28 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

ارتقائے میلاد البنی ﷺ

 

تنزیل بیگ قادری

ارتقاء فطرتِ حیات ہے انسانی زندگی کی تمام ظاہری و باطنی ترتیبات اسی حقیقت کی آئینہ دار ہیں۔
اور یہی وہ ترتیبات ہیں جو نہ صرف انسانی قدوقامت بلکہ انسانی عادات و اطوار اور تہذیب و ثقافت میں جلوہ گر ہیں۔
اس تہذیبی و ثقافتی ارتقاء کا بہترین نمونہ میلاد النبی ﷺ ہے جو یومِ ازل سے لے کر آج تک عین فطری انداز میں متعدد ارتقائی منازل سے گزر چکا ہے۔
ان ارتقائی منازل کا اگر مختصر مگر جامع اور عملی تجزیہ کیا جائے تو اسے مندرجہ ذیل ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
عہد ازل 
 قبل از ولادت
عہد ظہور 
قرون ثلاثہ اولیٰ
 سلاطین تا حال
 ازل اور میلادالنبیﷺ
عالمِ ازل میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کے ذکرِ میلاد کے لیے اپنی مخلوق میں سے سب سے مکرم و معظم مخلوق کی ارواح مقدسہ کا اجتماع منعقد فرمایا اور ان سے یوں مخاطب ہوا
﴿وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَۃٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ۝۰ۭ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ۝۰ۭ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا۝۰ۭ قَالَ فَاشْہَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰہِدِيْنَ۝۸۱﴾ [(آل عمران:۸۱)
اوریاد کرو جب اللہ نے تمام انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ میں جو تمہیں کتاب و حکمت عطا فرماؤں پھر تمہارے پاس وہ رسول مکرم (ﷺ) آئے جو اس کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور بہ ضرور اس (ﷺ) پر ایمان لے آنا اور ضرور بہ ضرور اس (ﷺ) کی مدد کرنا، فرمایا
کیا تم نے اقرار کر لیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ اٹھا لیا، انھوں نے عرض کیا
کہ ہم نے اقرار کیا، فرمایا:
تو تم گواہ ہو جاؤ اور میں تمہارے ساتھ گواہ ہوں] امام المفسرین طبری اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام سے ہر اُس رسول کی تصدیق کے ساتھ عہد لیا
جسے اُس نے اپنی خلق کی طر ف کچھ دے کر بھیجا،
ان میں وہ انبیائے کرام بھی شامل ہیں جنہیں کتاب دی گئی اور وہ بھی جنہیں بغیرِ کتاب بھیجا گیا۔
اور یہ جائز نہیں ہے کہ اس وصف کو اللہ عزوجل کےدو گروہانِ انبیاء و رسل میں سے کسی ایک کے ساتھ خاص کر دیا جائے۔‘‘
(تفسیر طبری:۳/۴۴۹)
اسی بات کی تائید کرتے ہوئے امام قسطلانی نے آیت متذکرہ کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ:
’’جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی محمد ﷺ کا نور تخلیق فرمایا تو اُسے انوارِ انبیاء کی طرف متوجہ ہونے کا حکم فرمایا۔
حضور ﷺ نے انھیں اپنے نور سے ڈھانپ لیا۔ انھوں نے عرض کیا
اے ہمارے پروردگار! ہمیں کس کے نور نے ڈھانپ لیا ہے؟
اللہ نے فرمایا
یہ محمد ﷺ بن عبد اللہ کا نور ہے۔ اگر تم اس پر ایمان لے آؤ گے۔ تو میں تمہیں نبی بنا دوں گا۔
انھوں نےعرض کیا کہ
ہم اُس پر اور اُس کی نبوت پر ایمان لے آئے۔
تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
میں خود تمہارے نبوتِ محمدی ﷺ پر ایمان لانے پر گواہ ہو جاتا ہوں۔
انھوں نے عرض کی
جی ہاں‘‘۔ (المواھب اللدنیہ:۱/۳۳)
ازل میں اس اجتماعی ذکرِ میلاد النبی ﷺ کے علاوہ اللہ تعالیٰ ایک خاص ترتیب و انداز میں اپنے حبیبِ پاک کا میلادِ ازلی مناتا رہا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ایک بار جبرائیل ؈ سے استفسار فرمایا
جبرائیل! تمہاری عمر کتنی ہے؟ حضرت جبرائیل ؈ نے عرض کی
یا رسول اللہ ﷺ! عمر کا تو معلوم نہیں البتہ اتنا یاد ہے کہ تخلیق کائنات سے قبل چوتھے پردۂ عظمت میں ایک ستارہ چمکا کرتا تھا اور وہ ستارہ ستر ہزار سال بعد ایک مرتبہ طلوع ہوتا تھا۔ میں نے وہ نورانی ستارہ اپنی زندگی میں بَہَتَّر ہزار بار دیکھا۔ حضور ﷺ تبسّم کناں ہوئے اور فرمانے لگے:
یَا جِبْرِیْلُ وَ عِزَّةِ رَبِّیْ ﷻ اَنَا ذَلِكَ الْکَوْکَبُ۞(اے جبریل! مجھے اپنے ربِّ ذوالجلال کی عزت کی قسم! وہ ستارہ میں ہی ہوں) (سیرت الحلبیہ:۱/۴۷، روح البیان۳ /۵۴۳)
عہد قبل از ولادت اور میلا د مصطفیٰ ﷺ
حضور ﷺ کے میلاد کا چرچا اللہ کریم نے اممِ سابقہ میں بھی فرمایا۔
لہٰذا ہر امت پر اس کے نبی کے ذریعہ سے واضح فرما دیا تھا کہ ایک ایسا نبی آ رہا ہے جو تمام انبیاء و امم کا سردار ہے۔
جس کی سیادت سب پر قائم اور عالمگیر ہو گی۔
انبیائے کرام ؊ نے اس امانت کو بڑی محبت و وارفتگی کے ساتھ عام کیا، اس کی جزئیات و تفصیلات بیان کیں اور اپنی اپنی قوموں اور اولادوں کو اسے پیار سے سننے، یاد رکھنے، آگے سنانے اور عام کرنے کا حکم دیا، یہاں تک کے یہ زباں زدِ خاص و عام ہو گئیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہر قوم کو ہر دور میں معلوم تھا کہ آخری زمانے میں ایک نبی کریم ﷺ تشریف لانے والے ہیں جو انبیاء ؊ کے سردار اور تاجدار ہوں گے، وہ سب سے برگزیدہ، عظیم اور آخری رسول ہوں گے،
جن کی مثل کوئی نہ ہو گی، قدرت نے انھیں شاہکارِ تخلیق بنایا ہے،
وہ پیکر حسن و نور اپنی نکہت و زیبائی سے دلوں کی کائنات کو بدل کر رکھ دیں گے۔
ابن کثیر رقمطراز ہیں کہ ربعیہ بن نصر یمن کا ایک بادشاہ تھا اس نے ایک دن ایک عجیب خواب دیکھا جس سے وہ دہشت زدہ ہو گیا۔ معبرین کو بلایا، اور انھیں بتایا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے مجھے خواب اور اس کی تعبیر بتاؤ! انھوں نے کہا
آپ اپنا خواب بیان کیجیے ہم اس کی تعبیر عرض کر دیں گے۔ بادشاہ نے کہا کہ
اگر میں نے خواب بتا دیا تو مجھے تعبیر پر یقین نہیں آئے گا اس لیے تم خود ہی خواب اور خود ہی تعبیر بیان کرو۔
معبرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ اگر بادشاہ سلامت ایسا چاہتے ہیں تو شطیح اور شق کو دربار میں بلا لیں کیونکہ ان سے زیادہ تعبیرِ رویا کا کسی کو علم نہیں ہے۔
وہی آپ کو اس کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔ سو ان دونوں کو بلا لیا گیا۔ شطیح شق سے پہلے پہنچا۔ بادشاہ نے کہا
میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس نے مجھے پریشان اور دہشت زدہ کر دیا ہے، مجھے وہ خواب اور اس کی تاویل بتاؤ۔ شطیح نے بتایا کہ
بادشاہ نے اندھیرے کا سمندر دیکھا، ہر طرف سیاہی کے ہیبت ناک بادل منڈلا رہے تھے اتنے میں بجلی کا کوندا لپکا، ظلمت کے پردے سے ایک شرارہ نمودار ہوا اور نشیب میں آ گرا جس نے ہر شے کو خاکِ سیاہ کر کے رکھ دیا، کوئی جاندار اور بے جان اس کی دستبرد سے نہ بچ سکا۔ بادشاہ نے کہا
تم نے خواب بالکل درست بیان کیا۔ اب اس کی تعبیر بتاؤ۔ وہ بولا
ابتدائی دور جنگوں اور آویزشوں میں گزرے گا۔ تمہارے ملک پر حبشی اور پھر ذی یزن کے لوگ حملہ آور ہوں گے۔ پھرایک سہانا دور آئے گا جب تمام حکومتیں ختم ہو جائیں گی۔
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا:انھیں کون ختم کرے گا؟ شطیح نے جواب دیا!
نَبِیٌّ زَکِیٌّ یَأْتِیْهِ الْوَحْیُ مِنْ قِبَلِ الْعَلِیِّ۞ (وہ ایک پاک نبی ہو گا، جس پر رب اعلیٰ کی طرف سے وحی کی جائے گی)
تو اس نے کہا:کہ وہ نبی کن میں سے ہو گا؟
کہا:وہ غالب بن فہر بن مالک بن نضر کی اولاد میں سے ہو گا،
ان کی قوم میں آخری زمانے تک بادشاہت رہے گی، بادشاہ نے پوچھا
کیا اس زمانے کی کوئی انتہا بھی ہو گی؟
کہا:ہاں ۞یَجْمَعُ فِیْهِ الْاَوَّلُوْنَ وَالْآخِرُوْنَ یَسْعَدُ فِیْهِ الْمُحْسِنُوْنَ وَ یَشْقَی فِیْهِ الْمُسِیْئُوْنَ۞ (وہ وقت جب سب اگلے پچھلے لوگ جمع ہوں گے نیکوکار سعادت اندوز ہوں گے اور بدکردار شقاوت و بدبختی سے دوچار ہوں گے۔ (البدیہ و النہایہ، ۳/۱۱۹-۱۱۸)
شہنشاہ بخت نصر کے حوالے سے ایسی ہی ایک بشارت حضرت دانیال ؈ سے منقول ہے۔ (دلائل النبوۃ: ابونعیم، 1/83)
جہاں تک سرزمینِ عرب کا تعلق ہے تو یہاں پر باقاعدہ طور پر ذکرِ میلادِ رسول ﷺ صدیوں سے جاری رہا۔ اس کی کیا اشکال تھیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم کتبِ تاریخ و رجال سے پتا چلتا ہے کہ آپ ﷺ کے جدِ امجد حضرت کعب بن لوی ؄ نے میلاد النبی ﷺ کے لیے پہلی مرتبہ انعقادِ محفل کا اہتمام شروع کیا۔ حضرت کعب بن لوی ؄ حضور ﷺ کے اجداد میں سے چھٹے نمبر پر ہیں۔
امام سہیلی رقمطراز ہیں:کہ حضرت کعب بن لوی ؄ وہ پہلےشخص تھے جنہوں نے یوم العروبہ کے روز لوگوں کو جمع کرنے کی رسم متعارف کروائی، قریش کے لوگ اس دن اکٹھے ہوتے تھے اور حضرت کعب بن لوی ؄ خطاب فرماتے تھے اور حضور کریم ﷺ کی بعثت کا تذکرہ کیا کرتے اور ان کو بتاتے تھے کہ حضور ﷺ میری اولاد میں سے ہوں گے اور لوگوں کو آپ ﷺ کی اتباع کرنے اور آپ ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیتے اور یہ اشعار پڑھتے
یَا لَیْتَنِی شَاھِدٌ فَحْوَاءَ دَعوَتهِ
إِذَا قُرَیْشٌ تُبَغِّی الْحَقَّ خِذْلَانَا
(کاش! میں حضور ﷺ کی دعوت کے وقت موجود ہوتا جب قریش حق کو ذلیل کرنے کے درپے ہوں گے) (الروض الانف از امام سہیلی:۱/۲۶) اور یوں عرب میں میلاد ناموں کا آغاز ہوا۔
عہدِ ظہور اور میلاد النبیﷺ
عہدِ ظہور سے مراد وہ وقتِ سعید ہے جب سیدالمرسلین ﷺ اس دنیائے رنگ و بو میں جلوہ فرما ہوئے۔ اس عہدِ میمون میں ارتقائے جشنِ میلاد النبی ﷺ کا نمایاں وصف زمین و آسمان میں خدائے ذوالجلال کی طرف سے خصوصی اہتمامِ چراغاں ہے۔
امام ابو نعیم عمرو بن قتیبہ ؄ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن قتیبہ کے والد ماجد، جو کہ متبحر عالم تھے، نے حقیقت بیان فرمائی کہ:’’جب سیدہ آمنہ  کے ہاں ولادت کا وقت قریب آیا، تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا:
تمام آسمانوں اور جنتوں کے دروازے کھول دو اور انھیں وہاں حاضر ہونے کا حکم دیا،
چنانچہ و ہ ایک دوسرے کو بشارتیں دیتے ہوئے نازل ہوئے،
دنیا کے پہاڑ فخر سے بلند ہو گئے، سمندر چڑھ گئے اور ساکنانِ سمندر باہم خوشخبریاں دینے لگے۔ ہر فرشتہ وہاں حاضر ہو گیا، جبکہ شیطان کو ستر زنجیروں میں جکڑ کر بحرِ خضراء کے تند و تیز پانیوں میں الٹا لٹکا دیا گیا.
اس کے ساتھ ہی دیگر شیاطین اور سرکش مخلوقات کو بھی پاپندِ طوق و سلاسل کر دیا گیا، اُس روز سورج کو نور کی شاندار چادر اوڑھا دی گئی اور کنارِ آفتاب ستر ہزار حوریں ہوا میں کھڑی کر دی گئیں
جو ولادتِ محمد ﷺ کا انتظار کرنے لگیں،
حضور ﷺ کے اعزاز میں قدرت خداوندی نے اس سال دنیا بھر کی عورتوں کے لیے صرف نرینہ اولاد مقرر فرمائی، ہر درخت ثمردار ٹھہرا اور ہر جگہ پُرامن ہو گئی۔
چنانچہ جب نبی کریم ﷺ پیدا ہوئے تو ساری دنیا نور سے بھر گئی،
فرشتوں نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور ہر آسمان میں ایک زبرجد اور ایک یاقوت کا ستون قائم کر دیا گیا،
جن سے آسمان درخشندہ ہو گیا، آسمان میں ان ستونوں کا شہرہ اس قدر عام ہوا کہ جب حضور ﷺ نے شبِ معراج کو ان کا مشاہدہ فرمایا، تو آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ ستون ہے جو آپ ﷺ کی ولادتِ پاک کی خوشی میں نصب کیے گئے تھے۔
آپ ﷺ کی ولادت کی شب اللہ تعالیٰ نے حوض کوثر کے کنارے مہکتی کستوری کے ستر ہزار درخت پیدا فرمائے جن کے پھلوں کو اہلِ جنت کے لیے خوشبودار دھونی قرار دیا۔
اُس رات تمام آسمان والے اللہ کی بارگاہ میں سلامتی کی دعائیں مانگتے رہے،
تمام بت اوندھے منہ گر گئے۔ لات و عزیٰ کے شیطان اپنے استھان سے یہ کہتے ہوئے باہر نکل پڑے
ہائے ہائے قریش کے پاس امین تشریف لے آیا!
قریش کے ہاں صدیق آن پہنچا! قریش کو کچھ پتہ نہیں کہ انھیں کیا نعمت عطا ہو چکی ہے!
جہاں تک بیت اللہ شریف کی بات ہے تو اس کے اندر سے کئی روز تک یہ آواز سنائی دیتی رہی کہ
اب میرا نور مجھے واپس کر دیا جائے گا، میری زیارت کرنے والے ازسرنو آنے لگیں گے، مجھے جاہلیت کی نجاستوں سے پاک کر دیا جائے گا، اے عزیٰ !تُو ختم ہو چکا۔
بیت اللہ شریف پر مسلسل تین دن رات تک اسی طور سے لرزہ طاری رہا۔
یہ پہلی علامت تھی، جو آقائے کریم ﷺ کی ولادت کے وقت قریش کےمشاہدہ میں آئی۔
(الخصائص الکبری:۱/۸۰) اسی نورانی برساتِ یمن و برکت میں اللہ تعالیٰ نے آسمانِ درخشاں سے حسین و جمیل خواتین نازل فرمائیں اور ان کے ہمراہ حضرت مریم اور آسیہ ؉ کو بھی بھیجا تاکہ وہ سیدہ آمنہ  کو دلاسہ دیں اور انھیں باور کروائیں
کہ وہ ایک عظیم و بے مثال نورانی ہستی کی جنم دینے والی ہیں۔
امام زرقانی بیان کرتے ہیں کہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں کہ میں نے کھجور کی طرح لمبی خواتین کو دیکھا جیسے قبیلہ عبدمناف کی عورتیں ہوتی ہیں۔
انھوں نے مجھے اپنے گھیرے میں لے لیا۔ میں نے ان سے زیادہ روشن چہرے والی خوبصورت عورتیں کبھی نہیں دیکھیں۔ ان میں سے ایک آگے بڑھی، میں نے اس کے ساتھ ٹیک لگا دی۔
پھر دوسری آگے بڑھی، اس نے پینے کے لیے ایک پاکیزہ مشروب پیش کیا، جو دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شہد سے زیادہ میٹھا تھا، بڑے پیار سے بولی:
اور پیو! میں نے مزید پی لیا۔
حضرت آمنہ  فرماتی ہیں کہ میرے استفسار پر ان خوبصورت عورتوں نے مجھے بتایا:
کہ وہ حضرت آسیہ، حضرت مریم  ہیں اور ان کے ساتھ جنتی حوریں ہیں۔
(شرح زرقانی علی المواہب:۱/۲۱۰)
جب حضور ﷺ کی ولادت باسعادت ہو گئی تو حضرت عبدالمطلب ؈ کو ایک شخص نے خبر دی کہ سیدہ آمنہ  کے ہاں لڑکے نے جنم لیا ہے۔ تو آپ بے حد مسرور ہوئے اور ان کے ہاں تشریف لے گئے۔
حضرت آمنہ  نے ولادت کے وقت، جن انوار تجلیات کا نظارہ کیا تھا سب آپ ؈ کے گوش گزار کر دیا۔
حضرت عبد المطلب ؈ حضور ﷺ کو کعبہ شریف میں لے گئے،
وہاں کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا فرمائی اور جو انعام انھیں ودیعت کیا گیا تھا،
اس کا شکر ادا کیا۔ امام بیہقی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالمطلب ؈ کی زبانِ اطہر پر فی البدیہ مندرجہ ذیل اشعار رواں ہو گئے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی أَعْطَانِی
ھَذَا الْغُلَامَ الطَّیَّبَ الْأَرْدَانِ
قَدْ سَادَ فِی الْمَھْدِ عَلَی الْغِلْمَانِ
أُعِیْذُہُ بِالْبَیْتِ ذِی الْأَرْکَانِ
حَتَّی یَکُوْنَ بُلْغَةَ الْفِتْیَانِ
حَتَّی أَرَاہُ بَالِغَ الْبُنْیَانِ
أُعِیْذُہُ مِنْ شَرِّ ذِی شَنْآنِ
مِنْ حَاسِدٍ مُضْطَرِبِ الْعِیَانِ
ترجمہ: ’’سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کےلیے جس نے مجھے پاک آستینوں والا بچہ عطا فرمایا،
یہ اپنے پنگھوڑے میں تمام بچوں کا سردار ہے میں اسے ارکان دار بیت اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں،
یہاں تک کہ میں اس کو طاقتور اور توانا دیکھوں میں اس کو ہر دشمن اور ہر حاسد، آنکھوں کو گھمانے والے کے شر سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں (دلائل النبوۃاز بیہقی:۱/۱۱۲)
نبی مکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر جب ساری کائنات عالمِ وجد و سرور میں اپنی تمام تر زینتوں کے ساتھ رقصاں تھی، تو ممکن نہ تھا کہ اہلِ کتاب،
جنہیں آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی علامات سے گزشتہ انبیائے کرام نے آگاہ فرما دیا تھا، اس لطافت آمیز ماحول سے بےخبر رہتے۔
ارتقائےمیلاد النبی ﷺ کی یہ انتہائی روح پرور کڑی ہے کیونکہ اعلانِ بعثت کے بعد یہی یہود و نصاریٰ آپ ﷺ کی مخالفت پر کمربستہ رہے
مگر آج یومِ ولادت پر ایک دوسرے کو فکرآمیز خوشی سے میلادِ رسول ﷺ کی خبر دے رہے ہیں۔
شاعرِ رسول ﷺ سیدنا حسّان فرماتے ہیں کہ میری عمر ابھی سات یا آٹھ سال تھی مجھ میں اتنی سمجھ بوجھ تھی کہ جو میں دیکھتا اور سنتا تھا وہ مجھے یاد رہتا تھا۔
ایک دن علی الصبح ایک اونچے ٹیلے پر یثرب میں ایک یہودی کو میں نے چیختے چلاتے ہوئے دیکھا وہ یہ اعلان کر رہا تھا
۞یَا مَعْشَرَ یَهُوْدٍ!۞
(اے گروہ یہود!) یہود یہ اعلان سن کر اس کے گرد جمع ہو گئے اورپوچھنے لگے:کیا بات ہے؟ اس نے کہا:
۞طَلَعَ نَجْمَ اَحْمَدَ الَّذِیْ وُلِدَ بِہِ فِیْ ھَذِہِ اللَّیْلَۃِ اَیْ اَلَّذِیْ طُلُوْعُہُ عَلَامَۃٌ عَلَی وِلَادَتِہِ ﷺ فِیْ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ فِیْ بَعْضِ الْکُتُبِ الْقَدِیْمَۃِ۞ [(السیرۃ النبویہ ، احمد بن زینی دحلان:۱/۳۷)
اس رات احمد کا وہ ستارہ طلوع ہو چکا ہے جو اس کے میلاد کی نشانی ہے یعنی وہ ستارہ جس کی بابت بعض کتبِ قدیمہ میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس رات کو طلوع ہو گا جس رات احمد ﷺ کی ولادت ہو گی
کعب الاحبار کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؈ کو نبی کریم ﷺ کے وقتِ ولادت سے آگاہ کر دیا تھا۔
اور موسیٰ ؈ نے اپنی قوم کو مطلع کر دیا تھا کہ فلاں مشہور ستارہ جب اپنی جگہ سے حرکت کر جائے تو عین وہی وقت میلادِ مصطفیٰ کا ہے۔
اور یہ بات بنی اسرائیل میں ایسی عام تھی کہ علماء نسل در نسل ایک دوسرے کو بتلاتے چلے آ رہے تھے۔
(السیرۃ النبویۃ:۱/۲۸)
عہدِ نبوی اور میلاد النبیﷺ
عہدِ نبوی خود حضور ﷺ کی سنتِ مبارکہ سے متصف ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے میلادِ عظیم کو ہفتہ وار جشن کی طرح عطا فرمائی جس کا مقصد جشنِ میلاد کو انفرادی اور اجتماعی رنگ دینا تھا
یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ ہر سوموار کو روزہ رکھتے تھے اور جب صحابہ کرام نے اس خاص دن کو روزہ رکھنے کی وجہ دریافت کی تو آپ ﷺ نے واضح انداز میں ارشاد فرمایا
۞ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُ فِیْہِ وَ یَوْمٌ بُعِثْتُ اَوْ اُنْزِلَ عَلَیَّ فِیْہِ۞ (صحیح مسلم، رقم:۲۶۳۶)
’’یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی روز میری بعثت ہوئی اور اسی روز مجھ پر قرآن نازل ہوا‘‘
جشنِ میلاد کے اطوار میں آپ ﷺ نے صرف انعقادِ عباداتِ الٰہی کا ہی اضافہ نہیں فرمایا
بلکہ سنتِ اطعام کو بھی رواج دیا۔
حضرت انس ؄ سے روایت کرتے ہیں کہ
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ عَقَّ عَنْ نَفْسِهِ بَعْدَ النُّبُوَّةِ۞
[(السنن الکبریٰ، بیہقی، 19273)
حضور نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت کے بعد اپنا عقیقہ کیا جبکہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؄ نے فرمایا:
لَمَّا وُلِدَ النَّبِيُّ ﷺ عَقَّ عَنْهُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بِكَبْشٍ۞
[(تاریخ دمشق:ابن عساکر۳/۳۲)
جب حضور ﷺ کی ولادت ہوئی تو حضرت عبد المطلب نے آپ ﷺ کی طرف سے ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا
ساتویں روز آپ ﷺ کے عقیقہ کی دعوت کی۔
ان دونوں احادیث پر تبصرہ کرتے ہوئے امام سیوطی رقمطراز ہیں کہ
حدیثِ انس ؄ کے مطابق، حضور ﷺ نے اعلان نبوت کے بعد خود عقیقہ کیا
باوجودیکہ آپ ﷺ کے دادا سیدنا عبد المطلب آپ ﷺ کی پیدائش کے ساتویں روز آپ ﷺ کا عقیقہ کر چکے تھے۔
چونکہ عقیقہ د و بار نہیں ہوتا،
لہٰذا اس واقعہ سے یہی مراد لیا جائے گا کہ آپ ﷺ نے اپنے آپ کو اللہ کی طرف سے رحمۃ للعالمین اور اپنی امت کے مشرف ہونے کی وجہ سے اپنی ولادت کی خوشی کے اظہار کے لیے خود جشن منایا۔
بالکل ایسے ہی جیسے آپ ﷺ اسی وجہ سے خود پر درود پڑھا کرتے تھے۔
اسی طرح ہمارے لیے بھی مستحب ہے کہ ہم حضور ﷺ کے یوم ولادت کو انعقادِ اجتماعات، اہتمامِ اطعام کر کے اظہارِ شکر کریں
اور اسی طرح سے قربِ الٰہی کے حصول کے لیے دیگر وسائل و عبادات کا اہتمام اوراظہارِ مسرت کے مختلف ذرائع کا استعمال کریں
۔ (حسن المقصد فی عمل المولد:۶۵)
یہاں پر اگر کسی کو خلش لاحق ہو جائے کہ حضور ﷺ نے صرف اپنے عقیقہ کا ہی اہتمام فرمایا تھا
تو اسے چاہیے کہ وہ انصاف سے عقیقہ کی حقیقت پر غور کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ عقیقہ فی نفسہ ولادت پر اظہارِ تشکر و امتنان ہے۔
اسے ولادت کی خوشی کی تقریب کہہ لیں یا تقریب میلاد، مفہوم ایک ہی ہے کہ
ولادت کے موقع پر خوشی منائی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اگر بعثت کے بعد تمام امور کا اعادہ کرنا ناگزیر ہوتا تو حضور ﷺ کو ام المومنین حضرت خدیجہ  سے اپنے نکاح کی بھی تجدید کرنی چاہیے تھی۔
عقیقہ تو محض ایک صدقہ ہے جبکہ نکاح عقدِ ازدواج ہے۔ پھر آپ ﷺ کے نکاح پر مہر کی ادائیگی بھی حضرت ابو طالب ؄ نے خود اپنی جیب سے کی تھی.
اگر یہ بات درست ہے تو پھر اس کی تجدید بھی واجب آتی ہے۔
اس لیے یہ نقطہ نظر درست نہیں کیونکہ شریعت مطہرہ نے دورِ جاہلیت میں کیے گئے جائز کاموں کو سندِ قبولیت عطا کی ہے
اور شرعی احکام نزولِ وحی کے بعد نافذ کیے گئے۔
جیسےقرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:
﴿إِلَّامَاقَدْ سَلَفَ﴾ [(النساء:۲۲)
سوائے اس کے کہ جو دور جہالت میں گزر چکا کے تحت قبول اسلام کے بعد دور جاہلیت کے تمام گناہ بھی معاف کر دیے گئے. ہر ہر گناہ کی الگ الگ توبہ درکار نہیں ہوتی،
چہ جائیکہ کہ امور صالحہ اور امور مستحسنہ مثلاً نکاح، عقیقہ، معاہدے اور ایسے تمام امور خیر۔
اسی لیے امام سیوطی فرماتے ہیں کہ دوبارہ عقیقہ کرنے کی کوئی ضرورت تھی نہ کوئی شرعی تقاضا تھا۔ لہٰذا اس پوری تفصیل سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ
بعثت کے بعد حضور ﷺ نے میلاد مناتے ہوئے بکرے ذبح فرمائے تھے۔
(عید میلاد النبی ﷺاز طاہر القادری:۳۹۸)
عہد قرون ثلاثہ اولیٰ
جشن میلاد منانا عشق و محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کا حتمی اور مستند ذریعہ ہے۔
تاریخ اسلام کا بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو
قرون ثلاثہ اولیٰ سے لے کر آج تک عہد بہ عہد حیاتِ انسانی کے مختلف شعبوں میں کئی اعتبارات سے طرزِ بود و باش، معاشرتی میل جول اور غم و خوشی کے اظہار کے طور طریقے بدلتے رہے ہیں۔
قرونِ ثلاثہ اولیٰ میں اگرچہ کوئی ایسا دستاویزی ثبوت ہم تک نہیں پہنچا
جس سے معلوم ہو کہ صحابہ و تابعین اور تبع تابعین ؇ کا میلاد النبی ﷺ منانے کا طریقہ کیا تھا
جس سے اس دور میں ارتقائے میلاد کی بابت کسی زینہ کا حتمی فیصلہ ہو سکے۔
ہاں اتنا ضرور ہے اعمالِ صحابہ سے یہ بات ضرور ثابت ہے کہ آپ ﷺ جب مدینہ شریف میں تشریف آور ہوئے تھے تو اہلِ مدینہ نے کس طرح سے جلوس باندھ کر اور دف بجا کر حضور سیدالکونین ﷺ کا کئی میل مدینہ سے باہر نکل کر استقبال کیا تھا
(دیکھیے:سیرۃ ابن ہشام:۲/۱۳۳ـ ۱۳۵)
اس طریقِ استقبال اور طرزِ جلوس سے مسرات کے موقع پر صحابہ کے اظہارِ خوشی کے طریقوں کی طرف مستند اشارہ ملتا ہے۔
جو اس بات کا جواز ہے کہ اسلام میں کسی عظیم خوشی کے موقع پر جشن کا اہتمام اور دھوم دھام سے اظہارِ مسرت کرنا امر جائز اور فطری تقاضا ہے۔
تاہم ارتقائے میلاد النبی ﷺ کے نقطۂ نگاہ سے اس عہد کی بابت کچھ باتیں غور طلب ہیں،
اول:وصالِ رسول ﷺ کی وجہ سے تمام صحابہ کرام ؇ کے ظاہر و باطن میں بوجہِ فرقت و تنہائی جو خلاء پیدا ہو گیا تھا
اس خلاء کی سبیل سے جو حزن و ملال چھا گیا تھا
وہ ان کی زندگیوں کا ہمیشہ کے لیے سرمایۂ حیات رہا۔
اس حزن و ملال سےجن اطوارِ جشن نے جنم لیا
اس میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر مختلف پہلوؤں سے انفرادی اور اجتماعی سطح پر روشنی ڈالنا،
آپ ﷺ کی سراپا نگاری کرنا اور رسول اللہ ﷺ سے اظہارِ محبت کرنا،
اور انھی ﷺ کی یاد میں نعت گوئی اور قصیدہ خوانی کرنا شامل ہے۔
کتبِ احادیث و سیر ایسے واقعات سے معمور ہیں
جن سے ثابت ہوتا ہے صحابہ و تابعین اور تبع تابعین ہمیشہ یادِ رسول ﷺ میں قصیدہ خوان رہتے تھے۔
یہ قصیدہ خوانی ہی ہے،  جس کی وجہ سے ہم تک سیرتِ طیبہ اور تعلیماتِ اسلامیہ کا ایک ایک پہلو منتقل ہوا ہے۔
لہٰذا اس عہد میں قرآن و حدیث کے دروس کے حلقے قائم ہوا کرتے تھے
جہاں وہ اپنے آقائے مہربان ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں محبت و الفت کا اظہار کرتے ۔
نذرانۂ عقیدت پیش کرتے۔
اس روایت کو ہم آج بھی اپنے مدارس میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔
علماء ہر پیر اور جمعرات کو محافل کا انعقاد کرتے ہیں جن میں حضور ﷺ کی بارگاہ میں ذکر و نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
دوم:صحابہ و تابعین اور تبع تابعین کے دور کی اہم خصوصیت حدودِ اسلامی میں توسیع اور اسلامی تعلیمات کی عالمگیر سطح پر اشاعت ہے
یہ بذاتِ خود عشقِ رسول ﷺ کا آفاقی پہلو ہے جو جشنِ میلاد النبی ﷺ کی مخصوص خصوصیت ہے۔
سوم:صحابہ و تابعین کا کسی کام کو نہ کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ
اس فعل کو کرنا ناجائز ہے ہمارے لیے پہلی ترجیح قرآن و سنت ہے پھرصحابۂ کرام و تابعین۔
جب حضور ﷺ نے خود میلادِ پاک منا کر اپنا عمل امت کے سامنے رکھا تو پھر کسی اور کے عمل کی حاجت نہیں رہتی
اس کی ضرورت کو ناگزیر گرداننا جہالت ہے۔
عہد سلاطین تا حال
میلادِ النبی ﷺ کے ارتقاء کے سلسلے میں عہدِ سلاطین تاحال نہ صرف طویل ترین ہے بلکہ سنگِ میل کی بھی حیثیت رکھتا ہے
کیونکہ اس عہد میں اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ اور گزشتہ تمام اہلِ ایمان کی سُنن کا اجتماع ہو گیا تھا
اس کے ساتھ مختلف سائنسی
ایجادات و تکنیکات کی وجہ سے جو رونقیں حیاتِ انسانی میں پیدا ہوئیں وہ جشنِ میلاد النبی ﷺ کا حصہ بن گئیں۔ اس ضمن میں تاریخ نے جس اہم ترین زینہ کو اپنے دامن کی زینت بنایا وہ شاہِ اربل  ہیں۔
امام سیوطی بیان فرماتے ہیں کہ
سب سے پہلے شاہ اربل ملک مظفر ابو سعید (۵۳۲-۶۳۰) نے حکومتی سطح پر میلاد منانے کا آغاز کیا۔
یہ صلیبی جنگوں کا دور تھا (الحاوی للفتاوی للسیوطی:۱۸۹)۔
ابن کثیر رقمطراز ہیں کہ شاہ اربل مولد النبی ﷺ پر ایک عظیم الشان محفل کا اہتمام کرتے تھے۔
وہ بڑے زیرک، دانا اور شجاع، عاقل، دانشور اور عادل تھے۔
اس زمانے میں شیخ ابو خطاب ابن دحیہ نے اس مقصد کے لیے ایک جلد پر مبنی کتاب لکھی
اس کا نام التنویر فی مولد البشیر النذیر تجویز کیااور ملک مظفر کی خدمت میں پیش کی
تو اس نے دحیہ کو ایک ہزار اشرفی بطور انعام عطا کیں۔ (البدایۃ و النہایہ،۲/۱۳۶ـ ۱۳۷)
میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عام تعطیل ہوتی تھی۔
سبط ابن جوزی شاہ اربل کے اہتمامِ ضیافت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
اس محفل میں اس زمانے کے اکابر علماء اور عظیم صوفیاء کرام شرکت فرمایا کرتے تھے۔
محفل میں موجود ایک شخص اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتا ہے کہ
میں نے بھیڑوں کے پانچ ہزار سر، دس ہزار مرغیاں اور فرنی کے ایک لاکھ سکورے اور حلوے کے تیس ہزار طشت خود دیکھے۔
جو علماء وصوفیاء اس ضیافت میں شرکت کرتے تھے شاہ اربل ان کو خلعتیں پہناتا تھا۔
فجر سے ظہر تک صوفیاء کے لیے مجلسِ ذکر و سماع کا انعقاد کیا جاتا،
وہ اس میں رقص کرتے۔ اس طرح سے وہ میلاد شریف پر تین لاکھ دینا ر خرچ کرتا تھا۔
(مرآۃ الزمان:۲۲/۳۲۴)
جشنِ میلاد النبی ﷺ کے ضمن میں یہی طریق سلطان ابوحمو نے اپنایا۔
علامہ رضا بیان کرتے ہیں کہ
جزائر کے سلطان ابو حموموسی (۷۲۳-۷۹۱) بڑے اہتمام اور اجلال کے ساتھ شب میلاد منایا کرتے تھے۔
ابو حمو میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی شب اپنے دارالحکومت تلمسان میں بہت بڑی دعوت کا اہتمام کیا کرتے تھے
جس میں خاص و عام سب لوگ مدعو ہوتے تھے۔
جلسہ گاہ میں ہر طرف قیمتی قالین بچھے ہوئے تھے۔
طرح طرح کے پکوان پکائے جاتے جن کی خوشبو ہر ایک کو مخمور کر دیتی۔
تمام لوگوں کو درجہ بدرجہ بٹھایا جاتا تھا۔
اس کے بعد بارگاہِ رسالت میں ہدیۂ عقیدت پیش کرنے کے لیے مدحیہ قصائد پڑھے جاتے تھے اور
ایسے مواعظ اور نصائح کا سلسلہ جاری رہتا تھا
جو لوگوں کو گناہوں سے برگشتہ کر کے عبادت و اطاعت کی طرف راغب کرتے تھے۔
یہ سارے کام اس ترتیب سے ہوتے کہ حاضرین کو قطعاً تھکاوٹ یا اکتاہٹ کا احساس نہ ہوتا۔
سلطان کے قریب شاہی خزانہ رکھا ہوتا تھا، رات کے گھنٹوں کے برابر اس میں دروازے ہوتے
جب ایک گھنٹہ گزرتا تو اس دروازے پر اتنی چوٹیں لگتیں جتنے بجے ہوتے۔
دروازہ کھلتا اور ایک خادمہ نکلتی جس کے ہاتھ میں انعامات لینے والوں کی فہرست ہوتی۔
سلطان اس کے مطابق انعام تقسیم کرتا اور یہ سلسلہ اذانِ صبح تک جاری رہتا۔
اسی کی تائید میں امام نووی (۶۳۱-۶۷۷) کے شیخ امام ابو شامہ (۵۹۹-۶۶۵) فرماتے ہیں کہ
ہمارے دور کا نیا مگر بہترین عمل حضور ﷺ کے یومِ ولادت پر جشن منانے کا عمل ہے۔
جس میں اس مبارک خوشی کی مناسبت سے صدقہ و خیرات، محفلوں کی زیبائش و آرائش اور اظہارِ مسرت کیا جاتا ہے۔
امام سخاوی (۸۳۱-۹۰۲) بیان کرتے ہیں:میلاد کا رواج تین صدی بعد ہوا۔
اس کے بعد سے تمام ممالک و امصار میں مسلمانانِ عالم عید میلاد النبی ﷺ مناتے چلے آ رہے ہیں۔
(محمد رسول اللہ:۳۱-۳۳)
ارتقائے میلاد النبی ﷺ کی ایک نمایاں کڑی اس وقت عام ہوئی
جب سلطنت عثمانیہ (۱۵۱۷-۱۹۲۴) کا قیام عمل میں آیا۔
سلطنتِ عثمانیہ کے بادشاہوں اور اہلکاروں نے جلوس کا طریقہ متعارف کروایا۔
لہٰذا اس عہدِ سعید میں میلاد النبی ﷺ کے روز مدینہ طیبہ کے گلی کوچوں کو دلہن کی طرح سجا دیا جاتا۔
لوگ قافلوں کی صورت گلی کوچوں سے نکلتے اور مدینہ منورہ میں جمع ہو جاتے۔
ملا علی قاری بیان کرتے ہیں کہ سلاطین اندلس یوم ولادتِ مصطفیٰ ﷺ پر رات کے وقت قافلوں کی شکل میں نکلتے جس میں بڑے بڑے علماء و آئمہ شامل ہوتے۔
راستے میں جگہ جگہ سے لوگ ان کے ساتھ ملتے جاتے۔
یہ سب اہلِ کفر کے سامنے کلمہ حق بلند کرتے۔
(الموردالروی فی مولدالنبی ﷺ ۲۷)
شاہ ولی اللہ (۱۱۱۴-۱۱۷۴) مکہ مکرمہ میں اپنے قیام کی تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
میں مکہ مکرمہ میں حضور ﷺ کی ولادت کے دن ایک ایسی محفل میں حاضر ہوا
جس میں لوگ آپ ﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ درود و سلام عرض کر رہے تھے
وہ واقعات بیان کر رہے تھے جو آپ ﷺ کی ولادت کے موقع پر ظاہر ہوئے۔
جن کا مشاہدہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہوا۔
(فیوض الحرمین،۷۰، ۷۱)
ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ اہل مدینہ بھی اس طرح کی محافل کا انعقاد کرتے۔ اسی طرح کے امور بجا لاتے۔ (المورد الروی:۱۵)
ملا علی قاری مزید فرماتے ہیں کہ
بلادِ ہند میں میلاد النبی ﷺ کی تقریبات جیسا کہ اہل قلم نے مجھے بتایا ہے ہندوستان کے لوگ ، دوسرے ممالک کی نسبت بڑھ چڑھ کر ان مقدس اور بابرکت تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔
(المورد الراوی:۲۸)
باقی رہا دیگر عجم کا معاملہ، تو میں کہتا ہوں جب یہ مبارک مہینہ آتا ہے
تو اہل عجم بھی اس میں بڑی بڑی مجالس و محافل کا انعقاد کرتے۔
ہرخاص و عام کے لیے مختلف قسم کے کھانے بنائے جاتے ہیں،
مسلسل تلاوت اور قرآن پاک ختم کیے جاتے ہیں،
نیز دیگر اذکار کا ورد بھی جاری رہتا ہے، عمدہ قصائد پڑھے جاتے
اور مختلف خیر و بھلائی کے امورخوشی و سرور کے ساتھ سر انجام دیے جاتے ہیں
حتیٰ کہ کچھ خواتین چرخہ کات کر اس کی کمائی جمع کرتی ہیں
اور یومِ میلا د پر مشائخ و علماء کو جمع کر کے ان کی دعوت و ضیافت کا اہتمام کرتی ہیں۔
شبِ میلاد کی تعظیم و توقیر کے پیش نظر علماء و مشائخ میں سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا
بلکہ اس محفل کے انوار و سرور سے فیضیاب ہونے کی امید رکھتے ہوئے حاضر ہوتا ہے۔
(الموردالروی:۲۹)
انھی کی تائید و نصرت میں شیخ محدث دہلوی (۹۵۸-۱۰۵۲) رقمطراز ہیں کہ
ہمیشہ سے مسلمانوں کا یہ دستور رہا ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں میلاد کی محفلیں منعقد کرتے ہیں،
دعوتیں کرتے ہیں،
اس کی راتوں میں صدقات و خیرات اور خوشی کے اظہار کا اہتمام کرتے ہیں۔
ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیک کام کریں۔
اس موقع پر وہ ولادتِ باسعادت کے واقعات بھی بیان کرتے ہیں۔
(ماثبت من السنۃ، عبدالحق:۲۰)
ان دلائل و براہین سے ثابت ہوتا ہے کہ
میلاد النبی ﷺ کا انعقاد تاریخِ اسلام کے آغاز سے ہی عام ہو گیا تھا
آج تک جاری ہے ہاں البتہ مختلف ادوار میں اس کی شکلیں متنوع رہی ہیں
یہاں تک کہ ہم آج کے سائنسی دور میں ارتقاء کی اس صورت پر پہنچ چکے
جس کا مشاہدہ ہم سب ہر سال عیدِ میلاد النبیؐ پر کرتے ہیں۔
یہی ہماری تہذیب و ثقافت کی جاوداں علامت
اور اپنے آقائے نامدار ﷺ سے اظہارِ عشق و محبت اور قربِ الٰہی کے حصول کا بہترین وسیلہ ہے۔
٭٭٭

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles