23 C
Lahore
Saturday, April 13, 2024

Book Store

جبران خلیل جبران

06:45:5504/10/2022

جبران خلیل جبران

اسلم ملک

آج مصنف، شاعر اور مصور جبران خلیل جبران کا یوم وفات ہے
جبران 6 جنوری 1883ء کو لبنان کے شہر بشاری میں پیدا ہوئے اور 10 اپریل 1931ء کو نیویارک میں وفات پائی.
جبران کے والد خلیل ایک مسیحی پادری تھے. وہ جبران کی ماں کاملہ کے تیسرے شوہر تھے۔
غربت کی وجہ سے جبران نے اسکول یا مدرسے میں تعلیم حاصل نہیں کی ، لیکن پادریوں سے انجیل پڑھی، انھوں نے عربی اور شامی زبان میں انجیل کا مطالعہ کیا اور تفسیر پڑھی۔

جبران کے والد پہلے نوکری بھی کرتے تھے، لیکن بے تحاشہ جوا کھیلنے کی وجہ سے قرض دار ہوئے اور پھر سلطنت عثمانیہ کی نوکری کرلی۔ وہ ایک دستے کے سالار مقرر ہوئے.
1891ء میں جبران کے والد کو عوامی شکایات پر معطل کر دیا گیا. قید کے ساتھ ان کی جائیداد بھی ضبط کر لی گئی۔ اسی وجہ سے کاملہ اور جبران نے امریکا ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا جہاں کاملہ کے بھائی رہائش پزیر تھے.
جبران کے والد کو 1894ء میں رہا کر دیا گیا مگر کاملہ نے جانے کا فیصلہ ترک نہ کیا اور 25 جون، 1895ء کو خلیل، اس کی بہنوں ماریانا اور سلطانہ، بھائی پیٹر اور جبران سمیت نیویارک ہجرت کی۔
امریکا میں جبران کا خاندان بوسٹن کے جنوبی حصے میں رہائش پزیر ہوا۔ اس حصے میں اس وقت شامی اور لبنانی نژاد امریکیوں کی کثیر تعداد رہتی تھی۔
امریکا میں 30 ستمبر 1895ء کو جبران کو اسکول میں داخل کروایا گیا.
رجسٹر میں ان کا نام غلطی سے خلیل جبران درج ہوا اور پھر یہی نام سرکاری کاغذات میں چلتا رہا۔
جبران کی والدہ نے کپڑے کی سلائی کا کام شروع کیا اور لیس اور لینن کا کام کرکے گھر گھر جا کر بیچنا شروع کر دیا۔
جبران نے اسکول کے ساتھ ساتھ گھر کے پاس ہی فنون لطیفہ کے ایک ادارے میں بھی داخلہ لے لیا۔ جہاں ان کے استاد نے انھیں بوسٹن کے مشہور فنکار، مصور اور ناشر فریڈ ہالینڈ ڈے سے متعارف کروایا، جنھوں  نے جبران کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا ۔
1898ء میں پہلی بار جبران کی مصوری کا ایک نمونہ ایک کتاب کے سرورق کے لیے استعمال کیا گیا۔
جبران کی ماں اور بڑے بھائی پیٹر چاہتے تھے کہ جبران اپنی لبنانی ثقافت کا پرچار کرے اور مغربی ثقافت کوجس سے جبران متاثر تھے ترک کر دے۔
اس لیے جبران کو واپس لبنان بھجوا دیا گیا جہاں انھوں نے مسیحی مارونات کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بیروت منتقل ہوئے جہاں ایک ہم جماعت سے مل کر ایک ادبی رسالہ جاری کیا.
وہ اپنے تعلیمی ادارے میں “کالج کے شاعر“ کے طور پر مشہور ہوئے۔
1902ء میں وہ بوسٹن واپس چلے گئے۔ ان کی بوسٹن واپسی سے تقریباً دو ہفتے قبل ان کی بہن سلطانہ تپ دق میں مبتلا ہو کر چودہ سال کی عمر میں وفات پا گئی۔
اور اس کے اگلے ہی سال ان کے بھائی پیٹر تپ دق کی وجہ سے اور ماں کینسر میں مبتلا ہو کر فوت ہوئیں۔ جبران کی بہن ماریانہ نے جبران کی دیکھ بھال کی جو ایک درزی کے پاس نوکری کرتی تھیں۔
فن اور شاعری
جبران خلیل نے اپنے فن پاروں کی پہلی نمائش 1904ء میں بوسٹن کے “ڈے سٹوڈیو“ میں کی۔ اسی نمائش میں جبران کی ملاقات میری الزبتھ ہاسکل سے ہوئی جو اس وقت تعلیمی ادارے کی سربراہ تھیں اور جبران سے دس سال بڑی تھیں۔
ان دونوں میں دوستی ہوئی اور یہ ساتھ جبران کی وفات تک رہا۔ گو ان کی دوستی معاشرے میں بدنام جانی گئی۔
ہاسکل نہ صرف جبران کی زندگی بلکہ ان کے فن پر بھی اثرانداز ہوئیں۔ 1908ء سے جبران پیرس میں آگسٹی روڈن کے ہمراہ دو سال کے لیے تعلیم حاصل کرتے رہے اور وہیں ان کی ملاقات اپنے ایک ہم جماعت یوسف ہوہاک سے ہوئی اور ان کی یہ دوستی بھی زندگی بھر جاری رہی۔
پیرس سے واپسی پر جبران نے بوسٹن میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔
جبران کی اوائل دور کی تمام تحاریر عربی میں ہیں، مگر 1918ء کے بعد ان کا زیادہ تر کام انگریزی میں شائع ہوا۔
جبران کی پہلی کتاب الفریڈ اے ناپف پبلشر نے 1918ء میں شائع کی جس کا عنوان تھا، The Madman۔
یہ ایک چھوٹی سی کتاب تھی جو نثر اور نظم کے بیچ لکھی گئی تھی۔
جبران نے نیویارک کی پین لیگ میں بھی حصہ لیا جہاں وہ “مہاجر شاعر “ کے نام سے جانے جاتے تھے،
ان کے علاوہ لبنانی نژاد لکھاری امین ریحانی، الیہ ابو مادی اور میکائیل نیمے وغیرہ بھی
اس لیگ کا حصہ تھے اور ان سب کو “المہاجر“ کا نام دیا گیا تھا۔
جبران کی زیادہ تر تحاریر مسیحیت پر مبنی ہیں، شاعری میں روحانی اصطلاحات کا استعمال عام ہے۔
جبران کی سب سے مشہور کتاب The Prophet یا پیغامبر ہے جس میں کل 26 شاعرانہ مضامین ہیں ۔ یہ کتاب 1923ء میں پہلی بار شائع ہوئی اور اب تک شائع ہو رہی ہے.
اس کے دنیا کی چالیس سے زیادہ زبانوں میں تراجم کیے گئے ہیں۔ کتاب بیسویں صدی میں امریکا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں کی فہرست میں شامل ہے۔
ان کے کلام میں سب سے مشہور مصرع جو انگریزی دنیا میں اب بھی بہت مشہور ہے، کتاب “Sand and Foam” سے لیا گیا ہے،
اس مصرع میں جبران کہتا ہے،
“آدھے سے زیادہ جو میں کہتا ہوں وہ بے معنی ہے، لیکن میں پھر بھی کہتا ہوں تاکہ باقی کا آدھا تم تک پہنچ سکے“
یہ مصرع جان لینن نے اپنے ایک گانے جولیا (بیٹل نغمہ) میں شامل کیا جو 1968ء میں تشکیل دیا گیا۔
سیاسی سوچ
جبران نے شام میں عربی کو بطور قومی زبان نافذ کرنے اور بنیادی تعلیم میں اسے لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے شامی علاقوں کی سلطنت عثمانیہ سے علیحدگی کا بھی مطالبہ کیا۔ جبران نے اس بارے ایک مشہور نظم بھی لکھی جو Pity The Nation کے عنوان سے گلستان پیغامبر میں شائع ہوئی۔
جنگ عظیم اول میں جب عثمانیہ سلطنت کا شام سے خاتمہ ہوا تو جبران نے ایک تصویری فن پارہ “آزاد شام“ کے نام سے تخلیق کیا جو وکٹری میگزین کا سرورق بنا۔
اس کے علاوہ اپنے ایک کھیل میں جبران نے قومی آزادی اور ترقی کے بارے میں امید کا اظہار بھی کیا.
خلیل ہوائی کہتے ہیں کہ اس میں ہمیں عرب اور لبنانی قومیتوں کا فرق واضح محسوس ہوتا ہے۔ یہ بھی عیاں ہے کہ کس طرح عمر کے آخری حصے تک جبران کے ذہن میں قومیت پرستی اور عالمی اتحاد کے خیالات ایک ساتھ پروان چڑھتے رہے“۔
وفات
جبران خلیل کا 10 اپریل 1931ء کو نیویارک میں جگر کی خرابی اور تپ دق کی وجہ سے انتقال ہوا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ انھیں لبنان میں دفن کیا جائے۔
ان کی یہ وصیت 1932ء میں پوری ہوئی جب میری ہاسکل اور جبران کی بہن ماریانہ نے لبنان میں مارسرکاس نامی خانقاہ خرید کر وہاں ان کو دفن کیا
اور جبران میوزیم قائم کیا۔ جبران کی قبر کے کتبے پر لکھا ہے…
” میں زندہ ہوں تمھاری طرح اور میں تمھارے ساتھ ہی کھڑا ہوں۔
اپنی آنکھیں بند کرو اور اردگرد مشاہدہ کرو، تم مجھے اپنے سامنے پاؤ گے”
جبران نے اپنی وصیت میں اپنے سٹوڈیو کی تمام اشیاء اور فن پارے میری ہاسکل کے نام کر دیے۔ اس سٹوڈیو میں ہاسکل کو 23 سال تک جبران کو لکھے ہوئے اپنے خطوط بھی ملے ،
جن کے بارے میں پہلے ہاسکل نے سوچا کہ انھیں جلا دیا جائے،
لیکن ان کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر پھر یہ فیصلہ کیا کہ انھیں محفوظ رکھا جائے۔
1964ء میں اپنی وفات سے پہلے میری ہاسکل نے اپنے ان خطوط کو،
خود کو لکھے گئے جبران کے خطوط سمیت یونیورسٹی آف شمالی کیرولائنا کی لائبریری کے سپرد کر دیا۔
ان خطوط کے کچھ حصے 1972ء میں کتاب Beloved Prophet میں شائع ہوئے ۔
یادگاریں
لبنان،
امریکہ،
دبئی،
برازیل نے جبران خلیل کے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کئے ۔
لبنان میں جبران میوزیم اور باغ جبران قائم کئے گئے ۔
کینیڈا میں سینٹ لارنٹ کے مقام پر 27 ستمبر 2008ء کو جبران کی 125ویں سالگرہ کے موقع پر ایک سڑک کو خلیل جبران سٹریٹ کا نام دیا گیا۔
لبنان میں ایک پرفضا مقام لبنان سیڈار میں جبران خلیل کی یادگار تعمیر کی گئی ۔
امریکا کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں جبران خلیل کے نام پر باغ بنایا گیا ۔
بوسٹن میں جبران خلیل کی یادگار نصب کی گئی ۔
بروک لین، نیویارک میں جبران خلیل انٹرنیشنل اسکول قائم کیا گیا۔
رومانیہ میں خلیل جبران پارک قائم کیا گیا۔
برازیل کی عرب میموریل بلڈنگ میں جبران خلیل کا مجسمہ نصب کیا گیا۔
(وکی پیڈیا)

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles