42.5 C
Lahore
Tuesday, June 25, 2024

Book Store

Hazrat Zainab| ؓسیدہ زینب بنت علی

تحریر: عافیہ مقبول جہانگیر

سیدہ زینب بنت علی ؓ

ایک عورت، جسے صنفِ نازک کہا جاتا ہے، نرم دل اور نازک احساسات کی مالکن ہوتی ہے۔ ذرا سی ٹھیس پر اس کا آبگینے جیسا دل ٹوٹ جاتا ہے
ہلکا سا درد محسوس کرتے ہی سہم جاتی ہے۔
خوف میں مبتلا ہوتی اور مرد کا سہارا اَور پناہ تلاش کرتی ہے۔
باپ، شوہر، بیٹے یا بھائی کی صورت۔
ایک دوسرا روپ عورت کا وہ ہے جب وہ ظلم و جبر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔ خاص طور پر بات اس کے عزیزوں کی ہو، پیاروں کی یا اولاد سے محبت کی، مگر ان سب محبتوں سے اُونچی اور اعلیٰ محبت اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ اور ان کے دین سے عشق کی صورت میں ہے۔ یہ وہ محبت ہے جس کے آگے ہر دنیاوی رشتہ کچا ہے، فانی ہے۔
ایک مومن عورت، جب اپنے دین کو، خطرے میں دیکھتی ہے تو دشمن کو اپنے جلال سے نیست و نابود تک کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بالکل ایسے جیسے کربلا کے صحرا میں حضرت علی؄ کی لاڈلی نازک بیٹی،
نبیﷺ کی معصوم نواسی،
فاطمۃ الزہرا ؅ کی شہزادی،
نوجوانانِ جنت کے سرداروں حسن؄ اور حسین؄ کی لاڈلی،
یزیدیت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئیں اور اس کی جھوٹی طاقت کے نشے میں مخمور قلعے کو مسمار کر دیا۔
سیدہ زینب؅ کا حوصلہ، جرأت اور بہادری آنے والے زمانے کی ہر خاتون کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
یہی جذبہ،
بہادری و شجاعت اور ظلم کے خلاف،
دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہو جانا،
اپنی او لاد،
گھر،
جان و مال سب دین اور راہِ حق کے لیے قربان کر دینے کا حوصلہ،
کشمیر کی ہر ماں، بہن اور بیٹی میں عالمِ انسانیت کو نظر آتا ہے۔
حضرت علامہ اقبالؒ نے ایسی ہر بہادر، جانثار مسلمان خاتون کی شان میں فرمایا:
فطرت تو جذبہ ہا دارد بلند
چشم ہوش از اسوۂ زہرا؅ بلند
تا حسینی شاخ تو بار آورد
موسم پشینِ بگلزار آورد
ترجمہ: اے مسلمان خاتون! تیری فطرت میں بڑے بلند جذبے مؤجزن ہیں۔
تو ہوش کی نظر حضرت فاطمہ؅ کے نمونے پر جمائے رکھ تاکہ تیری شاخ میں بھی حسین؄ جیسا پھل لگے اور باغ میں پہلی سی بہار پھر آ جائے۔
(علامہ اقبال، رموزِ بے خودی)
سیّدہ زینب ؅ محض ایک ہستی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ واقعاتِ کربلا کی ایک مربوط و مستحکم تحریک اور تاریخ ہے۔
حضرت زینب ؅ نے لوگوں کے دلوں میں کربلا کا صحیح ادراک اور فہم پیدا کیا۔
ان کے اذہان و قلوب کو جھنجھوڑتے ہوئے وہاں بیتے واقعات و حقائق سے انھیں آگاہ کیا۔
انھیں لرزا دینے والے واقعات سنائے اور اپنے خطبات کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔
ایسا انقلاب جس نے ایک نئی تحریک کو جنم دیا۔  اسی نئی تحریک نے یزید کے ایوانِ حکومت کے در و دیوار تک ہلا ڈالے۔
یزید کو شرمندہ ہونے پر مجبور کر دیا ۔ وہ کہہ اُٹھا کہ وہ ہرگز ایسا نہ چاہتا تھا۔
وہی یزید جو اپنے وقت کا مطلق العنان حکمران تھا۔ جس نے ظلم و جبر کے ذریعے حق کو دبانے اور اپنے سامنے جھکانے کی ناکام کوشش کی۔
آفرین ہے کربلا کی اس باہمت، شیر دل خاتون پر جس نے یزید کے دربار میں برملا و بے خوفی سے اپنی بات سب کے سامنے رکھی۔
اپنے الفاظ اور مؤقف میں ذرّہ برابر نرمی نا لاتے ہوئے ڈٹی رہیں۔ یہاں تک کہ وہ ان کے اٹل حوصلے کے سامنے پسپا ہو تے ہوئے انھیں اپنے دربار سے بخیر و عافیت جانے سے روک نہ پایا۔
انھوں نے اپنے وقت کے ظالموں اور جابروں کے سامنے حق بات کہی، کسی خوف و خطر اور ڈر کے بغیر انھی کے ایوانوں میں کھڑی ہو کر اُنھیں للکارا ۔ اُن کے ظلم و ستم پر کھلے عام اُنھیں سرزنش کی۔
معرکۂ کربلا حق و باطل کی ایک جنگ تھی، جس میں ایک طرف نواسۂ رسولﷺ صرف اپنے ۷۲ جانثاروں کے ساتھ شریک تھے۔
دوسری طرف ہزاروں کی مسلّح فوج تھی، جس نے ناحق نواسۂ رسولﷺ حضرت امام حسین ؄ کا نہ صرف خون بہایا بلکہ رسول زادیوں کو رسوا کرنے کی بھی کوشش کی۔
سیّدہ زینب؅ بنتِ علی؄
وہ عظیم خاتون ہیں جو عالمِ بشریت کی طویل تاریخ میں انمٹ نقوش ثبت کر گئی ہیں۔
آپ؄ کی ہی مساعی جمیلہ سے واقعاتِ کربلا عوام الناس کے اذہان و قلوب میں نہ صرف زندہ رہے بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے دوام حاصل ہوا۔
انھوں  نے ثابت کر دیا کہ وہ خانوادۂ رسولﷺ کی عظیم المرتبت ہستی ہیں اور ان کی پوری حیاتِ مقدسہ میں کہیں رائی برابر بھی لغزش نظر نہیں آتی۔
ولادتِ باسعادت
حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ کی تین صاحبزادیاں تھیں۔
حضرت زینب؅ حضرت علیؓ اور فاطمہ بتولؓ کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں۔
آپؓ کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
بعض مؤرخین کے نزدیک آپ کا سنِ ولادت ۹ھ ، بعض کے، نزدیک ۶ھ، بعض کے خیال میں ۵ھ اور کچھ کے خیال میں ۴ھ ہے۔
ثقہ ترین روایت یہی ہے کہ آپ؅ ۵ھ میں پیدا ہوئیں۔ (زینب الکبریٰ ؓص۳۳)
اسی طرح آپ؅ کے ماہِ ولادت میں بھی مؤرخین کے مختلف آراء ہیں۔
بعض کے نزدیک آپؓ کی تاریخِ ولادت ۵ جمادی الاوّل ہے ۔ یہ رائے مستند خیال کی جاتی ہے۔ (زینب الکبریٰؓ)
بعض کے خیال میں آپؓ کی ولادت ماہِ شعبان کے اواخر میں ہوئی اور بعض کے خیال میں ماہِ رمضان کے اواخر میں۔
حضرت زینب الکبریٰ؅ مدینہ منورہ میں حضرت علی؄ کے گھر پیدا ہوئیں۔
وہ اس عظیم باپ کی عظیم بیٹی ہیں جن کی شان میں متعدد آیاتِ قرآنی نے بھی گواہی دی۔
آپؓ کی والدہ سیّدہ حضرت فاطمۃ الزہرا؅ رسول اللّٰہﷺ کی وہ بیٹی ہیں جن کے دستِ مبارک آپﷺ چومتے اور فرماتے؛
’’میری بیٹی فاطمہ (؅ ) بہشت کے پھولوں میں سے ایک پھول ہے اور مجھے فاطمہ (؅ ) سے بہشت کی خوشبو آتی ہے۔
سیّدہ زینبؓ ایسی مادرِ گرامی کے بطن مطہرہ سے دنیا میں تشریف لائیں جن کے لیے ’’امّ ابیھا‘‘ کی کنیت بتائی گئی ہے۔
ایسی ہستی کے دودھ سے پرورش پائی جو نبیٔ کائناتﷺ کی سب سے پیاری اور محبوب بیٹی تھیں۔
نوجوانانِ جنت کے سرداروں کی بہن:
سیّدہ زینب؅ کے بڑے بھائی حضرت امام حسن؄ بن علی؄ نواسۂ رسولﷺ اور نوجوانانِ جنت کے دو سرداروں میں پہلے سردار ہیں۔
آپ؄ کے دوسرے بھائی حضرت امام حسین؄ بھی سردارِ کربلا، نواسۂ رسولﷺ اور نوجوانانِ جنت کے دوسرے سردار ہیں۔
سیّدہ زینب؅ حضرت امام حسینؓ کے جہاد میں ان کے برابر شریکِ کار ہیں۔
وہ حضرت امام حسین؄ جنہوں نے اپنی شہادت کا انتخاب کر کے ایک عظیم و جاوید شہادت کی بنیاد قائم کی۔
حضرت زینب؄ کے ایک اور بھائی حضرت ابوالفضل العباس؄ جو واقعہ کربلا میں سپاہ حسینی کے ذمہ دار سقایت اور علمبردار لشکر ہیں، جن کا خلوص و محبت، راہِ عاشقان و دلدادگان کے لیے ایک سبق کی صورت ہے۔
آپؓ روزِ عاشورہ حضرت امام حسین؄ کے قوتِ بازو اور زورِ پشت و کمر تھے۔
حضرت امام حسین؄ نے آپؓ کی شہادت کے بعد فرمایا:
’’اب میری کمر جھک گئی ہے۔‘‘
سیّدہ زینب؄ بنتِ علی؄، سید المرسلین، خاتم النبیاﷺ کی نسل پاک سے ہیں۔
ایک ایسے گھرانے کی نورِ نظر جن میں والد گرامی، والدہ محترمہ اور ایسے شہیدانِ راہِ اللّٰہ بھائیوں کی بہن، جو نسل در نسل راہِ حق میں قربانیوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے۔
اسماء و القاب:
آپ؅ کا اسمِ گرامی زینب کبریٰ ہے۔
جب آپؓ دنیا میں تشریف لائیں تو سیّدۃ النساء فاطمۃ الزہرا؅ نے حضرت علی؄ سے درخواست کی کہ وہ نوزائیدہ بچی کا نام تجویز فرمائیں۔
حضرت علی؄ نے فرمایا:
’’ میں اس کام میں رسول اللّٰہﷺ پر (جو ان دنوں سفر میں تھے) سبقت نہیں کر سکتا۔‘‘
جب رسول اللّٰہﷺ واپس تشریف لائے تو ان سے درخواست کی گئی۔
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا:
’’میں اس کام میں اللّٰہ سے سبقت نہیں لے جا سکتا۔‘‘
حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کی:
’’ پروردگار آپﷺ پر سلام بھیجنے کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ بچی کا نام زینب رکھا جائے۔‘‘
(زینب کبریٰؓ ص:۳۲۹)
سیّدہ زینبؓ کی کئی کنیات ہیں جن میں چند ایک تاریخِ کتب میں زیادہ مشہور ہیں۔
آپ؅ کی مشہور کنیت ’ ام کلثوم‘ ہے اور اس کی نسبت رسول اللّٰہﷺ کی طرف دی جاتی ہے۔
آپ؅ کی ایک کنیت ’’ ام الحسن‘‘ بھی ہے۔
امیر المومنین حضرت علی؄ کے دورِ خلافت میں اپنی شوہر داری، خانہ داری اور پرورش اولاد کے باوجود اپنے والد محترم کے ذاتی امور کی آپ؅ ہی منتظم تھیں۔
اپنے برادرانِ محترم کے زمانہ میں آپ؅ ہر شخص سے زیادہ اپنے بھائیوں کی ولایت کی محرمِ راز اور ان کے ہمراہ رہتیں۔
واقعہ کربلا کے دوران نہ صرف یہ کہ آپ؅ حضرت امام حسین؄ کی مددگار، خطراتِ موت میں آپؓ کی محافظ اور شریکِ جنگ بلکہ شریکِ مصائب عاشورہ تھیں۔
اگر اس وقت آپ؅ موجود نہ ہوتیں تو واقعۂ کربلا کبھی زندہ نہ ہوتا۔
آپ؅ ہی نے واقعاتِ کربلا کو دُور و نزدیک تک پہنچا دیا تھا۔
بچپن اور تربیت:
آپ؅ کو جو عمدہ ماحول اور بہترین تربیت میسر ہوئی وہ کم ہی بچوں کو نصیب ہوتی ہے۔
آپ؅ نے آغوشِ رسولﷺ میں پرورش پائی۔
سیدۃ النسا حضرت فاطمہ جیسی عظیم المرتبت ماں سے مادی و معنوی خوراک حاصل کی۔
سر پر علی المرتضیٰ؄ کا سایہ تھا۔
بچپن میں حسن؄ اور حسین؄ جیسے بھائیوں کے ساتھ کھیلیں۔
محبتِ رسولﷺ:
رسول اللّٰہﷺ آپ؅ سے گہری محبت رکھتے تھے۔
انھیں اپنی آغوشِ مبارک میں بٹھاتے، ان سے راز و نیاز کرتے، ان کی تربیت بھی حضرت فاطمہ؅ کی طرح رسول اللّٰہﷺ نے کی تھی۔
حضرت زینب؅ رسول اللّٰہﷺ سے بے حد مانوس تھیں۔
آپ؅ رسول اللّٰہﷺ کی نوازشات سے بہت زیادہ بہرہ مند ہوئیں۔
آپ نے رسولﷺ سے بہت سی ایسی باتیں سنیں اور سیکھیں جنہیں بعد میں محدثین نے نقل کیا۔
بنتِ بتول سیّدہ زینب؅ نے حیاتِ رسولِ کریمﷺ کا چھے برس تک مشاہدہ کیا۔ آپ؅ اکثر رسول اللّٰہﷺ کی آغوشِ مبارک کی زینت بنی رہتیں۔
کوئی دن ایسا نہ گزرتا کہ آپﷺ حضرت زینبؓ کو نہ دیکھتے۔
نواسی کی پیاری پیاری معصوم باتیں، جو کبھی عقل و دانش اور سمجھ بوجھ سے خالی نہ ہوتیں اور جنہیں رسول اللّٰہﷺ دوسروں کے سامنے دہرایا کرتے، رسول اللّٰہ ﷺ کے لیے بے حد خوشی اور مسرت کا باعث بنا کرتیں۔
اسی طرح رسول اللّٰہﷺ نواسی کو ان کے بچپن میں جو پند و نصائح بتاتے، وہ ان کی مستقل کی حیات کے لیے درس ہائے بے بہا بن جاتے۔ (اسد الغابہ، ج۵)
والدِ گرامی حضرت علیؓ کی شفقت:
چونکہ رسول اللّٰہ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے مختصر عرصہ بعد حضرت زینبؓ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ؅ بھی اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئی تھیں اس لیے حضرت زینب؅ نے زیادہ محبت حضرت علی؄ کی ہی پائی۔
حضرت علی؄ ننھی زینبؓ کو اپنے دستِ مبارک سے لقمے کھلاتے۔
ایسے عظیم المرتبت باپ کی نگہداشت، مراحلِ زیست میں اپنے ذاتی مسائل میں گرانقدر والد سے حصولِ درس و اسباق اخلاق، دیانت و توحید اور برداشت و تحمل کی تربیت پائی۔
محبت و ربط اور کیفیت و ماحول کا یہ سلسلہ حضرت علی؄ کے یومِ شہادت ۴۰ھ تک جاری و ساری رہا۔
ایک روز بنتِ بتول حضرت زینب؅، کم سنی کے دور میں اپنے والد حضرت علی؄ کے بائیں جانب بیٹھی تھیں، پوچھنے لگیں؛
’’بابا جان! کیا آپ کو ہم سے محبت ہے؟‘‘
حضرت علی؄ نے فرمایا:
’’یقیناً میری بیٹی! میری اولاد میرے جگر کا ٹکڑا ہیں۔‘‘
سیدہ زینب؅ نے پوچھا:
بابا جان! مومن کے دل میں دو محبتیں تو جمع نہیں ہوتیں۔‘‘
حضرت علی؄ نے محبت بھری نگاہوں سے بیٹی کی طرف دیکھا پھر فرمایا:
’’یہ دو محبتیں اللّٰہ کی محبت اور اولاد کی محبت ہے۔‘‘
وہ فرمانے لگیں؛
’’اگر یہ محبت ناگزیر ہے تو پھر چاہیے کہ ہماری طرف نظرِ مہر ہو اور محبت اللّٰہ تعالیٰ کی جانب مخصوص ہو۔‘‘
اپنی بیٹی کی اس تیز فہمی کے باعث ہی حضرت علی المرتضیٰ؄ کی محبت اپنی بیٹی سے اور زیادہ ہوتی تھی۔
آپ؅ کا تعلق اس گھرانے سے ہے جہاں آپ نے امت کے امام ٹھہرنے والے اپنے دو بھائیوں کے ساتھ بچپن گزارا۔
بچپن کے ایّام:
آپ؅ نے بچپن کے ایّام اپنے گھر میں انتہائی خوشی و مسرت میں بسر کیے جب ابھی رنج و الم کا سایہ ان پر نہ پڑا تھا۔ یہی آپ؅ کا دورِ شادمانی تھا۔
مگر یہی وہ دور تھا جس کے آخر میں رسول اللّٰہﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے اور والدہ گرامی کی وفات، یہ ایسے واقعات تھے جنہوں نے آپ؅ سے ظاہری دور انبساط و شادمانی کو چھین لیا۔
حضرت عبد اللّٰہ بن جعفر؄ سے عقد:
حضرت زینبؓ جب سنِ بلوغت کو پہنچیں تو بہت سے اشراف عرب نے آپ؅ کے ساتھ رشتہ کی درخواست کی جن میں ان کے چچا زاد حضرت عبداللّٰہ بن جعفر؄ بھی تھے۔
ان سے حضرت علی؄ اور رسول اللّٰہ ﷺ کو دلی محبت تھی۔ حضرت علیؓ رسولﷺ کی زبان مبارک سے سن چکے تھے کہ:
’’ہماری بیٹیاں ہمارے بیٹوں کے لیے اور ہمارے بیٹے ہماری بیٹیوں کے لیے ہیں۔‘‘
حضرت علی؄ رسول اللّٰہﷺ کی یہ بات کیسے بھول سکتے تھے۔
حضرت عبد اللّٰہ؄ حضرت علی؄ کے حقیقی بھائی حضرت جعفر؄ کے بیٹے تھے۔
وہ حضرت جعفر جنہوں نے غزوۂ موتہ میں شہادت کا لبادہ اوڑھا اور جن کے متعلق رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’وہ جنت میں دو پروں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں۔‘‘
حضرت زینب؅ کا عقد حضرت عبد اللّٰہ؄ کے ساتھ کر دیا گیا۔
آپ؅ نے ایک شفیق شوہر کے زیرِاثر بہت جلد زندگی کی ذمہ داریوں میں قدم رکھ دیا۔
آپ؅ حضرت عبد اللّٰہ؄ کے لیے ایک مہربان زوجہ اور ان کی اولاد کے لیے فرض شناس رہیں۔
آپ کا ہر کام وقت کے حساب سے ہوتا اور ان میں کبھی کوتاہی نہ ہو پاتی۔
آپ؅ نے ہمیشہ شوہر کی خدمت،
اولاد کی پرورش،
عبادات و دعا کے اوقات،
والد بزرگوار کی خدمت،
برادرانِ سے محبت،
یہ سب امور اس خوبی سے ادا کیے کہ ان میں کبھی نا تو کمی آئی اور نہ ہی یہ فرائض آپس میں ایک دوسرے سے الجھے۔
بنتِ فاطمہ؅ کی حیاتِ مبارکہ اور طریقِ کار حیرت انگیز و تعجب خیز ہے۔
آپ ؅ ایک خاتون کی حیثیت سے نرم دل اور رقیق القلب ہیں لیکن جہاں حالات و ضروریات کا تقاضا رہا، تو یہی نرم خو و نرم دل خاتون اپنے ہدف کے حصول کی خاطر پہاڑ کی طرح مستحکم و مضبوط دکھائی دیں۔
جہاں فرائض دینی، اسلام کی حفاظت اور وجودِ قرآن کا دفاع مقصود ہو تو آپ؅ اپنے عزیز ترین بیٹوں کو قربان کرتی نظر آتی ہیں، مگر اپنے ناناﷺ کے دین پر آنچ نہیں آنے دیتیں۔
خواتین کے لیے مشعلِ راہ:
تمام عورتیں مصائب و تکلیف میں آپ؅ سے رجوع کرتیں۔
پناہ کی طالب ہوتیں یا امداد رسی کے لیے آتیں تو سیّدہ زینب؅ ان کی ہر ممکن مدد فرماتیں۔
ان کے دکھوں کا مداوا کرتیں اور انھیں محبت کے ساتھ تسلی و تشفی سے نوازتیں۔
بعض خواتین جب جنگ کے دنوں میں اپنے عزیز و اقارب کی اموات کا سامنا کرتیں تو غم و اندوہ سے بے ہوش ہو جاتیں
مگر حضرت زینب؅ نے ایسے واقعات کا اس قوتِ قلب کے ساتھ سامنا کیا کہ دوسروں کے لیے مثال بن گئیں۔
اپنا گھر بار، ذمہ داریاں، شوہر اور بچے ہونے کے باوجود انھوں نے دین کی راہ میں اپنے فرائض سے غفلت کا ہرگز مظاہرہ نہ کرتے ہوئے حضرت امام حسین؄ کی ہمراہی کو چُنا تاکہ اس عظیم شہادت اور پیغام سیّدالشہدا؄ کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں۔
آپ؅ نے راہِ حق میں ایسے ایسے مصائب و آلام برداشت کیے کہ اگر وہ سخت پتھروں پر پڑتے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتے۔
کم سنی کے تین بڑے غم:
سیّدہ زینب؅ کی زندگی کا سب سے بڑا اَور پہلا دُکھ اُن کے نانا، خاتم النبیینﷺ کا دنیا سے پردہ فرما جانا تھا۔ پورے خانوادے کے لیے یہ غم ناقابلِ برداشت صدمہ کی حیثیت رکھتا تھا۔
ننھی سی سیّدہ زینب؅ جب گھر کی خواتین و مردوں کا رونا دیکھتیں، اُن کی آنسوؤں سے لبریز آنکھیں اور اُن کی آہیں سنتیں تو اُن کا دل غم و دکھ اور صدمے سے بھر جاتا۔
ابھی سب کے دلوں میں اس صدمے کا دکھ تازہ تھا اور سہا نہ جاتا تھا کہ اُن کی پیاری عزیز از جان والدہ حضرت فاطمۃ الزہرا؅ کا بھی وقتِ رخصت آن پہنچا۔
والدﷺ کی چہیتی بیٹی اُن کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد زیادہ عرصہ اُن سے دور نہ رہ سکیں اور وَالد کےپیچھے چل دیں۔
سیّدہ زینب؅ عمر کے اُس حصے میں تھیں جہاں ایک کم سن بچی کو اپنی ماں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن انھیں اس دکھ سے بھی گزرنا پڑا۔
والدہؓ کی رحلت کے وقت سیّدہ زینب؅ ان کے پہلو سے لگی بیٹھی تھیں۔
فاطمۃ الزہرا؅ نے انھیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا:
’’زینب، میری جان! تمہیں میری جگہ لینا ہو گی۔ جب تم میری جگہ لو گی۔ زندگی کی ذمہ داریاں اور گھریلو کام کاج کا بوجھ برداشت کرنا ہو گا۔
ایسے میں تم اپنے بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑنا۔
ان کا سہارا بنی رہنا، باپ کی خدمت پوری محبت اور خلوص کے ساتھ کرنا۔‘‘
ننھی سیدہّ زینب؅ نے ماں کا غسل اور تکفین و تدفین بھی دیکھی۔
اس معصوم کے دل پر اس وقت کیا گزرتی ہو گی۔
تیسرا دُکھ ایک اور روح فرسا سانحہ تھا۔
جب ان کے شفیق والد، حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ ، عبد الرحمٰن بن ملجم کے ہاتھوں زخمی ہوئے۔ ایک اور حادثہ، جو دلوں پر گزرا اَور دُنیا میں تاریکی چھا گئی۔
آپ؅ نے اپنے والد کا نیم جاں جسم اور خون آلود سر دیکھا۔
حضرت علی؄ تین دن تک اس جان کنی کی حالت میں مبتلا رہ کر دنیا سے رخصت ہو گئے ۔
یہ حادثہ سانحۂ عظیم میں تبدیل ہو گیا۔
حضرت امام حسن؄ کی شہادت:
حضرت علی المرتضیٰ کی شہادت کے بعد سیّدہ زینب؅ کے بھائی
امام حسن؄ کی خلافت کا دور آیا۔
تدفین کے بعد جب حضرت حسن کوفہ کی جامع مسجد تشریف لائے تو مسلمانوں کی اکثریت نے
نے ان کے ہاتھ پر بیعت لی۔
ان میں وہ چالیس ہزار بھی شامل تھے جنہوں نے حضرت علی؄ سے حضرت معاویہ کے ساتھ جنگ کرنے پر حضرت علی؄ کا ساتھ دینے کی بیعت کی تھی۔ (تاریخ الآئمہ، ص۳۳۲)
دورانِ بیعت حضرت امام حسن؄ لوگوں سے اقرار کرواتے اور فرماتے:
’’تم میرے مطیع و فرمانبردار رہو گے، جس سے میری صلح ہو گی، اس سے تم مصالحت کرو گے اور جس سے میری جنگ ہو گی، اس سے تم بھی نبرد آزما ہو گے۔‘‘
حقیقتاً حضرت امام حسن؄ ایک صلح پسند انسان تھے۔
انھیں قتل و خونریزی سے نفرت تھی۔
وہ مسلمانوں کی خونریزی کی قیمت پر خلافت لینے کو تیار نہ تھے۔
ان کا فیصلہ تھا کہ اگر ایسی کوئی نوبت کبھی آئی تو وہ دستبردار ہو جائیں گے۔
یہ اور بات کہ بیعت لینے والوں میں سے بہت لوگوں نے بیعت شکنی کی اور حضرت امام حسن؄ کو تنہا چھوڑ دیا۔
اپنی خلافت سے دستبرداری کے بعد امام حسن؄مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور باقی ماندہ زندگی خدمتِ اسلام، تبلیغ احکام اور فرائض امامت میں گزار دی۔
۵۰ھ میں آپؓ نے اس دنیا سے پردہ فرمایا۔
روایات میں ہے کہ آپؓ کی شہادت زہر خورانی سے ہوئی۔ آپ؄ کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔
سیّدہ زینب؅ کے لیے یہ سانحہ عظیم تھا۔
آپ؅ فوراً اپنے بھائی حضرت امام حسن؄ کے پاس پہنچیں۔ دیکھا کہ جگر کے ٹکڑے منہ سے باہر نکل رہے ہیں اور کچھ ہی دیر میں جان سے پیارا بھائی جدا ہونے کو ہے۔
وہ بھائی جس کے ساتھ بچپن کے ایّام گزرے جس کی محبت کے سائے میں پرورش پائی۔
والد بزرگوار کی شہادت کا واقعہ پھر سے تازہ ہو گیا مگر سیّدہ زینب؅ نے صبر و ضبط کا دامن تھامے رکھا اور یہ صدمہ بڑے صبر و تحمل سے برداشت کیا۔
اللّٰہ کی رضا کے آگے سر تسلیمِ خم کیا اور زبان پر کوئی شکوہ نہ آیا۔
ابھی تسکین کا ایک آسرا ایک سہارا باقی تھا۔  رسول اللّٰہﷺ کی واحد و تنہا یادگار۔
حضرت امام حسین؄۔
مستقبل میں ایک اور سانحۂ عظیم تاریخ میں رقم ہونے کا منتظر تھا، لیکن ابھی دبیز پردوں میں چھپا ہوا تھا اور اس کے ظاہر ہونے میں دس سال کا عرصہ حائل تھا۔
وہ سانحہ، جس نے آسمان کو خون کے آنسو رُلانا تھا۔
جس نے اسلام کو استحکام بخشنا تھا۔
ایسا واقعہ جو قربانی کی عظیم یادگار تھا۔
جس نے پوری دنیا کو لرزا کر رکھ دینا تھا۔ جس میں صبر و استقامت، رضائے الٰہی پوشیدہ تھی۔
یہی  تھا جس میں حضرت زینب؅ کی کوہِ استقامت عیاں ہونی تھی۔
ابھی سیّدہ حضرت زینب ؅ کی حیاتِ مبارکہ میں اور بہت سے حوادثِ غم اور دکھ پنہاں تھے۔
سیّدہ زینب؅کی عظمت و صبر:
سیّدہ زینب؅ کی عظمت آپ؅ کے جذبۂ صبر و رضا سے بہت اچھی طرح ثابت ہے۔
آپؓ اس ہستی کی مالکہ ہیں جو اپنے پورے وجود عزم کے ساتھ جب دشمن کے ظلم و طوفان کے مقابل کھڑی ہوئیں تو اس قدر بلند قامت نظر آئیں اور ایسی استقامت کا مظاہرہ کیا کہ تاریخِ انسانیت آپ؅ کے سامنے حیرت زدہ رہ گئی۔
آپ؅ کے طرزعمل، متانت اور بردباری کی کہیں مثال نہیں ملتی۔
مصائب و آلام میں آپ؅ کا حوصلہ فولاد کی طرح مضبوط اور آپ؅ کا وقار ایک کوہِ گراں کی طرح مستحکم نظر آتا ہے۔
آپ؄ کو ایسے دشمنوں کا سامنا تھا، جو قاتلِ حسین؄ تھے۔
ان کے لیے اپنے برادر بزرگ حضرت امام حسین؄ سے زیادہ اس وقت دنیا میں محبوب ہستی اور کوئی نہ تھی۔
یہ وہی سیّدہ زینب؅ ہے، جب نانا کے دین کا مسٔلہ سامنے آتا ہے تو اس کی حفاظت کے لیے صبر و رضا کو بنیاد بناتی ہیں۔ مقتل گاہ میں تشریف لاتی ہیں۔
پتھروں، ٹوٹی ہوئی تلواروں کے ٹکڑوں اور بکھرے ہوئے نیزوں کے درمیان عزیز از جان بھائی حضرت امام حسین؄ کے جسد اطہر کو تلاش کرتی ہیں۔
محترم بھائی کی سربریدہ لاش کے قریب نہایت ادب و احترام کے ساتھ دوزانو بیٹھتی ہیں۔ اپنے دونوں ہاتھ اس جسد بے سر کے نیچے گزار کر اُٹھاتی ہیں اور رب العزت کی بارگاہ میں اس طرح مناجات پیش کرتی ہیں۔
’’اے اللّٰہ! ہماری اس قربانی کو قبول فرما۔‘‘
سفرِ کربلا:
سیّدہ زینب؅ نے جس روز سید الشہدا سردار جنت حضرت امام حسین؄ کے ہمراہ سفر کا آغاز کیا۔ انھیں اسی روز سے ادراک تھا کہ اس پُرخطر سفر میں کیسے توہین آمیز اور صبر آزما واقعات سے گزرنا ہو گا ۔ کیسے کیسے مصائب و آلام کے راستے عبور کرنا ہوں گے۔
آپ؅ نے دل و جان سے قبول کیا اور محوِ سفر رہیں۔
سانحہ کربلا:
۱۰ محرم الحرام ۶۱ھ کی شب بہت بھاری تھی۔
جس وقت دشمنوں نے صف بندی کی اور ان کا لشکر حضرت امام حسین؄ کے خیموں کی طرف بڑھنے لگا۔
حضرت امام حسین؄ اس وقت اپنے خیمے میں تشریف فرما تھے۔
سیّدہ زینب؅ نے جب دشمن کی فوج کا شور سنا تو جلدی سے حضرت امام حسین؄ کے خیمے میں پہنچیں اور آپ؄ کو دشمن کے حملے سے آگاہ کیا۔
یہ بات بھی عیاں تھی کہ دشمن کا مقصد محض حضرت امام حسین؄ کو شہید کرنا ہی تھا۔
جس وقت حضرت امام حسین؄ نے مکہ مکرمہ سے کوفہ کے لیے رختِ سفر باندھا تھا
ان کے ساتھیوں نے اسی وقت بھانپ لیا تھا کہ یہ سفر کچھ اچھا ثابت نہ ہو گا۔
لہٰذا ان کے خیر خواہوں اور محبت و ہمدردی رکھنے والے ساتھیوں نے انھیں اس ارادے سے باز رکھنا چاہا کہ آپ؄ کا کوفہ جانا خطرے سے خالی نہ ہو گا۔
حضرت عبد اللّٰہ بن عباس؄ نے کہا:
’’مکہ نہ چھوڑیں اور بیت اللّٰہ سے دوری اختیار نہ کریں، آپ؄ کے والد محترم نے مکہ اور مدینہ کو چھوڑ کر کوفہ کو ترجیح دی مگر آپ؄ نے دیکھا کہ ان کے ساتھ اہل کوفہ نے کس قسم کا سلوک کیا یہاں تک کہ ان کو شہید ہی کر ڈالا۔
آپ؄ کے بھائی حسن؄ کو بھی کوفیوں نے لوٹا، قتل کرنا چاہا اور آخر میں زہر دے کر شہید کر ڈالا۔
اب آپ؄ کو ان پر ہرگز اعتبار نہیں کرنا چاہیے، نہ ان کی بیعت پر کسی قسم کا بھروسا اور نہ ہی ان کے خطوط و پیغامات قابلِ اعتبار ہیں۔‘‘
اسی طرح اور بہت سے لوگوں نے حضرت امام حسین؄ کو کوفہ جانے سے روکا۔
آپؓ کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی حضرت عبد اللّٰہ بن جعفر؄ نے مدینہ منورہ سے ایک خط بھیجا؛
’’میں آپ کو اللّٰہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ یہ خط دیکھتے ہی اپنا ارادہ ملتوی کر دیں، کیونکہ اس راہ میں آپ؄ کے لیے ہلاکت اور آپ؄ کے اہل بیت کے لیے بربادی ہے۔
اگر آپ؄ قتل ہو جائیں تو زمین کا نور بُجھ جائے گا۔
اس وقت آپ؄ ہی ہدایت کا نشان اور ارباب ایمان کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ جلدی نہ کیجیے میں آتا ہوں۔‘‘
مگر حضرت امام حسین؄ اپنے ارادے پر قائم رہے۔
جب آپ؄ مکہ سے نکلنے لگے تو اہلِ مکہ نے بھی آپ؄ کو روکنا چاہا اور یہاں تک کہا کہ اگر آپ نہ رُکے تو ہم آپ کو زبردستی روکیں گے اور آپ؄ کا مقابلہ کریں گے۔
حضرت امام حسین؄ نے کہا؛
’’جو کچھ تم سے ہو سکے کر گزرو اور لڑائی کا ارمان بھی نکال لو۔‘‘
یہ سُن کر سب لوگ راستے سے ہٹ گئے اور یوں حضرت امام حسین؄ روانہ ہو گئے۔
حضرت امام حسین؄ ایک مصمم عزم رکھتے تھے۔
انھیں اپنے عزم کے نتائج اور دینی فوائد کا بخوبی ادراک و علم تھا۔
رسول اللّٰہﷺ نے انھیں راست اقدام کی نشاندہی فرمائی تھی۔
حضرت امام حسین؄ کو اللّٰہ رب العزت پر کامل بھروسا اور اپنے اقدام کے صحیح ہونے کا یقین تھا۔
جس وقت حضرت امام حسین؄ قادسیہ سے تھوڑا آگے بڑھے، حربن یزید ایک ہزار فوج کے ساتھ نمودار ہوا اور ساتھ ہو لیا۔ اسے حکم تھا کہ:
’’امام حسین؄ کے ساتھ مسلسل لگا رہے اور اس وقت تک پیچھا نہ چھوڑے، جب تک انھیں عبید اللّٰہ بن زیاد کے رُوبرو نہ پہنچا دے۔‘‘
اسی اثنا میں نمازِ ظہر کا وقت ہو گیا۔
ایسے وقت میں حضرت سیدنا حسین؄ نے اپنے ساتھیوں اور حر بن یزید کے ساتھیوں کے سامنے خطبہ دیا؛
اے لوگو! اللّٰہ کے سامنے اور تمہارے سامنے میرا عذر یہ ہے کہ میں اپنی طرف سے یہاں نہیں آیا ہوں۔ میرے پاس تمہارے خطوط پہنچے۔ قاصد آئے۔
مجھے بار بار دعوت دی گئی کہ ہمارا کوئی امام نہیں۔ آپ آئیے تاکہ اللّٰہ ہمیں آپ کے ہاتھ پر جمع کر دے،
اگر اب بھی تمہاری یہی حالت ہے تو میں آ گیا ہوں۔
اگر مجھ سے عہد و پیماں کے لیے تیار ہو،
جن پر میں مطمئن ہو جاؤں تو میں تمہارے شہر میں چلنے کو آمادہ ہوں۔
اگر ایسا نہیں ہے بلکہ تم میری آمد سے ناخوش ہو،
تو میں وہیں واپس چلا جاؤں گا جہاں سے آیا ہوں۔‘‘
اس بات کا کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ دیر تک خاموش رہنے کے بعد لوگ مؤذن سے کہنے لگے۔
’’اقامت پکارو۔‘‘
حضرت امام حسین؄ نے حر بن یزید سے کہا؛
’’کیا تم علیحدہ نماز پڑھو گے؟‘‘
حر بن یزید نے جواب دیا۔
’’نہیں! آپ (؄) امامت کریں، ہم آپ ہی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔‘‘
وہیں عصر کی نماز بھی پڑھی، دوست دشمن سب مقتدی تھے۔ سلام کے بعد آپ؄ نے پھر خطبہ دیا:
’’اے لوگو! تم تقویٰ پر ہو اور حق دار کا حق پہچانو، یہ تو اللّٰہ کی خوشنودی کا مؤجب ہو گا، اہلِ بیت ان مدعیوں سے زیادہ حکومت کے حق دار ہیں.
ان لوگوں کا کوئی حق نہیں۔ یہ ہم پر ظلم و جور سے حکومت کرتے ہیں، لیکن اگر تم ہمیں ناپسند کرو۔ ہمارا حق نہ پہچانو۔
اب تمہاری رائے اس کے خلاف ہو گئی ہو، جو تم نے مجھے اپنے خطوط میں لکھی اور قاصدوں کے ذریعے پہنچائی۔ تو میں واپس چلنے کے لیے بخوشی تیار ہوں۔‘‘
حربن یزید نے کہا؛
لیکن ہم وہ نہیں ہیں جنہوں نے خطوط لکھے تھے۔ ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ آپ(؄) کو عبید اللّٰہ بن زیاد تک لے جا کر چھوڑ آئیں۔‘‘
حضرت امام حسین؄ نے یہ سُن کر فرمایا؛
’’میں جان، جانِ آفریں کے سپرد کر دوں گا مگر یہ ہرگز قبول نہ کروں گا۔‘‘ (اخبار الطّول، ص ۴۹)
سیّدہ زینب کبریٰ ؅ قافلہ حسین میں موجود تھیں۔
وہ خامو ش نگاہوں سے یہ تمام منظر دیکھ رہی تھیں۔ ہر بات ان کی سماعت میں اُتر رہی تھی۔
انھیں اپنے بھائی کی مظلومیت پر پیار آ رہا تھا۔
انھیں اس بات کا ادراک ہو چکا تھا کہ معاملہ بہت سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اور ہر آنے والا وقت پہلے سے زیادہ شدید تر اور سنگین ہو گا، دشمن انھیں کسی صورت زندہ نہیں چھوڑے گا۔
اب حالات کی کمان ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ انھیں تقدیر کے فیصلے کے آگے سرنگوں کرنا ہی تھا۔
ان کی آنکھوں میں تشویش تھی اور لب کچھ کہنے کو تڑپ رہے تھے۔
ہر لمحہ تنگ ہوتا جا رہا تھا، دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔
وہ اپنے پیارے بھائی کو خونیں دشمن کی قید سے کیونکر چھڑواتیں، حالات کی سنگینی بہت شدت اختیار کر گئی تھی۔
انھوں نے دیکھا کہ جب ان کے بھائی نے روانگی کا حکم دیا تو مخالفین ان کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔
حضرت امام حسین؄ نے حر بن یزید سے دریافت کیا کہ وہ کیا چاہتا ہے؟
وہ کہنے لگا کہ اُسے لڑنے کا حکم نہیں ملا، صرف اتنا کہ وہ حضرت امام حسین ؄ کا ساتھ نہ چھوڑے یہاں تک کہ وہ؄ کوفہ پہنچ جائیں۔
اس نے درخواست کی کہ یا تو آپ(؄) ایسا راستہ اختیار کیجیے جو نہ کوفہ کو جاتا ہو نہ مدینہ میں، یا عبید اللّٰہ یا یزید کو خط لکھیے تاکہ میرے لیے کوئی مخلصی کی راہ نکلے اور میں اس امتحان سے بچ جاؤں۔
حضرت امام حسین؄ نے یہ بات منظور کر لی اور روانہ ہوئے۔
حربن یزید ریاحی کے ایک ہزار سپاہی حضرت امام حسین؄ کو گھیرے میں لیے ہوئے کھڑے تھے، آخر آپ؄ ایک بیابان سرزمین میں جا اُترے۔ آپ؄ نے پوچھا؛
’’یہ کون سی سرزمین ہے؟‘‘
آپ(؄) کو بتایا گیا کہ اس سرزمین کا نام کربلا ہے۔
حضرت امام حسینّ(؄) نے یہ سن کر فرمایا:
’’یہ کرب اور بلا ہے۔‘‘
یہ وہی کربلا تھا جہاں سیّدہ زینب؅ نے بے انتہا دکھ اور غم جھیلا۔
یہی وہ سرزمین تھی جہاں آپ؅ نے پورے اہلِ بیت کو مقید دیکھا۔
یہی وہ سرزمین تھی جہاں آپ؅ اور آپ؅ کے عزیز و اقارب پر پانی کی بندش کی گئی
ایک ایک بوند کے لیے انھیں ترسایا گیا۔
یہی وہ سرزمین تھی جہاں حضرت زینب؅ بنت علی؄ نے اپنے پیاروں کو تڑپتے دیکھا۔
اسی سرزمین پر آپ؅ نے دشمن کی مخالفت اور سنگ دلی کا منظر دیکھا۔
جہاں آپ؅ کے سامنے معصوم بچوں کا خون بہایا گیا۔
آہ! یہی وہ سرزمین تھی جہاں ان کے جان سے عزیز بھائی، جنت کے سردار، نواسۂ رسول ﷺ حضرت امام حسین؄ کو خون میں نہلا کر شہید کیا گیا اور حضرت زینب؅ کی آنکھوں نے وہ منظر دیکھا جب ظالم و سنگ دل دشمن نے حضرت امام حسین؄ کے بے سر جسم کو اپنے گھوڑوں کے سموں تلے روندا۔
کربلا سے کوفہ تک:
سیّدہ زینب؅ بنت علی؄ یومِ عاشورہ سے ۱۲ محرم الحرام ۶۱ ھ تک بے شمار مصائب میں گھری رہیں۔
انھوں نے میدانِ کربلا میں اپنے عزیز از جان بھائی کی آواز سُنی، آپ؅ نے حضرت امام حسین؄ کوگھوڑے سے گرتے دیکھا، پھر آپ؄ پر پتھروں کا برسنا ، جسم مبارک پر تلواروں اور تیروں کی یلغار دیکھی۔
حضرت امام حسین؄ کے گھوڑے کو اپنے سوار یعنی حضرت امام حسین؄ کے بغیر دیکھا، گھوڑے کی زین سے خون ٹپکتا تھا۔
وہ گویا خیمے کے دروازے پر لہولہان حالت میں اپنے پیارے سوار؄ کی شہادت کی خبر دینے آیا تھا۔
میدانِ کربلا میں دشمن دانستہ امام حسین؄ کا سر مبارک سیدہ زینب؅ کے قریب لایا تاکہ ان کی نظر اپنے بھائی کے کٹے ہوئے سر پر پڑے۔ کوئی اذیت سی اذیت تھی۔
سیّدہ زینب؅ پر آفرین ہے کہ انھوں نے وہ دلخراش منظر دیکھ کر بھی صبر و استقلال کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیا۔
سیّدہ زینب؅ کو جن بے بہا صدمات سے گزرنا پڑا وہ جسمانی بھی تھے اور روحانی بھی۔ کوفہ شہر میں سیّدہ زینب؅ کا داخل ہونا اور اپنی آنکھوں سے ابن زیاد کو اس کرسی پر بیٹھے دیکھنا، جہاں کبھی اُن کے والد گرامی، حضرت علی؄ تشریف فرما ہوا کرتے تھے، بہت ہی دل گردے اور حوصلے کا متقاضی تھا۔
سیدہ زینب؅ کی آنکھیں اشکبار ہوئیں مگر نھوں نے وہ آنسو ضبط کر لیے۔ انھوں نے دشمنوں کے سامنے رونا تک گوارا نہ کیا مبادا دشمن انھیں روتا دیکھ کر خوش ہو جائے۔
وہ بے حد بلند حوصلہ خاتون تھیں۔
انھیں اپنی ذات پر مکمل تسلط حاصل تھا۔ انھیں خبر تھی کہ دشمن کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا ہے اور دشمنوں سے کس قسم کے رویے کی امید کی جا سکتی ہے۔
گفتگو میں حضرت علی؄ کی شباہت:
تاریخ میں سیدہ فاطمۃ الزہرا ؅ سے پہلے بہت سی ایسی خواتین کا ذکر آیا ہے جو اپنی گفتگو اور خطبات کے لیے مشہور ہیں۔
اُن کے خطاب کو سُن کر یوں لگتا جیسے خود حضرت علی؄ محو گفتگو ہیں۔
اُن کے بعد مؤرخین نے وہی لب و لہجہ، کوفہ میں سیدہ زینب؅ کے خطبات میں محسوس کیا یوں جیسے حضرت امام المرتضیٰ حضرت علی؄ مخاطب ہوں۔
ابنِ زیاد کے دربار میں آپ؅ نے ایسی گوہر بار زبان میں خطاب فرمایا وہ وہ ظالم بھی حیران و پریشان رہ گیا۔
اسے کوئی جواب نہ بن پڑا تو مذاق اُڑاتے ہوئے کہنے لگا؛
’’دیکھو کیسی قافیہ دار گفتگو کرتی ہے۔‘‘
یہ اندازِ گفتگو سیّدہ زینب؅ کو اپنے والد گرامی حضرت علی مرتضیٰ؄ سے وراثت میں ملا تھا۔ انھوں نے بھرے ہجوم میں اس انداز میں بات کی کہ ہر کوئی ہل کر رہ گیا۔
فصاحت و بلاغت کے یہ چشمے ان کے قلب سے پھوٹتے تھے۔
یہ تمام گفتگو اللّٰہ کے دین کی خاطر ہو رہی تھی۔ اس لیے ان کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ نے سننے والوں کے ضمیر جھنجھوڑ ڈالے۔
بالکل اسی انداز میں انھوں نے بازارِ کوفہ میں وہاں کے لوگوں کو للکارتے ہوئے فرمایا تھا؛
’’اے خونِ حسین؄ کا انتقام لینے والو، اٹھو۔‘‘
سیّدہ زینب؅ کے خطاب نے لوگوں میں لرزہ پیدا کر دیا۔
دربار کوفہ میں سننے والے کانپ اُٹھے۔ ایک شخص تڑپ کر رو دیا اور انؓ کی آواز سن کر روتے ہوئے کہنے لگا؛
’’میرا باپ آپ (؅ ) پر قربان، آپ(؅ ) کی خواتین بہترین خواتین ہیں، آپ(؅ ) کے جوان بہترین جوان ہیں، آپ(؅ ) کے پختہ سال بہترین پختہ سال ہیں۔‘‘
اس خطاب کی اہمیت یوں بھی زیادہ ہے کہ یہ الفاظ، یہ کاٹ دار لہجہ، یہ دلوں کو خون کر دینے والے الفاظ کسی فاتح خاتون کے نہیں بلکہ ایک اسیر کے لبوں سے نکل رہے تھے۔
سننے والے حیران تھے کہ اتنے بڑے غم و مصائب کے پہاڑ اٹھانے والی ایک اسیر خاتون، ایسی پُرجلال، پُرہیبت گفتگو کیسے کر سکتی ہے؟
شام میں خطاب:
سیّدہ زینب کبریٰؓ نے شام میں اپنے خطبہ میں یزید کو آخرت کا خوف دلایا۔
’’اس دن سے ڈر جب اللّٰہ رب العزت کی عدالت ہو گی، جس میں اس کے حبیبﷺ طالب عدل و انصاف ہوں گے، اس وقت تیرے جسم کے اعضاء و جوارح تیرے خلاف گواہی دیں گے۔
یہ وہ دن ہو گا، جس کے بارے میں تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ ظالموں کا انجام کیا ہو گا؟‘‘
اسی خطبہ میں انھوں؅ نے یزید کو اللّٰہ کی آیت سناتے ہوئے آخرت سے ڈرایا اور فرمایا:
’’آخر کار ان کا انجام جنہوں نے برائی کی تھی بہت بُرا ہوا کیونکہ انھوں نے جھٹلایا اللّٰہ کی آیتوں کو۔ (سورۃ الروم،۱۰)
اس آیت سے نہ صرف یزید کا کردار واضح ہوتا ہے بلکہ سانحہ کربلا پر بھی روشنی پڑتی ہے، کیونکہ یہ قرآن کا فیصلہ ہے اور وعدۂ خداوندی ہے۔
یزید کو یہ بتایا جا رہا تھا کہ اگر وہ نام کا ہی مسلمان ہے تو اسے اس حکم کو تسلیم کرنا اور اس پر یقین کرنا ہو گا، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر اپنے آپ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں جلنے کے لیے تیار کر لے۔
یزید کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت زینب؅ نے فرمایا؛
’’تُو بالکل آزاد ہے، جس طرح چاہے عمل کر، جو تجویز بھی تجھ سے ممکن ہو بروئے کار لے آ۔ اپنی پوری قوت اپنے شیطانی طریق میں صرف کر دے، لیکن اللّٰہ کی قسم! ہرگز ممکن نہیں کہ تُو ہمارے نام اور ہمارے اسوۂ کو دنیا سے محو کر سکے یا مٹا پائے۔‘‘
انھوں نے یزید کو للکارتے ہوئے فرمایا:
’’اگر تُو یہ خیال کرتا ہے کہ آج ہمارے قتل سے تجھے کوئی فائدہ ہوا ہے۔ تو یاد رکھ کل جب قیامت برپا ہو گی تو تُو اس کے نقصان سے دوچار ہو گا۔ جب سوائے تیرے اپنے اعمال کے کوئی چیز تیرے پاس نہ ہو گی۔
یہ وہ دن ہو گا جب تُو اور تیرے پیرو عدلِ پروردگار کے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔ اس دن تُو دیکھے گا کہ تُو رسول اللّٰہﷺ کی اولاد کے قتل کا مرتکب ہوا ہے۔‘‘
سیّدہ زینب؅ اس لب و لہجے میں گفتگو کر رہی تھیں جیسے آپ؅ آنے والے وقت کو اپنی چشمِ بصیرت سے دیکھ رہی ہوں۔
آپؓ آنے والے حوادث سے بخوبی آگاہ و مطلع ہو چکی تھیں۔ انھیں اس بات کا مکمل ادراک و فہم تھا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے اور اس کا ردِّ عمل کیا ہو گا؟
اُن کی حیثیت گویا ایک ایسے مؤرخ کی سی تھی جو مستقبل میں پیش آنے والے حالات و وقعات کی پیش بینی کر رہا ہوتا ہے۔ جو تاریخ کے دھارے کی طرف پوری طرح متوجہ ہوتا ہے۔
انھوں نے یزید کو براہِ راست مخاطب کر کے فرمایا؛
’’تُو نے اپنے کام کو انجام تک پہنچا دیا، اپنی خواہشات کو پورا کر لے، جو بھی کر سکتا ہے کر گزر، لیکن اللّٰہ کی قسم! اپنے خیال میں تُو نے جو ہماری رسوائی و تذلیل کرنا چاہی ہے، اس کا داغ تیرے دامن سے نہیں مٹ سکتا۔
تُو ہمارے ساتھ اس سلوک کی بدنامی کو ہرگز ہرگز نیک نامی میں نہیں بدل سکے گا۔‘‘
سیّدہ زینب؅ نے چودہ سو سال قبل جو درس آموز وعظ بیان فرمائے تھے، یہ سب آپ؅ نے اپنے دشمن کے گوش گزار کیا لیکن اس حقیقت سے مفر نہیں کہ آپ؅ کی یہ باتیں اپنے اندرایک جہان سموئے ہوئے ہیں۔
یہ باتیں محض اس وقت کا خطاب نہیں بلکہ یہ ہر زمانے کے حالات پر صادق آتی ہیں۔ جب بھی کہیں ظالم اپنے ظلم پر فخر کرے گا، تب سیّدہ زینب؄ کا یہ وعظ اسے شرمندگی سے دو چار کرنے کے لیے کافی ہو گا۔
یہ درس پوری نوع انسانی کے لیے ہے۔
نیک یا بد، ہر ایک کو یہ احساس ضرور ہو گا کہ ہر عمل کا ردّعمل، ہوتا ہے۔ ہر خیانت کا ایک نتیجہ ہوتا ہے۔
ابنِ زیاد کے دندان شکن مکالمات:
جس وقت اہلِ بیت اطہار کی ستم رسیدہ خواتین کو عبید اللّٰہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا اس وقت سیّدہ زینب؅ نے انتہائی معمولی لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ ابن زیاد نے پوچھا:
’’یہ کون ہے؟‘‘
سیّدہ زینب؅ نے کوئی جواب نہ دیا۔ ابن زیاد نے تین مرتبہ پوچھا۔ آپ؅ خاموش رہیں تب ان کی کنیز نے جواب دیا۔
’’یہ زینب؅ بنتِ فاطمہ ؅ ہیں۔‘‘
ابنِ زیاد نے طنزیہ انداز میں کہا؛
’’اُس اللّٰہ کی ستائش جس نے تم لوگوں کو رُسوا اَور ہلاک کیا ہے اور تمہارے نام کو داغ لگایا۔‘‘
یہ سنتے ہی سیّدہ زینب؄ نے گرج کر جواب دیا؛
’’ہزار ستائش اس اللّٰہ کے لیے جس نے ہمیں محمدﷺ سے عزت بخشی اور ہمیں پاک کیا، نہ کہ جیسا تُو کہتا ہے، فاسق رُسوا ہوتے ہیں اور فاجروں کے نام کو داغ لگتا ہے۔‘‘
ابنِ زیاد نے پھر کہا۔
’’تُو نے دیکھا اللّٰہ نے تیرے خاندان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟‘‘
سیّدہ زینب؄ بنت علی؄ نے فرمایا؛
’’ان کی قسمت میں شہادت لکھی تھی، اس لیے وہ مقتل میں پہنچ گئے۔ عنقریب اللّٰہ اُنھیں اور تجھے ایک جگہ جمع کر دے گا اور تم باہم اس کے حضور سوال و جواب کر لو گے۔‘‘
ابنِ زیاد یہ سن کر غصے سے آگ بگولا ہو گیا اور جھنجھلا کر بولا؛
’’اللّٰہ نے تیرے سرکش سردار اور تیرے اہلِ بیت کے نافرمان باغیوں کی طرف سے میرا دل ٹھنڈا کر دیا۔‘‘
اس پر سیّدہ زینب؅ نے آبدیدہ ہو کر فرمایا؛
’’اللّٰہ کی قسم تُو  نے میرے سردار کو قتل کر ڈالا اور میرا خاندان مٹا دیا، میری شاخیں کاٹ دیں، میری جڑ اُکھاڑ دی، اگر اس سے تیرا دل ٹھنڈا ہو سکتا ہے تو ہو جائے۔‘‘
ابن زیاد نے مسکرا کر کہا؛
’’یہ شجاعت ہے، تیرا باپ بھی شاعر اور شجاع تھا۔‘‘
حضرت زینب؅ نے جواب دیا؛
’’عورت کو شجاعت سے کیا سروکار، میری مصیبت نے مجھے شجاعت سے غافل کر دیا ہے، میں جو کچھ کہہ رہی ہوں یہ تو دل کی آگ ہے۔‘‘
اس کے بعد ملعون ابن زیاد نے حضرت زین العابدین؄ کے ایک جواب سے آگ بگولا ہو کر انھیں قتل کرنے کا حکم دیا تو سیّدہ زینب؅ بے قرار ہو کر چِلّا اُٹھیں؛
’’میں تجھے اللّٰہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ اگر تُو اس لڑکے کو ضرور ہی قتل کرنا چاہتا ہے تو مجھے بھی اس کے ساتھ مار ڈال۔‘‘
ابن زیاد دیر تک حیرت سے حضرت زینب؅ کی طرف دیکھتا رہا اور پھر لوگوں سے مخاطب ہوا؛
’’رشتہ بھی کیا عجیب چیز ہے۔
اللّٰہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ یہ سچے دل سے اس لڑکے کے ساتھ قتل ہونا چاہتی ہے، اچھا اس لڑکے کو رہا کر دو اور اسے بھی دوسری عورتوں کے ساتھ جانے دو۔‘‘ (ابن جریر کامل)
ابن زیاد نے سرو سامان قافلے کو حضرت امام حسین؄ شہید کے سر مبارک کے ساتھ یزید کے پاس روانہ کر دیا۔
یزید کے سامنے حضرت زینبؓ کا جلالی خطبہ:
سیدہ زینب ؅ نے ظالم و جابر یزید کے سامنے جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ اس خطبے کے ہر ایک لفظ سے جرأت و بسالت، حق گوئی و بے باکی، خود اعتمادی اور اسلام کی محبت ٹپکتی ہے، وہ ایک بے بس و مجبور اور بے دست و پا قیدی کی حیثیت سے یزید کے سامنے کھڑی تھیں،
مگر ان کی تقریر میں بادل کی کڑک، بجلی کی چمک اور طوفان کا سازور تھا۔
ایک جابر ترین حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنے کی روایات کو حضرت امام حسین؄ شہید کی بہن؅ نے کس طرح زندہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان عورت بدترین حالات اور خوفناک مصائب میں بھی ظلم و تشدد اور جبر عدوان سے مرغوب ہونا نہیں جانتی۔
آپ؅ نے فرمایا:
’’اے یزید! اگر تو نے اللّٰہپ کی زمین کو اس کی وسعتوں کے باوجود ہم لوگوں پر تنگ کر دیا ہے، اور ہم تیرے قبضے میں آ گئے ہیں، ہمیں زنجیروں میں جکڑ کر کشاں کشاں تیرے پاس لایا گیا ہے،
تو کیا تو نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اللّٰہ ر ب العزت نے ہمیں ذلت میں مبتلا کر دیا ہے اور تجھے عزت عطا کی ہے، تیرے سر پر غرور اور تکبر کا نشہ سوار ہے، تجھے اس بات پر فخر ہے کہ تیرے اردگر ہاں میں ہاں ملانے والے لوگ جمع ہیں۔
تجھے اس بات پر ناز ہے کہ تو اپنی خواہش کے مطابق حکومت کر رہا ہے اس وقت جبکہ پورے ملک پر تیرا قبضہ ہو چکا اور تیرے لیے راستہ ہموار ہو چکا ہے،
شاید تو یہ سمجھتا ہے کہ یہ حکومت ہمیشہ کے لیے تیرے حصے میں آ گئی ہے، چند دن انتظار کر، ابھی سے اتنا مغرور نہ بن، کیا تو اللّٰہ رب العزت کا یہ فرمان بھول گیا ہے کہ منکرین یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو انھیں مہلت دیتے ہیں اس میں ان کے لیے بہتری ہے،
مہلت تو ہم اس لیے دیتے ہیں تاکہ وہ اور زیادہ گنہگار ہو جائیں، آخر کار ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
اے یزید! کیا یہ انصاف ہے کہ تیری عورتیں تو پردے میں رہیں اور رسول اللّٰہﷺ کی بیٹیاں بے حجاب پھرائی جائیں، انھیں قیدی بنایا جائے،
دشمن انھیں شہر بہ شہر لیے پھریں، تیرے سر پھرے سپاہی نہایت گستاخی کے ساتھ انھیں گھور گھور کر دیکھیں، ان کے ساتھ نہ تو مردوں میں کوئی سرپرست ہے، اور نہ کوئی حمایت کرنے والا۔
اے یزید! تیرا یہ فعل اللّٰہ سے بغاوت نہیں ہے تو کیا ہے، اگر اسے اللّٰہ کے رسولﷺ سے انکار نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جا سکتا ہے،
بھلا اس شخص سے کیا اُمید کی جا سکتی ہے جس کی تیغِ زبان سے شہداء کے قلوب مجروح ہوئے، جس نے پاکیزہ اور برگزیدہ ہستیوں کے جگر چبائے، عرب میں جو اللّٰہ کی منکر جماعت ہے تم اس سے بھی زیادہ سخت اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے منکر ہو، اللّٰہ کے رسولﷺ سے تم کو بیر ہے۔
اے یزید! تو نے اولاد نبیﷺ کو بے دردی سے ذبح کر کے پرانی عداوت کا بدلہ لیا ہے،
ایک دن ایسا آئے گا کہ تیری خواہش یہ ہو گی کہ دنیا میں نہ تیرے ہاتھ ہوتے اور نہ زبان تاکہ جو کچھ تو کرتا اور کہتا رہا ہے نہ ہوتا۔
اے یزید! عنقریب تو اور شہداء ایک جگہ جمع ہوں گے، تیری ماں اس وقت یہ خواہش کرے گی کہ کاش تو اس کے پیٹ سے پیدا نہ ہوتا، اور تیرے باپ کی خواہش یہ ہو گی کہ کاش! تو اس کا بیٹا نہ ہوتا، اس دن ہم تجھے اللّٰہ رب العزت کے قہر و غضب کا نشانہ بنتے ہوئے پائیں گے۔
ہم کہیں گے کہ اے اللّٰہ! اس پر اتنا قہر نازل کر، رسول اللّٰہ ﷺ بھی سخت افسردہ ہوں گے۔
اے یزید!
یہ وقت کا انقلاب ہے کہ آج مجھے تیرے سامنے لب کشائی پر مجبور ہونا پڑا ہے، ورنہ یقین جان کہ میں تجھ سے سخت نفرت کرتی ہوں اور میں تجھے ذلیل سمجھتی ہوں، تیری سخت گیری اور دشمنی کا میرے دل پر بڑا اثر ہے۔
میرے دل سے ہوک اور میرے سینے سے آہیں نکلتی ہیں۔
اگر تو نے یہ سمجھا ہے کہ ہم بکریوں کا ریوڑ ہیں
تو عنقریب تجھ پر یہ بات روشن ہو جائے گی کہ ہم قہر و غضب کے عالم میں بپھرے ہوئے شیروں سے بھی زیادہ غضب ناک ہیں۔
اس بات کا علم تجھے اس وقت ہو گا جب تیرے اردگرد
نوکروں، چاکروں، غلاموں اور کنیزوں کا ہجوم نہ ہو گا۔
یزید! تو اپنی دھن میں مست رہ کر جو جی میں آئے کرتا جا
مگر قسم ہے اس ذات کی جس نے ہمارے خاندان کووحی الہامی کے شرف سے نوازا، وہ ہم کو زیادہ دیر تک اس حال میں نہیں رکھے گا۔
دنیا سے نقوش نہیں مٹیں گے،
تو نے ہم پر جو مظالم کیے ہیں تجھے ان کا بدلہ ضرور ملے گا۔
تو مکرو فریب کی ایک پوٹ ہے اور تیرا یہ اقتدار چند روز ہے۔ تیری حکومت تباہ و برباد ہونے والی چیز ہے۔‘‘
زینب؅ بنت علی؄ کی پیش گوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔
تین سال سات ماہ بعد یزید درد قولنج میں مبتلا ہوا اور تڑپ تڑپ کر ۶۴ھ میں مر گیا۔
مرنے سے پہلے اس نے اپنے بیٹے معاویہ ثانی کو وصیت کے لیے بلایا مگر وہ یہ کہہ کر چلا گیا کہ مجھے ایسی سلطنت نہیں چاہیے جس کی بنیاد اولاد رسولﷺ کے خون پر رکھی گئی ہو۔
۶۶ھ میں ایک شخص مختار بن عبید ثقفی عذاب الٰہی بن کر ظاہر ہوا ۔  اس نے اقتدار حاصل کرتے ہی تمام قاتلان حسین؄ کو سخت اذیتیں دے کر قتل کیا۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles