42.1 C
Lahore
Friday, July 12, 2024

Book Store

بی بی حنیفہ دین

ایک سو بتیس برسوں پر پھیلی ہوئی کہانی

محمد اظہار الحق

جہلم کا دریا پار کیا تو سامنے سرائے عالمگیر کا قصبہ تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں کھاریاں آگیا۔ یہاں سے ہم دائیں طرف مُڑ گئے۔ یہ وہ سڑک ہے جو ڈنگہ کو جاتی ہے۔ معروف مورخ ڈاکٹر صفدر محمود، جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے، اصلاً ڈنگہ ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر ہماری منزل ڈنگہ نہیں تھا۔ ہم نے ڈنگہ سے پہلے ایک گاؤں میں جانا تھا۔ پرانے دوست منظور صاحب ساتھ تھے۔ منظور صاحب دینہ کے ہیں۔ وہ ہماری رہبری کر رہے تھے۔ میجر طارق جاوید ملک بھی ہمراہ تھے۔ ہم کھاریاں ڈنگہ روڈ پر واقع اس بستی میں کیوں جا رہے تھے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ہمیں ایک سو بتیس سال پیچھے جانا پڑے گا۔
یہ 1890 کا زمانہ تھا جب اکیس سالہ فتح دین ایک بحری جہاز سے اترا۔ سامنے پرتھ تھا۔ جنوب مغربی آسٹریلیا کا سب سے بڑا شہر! تب برطانوی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ جنوبی افریقہ سے لے کر نیوزی لینڈ تک اور آسٹریلیا سے لے کر کینیڈا تک ملکہ کی حکمرانی تھی۔ سونے کی چڑیا، ہندوستان پر بھی انہی کا قبضہ تھا۔ آج کا ملائیشیا بھی انہی کے پاس تھا۔ ہانگ کانگ، زنجیبار اور مالٹا پر بھی انہی کا اختیار تھا۔ اس وسیع و عریض انگریزی سلطنت کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہندوستانی کہیں بھی جا سکتے تھے۔ زیادہ رجحان ہندوستانیوں کا جنوبی افریقہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی طرف تھا۔ آسٹریلیا کے ہولناک صحرا میں ریلوے لائن اور ٹیلیگراف لائن بچھانے کے لیے انگریز سرکار ہندوستان سے دو ہزار اونٹ اور اتنے ہی شتر بان لے گئی تھی۔ یہ شتربان کچھ افغان تھے اور باقی ان علاقوں سے تھے جو آج کے پاکستان میں شامل ہیں‘ مگر سب کو افغان ہی کہا جاتا تھا۔ آج بھی آسٹریلیا کے شمالی کنارے سے جنوبی ساحل تک چلنے والی ٹرین ”غان ایکسپریس‘‘ کہلاتی ہے۔ غان افغان کا مخفف ہے۔ بہت سے ہندوستانی پھیری کا کام بھی کرتے تھے۔ آبادیاں دور دور تھیں۔ پھیری والے، دکانوں سے اشیائے ضرورت خریدتے تھے اور بستی بستی، قریہ قریہ بیچتے تھے۔ اکثر ہندوستانی کچھ عرصہ رہ کر واپس چلے جاتے۔ کچھ آتے جاتے رہتے۔ کچھ نئے وطن ہی میں رہ جاتے۔ آسٹریلیا کے قومی آرکائیوز بتاتے ہیں کہ پہلے بیس برسوں کے دوران فتح دین چار بار ہندوستان واپس گیا اور اتنی ہی بار پھر آسٹریلیا آیا۔
1905 میں جب ایک بار پھر وہ آسٹریلیا کے ساحل پر اترا تو وہ اکیلا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ اس کی پندرہ سالہ بیوی فاطمہ بھی تھی۔ آسٹریلیا کے قوانین سخت تھے۔ صرف ایک سال میں تینتیس ہندوستانیوں کو دوبارہ آنے دے روک دیا گیا تھا۔ ہندوستان کے انگریز حکمرانوں نے اس پر اعتراض بھی کیا۔ ان کے نزدیک ہندوستانیوں کا آسٹریلیا آنا جانا اور بیویوں کو لانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا کیونکہ دونوں ملک ملکہ کے تھے مگر آسٹریلیا کے حکام ان سے اتفاق نہ کرتے۔ فتح دین ایک ہوشیار آدمی تھا۔ ضرورت پڑنے پر قوانین کو جُل بھی دے دیتا۔ مقامی لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات اچھے تھے۔ دوست مشکل وقت میں اس کے کام آتے۔ اسی لیے فتح دین بار بار آنے جانے اور آخرکار بیوی کو لانے میں کامیاب رہا۔ وہ وکیل بھی اچھے اور مشہور کرتا۔ سفید فام وزارت داخلہ کے لیے فتح دین ایک اور دھماکہ بھی کرنے والا تھا۔ ساحل پر اترنے کے چھ ماہ بعد فاطمہ بی بی نے ایک ہندوستانی بچے کو جنم دیا۔ اس کا نام عبدالمجید محمد عیسیٰ رکھا گیا۔ فاطمہ کا کوئی اپنا یہاں نہ تھا مگر فتح دین کے دوستوں کے کنبے فیاض تھے۔ انہوں نے ہر طرح کی مدد کی۔ اٹھارہ ماہ بعد دوسرا بچہ پیدا ہوا۔ یہ عبدالاحمد محمد موسیٰ تھا۔ ہندوستان جانے کی صورت میں دونوں بچے آسٹریلیا واپس آسکتے تھے کیونکہ ان کی پیدائش یہاں کی تھی۔ بڑا بچہ تین سال کا ہوا تو فاطمہ بی بی وطن واپس چلی گئی۔ وہ آسٹریلیا کبھی نہ لوٹی۔ دونوں بیٹوں کو ماں کے پاس چھوڑ کر فتح دین ایک بار پھر بحری جہاز پر سوار ہوا اور آسٹریلیا واپس پہنچ گیا۔
اگلے دس سال میں فتح دین نے اپنی پوزیشن خاصی مستحکم کر لی۔ وہ ایک مستقبل بین شخص تھا۔ انگریزی لباس پہنتا۔ پگڑی اور داڑھی سے احتراز کرتا۔ سرکار سے کام پڑتا تو وکیل کی خدمات حاصل کرتا۔ یوں اس نے اپنے آپ کو ہندوستانی شتربانوں اور پھیری والوں سے الگ، ایک جنٹلمین کے طور پر رکھا اور نسبتاً اونچے طبقے میں شمار ہونے لگا۔ جلد ہی اس نے اپنا بزنس بھی کھڑا کر لیا۔ ایک ”نائٹ واچ کمپنی‘‘ قائم کی۔ اس کے ماتحت چوکیدار پیدل یا سائیکلوں پر سر شام نکلتے، دکانوں میں چراغ جلاتے بجھاتے اور چوروں سے خبردار کرتے۔ یہ ہندوستانی دیہات کا چوکیدارہ نظام تھا جو فتح دین نے آسٹریلیا میں چلا ڈالا۔ وہ اپنے نام کے ساتھ مرزا لکھنے کا اہتمام کرتا۔ مغل تھا اور اس کے ذہن کے ایک گوشے میں یہ احساس ضرور موجود تھا کہ مغلوں کی ہندوستان میں فرماں روائی رہی ہے۔
تیرہ نومبر 1905 کو پرتھ کی پہلی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ یہ زبردست حسن اتفاق تھا کہ فتح دین کے بڑے بیٹے عبدالمجید کی تاریخ پیدائش بھی یہی تھی۔ مسجد کی تعمیر کے لیے مالی امداد دینے والوں کے نام جس رجسٹر میں لکھے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح دین نے چھ پونڈ دیے۔ پانچ اپنے اور ایک پونڈ اپنے بیٹے عبدالمجید کے نام سے۔ دس سال میں اتنی رقم جمع ہوئی کہ مسجد مکمل ہو سکی۔ رجسٹر سے پتہ چلتا ہے کہ افغان، پنجابی، سندھی، بنگالی، سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ ایک دو ہندوستانی غیر مسلموں نے بھی فیاضی دکھائی۔ افغان اور ہندوستانی مسلمان جو ایک دوسرے سے جھگڑتے رہتے تھے، مسجد کے معاملے میں یکجان ہو گئے۔ آج پرتھ میں بیس کے قریب مسجدیں اور نماز ادا کرنے کے مقامات ہیں مگر پہلی مسجد یہی تھی جس کی بنا ایک سو سترہ سال پہلے رکھی گئی۔ اس کالم نگار کو اس مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کا مبارک موقع ملا۔ یہ ایک دلکش اور وسیع عمارت ہے۔ بیرونی طرف ایک خوبصورت آنگن (Patio) ہے جہاں ایک بڑا سا درخت کھڑا ہے۔ ایک لمحے کے لیے وہاں مسجد قرطبہ یاد آ گئی جس کے بیرونی اطراف میں ایسے ہی باغ نما آنگن ہیں۔
فاطمہ بی بی اس سارے عرصہ کے دوران ہندوستان ہی میں رہی۔ دونوں بیٹے اس کے پاس تھے۔ 1925 میں بڑا بیٹا عبدالمجید بیس سال کا ہوا تو آسٹریلیا واپس آیا۔ پرتھ پہنچا تو امیگریشن والوں نے اس بات کا ثبوت مانگا کہ یہ وہی بچہ ہے جو بیس سال پہلے پرتھ میں پیدا ہوا تھا۔ یہ ایک جائز سوال تھا اور اس کا جواب مشکل تھا۔ یہاں فتح دین کی کامیاب سوشل لائف کام آئی۔ دو سفید فام عورتوں نے گواہی دی کہ یہ وہی بچہ ہے۔ یہ دونوں پرتھ میں ایک چائے خانہ چلا رہی تھیں۔ ان سے دلیل مانگی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ فتح دین ان کے پاس اٹھتا بیٹھتا ہے اور جب بھی اس کے بیٹے کی تازہ تصویر ہندوستان سے آتی تو وہ انہیں ضرور دکھاتا۔ یوں تصویری لحاظ سے عبدالمجید ان کے سامنے ہی بڑا ہوا ہے۔ یہ گواہی مان لی گئی اور یوں سترہ سال ہندوستان میں گزارنے کے بعد یہ لڑکا ایک بار پھر پرتھ میں آموجود ہوا۔ پرتھ ہی اس کی جنم بھومی تھی۔ اس کی والدہ فاطمہ بی بی، جو آسٹریلیا کبھی واپس نہ آئی، کینسر میں مبتلا ہو کر اپنے گاؤں میں وفات پا گئی۔ فاطمہ کے دوسرے بیٹے کا بھی، جو پرتھ میں پیدا ہوا تھا، گاؤں ہی میں انتقال ہوا۔ تیسرا بیٹا انور تھا۔ بڑا بھائی عبدالمجید آسٹریلیا سے اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔
فتح دین کا بیٹا عبد المجید واپس پرتھ پہنچ گیا۔اب وہ بیس سال کا تھا۔ آتے ہی اس کے اپنے والد سے اختلافات پیدا ہو گئے۔قصور باپ کا تھا‘ نہ بیٹے کا! فتح دین اس اثنا میں ایک سفید فام عورت سے شادی کر چکا تھا۔ اُس وقت کے قوانین کی رُو سے دوسری شادی کی آسٹریلیا میں اجازت تھی بشرطیکہ پہلی بیوی اجازت دے دے۔فاطمہ بی بی کو تا دمِ مرگ میاں کے عقدِ ثانی کا علم ہی نہ تھا۔عبد المجید جو پہلے ہی ماں کی جدائی سے غمزدہ تھا‘ سوتیلی ماں کے ساتھ نہ نبھا سکا۔ روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر اس نے مغربی آسٹریلیا کو خیر باد کہا اور جنوب کا رُخ کیا۔ ایڈیلیڈ سے ہوتا ہوا میلبورن پہنچا۔ یہ صوبہ وکٹوریہ کہلاتا ہے۔ اسی میں ایک خوبصورت علاقہ وادیٔ لاٹروب ہے۔ عبد المجید نے اس وادی کو مسکن بنایا اور بہت سے دوسرے پردیسیوں کی طرح پھیری کا کام شروع کر دیا۔ گھوڑا گاڑی اور ایک وفادار کتا اس کی کل متاع تھی۔ اس کام میں سرمائے کی ضرورت نہ تھی۔ آج کی طرح اُس زمانے کا آسٹریلیا بھی منتشر آبادیوں پر مشتمل تھا۔ سپر سٹوروں کا رواج نہ تھا۔ بڑی بڑی کمپنیاں تھوک فروشوں کو مال ادھار پر دیتیں۔ یہ تھوک فروش چینی ‘ لبنانی اور ہندوستانی ہوتے۔ یہ آگے پھیری والوں کو ادھار پر مال دیتے۔ دونوں کا ایک دوسرے پر انحصار تھا۔پھیری والے نگر نگر ‘ گاؤں گاؤں‘ پھرتے۔ گھر گھر جاتے۔ زرعی فارموں کے چکر لگاتے۔ یہاں بھی ادھار چلتا۔ قمیصیں‘ پتلونیں‘ جوتے‘ سوئیاں ‘ بکسوئے‘ بچوں کے لیے مٹھائیاں ‘ سب کچھ ادھار پر ہوتا۔ چھ شلنگ کی ادائیگی بھی مہینوں بعد ہوتی۔ جو پھیری والے اَن پڑھ تھے وہ گاہک ہی سے اپنی کاپی پر حساب لکھاتے۔ کبھی کبھی کوئی گاہک بے ایمانی سے غلط اندراج بھی کر دیتا۔مختلف لوگ پھیری والوں سے مختلف سلوک کرتے۔کوئی مسکرا کر بٹھا لیتا اور چائے پلاتا۔ کوئی کالا سمجھ کر منہ دوسری طرف کر لیتا۔ رمضان کے دوران یہ پھیری والے چھٹی کرتے تا کہ روزے رکھ سکیں۔ اس وقت مسجدیں نہیں تھیں۔ یہ لوگ اپنی اپنی جائے نمازوں پر نماز ادا کرتے۔
جس زمانے میں فتح دین آسٹریلیا پہنچا‘ یعنی انیسویں صدی کے آخری عشرے میں‘ ٹھیک اسی زمانے میں ایک کشمیری نوجوان گلاب دین بھی قسمت آزمانے پہنچا تھا۔کچھ عرصہ بعد گلاب دین کی ملاقات ایک سفید فام بیوہ سے ہوئی جس کے نو بچے تھے۔ گلاب دین نے اس سے شادی کر لی۔ وہ اس عورت کا تیسرا میاں تھا۔ پہلا آئرش تھااور دوسرا چینی! گلاب دین سے اس کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام زیب النسا رکھا گیا۔ ایک عید پر جب مسلمان خاندان اکٹھے تھے‘ عبدالمجید زیب النسا کو دل دے بیٹھا۔ان کی شادی ہو گئی۔ یہ خبر گاؤں پہنچی تو ہنگامہ برپا ہو گیاکیونکہ وہاں بھی ایک منگیتر منتظر تھی۔ پھر وہی ہوا جو ہماری ثقافت میں ہوتا آیا ہے۔ گھر کی ”عزت‘‘ بچانے کے لیے عبدالمجید کے چھوٹے بھائی مرزا انور کی شادی اس لڑکی سے کر دی گئی۔
عبدالمجید جڑی بوٹیوں کے ماہر کے طور پر بزنس کرتا رہا۔ اس نے پرتھ میں حلال گوشت کا کاروباربھی کیا۔ فتح دین قیام پاکستان سے آٹھ سال پہلے پرتھ ہی میں دنیا سے رخصت ہوا۔ آخر وقت تک باپ بیٹا نزدیک نہ ہو سکے۔ فتح دین کے کفن دفن کا بندو بست اس کی سفید فام بیوی نے کیا۔ عبد المجید نے بعد میں جب والد کی قبر پر لگا ہوا کتبہ پڑھا تو اس کے دُکھ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ لکھا تھا ”ڈوروتھی کا محبوب شوہر اور مینا اور زہرا کا پیارا والد مرزا فتح دین ‘‘۔عبدالمجید اس کا بیٹا تھا مگر اس کا نام کتبے سے غائب تھا۔ عبدالمجید پاکستان بننے کے بعد کئی بار اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آبائی گاؤں آیا۔
اس کہانی کا سب سے زیادہ اہم اور قابلِ توجہ کردار حنیفہ دین ہیں۔ حنیفہ دین فتح دین کی پوتی‘ گلاب دین کی نواسی اور عبدالمجید کی صاحبزادی ہیں۔اس وقت وہ ستر سے اوپر کی ہوں گی۔میری ان سے ملاقات یونیورسٹی آف میلبورن میں ہوئی۔ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں اور بلند پایہ ریسرچ سکالر ہیں۔ ان کا اصل کارنامہ جس کے لیے وہ آسٹریلیا کے ادبی‘ ثقافتی اور تحقیقی حلقوں میں جانی جاتی ہیں‘ ان کی وہ بے پناہ محنت ہے جو انہوں نے انیسویں صدی میں لائے گئے شتربانوں (Cameleers) کے حوالے سے کی ہے۔آسٹریلیا کے قومی آرکائیوز میں سالہا سال بیٹھ کر انہوں نے ایک ایک شتربان کے خاندان ڈھونڈے۔ کون کب آیا‘ کب واپس گیا‘ کب ایک بار پھر آسٹریلیا لوٹا‘ کون کس ریاست یا صوبے میں اقامت پذیر ہوا‘ کس کے ویزے پر کیا اعتراض ہوا‘ کس کی اگلی نسل آج کہاں ہے؟ یہ اور بے شمار دوسرے سوالوں کے جواب حنیفہ دین نے تلاش کیے۔ حنیفہ کی پہلی تصنیف ”کارواں سرائے‘‘ آسٹریلیا کے مسلمانوں کی تاریخی اور تہذیبی داستان ہے۔ ”علی ‘ عبدل اور بادشاہ‘‘ ان مسلمان خاندانوں کی سرگزشت ہے جن کے بزرگ ڈیڑھ صدی پہلے آسٹریلیا کے ساحلوں پر اترے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ ان کے علاوہ بھی حنیفہ کی متعدد تصانیف ہیں۔ انہیں وفاقی اور صوبائی سطح کے کئی انعامات اور ایوارڈ دیے گئے ہیں۔ شوہر جرمنی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپنے بچوں کے بارے میں وہ کچھ نہیں بتاتیں۔ کچھ سال میلبورن رہنے کے بعد اب پرتھ منتقل ہو رہی ہیں۔ کئی بار پاکستان آئیں۔ بنگلہ دیش اور بھارت بھی جاتی رہتی ہیں۔ ایک کتاب بنگلہ دیش کی تہذیبی زندگی پر بھی لکھی۔ ان کے مضامین آسٹریلیا کے صفِ اول کے اخبارات و جرائد میں شائع ہوتے ہیں۔ ٹیلی وژن پروگرام بھی کرتی ہیں۔
ہم کھاریاں ڈنگہ روڈ پر چلتے گئے یہاں تک کہ انیس کلو میٹر کے بعد وہ بستی آگئی جہاں سے 1890ء میں مرزا فتح دین چلا اور سمندروں کو عبور کرتا ہزاروں میل دور ایک اجنبی‘ نو دریافت شدہ جزیرے میں جا اترا اور پھر اسی جزیرے کی مٹی میں دفن ہوا۔ حنیفہ دین نے بتایا تھا کہ گاؤں کا نام چنن ہے جہاں وہ کئی بار آئیں۔ ہم نے ایک معمر کسان سے پوچھا کہ جو بابا آسٹریلیا گیا تھا‘ اس کا گھر کہاں ہے؟ ایک ثانیے کے تذبذب کے بغیر اس نے ہماری رہنمائی کی۔ہماری ملاقات فتح دین کے تیسرے بیٹے مرزا انور کی اولاد سے ہوئی۔ ہماری قسمت اچھی تھی کہ یہ دو بھائی ‘ عبد العزیز اور عبدالغفور ‘ امریکہ سے آئے ہوئے تھے اور ایک دو دن میں واپس جانے والے تھے۔ یوں لگتا تھا یہ جڑواں بھائی ہیں۔ کم گو‘ شرمیلے‘ ستر پچھتر کے پیٹے میں‘ یہ دونوں‘ اپنے سگے تایا کی اس اولاد کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے جو آسٹریلیا میں رہتی ہے۔
خاندانوں کے انتشار کا مطالعہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ کسی بھی خاندان کی تاریخ تلاش کی جائے تو حیرت کے کئی باب وا ہوتے ہیں۔ کہاں کا پھول کس زمین میں جا کھِلتا ہے۔ خانوادے کیسے ضم ہو کر اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں۔ کچھ خوش قسمت اپنے اصل سے جُڑے رہتے ہیں۔بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو زبان اور ثقافت کھو بیٹھتے ہیں مگر اتنا جانتے ہیں کہ آبا ئو اجداد کہاں سے آئے تھے۔ کچھ حنیفہ دین کی طرح دوسروں پر احسان کرنے والے ہوتے ہیں کہ اپنے علاوہ دوسروں کی اصل بھی تلاش کر دیتے ہیں۔ انگریزوں کو یہ داد ضرور دینی چاہیے کہ کئی سو سال پہلے بھی وہ ہر شے کا ریکارڈ رکھتے تھے۔ سلاطینِ دہلی اور مغلوں کے زمانے کا ریکارڈ ہوتا تو بر صغیر کے مسلم خاندانوں کی جڑیں بھی وسط ایشیا اور ایران و عرب تک تلاش کی جا سکتی تھیں !
Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles