42.1 C
Lahore
Friday, July 12, 2024

Book Store

خشوع و خضوع

(آٹھواں خط بہ ترتیب ویب سائٹ شان اردو)
امامیات ( مکاتیب ) چھٹا خط
خط بنام والدہ (۲)
( فلاح کا حصول اور مشکلات )
اماں جان السلام علیکم !!
آپ کا خط ملے ایک لمبا عرصہ بیت گیا ۔ آپ نے جو سوالات میرے سامنے رکھے، ان سوالات کے جوابات  نے میری روحانیت کو ایک عجیب سی کشمکش کا شکار کر دیا ۔ آپ نے پوچھا کہ فلاح پانے والے میری نظر میں کون ہیں ؟
مجھے آپ کی سنائی گئی سبھی کہانیاں یاد آ کے رہ گئیں اماں !
لیکن اسباق یاد کرنا الگ بات ہے اور ان پہ عمل پیرا ہونا الگ
ہر فردِ واحد زندگی کے اپنے سفر سے گزرتا ہے اور ہر ایک کی زندگی کے چیلنجز الگ ہوتے ہیں ۔
فلاح ! کامیابی ۔۔۔
اللہ نے کہا
مومن فلاح پا گئے ۔۔۔۔ بھلا کون سے مومن؟
وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں ۔
وہ جو لغو سے اعراض برتتے ہیں ۔
وہ جو زکات ادا کرتے ہیں
اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔
یہی ہیں نا فلاح پانے والے اماں ؟؟
پھر تو میں شاید کبھی بھی فلاح پانے والوں میں سے نہیں ہو سکتی اماں ۔
میں تو پہلی شرط پہ ہی ناکام ہو گئی ۔ نماز قائم ہی نہیں ہو پاتی اماں تو خشوع کیسے آئے ؟؟
پتا ہے اماں ! کل ہی کی بات ہے میں اور حنیفہ مینٹل ڈس آرڈرز پہ مباحثہ کر رہے تھے ۔
حنیفہ نے کہا کہ کیا کبھی دل اور دماغ دونوں بیک وقت سرور کی کیفیت میں پائے جاتے ہیں ؟؟
اور وہ کونسا ایسا لمحہ ہوتا ہے جب انسان ecstacy کی حالت میں خود کو مخمور محسوس کرتا ہے اور اس کے دل و دماغ کا بوجھ چھٹ جاتا ہے ۔ اور وہ خود کو ہوا میں تیرتا محسوس کرتا ہے ۔
مجھے اس کا سوال سمجھنے کے لیے کچھ وقت لگا ۔
اس نے مجھے سے کہا ایسا فقط تب ممکن ہے جب انسان ڈرگز لیتا ہو ۔
لوگ نشہ فقط اس لیے کرتے ہیں کہ وہ سرور کی اس کیفیت کو پا لینا چاہتے ہیں اور feel free والی کیفیت سے گزرنے کے لیے وہ الکحل یا کسی بھی قسم کے نشے کا سہارا لیتے ہیں ۔
یہ نشہ اور بھی بہت سی چیزوں میں پایا جاتا ہے، جیسے مرد عورت کا تعلق ‘ پیسے کو خرچ کرنے کی عیاشی ‘ کسی بھی انسان کی محبت میں مبتلا ہو کے اس کے ساتھ کے حصول کی خواہش ۔
لیکن حنیفہ کیا بغیر کسی بھی قسم کے نشے کی لت کے ہم اس سرور کی کیفیت سے نہیں گزر سکتے ؟؟
میرے اس سوال پہ اس نے مجھ سے ہی استفسار کیا اماں ، کہ کیا مجھے ان چیزوں سے دوری پہ رہ کے کبھی دل و دماغ  کے اس سرور کی کیفیت سے سامنا ہوا ؟
اور مجھے اپنی کیفیات یاد تھیں ۔ وہی کیفیات جب انسان سمجھتا ہے کہ اس نے معراج کی منزل پا لی ۔ وہ آسمان کی بلندیوں کو چھو آیا ۔ مجھ جیسے لوگ جنھیں تھوڑے پہ قناعت کرنا نہیں آتا اماں ،بلندی سے کم کسی شے پہ راضی ہو ہی نہیں پاتے ۔
ایسی ہی کیفیت جس کا حنیفہ نے تذکرہ کیا کہ دل و دماغ دونوں ہوا میں ڈولنے لگتے ہیں ۔ecstacy کی کیفیت چھا جاتی ہے اور دل پہ ایسی سکینت کا نزول ہوتا ہے کہ انسان کو لگتا ہے دنیا میں غم نام کی کوئی شے نہیں ہے ۔ بس سرور ہی سرور ہے ۔
اور یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب نماز مومن کی معراج بن جاتی ہے ۔ جب یکسوئی اور خشوع و خضوع کی وہ کیفیت حاصل ہو جاتی ہے ۔
ایسی لذت جیسے آپ اللہ سے ملاقات کر کے لوٹے ہوں ۔
دل جیسے نور اور روشنی سے بھر کر دماغ کو روشن کر دیتا ہے ۔
اور حنیفہ نے بھنویں اچکا  کے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
یار تم مولوی لوگ ساری عمر کنویں کے مینڈک ہی رہتے ہو ۔
اور اماں مجھے اپنا آپ کنویں کے مینڈک ہی لگا ۔ ایک ایسی لڑکی کے سامنے جو بلند افکار کی باتیں کیا کرتی تھی ۔ جو ہر موضوع پہ بولنے کی صلاحیت سے مالامال تھی، اس کے سامنے مجھے یوں لگا جیسے ہم ہر جگہ بس دین داری کے پردے میں اپنے احساس کمتری کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
ہمیں لگتا ہے کہ یہ لوگ جو دنیاوی طور پہ اتنے بہترین اتنے مکمل ہوتے ہیں ، ہم سے ان کی یہ کامیابی دیکھی نہیں جاتی تو ہم حسد کا شکار ہو کے انھیں جہنم کے ڈراوے دیا کرتے ہیں ۔
میں اسی احساس کمتری کے زیرِ اثر شاید حنیفہ کی ڈرگز والی اصطلاح کو مان لیتی اماں ۔ لیکن آپ نے کہیں سے آکے ہاتھ تھام لیا تھا ۔ مجھے وہ کہانیاں یاد آ گئی تھیں اماں،  اور مجھے اپنی ان کیفیات کا بھی ادراک تھا کہ جب اللہ نے نمازوں میں وہ لطف دیا کہ دل دنیا سے بے نیاز ہوا اور میں نے ecstacy کی اس کیفیت کو پورے طور پہ محسوس کیا تھا تو حنیفہ میری کیفیات کو کیسے جھٹلا سکتی ہے ۔ کیا وہ سرور کی اس منزل سے گزری ہے ؟؟
میں نے اس سے یہ سوال پوچھ ڈالا ۔
حنیفہ تم نے کبھی ڈرگز لی ہیں ؟؟
نہیں یار ۔ لیکن میں لینا چاہتی ہوں ۔ میں اس joy کو محسوس کرنا چاہتی ہوں ۔
جب آپ worldly worries سے بہت دور ہوتے ہیں ۔
جب آپ خود کو بادلوں پہ تیرتا محسوس کرتے ہیں ؟؟
حنیفہ کیا تم نے کبھی نماز پڑھی ہے ؟؟ خشوع و خضوع سے ؟؟
اوہ کم آن ۔۔
اگر ایک تجربہ زندگی میں کیا ہی نہیں تو کیے بغیر کسی بھی تجربے کو کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے حنیفہ ؟؟
تجربہ تو میں نے ڈرگز اور الکحل کا بھی نہیں کیا لیکن میں اسے مان رہی ہوں ۔
ایک چیز کو بغیر پرکھے اور جانے مان لینا اور ایک چیز کو بغیر جانے اور پرکھے جھٹلا دینا،  ان دونوں رویوں کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟؟ کیا تعصب ؟؟ عقیدہ ؟؟ نظریہ ؟؟
اماں ، حنیفہ میرے سوال پہ خاموش ہو گئی ۔ لیکن اس نے مجھ سے کہا ہے کہ میں خشوع وخضوع کو ڈیفائن کروں ۔
کیسے اماں ؟؟ جب کہ خضوع و خشوع کی نمازیں زندگی میں ایک یا دو ہی رہی ہوں گی ۔ جب کہ ڈرگز تو روزمرہ کی بنیاد پہ مل سکتی ہے ؟؟
میں جانتی ہوں نماز پڑھنا فرض ہے ۔ فرض ڈیوٹی ہے جسے آپ کسی حال میں نہیں چھوڑ سکتے ۔ جیسے آپ اپنا دفتر جانانہیں چھوڑتے، اپنا کاروبار نہیں چھوڑتے، اپنے تمام ضروری کام نہیں چھوڑتے، ایسے ہی نماز بھی ہے ۔
بس پڑھنی ہے ۔ خضوع و خشوع فرض نہیں ہے ۔ اماں نماز فرض ہے ۔ لیکن اماں فلاح تو ان کے لیے ہے نا جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع والے ہوتے ہیں ۔
فلاح کیسے حاصل ہو پھر ؟؟
کیا خضوع و خشوع کی سعادت بزور بازو مل سکتی ہے ؟؟
نہیں اماں ۔۔۔۔ مجھے اپنی نمازوں سے اب وحشت ہونے لگتی ہے ۔
دل دماغ  بکھرے ‘ وحشت کا شکار ہی رہتے ہیں ۔ میں جب خود اس اذیت میں مبتلا ہوِ کہ میری نماز ecstacy کی کیفیت میں مبتلا نہیں کرتی تو میں حنیفہ کو کیسے سمجھا سکتی ہوں ؟؟
زندگی میں ایک آدھ مرتبہ کی نماز کہ جب واقعی دل ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے اور دماغ سے تفکرات جھڑ جاتے ہیں کا تجربہ میں کیسے اس کے سامنے وثوق سے بیان کرسکتی ہوں اماں ؟؟
آپ کے جواب کی منتظر رہوں گی ۔ دعاؤں میں یاد رکھیے ۔
والسلام
آپکی بیٹی ۔
۳۰ نومبر ‘ ۲۰۱۹

پیاری دوستو !
کچھ وقت ادھر ہم نے خطوط لکھنے کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا ۔
یہ خطوط ہمارے والدِ محترم کی ہم سے کی گئی ان کی تمام عمر کی نصیحتیں تھیں ۔ زندگی کے ہر مرحلے پہ جب ہم ہمت ہارنے لگتے ہیں ہمارے کانوں میں مرحوم والد کی آوازیں گونجتی ہیں ان کے ہمت بھرے جملے ہمارے کاندھے تھپتھپاتے ہیں ۔ اور ہم اپنے عزم اور حوصلے کو بلند کر کے دوبارہ اسی جوش اور جذبے سے جُت جاتے ہیں ۔
ہمارے والد کا شمار ان والدین میں سے تھا جو شاہین کی طرح اپنے بچے کو پہاڑ کی چٹان پر سے گرا کر انکو اپنے پر کھولنے کا حوصلہ دینے والوں میں سے ہوتے ہیں ۔
انکا لاڈ اور پیار فقط یہ تھا کہ خود اڑو ۔ وہ اڑنے کے لیے ہمیں حوصلہ دے سکتے تھے ۔ ہمت بندھا سکتے تھے لیکن اڑانے میں کوئی مدد نہ کرتے اس وقت وہ آنکھیں ماتھے پہ رکھ لیتے ۔
اور ہم غصے سے ایسی اڑان بھرتے کہ خود ہمیں بھی یقین نہ آتا ۔ کہ ہم اس قدر بلند پرواز بھر چکے ہیں ۔
بے جگری ، بے خوفی ، نڈر اور بے باکی سے زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا انھوں  نے سکھایا ۔
انکی زندگی میں ہم چیتے کا جگر رکھتے ۔ انکی موت سے لگا ہم کمزور ہو گئے ۔ لیکن انکی آواز کانوں میں گونجتی ۔
جھکنا مت ۔
ڈرنا نہیں ۔
اصولوں پہ ڈٹ جاؤ تو سر کٹوا لینا ۔
اپنا وعدہ نبھانا ۔
اپنی زبان سے کبھی مت پھرنا ۔
اور ہم اسی جوش اور جذبے سے آگے بڑھتے ۔
ان خطوط میں اگر کچھ اچھی باتیں ہیں تو وہ بابا کی کہی گئی ہیں ۔ اگر کچھ کمزوریاں ہیں تو وہ میری ذات کی ہیں ۔
اگر آپکو ان سے کوئی فائدہ ہوتا ہے تو میرے والد کی مغفرت کے لیے دعا کر دیجیے گا ۔
ان خطوط کو بہت سی بہنوں نے سراہا ۔ کئی بہنوں نے اپنی پیاری بچیوں کو جہیز کے تحفے کے طور پہ یہ خطوط دئیے ۔ کئی بہنوں نے ان کو پڑھ کر مجھ سے رابطہ کر کے اپنے دلوں کے حال سنائے ۔
ان خطوط نے بہت عزت دی حالانکہ یہ فقط اپنی یاد دہانی کے لیے لکھے گئے تھے ۔ مجھے لگتا میری اولاد کو کون بتائے گا کہ زندگی کیسے گزارنے کی ضرورت ہے ؟؟
انکے نانا دنیا سے جا چکے ۔ وہ نانا جو تب تک تحمل سے سمجھایا کرتے جب تک کسی بات کو عادت ثانیہ نہ بنا لیتے ۔
جزاک اللہ خیرا
سمیرا امام

 

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles