40 C
Lahore
Saturday, May 25, 2024

Book Store

کل اور آج|afsana|shanurdu|kal or aaj

افسانہ

کل اور آج
نیلم احمد بشیر

رابعہ پارک میں ٹریک کا ابھی پہلا ہی چکر مکمل کر رہی تھی کہ اُس نے گیٹ کے پاس ایک رکشہ رکتے دیکھا۔ اترنے والی لڑکی پڑھی لکھی اور مہذب دِکھتی تھی۔ وہ اَور لوگوں کی طرح واکنگ ٹریک پہ چلنے کے بجائے ایک بینچ پر بیٹھ گئی یوں جیسے اُسے کسی کا انتظار ہو۔
رابعہ مسکرائی ….. گویا محبت اب بھی ہوتی ہے ….. پارکوں میں آج بھی ملاقاتیں ہوتی ہیں ….. اچھا ہے محبت نہ ہو، زندگی میں مزا ہی کیا ہے ….. اُسے اپنا تیس سال پرانا وقت یاد آ گیا۔
وہ بھی کسی سے ملنے پارک جایا کرتی تھی۔ کتنا مزا آیا کرتا تھا۔ خاص طور پہ وہ دِن اُسے کیسے بھول سکتا ہے جب وہ دونوں بانسوں کے سرسبز جھنڈ میں چھپے بیٹھے تھے۔
رابعہ نے پیلا سوٹ پہن رکھا تھا جو اُس پہ بہت کِھل رہا تھا۔ یک دم ایک چیونٹی رابعہ کی گردن پہ چڑھی اور نیچے اُس کے گریبان تک سفر کرتی محسوس ہوئی۔
وہ ایک دم چیخ اٹھا ….. ’’اِس چیونٹی کی جرأت دیکھو ….. ہٹاؤ اِسے، مجھے حسد ہو رہا ہے۔‘‘
رابعہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔
’’کاش! مَیں اِک چیونٹی ہوتا …..‘‘ وہ حسرت آمیز لہجے میں بولا۔
’’تو مَیں تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک کرتی حضور …..‘‘ رابعہ نے چیونٹی کو پکڑا اَور مسل کر گردن سے نیچے اتار پھینکا۔
دونوں ہنستے چلے گئے ….. یک دم رابعہ اداس ہو گئی ….. نہ جانے کہاں ہو گا وہ؟ ….. کبھی مجھے یاد بھی کرتا ہو گا یا نہیں ….. سیر کرتے ہوئے اُس کے قدم سست پڑ گئے اور ذہن ماضی کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے لگا۔
بینچ پر بیٹھی لڑکی تھوڑی تھوڑی دیر بعد گھڑی دیکھتی رہی اور رَابعہ کی بےچینی بڑھتی گئی۔
’’کہاں رہ گیا کم بخت ….. کتنا انتظار کرواتے ہیں یہ آنے والے۔‘‘
پارک کا پانچواں چکر لگاتے ہوئے رابعہ کی آنکھیں مسلسل لڑکی پہ مرکوز رہیں۔ قریب سے گزرتے ہوئے اُس نے صاف دیکھ لیا تھا کہ اب لڑکی کی آنکھوں کی منتظر چمک غائب ہو چکی تھی۔
رابعہ کا دل چاہا پاس جا کر اُسے دلاسہ دے، پچکارے، مگر کیسے کرتی؟ نہ جان نہ پہچان۔ دونوں اجنبی اور ایک دوسرے کے لیے انجان۔ قریباً پون گھنٹے بعد لڑکی اٹھی اور گیٹ سے باہر جانے لگی۔
’’نہیں آیا، بےحس کہیں کا۔ اِس معصوم کو چکر دے گیا۔ توبہ یہ مرد کبھی نہیں بدلیں گے۔‘‘
اُس نے دل ہی دل میں اُس نہ آنے والے کو ہزاروں کوسنے دے ڈالے۔ ’’
ہونہہ دنیا بدل گئی، مگر محبت میں کچھ نہیں بدلا۔‘‘
رابعہ نے لڑکی کو ایک رکشے میں سوار ہوتے دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھری اور اَپنی واک کا آخری چکر کاٹنے میں مصروف ہو گئی۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles