30 C
Lahore
Saturday, May 18, 2024

Book Store

Human’s helplessness|انسان کی بےبسی

اِنسان بے بس ہے۔ بے بسی یہ ہے کہ وہ اِنسان ہے۔

اِنسان بے بس ہے۔ بے بسی یہ ہے کہ وہ اِنسان ہے۔ اِنسان اپنے آپ میں، اپنی تخلیق میں، اپنی فِطرت میں، اپنی اِستعداد میں، اپنے اعضا وجوراح میں، اپنے قواء میں، اپنے ظاہر اور اپنے باطن میں، اپنے حاصل اور اپنی محرومی میں، اپنی خوشی اور اپنے غم میں، اپنے اِرادوں اور اپنی تمنّاؤں میں، اپنے مشاغل اور اپنی مصروفیتوں میں، اپنے احباب و اغیار میں‘غرضیکہ اپنی تمام حرکات و سکنات میں عاجز و ناتواں ہے…!

انسان کا ہونا ‘اُس کے نہ ہونے تک ہے۔

اُس کا حاصل‘ لا حاصل تک…اُس کی آرزوئیں ‘شکستِ آرزو تک، خوف ِآرزو تک… اُس کی توانائی و صحت ‘بیماری تک اور اُس کی ساری تگ و تاز ‘اُس کے اپنے مرقد تک، اُس کی بلند پروازی‘ اُس کی واپسی تک… اُس کا ہر تخیّل، عروج خیال‘ اُس کے زوال تک ہی ہے … اُس کی اَنا ایک بچّے کے غُبارے کی طرح پھُولتی ہے اور پھر غُبارہ پھٹ جاتا ہے اور وہ عاجز وبے بس ہو کر اِس کھیل سے محروم ہو جاتا ہے۔
اِنسان علم حاصل کرتا ہے۔ خود کو دوام بخشنے کے لیے وہ لائبریریوں میں داخل ہوتا ہے… اُس کے پاس گِنتی کے ایّام ہیں اور کتابیں ان گنت… اُس کا معلوم محدود رہتا ہے اور لا معلوم لا محدود… وہ تیزی سے عُلوم چاٹتاہے اور فنا اُس کی زندگی کو چاٹتی ہے… اور انجامِ کار اُس کا انجام…مُکمل بے بسی، مُکمل عاجزی۔
اِنسان عروج چاہتا ہے۔ بُلندی چاہتا ہے۔
پہاڑ کی چوٹی، اُس پر ایک اور پہاڑ رکھتا ہے۔ اُس کی چوٹی پر ایک اور پہاڑ رکھتا ہے اور پھر یہ سلسلہ چلتے چلتے اُس وقت تک آپہنچتا ہے‘ جب اُس کے سَر کیے ہوئے سب پہاڑ، سب چوٹیاں دھڑام سے زمیں بوس ہو جاتی ہیں… وہ افسوس کرتا ہے تو اُس کے پاس افسوس کا وقت نہیں ہوتا۔ وہ سوچتا ہے اور سوچ کر عاجز ہو جاتا ہے کہ اُس نے کیا چاہا… اُس نے کیا سوچا… اُس نے کیا پایا… اُس کے ہاتھ آنے والی ہر چیز اُس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور وہ اپنے حاصل سے نکل جانے پر مجبور ہو جاتا ہے…!
وہ مکان بناتا ہے… خوب صورت، دیدہ زیب، آسائش وزیبائش والا مکان… اُس کا اپنا مکان، اُس کے حُسنِ خیال کا شہکار… اُس کا مکان خوشیوں سے جگمگاتا ہے… اور پھر یہی عشرت کدہ‘ ماتم کدہ بننا شروع ہوتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ اُس نے کیا بنایا…اُس کا افتخار‘ انجام کار بے بسی میں خاموش ہو جاتا ہے۔
اِنسان صحت کی حفاظت کرتا ہے۔ خوراک کا اہتمام کرتا ہے۔ بڑے جتن کرتا ہے۔ وہ طویل عمر چاہتا ہے اور طویل عمر‘ نقصِ عمر سے دوچار ہوتی ہے …زندگی قائم بھی رہے تو بینائی قائم نہیں رہتی۔ سماعت ختم ہو جاتی ہے… اور پھریادداشت کسی صدمے کا شکار ہو جاتی ہے… وہ زندہ رہتا ہے، زندگی کے لُطف سے محروم… وہ نہ بھی مرے تو اُس کے عزیز، اُس کے اقربا، اُس کے محبوب رُخصت ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اپنی زندگی میں خود کو اپنی نظروں میں بیگانہ سمجھنے لگتا ہے… اُس کے پاس اُس کی یادوں کا کوئی شریک نہیں رہتا اور پھر یہ یادیں بھول جاتی ہیں… اُس کی پھیلی ہوئی کائنات سِمٹ جاتی ہے۔
وہ ہجوم میں تنہا ہو جاتا ہے۔ اُس کا سب غرور ‘عاجز و بے بس ہو جاتا ہے۔ اُس کا اپنا مکان اُسے نکال باہر کر دیتاہے… اور کچھ عرصہ بعد اُس کی تصویریں ‘دیواروں اور البموں سے ہٹالی جاتی ہیں…اور کسی کو یاد نہیں رہتا کہ وہ تھا… تھا بھی کہ نہیں…!
اِنسان سفر کرتا ہے۔ فاصلے طے کرتا ہے۔ محدود زندگی میں لا محدود فاصلے کیسے طے ہوں۔ زمین و آسمان کا عظیم سلسلہ فاصلوں سے بھرا ہُوا ہے۔
فاصلے ہی فاصلے ہیں، راستے ہی راستے ہیں، مسافرت ہی مسافرت ہے۔ لاکھوں میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلنے والی روشنی ‘یہ فاصلے کروڑوں سال میں طے نہیں کر سکتی ‘اِنسان کیسے طے کرے گا… اِنسان کے پاس عاجزی اور بے بسی کے سِوا کچھ نہیں رہ جاتا!
اِنسان دولت اِکھٹی کرتا ہے۔ مال جمع کرتا ہے۔ اُسے گِنتا ہے، گِن کر خوش ہوتا ہے۔ فخر کرتا ہے کہ اُس کے پاس مال ہے۔
اُسے جب معلوم ہوتا ہے کہ اِس دُنیا میں کتنے قارون اور فرعون گزر گئے… مال نے کسی کی مدد نہ کی… زمین میں اِتنا مال ہے کہ بس خدا کی پناہ… کوئی کیا حاصل کرے گا… ایک جگہ سے اُٹھا کر دوسری جگہ رکھنے سے اِنسان کو کیا ملے گا…اُس کے بینک بھرے رہتے ہیں اور دِل خالی رہتا ہے۔ متاعِ حیات ‘ قلیل ہے۔ جوں جوں مال بڑھتا ہے‘مال کی تمناّ بھی بڑھتی ہے اور اِنسان اپنی دولت کو ضرورت سے کم سمجھتا ہے۔
وہ اپنی امیری کو غریبی کے ڈر سے بچا نہیں سکتا۔ اگر خواہش حاصل سے زیادہ ہو‘ تو انسان خود کو غریب سمجھتا ہے۔ خواہشات کا بے ہنگم پھیلاؤ آخر کار اِنسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ وہ اپنے ہی جال میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ خواہشات بدلتی رہتی ہیں، مرتی رہتی ہیں، پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ اِس کھیل کا نتیجہ‘ لازمی نتیجہ‘ بے بسی ہے، عاجزی ہے۔
اِنسان کو اُس کی تمنّائیں عاجز کر دیتی ہیں۔ وہ مجبور ہو جاتا ہے۔ ہر نئی شے کی محبت میں گرفتار ہونا اُس کا مقدر ہے۔ نئے مکان، نئے ماڈل، نئے تقاضے پورے کرتے کرتے اِنسان‘ پُرانا اِنسان‘ بے بس و عاجز ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ انجام کار دیکھتا ہے کہ اُس کا پھیلاؤ سِمٹ گیا۔ اُس کی دُنیا محدود ہو گئی۔ اُس کے راستے مسدُود ہو گئے۔ اُس کے اِرادے ٹُوٹ گئے۔
اُس کی سکیمیں نا مُکمل رہیں۔ اُس کے پروگرام ادھورے رہ گئے۔ اُس کے خواب پریشان ہو گئے۔ اُس کے خیال کے اُڑن کھٹولے ہچکولے کھاتے ہوئے زمین پر آگرے۔ زندگی میں اِتنی مُہلت نہیں ملتیا کہ اِنسان اِس کو دوبارہ شروع کر سکے۔ جوہو گیا ‘سو ہو گیا۔ ہونی ‘انہونی نہیں ہو سکتی۔ غرور سرنگوں ہو جاتا ہے …زور کمزور ہو جاتے ہیں اور محنتیں مٹی میں مل جاتی ہیں…!
عجب حال ہے۔
اِنسان کے مزاج میں غُرور ہے اور اُس کے مقدّر میں عاجزی …لکھنے والے نے ایسے ہی لِکھا۔ غُرور کا یہ عالم ہے کہ اِنسان خدا بننے کا بھی دعویٰ کرتا ہے۔ وہ سب کچھ بنتا ہے۔ عاجزی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو بے وقوف بناتے بناتے خود بے وقوف بن جاتا ہے۔
اِنسان اپنے مرتبے کو ذریعہٴ اِفتخار بناتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ بڑا افسر ہوکر شاید بڑا اِنسان ہو جائے گا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ عظیم اِنسان اپنے مرتبوں کی وجہ سے نہیں پہچانے گئے۔ اُن کا کردار اُنہیں عظیم بناتا ہے۔ کردار میں غُرور کو سب سے بُرا کہا گیا ہے۔
اللہ کا ارشاد ہے کہ اے اِنسان! تجھے کس بات نے اِتنا مغرور کر رکھا ہے کہ اپنے ربِ کریم کو بھُول گیا۔ کیا تُونہیں جانتا کہ وہ وقت آنے والا ہے ُجب اِنسان کومالک کے رُوبرو پیش کیا جائے گا۔
اِنسان اور خاص طور پر آج کا اِنسان ایک سطحی اور نقلی زندگی بسر کر رہا ہے۔ وہ اندر سے ٹُوٹ چکا ہے۔ اُس کو عجیب قسم کے خدشات نے گھیر رکھا ہے۔ وہ اپنے آپ سے، اپنے مستقبل سے مایوس سا ہو چکا ہے۔ وہ اپنے لِبادے سے باہر نہیں نکلتا۔ اُس نے صرف اپنے آپ کو خود سے چھُپارکھا ہے۔ وہ اپنی کامرانیوں کا اعلان کر کے دوسروں کو دھوکا دیتا ہے اور اصل میں خود دھوکا کھا جاتا ہے۔
اُس کا غُرور ہی اُس کی بے بسی کا اعلان ہے۔ وہ جتنا عاجز محسوس کرتا ہے خود کو‘اُتناہی خود کو قوّی بتاتا ہے۔
اُس کا اِرتقاء، اُس کی ترقی، اُس کی ترقی پسندی ‘اُس کی خودگُریزی کے ابواب ہیں۔ وہ اِتنا مصروف رہتا ہے کہ اُس کے پاس اپنے لیے، اپنے وطن کے لیے فرصت نہیں۔ وہ ایک ایکٹر کی طرح زندگی کے سٹیج پر آتا ہے، بڑے بڑے مکالمے بولتا ہے، لوگوں کو متاثر کرتا ہے اور دوسروں کے لیے سٹیج خالی کر کے اپنی بے بس تنہائی میں چلا جاتا ہے۔
اِنسان کے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں‘ اِس کا علم تو اِنسان کے خالق کے پاس ہی ہو سکتا ہے۔ اِنسان کو عقل عطا کرنے والی ذات ‘عقل کے صحیح استعمال کی توقع رکھنے میں حق بجانب ہے۔ خالق ‘اِنسان سے تدبّر اور تفکّر چاہتا ہے۔ وہ اِنسان سے کہتا ہے کہ اے آنکھوں والے اِنسان! دُنیا کی سیر کر اور دیکھ اُن لوگوں کی عبرت جو جھوٹے تھے، دیکھ اُن لوگوں کا انجام جو مغرور تھے، دیکھ اُن کی عاقبت جو خدا فراموش رہے، دیکھ اُن لوگوں کا حسرت بھرا حاصل جو باغی تھے، دیکھ کہ وہ کس طرح ایک عذاب کی لپیٹ میں آگئے۔
خالق چاہتا ہے کہ اِنسان غور کرے۔ اِتنا غور کرے کہ وہ اپنی ہستی کا راز دریافت کرے۔ اِنسان کو دعوت ہے کہ وہ غور کرے کہ اِتنے بڑے پہاڑ کیسے معرضِ وجود میں آگئے۔

اِتنے گہرے سمندر، اِتنے وسیع صحرا، اِتنے بُلند آسمان بغیر ستونوں کے، اِتنے لا محدود ستارے اور سیارے، یہ منوّر سورج، یہ نورانی چاند‘ تخلیق کے اِتنے دِل کش مظاہر کس نے بنائے۔
اُس صانعِ حقیقی کے سامنے تیری صنعتوں کی کیا وُقعت ہے۔ تجھے تیری لا علمی ہی مغرور بنا رہی ہے۔ ورنہ تیرے لیے عاجزی کے علاوہ کیا رکھا ہے۔ اِنسان کو غور کرنے کی دعوت ہے۔ اتنِی وسیع کائنات بنانے والے نے ایٹم کے باطن میں قوّت پنہاں کر رکھی ہے، مچھر مکھی بنانے والے نے اِنسان کو بتا دیا ہے کہ تخلیق کے کرشمے اِنسان کی سمجھ سے باہر ہیں۔ صرف اُونٹ کی تخلیق پر غور کرنے سے اِنسان پر کتنے ہی راز آشکار ہو سکتے ہیں۔
اِنسان کے پاس فُرصت نہیں۔ وہ بے چارہ اپنے پروگراموں میں اُلجھا ہُوا ہے۔ وہ اپنے وجود کی موجودگی کا اعلان چاہتا ہے۔

وہ دوسرے اِنسانوں پر فوقیت چاہتا ہے اور یہی اُس کی بد نصیبی ہے۔ وہ لوگوں کو اپنے سامنے جھُکانا چاہتا ہے اور یہی اُس کی بد بختی ہے۔ وہ لوگوں میں اپنی تعریف اپنی زبان سے کرتا ہے اور یہی اُس کی بد تعریفی ہے۔ وہ لوگوں میں بُلند ہونا چاہتا ہے اور یہی اُس کی پستی ہے۔
وہ دولت کو ذریعہٴ اِفتخار سمجھتا ہے اور یہی اُس کی غریبی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ زمین پر اِترا کر چلنے والوں کا حشر کیا ہُوا اور حشر کیا ہو گا۔
فطرت نے اِنسان کو تخلیق کیا۔ اِنسان خود ہی فطرت کا سرمایہ ہے۔ وہ خود ہی کسی کی ذمہ داری ہے۔ وہ خود ہی کسی فنکار کا شہکار ہے۔ وہ اپنے آپ کو اگر فطرت سے ہی متعلق رکھے تو اُس کی فلاح ہے۔ وہ اگر اُسی حاصل پر مطمئن رہے جوفطرت نے اُس کے لیے تجویز کیا ‘تو اُس کی سعادت ہے۔
وہ تو فطرت سے تعلق توڑ کر کچھ اور بننا چاہتا ہے۔ یہی اُس کی نامُرادی کا سبب ہے۔ وہ خود کو مانتا ہے اور مغرور ہو جاتا ہے۔ وہ اگر خدا کو مانے‘ تو عاجزی میں اُس کی نجات ہے۔ اُس کی سب قدرتیں‘ قدرت کی عطا ہیں۔

وہ اپنی صلاحیتوں کو اِستعمال تو کرے‘ غرور نہ کرے۔ اِنسان اپنی ہستی کو خالق کا احسان سمجھ کر قبول کرے ‘تو اُس کی سلامتی ہے۔ کسی کے احسان کو اپنا استحقاق نہ بنائے تو غُرور نہ پیدا ہو گا۔ اُس کا ہر حاصل عطا ہے اور اُس کا ہر دعویٰ خطا ہے۔ سِوائے ایک دعویٰ کے کہ وہ ناتواں و بے بس و عاجز ہے۔ تکبر‘ خالق کو، مالک کو زیب دیتا ہے۔

مخلوق اور مملُوک کے لیے عاجزی وانکساری ہی باعث ِرحمت وبرکت ہے!!!
٭٭٭

یہ بھی پڑھیے

https://shanurdu.com/tanhai-kya-hai/

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles