28 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

چاند کے ساتھ ساتھ|سفرنامہ ڈنمارک

پہلا حصہ

خوش و خرّم لوگوں کا ملک
ڈنمارک

چاند کے ساتھ ساتھ

دو برس کے توقف کے بعد دِل  نے ایک مرتبہ پھر کسی لمبے سفر پر نکلنے کی تمنّا میں انگڑائی لی۔ میں نے مقدور بھر دل کو سمجھانے کی سعی کی ‘کہ میا ں نچلے بیٹھے رہو۔ کیوں دیس دیس کی خاک چھاننے پر اُکساتے رہتے ہو۔ مگر وہ دل ہی کیا جو نصیحتوں پر کان دھرے۔ اس نے حسبِ سابق میری ایک نہ سُنی اور اپنی من مانی کر تے ہوئے مجھے بوریا بستر با ندھنے پر مجبور کر دیا۔

ویسے آپس کی بات ہے کہ یہ بحث محض دکھاوے کی تھی۔ ورنہ دل کی بات مان کر میں اندر سے ایسے خوش تھا جیسے باپ بچے کی ضد پوری کر کے ہوتا ہے۔
اس معاملے میں ، میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ عمر کی نصف صدی مکمل کر لینے کے بعد بھی جب کسی نئے سفر پر نکلتا ہوں تو میرے اندر جوش ، جذبہ ، جستجو اور مسرّت ایسے لہریں لے رہی ہوتی ہے جیسے بچپن میں ہوتی تھی۔
یوں سفر سے متعلق میرے جذبات و احساسات بچپن سے  لے کر پچپن تک ذرا نہیں بد لے۔ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ شو ق کا یہ دِیا مز ید روشن ہوتا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ سمجھ میں نکھار  آتا جاتا ہے۔ تجربے کی روشنی اور شعور کی پختگی کے ساتھ قوت مشاہدہ میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ایسے میں چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ ان میں مزید وسعتِ نظر اور عمیق نگاہی آ جاتی ہے جس کی وجہ سے دُنیا مزید دلچسپ ،حسین اور رنگین محسوس ہوتی ہے

اس کی مثال یوں ہے کہ ایک نوجوان طالب علم جب پہلی مر تبہ کلامِ اِقبا ل کا مطالعہ کرتا ہے تو اُسے کچھ سمجھ میں آتا ہے اور کچھ نہیں ۔ جب وہ نوجوانی کی سیڑھی چڑھ کر کالج اور یونیورسٹی میں پہنچتا ہے تو مفہوم مختلف محسوس ہوتا ہے اور جب یہی شخص پختہ عمری کے دور میں پہنچتا ہے تو وہی کلام مختلف مفہوم  و معاٍنی لیے نظر آ تا ہے۔ قدرت کی یہ تخلیق ، یہ دُنیا بھی بلند پایہ شاعری اور شاہکار تصویر کی طرح دِھیرے دِھیرے سمجھ میں آتی ہے اور اس کی تاثیر اور حسن رفتہ رفتہ دل و دماغ میں گھر کرتا چلا جاتا ہے۔
اس مرتبہ میرا دائرہ ِسیاحت شمالی یورپ کے ممالک ڈنمارک ، سویڈن اور ناروے تھے جنہیں اسکینڈے نیویا بھی کہا جاتا ہے۔

بعدازاں مشرقی وسطیٰ کا امیر تر ین مُلک قطر بھی اس دور ے کا حصّہ بن گیا ، جس سے اس سیاحتی سفر میں مزید ہمہ رنگی شامل ہو گئی۔
آسٹریلیا ،جو میرا نُقطہِ آغازِ سفر تھا، اگر دُنیا کے ایک سرے پر واقع ہے تو اسکینڈے نیویا، جو میری منزل تھی، دُوسرے  کنارے پر موجود ہے۔ یُوں یہ سفر دُنیا  کے ایک سرے سے دُوسرے تک پھیلا تھا۔
آفتاب جو دُنیا میں سب سے پہلے برّاعظم آ سٹریلیا میں نمودار ہوتا ہے، ایک طویل سفر کے بعد اسکینڈے نیویا کے ایک مُلک ناروے کے اس طرف غروب ہوتا ہے۔ یُوں آ سٹریلیا سے شمالی یورپ جا نے کے لیے تقر یباً چوبیس گھنٹے تک سورج کے ساتھ ساتھ سفر کرنا پڑتا ہے۔
چوبیس گھنٹے کی رفاقت کے بعد سُور ج اس خطّے میں غروب اور آسٹریلیا کے پڑوسی ملک نیوزی لینڈ میں طلو ع ہو جاتا ہے۔ سُورج بادشاہ کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ لیکن میں ٹھہرا شاعرانہ مزاج کا حامل، اِس لیے میں نے یہ سفر چاند کی معیت میں کیا۔
دراصل اُردو شعرا نے حُسنِ یار کا اتنا ذِکر نہیں کیا جتنا چاند کا تذکرہ کیا ہے ۔ میں شاعر نہ سہی ادیب تو ہوں، لہذٰا اُن کی لا ج رکھتے ہو ئے چا ند کے ساتھ ساتھ ہو لیا۔ اس کے سنگ چلتا چلا گیا، چلتا چلا گیا حتٰی کہ اس  نے زمین کے گرد اپنا چکر مکمل کر لیا۔ اتنے دُور تک کوئی اس کے شانہ بشانہ چلا آ رہا ہے۔ نہ جانے چاند کو اس کی خبر تھی یا نہیں۔

؎ مُدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں
چاہ میں اس کی پیر وں میں ہیں آبلے چا ند کو کیا خبر

آ ج تک کسی عاشق  نے اپنے چندا کا اتنا پیچھا نہیں کیا ہو گا جتنا میں نے اصل چاند کا کیا۔ طلو ع سے غر وبِ قمر تک اس پر نظریں جما ئے اس کے ساتھ ساتھ مشر ق سے مغرب کی طرف محوِ سفر رہا۔ تئیس گھنٹے کی مسلسل نو ر پاشی کے بعد جب چاند غروب ہوا تو اس کے ساتھ میری منز ل بھی آ گئی۔ یہ میری زندگی کا طویل ترین سفر تھا اور تئیس گھنٹے کی لمبی رات کا انوکھا تجربہ بھی ہوا۔
آ سٹریلیا سے شمالی یورپ اور اس کا اندرونی سفر آسان نہیں تھا۔ اس کی ایک وجہ دونوں خطّوں کا باہمی فاصلہ تھا۔

دوسری وجہ یہ کہ میں کسی ایک مُلک میں نہیں بلکہ خطّے کے چار ممالک میں جا رہا تھا جن میں ڈنمارک ، سویڈن، ناروے اور فن لینڈ شامل تھا۔ ان چار کے علاوہ بیرونِ یورپ کے ایک ملک قطر کو بھی شا مل کر لیا جا ئے تو یہ سفر پا نچ ممالک اور دو برّاعظموں پر محیط تھا جبکہ تیسرے برّاعظم یعنی آ سٹریلیا سے میں روانہ ہو رہا تھا۔ اس طرح یورپ کے چار ملکوں میں سفر در سفر بھی درپیش تھا جس میں بحری سفر بھی شامل تھا کیونکہ میں سویڈن سے فن لینڈ بذریعہ بحری جہاز جا رہا تھا۔ علاوہ ازیں سڑک اور ریل بھی میرے ذرائع سفر میں شامل تھے ۔ جب کہ ایک سیّاح کی حیثیت سے شہروں کی پاپیاد ہ خاک چھاننا سفر کا بنیادی جزو ہے۔ یوں اڑھائی ہفتے کے اس سیاحتی دورے میں ہوائی، بحری اور برّی ہزاروں میل کا سفر درپیش تھا۔

دیگر مشکلات میں اجنبی شہر، اجنبی لوگ، اجنبی زبانیں، ہر روز نت نئی منزلوں کی جستجو، مختلف النو ع عارضی قیام گاہیں، طعام و قیام کے مسائل، موسم کی سختیاں اور ناگہانی مسائل سے نبرد آزما ہونا بھی میرے امتحانِ سفر کا حصّہ تھے۔
بہرحال یہ سفر اور اس کی دشواریاں میرا اپنا انتخا ب تھیں۔ اس لیے نہ صرف خندہ پیشانی سے برداشت کرنی تھیں بلکہ اس میں سے اپنا گوہرِ مقصود بھی حاصل کرنا تھا۔ سفر تو نا م ہی مشکلا ت، ان جا نے خطرا ت اور ان دیکھے خدشا ت کا ہے۔ یہی مشکلات ، خطرات اور خدشا ت سفر کو دلچسپ ،معلوماتی اور سنسنی خیز بنا تے ہیں۔ یہی میرا منتہائے مقصود تھا۔

یہ یورپ کا میرا پہلا سفر نہیں تھا۔ اس سے قبل میں بیسویں صدی کے آ خری سال یعنی 2000 ء میں برطانیہ ، فرانس، سوئزرلینڈ ، جرمنی ، ہالینڈ اور بلجیم کا سیاحتی سفر کر چکا ہوں۔
( اس سفر کی داستان میری کتاب’ خوشبو کا سفر‘میں درج ہے۔ )یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ میرا رُخ شمالی یورپ کی جانب تھا۔ شمالی یورپ کے اسکینڈے نیوین ممالک اپنی تاریخ، جغرافیہ، زبان، ادب، تہذیب اور موسموں کے اعتبار سے جُدا اور منفرد خطّہ ہے۔ اس انفرادیت کے علاوہ اس انتخاب کی دوسری وجہ ان یخ بستہ ملکوں میں مقیم میرے چند احباب بھی تھے جن کے محبت بھرے بلاوے مجھے اُکسا تے رہتے تھے۔
اس سفر کے لیے میں نے اپریل کے دوسرے نصف کا انتخاب کیا کیونکہ ا س وقت تک اس خطّے میں سردی کا زور ٹوٹ چکا ہوتا ہے اور موسم بہار دستک دے رہا ہوتا ہے۔ سرما میں یہ خطّہ جیسے سردی سے منجمد ہو جاتا ہے۔ شدید ترین سردی کے ساتھ دن بہت چھو ٹے اور تاریک ہو تے ہیں ۔ بارش اور برف باری کا سلسلہ اکثر جاری رہتا ہے۔ یوں موسم سرما اس خطّے کی سیاحت کے لیے موزوں نہیں ہے۔

ہاں برفانی کھیلوں کے شا ئقین نوجوانوں کے لیے اسکینڈے نیویا کا سرما بہت کشش رکھتا ہے۔ جب کہ عمر رسیدہ افراد اس یخ بستہ موسم میں گھروں میں دبکے رہتے ہیں یا پھر ان کی سرگرمیاں عمارتوں کے اندر ، شاپنگ سنٹر ، اور دفاتر تک محدود رہتی ہیں۔ کیونکہ باہر جتنی بھی سردی ہو، عمارتوں کا اندرونی حصّہ مشینی حرارت سے گرم اور آرام دہ ہوتا ہے۔

سترہ اپر یل۲۰۱۹ء کی سہ پہر میں سڈنی میں واقع اپنے گھر سے اس لمبے سفر پر روانہ ہوا۔ گھر سے ایئر پورٹ تک ایک گھنٹہ کے سفر اور پھر ایئر پورٹ پر تین گھنٹے گزار کر قطر ایئرلائن کی دیو ہیکل ائر بس میں سوار ہوا تو آسٹریلیا میں موسم سرما کا مختصر دن قریبِ اختتام تھا۔
جہاز ابھی فضا میں بلند ہوا تھا کہ سُورج کا سرخ گولہ مغرب کی جانب غرو ب ہونے لگا۔ اسی مغرب کی جانب جس جانب میں گامزن تھا۔ آ سٹریلیا میں غروب ہوتے ہی یہ سُورج وہاں طلو ع ہو گیا جو میری منزل تھی۔ مگر اس دن کا سورج میری حیات سے ہمیشہ کے لیے خارج ہو گیا۔ میرے وہاں پہنچنے سے پہلے یہ طلوع بھی ہوا بھی اور غروب بھی ہو گیا۔
اس طرح سورج چوبیس گھنٹے مجھ سے پوشیدہ اور کرّہ ارض کی مخالف سمت میں رہا اور میں اس کے آگے آگے محو ِسفر رہا۔ تاہم اس تمام عرصے میں چاند کا ساتھ نہ چھوٹا۔

ایک چاند کھڑکی کے باہر ستاروں کے جُھرمٹ میں میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور ایک چاند کھڑکی والی سیٹ پر میرے ساتھ براجمان تھا۔ سنہری زلفوں، نیلی آنکھوں اور ملیح چہرے والی درمیانی عُمر کی یہ یورپی خاتون اور میرے درمیان والی سیٹ خالی تھی۔
نیلی جینز اور سُرخ بلاؤز میں اس کا گداز بدن جھانکتا بلکہ لشکارے مارتا تھا۔ بیٹھتے ہی میں  نے ہیلو کہا۔ اُس نے کانوں سے ہیڈ فون اُتارا۔ مسکراہٹ کی بجلیاں گرائیں اور مترنم لہجے میں ہیلو کہا اور پھر موبائل کی طرف متو جہ ہو گئی۔ حُسن خود پر نازاں تھا۔ اُدھر ہم بھی انا پر قائم تھے۔ لہٰذا آدھ پون گھنٹے وہ اپنے موبائل فون اور میں اپنی کتاب میں گم رہا۔

اس دوران میں ہمارا طیارہ سڈنی کی پُرشکوہ عمارتوں ، وسیع سبزہ زاروں اور نیلے پانیوں والے ساحلوں سے بلند ہوتا فضاؤں میں پہنچ گیا۔ زمین سے دُور ہو تے ہی سارے ارضی منظر کھو ہو گئے۔ اب کھڑکی سے باہر دبیز تاریکی اور ہجوم ِ انجم میں درخشاں و فرحاں ماہتاب کے علا وہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ میں آسماں کی وسعتوں میں ضوفشاں چاند کو دیکھ رہا تھا کہ قریب سے آواز آئی۔
آپ کہاں جا رہے ہیں ؟
میں نے نظریں گھمائیں تو دیکھا کہ نیلی آنکھیں اور سُرخ لب گویا تھے۔ میں  نے کہا۔
میری منزل ڈنمارک ہے۔
اوہ اچھا ! آپ وہاں رہتے ہیں یا وزٹ پر جا رہے ہیں ؟ مسکراتی نیلی آنکھوں  نے پوچھا ۔
وزٹ پر جا رہا ہوں ۔ ڈنمارک ، سویڈن ، ناروے ، فن لینڈ اور واپسی پر قطر بھی جاؤں گا۔
اُس کے یاقوتی ہونٹوں سے سیٹی کی آواز نکلی۔
بہت خوب ! بہت اچھا رُوٹ ہے۔ یہ تمام ملک انتہائی دلکش اور دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ یقیناً لطف اندوز ہوں گے، ان کی سیر کر کے۔
دیکھتے ہیں کیسا تجربہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات بظاہر خوبصورت نظر آنے والی چیز اتنی دلکش نہیں ہوتی۔ وقت اور حالات بھی اہم ہو تے ہیں۔ ویسے آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟
اس کے لہجے سے اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ آسٹریلین نہیں ہے۔
میں آئرش ہوں۔ ویسے میرا نام ملیسا ہے۔ اس نے اپنا نازک ہا تھ بڑھایا۔
میں نے ہاتھ تھاما تو ایک برقی رو سی دوڑ گئی۔
بولی۔ میں نیوزی لینڈ اور آ سٹریلیا کی سیر کے لیے آئی تھی۔ دو ہفتے یہاں گزار کر اب واپس جا رہی ہوں۔
بہت خوب ! میرا نام طارق مرزا ہے۔ میں سڈنی میں مقیم ہوں۔ برطانیہ سمیت یورپ کے متعدد ملکوں کی سیر کر چکا ہوں۔ تاہم ابھی تک آ ئرلینڈ نہیں جا سکا۔ سُنا ہے بہت حسین ملک ہے۔
ہاں ! آ ئرلینڈ بہت خوبصورت ہے۔ ویسے آسٹر لیا اور نیوزی لینڈ بھی کم نہیں ہیں ۔خصوصا ً آپ کے شہر سڈنی کے ساحلوں کا جواب نہیں۔ میں سڈنی کے ساحل کوجی میں مُقیم رہی ہوں۔ روزانہ تیراکی اور غسلِ آفتابی کرتی رہی ہوں۔
مجھے آپ کے دُھوپ میں سنولا ئے ہو ئے چہرے سے اندازہ ہو گیا تھا۔ بقیہ بدن بھی سو نے کی طر ح ہو گا۔
اس کے چہرے پر سُرخی سی عود کر آئی۔ بولی ۔
آپ کا آبائی ملک کون سا ہے ؟
میں پاکستان میں پیدا ہوا مگر پچھلے چھبیس برس سے آ سٹریلیا میں مقیم ہوں۔
اوہ! پاکستان میں بھی بے تحاشا قدرتی حُسن ہے۔ میری بڑی خواہش ہے وہاں جا نے کی ،مگر دوست منع کر تے ہیں۔ سنا ہے وہاں کے حالات اچھے نہیں ہیں۔
میں  نے مسکرا تے ہو ئے کہا۔ سُنی سنائی تمام باتوں میں صداقت نہیں ہوتی۔ اب حالات بہت بہتر ہیں۔ بے شمار سیاح وہاں جا رہے ہیں۔
ملیسا  نے معصومیت بھرے لہجے میں پو چھا۔ اب وہاں کوئی خطرہ نہیں ہے کیا ؟
تھوڑے بہت خطرات تو ہر جگہ ہو تے ہیں۔ ان سے ڈرتا رہے تو انسان گھر سے نہ نکل سکے۔ ویسے ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پا کستانی بہت مہمان نواز قوم ہے۔ اشیا اور خدمات ارزاں ہیں۔ مثلاً پچاس سا ٹھ ڈالر دے کر پورے دن کے لیے گاڑی بمع ڈرا ئیو کرایہ پر  لے سکتے ہیں۔ آپ ایک مرتبہ وہاں جا کر دیکھیں۔ پھر آ پ بار بار وہاں جانا پسند کریں گی۔
آپ نے اتنی تعریف کی ہے ۔ اب تو لازمی جاؤں گی۔

ملیسا سے باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اس نے تقر یباً آدھی دنیا دیکھ رکھی تھی۔ بقیہ آدھی دیکھنے کی تمنا اور استطاعت رکھتی تھی۔ یہ استطاعت اس دولت کی شکل میں اس کے پاس موجود تھی جو اس کے دو آنجہانی شوہروں  نے اس کے لیے چھوڑی تھی۔ اس دولت کے ہو تے اس کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو نے میں کوئی رُکاوٹ نہیں تھی۔ ابھی وہ جوان اور حسین تھی۔ اگر ضرورت پڑتی تو تیسرا خاوند اور اُس کی دولت بھی اُس کی ہو سکتی تھی۔ اس کے پاس حُسن اور اداؤں کے جو سکّہ بند ہتھیار تھے اس کا وار خالی جانے کے امکانات بہت کم تھے۔ یورپی معاشرے میں متموّ ل خاوند حیات ہو تو ملیسا جیسی خواتین کے لیے لاکھ کا اور مر جا ئے تو سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔ خاوند کے ورثے کے من چاہے استعمال میں قانون حائل ہوتا ہے اور نہ معاشرہ۔ لہٰذا ایسی خوا تین کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوتا ہے۔

ڈیڑھ گھنٹہ ملیسا سے آ سٹریلیا اور آ ئرلینڈ کی باتیں کر تے گزر گیا۔ اس دوران قطر ایئر لا ئن کے چاق و چوبند عملے نے کھانا پیش کیا۔ کھانا اور عملے کی سروس دونوں معیاری تھے۔ مسلم ملک کی ایئر لائن ہو نے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ تمام کھا نے حلال تھے اور تمام مسافروں کو بیک وقت پیش کیے گئے۔ ورنہ تھائی اور اس جیسی دیگر ایئرلائن میں حلال کھا نے کے نام پر جو پیش کیا جاتا ہے وہ اکثر کھا نے کے قابل نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ حلال کھانا دوسروں سے پہلے پیش کیا جاتا ہے جو عجیب محسوس ہوتا ہے۔ کھا نے کے بعد نیند کے جھونکے محسوس ہو نے لگے۔

میں نے ملیسا سے معذرت کے بعد ٹانگیں پسار لیں اور سو نے کی کوشش کر نے لگا۔ سو ئے بغیر سڈنی سے دوحہ تک کے پندرہ گھنٹے گزار نے بہت کٹھن تھے۔ اتنی دیر نہ تو کوئی باتیں کر سکتا ہے اور نہ کتاب اور فلم سے جی بہلایا جا سکتا ہے۔ دوران پرواز آ نکھ لگ جا ئے تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں ہے۔ ورنہ فضائی سفر سب سے زیادہ اُکتا دینے والا ہوتا ہے ۔خصوصاً اتنی طویل پرواز ایک امتحان سے کم نہیں۔
قطر ائیرلائن اور دوحہ کا راستہ میں نے کافی سوچ بچار کے بعد منتخب کیا تھا۔ میرا انتخاب غلط ثابت نہیں ہوا۔ تاہم سڈنی سے دوحہ کی طویل پرواز اس سفر کا مشکل مرحلہ تھا ۔ جو ملیسا کی دلچسپ رفاقت، وقفہ وقفہ سے نیند کی دیوی کی آمد اور قطر ائیرلائن کی خوش شکل اور خوش ادا فضائی میزبانوں کی عمدہ میزبانی کی وجہ سے بآسانی گزر گیا۔

درمیانی سیٹ خالی ہونے کا بھی فائدہ ہو ا۔ اس کی وجہ سے کُھل کھیلنے کا تو نہیں مگر کُھل کر بیٹھنے کا موقع ضرور ملا۔ میں کن اکھیوں سے اپنی ہم نشین پر بھی نظر رکھے ہوئے تھا کہ شا ید سو تے وقت اُسے کسی کے    کاندھوں کی ضرورت محسوس ہو لیکن شاید اُسے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ مستنصر حسین تارڑ نہیں۔ اس لیے اس نے ائیرلائن کے دیے ہو ئے تکیے پہ اِکتفا کیا اور میر ے کاندھوں کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔

یہ مضمون انگریزی میں پرھنے کے لیے کلک کریں
https://shanurdu.com/a-land-of-happy-people/

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles