37.1 C
Lahore
Tuesday, June 25, 2024

Book Store

آبلہ پا

آبلہ پا

ڈاکٹر میمونہ حمزہ

قمر الزماں  نے گاڑی گیراج میں پارک کی اور ڈگی میں سے گروسری نکال کر اندر کی جانب بڑھا۔ داخلی دروازے پر کھڑا ہینڈل گمانے کے لئے سامان کو بیلنس کر رہا تھا کہ اسے اندر ایک بھگدڑ کا احساس ہوا۔ اس  نے زور سے سلام کیا۔ اس کی بیٹی اس کے سلام کا جواب دینے کے بجائے اس کی نگاہوں سے بچتے ہوئے اندر غائب ہو گئی۔
اس کی بیوی ٹیلیویژن دیکھنے میں منہمک تھی۔ اس نے ایک مرتبہ پھر گلا کھنگار کا اپنی آمد کا اعلان کیا۔ وہ اسکرین پر نگاہیں گاڑے ہوئے بولی
گروسری ادھر ہی رکھ دیں، میں اٹھا لیتی ہوں۔
اس نے شاپر  ایک طرف رکھے اور فریج سے بوتل نکال کر پانی پیا، اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
اس نے شاور لیا اور بیڈ پر لیٹ گیا۔
کچھ دیر آرام کے بعد باہر نکلا تو اس کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہو گئیں۔ اتنی محنت سے کی گئی خریداری اب تک شاپرز میں پڑی اس کا منہ چڑا رہی تھی۔
اس نے زیبا کو متوجہ کیا، تو وہ بڑبڑاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی، اور بادل ناخواستہ سودا سلف کے تھیلے اٹھا کر کچن کا رخ کیا۔ اس  نے سونیا کو آواز دی، اور ٹیلیویژن کا ریموٹ اٹھا کر چینل اسکرول کرنے لگا۔
جی پاپا۔۔۔
اس کی سولہ برس کی بیٹی ناگواری سے اپنے کمرے سے نکلی۔
کیسا گزرا دن؟
اچھا پاپا۔۔
اس نے گویا سر سے بوجھ اتارا۔
کیا کر رہی تھی کمرے میں؟
اسکول کا کام۔
کوئی مشکل؟
نہیں پاپا۔
اس کا دل چاہتا تھا۔ وہ بیٹی سے ڈھیر ساری باتیں کریں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کچھ برس پہلے تک وہ اس کے آفس سے آنے پر سر کھایا کرتی تھی۔ فلاں ٹیچر نے یہ کہا۔ فلاں نے شاباش دی۔ آج فلاں سہیلی سے لڑائی ہو گئی۔ اور آج ماما نے کیا کہا اور اس نے کیا۔
اسے سوچوں میں گم دیکھ کر سونیا  نے اکتاہٹ سے پوچھا
پاپا، میں جاؤں اپنے کمرے میں؟
اور اس نے بادلِ ناخواستہ سر اثبات میں ہلا دیا۔
وہ ایک کمپنی میں اچھے عہدے پر تھا۔ اور ڈیڑھ دہائی سے برطانیہ میں رہائش پزیر تھا۔ اس کی بیوی نے انٹر تک تعلیم حاصل کی تھی۔ برطانیہ آ کر اس نے انگریزی کے چند کورسز بھی کر لیے تھے۔
اتنے برس یہاں رہنے کے بعد وہ یہاں کافی حد تک سیٹ ہو گئی تھی۔ اللہ تعالی  نے انہیں ایک بیٹی سے نوازا تھا۔ اور اس معاملے میں زیبا کافی حد تک قناعت پسند واقع ہوئی تھی۔
سونیا  نے اسکول جانا شروع کیا تو زیبا  نے بھی کمیونٹی سروسز میں اپنا حصّہ ڈالنا شروع کر دیا۔ قمر الزماں ان لوگوں میں سے نہ تھا جو بیویوں کو جاگیر بنا کر رکھتے ہیں، وہ اس کی صلاحیتوں کی نشوونما پر خوش تھا، اسی لئے اس نے زیبا پر کوئی قدغن نہ لگائی۔
وہ سال کا بیشتر حصّہ مصروفیت میں گزارتا، البتہ کرسمس کی چھٹیوں میں وہ زیبا اور سونیا کے ہمراہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے ملنے پاکستان ضرور جاتا۔
پاکستان سے واپسی پر اس کی آنکھیں اداس ہوتیں، بوڑھے والدین کو الوداع کہنا اسے ہمیشہ مشکل لگتا۔ اسے ہمیشہ زیبا ہی تسلیاں دیتی۔
گزشتہ دو برس سے وہ تنہا ہی پاکستان جا رہا تھا۔ زیبا نے یہ کہہ کر جانے سے انکار کر دیا تھا کہ اب اس کے والدین دنیا میں نہیں رہے، تو وہ پاکستان کس کے لئے جائے۔
اچھا ہے وہ اپنی ماں جی کے پاس اچھا سا وقت گزار آئے۔
پہلے سال تو اسے زیبا کا انکار اچھا نہ لگا تھا۔ مگر ماں جی کے پاس پہنچا تو وہ کھل اٹھیں۔ اور وہ جو پاکستان پہنچ کر بھی بیوی بچی کو سیر کروانے اور شاپنگ میں مگن رہتا تھا، اس مرتبہ وہ کچھ مختلف محسوس کر رہا تھا۔
اتنے عرصے بعد وہ زیبا اور سونیا سے الگ ہوا تھا، وہ ان سے مکمل رابطے میں تھا۔ صبح شام کئی مرتبہ ویڈیو چیٹ ہوتی ، اور یہ بھی حقیقت تھی کہ باقی وقت وہ بہن بھائیوں اور ان کے بچوں کے ساتھ مشغول رہتا۔ اور انہوں  نے اتنا اچھا وقت گزارا کہ قمرالزماں کی تنگی اور رنج بھی دور ہو گیا۔
اسے لگا کہ ماں جی اس سے اتنا قریب ہو گئی ہیں جتنی اتنے برسوں میں کبھی نہیں تھیں۔ اس  نے ماں جی کے کمرے میں ڈیرہ ڈال لیا تھا۔
تب اسے معلوم ہوا کہ ماں جی کے صبح و شام کیسے گزرتے ہیں۔ ماں جی تہجد کے وقت بیدار ہو جاتی تھیں، ہلکی سی روشنی میں ماں جی کا چہرہ کیسا پرنور لگتا تھا۔
ماں جی ہولے ہولے نماز پڑھتیں، اور پھر اللہ کے حضور دعا میں مصروف ہو جاتیں، وہ کئی مرتبہ کروٹ لیتا تو اسے اپنا اور زیبا اور سونیا کا نام ان کے لبوں پر مچلتا ہوا سنائی دیتا۔
وہ لحاف کا کونا اٹھا کر کان ان کی جانب موڑ دیتا۔ وہ ان کے لئے کیسی پیاری دعائیں کرتی تھیں۔
دنیا اور آخرت کی بھلائی۔
قمر الزمان کے دل میں تیر چبھا۔۔۔ ماں جی کو کیا معلوم، ہم تو دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ عمدہ گھر، نئے ماڈل کی کار، جدید گیجٹ اور نجانے کیا۔ ہماری دوڑ اور ماں جی کی دعاؤں میں کیسا مشرق و مغرب کا بعد ہے، لیکن ماں جی کی دعاؤں میں کیسا سکون تھا۔
اس روز بڑے عرصے بعد اس نے نمازِ فجر ادا کی۔ اور اللہ تعالی سے بڑے دل سے دعا کی
اے اللہ میری ماں کی دعاؤں کو ہی ہماری دعا بنا دے۔
اسے لگا کہ آہستہ آہستہ اندر کا میل کچیل چھٹ رہا ہے۔ ایک روشنی وہ اپنے اندر محسوس کر رہا تھا۔
ماں جی کے پاس گھڑی تک نہ تھی مگر ان کے اندر ایک گھڑیال لگا ہوا تھا، جو ان کی ٹائم مینیجمنٹ کا ذریعہ تھا۔ ہر نماز کے وقت سے پہلے ہی اہتمام سے وضو کر کے وہ نماز کے لئے تیار ہو جاتیں، قرآن کی تلاوت بڑے انہماک سے کرتیں۔
بچوں میں بیٹھتیں تو عمدہ نصیحت۔ ان کے پوتے پوتیاں ان سے لپٹ جاتے۔ انہیں گدگداتے رہتے۔ بہوئیں خدمت کو آمادہ رہتیں۔ ہر ایک آتے جاتے بھی اماں سے اور اس سے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ۔۔، پوچھتا۔ اس کے اندر کا مشرقی مرد انگڑائی  لے کر بیدار ہو رہا تھا۔
واپسی سے پہلے اس  نے سونیا اور زیبا کے لئے تحائف خریدے تو ان کی فرمائشوں کے علاوہ کچھ چیزیں اس نے بلا طلب اپنے دل کی خوشی سے بھی خرید لی تھیں۔
پاکستانی ملبوسات اور ان کے اسکارف اور حجاب بھی
اسے کتنا اچھا لگا تھا جب بھائی جان کی بیٹیوں کو اسکارف پہنے باہر جاتے دیکھا تھا۔ اس نے اردو میں کچھ ابتدائی تعلیم کی کتابیں بھی لیں۔ اور چپکے سے جائے نماز بھی بیگ میں ڈال لی۔
اس کا پکا ارادہ تھا کہ اب وہ سونیا کو بھی نماز کا عادی بنائے گا۔ ۔۔ اور زیبا کو بھی! وہ خوشی خوشی مانچسٹر ائیرپورٹ سے باہر آیا۔ اس کی بیوی اور بیٹی اس کے استقبال کو موجود تھیں۔
گھر تک کا سفر اسی اشتیاق میں گزرا۔
رات کے کھانے کے بعد اس نے اپنا سوٹ کیس کھولا اور تحائف نکالنے شروع کئے۔ جوں جوں تحائف باہر نکل رہے تھے، ان دونوں کے چہرے بجھتے چلے جا رہے تھے۔ اور جب جائے نماز باہر نکلی تو سونیا بے اختیار بول اٹھی
پاپا۔۔ آپ دادو کا سامان بھی  لے آئے ہیں۔
ارے نہیں بھئی۔۔ یہ جائے نماز تو میں اپنے گھر کے لئے لایا ہوں۔ ہم سب کے لئے۔ ۔
اس نے زیبا اور سونیا کے حیران چہروں پر ایک نگاہ ڈالی اور کچھ کہنا چاہا ، مگر خاموش ہو رہا۔ آج کے لئے اتنا ہی کافی تھا۔
اگلی صبح وہ اکیلا جائے نماز پر کھڑا اپنی اور اپنے گھر والوں کی ہدایت مانگ رہا تھا۔ پھر اس  نے زیبا کو کہہ کر سونیا کے لئے آن لائن قرآن ٹیچر کا بندوبست کروایا۔ اس نے زیبا کو بھی نماز کی جانب متوجہ کیا، مگر وہ اثبات میں سر ہلا کر رہ جاتی۔
اس کے اصرار پر کبھی نماز پڑھ بھی لیتی، لیکن وہ سونیا کو آمادہ نہ کر سکی۔ اب آفس سے گھر آ کر وہ سونیا سے حال احوال پوچھتا تو نماز کی بھی تاکید کرتا، وہ کبھی آرام سے سن لیتی اور کبھی چڑ کر کہتی
پاپا، کیا ہو گیا ہے آپ کو ۔۔ آپ بالکل بدل گئے ہیں۔ نہ ہنسی نہ مذاق ۔۔ بس نماز، نماز اور نماز۔۔
میری خوشی کی خاطر ۔۔
کیا ملے گا آپ کو پاپا۔۔
اس کے ماتھے پر بل آ گئے، اور اس نے ڈانٹ کر اسے خاموش کروا دیا۔ سونیا پاؤں پٹخ کر کمرے سے نکل گئی۔ اس کی ڈانٹ کا رخ زیبا کی جانب مڑ گیا، جس  نے بیٹی کو باپ سے بات کرنے کی بھی تمیز نہ سکھائی تھی۔
اس دن کے بعد اس کے اور سونیا کے بیچ ایک فاصلہ آ گیا تھا۔
اس سے اس کی بدتمیزی برداشت نہ ہو رہی تھی اور سونیا کے لئے بھی باپ کا یہ روپ برداشت کرنا مشکل تھا۔
کھانے کی میز پر آمنا سامنا ہوتا، تو سونیا اپنی نگاہیں اپنے کھانے پر مرکوز رکھتی اور اس کے ماتھے پر بھی شکنیں واضح ہو جاتیں۔
وہ اس سے اس کی پڑھائی کا حال پوچھتا۔ وہ لئے دیے انداز میں بتاتی اور جلدی سے کھانا کھا کر اٹھ جاتی۔
قمر الزماں خود کو بہت تنہا محسوس کر رہا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے تک وہ خود کو خوش قسمت سمجھا کرتا تھا۔ اسے سلیقہ مند بیوی ملی تھی اور پیاری سی چہکتی ہوئی بیٹی۔ لیکن اب وہ خوش نہ ہو پا رہا تھا۔
ماں جی سے فون پر بات ہوئی تو اس کا سارا رنج الفاظ میں ڈھل گیا۔ اس نے اپنے اندر کی کشمکش اور گھر کے تناؤ کو ماں جی کے سامنے بیان کیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
ماں جی نے اسے بہت تسلی دی۔ محبت کے ساتھ معاملات کو چلانے کی تلقین کی۔ اس کندھے ہلکے ہو گئے۔ اور نئے عزم اور نئی حکمتِ عملی کے ساتھ وہ پھر اپنے گھر کو مسلمان گھر بنانے میں مشغول ہو گیا۔
اس کی نرمی کا اتنا فائدہ تو ہوا ، کہ گھر کی فضا میں کچھ حرارت محسوس ہونے لگی۔ وہ ہر ویک اینڈ پر زیبا اور سونیا کو  لے کر باہر نکلتا، اور ان کے ساتھ پرلطف وقت گزارتا۔
گھر آ کر پورے دن کی نمازیں ادا کرتا، تو ہولے سے زیبا اور سونیا کو بھی متوجہ کرتا۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے اس کا دل چاہتا کہ سونیا کا لباس اچھا ہو۔ وہ دھیرے سے زیبا کو اشارہ کرتا۔ اسے کہو، کوٹ بھی پہن لے۔ سر بھی ڈھانپ لے۔ زیبا کبھی اس کی مان لیتی اور کبھی اسے آنکھیں دکھا دیتی۔
اتنی بڑی نہیں ہے ابھی میری بچی۔۔ باہر کچھ اچھلنا کودنا بھی ہوتا ہے۔ پارک میں وہ جھولے لینے کے بجائے کپڑے ہی سنبھالتی رہتی ہے۔
سردیاں تو جوں توں کر کے گزر گئی تھیں، مگر گرمیوں میں اسے سونیا کا ویسٹرن ادھورا لباس برداشت نہ ہو رہا تھا۔ چند دنوں سے وہ فیس بک اور انسٹا گرام پر بھی اپنی کچھ بولڈ تصاویر اپ لوڈ کر رہی تھی۔
اس کے فرینڈز میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی تھے۔ اس نے ہاتھوں کی انگلیوں پر سونیا کی عمر کے سال گنے تو اسے پسینہ آ گیا۔ اس کی بیٹی ٹین ایج کی سیڑھیاں تیزی سی پھلانگ رہی تھی۔ اس کی تصویروں میں لڑکے اور لڑکیاں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ان کی بے تکلفی کا لیول تصاویر میں نمایاں تھا۔
اگلا تمام دن وہ سونیا سے بات کرنے کے لئے مناسب کلمات سوچتا رہا۔ اسے کس طرح سمجھائے کہ بات اس کے دل میں اتر جائے۔
رات کے کھانے پر اس کی مصروفیات کا حال جانتے ہوئے اس نے ان تصویروں کا دانستہ طور پر ذکر کیا۔ اور یہ بھی کہ وہ اب بڑی ہو رہی ہے۔ اسے اپنی فرینڈز کا دائرہ لڑکیوں تک محدود رکھنا چاہیے۔ اس کی ادھوری بات پر ہی سونیا بپھر گئی تھی
کیوں پاپا۔۔ ہم سب کلاس فیلوز ہیں۔ ۔ مل کر گئے تھے کافی شاپ میں ۔۔ کسی بار میں نہیں گئے تھے جو آپ جرح کر رہے ہیں۔
اس کے انداز پر ہی وہ تلملا کر رہ گیا۔
اس نے اسے اپنی روایات سمجھانا چاہیں، لڑکیوں اور لڑکوں کی باہم دوستیوں کے برے انجام سے باخبر کرنا چاہا، مگر سونیا کچھ سننے کے موڈ میں نہ تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ انہی کلاس فیلوز کے ساتھ وہ بچپن سے کھیلتی رہی ہے، آج یہ پاپا کے لئے اتنا ناقابلِ برداشت کیوں ہو گیا ہے۔
اپنے اپنے دلائل بیان کرتے دونوں ہی کی آوازیں بلند ہو گئی تھیں، اور زیبا ۔۔ اس  نے شوہر کا ساتھ دینے کے بجائے بیٹی کا بھرپور دفاع کیا تھا۔وہ بار بار اسے خاموش ہونے کو کہتی
آپ چیچو کی ملیاں میں نہیں ہیں ۔۔ انگلینڈ میں ہیں۔ اور سونیا انگلینڈ کی شہری ہے۔
وہ گرج کر بولا
وہ میری بیٹی ہے ۔۔تم دونوں سن لو ۔۔ میں یہ تماشا برداشت نہیں کروں گا۔
زیبا  نے سونیا کو کمرے میں جانے کا اشارہ کیا۔ اور خود اس کا مقدمہ لڑنے بیٹھ گئی۔ اس  نے اسے باور کروایا کہ وہ عقل سے کام  لے اور بیٹی کے منہ نہ لگے۔
اس تمام گرما گرمی کا نتیجہ اس کے سوا کیا نکلا تھا کہ سونیا  نے اسے اپنے تمام اکاؤنٹس سے بلاک کر دیا تھا۔ اس نے زیبا کے سامنے احتجاج کیا تو اس نے بھی اسے اس کا حق قرار دیا تھا۔ گھر کی فضا ایک مرتبہ پھر مخدوش ہو چکی تھی۔ سونیا نے اس کے سامنے آنا بھی چھوڑ دیا تھا۔   زیبا کا خیال تھا کہ اس کے او لیول کے امتحان ہونے والے ہیں اس لئے وہ اسے پریشان نہ کرے۔
اس نے اپنے طور پر سوچ لیا تھا کہ او لیول کے بعد وہ سونیا اور زیبا کو پاکستان  لے جائے گا، اور اس کی آئندہ تعلیم وہیں کے تعلیمی اداروں میں مکمل کروائے گا۔ اس نے ماں جی کو بھی اپنا پروگرام بتایا، جنہوں نے اسے صبر اور حکمت کے ساتھ معاملات حل کرنے کی تلقین کی۔
اس نے تجویز زیبا کے سامنے رکھی تو وہ بپھر گئی۔ اتنی سیٹلڈ لائف کے بعد پاکستان کا سفر اس کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ہی تھا۔ قمر الزمان کے پاس دو ہی راستے تھے۔ یہاں رکنا ہے تو اسی طرزِ زندگی کو اختیار کرنا ہو گا، جو اس نے کہا ہے۔ ورنہ واپس پاکستان چلے جائیں۔
زیبا کے لئے دونوں تجاویز ہی ناقابلِ قبول تھیں۔ آخر اسے اچانک کیا ہو گیا ہے کہ وہ جوان بیٹی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گیا ہے۔ اسے اپنی دقیانوسی سوچ بدلنا ہو گی، ورنہ اس سوسائٹی نے جوان بیٹی کو بھی بڑے حقوق دیے ہیں۔ اٹھارہ برس کے بعد وہ خود مختار ہو گی۔
قمر الزمان بالکل تنہا کھڑا تھا۔ اس کا کل اثاثہ خطرے میں تھا۔ اسے سونیا کی حرکتیں مشکوک لگنے لگی تھیں۔ بلکہ اب زیبا سے بھی خوف آنے لگا تھا۔ نالائق عورت نے اس کی بیٹی کو اس کے مدِّ مقابل لا کھڑا کیا تھا۔
اس روز آدھی رات کو پانی پینے کچن میں آیا تھا، سونیا کے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے اسے روشنی اور کچھ آوازیں سنائی دیں۔
اس کی ہنسی کا جلترنگ وہ خوب پہچانتا تھا، لیکن رات کے اس سمے وہ کس سے خوش گپیوں میں مصروف ہے؟
وہ دروازے کے قریب ہوا، ہینڈل گھمایا اور اندر داخل ہو گیا۔ سامنے کمپیوٹر کی شیرنگ اسکرین پر وہ کسی کے ساتھ وہ مناظر دیکھ رہی تھی، جس نے اس کا سر شرم سے جھکا دیا تھا۔
آہٹ پا کر اس نے موبائل فون کال کو منقطع کر دیا تھا۔ قمر الزمان غصّے اور شرم سے لال بھبھوکا ہو رہا تھا۔ سامنے کمپیوٹر اسکرین پر اخلاق سوز مناظر چل رہے تھے ۔۔
پورنوگرافی ۔۔
قمر الزماں زور سے چلایا۔ اس کا دماغ گھوم گیا تھا ۔۔ اس نے زور دار ہاتھ اسکرین پر مارا۔ کمپیوٹر کی اسکرین کریش ہو گئی ۔ سونیا کا چہرہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر سفید ہو رہا تھا۔ وہ اضطرابی کیفیت میں باہر کو بھاگی، مگر اس کا پاؤں کمپیوٹر کی تار میں پھنس گیا تھا، وہ الٹ کر گری، اور سر میز کے کونے سے ٹکرایا۔
اس  نے زوردار چیخ ماری۔ سر سے خون کا فوارہ ابل رہا تھا۔
اس ساری افراتفری میں زیبا کی آنکھ کھل گئی تھی۔قمر الزماں اسے اور اس کی ماں کو کوس رہا تھا۔ اندر کی اتنی کھٹ پٹ کے باوجود زیبا اپنے کمرے میں تھی۔ وہ اندر نہیں آئی، ہاں چند منٹ بعد پولیس کی گاڑی پہنچ گئی تھی، جس  نے قمرالزماں کو فوری طور پر گرفتار کر لیا اور سونیا کو طبی امداد کے لئے بھجوا دیا تھا۔
پولیس انکوائری شروع ہوئی تو سونیا اور اس کی ماں نے کئی ماہ کی مسلسل جبر کی داستان سنا دی۔ کس طرح گھر میں اسے زبردستی اپنی پسند کے طرزِ زندگی کو اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔
اس کا شوہر سراسر قصور وار تھا۔ اور آج وہ اپنے بوائے فرینڈ سے بات میں مصروف تھی جب وہ بلا اجازت اس کے کمرے میں داخل ہوا، اسے خوفزدہ کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا، اگر پولیس بروقت مداخلت نہ کرتی تو وہ شاید بیٹی کو قتل کر چکا ہوتا۔۔۔ غیرت کا قتل
قمر الزماں اس من گھڑت کہانی کو بڑی اذیت سے سنتا اور رد کرتا رہا، مگر اس کے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کو کچھ نہ تھا۔ وہ کئی دن لاکر میں بند رہا، پھر اسے صلح کا موقع دیتے ہوئے زیبا سے اس کی ملاقات کروائی گئی۔ زیبا نے اسے اس شرط پر صلح کی پیش کش کی کہ وہ ان کی زندگیوں میں مداخلت نہیں کرے گا۔ وہ چیخ اٹھا
احمق عورت، تو  نے گھر برباد کر دیا ہے ۔۔ ساری عمر میرے پیسے پر عیش کر کے مجھے ہی مجرم بنا دیا ہے۔ میں تجھے کبھی معاف نہ کروں گا۔
ان کی آوازیں بلند ہوئیں تو ایک مرتبہ پھر سیکیورٹی کا ادارہ حرکت میں آ گیا۔ زیبا سے پوچھا تو اس نے چلا کر بتایا
اس کو رہا کیا تو یہ میری اور بیٹی کی جان لے  لے گا۔
ہاں ہاں۔۔ میں تجھے چھوڑوں گا نہیں ۔۔وہ ہذیانی کیفیت میں بڑبڑایا۔
اسے دوبارہ لاکر میں ڈال دیا گیا۔ کیس عدالت میں چلا، اور اس کے سر پر رسوائی کی خاک ڈال گیا۔ اس کی بیوی اور بیٹی نے اس سے جان کا خطرہ ہونے کا دعوی کیا تھا۔۔
اور اب وہ تین برس سے جیل کی تنگ کوٹھڑی میں قید تھا۔۔ جہاں اس کی کبھی ملاقات بھی نہ آئی تھی۔ اس کی بیوی کی جانب سے ایک ہی مرتبہ رابطہ ہوا تھا، جب اس نے اسے طلاق کے پیپرز بھجوا ئے تھے۔ اپنی باقی زندگی اسے تنہا ہی گزارنی تھی۔۔
آبلہ پا۔
٭٭٭

Previous article
Next article

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles