42.1 C
Lahore
Friday, July 12, 2024

Book Store

( مجروح ( آخری قسط نمبر 56

 

( 56 مجروح ( آخری قسط
شکیل احمد چوہان

۞۞۞

سرمد کے جسم کو اپنے اُوپر سے ہٹاتے ہوئے منشا ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھی۔ اُس کا حسین چہرہ قبرستان کی دھول سے کالا ہو چکا تھا۔اُسی دھول میں سے ایک قہقہہ بلند ہوا۔
وہ قہقہہ کشمالہ کا تھا جس میں درد کی آمیزش کے ساتھ ساتھ بہت سارا طنز بھی تھا۔ جب مطلع صاف ہوا تو کشمالہ نے منشا سے نظریں ملاتے ہوئے اپنے اور منشا کے درمیان زمین پر تھوکتے ہوئے کہا :
’’تُھو ایسی زندگی پر۔۔۔جو بھیک میں ملے ڈیٹا سے ڈاؤن لوڈ کی ہو۔‘‘
منشا نے آگ بگولہ ہوتے ہوئے آگے بڑھ کر کشمالہ پر ہاتھ اُٹھایا تو کشمالہ نے اُس کا ہاتھ روکتے ہوئے کہا:
’’تمھاری ونڈو کرپٹ ہو چکی ہے۔‘‘
منشا نے اپنے اردگرد دیکھا۔ ہر طرف اُس کے زخمی اور مردہ بندے پڑے ہوئے تھے۔ خلقت ہولے ہولے سرمد کی طرف آرہی تھی۔ کشمالہ نے جھٹکے سے اُس کا ہاتھ پیچھے ہٹایا۔ یکایک منشا مزاری پر خوف طاری ہونے لگا۔
طاقت اور دولت کے باوجود اُس کا غرور تہس نہس ہو چکا تھا۔اُس کے اندر کھلبلی مچ گئی۔ منشا نے وہاں سے فرار کا راستہ بہتر سمجھا۔ وہ بوکھلائی سی وہاں سے چل دی۔
’’آخری بات تو سنتی جاؤ۔۔۔!‘‘
منشا نے پلٹ کر دیکھا تو کشمالہ کہنے لگی:
’’تمھارے جیسے جاگیرداروں اور جبران جیسے رشوت خوروں سے ہم کنجر ہی بھلے۔۔۔‘‘
منشا نے یہ سنتے ہی اپنی گاڑی کی طرف دوڑ لگا دی۔ منشا کا وفادار مولوی چار دیواری سے گردن نکالے یہ دیکھ رہا تھا۔ پیچھے سے اُس کے ساتھی نے اُس کے پچھواڑے پر زور سے لات ماری۔
وہ منہ کے بل احاطے سے جا باہر گرا۔ سرمد کے حمایتی مولوی نے دُوسرے مولوی کے کان کو عطا کی طرح ہی مروڑی دیتے ہوئے بھاگتی منشا کی طرف اشارہ کیا۔

۞۞۞

کشمالہ نے پلٹ کر سرمد کی طرف دیکھا۔ ہیڈماسٹر صاحب اُس کے پاس زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔ سرمد اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ وہ ہیڈماسٹر صاحب سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر سانسوں کی ڈور نے مہلت ہی نہ دی۔
منشا کو وہاں سے بھاگتا دیکھ کر خلقت کے دلوں سے بھی اُس کا خوف جاتا رہا۔
کشمالہ نے اردگرد نظر دوڑائی۔۔۔ لوگ دیوانہ وار سرمد کی لاش کی طرف دوڑے چلے آرہے تھے۔ کشمالہ ٹک ٹکی باندھے سرمد کو دیکھے چلی جا رہی تھی۔ اُسے پتا بھی نہیں چلا کب چندا نے اُس کے پاس آ کر اپنا ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھ دیا۔
چندا بھی سرمد کو دیکھنے لگی۔ وہ دونوں تب تک سرمد کو دیکھتی رہیں جب تک اُس کی لاش کے گرد دائرہ نہیں بن گیا۔ لوگوں کا دائرہ بنتے ہی چندا  نے کشمالہ کو اپنی بغل میں لیا اور اپنی گاڑی کی طرف چلی دی۔
کشمالہ کی گاڑی چلے جانے کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش ہونے لگی۔
منشا مزاری کے گارڈز کی گاڑی اُدھر ہی کھڑی تھی، کیوں کہ اب اُسے چلانے والا کوئی نہ تھا۔ اُس گاڑی کے پیچھے لاکھوں کا اسلحہ بھی پڑا تھا۔

ہتھیاروں سے تباہی جنم لیتی ہے اور ظلم سے مجروح۔۔۔!!‘‘

The End

۞۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles