31 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

 بیگم وقارالنساء نون| begum viqar un nisa

“مادر مہربان “

بیگم وقارالنساء نون

تحریک پاکستان اور استحکام پاکستان کے لیے اس عظیم خاتون کا لازوال کردار

تحریر؛۔ جاویدایازخان

یہ ۱۹۶۶ء کی ایک صبح کا واقعہ ہے۔
والدہ صاحبہ نے مجھے اور میری بہن کو صبح صبح جگا دیا اور ہمیں تیار کرنے لگیں لیکن آج اسکول کی وردی کے بجائے نئے اور خوبصورت کپڑے پہنائے۔
پوچھنے پر بتایا کہ آج ایک خاص مہمان جنرل مارڈن کے گھر آ رہی ہیں۔
ان کے استقبال کو جانا ہے۔ ہم دونوں نے انہیں پھولوں کے گلدستے بھی پیش کرنے ہیں ۔
میرے والد صاحب جنرل جے ایچ مارڈن کے پرسنل سیکر ٹری تھے۔
ان کی مسز علی نور مارڈن نے ہمیں اس استقبال کے لیے بلوایا تھا ۔
والد صاحب نے بتایا کہ بیگم نون صاحبہ تشریف لا رہی ہیں۔
ہمیں معلوم تھا کہ وہ مسز مارڈن کی بہت قریبی دوست ہیں۔
میرے والد صاحب اکثر لاہور جاتے تو بتاتے کہ
مسز مارڈن صاحبہ نے انہیں ریڈ کراس کی ایک اہم اجلاس کے سلسلے میں بیگم نون صاحبہ کے پاس بھجوایا ہے.
وہ اپنے ساتھ اپنا چھوٹا سا پورٹیبل ٹائپ رائٹر بھی ساتھ لے جاتے اور ہفتوں ان کے پاس کام کرتے تھے۔
وہ بیگم صاحبہ کے فلاحی کاموں میں ۱۹۵۶ء سے ان کی معاونت کرتے چلے آئے تھے۔
ان کے ساتھ اردو کے مترجم بھی تھے ۔اس لیے ہمارا پورا گھر بیگم نون صاحبہ کو جانتا تھا۔
ہم نے مسز مارڈن کی کوٹھی پر ان کا استقبال کیا اور پھولوں کے گلدستے پیش کیے تو وہ بہت خوش ہوئیں۔
پیار سے ہمارے نام پوچھے۔ پوچھا، پڑھتے ہیں؟
میں نے کہا جی ہاں !
بےساختہ منہ سے نکلا، میم صاحب ہمارا اسکول بہت خوبصورت ہے۔ آپ ضرور دیکھیں!
انہوں نے مسکرا کر کہا ضرور ہم کل آپ کے اسکول آئیں گے !
یہ بیگم وقار النساء نون تھیں، جنہیں آج پاکستان کی” مادر مہربان” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
یہ پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی دوسری بیگم تھیں۔
ان کی پاکستان کی آزادی اور قیام پاکستان کے بعد فلاحی خدمات کی پوری پاکستانی قوم آج بھی معترف ہے۔
آج کون  جانتا ہے؟کہ پاکستان کے لیےلازوال محبت وایثار کا جذبہ رکھنے والی اس عظیم خاتون نے،
اپنی مدمقابل چار عالمی طاقتوں سے ایک قانونی جنگ لڑ کر
۱۵ لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر مشتمل گوادر جیسی اہم ترین کوسٹل اسٹیٹ پاکستان میں ضم کروائی تھی۔
حصول بندرگاہ گوادر میں ان کا کردار بہت اہم اور حتمی تھا۔
یہ وہی عظیم خاتون تھیں جنہوں نے گوادر کے حصول کی جنگ تلوار اور بندوق کے بجائے قلم ، دلائل ، دانشمندی اور گفت و شنید سے لڑی۔
دو سال کے اندر یہ جنگ جیت کر دکھائی جو ایک لمبی داستان ہے ۔
گوادر کو عمان سے پاکستان کا حصہ بنانے اور اس کی برطانوی وزیر اعظم سے منظوری دراصل بیگم وقارالنساء نون کا ہی کارنامہ ہے۔
آج گوادر کی گہرے سمندر کی قدرتی بندرگاہ پاکستان کے لیے کسی نعمت خداوندی سے کم نہیں اور پاکستان کے لیے ایک سنہرے مستقبل کی نوید بھی ہے۔
یہ پودا بیگم وقارالنساء نون نے ہی لگایا اور پروان چڑھایا۔
اس کا ذکر نہ کرنا اور ان کی اس کاوش کا اعتراف نہ کرنا احسان فراموشی ہو گی۔
۱۹۴۵ء میں مسلمان ہوکر فیروز خان نون (پاکستان کے ساتویں وزیراعظم ) کی ہمسفر بننے کے بعد وہ برطانیہ سے تعلیم یافتہ آسٹرین نژاد وکٹوریا سے وقارالنساء ہو گئیں۔
ان کے ہمراہ تحریک آزادی پاکستان میں اہم اور ناقابل فراموش کردار ادا کیا بلکہ تین مرتبہ گرفتار ہوئیں ۔
پاکستان بننے کے بعد انہوں نے مہاجرین کی بحالی کا بیڑا اُٹھایا اور
اپنی زندگی فلاحی کاموں کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔
ریڈکراس سوسائٹی ( ہلال احمر ) کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔
مشرقی پا کستان میں بھی خواتین کی تعلیم و تربیت کے ذریعے سماجی خدمات جاری رکھیں۔
۱۹۵۹ء میں انہیں اعلیٰ تریں سول اعزاز نشان امتیاز عظا کیا گیا مگر
ان کا اصل انعام وہ عزت و احترام ہے جو بطور قوم ہم انہیں دیتے ہیں ۔
۱۹۷۸ ء میں انہیں سیاحت کی سربراہی دی گئی۔
ان کے دور میں یہ ادارہ آج تک اپنی بے مثال کامیابیوں اور سیاحت کی دنیا میں پاکستان کا بہترین تشخص اجاگر کرنے کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اپوا یعنی ال پاکستان ویمینز ایسوسی ایشن کی بانی رکنیت حاصل کی۔ خواتیں کی تعلیم وترقی میں فعال کردار ادا کیا۔
پاکستان میں نون اسکالر شپ کا اجراء کیا ۔وکی نون ایجوکیشنل فاونڈیشن آج بھی ان کی سماجی و فلاحی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
محترمہ کی وصیت کے مطابق اس فنڈ کا ایک حصہ ان نادار مگر ذہین طلبہ کو آکسفورڈ جیسے اداروں سے تعلیم دلوانے پر خرچ ہوتا ہے جو واپس آ کر اس مملکت کی خدمت کرنے پر راضی ہوں۔
یہ بیگم وقارالنساء نون کے لیے کسی صدقہ جاریہ سے کم نہیں ۔ان کی کوئی اولاد نہ تھی لیکن انہوں نے اپنے سوتیلے بچوں سے بےحد پیار اور محبت کا رشتہ استوار کیا۔
آخری عمر میں عمرہ کی سعادت حاصل کی اور وصیت کی کہ مجھے غیر سمجھ کر چھوڑ نہ دینا بلکہ انہیں ایک کلمہ گومسلمان کے طور پر پاکستان میں ہی دفن کیا جائے۔
میرے والد صاحب کیپٹن (ر) محمد ایاز خان مرحوم کو ان کے ساتھ فلاحی کاموں میں کام کرنے کا موقع بہت ملا تھا وہ بطور اردو و انگریزی مترجم ان کے ساتھ رہے۔
وہ کہتے تھے کہ انہوں نے زندگی میں ان جیسی مہربان اور دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والی خاتوں نہیں دیکھی۔ وہ واحد انگریز خاتون تھیں جنہوں نے اپنے ہی ہم وطنوں اور برطانوی سامراج کے خلاف جنگ آزادی میں خود حصہ لیا۔
پاکستان اور اس کے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے طویل جدوجہد کی ۔ان کی پوری زندگی خدمت انسانیت کی اعلیٰ ترین مثال ہے جو ہمیشہ گوادر بندرگاہ کے طور پر موجود رہے گی ۔
اس لیے انہیں” گوادر کی رانی “بھی کہا جاتا ہے ۔
محترمہ بیگم وقارالنساء نون ۱۶ جنوری ۲۰۰۰ء میں طویل علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملیں مگر پاکستان اور اس کی قوم کے لیے وہ کچھ کر دیا جو شاید کوئی نہ کر پاتا ۔
انہوں نے وہ گوادر ہمیں دلوایا جو آج ساری دنیا میں مرکز نگاہ ہے ۔
سلام اے مادر مہربان سلام محترمہ بیگم وقارالنساء نون صاحبہ ! پاکستان سے آپ کی محبت اور خدمت کو سلام ! یہ قوم ہمیشہ آپ کے اس احسان کی مقروض رہے گی ۔
بیگم نون صاحبہ دوسرے روز سکول آ رہی ہیں جونہی یہ خبر ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب کو معلوم ہوئی، انہوں نے فوری تیاری شروع کر دی۔
جہاں ہیڈ ماسٹر محمد رحیم خان سدوزئی ایک ہر دلعزیز، عظیم اور زبردست شخصیت کے مالک تھے، وہیں ہمارا یہ مڈل سکول ریاست کا خوبصورت ترین سکول بھی ہوا کرتا تھا ۔
وہ خود بھی ایک بڑے سوشل ورکر تھے۔ ان کی تعلیمی اور سماجی خدمات ہمیں زندگی بھر یاد رہی ہیں ۔
انہوں نے راتوں رات تمام اسٹاف کے ہمراہ جاگ کر بیگم صاحبہ کے شایان شان استقبال کے انتظامات کئے۔ ماسٹر جاوید صاحب سے دس عدد اسناد ہاتھ سے بنوائیں۔
اسکاوٹس سلامی کے لیے تیار کئے اور پی ٹی شو کا انتظام کیا۔
صبح جب بیگم صاحبہ اسکول پہنچیں تو ان کا شاندار اور تاریخی استقبال کیا گیا ۔
مسز جے ایچ مارڈن اور میرے والد صاحب ان کے ہمراہ تھے ۔
انہوں نے پی ٹی شو اور اسکاوٹس کا مارچ پاسٹ دیکھا۔ دس بچوں کو ریڈ کراس کی جانب سےتعریفی اسناد عطا کیں۔ وظائف کا اعلان کیا۔
ان بچوں میں ایک میں بھی تھا وہ سند آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔
اس کے بعد انہوں نے انگریزی میں مختصر سی تقریر کی، جس کا اردو ترجمہ والد صاحب کر رہے تھے۔
اب پوری تو یاد نہیں مگر انہوں نے کہا تھا۔
“بچو! پاکستان آپ کے لیے خدا کی ایک نعمت ہے۔
تم اس ملک کا مستقبل ہو۔ ابھی ہمیں بہت کام کرنے ہیں۔
سب سے بڑھ کر بھوک ،بیماری ،غربت،جہالت ،بے روزگاری سے لڑنا ہے۔
اس کا ایک ہی زریعہ ہے کہ آپ تعلیم حاصل کریں۔ ملک سے جہالت کا خاتمہ ہی دکھی انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے ۔
تعلیم ہی آپ کی ترقی کا واحد راستہ ہے ۔ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ ہمارا ملک ریڈ کراس ( ہلال احمر )سے مدد لینے کے بجائے اس ادارے کو مدد فراہم کرے گا۔
ہم دنیا میں امن ،سلامتی اور بھائی چارے کے علمبردار بن جائیں گے ۔
انسان کو ایک دوسرے کی مدد اور ہمدردی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
اللہ کی رضا کے لیے اس کے بندوں کی خدمت کرو ” ۔
خدا حافظ کہتے ہوئے انہوں نے بڑی شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا۔
“جاوید تمہارا اسکول بہت اچھا ہے !”
مجھے یہ فخر ہمیشہ رہے گا کہ مجھے اس عظیم ہستی کو دیکھنے اور ان سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا ۔
میں آج بھی اپنے سر پر”مادر مہربان “کا وہ شفقت بھرا ہاتھ محسوس کرتا ہوں جو انہوں نے خدا حافظ کہتے ہوئے میرے سر پر رکھا تھا ۔
بے شک ایسی پروقار شخصیت میں نے آج تک کوئی اور نہیں دیکھی ۔
اللہ ہماری اور اس دھرتی کی اس عظیم ماں کے درجات بلند فرمائے جس نے اپنی پوری زندگی دکھی انسانیت کی خدمت اور استحکام پاکستان کے لیے وقف کر دی۔
آمین !

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles