آنکھوں سے۔
مسز مجتبیٰ رحمان۔۔۔! احسان تو تم میرا چکا رہی ہو یہ کفارہ کس کا ادا کر رہی ہو؟ ماہم نے شعوری طور پر موضوع بدلا۔
وہ پھر کبھی بتاؤں گی۔ مناہل نے بات ٹالنے کی کوشش کی۔
تم ہر بات کو پھر کبھی تک کیوں لے جاتی ہو۔۔۔ ابھی کیوں نہیں۔۔۔
ماہم کافی دیر مناہل سے نظریں ملانے کی کوشش کرتی رہی مگر مناہل نے اُس کی طرف دیکھا ہی نہیں۔
مجھے خوشی بھی ہے۔۔۔ اور گلہ بھی۔ خوشی اس بات کی کہ تم نے کبھی بھی اپنے والدین کو بُرا نہیں کہا۔ مجھے ہمیشہ یہی کہا کہ وہ مر چکے ہیں اور گلہ اس بات کا میں ساری زندگی یہی سمجھتی رہی کہ میں تمھارے بارے میں سب کچھ جانتی ہوں۔
مناہل مجھے احسان کا بدلہ نہیں چاہیے اور جہاں تک اپنے والدین کے گناہوں کے کفارے کی بات ہے۔ وہ تم پر بنتا ہی نہیں ہے۔ جو تمھارے والدین نے مزمل کے ساتھ کیا وہی کچھ اُس کے والدین نے تمھارے ساتھ بھی کیا تھا پھر کفارہ کیسا؟ حکیم چاچا نے چند دن پہلے ہی مجھے یہ سب کچھ بتایا تھا۔
ماہم۔۔۔! تایا ابو کہتے ہیں کہ اُنھیں مجھ پر فخر ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر انکل زندہ ہوتے تو وہ تم پر زیادہ فخر کرتے۔ ایک بگڑا ہوا شخص جو تم سے منسوب ہے تم صرف اس لیے اُس سے شادی کر رہی ہو کہ تمھارے مرحوم باپ کی زبان کا سوال ہے۔
میں نے اپنے زندہ والدین کو مار دیا اور تم اپنے مرحوم باپ کو زندہ رکھے ہوئے ہو۔
مناہل کے موبائل پر میسج کی بیپ ہوئی۔ مناہل نے میسج پڑھا۔ یہ دیکھو تمھارے اُس کا میسج آیا ہے۔ مناہل اپنی جگہ سے اُٹھی اور ماہم کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔ موبائل اُس کے سامنے کیا۔ ’’م ‘‘ کے نام سے ایک نمبر سیو تھا۔
میسج یہ تھا۔
کیا میں آپ کو فون کر سکتا ہوں؟
ماہم نے پڑھا۔ مناہل نے آنکھوں سے پوچھا۔ ماہم نے بغیر کسی جواب کے موبائل مناہل کی طرف بڑھا دیا۔
مناہل نے موبائل پکڑ کر جواب ٹائپ کر دیا۔ ایک منٹ کے اندر اندر مزمل کی کال آ گئی تھی۔
ہیلو مسٹر مزمل۔۔۔! مناہل نے اسٹائل سے کہا اور ساتھ ہی اسپیکر بھی اوپن کر دیا۔
جی مناہل۔۔۔! کیسی ہیں آپ؟ مزمل کی آواز کمرے میں گونجی۔
آئی ایم فائن۔ مناہل نے برٹش ایکسنٹ میں جواب دیا۔
’’مسٹر مزمل بیگ۔۔۔! آر یو آل رائٹ؟ آپ ہمیشہ مجھے ’’تم‘‘ کہتے رہے۔ آج ’’آپ‘‘ پر آگئے، کوئی خاص وجہ؟‘‘
’’آج مجھے احساس ہوا ہے کہ تمھیں ’’آپ‘‘ ہی کہنا چاہیے۔‘‘
وہ کیسے؟ مناہل نے ماہم کو چھیڑتے ہوئے مزمل سے پوچھا۔
مناہل۔۔۔! جنہیں ہم عام سمجھتے ہیں، وہ کسی نہ کسی کے لیے خاص ہوتے ہیں اور جنھیں ہم تم کہتے ہیں، وہ کسی نہ کسی کے آپ ہوتے ہیں۔ خیر چھوڑیں مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔
یہ تو میں نے صبح آپ سے کہا تھا۔ مناہل نے جلدی سے بات کاٹی۔
پہلے آپ کہہ لیں۔ مزمل نے سنجیدگی سے آفر دی۔
آپ بولیں۔۔۔ میں سن رہی ہوں۔ اس بار مناہل نے سنجیدگی سے کہا۔
’’مناہل۔۔۔! میں نے اپنے اور آپ کے والدین کو معاف کر دیا ہے۔ آج ایک مسکراہٹ دیکھ کر مسکرانے کو جی چاہتا ہے۔‘‘
اگر وہ مسکراہٹ والی کسی اور کی ہو گئی تو؟‘‘ مناہل نے ماہم کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
تو۔۔۔ میں اُس مسکراہٹ کے سہارے ہی زندگی گزار لوں گا۔ مزمل نے ہولے سے جواب دیا۔
مسٹر مزمل بیگ۔۔۔! اگر آپ برا نا مانیں۔ مجھے تو آپ دونوں پاگل سے لگتے ہو۔ کافی آؤٹ آف فیشن قسم کی محبت ہے۔ میں آپ دونوں کو ملانا چاہتی ہوں، کسی طرح کی بھی مدد چاہیے ہو تو میں حاضر ہوں۔ مناہل نے اپنی خدمات کی آفر دے دی۔
ایک طرف ماسٹر محمود صاحب کی طے کی ہوئی نسبت ہے اور دوسری طرف میری محبت۔ دیکھتے ہیں جیت کس کی ہوتی ہے۔ مزمل ہم کلام تو تھا مناہل سے، سن سب کچھ رہی تھی ماہم محمود۔
اگر نسبت ٹوٹ جائے تو۔۔۔ محبت خود بہ خود جیت جائے گی۔ مناہل نے مزمل کو محبت پانے کا نسخہ بتایا۔
ڈئیر مناہل۔۔۔! آپ کی فرینڈ کو نسبت والے سے محبت نہیں ہے، نسبت طے کرنے والے سے عشق ضرور ہے۔ حکیم صاحب نے مجھے بتایا تھا۔ میں نے ساری زندگی اپنے والدین سے نفرت کی۔ اب اپنی محبت پانے کے لیے کسی کے عشق سے ٹکرانا نہیں چاہتا۔ ویسے بھی محبت خلوص سے جیتی جاتی ہے، چالاکی سے نہیں۔
ایک بات بتاؤں مناہل معید انصاری۔ چوہدری ماجد کی پچھلے دس سال کی ہسٹری میرے پاس ہے آڈیو، ویڈیو کے ساتھ۔ مجھے پتا ہے ماہم اُسے جواز بنا کر بھی انکار نہیں کرے گی۔ میں خود بھی چوہدری ماجد سے انکار کروا سکتا ہوں، لیکن ایسا میں نہیں کروں گا۔ مزمل نے اپنی محبت کے اُصول بتائے جو مناہل کو پسند نہ آئے تھے۔
کیا لاہور اور گوجرانوالہ کے درمیان کوئی پاگل خانہ ہے؟ آئی ایم ڈپریس اور تم دونوں کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ ایک مہینے بعد مزمل بیگ۔۔۔! اُس کی شادی ہے۔ مناہل نے سختی سے شادی پر زور دے کر کہا تھا۔ اُتنی ہی دھیرج سے مزمل نے جواب دیا
’’مجھے پتا ہے۔‘‘
تمھیں پتا ہے۔۔۔ اوکے۔۔۔ بائے۔۔۔ مناہل نے غصے سے موبائل بیڈ پر پٹخ دیا۔
کیوں غصہ کر رہی ہو؟ ماہم نے قدرے اطمینان سے پوچھا۔
کیوں غصہ کر رہی ہو؟ یہ تم پوچھ رہی ہو۔ ایک مہینے بعد تمھاری اُس جانور چوہدری ماجد کے ساتھ شادی ہے۔ دن کو اُس گدھے کے منہ میں تمباکو والے پان ہوتے ہیں اور رات کو اُس کے ہاتھ میں شراب کا گلاس۔ سارے علاقے میں اُس کی ساکھ بھی خراب ہے۔ تم کیوں سمجھوتا کر رہی ہو؟ میری سمجھ سے باہر ہے۔ ماہم میں تایا ابو سے کہتی ہوں وہ ماجد کے ابا سے بات کرتے ہیں۔ اس بار مناہل قدرے خفا تھی۔
’’دفع کرو شادی کو۔۔۔ تم یہ بتاؤ تم نے اُن کا نمبر ’’میم‘‘ کے نام سے کیوں  سیو کیا ہے؟
ماہم سنگھار میز کے سامنے سے اُٹھی، بیڈ سے مناہل کا فون اُٹھایا۔ اُسے شانت کرنے کے لیے اُس کے گال پر اُلفت سے ہاتھ پھیرا اور بڑی محبت سے اُسے بیڈ پر اپنے سامنے بٹھا لیا۔ ماہم نے بھی مزمل کی طرح دھیرج کا مظاہرہ کیا۔ اُس نے یہ سب کچھ ہولے ہولے رُک رُک کر کہا تھا۔ مناہل کے چہرے پر حیرت بکھری ہوئی تھی۔
میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔ ماہم نے مناہل کو ہلا کر دوبارہ کہا۔
کیا پوچھا تھا؟ وہ ایسے بولی جیسے نیند سے جاگی ہو۔
’’اُن کا نمبر ’’میم‘‘ کے نام سے کیوں سیو کیا ہے؟‘‘
مجھے چائے پلواؤ۔ مناہل نے سنی اَن سنی کر دی۔
ماہم کمرے سے چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ چائے لے کر لوٹی تھی۔ چائے پینے کے دوران اُن دونوں میں مزید کوئی بات نہیں ہوئی۔
تم نے اپنے اسکول کا نام کیوں ’’م‘‘ رکھا ہے؟ مناہل نے بتانے کی بجائے اُلٹا پوچھ لیا۔
ابو جی کہا کرتے تھے ساری کائنات دو میموں کے صدقے سے وجود میں آئی۔ کہتے تھے ’’م‘‘ سے شروع ہونے والا سفر ’’م‘‘ سے ہو کر اپنی منزل تک پہنچا تھا۔
م۔۔۔ سے۔۔۔ م۔۔۔ میں سمجھی نہیں۔‘‘ مناہل نے حیرانی سے پوچھا۔
مکہ سے مدینہ۔۔۔ پھر مسجد، منبر، محراب تک۔۔۔ مسلمان سے مؤمن کے مرتبہ ومقام تک۔۔۔۔ ماں کی ممتا سے مان تک۔۔۔ محرم سے محبت۔۔۔ پھر محبوب سے مختار تک۔۔۔
مکہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج تک۔۔۔سب کچھ ’’م‘‘ سے شروع ہو کر ’’م‘‘ پر ختم ہوتا ہے۔ ؎
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یاسیں وہی طٰہٰ
مناہل نے اپنی سانسیں روک لیں جب ماہم بات کر رہی تھی۔
یہ سب کچھ انکل جی کہا کرتے تھے؟ مناہل نے اشتیاق سے پوچھا۔
ہاں۔۔۔! ابو جی کو ’’م‘‘ سے شروع ہونے والے ناموں سے بڑی محبت تھی۔ اسی لیے ہم دونوں بہنوں کا نام اُنھوں نے م سے ہی رکھا ماہم اور مومنہ۔
ماہم جی۔۔۔! آپ کے گھر کے سارے افراد کے ناموں میں دو میمیں آتی ہیں۔ محمود، مریم، مومنہ، ماہم اور چوہدری ماجد کے نام میں ایک ’’م‘‘ ہے۔ مزمل میں دو۔۔۔۔ ہیں۔ تمھارا تو پتہ نہیں البتہ مجھے اپنے سارے سوالوں کے جواب مل گئے۔ اچھا میں چلتی ہوں۔
مناہل نے یہ کہا اور مزید کچھ کہے بغیر وہاں سے چلی گئی۔
اگلے دن صبح فجر کے بعد سب نمازیوں کے جانے کے بعد مزمل مسجد سے باہر نکلا۔ ماہ جبین کے چہرے والی ماہم کی منتظر نگاہیں مرکوز تھیں۔ مزمل کے مکھڑے پر لکھی ہوئی تحریر کا متن پڑھنے کے لیے۔ مزمل کی آنکھوں کا مرکز ومحور ماہم کی مقدس آنکھیں تھیں۔
کوئی نظر سے سیراب ہو جاتا ہے کسی کو لمس چاہیے ہوتا ہے۔ چند لمحوں میں ہی اُن دونوں کی نگاہوں  نے صدیوں کی مسافت طے کر کے اپنی اپنی منزلوں کو پا لیا تھا۔
موسم کوئی بھی ہو، محبوب کو دیکھ کر من مہکنے لگتا ہے، مسرتوں کی کلیاں کھل کھل جاتی ہیں، ملن کی آرزو میں میٹھے میٹھے نغمے بجنے لگتے ہیں۔
حسبِ معمول مزمل گردن جھکائے اپنی گاڑی میں بیٹھا ہی تھا کہ گاڑی میں پڑا ہوا موبائل بج اُٹھا۔
السلام علیکم مناہل۔۔۔! مزمل نے کال ریسیو کی۔
وعلیکم السلام۔۔۔! تایا ابو  نے آپ کو بیٹھک میں بلایا ہے۔ مناہل نے مختصر بات کی اور فون رکھ دیا۔
مزمل کو کچھ فکر لاحق ہوئی وہ نظریں جھکائے گلی سے گزرا۔ ماہم اُس وقت بھی کھڑکی میں کھڑی تھی۔ مزمل نے اُس کی طرف نہیں دیکھا۔
السلام علیکم حکیم صاحب۔۔۔! آپ نے بلایا تھا؟ مزمل نے بیٹھک میں داخل ہوتے ہی کہا۔ حکیم صاحب اُس کے استقبال کے لیے پہلے سے کھڑے تھے۔
’’وعلیکم السلام۔۔۔! بیٹھو مزمل بیٹا۔۔۔! پہلے ناشتا کر لیں بعد میں بات کریں گے۔‘‘
ماہم اپنے کمرے میں بے چین ہو گئی تھی۔ اُس کے دل کی دھڑکن تیز تھی۔ خیالوں کی نگری سے کئی خیال نکل نکل کر فشارِ خون کو تیز کر رہے تھے۔ قدم رُکنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ کمرے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک نہ جانے کتنے ہی چکر لگا چکی تھی۔
دُنیا میں پہلا قتل عورت کی وجہ سے ہوا تھا۔ حکیم صاحب نے ٹٹولتی نظروں سے مزمل کو دیکھ کر کہا۔
مجھے علم ہے۔ مزمل نے اعتماد سے جواب دیا۔
جہاں حاجت ختم ہو، علم وہاں سے شروع ہوتا ہے، علم کا علم ہونا لاعلمی ہے۔ جو تم دونوں کر رہے ہو وہ غلط ہے، گناہ ہے، وہ تمھارے لیے نامحرم ہے۔ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ اُس کی نسبت کسی اور سے طے ہے۔
حکیم صاحب نے تحمل اور حکمت سے مزمل کو سمجھایا۔
’’جس منفی چیز کی نسبت اللہ کی طرف ہو جائے وہ مثبت بن جاتی ہے۔ میں اُس نامحرم سے نکاح کر کے اُسے محرم بنانا چاہتا ہوں۔‘‘ اس بار مزمل کے آواز میں اُلفت کے ساتھ ساتھ درد بھی تھا۔
’’یہ ناممکن ہے۔ وہ شادی سے انکار نہیں کرے گی۔ تم اُس کی اجازت کے بغیر رشتہ بھیجو گے نہیں۔ اُس نے مجھے اپنے تایا سے بات کرنے سے منع کر دیا ہے اور تم نے کہا ہی نہیں۔ مزمل بیٹا۔۔۔! دستک دینے سے دروازہ کھلتا ہے، دُعا مانگنے سے مرادیں ملتی ہیں۔‘‘
’’حکیم صاحب۔۔۔! دستک دینے کی اجازت نہیں۔ رہا سوال دُعا مانگنے کا۔ ساری زندگی اُس کی ناشکری کی ہے۔ ہمیشہ محبتیں لُٹنے کا گلہ کیا ہے۔ اب کس منہ سے محبت مانگوں؟ اب سوچا ہے جو وہ عطا کر دے گا اُس پر شکر کروں گا، جو نہیں دے گا اُس پر صبر۔‘‘ مزمل نے لرزتی آواز میں کہا۔
’’صبر۔۔۔ صبر بڑی دُور کی منزل ہے بیگ صاحب۔۔۔! جو مل گیا اُس پر راضی ہو جاؤ جو نہیں ملا اُس پر شکر کرو۔ صبر کا مقام اس سے بہت آگے بہت ہی دُور ہے۔ صبر اور شکر سے پہلے کوشش ہے جو تم نے کی ہی نہیں۔‘‘ حکیم صاحب نے ہونٹوں پر تبسم سجائے اپنا نقطۂ نظر بیان کیا۔
’’کوشش اس ڈر سے نہیں کرتا کہ محبت کے حضور میں کہیں بے ادبی نہ ہو جائے۔ میں تو پہلے ہی محبت کی درگاہ سے راندہ درگاہ ہوں۔‘‘
’’مزمل بیٹا۔۔۔! پھر دُعا ہی واحد رستہ ہے۔ اُسے دُعا مانگنے والے بہت پسند ہیں۔۔۔ گناہ گار ہوں یا نیک وکار۔۔۔ شکر والے ہوں یا ناشکرے۔۔۔ بس ہاتھ اُٹھانے کی دیر ہے۔‘‘ حکیم صاحب نے شائستگی سے حل بتایا۔
’’مجھے اجازت دیں فیکٹری پہنچنا ہے۔‘‘ مزمل نے اجازت لی اور بیٹھک سے نکل آیا۔
ماہم کو مزمل کی مہک کھڑکی تک کھینچ لائی۔ وہ گردن جھکائے اُس کی گلی سے گزر گیا۔ ماہم کی نظروں نے مزمل کو گاڑی تک چھوڑا۔ گاڑی کے جانے کے بعد بھی کچھ دیر تک ماہم کی نظریں اُسی مقام کو دیکھتی رہیں جہاں اُس کے من کے میت کی سواری کھڑی تھی، وہ پلٹی تو مناہل اُس کے پیچھے موجود تھی۔
’’تم یہاں؟‘‘ ماہم نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں میں۔۔۔ آنٹی اور مومنہ تمھارے کمرے میں پہلے ہی کم آتی ہیں، اب میرے آنے پر بھی پابندی لگا دو۔‘‘ مناہل نے گھورتے ہوئے کہا۔
’’ایسا سوٹڈ بوٹڈ ایک دم کام ڈون ٹائپ کا عاشق پہلی بار دیکھا ہے۔ مجھے یہ تو بتاؤ محبت کی کوئی الگ کوالیفیکیشن ہے جس میں تم دونوں نے سپیشلائزئشن کی ہوئی ہے۔ ایسی بڑی بڑی باتیں کرتے ہو تم دونوں جو میری جیسی بندی کی سمجھ سے باہر ہیں۔ تایا ابو تو عالم فاضل آدمی ہیں وہ مشکل بات کریں تو سمجھ آتی ہے۔ سیدھی سی بات ہے۔ ایک لڑکا تمھیں محبت کرتا ہے تم بھی اُسے چاہتی ہو۔ تمھارا فیانسی تمھیں پسند نہیں ہے ۔ انکار کر دو سمپل۔ ماہم تمھیں کیوں سمجھ نہیں آرہی ہے۔ میری مثال تمھارے سامنے ہے۔ تایا ابو نے میرے لیے معین کو پسند کیا تھا۔ میں مجتبیٰ سے محبت کرتی تھی۔ تمھیں اپنے دل کی بات بتا دی۔ تم نے تایا ابو سے بات کی وہ مان گئے۔ مجتبیٰ کی خواہش پر تایا ابو نے ہمارا نکاح بھی پڑھا دیا۔ سیدھی سادھی سی لَو اسٹوری۔ تمھاری محبت انگلش کے ٹینسوں کی طرح بہت ہی مشکل ہے۔‘‘ مناہل نے ماہم کو لمبا چوڑا بھاشن دیا ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ۔
’’میں انکار ہی تو نہیں کر سکتی سارے شریکے برادری میں۔ ابوجی کی تھوتھو ہو جائے گی۔ سارا شریکا کہے گا ہیڈ ماسٹر چوہدری محمود معراج کی بیٹی نے اپنے مرے ہوئے باپ کی زبان کی لاج بھی نہ رکھی۔‘‘
’’تم لاج رکھ لو، بھلے ہی مزمل کی محبت کا جنازہ نکل جائے۔‘‘ مناہل نے ترش لہجے میں کہا۔
’’پتانہیں تم نے کہا تھا یا اُس نے، چالاکی سے محبت نہیں جیتی جاتی۔ تم دونوں کی باتیں بھی ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ تم ماجد کا سارا بائیوڈیٹا کھول کر اپنے تایا جی کے سامنے رکھ دو۔‘‘
’’تایا جی ماجد کے متعلق سب کچھ جانتے ہیں۔ ‘‘ ماہم نے بے تاثر چہرے کے ساتھ جواب دیا۔
’’سب کچھ جانتے ہوئے بھی؟‘‘ مناہل نے حیرانی سے پوچھا۔
اُن کی بھی زبان کا سوال ہے۔ میں اُن کے بیٹے کی منگ ہوں۔ ہمارے خاندان میں لوگ مر جاتے ہیں منگ نہیں چھوڑتے۔
’’ میں بھی؟‘‘ مناہل کو دھچکا لگا تھا۔
’’ہاں۔۔۔!‘‘ ماہم نے بڑی مشکل سے کہا۔ وہ ضبط کے باوجود اپنے اشک نہ روک سکی۔ مناہل نے اُس دن ماہم کے ابو کے انتقال کے بعد اُس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے۔
دیکھتے ہی دیکھتے ایک مہینہ گزر گیا۔ بارات سے ایک دن پہلے مزمل نماز پڑھ کر نکلا۔ وہ کھڑکی میں کھڑی تھی مرجھائے ہوئے سرخ گلاب کی طرح۔ اُس دن اُس کی بلّی آنکھوں میں اُداسی تھی۔ خاموشی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں کوئی عبارت نہیں تھی جسے مزمل پڑھتا۔ صرف ہجر کے سندیسے تھے۔ مزمل نے ایک نظر دیکھا اور چل دیا۔
وہ ماسٹر محمود کے دروازے کے آگے سے گزر رہا تھا ایک آواز نے اُس کے قدم رُوک لیے:
’’بیٹا اندر آجاؤ۔۔۔!‘‘ مریم بی بی نے اردگرد کا جائزہ لیتے ہوئے مختصر بات کی اور دروازے سے اندر ہو گئی۔ گلی میں کوئی نہیں تھا۔ مزمل شش وپنج میں مبتلا تھا۔ لمحہ بھر اُس نے سوچا پھر وہ بھی دروازے سے گھر کے اندر چلا گیا۔
’’بیٹھو بیٹا۔۔۔! ‘‘ ماہم کی ماں مریم نے ڈرائنگ روم میں مزمل کو بٹھایا۔ مزمل جھجکتے جھجکتے بیٹھ گیا۔
’’کل رات کو ماہم کی بارات ہے۔ آج پچھلے ٹائم مہمان آنا شروع ہو جائیں گے۔ کچھ مہمان رات کے آچکے ہیں۔ اُنھیں میں نے گاؤں والی حویلی میں ٹھہرایا ہوا ہے۔ کل سے تم یہاں نہیں آؤ گے۔‘‘ مریم بی بی نے تفصیل بتانے کے بعد فرمان جاری کیا۔
’’کیوں؟‘‘ مزمل نے اعتماد سے نظریں ملا کر پوچھا۔
’’اس لیے کہ کل سے وہ کھڑکی نہیں کھلے گی۔‘‘ مریم بی بی نے سخت لہجے میں جواب دیا۔
’’حاضری میں دیدار کی شرط نہیں ہوتی۔‘‘
’’ادب والے حکم عدولی نہیں کرتے۔‘‘ مریم بی بی نے پرکھتی نظروں سے مزمل کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’بے وفائی کے علاوہ سب حکم مانوں گا۔‘‘ مزمل نے عاجزی سے جواب دیا۔
’’وفا کا دم بھرنے والے محبوب کو بدنام نہیں کرتے۔‘‘
’’اُس کی بدنامی نہ ہوئی ہے۔۔۔ نہ ہو گی۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے۔‘‘ مزمل نے یقین دلانے کی کوشش کی۔
’’کب تک یہاں آتے رہو گے؟‘‘ مریم بی بی نے روکھے انداز سے پوچھا۔
’’اب تو میں یہاں سے جانا ہی نہیں چاہتا۔ سوچ رہا ہوں یہیں شفٹ ہو جاؤں۔‘‘
’’کس لیے؟‘‘ مریم بی بی نے برہمی سے کہا۔
’’تاکہ بند کھڑکی کو دیکھتا رہوں۔‘‘ مزمل نے دھیمی آواز میں عرض کی۔
’’بند کھڑکی کو دیکھنے کا فائدہ؟‘‘ مریم بی بی نے طنز کیا۔
’’محبت میں فائدہ نقصان نہیں دیکھا جاتا۔‘‘ مزمل نے اطمینان سے جواب دیا۔
’’مناہل ٹھیک کہتی ہے۔ تم دونوں واقعی پاگل ہو۔‘‘ مریم بی بی نے فوراً اپنا لہجہ اور رویہ بدل لیا۔
’’دیکھو مزمل بیٹا۔۔۔! میں کچھ نہیں کر سکتی۔ میری بیٹی کے لیے تم سے اچھا لڑکا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ میری خواہش کے باوجود اُس کی شادی تم سے نہیں ہو سکتی۔ شادی کے بعد پتا نہیں کیا ہو گا۔‘‘ مریم بی بی نے فکرمندی سے کہا تھا۔
’’اور کسی بات کا تو مجھے بھی پتا نہیں۔ ایک بات کنفرم ہے۔ میں اپنی نظر پر پردہ ضرور ڈال دوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر مزمل چپ چاپ گردن جھکائے وہاں سے چلا گیا ۔
’’تمھاری ماجد سے شادی ہونے کے بعد بھی یہ ونڈو اوپن کرو گی؟‘‘ مناہل نے ماہم کو جھنجھوڑ کر پوچھا تھا۔ ماہم اب بھی گم سم تھی۔ مناہل نے دوبارہ اُسے ہلایا۔
’’ٹیل می۔‘‘
’’نہیں۔۔۔ کبھی نہیں۔ میں مزمل کی طرف کھلنے والی ساری کھڑکیاں بند کر دوں گی۔ چاہے وہ دل کی ہوں یا لکڑی کی۔‘‘ ماہم نے بائیں ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو صاف کیے تھے۔
تیل مہندی کی رسم ماہم کے اسکول کے گراؤنڈ میں انجام پائی۔ بارات کا انتظام ملن میرج ہال میں کیا جانا تھا۔ مہندی کی تقریب کے دوران ماہم کی طرح مناہل بھی بجھی بجھی سی رہی۔ بارات والے دن صبح مزمل مسجد کے زینے اُتر رہا تھا۔ ہزار کوشش کے باوجود وہ اپنی نظر کو روک نہیں سکا۔ نظر اُٹھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح کھڑکی میں کھڑی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں نور کی بجائے ظلمت تھی۔ اُداسی کے ساتھ ساتھ ویرانی بھی تھی۔ ماہم ہاتھوں میں مہندی رچائے، کلائیوں میں گجرے پہنے، گلے میں مالا ڈالے، مہندی کے پیلے جوڑے میں ملبوس تھی۔ وہ من موہنی سی لڑکی ماہ پارہ لگ رہی تھی۔ یہ تو اُس کا ظاہر تھا۔
اصل میں مہندی کی ٹھنڈک کے بجائے اُسے تپش محسوس ہو رہی تھی۔ کلائیوں کے گجرے ہتھ کڑیاں لگ رہی تھیں۔ گلے کی مالا پھانسی والی رسی جیسی تھی۔ پیلا لباس اُس کے نزدیک اُسے ماتمی لباس کی کیفیت میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔ چندر مکھی کی طرح نظر آنے والی ماہم اُس وقت اندر سے پارو نہیں بلکہ پارہ پارہ ہو چکی تھی۔
مزمل اور ماہم کے مابین کوئی میثاق، کوئی معاہدہ طے نہیں تھا۔ اس کے باوجود وہ دونوں اپنے اپنے محاذ پر مجرم بنے کھڑے تھے۔ کس نے کس کو مجروح کیا یہ معمّہ تھا۔ پھر بھی وہ دونوں مضطرب تھے۔ ملاقات کے بغیر صرف محبت کی معرفت سے اُن دونوں کے جسم معطّر ہو چکے تھے۔ اُس مسافت کے دوران اُنھیں محبت کی مہک تو میسر آئی محبت کی منزل نہیں ملی۔ اُن کے ملن کی کوئی صور ت نظر نہیں آرہی تھی۔
مہندی کی تقریب کے بعد سے ماہم کھڑکی میں مجسمہ بنی کھڑی تھی۔ رات بھر وہ صبح کا انتظار کرتی رہی۔
جس کے انتظار میں وہ کھڑی تھی وہ اُس کے سامنے تھا۔ وہ اپنے نکاح سے پہلے شاید آخری بار اُسے دیکھ رہی تھی۔ مزمل نے بھی اُسے لمحوں کے اندر اندر صدیوں جیسا دیکھ لیا ۔ اُس کے دل میں پتا نہیں کیا بات آئی وہ واپس مسجد کے اندر چلا گیا۔ چند منٹوں کے بعد وہ واپس آیا ماہم وہیں کھڑی تھی۔ مزمل نے اُسے ہمیشہ کی طرح ایک نظر دیکھا اور نظریں جھکائے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر لاہور چلا گیا۔
اب جاگنے کی باری مزمل بیگ کی تھی۔ وہ رات بھر اپنے ٹیرس پر صبح کا انتظار کرتا رہا۔ بند کھڑکی کو دیکھنے والی مشتاق آنکھیں اس بار مزمل بیگ کی تھیں۔ اُس کے ذہن میں کچھ نہیں تھا سوائے اُس کھڑکی کے کہ وہ جلد ازجلد اُس کھڑکی کو دیکھنا چاہتا تھا۔ نماز سے پہلے دیکھنے کی اجازت اُس کو نہیں تھی۔
مزمل گردن جھکائے گلی سے گزر گیا۔ اُس کے دل میں کھڑکی کا کوئی خیال نہیں آیا۔ اُس نے خشوع خضوع سے نماز ادا کی۔ سب نمازیوں کے جانے کے بعد وہ حسبِ معمول اُٹھا اور مسجد کے بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔ اُسے کبھی بھی مسجد کی حدود میں کھڑکی یا کھڑکی والی کا خیال نہیں گزرا۔
اُس دن بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ مزمل نے سیڑھیاں اُترنی شروع کیں۔ نظر اُٹھی کھڑکی کھلی تھی۔ ماہم دُلہن بنی کھڑکی میں کھڑی تھی۔ مزمل نے ہمیشہ کی طرح ایک نظر دیکھنے کے بعد اپنی نظریں جھکا لیں۔ مزمل کی آنکھوں میں بجھے دیپ جل اُٹھے ۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ لوٹ آئی۔ دل سے دھک دھک کی آواز آنے لگی۔ دل کی دھک دھک دماغ سے برداشت نہیں ہوئی۔ دماغ کہنے لگا:
’’مزمل بیگ۔۔۔! کھلی کھڑکی کے پیچھے دُلہن کھڑی ہے۔ خوش ہونے کی بجائے پتا تو کر لو وہ کس کی دُلہن ہے؟‘‘
دل نے حکم دیا:
’’مزمل بیگ۔۔۔! نظریں اُٹھاؤ اور دوبارہ دیکھ لو میرا دھڑکنا بے وجہ نہیں ہوتا۔ میری دھڑکن زندگی کی علامت ہے۔‘‘
’’نظریں اُٹھاؤ گے تو بے ادبی ہو جائے گی۔‘‘ دماغ نے جلدی سے میسج دیا۔ اُسی لمحے دل نے بھی صدا لگا دی:
’’مسٹر برین۔۔۔! آپ عقل والوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور میں عشق والوں کا ساتھی ہوں۔ مزمل بیگ تم نظریں اُٹھا دو۔‘‘
مزمل نے نظریں اُٹھا کر دیکھا۔ ماہم کے چہرے پر عجیب طرح کی مسرت تھی۔ وہ تھوڑی دیر اُسے دیکھتا رہا۔ آنکھوں کی گفتگو سے دلوں کو سکون مل گیا۔ مزمل کو گلی میں کھڑے ہو کر مزید اس طرح دیکھنا غیرمناسب لگا۔ وہ نظریں جھکا کر اپنی گاڑی کی طرف چل دیا۔
’’بیٹا اندر آجاؤ۔۔۔!‘‘ مریم بی بی نے بڑے اعتماد سے کہا جو اپنے دروازے پر کھڑی تھیں۔
مزمل گھر کے اندر داخل ہو گیا۔ ڈرائنگ روم میںایک آدمی ویل چیئر پر بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کے سامنے حکیم مسلم انصاری، مہتاب خان اور مبشر حسین (مزمل کا ڈرائیور) بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسرے صوفے پر چند عورتیں تھیں جن میں مسرت، مومنہ اور مناہل بھی شامل تھیں۔
’’جوان۔۔۔! میری بیٹی سے شادی کرو گے؟‘‘ چوہدری مقصود نے گرجتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
اس سے پہلے مزمل کچھ کہتا ڈرائنگ روم میں ماہم دُلہن کے لباس میں ملبوس داخل ہوئی۔ مزمل نے حیرانی سے چوہدری مقصود کی طرف دیکھا۔
’’جوان۔۔۔! میری بیٹی ماہم سے شادی کرو گے؟‘‘ چوہدری مقصود اُسی انداز میں دوبارہ بولا۔
’’جی۔۔۔!‘‘ مزمل نے ماہم کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’حق مہر میں کیا لکھواؤ گے۔‘‘ چوہدری مقصود نے بے دھڑک ہو کر کہہ دیا۔
’’یہ والی فیکٹری لکھ لیں۔‘‘ مزمل بیگ نے حتمی انداز میں جواب دیا۔
ماہم نے مزمل کی طرف دیکھا۔ ڈرائنگ روم میں موجود سب لوگوں نے باری باری ایک دوسرے کی طرف نگاہ ڈالی۔ اُن کے چہروں پر ملی جُلی کیفیات تھیں۔ خوشی کے ساتھ ساتھ حیرت بھی نمایاں تھی۔
’’حکیم صاحب۔۔۔! بسم اللہ کریں۔‘‘ چوہدری مقصود نے نکاح پڑھانے کا فرمان جاری کر دیا۔
چوہدری مقصود۔۔۔ یہ نکاح نہیں ہو سکتا۔‘‘ ایک آدمی گھن گرج کے ساتھ بولا۔
’’کیوں نہیں ہو سکتا یہ نکاح؟‘‘ چوہدری مقصود نے للکار کر پوچھا۔
اس لیے کہ تیرے بیٹے نے ہماری بہن سے شادی کر رکھی ہے۔ اب وہ دوسری شادی نہیں کرنا چاہتا۔
مہربان علی نے وضاحت پیش کی۔
’’کیوں اوئے ماجد۔۔۔؟‘‘ چوہدری مقصود نے قہرو غضب سے پوچھا۔
’’جی ابا جی۔۔۔!‘‘ ماجد نے نظریں جھکا کر فوراً اقرار کر لیا۔
اوئے کھوتے دے پتر۔۔۔! پھر یہ تماشا لگانے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ چوہدری مقصود ویل چیئر پر بیٹھے بیٹھے ہی آپے سے باہر ہو گیا تھا۔
تو مجھے پہلے بتا دیتا۔۔۔ بے غیرتا۔۔ ۔ بے شرما۔۔۔ اب میں سارے شریکے کو کیا جواب دوں گا۔۔۔ کون کرے گا میرے مرحوم بھائی کی بیٹی سے شادی؟‘‘ چوہدری مقصود نے واویلا ڈالا ہوا تھا۔
کھانا کھول دو۔‘‘ حکیم صاحب نے موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے میرج ہال کی انتظامیہ کو کہہ دیا۔ خود چوہدری مقصود کی ویل چیئر کو دھکا لگاتے ہوئے دُلہن کے کمرے میں لے گئے تھے۔ چند منٹوں بعد ہی سارا ہجوم تتر بتر ہو گیا۔ شادی ہو یا نہ ہو لوگوں کو کھانا ملنا چاہیے۔ لوگوں نے کھانا کھایا، اپنے اپنے ہاتھ صاف کیے اور اپنے اپنے گھروں کی راہ لی۔
’’کون کرے گا میرے بھائی کی بیٹی سے شادی؟‘‘ چوہدری مقصود نے مگرمچھ والے آنسو گراتے ہوئے پھر سے پوچھا۔
’’ایک لڑکا ہے میرے رشتے میں بھی لگتا ہے۔ وہی جس نے سیٹھ مجیب کی فیکٹری خریدی ہے۔‘‘ حکیم صاحب نے تسلی دی۔
’’وہ اتنا بڑا آدمی ہے، وہ کیوں کرے گا شادی؟‘‘ چوہدری مقصود کے آنسو فوراً غائب ہو گئے تھے۔ ساتھ ہی اُس نے تفتیش بھی شروع کر دی۔
’’اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ سے رشتہ مانگوں۔ جب میں نے بتایا کہ ماہم کی منگنی ہو چکی ہے پھر وہ کہنے لگا حکیم صاحب۔۔۔! آپ ہی میرے بڑے ہیں۔ آپ جہاں کہیں گے میں شادی کر لوں گا۔‘‘
’’مگر۔۔۔ پھر بھی۔۔۔ حکیم صاحب۔۔۔ مجھے نہیں لگتا۔۔۔ وہ لڑکا مانے گا۔‘‘ چوہدری مقصود نے رُک رُک کر اپنے خدشے ظاہر کیے۔
’’انکل جی۔۔۔! آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔ اُس کی کیا مجال وہ تایا ابو کی بات ٹالے۔ ہماری ماہم راج کرے گی۔ اُس کے پاس ایسی دو فیکٹریاں اور ہیں۔ دو بنگلے تین گاڑیاں اور کروڑوں کا بینک بیلنس الگ سے ہے۔‘‘ مناہل نے ماہم کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا۔ جو اُس کے ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھی۔
چوہدری مقصود کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اُس وقت برائیڈل روم میں صرف پانچ افراد تھے۔ پانچویں مریم بی بی تھیں جو کچھ دیر بعد آئی تھی۔
’’کچھ بھی ہو۔ میں ماہم کی رضامندی کے بغیر ہاں نہیں کر سکتا۔‘‘ چوہدری مقصود نے اپنا لالچ چھپاتے ہوئے سنبھل کر کہا۔
’’لالہ جی۔۔۔! ماہم اور مجھے آپ کے کسی فیصلے پر کوئی اعتراض نہ پہلے تھا اور نہ ہی آئندہ ہو گا۔ آپ جو بھی فیصلہ کریں ہمیں قبول ہو گا۔‘‘ مریم بی بی نے فرماں برداری کے ساتھ ساتھ اپنے حصے کی ڈیوٹی پوری کر دی۔
’’تو پھر حکیم صاحب۔۔۔! ابھی اُس لڑکے کو بلا لیں۔ ابھی کلمے پڑھا دیتے ہیں۔ اللہ اللہ خیری سلہ۔‘‘ چوہدری مقصود نے اپنی عزت بچانے کے لیے فوراً رضامندی ظاہر کر دی تھی۔
’’چوہدری صاحب۔۔۔! اس وقت غیرمناسب ہے۔ میں اُس سے فون پر بات کر لیتا ہوں۔ ان شاء اللہ کل صبح فجر کے بعد میں نکاح پڑھوا دوں گا۔ یہ میرا وعدہ ہے۔ آپ آج رات یہیں رُک جائیں۔ گاؤں مت جائیں۔ کل نکاح کے بعد ہی گاؤں جائیے گا۔ اس طرح آپ کی عزت بھی رہ جائے گی اور شریکے برادری کو باتیںبنانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔‘‘ حکیم صاحب کی بات چوہدری مقصود کے دل پر جا کر لگی تھی۔ وہ فوراً مان گیا۔
ماہم اپنے کمرے میں آئی۔ اُس نے جنوری کی سخت سردی کے باوجود اپنی کھڑکی کھول دی۔ وہ دُلہن بنی ہوئی مسجد کی سیڑھیوں کو دیکھنے لگی۔ جہاں آج صبح مزمل کھڑا تھا۔ اُس نے ماہم کو دیکھا نظریں جھکائیں اور واپس مسجد میں چلا گیا۔
’’وہ واپس مسجد میں کیا لینے گیا ہے؟‘‘ اُس وقت ماہم کھڑکی میں کھڑی ہوئی یہ سوچ رہی تھی۔
’’ہر شے من جانب اللہ ہے۔ یا اللہ۔۔۔! اے میرے مالک۔۔۔! میں نے تجھ سے مانگنا چھوڑ دیا تھا۔ آج مانگتا ہوں اپنی محبت کو۔ مالک۔۔۔! تو مسبب الاسباب ہے، میں نہیں جانتا تو کیسے کرے گا بس تو ہی کر سکتا ہے۔ مجھے ماہم عطا کر دے پورے مرتبے اور مقام کے ساتھ۔‘‘
مزمل مسجد میں آنے کے بعد سجدے میں گڑگڑا رہا تھا۔ اُس کے اشکوں سے مصلّٰی بھیگ گیا تھا۔ اُس نے دُعا مانگی۔ رومال سے اپنی بھیگی پلکیں صاف کیں۔ سیڑھیاں اُترتے ہوئے ایک نظر اپنے محبوب پر ڈالی اور لاہور چلا گیا۔
وہ ٹیرس پر کھڑا ہوا رات بھر کھڑکی کے متعلق سوچتا رہا اور ماہم رات بھر کھڑکی سے باہر سیڑھیوں کو دیکھتی رہی۔
فجر کے بعد نکاح پڑھا کر حکیم صاحب نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ ماہم پورے مان سمان کے ساتھ اپنے گھر سے رخصت ہوئی تھی۔ اُس کے باپ کی زبان بھی جیت گئی اور ماہم نے اپنا محبوب بھی پا لیا تھا۔ ملن شادی ہال سے شروع ہونے والی کہانی ملن پر ہی ختم ہوئی ۔
مزمل کی ’’م‘‘ اور ماہم کی ’’م‘‘ محبت کے ملن کے بعد بن گئی پھر سے ’’میم‘‘
٭…٭…٭

Related Articles

1 COMMENT

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles