23 C
Lahore
Saturday, April 13, 2024

Book Store

( مجروح ( قسط نمبر 38

 

( 38 مجروح ( قسط
شکیل احمد چوہان

۞۞۞

تقریباً سوا بارہ سال پہلے پنجاب یونیورسٹی کے ایک درخت کی اوٹ سے آنکھوں میں محبت سجائے وہ منشا مزاری کو چھپ کر دیکھ رہا تھا۔ پھر اُسے منشا کے پاس آتی ہوئی رمشا مزاری دکھائی دی۔ یکایک محبت کی نظروں  نے نفرت کا روپ دھار لیا۔
رمشا مزاری کی توجہ حاصل کرنے کے لیے وہ کئی دن تک اُس کی روزمرہ مصروفیات کا جائزہ لیتا رہا۔ سرمد کو رمشا پر نظر رکھنے سے پتا چلا کہ وہ دونوں بہنیں ایک ہی گاڑی میں یونیورسٹی آتی ہیں۔ اُن کے ساتھ عطا کے علاوہ ایک ہٹا کٹا ڈرائیور بھی ہوتا ہے۔
منشا اور رمشا کے شعبے الگ الگ تھے۔ رمشا کا معمول تھا کہ وہ کلاس سے فارغ ہونے کے بعد اپنی کلاس فیلو ثمرہ کو یونیورسٹی کے اندر ہی واقع اُس کے ہاسٹل تک پیدل چھوڑنے جاتی ۔ ثمرہ کا ہاسٹل سوئمنگ پول کے ساتھ والی مارکیٹ کے قریب تھا۔ اُسی مارکیٹ کے ’’ماموں مومن جوس کارنر‘‘ سے وہ دونوں موسم کے حساب سے ہر روز ایک ایک جوس پیتی تھیں۔
جوس کی اُسی دُکان سے سرمد  نے رمشا کی توجہ حاصل کی تھی۔ سرمد کے اُس دُکان پر کام شروع کرنے کے بعد، رمشا جب بھی ثمرہ کے ساتھ وہاں جوس پینے جاتی، اُسے پلاسٹک کی ایک چھوٹی سی ٹوکری میں گلاب اور موتیے کے تازہ پھول رکھے ہوئے دکھائی دیتے۔ پھول رمشا کی کمزوری تھے۔ یہ بات وہ بچپن سے جانتا تھا۔ ایک دن رمشا نے جوس بناتے ہوئے سرمد سے پوچھ ہی لیا
’’تُم اتنے تازہ پھول کہاں سے لاتے ہو؟ ‘‘
پھول تو باغ میں ہی کھلتے ہی جی۔۔۔! سرمد نے ایک لمحے میں رمشا کے نسوانی حسن کے جام کو پیا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ سرمد کی نظروں کی حدّت رمشا کے رَگ و پے میں سرایت کر ہی رہی تھی کہ ثمرہ کی آواز اُس کے کانوں میں پڑی
’’ہمارے پتوکی میں تو کھیتوں میں اُگتے ہیں۔‘‘
ثمرہ دعوت سے بھری نظروں کے ساتھ سرمد کو دیکھنے لگی۔ رمشا نے ٹٹولتی نظروں کے ساتھ ثمرہ کو دیکھا۔ سرمد نے پارسل گلاسوں میں مسمی کا رس ڈالتے ہوئے کہا
مس۔۔۔! پھول اُگتے نہیں۔۔۔ کھلتے ہیں۔۔۔ دُوسری بات۔۔۔ باغ بھی کھیتوں میں ہی لگائے جاتے ہیں۔  سرمد نے جوس کے گلاس ٹرے میں رکھ کے اُن کی طرف بڑھا دی۔ رمشا نے اپنے کندھے پر لٹکے کتابوں والے ست رنگی بیگ سے پانچ، پانچ سو کے دو کڑکتے نوٹ نکالے، اُنھیں ٹرے میں رکھا اس کے بعد ٹرے سے اپنا گلاس اُٹھا لیا۔ سرمد نے جلدی سے رمشا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
’’مس۔۔۔! آپ نے پیسے زیادہ دیے ہیں۔‘‘
ٹِپ ہے۔۔۔ رکھ لو!  رمشا نے سرمد کو دیکھے بغیر کہا۔
میں ٹِپ نہیں لیتا جی۔۔۔!  سرمد نے نپے تُلے انداز میں بتایا۔ اس کے بعد ٹِپ کے پیسے واپس ٹرے میں رکھ دیے۔ رمشا کے بجائے ثمرہ کو یہ بات بُری لگی۔ اُس نے ٹرے میں سے باقی روپے اُٹھاتے ہوئے تیکھے انداز میں کہا
غریب اپنے نصیب خود ہی نہی کُھلنے دیتے۔  ثمرہ نے جلدی سے اپنے کالے شولڈر بیگ میں وہ پیسے ڈال لیے۔
ٹِپ سے نصیب نہیں کُھلتے مس۔۔۔!  سرمد نے میٹھے لہجے میں بتایا۔ اُن تینوں نے غور سے ایک دُوسرے کو دیکھا۔ اس کے بعد ثمرہ اور رمشا وہاں سے پارکنگ کی طرف چل دیں۔ چلتے چلتے ثمرہ نے سٹرا کی مدد سے جوس کا ایک گھونٹ پیا، پھر کہنے لگی
’’کاش ۔۔۔! یہ بندہ امیر بھی ہوتا تو میں اِس سے شادی کر لیتی۔‘‘
یہ سنتے ہی رمشا مسکرانے لگی۔ ثمرہ نے پیچھے مُڑ کر ایک نظر سرمد کو دیکھا، پھر کہنے لگی
’’سچی۔۔۔! کتنا ہینڈسم ہے نا۔۔۔ٹائم پاس کے لیے ایک دَم پرفیکٹ، مگر یہ کم بخت تو فلرٹ بھی نہیں کرتا۔ ‘‘

۞۞۞

ماموں مومن۔۔۔! آج کل کدھر ہوتے ہیں؟  پارکنگ میں موٹرسائیکل کھڑی کرتے ہوئے ایک شخص کو دیکھ کر رمشا  نے کہا۔
ہونا کدھر ہے بیٹی۔۔۔! تمھاری ممانی ہسپتال میں داخل ہے۔۔۔ صبح کے وقت عافیہ کو یونیورسٹی جانا ہوتا ہے۔۔۔ اِس لیے مجھے ہسپتال رُکنا پڑتا ہے۔
یہ لڑکا کون ہے؟ ثمرہ نے اپنے مطلب کی بات پوچھ لی۔
کیوں۔۔۔ کیا ہوا؟ مومن نے فکرمندی سے پوچھا تو رمشا نے فوراً بتایا
نہیں۔۔۔ نہیں ۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔ ثمرہ نے اپنا جوس ختم کرنے کے بعد جلدی سے کہا
’’کیسے نہیں ہوا۔۔۔ رمشا نے اُسے ٹِپ دی اور اُس نے لینے سے انکار کر دیا۔‘‘
یہ سنتے ہی مومن نے ہولے سے قہقہہ لگایا، پھر لمبی سانس بھرتے ہوئے بولا
میں سمجھا کچھ۔۔۔  مومن بات کرتے کرتے رُک گیا۔
کچھ کیا ماموں مومن۔۔۔؟  رمشا نے تشویشی انداز میں پوچھا۔ ثمرہ نے جوس کا خالی گلاس پاس ہی لگی ڈسٹ بِن میں ڈالنے کے بجائے اپنے قریب کھڑی موٹرسائیکل پر رکھ دیا۔
مومن سوچ ہی رہا تھا کہ کیا جواب دے کہ ثمرہ نے ایک اور سوال داغ دیا
’’ماموں۔۔۔! یہ کوئی رشتے دار ہے آپ کا؟‘‘
رشتے دار تو نہیں ہے۔۔۔ سوچ رہا ہوں بنا لوں۔۔۔ تم دونوں کیا کہتی ہو؟ مومن نے رائے طلب کی۔
ثمرہ اور رمشا نے ایک دُوسرے کی طرف دیکھا، پھر ثمرہ نے پوچھا
’’آپ کہیں عافیہ اور اِس کا۔۔۔‘‘
ہاں۔۔۔  مومن نے دُور سے ہی سرمد کو دیکھتے ہوئے کہا جو ایک لڑکی کو جوس کا گلاس پیش کر رہا تھا۔
رمشا نے بھی سرمد پر نظر ڈالنے کے بعد پوچھا
’’اِس کے گھر والوں سے بات کی؟‘‘
بے چارہ یتیم ہے۔  مومن نے ہمدردی سے بتایا۔
بے چارہ کدھر ہے ماموں۔۔۔! اچھا خاصا ہٹا کٹا تو ہے۔  ثمرہ نے بڑے مزے سے تبصرہ کیا۔ اتنے میں ایک ہارن بجا۔ رمشا اور ثمرہ نے مُڑ کے دیکھا تو کالے شیشوں والی لینڈکروزر  کھڑی تھی۔ وہ دونوں اُس کی طرف چل دیں۔ نظریں جھکائے عطا نے جلدی سے پچھلا دروازہ کھول دیا۔ مومن نے یہ دیکھا ، پھر وہ بھی ’’ماموں مومن جوس کارنر‘‘ کی طرف چل دیا۔
رمشا  نے اپنا جوس کا گلاس ثمرہ کو پکڑایا اور خود گاڑی میں بیٹھ گئی۔گاڑی وہاں سے چلی گئی۔ ثمرہ نے رمشا والے گلاس کو ہلا کر دیکھا اُس میں جوس تھا۔ اُس نے اُسے بھی مزے سے پینا شروع کر دیا، پھر اپنے ہاسٹل کی طرف قدم اُٹھاتے ہوئے ایک بار پیچھے مُڑ کر ماموں مومن جوس کارنر کی طرف دیکھا۔

۞۞۞

مومن اور سرمد آمنے سامنے کھڑے تھے۔ سرمد نے مومن کے سامنے کاپی رکھتے ہوئے کہا
حاجی صاحب۔۔۔! آج کا حساب۔۔۔  مومن کی نظریں کاپی پر تھیں، وہ کہنے لگا
سرفراز میاں۔۔۔! پہلے بھی تمھیں بتایا تھا، میں حاجی نہیں ہوں۔۔۔ حاجی کے علاوہ چاچو، ماموں، انکل کچھ بھی بول سکتے ہو۔
سرفراز  نے اسٹینڈ والے لوہے کے سائن بورڈ پر لکھے ہوئے ’’ماموں مومن جوس کارنر‘‘ پر ایک نظر ڈالنے کے بعد پوچھا
’’آپ نے اپنے نام کے ساتھ ماموں کیوں لگا رکھا ہے؟‘‘
سرفراز کے سوال پر مومن نے اُسے ستائشی نظروں سے دیکھا، پھر ہونٹوں پرتبسم سجاتے ہوئے کہنے لگا
اِس مارکیٹ کے اِردگرد سب بچیاں ہی رہتی ہیں۔۔۔ ہر بچی اپنے ماموں کو آدھی ماں سمجھتی ہے۔۔۔ جوان بچی کو ماموں میں ممتا کے ساتھ ساتھ ایک محافظ بھی دکھائی دیتا ہے۔
سرفراز یہ سنتے ہی کاؤنٹر سے باہر نکل آیا اور مومن اندر داخل ہو گیا۔ سرفراز  نے باہر آ کر بتایا
’’آج کی سیل دراز میں رکھی ہے۔۔۔ مجھے اجازت دیں ‘‘
ٹھیک ہے۔۔۔ تم جاؤ شاباش۔۔۔!  مومن نے سنجیدگی سے کہا۔ سرفراز پارکنگ میں کھڑی اپنی سائیکل کی طرف چل دیا۔

(بقیہ اگلی قسط میں)

۞۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles