36 C
Lahore
Saturday, May 25, 2024

Book Store

پاگل خانہ|pagal khana| part 3| bruno

پاگل خانہ

مقبول جہانگیر

(حصہ سوئم)

(برونو)

’’اب تم میری ملاقات کس سے کرا رَہے ہو؟‘‘

’’ایسے شخص سے جو اَپنے آپ کو بُرونو کے نام سے پکارتا ہے۔‘‘ رینالڈس نے مختصر سا جواب دیا۔

’’خود کو بُرونو کے نام سے پکارتا ہے؟‘‘ فاسٹر کے لہجے میں حیرت تھی۔
’’گویا اِس کے معنی یہ ہیں کہ بُرونو اُس شخص کا اصل نام نہیں ہے؟‘‘

’’اِس کا فیصلہ آپ خود کریں۔‘‘ رینالڈس نے کہا۔
’’مَیں صرف یہی بتانے کا مجاز ہوں کہ وہ خود کو بُرونو کہتا ہے۔‘‘

’’بُرونو۔‘‘ فاسٹر نے پُرخیال انداز میں کہا۔
’’اِس نام کا پہلا حرف بھی  ’بی‘ ہے اور ڈاکٹر بی اسٹار بھی ’بی‘ ہی سے شروع ہوتا ہے۔ یعنی بُرونو اسٹار۔‘‘

اُس نے استفہامیہ نظروں سے رینالڈس کی طرف دیکھا۔ رینالڈس نے نفی میں گردن کو جنبش دی۔

’’مَیں مزید کچھ نہیں بولوں گا۔ جناب۔‘‘ یہ کہتے ہی وہ چلتے چلتے ایک کمرے کے سامنے رکا۔ دروازہ مقفل تھا۔ رینالڈس نے کنجیوں کے گچھے میں سے ایک خاص کنجی منتخب کی۔ اُسے قفل میں لگا کر ہلکے سے گھمایا، پھر آہستہ سے دروازہ کھولا اور ایک طرف ہٹ کر مؤدبانہ طریق پر فاسٹر کو کمرے میں داخل ہونے کا اشارہ کیا۔
فاسٹر نے کمرے میں قدم رکھا۔ یہ ویسا ہی کمرا تھا جیسا بُونی کے پاس تھا۔ یہاں بھی ایک ہی کھڑکی تھی جس میں لوہے کی موٹی موٹی سلاخیں لگی تھیں۔
کمرے کے وسط میں لکڑی کی ایک چھوٹی سی میز اور دو سالخوردہ کرسیاں پڑی تھیں اور ایک گوشے میں الماری۔ دوسرے گوشے میں لوہے کا پلنگ پڑا تھا۔
یہ ویسا ہی پلنگ تھا جیسے اسپتالوں میں مریضوں کے لیے ہوتے ہیں۔ فاسٹر نے دیکھا کہ ایک کرسی پر ادھیڑ عمر کا دبلا پتلا اور کسی قدر پست قامت شخص دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بیٹھا ہے۔
اپنے خیالات میں وہ کچھ اِس قدر ڈوبا ہوا تھا کہ دروازہ کھلنے اور دو آدمیوں کے کمرے میں آنے کی اُسے خبر ہی نہ ہوئی۔ چند لمحے بعد رینالڈس نے آہستہ سے اُسے آواز دی۔

’’بُرونو! اِدھر دیکھو۔ کوئی تم سے ملنے آیا ہے۔‘‘

بُرونو پر اِس آواز کا کوئی اثر نہ ہوا جیسے اُس نے سنا ہی نہیں۔ جس طرح بیٹھا تھا اُسی طرح بیٹھا رہا۔ فاسٹر قدم بڑھاتا ہوا اُس کے قریب پہنچ گیا۔ بُرونو نے اب بھی اُس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔
اُس کے پاس ہی سفید رنگ کا ایک کپڑا دَھرا تھا۔ کپڑے میں باریک سی لمبی سوئی لگی تھی اور دَھاگے کی نلکی کپڑے کے اوپر ہی رکھی تھی۔
فاسٹر کو یہ اندازہ کرنے میں دیر نہ لگی کہ تھوڑی دیر پہلے بُرونو یہ کپڑا سی رہا تھا۔ اِس اثنا میں رینالڈس بھی بُرونو کے پاس آن کھڑا ہوا اَور اُس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا:

’’بُرونو! دیکھو۔ ڈاکٹر فاسٹر تم سے ملاقات کے لیے تشریف لائے ہیں۔‘‘

بُرونو نے اپنی چھوٹی سی گردن ہلائی جیسے ڈاکٹر کے آنے کی رسید دے رہا ہو، پھر اُس نے بےپروائی سے کپڑا اُٹھایا اور سینے میں مشغول ہو گیا۔
رینالڈس نے بےبسی سے کندھے اُچکا کر فاسٹر کی طرف دیکھا۔ فاسٹر نے اُسے چپ رہنے کا اشارہ کیا، پھر کہنے لگا:

’’بُرونو! مجھے تم کوئی ماہرِ فن درزی دکھائی دیتے ہو۔ یہ فن تم نے کہاں سے سیکھا؟‘‘

بُرونو نے اِس جملے پر پہلی بار منہ اوپر اٹھا کر فاسٹر کو دیکھا، لیکن زبان سے کچھ نہ بولا۔
فاسٹر نے بےتکلفی سے مسکراتے ہوئے پھر کہا:

’’اِس وقت تم کیا سی رہے ہو؟‘‘

’’مَیں اپنا کفن سی رہا ہوں۔‘‘ بُرونو نے بھرّائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’مجھے یقین ہو چکا ہے کہ عنقریب اِس کفن کی ضرورت پڑے گی۔‘‘

’’اوہو! ایسی بات ہے۔‘‘ فاسٹر نے اپنے چہرے پر گہری تشویش کے آثار پیدا کرتے ہوئے کہا۔
’’میرا خیال ہے یہ محض تمہارا وَہم ہے، ابھی تم بہت دن جیو گے۔‘‘

بُرونو چپ چاپ کپڑا سیتا رہا۔ فاسٹر نے چند ثانیے بعد کہا:

’’اگر مَیں تم سے اپنے لیے کوئی لباس سلوانا چاہوں، تو سی دو گے؟‘‘

’’ضرور سی دوں گا۔ میرا اَور کام ہی کیا ہے جنابِ والا؟‘‘
بُرونو نے سنجیدگی سے گردن جھکائے جھکائے جواب دیا۔ ’’فرمائیے! آپ کیا سلوانا چاہتے ہیں؟‘‘

’’شاید مَیں اپنے لیے ایک نیا سُوٹ سلواؤں۔‘‘ فاسٹر نے کہا۔

’’میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہوں، جناب!‘‘ بُرونو نے فوراً جواب میں کہا۔
’’ویسے بھی ایک سرجن اور ایک درزی میں کچھ فرق نہیں ہوتا۔ سرجن بھی ٹانکے لگاتا ہے اور دَرزی بھی ٹانکے لگانے جانتا ہے۔
مَیں نے بہت سے سرجنوں کے گاؤن بھی سیے ہیں، البتہ کفن سینے کے مواقع تو بارہا نصیب ہوئے۔ مَیں سوٹ اور گاؤن کے ساتھ ساتھ کفن کی سلائی کا بھی ماہر ہوں۔
ہر طرح کا کفن منٹوں میں سی سکتا ہوں۔ ایک زمانے میں میری خواہش تھی کہ ڈاکٹر بنوں، مگر ڈاکٹر نہیں بن سکا، درزی ضرور بن گیا۔ اَب مَیں شاید مرتے دم تک درزی ہی رہوں گا، ڈاکٹر نہیں بن سکوں گا۔‘‘

فاسٹر نے دوسری کرسی گھسیٹی اور بیٹھتے ہوئے بولا:

’’بُرونو! مَیں تم سے مل کر واقعی بہت خوش ہوا ہوں۔ تم خاصے دلچسپ آدمی معلوم ہوتے ہو۔
یہ سن کر تعجب ہو گا کہ جس طرح تمہیں ایک زمانے میں ڈاکٹر بننے کا شوق تھا، اِسی طرح مجھے بھی فنِ خیّاطی سے لگاؤ رہا ہے۔
مَیں درزی بننا چاہتا تھا، لیکن یہ آرزو پوری نہ ہوئی اور مَیں ڈاکٹر بن گیا۔‘‘

بُرونو کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اُس نے سوئی دھاگا ہاتھ سے رکھ دیا اور اِنتہائی خوش ہو کر بولا:

’’کیا واقعی آپ درزی بننا چاہتے تھے؟‘‘

’’ہاں، ہاں! کیا تمہیں یقین نہیں آتا؟‘‘ فاسٹر نے کہا۔
’’اچھا! خیر یہ بحث چھوڑو۔ اب مجھے اپنے بارے میں تفصیل سے بتاؤ کہ تم ایسی بھیانک جگہ پر کیونکر آ گئے؟‘‘

بُرونو کے چہرے پر اداسی چھا گئی۔ چند لمحے پہلے اُس کی آنکھوں میں جو چمک نمودار ہوئی تھی، وہ معدوم ہو گئی۔ وہ فاسٹر کی آنکھوں میں جھانکتا رہا، پھر کہنے لگا:

’’کیا آپ واقعی خلوص اور اِیمانداری سے میرے بارے میں جاننے کے خواہش مند ہیں یا محض تفریح طبع کے لیے پوچھنا چاہتے ہیں؟‘‘

’’نہیں، نہیں! مَیں پورے خلوص اور ہمدردی سے تمہارے حالات جاننا چاہتا ہوں۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔ مَیں آپ کی زبان پر یقین کیے لیتا ہوں۔‘‘ بُرونو نے جیسے بڑبڑا کر اَپنے آپ سے کہا۔
’’مَیں آپ کو اَپنے بارے میں سب کچھ بتاؤں گا ۔ شاید آپ میری بات سمجھ سکیں۔‘‘

’’مَیں تمہارا بےحد شکرگزار ہوں بُرونو کہ تم نے مجھے مایوس نہیں کیا۔‘‘ فاسٹر نے مسکراتے ہوئے بُرونو کی طرف دیکھا۔

بُرونو دوبارہ گہری سوچ میں ڈوب چکا تھا۔ شاید اپنے ماضی کے اوراق الٹ رہا تھا۔
رینالڈس چپکے سے باہر چلا گیا اور فاسٹر نے دروازہ بند کیے جانے کی آواز سنی۔

بُرونو کا بدن اور کپڑے پسینے سے بھیگ چکے تھے۔ اُس روز گرمی خلافِ معمول کچھ زیادہ ہی تھی۔ اُس کا جی چاہتا تھا کہ وہ کچھ دیر آرام کرے، لیکن آرام اُس کی تقدیر میں کہاں تھا۔
وہ خاصی دیر سے اپنی چھوٹی سی دکان کے عقب میں چار فٹ چوڑے اور چھے فٹ لمبے لکڑی کے بنے ہوئے کیبن میں بند، کپڑوں پر استری کر رہا تھا۔
اُسے سخت بھوک بھی لگ رہی تھی، مگر اُسے معلوم نہیں تھا کہ گھر میں کھانے کے لیے کچھ موجود ہے یا نہیں۔

یکایک اُس نے دکان کے بیرونی دروازے کے اوپر لگی ہوئی گھنٹی کی آواز سنی۔
یہ گھنٹی اُس وقت خود بخود بجتی، جب کوئی شخص دروازہ کھول کر دکان کے اندر آتا تھا۔
گھنٹی کی آواز سنتے ہی بُرونو نے وہ پتلون جس پر وہ اِستری کر رہا تھا، جلدی جلدی تہ کر کے ایک طرف رکھ دی اور کیبن سے باہر نکل کر دکان میں داخل ہوا۔
یہ دیکھ کر اُس کا دل دھک دھک کرنے لگا کہ آنے والا اسٹیبن کے سوا اَور کوئی نہ تھا۔

اسٹیبن کاؤنٹر کے پاس کھڑا تھا۔ اُس کی عمر پچاس کے لگ بھگ ہو گی۔ طویل قامت، لیکن دبلا پتلا۔ ہڈیوں کا ڈھانچا ہی کہنا چاہیے۔
آنکھیں بےنور اَور اَندر کو دھنسی ہوئیں، البتہ ناک غیرمعمولی طور پر لمبی اور آگے سے گِدھ کی چونچ کی طرح مڑی ہوئی تھی۔
ایک نظر اُسے دیکھتے ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ وہ خاصا سنگدل اور بےرحم آدمی ہے۔

’’گڈ مارننگ ، مسٹر اسٹیبن!‘‘ بُرونو نے مردہ آواز میں اٹک اٹک کر کہا۔

’’جانتے ہو آج مہینے کی پہلی تاریخ ہے؟‘‘ بُرونو کی عاجزانہ گڈ مارننگ کے جواب میں سٹیبن نے غُرّا کر کہا۔
یہ کہتے ہی اُس نے کوٹ کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک چھوٹی سی نوٹ بُک برآمد کی۔ اُس کے اوراق اُلٹے پلٹے اور بُرونو کی طرف قہرآلود نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔ ’’کرایہ نکالو۔‘‘

بُرونو تو غریب پہلے ہی پسینے پسینے ہو رہا تھا۔ اِس جملے نے اُس کی کمر ہی توڑ دی۔
مبہوت اور خوف زدہ ہو کر بری طرح ہکلانے لگا۔

’’مسٹر اسٹیبن، ابھی تو، دیکھیے نا ، آج یکم تاریخ ہے۔
مَیں اِس وقت بالکل خالی ہوں ۔ گھر میں ایک دھیلا تک نہیں۔ کتنے ہی گاہکوں سے رقمیں لینی ہیں۔ تقاضے کر کر کے تھک گیا۔ کوئی نہیں دیتا۔ سب وعدے کر لیتے ہیں۔ بہرحال، آپ اطمینان رکھیے، مَیں ایک ایک پائی چکا دوں گا۔‘‘

’’یہ بات تو تم نے پچھلے مہینے بھی کہی تھی۔‘‘ اسٹیبن نے کسی درندے کی طرح دانت پیستے ہوئے کہا۔
بُرونو جانتا تھا کہ یہودیوں کی عادت ہے کہ جب اُنھیں کسی سے قرض یا رقم وصول کرنی ہو، تو سب تعلقات اور خوش اخلاقی فراموش کر دیتے ہیں۔
اسٹیبن بھی سودخور یہودی تھا۔ اِس پر مستزاد یہ کہ شہر میں اُس کی بہت بڑی جائیداد تھی۔
خود بُرونو اُس کا کرایہ دار تھا۔ اسٹیبن لکھ پتی ہونے کے باوجود کسی کو ملازم نہیں رکھتا تھا، بلکہ خود ہر کرائےدار سے کرایہ وصول کرنے نکلتا تھا۔
اُس کا کہنا تھا کہ وہ ملازم رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

’’دیکھو مسٹر درزی! میرا وَقت بہت قیمتی ہے۔‘‘ اسٹیبن نے کہا۔ ’’کرایہ نکالو۔ مَیں اتنی دیر میں رسید لکھتا ہوں۔‘‘

’’مگر، مَیں عرض کر رہا ہوں کہ اِس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے۔‘‘ بُرونو نے عاجزی سے دانت نکال دیے۔
’’مَیں اتنے عرصے سے آپ کا کرائےدار ہوں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مَیں نے وقت پر کرایہ ادا نہ کیا ہو۔
اب گزشتہ چند مہینوں سے میری حالت خاصی ابتر ہے۔ شہر میں نئے نئے درزیوں کی بہت سی فیشن ایبل دکانیں کھل گئی ہیں، اُنھوں نے میرا کام چوپٹ کر دیا ہے۔
جسے دیکھیے، اُنھی اونچی دکانوں کی طرف بھاگا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ مجھ سے زیادہ تجربےکار نہیں ہیں۔ مَیں جتنے اچھے کپڑے سیتا ہوں، کوئی نہیں سیتا۔ لیکن آج کل زمانہ اور ہے۔
ہر شخص ظاہری ٹِیپ ٹاپ دیکھتا ہے۔‘‘

’’مجھے اِس بکواس سے کوئی دلچسپی نہیں مسٹر بُرونو!‘‘ اسٹیبن نے آنکھیں نکال کر کہا۔
’’مَیں اِس سے زیادہ رِعایت کیا کروں کہ پچھلے ماہ کا کرایہ مَیں نے تمہارے اِس وعدے پر وصول نہیں کیا تھا کہ تم اِس ماہ کی یکم تاریخ کو اکٹھی رقم دے دو گے۔
اگر تمہارا دَھندہ چوپٹ ہو گیا ہے، تو اِس میں میرا کیا قصور ہے؟ یہ دکان خالی کر دو اَور جہاں سینگ سمائیں، وہاں چلے جاؤ۔
مجھ سے زیادہ ہیراپھیری کرنے کی ضرورت نہیں، ورنہ تم جانتے ہو مَیں اتنا اچھا آدمی نہیں ہوں۔‘‘

بُرونو واقعی اچھی طرح جانتا تھا کہ اسٹیبن اچھا آدمی نہیں۔ بہت سے غنڈے اور اَوباش بہت کم معاوضے پر اسٹیبن کے لیے ہر کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے تھے۔
کئی شریف آدمیوں کی وہ سرِبازار توہین کروا چکا تھا، چنانچہ بُرونو نے یہی مناسب سمجھا کہ اسٹیبن سے بحث مباحثہ نہ کرے اور مسکین صورت بنا خاموشی سے اُس کی ڈانٹ ڈپٹ سہ جائے، لیکن اسٹیبن کو بُرونو کی یہ خاموشی پسند نہ آئی۔ جب اُسے جواب نہ ملا، تو وہ پھر غُرّایا۔

’’تم نے سنا نہیں، مَیں نے کیا کہا ہے؟‘‘

بُرونو نے اپنے لبوں پر زبردستی کی مسکراہٹ پھیلاتے ہوئے کہا:

’’مَیں نے سن لیا ہے مسٹر سٹیبن، مگر یقین کیجیے، میرے پاس اِس وقت پھوٹی کوڑی تک نہیں۔ ورنہ آپ کو زحمت نہ ہوتی۔ صرف چند دن کی مزید مہلت دیجیے۔
مَیں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کا سارا کرایہ ادا کر دوں۔ اِس کے علاوہ میرے ذہن میں ابھی ابھی ایک اور بات بھی آئی ہے جسے سُن کر آپ خوش ہو جائیں گے۔ اگر اجازت ہو، تو عرض کروں؟‘‘

اسٹیبن نے بیزار ہو کر بُرونو کو گھورا۔ ’’کیا مطلب ہے تمہارا؟ کون سی ایسی بات ہے جسے سن کر مَیں خوش ہو جاؤں گا؟
مَیں صرف اِسی بات سے خوش ہو سکتا ہوں کہ تم مزید حیل و حجت کے بغیر کرایہ میرے حوالے کر دو؟‘‘

’’اوہو مسٹر اسٹیبن! پہلے میری بات تو سُن لیجیے۔‘‘ بُرونو نے اپنے لہجے کو زیادہ اَہم بنانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
’’اگر آپ خوش نہ ہو جائیں، تو جو چور کی سزا، وہ میری۔ یقین فرمائیے، اِس میں ہم دونوں کا فائدہ ہے۔ آپ بھی خوش ہو جائیں گے اور میرا بوجھ بھی کچھ ہلکا ہو سکے گا۔‘‘

’’میرا خیال ہے اب مجھے تمہاری وہ بات سننی ہی پڑے گی۔‘‘ اسٹیبن نے اُکتا کر کہا۔ ’’اچھا، بولو! کیا کہتے ہو؟‘‘

’’دیکھیے مسٹر اسٹیبن! بات صرف اتنی ہے کہ مَیں گزشتہ کئی مہینوں سے آپ کے بدن پر یہی ایک سوٹ دیکھ رہا ہوں۔
کیا آپ کو احساس نہیں کہ یہ سوٹ کس قدر پرانا اور فرسودہ ہو چکا ہے۔ آپ جیسے امیر لوگوں کو ہمیشہ نئے اور جدید فیشن کے سوٹ زیب تن کرنے چاہئیں۔‘‘

’’یہ کیا بکواس شروع کر دی تم نے؟‘‘ اسٹیبن چلّایا۔ پھر اپنے سوٹ پر نظر ڈالتے ہوئے بولا۔
’’یہ سوٹ فی الحال ٹھیک ٹھاک ہے اور مجھے اِس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی، مگر سوال یہ ہے کہ تمہارا اِس سے کیا واسطہ ہے، مَیں سوٹ پہنوں یا ننگا پھروں۔ تمہیں کیا تکلیف ہے؟‘‘

’’ارے نہیں نہیں، مسٹر اسٹیبن! آپ پہلے میری بات تو سن لیجیے۔‘‘ بُرونو گڑگڑایا۔
’’بخدا، آپ خوش ہو جائیں گے۔ میرے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مَیں آپ کا سوٹ بازار سے نصف نرخ پر تیار کر دوں گا۔
بس آپ اتنا کریں کہ اپنی پسند کا کپڑا مجھے لا دیں۔ ایسا شاندار سوٹ آپ کو سی کر دوں گا کہ جو دیکھے گا، اش اش کرے گا۔
اُس سوٹ میں آپ کی شخصیت کو چار چاند لگ جائیں گے۔ آئیے مَیں ایک چیز آپ کو دکھا دوں۔‘‘

وہ دُکان کے باہر لگے ہوئے شیشے کے ایک شوکیس کی طرف گیا جس میں ایک قدِ آدم انسانی ڈمی سوٹ پہنے کھڑی تھی۔
ڈمی ایک خوبصورت نوجوان کی تھی جس کا قد چھے فٹ کے لگ بھگ ہو گا۔ اُس کے بال سیاہ اور آنکھوں کا رنگ نیلا تھا۔
چہرے پر مونچھیں بھی بڑی نفاست سے بنائی گئی تھیں اور ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ تھی۔ جو سوٹ ڈمی نوجوان کے بدن پر فِٹ کیا گیا تھا، وہ ٹویڈ کا تھا۔

اسٹیبن نے حقارت آمیز نظروں سے پہلے اُس ڈمی اور پھر بُرونو کو دیکھا اور کہنے لگا:

’’معلوم ہوتا ہے، تم پاگل ہو چکے ہو۔ اِدھر اُدھر کی خرافات میں میرا وَقت ضائع کرنا چاہتے ہو۔
مجھے ابھی دو تین جگہوں پر اور بھی رقمیں وصول کرنے جانا ہے۔ اِس لیے جھٹ پٹ کرایہ نکالو۔‘‘

’’آپ نے دیکھا، مسٹر اسٹیبن! اِس ڈمی نے جو سوٹ پہن رکھا ہے، اُس کی تراش خراش کیسی اعلیٰ درجے کی ہے۔‘‘ بُرونو نے سٹیبن کی ناراضی نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔
’’مَیں اِس سے زیادہ بہتر اور عمدہ سوٹ آپ کے لیے تیار کر دوں گا اور بالکل کم قیمت میں۔ آپ کو صرف ایک ماہ کا کرایہ چھوڑنا پڑے گا۔‘‘

اسٹیبن نے نفی میں گردن ہلائی اور کچھ سخت الفاظ کہنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ بُرونو پہلے ہی بول پڑا۔

’’آپ کوئی سا کپڑا بھی پسند کر لیں۔ مَیں اپنا کمال دکھا سکتا ہوں ۔ اور اَگر فی الحال آپ کپڑا بھی خریدنے کے موڈ میں نہیں ہیں، تو یہ مسئلہ بھی مَیں حل کر دوں گا۔
میرے پاس اتفاق سے ایک دو سوٹوں کا کپڑا پڑا ہوا ہے۔ آپ یہ کپڑا ملاحظہ فرما لیں جو نمونہ جی کو بھائے، اُس کا سوٹ سلوا لیں۔‘‘

’’مجھے سوٹ وُوٹ تم سے نہیں سلوانا ہے۔‘‘ اسٹیبن نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ ’’مجھے کسی نئے یا پرانے سوٹ کی ضرورت ہی نہیں اور تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لو کہ مجھے سوٹ کی ضرورت بھی پڑے، تب بھی مَیں تم سے سلوانا پسند نہیں کروں گا۔
تم سے زیادہ ماہرِ فن درزی شہر میں پڑے ہوئے ہیں جو نہ صرف رعایتی نرخوں پر سوٹ تیار کر دیں گے، بلکہ مجھ سے اُجرت بھی قسطوں میں لیں گے۔ بہرحال ، یہ بحث چھوڑو۔ کرایہ نکالو۔‘‘

بُرونو پر سکتے کا عالم طاری تھا۔ وہ وَقفے وقفے سے پلکیں جھپکاتا۔ بےبسی سے منہ کھولتا اور پھر شانے اُچکا کر خاموش ہو جاتا۔ آخر اُس نے اسٹیبن کی شعلہ بار نگاہوں کی تاب نہ لاتے ہوئے کہنا شروع کیا:

’’کاش! آپ میری پیشکش قبول کرتے اور ایک نیا سوٹ سلوا لیتے، تاہم مَیں اِس وقت کرایہ ادا نہیں کر سکتا۔ مجھے کچھ مہلت درکار ہے۔ اگر آپ کہیں گے،تو مَیں اُس مہلت کا سود بھی ادا کر دوں گا۔‘‘

سود کے ذکر پر اسٹیبن کی آنکھوں میں کسی قدر چمک نمودار ہوئی۔ اُس نے نرم آواز میں پوچھا:

’’تمہیں مزید کتنی مہلت درکار ہے اور سُود کیا دو گے؟‘‘

’’مَیں ایک مہینہ مانگتا ہوں اور ڈیوڑھا کرایہ ادا کروں گا۔‘‘

اسٹیبن نے پھر انکار میں گردن ہلائی۔ یہ مہلت زیادہ ہے اور اُس کے مقابلے میں سود کم ہے۔
رقم دوگنی کرو، تو مَیں غور کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

’’دوگنی رقم؟‘‘ بُرونو بدحواس ہو گیا۔ ’’یہ ظلم ہے مسٹر اسٹیبن! آپ خود غور فرمائیے۔ جو شخص کرایہ ہی یک مشت ادا کرنے کے قابل نہ ہو، وہ دُگنی رقم کا سود کہاں سے دے گا؟
مَیں آپ کا پرانا کرائےدار ہوں ۔ مجھ سے رعایت کیجیے۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔ مَیں تمہیں صرف دو ہفتے کی مہلت دے سکتا ہوں۔‘‘ اسٹیبن نے حکم سنایا۔ ’’اور تم صرف پندرہ دِن کا زائد کرایہ ادا کر دینا۔‘‘

’’یہ بھی زیادہ ہے جناب۔‘‘ بُرونو گڑگڑایا۔ ’’مَیں آپ کو صرف ایک ہفتے کا زائد کرایہ دے سکوں گا۔‘‘

’’تب مہلت بھی ایک ہی ہفتے کی ملے گی۔‘‘ اسٹیبن کے لہجے کی سفّاکی واپس آ گئی۔
’’آج کیا دن ہے؟ پیر۔ مَیں اب ہفتے کے روز آؤں گا۔ صبح کے وقت۔ کہیں تم اِس خوش فہمی میں نہ رہنا کہ مَیں ہفتے کی شام کو آؤں گا۔ پس یہ آخری مہلت ہے ، اگر تم نے رقم نہ دی، تو تم جانو گے۔‘‘

’’مگر ہفتے کی صبح تک تو سات دن کی مہلت پوری نہیں ہوتی۔‘‘ بُرونو نے احتجاج کیا۔
’’آپ نے آج کا دن بھی اِسی مہلت میں شمار کر لیا ہے۔‘‘

’’مَیں کچھ نہیں جانتا۔‘‘ اسٹیبن نے زور دَے کر کہا۔ ’’ہفتے کی صبح یاد رَکھنا۔ مَیں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا۔ اگر ہفتے تک رقم کا انتظام تم نہ کر سکو، تو بہتر ہے میرے آنے سے پہلے ہی اپنا سامان باندھ لینا۔
اگر مَیں اِس طرح کرائےداروں کو مہلتیں دیتا رہوں، تو بس چل چکا میرا دَھندا۔‘‘

’’ٹھیک ہے مسٹر اسٹیبن۔ مَیں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کی رقم ادا کر دوں۔‘‘ بُرونو نے مایوس ہو کر گہری آہ بھری۔
اِس دوران اسٹیبن دکان کے دروازے سے باہر جا چکا تھا۔ بُرونو اُس کے جانے کے بعد بھی دیر تک اپنی جگہ گُم صُم کھڑا رَہا۔
پھر غیرشعوری طور پر اپنے آپ سے باتیں کرتا ہوا اُسی کیبن میں واپس آیا جہاں تھوڑی دیر پہلے وہ کپڑے استری کر رہا تھا۔

’’اگر مَیں ہفتے کی صبح تک رقم کا بندوبست نہ کر پایا، تو یہ بےرحم یہودی مزید مہلت نہیں دے گا۔ عین ممکن ہے اپنے کرائے کے بدلے میں میرا یہ سامان بھی اپنے قبضے میں کر لے ۔
لیکن سوال تو یہ ہے کہ اگر رقم کا بندوبست نہ ہو سکا، تو مَیں کہاں جاؤں گا؟ کیا باہر گلی میں رہوں گا؟ مَیں تنہا ہوتا، تو کچھ پروا نہ تھی، مگر میری بیوی بھی تو ہے۔
کیا ہم میاں بیوی اِس قابل ہیں کہ فٹ پاتھوں پر گزر بسر کریں؟‘‘ یہ سوچتے سوچتے بُرونو کی آنکھیں بھر آئیں اور اُس کی خودکلامی لرزنے لگی۔
’’ہاں، یہ ہو سکتا ہے کہ مَیں اپنی سلائی مشین بیچ دوں۔ اِسے بیچنے سے یقیناً اتنی رقم تو مل ہی جائے گی جس سے اسٹیبن کا کرایہ ادا ہو سکے، لیکن،مشین بیچنے کے بعد مَیں کیا کروں گا؟‘‘

اِس سوال کا جواب بُرونو کے پاس نہیں تھا۔ سلائی مشین ہی اُس کے روزگار کا واحد ذریعہ تھی۔
اُس سے محروم ہونے کے بعد وہ آسانی سے نئی مشین بھی نہیں خرید سکتا تھا۔ بلاشبہ بعض ادارے ایسی چیزیں قسطوں پر بھی فراہم کر دیتے ہیں، مگر وہ یہ قسطیں کہاں سے ادا کرے گا؟
جبکہ اُس کا کوئی مستقل ذریعۂ آمدنی ہی نہیں تھا۔ سخت مضطرب اور بےچَین ہو کر وہ کیبن سے باہر نکلا اور شوکیس کے قریب جا کھڑا ہوا۔
غیرارادی طور پر اُس کی نگاہیں ٹویڈ کا بوسیدہ سوٹ پہنے ہوئے انسانی ڈمی پر مرکوز ہو گئیں۔
بُرونو آپ ہی آپ دیوانوں کی طرح ہنسا اور ڈمی سے مخاطب ہو کر بولا:

’’یار! تم میرے بہت پرانے ساتھی ہو ۔ دیکھ رہے ہو کہ اِن دنوں مَیں مصیبت میں گرفتار ہوں۔ کیا پرانی دوستی کا یہی شیوہ ہے کہ تم میرے لیے کچھ نہ کرو؟
گزشتہ تمام برسوں میں مَیں نے تمہاری حفاظت اور دَیکھ بھال پوری ذمےداری سے کی ہے۔ مَیں نے تمہارے رہنے کے لیے یہ آرام دہ اَور خوبصورت شوکیس بنوایا۔ اِن خدمات کے عوض مَیں نے کبھی تم سے کچھ طلب نہیں کیا ہے، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ تم میری مدد کرو۔
جاؤ اِس شوکیس سے باہر نکلو اور میرے لیے اتنی رقم کا انتظام کر کے لاؤ جس میں اُس مکّار سودخور یہودی کا کبھی نہ بھرنے والا دوزخ بھر سکوں۔
دیکھو، مَیں کوئی عذر یا بہانہ نہیں سنوں گا۔ تمہیں میرا کام کرنا ہی پڑے گا۔‘‘

یہ کہتے کہتے وہ یک لخت رو پڑا۔ آنسوؤں کے قطرے اُس کی آنکھوں سے ڈھلکے اور رُخساروں پر سے ہوتے ہوئے زمین پر گر کر جذب ہو گئے۔
پھر وہ بھرّائی ہوئی آواز میں بولا ’’مَیں جانتا ہوں برے وقت کا کوئی ساتھی یا دوست نہیں ہوتا۔
تم ایک بےجان چیز ہو، تم بھلا میری کیا مدد کرو گے۔
مَیں تو اپنی مدد آپ نہیں کر سکا۔‘‘ اُس نے جیب سے میلا سا رومال نکالا اور اَپنے آنسو پونچھے۔
یکایک دکان کے اندر سے ایک آواز اُبھری:

’’بُرونو ….. میرے پیارے شوہر ….. کہاں ہو تم؟‘‘

بُرونو نے جلدی سے اپنا چہرہ ہشاش بشّاش بنانے کی کوشش کی۔ ایک بار پھر رومال سے منہ پونچھا۔
دراصل وہ اَپنے غم میں اپنی بیوی کو خواہ مخواہ شریک کر کے اُسے دکھ پہنچانا نہیں چاہتا تھا۔
بُرونو کو ڈورس سے بڑی محبت تھی۔ اُس کا بس چلتا، تو وہ ڈورس کے لیے زمانے بھر کی خوشیاں خرید لاتا۔ اِس سے پیشتر کہ بُرونو شوکیس سے ہٹ کر دکان میں جائے، ڈورس خود ہی اُدھر آ گئی۔
اُسے دیکھتے ہی بےاختیار پھر بُرونو کی آنکھوں میں آنسو مچلنے لگے، لیکن ہمت کر کے وہ یہ آنسو پی گیا۔
ڈورس اِس عمر میں بھی خاصی حسین و جمیل اور پُرکشش عورت تھی،
لیکن بُرونو جانتا تھا کہ بہت جلد اُس کا یہ حسن ماند پڑ جائے گا اور وُہ وَقت سے بہت پہلے بوڑھی ہو جائے گی۔

’’باہر کھڑے کیا کر رہے تھے؟‘‘ ڈورس نے پوچھا۔ ’’تھوڑی دیر پہلے مَیں نے تمہیں کسی شخص سے باتیں کرتے سنا تھا؟‘‘

’’ہاں، مَیں اِس سے باتیں کر رہا تھا۔‘‘ بُرونو نے ڈمی کی طرف اشارہ کیا۔
’’مگر یہ ایسا بےحس ہے کہ کسی بات کا جواب ہی نہیں دیتا۔ تم جانتی ہو ڈورس، مَیں نے اِس کے لیے کتنی توجہ اور محنت سے کام کیا تھا؟
مَیں نے اِس کے لیے نہ صرف یہ آرام دہ شوکیس بنوایا، بلکہ اِسے ٹویڈ کا بہترین سوٹ بھی خود سی کر پہنایا اور اَب یہ کمینہ میری نہیں سنتا۔
مَیں اتنی دیر اِس سے مغزماری کرتا رہا ہوں، کیا مجال جو پلٹ کر جواب بھی دیا ہو۔‘‘

ڈورس نے تشویش انگیز نظروں سے بُرونو کو دیکھا، پھر ہنس کر بولی:
’’بھلا بےجان ڈمّیاں بھی جواب دیا کرتی ہیں۔ آؤ کھانا تیار ہے۔‘‘

’’مجھے بالکل بھوک نہیں ہے ڈورس، تم کھا لو۔‘‘ بُرونو نے کہا۔

ڈورس کو مزید تشویش ہوئی۔ مسکراہٹ اُس کے لبوں سے غائب ہو گئی۔

’’کیا بات ہے بُرونو! تم بےحد پریشان نظر آتے ہو؟‘‘ اُس نے پوچھا۔ ’’بتاؤ کیا معاملہ ہے؟‘‘

’’ارے  کچھ نہیں۔‘‘ بُرونو نے زبردستی ہنستے ہوئے جواب دیا۔
’’کوئی خاص بات نہیں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے دکان کا مالک کرایہ وصول کرنے آیا تھا۔ ظاہر ہے میرے پاس اُسے دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
وہ ناراض ہونے لگا ۔ آخر بڑی مشکل سے ایک ہفتے کی مہلت اُس سے لے سکا ہوں، بلکہ صحیح تو یہ ہے کہ پورا ایک ہفتہ بھی نہیں۔
وہ سینچر کے روز صبح آئے گا اور اَگر مَیں نے ایک ہفتے کے سود سمیت دو ماہ کا کرایہ ادا نہ کیا، تو …..‘‘

’’تو! پھر کیا ہو گا؟‘‘ ڈورس نے گھبرا کر کہا۔ ’’حالانکہ ہم ہمیشہ اُسے وقت پر کرایہ دیتے رہے ہیں۔‘‘

’’وہ سب کچھ بھول گیا ہے۔‘‘ بُرونو نے کہا۔ ’’مَیں نہیں جانتا۔ وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔
ہو سکتا ہے سامان اٹھا کر باہر پھینک دے ۔بہرحال وہ مالک ہے۔‘‘

دفعتاً دکان کے بیرونی دروازے پر لگی ہوئی گھنٹی بجی۔ بُرونو اور ڈورس نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ ایک طویل القامت شخص کھلے دروازے میں کھڑا تھا۔
بُرونو اور ڈورس کو دیکھ کر وہ باوقار اَنداز میں چلتا ہوا کاؤنٹر کی جانب آیا۔ اُنھوں نے دیکھا کہ اجنبی نہایت وجیہہ آدمی ہے اور اُس نے خاصے قیمتی کپڑے پہن رکھے ہیں۔
اُس کے دائیں ہاتھ میں ایک بھاری چرمی تھیلا بھی تھا جسے اُس نے آہستہ سے کاؤنٹر پر رکھ دیا۔

’’فرمائیے جناب! کیا حکم ہے؟‘‘ بُرونو نے مؤدبانہ طور پر اُس کے آگے گردن خم کرتے ہوئے پوچھا۔
’’مَیں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟‘‘

’’معاف کیجیے۔ کیا آپ ہی اِس دکان کے مالک ہیں؟‘‘ اجنبی نے شُستہ آواز میں پوچھا۔

’’جی ….. جی ….. مَیں ہی ہوں جنابِ والا۔‘‘ بُرونو نے انکساری کا مظاہرہ کیا۔
اجنبی نے سوالیہ نظروں سے ڈورس کو دیکھا۔ بُرونو اُس کی نگاہوں کا مفہوم سمجھ کر جلدی سے بول پڑا:
’’یہ ڈورس ہے جناب ۔ میری بیوی۔ اور مجھے بُرونو کہتے ہیں۔‘‘

اجنبی نے ڈورس کے سامنے ہلکے سے گردن جھکائی اور مسکرایا۔ ’’میرا نام سمتھ ہے۔‘‘

’’جی ….. مسٹر سمتھ ۔ ارشاد فرمائیے، کیسے تشریف لانا ہوا؟‘‘ بُرونو دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ خدا نے اُس کی سن لی اور اَچھا تگڑا گاہک بھیجا۔

’’دیکھیے! ابھی بتاتا ہوں۔‘‘ سمتھ نے ڈورس کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھ کر بُرونو کو دیکھا۔
وہ سمجھ گیا کہ مسٹر سمتھ کوئی ایسی بات کہنے کے خواہش مند ہیں جو ڈورس کے سامنے نہیں کہی جا سکتی، چنانچہ اُس نے ڈورس سے کہا:

’’تم گھر میں چلو ۔ کھانا لگاؤ۔ مَیں تھوڑی دیر بعد آتا ہوں۔‘‘ ڈورس بھی سمجھ گئی کہ بُرونو اُسے گھر میں کیوں بھیج رہا ہے۔
اُس نے گویا اپنے شوہر کی بات سنی ہی نہیں اور وَہیں کھڑی رہی۔ اِس مرتبہ بُرونو نے ذرا سختی سے کہا:
’’ڈورس! تم نے سنا نہیں، مَیں کیا کہہ رہا ہوں؟
بڑی سخت بھوک لگ رہی ہے۔ جا کر کھانا نکالو۔ مَیں چند منٹ میں آتا ہوں۔‘‘

ڈورس یہ کہتے کہتے رک گئی کہ ابھی تو تمہیں بھوک نہیں تھی اور اَب ایک دم سخت بھوک لگ گئی۔
بُرونو پر ناپسندیدگی کی نگاہیں ڈالتے ہوئے وہ وَہاں سے دکان کے عقبی حصّے میں چلی گئی۔
اُس کے جانے کے بعد بُرونو نے اطمینان کا سانس لیا اور مسٹر سمتھ سے کہا:

’’اب آپ بلاتکلف کہیے، کیا کام ہے؟‘‘

مسٹر سمتھ نے زبان کھولنے سے پہلے ایک دو لمحے تامّل کیا، غالباً اُسے مناسب الفاظ نہیں مل رہے تھے۔
آخر اُس نے کھنکار کا گلا صاف کرتے ہوئے کہا:

’’مجھے معلوم ہوا تھا کہ تم ایک ماہرِ فن درزی ہو اَور ہر قسم کا لباس گاہک کی فرمائش اور پیمائش کے مطابق سی سکتے ہو۔ کیا یہ بات درست ہے؟‘‘

’’قطعی درست ہے مسٹر سمتھ!‘‘ بُرونو نے دونوں ہاتھ ملتے ہوئے جواب دیا۔
’’فرمائیے آپ کیا سلوانا چاہتے ہیں؟‘‘

’’صرف ایک سوٹ ، مگر اُس کے لیے کپڑا بھی مَیں خود فراہم کروں گا۔‘‘

’’بہت خوشی کی بات ہے جناب۔‘‘ بُرونو نے جوش سے کہا۔ ’’اگر آپ نے ابھی کپڑا خریدا نہیں ہے، تو مَیں چند اچھے نمونے آپ کو۔‘‘

’’نہیں، نہیں! کپڑا میرے پاس ہے۔ مَیں نے خرید لیا ہے۔‘‘ سمتھ نے جلدی سے کہا۔
’’بہت قیمتی کپڑا ہے اور دوبارہ اُس کا ملنا محال ہو گا۔‘‘

’’بہت خوب!‘‘ بُرونو نے کہا۔ ’’کیا آپ کپڑا اَپنے ساتھ لائے ہیں؟‘‘

مسٹر سمتھ نے کاؤنٹر پر رکھے ہوئے اپنے سیاہ چرمی تھیلے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور یہ دیکھ کر بُرونو ششدر رَہ گیا کہ سمتھ کے دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں ہیرے کی بیش قیمت انگوٹھی جگمگا رہی ہے۔
اِس کا مطلب یہ تھا کہ مسٹر سمتھ بےحد دولت مند آدمی ہے۔ تھیلا کھولنے کے بعد سمتھ نے سیاہ رَنگ کا ایک انتہائی چمک دار کپڑا نکالا جس پر عجیب و غریب نقش و نگار ستاروں سے بنائے گئے تھے۔
یہ ستارے بھی جھلمل جھلمل کر رہے تھے۔
بُرونو نے محسوس کیا کہ کپڑا وَاقعی عمدہ اَور قیمتی ہے۔ وہ مسٹر سمتھ کی شخصیت، اُس کے لباس، اندازِ گفتگو، ہیرے کی انگوٹھی اور اِس لاجواب کپڑے سے اِس قدر مرعوب ہو چکا تھا کہ اُس کے منہ سے بات نہیں نکلتی تھی۔

’’کیسا کپڑا ہے یہ؟‘‘ سمتھ نے پوچھا اور بُرونو نے ڈرتے ڈرتے کپڑے کو چھو کر دیکھا۔
کپڑا ریشم کی مانند ملائم اور ہموار تھا، لیکن بُرونو نے محسوس کیا کہ یہ ریشم کا بنا ہوا نہیں ہے، بلکہ کسی نامعلوم ریشے سے تیار کیا گیا ہے۔ کپڑے میں عجیب سی برقی رو دَوڑ رہی تھی۔

’’مَیں نے اِس سے پہلے ایسا شاندار کپڑا نہیں دیکھا۔‘‘ بُرونو نے آہستہ سے کہا۔
’’اِس میں تو برقی رو سی دوڑ رہی ہے۔‘‘

’’آہا ۔ تم نے برقی رو محسوس کی؟‘‘ سمتھ نے خوش ہو کر پوچھا۔ ’’اِس کی وجہ یہ ہے کہ فضا میں اِس وقت خشکی ہے اور خشکی کے باعث ہی برقی رو پیدا ہو رہی ہے۔‘‘

بُرونو کی عقل میں یہ معمہ نہ آیا کہ فضا کی خشکی سے کپڑے کی برقی رو کا کیا تعلق ہے، تاہم اُس نے جرح نہیں کی۔
وہ اَپنی طرف سے کوئی بات ایسی نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے مسٹر سمتھ کے خفا یا ناراض ہونے کا خدشہ پیدا ہو۔ بُرونو کو اِس گاہک سے بڑی امید تھی کہ وہ سوٹ سلوانے کا بھاری معاوضہ ادا کرے گا۔

’’یہ کپڑا مَیں نے زرِکثیر خرچ کر کے خاص طور پر تیار کرایا ہے۔‘‘ سمتھ نے کہا۔
’’اور اِسے تراشنے اور سینے میں بھی تمہیں بےحد اِحتیاط سے کام لینا ہو گا۔‘‘

’’آپ فکر نہ کیجیے جناب ۔ مَیں کوئی کوتاہی نہ کروں گا۔‘‘ بُرونو نے کہا۔ ’’کسی قسم کی شکایت آپ کو نہ ہو گی۔‘‘

’’ہاں! مَیں بھی یہی چاہتا ہوں۔‘‘ سمتھ نے کہا۔ ’’کپڑا اَگر ایک بار خراب ہو گیا، تو دوبارہ تیار کرنا مشکل ہے۔‘‘

’’مَیں سمجھتا ہوں جناب ، خوب سمجھتا ہوں۔‘‘ بُرونو کے صبر کا پیمانہ چھلک گیا۔ اب آپ مہربانی کر کے اپنا کوٹ اتاریے، تا کہ مَیں آپ کا ناپ لے سکوں۔‘‘

سمتھ نے ہاتھ اُوپر اٹھا کر بُرونو کو روکا اور کہا ’’مَیں اپنا سوٹ سلوانا نہیں چاہتا۔ تمہیں میرے بیٹے کے ناپ کا سوٹ سینا ہو گا۔‘‘

بُرونو حیرت سے سمتھ کی صورت تکنے لگا۔ ’’میرا خیال تھا آپ اپنا سوٹ سلوائیں گے۔ بہرحال، جیسا آپ حکم دیں۔ مَیں آپ کے بیٹے کا سوٹ سی دوں گا۔ وہ کب تک اپنا ناپ دے سکیں گے اور سوٹ کب تک سل کر تیار ہو جانا چاہیے؟‘‘

’’وہ اَپنا ناپ دینے کے لیے یہاں نہیں آ سکے گا۔‘‘ سمتھ نے سنجیدگی سے کہا۔
’’تمہیں محض اندازے سے سوٹ سینا ہو گا۔‘‘

بُرونو کی حیرت اب انتہا کو پہنچ رہی تھی۔ اُس نے منہ کھول کر اور آنکھیں نکال کر کہا :
’’بغیر ناپ کے مَیں سوٹ کیونکر سی سکتا ہوں جنابِ والا؟ اور پھر آپ فرماتے ہیں کہ کپڑا بھی بےحد قیمتی ہے۔ اگر ایک بار ضائع ہو گیا، تو دوسرا تیار ہونا محال ہے۔ اِس صورت میں …..‘‘

’’یہ مسئلہ بھی مَیں حل کر چکا ہوں۔‘‘ سمتھ نے جیب سے تہ کیا ہوا ایک کاغذ نکالتے ہوئے کہا۔
اُس نے کاغذ کی تہیں کھول کر اُسے کاؤنٹر پر پھیلا دیا۔ بُرونو نے دیکھا کہ اُس کاغذ پر عجیب عجیب شکلیں بنی ہوئی ہیں۔
بعض ٹیڑھے میڑھے خطوط ہیں جو ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں۔ کہیں دائرے بنے ہوئے ہیں، کہیں زاویے اور کہیں کہیں مثلثیں۔
پھر کسی نامعلوم زبان کے بےشمار حروف ہیں جو اُس کاغذ پر باریک قلم سے سیاہ چمکیلی روشنائی کے ساتھ تحریر کیے گئے ہیں۔

’’مَیں نے اپنے بیٹے کے بدن کا ناپ اِس کاغذ پر درج کر رکھا ہے۔‘‘ سمتھ نے کہا۔ ’’مَیں تمہیں بھی سمجھائے دیتا ہوں۔‘‘

بُرونو نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔ سمتھ کی آواز اُس کے کان میں آ رہی تھی۔
’’کاغذ پر درج ہدایات کے عین مطابق تمہیں سوٹ تیار کرنا ہو گا۔
سلائی کا سارا کام، بٹن تک تم اپنے ہاتھ سے کرو گے۔ یاد رَکھو ایک بخیہ بھی مشین کا نہ ہو۔ یہ مشین کا کام ہی نہیں۔
خبردار! مَیں پھر واضح کیے دیتا ہوں کہ سارا سوٹ بٹنوں سمیت ہاتھ کی سلائی سے تیار ہونا چاہیے۔ کیا تم وعدہ کرتے ہو کہ سلائی کی مشین استعمال نہ کرو گے؟‘‘

’’مگر ….. جناب ….. ہاتھ کی سلائی آپ کو بہت مہنگی پڑے گی۔‘‘
بُرونو نے کہا۔ ’’مشین کے ذریعے کام جلدی بھی ہو جاتا ہے اور اُس میں نفاست بھی ہوتی ہے۔‘‘

’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے مَیں جانتا ہوں۔‘‘ سمتھ نے مضطرب ہو کر کہا۔
’’لیکن یہ سوٹ تم اپنے ہاتھ سے سیو گے، مشین سے ہرگز نہیں۔
جہاں تک سلائی کی اجرت کا سوال ہے، جو کہو گے مَیں بخوشی ادا کر دوں گا۔ بتاؤ کیا لو گے؟‘‘

بُرونو سخت مخمصے میں گرفتار ہو گیا۔ وہ سارا کام مشین ہی کی مدد سے کرتا تھا۔ پورا سوٹ ہاتھ سے سینے کا کبھی اتفاق ہی نہیں ہوا تھا۔ کیا اُجرت بتائی جائے؟

’’کیا خیال ہے، دو سو پاؤنڈ کی رقم قبول کر لو گے؟‘‘

بُرونو غش کھاتے کھاتے بچا۔ اُس نے خود کو سنبھالنے کی پوری کوشش کی، لیکن پھر بھی منہ حیرت سے کھل ہی گیا۔

’’دو سو پاؤنڈ جناب؟‘‘

’’ہاں، ہاں! دو سو پاؤنڈ۔‘‘ سمتھ نے کہا۔ ’’اگر یہ اجرت کم ہے، تو مزید پچاس پاؤنڈ لے لینا۔ یہ خاصی معقول رقم ہے۔‘‘

بُرونو کو اَپنے کانوں پر دھوکا ہونے لگا۔ کہیں وہ سہانا سپنا تو نہیں دیکھ رہا؟ لیکن نہیں یہ سہانا سپنا ہرگز نہیں تھا۔
خدا نے بُرونو کی مشکل آسان کر دی تھی اور مسٹر سمتھ کی صورت میں ایک فرشتہ بُرونو کی مدد کے لیے بھیج دیا تھا۔ بُرونو کا بس نہیں چلتا تھا، ورنہ وہ اِس احسان کے عوض مسٹر سمتھ کے پاؤں چوم لیتا۔

’’ہاں بھئی تو کیا فیصلہ ہے تمہارا؟ ڈھائی سو پاؤنڈ معاوضہ مناسب رہے گا یا مَیں کسی اور دَرزی کے پاس جاؤں؟‘‘

’’مَیں آپ کا بےحد ممنون ہوں جناب۔‘‘ بُرونو نے بھرّائی ہوئی آواز میں کہا۔ ’’یہ معاوضہ میری توقع سے بہت زیادہ ہے۔‘‘

’’بس تو پھر طے ہو گیا۔‘‘ سمتھ نے خوش ہو کر کہا۔ ’’ذرا محنت سے کام کرنا ….. اور اَب وہ ہدایات غور سے سنو جن کے تحت تمہیں یہ سوٹ سینا ہے۔‘‘

’’فرمائیے! مَیں پوری طرح توجہ سے سن رہا ہوں۔‘‘ بُرونو نے کہا۔

سمتھ کاغذ پر کھینچی ہوئی شکلیں اور عبارتیں پڑھ رہا تھا۔ آخر اُس نے کہا:

’’مجھے علمِ فلکیات سے خاصی دلچسپی ہے اور مَیں نے اِس علم کا گہرا مطالعہ کیا ہے ….. کاغذ پر بنی ہوئی یہ شکلیں، اُس علم کا ایک حصّہ ہیں۔
تم جانتے ہی ہو گے کہ ستاروں کے اثرات انسان کی زندگی اور شخصیت پر پڑتے ہیں۔ یہ اثرات نیک بھی ہوتے ہیں اور بد بھی۔ انسان اگر یہ علم سیکھ لے، تو ستاروں کے بَد اثرات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
علاوہ ازیں بےشمار کام ایسے بھی سرانجام دے سکتا ہے جو اِنسانی عقل و خرد سے باہر ہیں۔ شاید تم میری بات سمجھ رہے ہو …..؟‘‘

’’جی ہاں، جی ہاں ….. سمجھ رہا ہوں۔‘‘ بُرونو نے احمقانہ انداز میں گردن ہلائی، حالانکہ اُس کے پلّے کچھ نہیں پڑا تھا۔

’’بہرحال مَیں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔‘‘ سمتھ نے اُسے اطمینان دلایا۔ ’’دراصل مَیں اپنے بیٹے کا سوٹ بھی اِسی علم کے تحت تیار کرانا چاہتا ہوں، لہٰذا ضروری ہے کہ تم اِن ہدایات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لو اَور اِس کام میں ذرا بھی غلطی نہ ہونے پائے، ورنہ ساری محنت اکارت جائے گی۔‘‘

’’مَیں قسم کھاتا ہوں کہ آپ کی ہدایات پر پورا پورا عمل کروں گا۔‘‘ بُرونو نے کہا۔

سمتھ نے وہ کاغذ بُرونو کے حوالے کرتے ہوئے کہا ’’اِس کی پشت پر تمام ہدایات درج ہیں۔ اِنھیں بار بار پڑھ لو اور جب کبھی بھولو، تو یہ کاغذ سامنے رکھ لینا۔
اِسی کاغذ میں میرا پتا بھی لکھا ہے ۔ اب یہ بتاؤ کہ سوٹ کب تک مکمل ہو جائے گا؟‘‘

بُرونو نے انگلی اور اَنگوٹھے کے ذریعے حساب لگاتے ہوئے کہا ’’آج پیر کا دن ہے، اگر مَیں آج ہی رات سے کام شروع کر دوں، تو مجھے یقین ہے کہ یہ سوٹ جمعے کی شب تک تیار ہو جائے گا۔
اِن ہدایات کے تحت مَیں دن میں کام نہیں کر سکتا۔ اِس لیے مجبوری ہے، ورنہ سوٹ تو جمعے سے بھی پہلے تیار ہو سکتا ہے۔ بہرکیف ….. یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ سوٹ کی سلائی رات ہی کو ہونی چاہیے۔‘‘

’’اِسے سمجھنا تمہارے فرائض میں داخل نہیں مسٹر بُرونو!‘‘ سمتھ نے کسی قدر برہم ہو کر کہا۔ ’’یہ ستاروں کا حساب کتاب ہے۔
اب مَیں چلتا ہوں اور ہاں، سوٹ جس دم تیار ہو جائے، معمولی تاخیر کیے بغیر میرے پاس لے کر آ جانا، خواہ آدھی رات ہی کا وقت ہو۔ بھولنا مت۔‘‘

’’بہت بہتر جناب ….. مَیں ایسا ہی کروں گا۔‘‘ بُرونو نے کہا اور سمتھ کو دروازے تک رخصت کرنے آیا۔

بُرونو واقعی بےحد خوش تھا کہ ایسا گاہک مدتوں بعد پھنسا جو محض ایک سوٹ کی سلائی پر ڈھائی سو پاؤنڈ کی خطیر رقم دینے کا وعدہ کر گیا تھا۔
اُس نے بےپایاں مسرّت سے ہاتھ ملتے ہوئے اپنے آپ سے کہا:
’’امیر لوگ عموماً ایسے ہی ہوتے ہیں ، خبطی ، بھلا ستاروں کی چال ڈھال کے مطابق بھی کسی درزی نے آج تک کپڑے سیے ہوں گے؟
لیکن یہ دیوانہ ایسی حرکت کر رہا ہے۔ اپنے بیٹے کا سوٹ سلوانا چاہتا ہے۔  بہرحال مجھے اِس سے کیا غرض مَیں تو کام کروں گا اور دَام کھرے کر لوں گا۔‘‘

وہ اَپنے خیالات اور خودکلامی میں ایسا گم تھا کہ اُسے ڈورس کے دوبارہ آنے کی بھی خبر نہ ہوئی۔
ڈورس کے آنے کی وجہ یہ تھی کہ اُس نے دکان کے پچھواڑے بنے ہوئے دو چھوٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل مکان میں سے دکان کی گھنٹی بجنے کی آواز پھر سن لی تھی۔
اُسے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ گاہک واپس جا چکا ہے۔

دراصل جب سمتھ آیا تھا اور بُرونو نے ڈورس کو زبردستی کھانا نکالنے کے بہانے گھر واپس بھیجا تھا، وہ تب سے خاصی بےچَین تھی اور جاننا چاہتی تھی کہ سمتھ اور بُرونو میں کیا بات چیت ہوئی ہے۔
ڈورس کو دیکھتے ہی بُرونو نے دبے دبے جوش سے کہا:

’’لو بھئی، ساری مصیبتیں دور ہو گئیں۔ مجھے ایک سوٹ کی سلائی کا کام مل گیا ہے۔‘‘

لیکن ڈورس پر اِس خوشخبری کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اُس کا چہرہ حسبِ عادت سنجیدہ رَہا۔
اُس نے ایک ایک لفظ پر زور دَیتے ہوئے اپنے شوہر سے پوچھا:

’’بُرونو! یہ اجنبی شخص کون تھا؟‘‘

بُرونو تو حیرت زدہ رَہ گیا۔ اُسے ایسے احمقانہ سوال کی ڈورس سے توقع نہ تھی۔

’’کون تھا؟‘‘ اُس نے کسی قدر ناراض ہو کر کہا۔ ’’گاہک تھا ۔ ایک سوٹ سلوانا چاہتا تھا، اپنے بیٹے کے لیے۔ کپڑا بھی ساتھ لایا ہے ۔ ڈھائی سو پاؤنڈ اُجرت ۔‘‘

’’کیا نام تھا، اُس شخص کا؟‘‘ ڈورس نے بُرونو کی بات کاٹتے ہوئے درشت لہجے میں کہا۔

’’سمتھ!  یہی نام بتایا تھا اُس نے۔‘‘ بُرونو کی حیرت بڑھتی جا رہی تھی۔
’’آخر معاملہ کیا ہے؟ معلوم ہوتا ہے تم خوش نہیں ہو؟‘‘

’’اور یہ کیا ہے؟‘‘ ڈورس نے کاؤنٹر پر پڑے ہوئے اُس کاغذ کی طرف اشارہ کیا جس پر عجیب و غریب شکلیں اور نقشے بنے ہوئے تھے۔

’’یہ وہ ہدایات ہیں جن کے مطابق مجھے سمتھ کے بیٹے کے لیے سوٹ سینا ہے۔‘‘

ڈورس نے بڑھ کر وہ کاغذ اٹھا لیا اور اُسے پڑھنے لگی۔
اُس کے چہرے پر تشویش کے آثار نمودار ہوئے۔ ایک دو ثانیے اپنے شوہر کی طرف تکنے کے بعد وہ بولی:

’’بُرونو! میری بات مانو، تو یہ کام واپس کر دو ۔ اِس میں ضرور کچھ گڑبڑ ہے ۔
مجھے احساس ہو رہا ہے کہ ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہونے والے ہیں۔‘‘

بُرونو کو ڈورس کی یہ بات سن کر تاؤ آ گیا۔ ڈورس کو کیا ہو گیا ہے۔ ایسی بےوقوفانہ باتیں اُس نے پہلے تو کبھی نہیں کی تھیں۔

’’کیا کہتی ہو تم؟ غالباً اپنے حواس میں نہیں ہو اِس وقت۔‘‘ بُرونو نے جھلّا کر کہا۔
’’مسٹر سمتھ مجھے سوٹ کی سلائی کا معاوضہ ڈھائی سو پاؤنڈ ادا کریں گے ۔ ڈھائی سو پاؤنڈ ۔
ذرا سوچو، تو کتنی بڑی رقم ہے۔
ہم اُس رقم سے نہ صرف دو ماہ کا کرایہ اسٹیبن کو ادا کریں گے، بلکہ ضرورت کی کئی چیزیں بھی بازار سے خرید لیں گے ۔ اور تم کہتی ہو مَیں یہ کام نہ کروں ….. آخر کیوں؟ کوئی وجہ؟‘‘

’’وجہ اور سبب تو مَیں نہیں جانتی، مگر میرا دِل کہتا ہے یہ شخص کچھ اچھا آدمی نہیں۔‘‘
ڈورس نے کہا۔ ’’تم یہ سوٹ نہ سینا اور اُس کا کپڑا وَاپس کر دو۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔ مَیں ایسا کرنے کو تیار ہوں، لیکن ہفتے کی صبح وہ بدمعاش یہودی کرایہ مانگنے آئے، تو تم خود جواب دہی کر لینا۔
مَیں اُس کے سامنے نہیں جاؤں گا۔ دیکھتا ہوں تم کیا کرو گی؟ یقیناً وہ کمینہ میری سلائی مشین اٹھوا کر لے جائے گا اور بعدازاں ہمارا بوریا بستر باہر گلی میں پھنکوا دَے گا ۔
لہٰذا میری پیاری بےوقوف بیوی! مَیں یہ سوٹ سینے پر مجبور ہوں ….. اور آج ہی سے مجھے کام شروع کر دینا ہے ۔
ہو سکتا ہے مَیں ساری رات کام کروں کہ یہ ہاتھ کی سلائی کا معاملہ ہے۔
اِس لیے تم پھر گھر جاؤ اور کھانا گرم کرو۔ کھانے کے بعد مجھے گرم گرم قہوے کی بھی ضرورت پڑے گی۔‘‘

کھانا کھا کر بُرونو اپنے کام پر بیٹھ گیا۔ اُس نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ وعدے کے مطابق سوٹ تیار کر کے سمتھ کو اُس کے دیے ہوئے پتے پر پہنچا دے گا۔
رات کے وقت سلائی کا کام کیے ہوئے اُسے عرصۂ دراز ہو چکا تھا۔ کام اتنا تھا ہی کہاں کہ وہ رَات کو بھی بیٹھا کرتا۔ یہاں تو دن ہی کے لالے پڑے ہوئے تھے۔
بہرحال وہ اَپنے گھر سے لیمپ اٹھا کر دکان میں لے آیا۔
مشین کی سلائی کا کام ہوتا، تو وہ یہ سوٹ ایک ہی رات میں تیار کر دیتا، لیکن مشین کا استعمال ممنوع تھا اور سارا کام اُسے ہاتھ ہی سے کرنا تھا۔

کاغذ پر درج ہدایات کے مطابق اُسے صبح پانچ بجے تک مسلسل کام کرنا تھا اور پانچ بجتے ہی ہاتھ روک لینا تھا۔ اِس لیے وہ بار بار گردن اٹھا کر دیوار پر لگے پرانے کلاک کو دیکھ لیتا۔
گھنٹے نے جُوں ہی پانچ بجائے، ایک لحظے کے لیے بُرونو نے اپنا ہاتھ روک لیا، مگر یہ سوچ کر کہ ایک طرف کی سلائی مکمل ہونے میں ذرا سی دیر لگے گی، اُسے پورا ہی کر کے اٹھا جائے۔
اُس نے سوئی سے پھر ٹانکے لگانے شروع کر دیے، لیکن ابھی پہلا ہی ٹانکا لگا رہا تھا کہ سوئی نہ جانے کیسے اُس کی انگلی میں چبھ گئی۔ بُرونو کے منہ سے بےاختیار چیخ نکل گئی۔

اُس نے جھٹ سوئی انگلی سے نکالی ۔
سرخ سرخ خون کا ایک قطرہ بُرونو کی انگلی پر اُبھر رہا تھا جسے اُس نے فوراً ہی ایک پرانے چیتھڑے سے صاف کر دیا۔

اُس نے دوبارہ کلاک کی طرف دیکھا۔ پانچ بج کر ایک منٹ ہو چکا تھا۔ بُرونو نے سوئی دھاگا ایک طرف رکھ دیا اور اِطمینان کا گہرا سانس لیا۔
اُس انگلی میں ٹیس کی ہلکی ہلکی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ اُسے تعجب تھا کہ سوئی ٹھیک پانچ بجے انگلی میں چبھی۔
’’کیا یہ اتفاق تھا یا …..؟‘‘ اُس کے ہونٹوں پر آپ ہی آپ مسکراہٹ آ گئی۔ ’’مجھے اِس وہم میں نہیں پڑنا چاہیے۔ سوئی کسی بھی لمحے چبھ سکتی ہے۔ کام ہی جو ایسا ہے ۔
اُس نے خود کو تسلی دی۔

آستین کی تھوڑی سی سلائی ابھی باقی تھی اور وُہ اُسے ختم ہی کرنا چاہتا تھا، چنانچہ اُس نے ایک بار پھر سوئی دھاگا اُٹھا لیا اور ٹانکا لگانا چاہا ۔
بُرونو کے حلق سے دوسری چیخ نکلی۔ سوئی پھر اُس کی انگلی میں بری طرح چُبھی تھی۔ بُرونو درد کی شدت سے بےتاب ہو کر دوہرا ہو گیا۔
یکایک مکان کی طرف سے دروازہ کھول کر ڈورس دکان میں داخل ہوئی۔ یقیناً اُس کے کانوں تک بُرونو کے چیخنے کی آواز پہنچ گئی تھی۔

’’کیا ہوا؟ کیا بات ہے؟‘‘ ڈورس نے بدحواس ہو کر بُرونو سے پوچھا۔ ’’کیوں چیخ رہے تھے؟‘‘

’’کک ….. کچھ نہیں ….. کچھ نہیں ….. یونہی ذرا اُنگلی میں سوئی چبھ گئی تھی۔‘‘ بُرونو نے کھسیانی ہنستی ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ’’جاؤ، سو جاؤ۔‘‘

ڈورس نے گردن گھما کر کلاک کی طرف دیکھا۔’’کچھ خبر بھی ہے تمہیں؟ صبح کے پانچ بج چکے ہیں۔‘‘

’’ہاں، ہاں! مجھے خبر ہے۔‘‘ بُرونو ایک دم جھلّا گیا۔ ’’خبر ہے مجھے ….. لیکن ہدایات یہی تھیں کہ مَیں صبح کے پانچ بجے تک کام کیا کروں گا اور پانچ بجے کے بعد کام بند کر دوں گا۔
مَیں نے سوچا تھوڑی سی سلائی ایک طرف کی رہ گئی ہے۔ اُسے پورا کر کے ہی اٹھوں کہ اتنے میں سوئی انگلی میں چبھ گئی۔ یہ دیکھو ….. خون تک نکل آیا ہے …..
ویسے مجھے حیرت اِس بات پر ہے کہ کوئی بیس پچیس برس بعد یہ واقعہ پیش آیا ….. جن دنوں مَیں نیا نیا کام سیکھنے بیٹھا تھا، اُن دنوں سوئی چبھی تھی یا پھر آج …..‘‘

ڈورس نے جھک کر بےحد تشویش انگیز نظروں سے بُرونو کی اُس انگلی کا معائنہ کیا جس میں سوئی چبھی تھی۔ خود بُرونو کو تعجب تھا کہ دوسری بار بھی سوئی عین اُسی جگہ چبھی جہاں پہلے چبھی تھی۔
اِس مرتبہ اُسے خون پونچھنا یاد نہ رہا۔ اُس کی انگلی پر باریک ….. سوراخ میں سے خون کے قطرے ابل رہے تھے۔

’’خدا کی پناہ ….. بُرونو! تمہاری انگلی میں سے تو خون نکل رہا ہے اور تمہیں احساس تک نہیں؟‘‘
ڈورس نے دہشت زدہ ہو کر کہا۔ بُرونو نے جلدی سے خون پونچھ دیا۔ پھر منہ بنا کر بولا:

’’تم تو بات بات پر بدحواس ہو جاتی ہو۔ معمولی سی چیز ہے۔ سوئی آخر چبھ ہی جاتی ہے۔
مَیں کام کرتے کرتے تھک چکا تھا، اِس لیے غفلت کے باعث سوئی چبھ گئی۔ اِس میں اِتنا خوف زدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘

’’نہ معلوم کیوں میرا دِل گھبرا رَہا ہے۔‘‘ ڈورس نے کہا۔ ’’ضرور ہم کسی آفت میں پھنسنے والے ہیں۔‘‘

’’پھر وہی بکواس …..‘‘ بُرونو نے چڑ کر کہا۔ پھر اُس نے دکان کی کھڑکی میں سے باہر جھانکا۔ صبح صادق کا اجالا سڑک پر پھیل رہا تھا اور مکانوں کی چھتوں پر سورج کی پہلی کرنیں رقص کر رہی تھیں۔
بُرونو نے کپڑا اِحتیاط سے لپیٹ کر ایک طرف رکھا اور اُٹھ کر ہلکی سی انگڑائی لی۔ نیند سے اُس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں۔

’’اب مَیں جی بھر کر سوؤں گا۔‘‘ اُس نے اعلان کیا اور لڑکھڑاتا ہوا دُکان کے پچھلے حصّے سے گزر کر اَپنے مکان میں داخل ہو گیا۔

بستر پر لیٹ کر وہ فوراً سو جانا چاہتا تھا، لیکن یوں لگا جیسے اُسے کبھی نیند نہیں آئے گی۔ وہ سونے جاگنے کی کیفیت میں مبتلا ہو کر کروٹیں بدلتا رہا۔
اِس دوران میں کئی ڈراؤنے خواب بھی بُرونو کو دکھائی دیے۔ ہر خواب کے بعد جھٹکے سے اُس کی آنکھ کھل جاتی ….. اُسے محسوس ہوتا کہ دل دھک دھک کر رہا ہے …..
وہ ڈورس کو پکارنے کی کوشش کرتا، مگر حلق سے آواز ہی نہ نکلتی۔

دو رَاتیں وہ برابر کام کرتا رہا۔ کاغذ پر درج ہدایات کے مطابق وہ دِن کے اجالے میں کام نہیں کر سکتا تھا۔ اُس پر لازم تھا کہ وہ رَات کے ٹھیک بارہ بجے سلائی شروع کر دے اور صبح پانچ بجے تک کرتا رہے۔
پانچ بجنے کے بعد اُسے ہر صورت میں کام چھوڑ دینا تھا۔
ابتدا میں یہ عجیب و غریب کپڑا تراشتے اور سیتے ہوئے بُرونو کے بدن میں انوکھی کپکپی سی طاری رہتی۔ اُسے یوں لگتا جیسے یہ کپڑا نہیں، کسی زندہ جانور کی کھال ہے اور اِس میں زندگی کی حرارت اور حرکت موجود ہے۔

پھر جب صبح ہونے کے بعد وہ رَات کا تھکاماندہ بستر پر سونے کے ارادے سے لیٹتا، تو اُسے بھیانک خواب نظر آتے۔ ایک بار تو اُس نے یہی کپڑا دَیکھا جو آہستہ آہستہ ایک بڑے سے درندے میں تبدیل ہو گیا۔
پھر یہ درندہ منہ کھول کر بُرونو کو ہڑپ کرنے کے ارادے سے آگے بڑھا اور بُرونو ایک دم ہولناک چیخ مار کر اُٹھ بیٹھا۔

ڈورس بھاگتی ہوئی آئی اور اُس نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ بُرونو نے اُسے ٹال دیا کہ کچھ نہیں خواب میں ڈر گیا تھا۔ بُرونو کو اِن ڈراؤنے خوابوں کی کوئی پروا نہ تھی۔
اُسے یہ بھی احساس نہ تھا کہ رات رات بھر سلائی کرنے سے اُس کی صحت تیزی سے گر رہی ہے۔ آنکھوں میں ویرانیاں ہی ویرانیاں بس گئی تھیں اور وُہ شیو کرنا بھی بھول چکا تھا۔
ایک دو بار ڈورس نے اُسے توجہ دلائی، لیکن اُس نے سنی اَن سنی کر دی۔
وہ جلد از جلد سوٹ کی سلائی ختم کر کے سمتھ سے ڈھائی سو پاؤنڈ کی رقم وصول کرنا چاہتا تھا اور اُسے یقین تھا کہ جمعے کی شب تک کام مکمل کر کےوہ یہ رقم حاصل کر لے گا۔
اِس طرح وہ ہفتے کی صبح کو سٹیبن کے منہ پر دو ماہ کا کرایہ مار سکتا ہے۔

پانچویں رات اُس نے سوٹ میں آخری ٹانکا لگایا اور کام ختم کر لیا۔ اُس وقت وہ تھکن سے بےحال ہو رہا تھا۔ آنکھوں کے پپوٹے سُوج چکے تھے اور دونوں شانوں میں درد کی ٹیسیں رہ رَہ کر اُٹھتی تھیں۔
تاہم اُسے روحانی طور پر تسکین مل رہی تھی کہ کام وقت پر ختم ہو گیا۔ یہ بُرونو کی زندگی کا ایک نرالا تجربہ اور اِمتحان تھا جس میں وہ کامیاب رہا۔
اب اُسے فکر ہوئی کہ جلد از جلد سلا ہوا سوٹ سمتھ کے گھر پہنچا کر اَپنی اجرت وصول کرے۔

اُس رات ڈورس بھی بُرونو کے ساتھ ہی جاگتی رہی اور جب سوٹ مکمل ہوا، تب ڈورس نے بھی اطمینان کا سانس لیا۔ اُسے اپنے شوہر کی ظاہری حالت دیکھ کر رنج ہو رَہا تھا۔
بُرونو نے فاتحانہ نظریں سلے ہوئے سوٹ پر ڈالیں اور ڈورس سے کہا:

’’اِس کپڑے سے دو دو ہاتھ کرنا میرا ہی کام تھا۔ یقین کرو اِس کام میں میری ہڈیاں چٹخ گئی ہیں۔ اب اندازہ ہوتا ہے کہ اُجرت کی رقم ڈھائی سو پاؤنڈ کچھ زیادہ نہیں۔‘‘

’’خدا کا شکر ہے یہ منحوس سوٹ تیار ہو گیا۔‘‘ ڈورس نے منہ بنا کر کہا۔ ’’ذرا آئینے میں اپنی صورت تو دیکھو۔‘‘

بُرونو نے آئینے میں خود کو دیکھا اور بھونچکا رہ گیا۔ آئینے میں جو چہرہ اُسے نظر آ رہا تھا، وہ اُس کا اپنا چہرہ ہرگز نہیں تھا۔
اندر کو دھنسی ہوئی زرد بےجان ….. بےنور آنکھیں، پچکے ہوئے گال اور گالوں کی ہڈیاں اُبھری ہوئیں۔ چار دِن کی بڑھی ہوئی بےہنگم ڈاڑھی اور مونچھیں۔ گھبرا کر بُرونو نے منہ پھیر لیا۔
وہ یہ شکل زیادہ دَیر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اُس نے جھٹ پٹ سوٹ تہہ کرنا شروع کیا۔

ڈورس نے کہا ’’اِسے استری تو کر لو، پھر سمتھ کے پاس لے جانا۔‘‘

لیکن بُرونو نے جواب دیا ’’استری نہیں ہو گی۔ سمتھ نے یہی ہدایت دی ہے کہ استری نہ کرنا۔‘‘

اُس نے ایک بڑے سے لفافے میں سوٹ بند کر کے بغل میں دبایا اور کاغذ پر درج مسٹر سمتھ کے گھر کا پتا پڑھنے کے بعد جانے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
حالانکہ اُس وقت رات کے دو بج رہے تھے۔ ڈورس نے اُسے روکتے ہوئے کہا:

’’کیا یہ وقت کسی شریف آدمی کے گھر جا کر اُسے جگانے کا ہے؟ صبح چلے جانا۔‘‘

’’نہیں ….. ہرگز نہیں ….. مَیں ابھی جاؤں گا۔ مسٹر سمتھ نے سختی سے کہا تھا کہ جونہی سوٹ سِل کر تیار ہو، ایک سیکنڈ کی تاخیر کیے بغیر پہنچا دیا جائے۔
پھر یہ تو سوچو کہ صبح ہی وہ کمینہ یہودی آن مرے گا، اپنا کرایہ لینے کے لیے ….. مَیں جا رہا ہوں۔ تم دروازہ بند کر لو۔‘‘

’’معلوم ہوتا ہے تم پاگل ہو چکے ہو۔‘‘ ڈورس نے زور سے کہا۔ ’’رات کے دو بج رہے ہیں۔ تمام بازار سنسان پڑے ہوں گے۔
کوئی تمہیں چور اُچکا سمجھ کر گرفتار نہ کر لے۔ میری بات مانو، تو ذرا ٹھہر کے چلے جانا۔ سمتھ سے کہہ دینا کہ سوٹ چار بجے کے لگ بھگ تیار ہوا تھا۔‘‘

’’مَیں کہتا ہوں راستے سے ہٹ جا بےوقوف عورت ….. ورنہ مَیں تیرا سر پھاڑ دوں گا۔‘‘ بُرونو وحشیانہ انداز میں چلّایا اور دُکان کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
وہ اِتنی جلدی میں تھا کہ اُس نے اپنا گرم کوٹ بھی پہننے کی ضرورت محسوس نہ کیا۔ ڈورس دروازے میں کھڑی اُسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی اور بُرونو چل نہیں رہا تھا، دوڑ رہا تھا۔

گلیاں اور سڑکیں تاریکی میں ڈوبی ہوئی اور سنسان پڑی تھیں۔ فضا میں دھند اَور خنکی اتنی تھی کہ دوڑنے کے باوجود بُرونو کا بدن برف ہو گیا۔
اب اُسے پہلی بار اِس حماقت کا احساس ہوا کہ اُس نے گرم کوٹ نہیں پہنا تھا۔ خیال آیا کہ واپس جا کر کوٹ پہنے، لیکن سوٹ سمتھ تک پہنچانے اور ڈھائی سو پاؤنڈ کی رقم وصول کرنے کی فکر میں اُس نے واپس گھر جانے کا خیال ذہن سے جھٹک دیا اور اَپنی رفتار تیز کر دی۔
سڑکوں پر اگرچہ فاصلے فاصلے سے برقی لیمپ روشن تھے، لیکن زبردست دُھند کے باعث اُن کی روشنی صرف کھمبوں کے اردگرد ہی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔
بُرونو تو برسوں بعد ایسے وقت گھر سے باہر نکلا تھا اور اُسے تعجب ہوا کہ رات کا سناٹا بھی کیسا بھیانک ہوتا ہے۔ حد یہ کہ کوئی آوارہ کتا بھی اُس پر نہیں بھونکا اور نہ گشت کرنے والے کسی سپاہی سے اُس کی ابھی تک مڈبھیڑ ہوئی۔

ایک کھمبے کے پاس رک کر اُس نے ہانپتے ہوئے اپنی مٹھی میں دبا ہوا وُہ کاغذ کھولا جس میں سمتھ کے گھر کا پتا درج تھا۔ لیمپ کی مدھم روشنی میں بُرونو نے پتا پڑھنے کی کوشش کی، مگر حروف رقص کرتے ہوئے غائب ہو گئے۔ بُرونو نے نگاہ جما کر عبارت پڑھنا چاہی، لیکن ہر بار حروف آنکھ مچولی کھیلنے لگتے۔
تاہم اٹکل سے کام لے کر وہ پتا یاد کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ سمتھ کا گھر زیادہ دُور نہیں تھا، تاہم سڑکیں ویران اور خالی ہونے کے باعث اُسے یہی لگا کہ خاصی دور جگہ ہے۔

معاً اُس نے اپنے عقب میں کسی گاڑی کی آواز سنی۔ وہ رُک گیا اور پلٹ کر دیکھنے لگا۔ یہ ایک ٹیکسی تھی جو آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اُسی کی طرف آ رہی تھی۔
پھر ڈرائیور نے بُرونو کے قریب پہنچ کر بریک لگائی اور کھڑکی کا شیشہ نیچے کر کے سر باہر نکالا:

’’کیوں مسٹر ….. کہاں جانا ہے؟‘‘

بُرونو نے آہستہ سے اُسے سمتھ کے گھر کا پتا بتایا اور ٹیکسی میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ اُسے یاد آیا کہ جیب میں تو کچھ ہے ہی نہیں، ٹیکسی کا کرایہ کہاں سے دے گا، چنانچہ وہ جلدی سے ایک طرف ہو گیا۔ ڈرائیور نے پوچھا:

’’کیا بات ہے؟‘‘

تب بُرونو نے اُسے بتایا کہ اُس کی جیب خالی ہے اور وُہ پیدل ہی چلا جائے گا۔ ڈرائیور نے اوپر سے نیچے تک بُرونو کا جائزہ لیا، پھر ہمدردانہ لہجے میں بولا:

’’کوئی بات نہیں، مَیں بھی اُدھر ہی جا رہا ہوں۔ تمہیں راستے میں اتار دُوں گا۔ مسٹر سمتھ کا مکان اُدھر ہی ہے۔‘‘

بُرونو اِس غیبی مدد پر حیران رہ گیا۔ زیادہ غور کرنے کا وقت نہ تھا۔ چند لمحے بعد ٹیکسی ڈرائیور نے اُسے ایک جگہ اتار دیا اور بُرونو کو خدا حافظ کہہ کر رخصت ہو گیا۔

بُرونو نے گرد و پیش کا جائزہ لیا۔ دور دُور تک کوئی فرد وَ بشر دکھائی نہ دیتا تھا۔ شہر کے اِس حصّے میں وہ پہلے کبھی نہ آیا تھا اور اَگر آیا بھی تھا، تو اب اُسے قطعی یاد نہ تھا۔
بہرحال دکانوں کے سائن بورڈ پڑھنے کے بعد اُسے معلوم ہو گیا کہ یہ کون سی جگہ ہے۔ یہ وہی سڑک تھی جس کا نام کاغذ میں درج تھا۔
سڑک کے پہلوؤں میں دو طرفہ مکانوں کی قطاریں حدِ نظر تک چلی گئی تھیں۔ اِس علاقے میں غیرمعمولی طور پر گہری کُہر پڑ رہی تھی۔

بُرونو نے ایک ایک کر کے مکانوں کے نمبر دیکھنے شروع کیے۔ گھومتے گھومتے بالآخر وہ اَیسے علاقے میں پہنچ گیا جہاں متوسط درجے کے لوگ رہتے تھے۔
جابجا غلاظت اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پڑے تھے اور یہیں پہلی بار بُرونو کا استقبال آوارہ کتوں نے بھونک بھونک کر کیا۔ کتوں سے بچنے کے لیے وہ اَندھادھند ایک گلی میں گھس گیا۔
پہلے ہی مکان کے باہر ایک گڑھے میں پانی بھرا تھا۔ بُرونو اُس گڑھے میں جا گرا۔ خیر گزری کہ اُس نے سوٹ کا بنڈل بچا لیا۔
کوشش کر کے وہ گڑھے سے باہر نکلا، سامنے ہی مکان کا نمبر سفید جلّی حروف میں بند دروازے پر لکھا تھا۔ بُرونو یہ نمبر دیکھ کر ساری تکلیف بھول گیا۔ اِسی مکان کا نمبر کاغذ پر درج تھا۔

جلدی سے سیڑھیاں چڑھ کر وہ دَروازے کے نزدیک پہنچ گیا اور برقی گھنٹی کے بٹن پر انگلی رکھ دی۔ مکان کے اندرونی حصّے میں گھنٹی بجنے کی آواز بھی اُس نے سنی۔
ایک منٹ گزر گیا۔ کوئی دروازہ کھولنے نہ آیا۔ بُرونو کے اضطراب اور بےچینی میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا تھا۔ اُس نے دوبارہ گھنٹی بجائی۔
یکایک دروازہ کھل گیا اور بُرونو کو یہ جاننے میں دقت نہ ہوئی کہ دروازہ کھولنے والا مسٹر سمتھ کے علاوہ اَور کوئی نہ تھا۔ سمتھ نے شب خوابی کا لباس پہن رکھا تھا ۔
اُس کے ہاتھ میں قدیم وضع کا شمع دان تھا جس میں ایک موم بتی روشن تھی۔ موم بتی کی روشنی میں ہیرے کی وہ اَنگوٹھی اب بھی جگمگا رہی تھی جو سمتھ کی انگلی میں بُرونو پہلے دیکھ چکا تھا۔

سمتھ نے بُرونو کو پہچاننے کی کوشش میں شمع دان ذرا اُوپر کیا اور اُس پر نگاہ پڑتے ہی خوش ہو کر بولا:

’’آہا ….. یہ تم ہو مسٹر بُرونو؟ سوٹ تیار ہو گیا؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘ بُرونو نے ہانپتے ہوئے جواب دیا۔ ’’جونہی کام مکمل ہوا، مَیں حسبِ ارشاد آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔‘‘

’’بہت خوب ….. بہت خوب۔‘‘ سمتھ نے کہا۔ ’’تم اپنے وعدے کے پورے نکلے۔ آؤ، آؤ اندر آ جاؤ۔‘‘

بُرونو ایک تنگ لمبی سی ڈیوڑھی میں داخل ہوا۔ مکان کے اندر گرد و غبار کی ناگوار بُو پھیلی ہوئی تھی اور جا بجا مکڑیوں نے جالے تان رکھے تھے۔
بُرونو کو حیرت ہوئی کہ اِس قدر مالدار ہونے کے باوجود مسٹر سمتھ ایسے گندے اور چھوٹے مکان میں رہتے ہیں۔

’’بس میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔‘‘ سمتھ نے اونچی آواز میں کہا۔ ایک تاریک ہال کمرے سے گزر کر وہ دونوں ایک چھوٹے سے تنگ کمرے میں پہنچ گئے۔
یہاں کمرے کے وسط میں ایک بھاری میز اور ایک پرانی کرسی کے سوا کچھ نہ تھا۔ کمرے کی چھت اور دِیواروں پر مدتوں سے روغن نہیں ہوا تھا اور مکڑیوں کے جالے تو اِس قدر تھے کہ بیان سے باہر۔ دیواریں اور کھڑکیاں تک گرد و غبار میں اَٹی ہوئی تھیں۔
میز اور کرسی کے علاوہ ایک اور چیز بھی کمرے میں بُرونو کو کچھ دیر بعد نظر آئی۔
یہ لکڑی کی ایک اونچی الماری تھی جس میں اوپر سے نیچے تک کتابیں ٹھنسی ہوئی تھیں۔ اُن کتابوں پر بھی مکڑیوں کے جالے صاف دکھائی دیتے تھے۔

سمتھ نے شمع دان میز پر رکھ دیا۔ بُرونو نے دیکھا کہ میز پر بھی ایک بڑی ہی پرانی اور حددرجہ بوسیدہ کتاب کھلی رکھی ہے۔
کتاب کے اوراق کا رنگ گہرا زرد تھا اور اُس کے سیاہ حروف گردشِ لیل و نہار کے زیرِاثر خاصے مدھم پڑ چکے تھے۔ بُرونو نے اپنے جسم میں تھرتھری سی چھوٹتے محسوس کی۔
وہ گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ نہ جانے کیوں اُسے یہ کتاب دیکھ کر ڈر لگ رہا تھا، حالانکہ اِس میں بظاہر ڈرنے کی کوئی بات بھی نہ تھی۔

’’ہاں بھئی! تم کہتے ہو سوٹ ہر طرح تیار ہو چکا ہے؟‘‘ سمتھ نے پوچھا۔

بُرونو نے زبان سے جواب دینے کے بجائے اثبات میں گردن ہلا دینا مناسب جانا ۔
پھر یہ سوچ کر کہ شاید گردن ہلا دینے سے مسٹر سمتھ کی تسلی نہ ہو، اُس نے کہنا شروع کیا:

’’جنابِ والا! یہ انتہائی دشوار کام ثابت ہوا ….. یقین کیجیے مَیں مسلسل پانچ رَاتیں جاگتا رہا ہوں …..‘‘

’’تم نے میری دی ہوئی ہدایات پر پوری طرح عمل کیا یا نہیں؟‘‘ سمتھ نے اُس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔

’’قطعی طور پر جنابِ والا۔‘‘ بُرونو نے فوراً جواب دیا۔ ’’آپ کے احکام کی پوری پوری تعمیل کی گئی ہے۔ کاغذ پر درج ہدایات بھی مَیں نے ذہن نشین کر لی تھیں۔‘‘

’’شاباش ….. مَیں یہ جان کر خوش ہوا۔‘‘ سمتھ نے کہا۔ ’’تم نہیں جانتے مسٹر بُرونو کہ یہ سوٹ میرے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے ….. اور میرا بیٹا اِسے دیکھ کر کس قدر خوش ہو گا۔‘‘

’’بےشک جناب، بےشک!‘‘ بُرونو نے احمقوں کی طرح دانت نکال دیے۔ ’’مگر ….. آپ کا بیٹا کہاں ہے؟ وہ ابھی میرے سامنے اِسے پہن کر دیکھ لیتا، تو مجھے اطمینان ہو جاتا۔‘‘

’’میرا بیٹا؟‘‘ سمتھ نے جیسے خود سے سوال کیا۔ ’’ہاں، ہاں ….. وہ ….. میرا بیٹا ….. وہ یہیں ہے ….. لیکن تمہیں اِس معاملے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں …..
اگر تم نے دیے گئے ناپ کے عین مطابق سوٹ سیا ہے، تو وہ میرے بیٹے کے جسم پر فِٹ آ جائے گا۔ اچھا اب مہربانی کر کے سوٹ میرے حوالے کر دو تاکہ مَیں اِسے دیکھ سکوں۔‘‘

بُرونو نے بغل میں بنڈل بدستور دَبائے رکھا۔ پھر آہستہ سے ہچکچاتے ہوئے بولا
’’آپ نے فرمایا تھا مسٹر سمتھ کہ سوٹ تیار ہوتے ہی اُجرت فوراً ادا کر دی جائے گی۔ اب آپ ڈھائی سو پاؤنڈ کی رقم میرے حوالے کیجیے۔‘‘

ایک ثانیے کے لیے سمتھ کے چہرے پر ناگوار اَثرات نمودار ہوئے، پھر وہ کچھ یاد کر کے مسکرایا۔

’’ارے ہاں ….. بلاشبہ تمہاری اجرت تمہیں ضرور دِی جائے گی۔ بالکل فکر مت کرو ….. مجھے خوب یاد ہے کہ تم سے ڈھائی سو پاؤنڈ کی رقم ہی طے ہوئی تھی۔
بس اتنی تکلیف اور کرو کہ کل یا پرسوں مجھے اپنا بِل بجھوا دَینا ….. مَیں رقم ادا کر دوں گا۔ اِس وقت میرے پاس کچھ نہیں …..
سارا رُوپیہ بینک میں پڑا ہے۔ مجھے اگر معلوم ہوتا کہ تم واقعی جمعے کی شب دو بجے آ جاؤ گے، تو مَیں بینک سے رقم نکلوا کر رکھتا۔‘‘

اور یہ جملے کہتے ہی سمتھ نے سوٹ وصول کرنے کے لیے بُرونو کی طرف دونوں ہاتھ بڑھا دیے۔
مگر بُرونو ایک قدم پیچھے ہٹ گیا اور بنڈل زیادہ سختی سے بغل میں دبا لیا۔

’’نہیں جناب ….. آپ نے اُس وقت یہ طے نہیں کیا تھا، بلکہ یہ کہا تھا کہ سوٹ تیار ہوتے ہی آپ کے پاس فوراً پہنچا دیا جائے۔ خواہ وَقت کچھ ہی ہو اَور اُجرت اُسی لمحے ادا کر دی جائے گی۔
اب آپ فرماتے ہیں کہ یہ رقم کل پرسوں ملے گی ….. مجھے رقم کی ابھی اور اِسی وقت ضرورت ہے۔ جس طرح مَیں نے اپنا وعدہ پورا کیا، آپ کو بھی اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔
شاید مَیں ایک دو دِن مزید انتظار کر لیتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے دکان اور مکان کا دو ماہ کا کرایہ ادا کرنا ہے۔‘‘

سمتھ برابر یوں مسکراتا رہا جیسے بُرونو کوئی دل خوش کُن فیصلہ سنا رہا ہو۔ لیکن جب اُس نے دیکھا کہ اُجرت وصول کیے بغیر بُرونو سلا سلایا سوٹ دینے پر راضی نہیں ہے، تو اُس کے تیور بدل گئے۔
اُس نے انتہائی حقارت آمیز کرخت لہجے میں بُرونو سے کہا:

’’مجھے افسوس ہے کہ تم خواہ مخواہ بدمزگی پیدا کر رہے ہو ….. کیا تمہیں مجھ جیسے شریف آدمی کی بات پر یقین نہیں آتا؟ مَیں تمہیں اُجرت ادا کرنے سے کب مکر رہا ہوں۔
صرف ایک دو دِن کی مہلت ہی تو مانگ رہا ہوں۔ تم نے میرا مکان بھی دیکھ لیا ہے۔
کل پرسوں آن کر رقم لے جانا ….. مَیں کہیں بھاگا تو نہیں جاتا ….. مہربانی کر کے سوٹ میرے حوالے کر دو۔‘‘

اب بُرونو نے خوش اخلاقی اور عاجزی بالائےطاق رکھ دی اور بپھر کر بولا:

’’مسٹر سمتھ! مَیں نے اِس کام پر بہت محنت کی ہے اور محض اِس لیے کی ہے کہ مجھے رقم کی فوری ضرورت ہے، ورنہ ہاتھ کی سلائی کا کام مَیں اب نہیں کرتا …..
آپ مجھے مردِ معقول نظر آئے۔ اِس لیے مَیں نے پیشگی اجرت لیے بغیر آپ کا کام کر دیا اور اَب آپ ٹال مٹول کر رہے ہیں۔
بہرحال آپ اچھی طرح سمجھ لیں کہ جب تک مجھے رقم نہ ملے گی، مَیں یہ سوٹ آپ کو نہیں دوں گا۔ آپ خاصے امیر کبیر آدمی ہیں …..
ڈھائی سو پاؤنڈ کی رقم آپ جیسے امیروں کے ہاں ہر وقت موجود رہتی ہے۔ البتہ مَیں ایک دو روز کی مہلت بھی آپ کو ایک خاص شرط پر دے سکتا ہوں۔‘‘

بُرونو کے ذہن میں اچانک ہی یہ بات آ گئی تھی اور اُس نے اُس سے فائدہ اُٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔

’’کون سی شرط ہے وہ؟‘‘ سمتھ نے پوچھا۔ ’’اگر میرے امکان میں ہوا، تو مَیں منظور کر لوں گا۔‘‘

’’آپ اپنی یہ انگوٹھی میرے حوالے کر دیجیے۔‘‘ بُرونو نے ہیرے کی انگوٹھی کی طرف اشارہ کیا۔ ’’رقم دے کر انگوٹھی واپس لے لیجیے گا۔‘‘

سمتھ نے چونک کر انگوٹھی پر نگاہ ڈالی۔ ’’یہ انگوٹھی؟‘‘ وہ بےاختیار قہقہہ مار کر ہنس پڑا۔ پھر اُس نے انگلی میں سے انگوٹھی اتار کر میز پر پھینک دی۔
’’اگر تم یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھنا چاہتے ہو، تو مجھے قطعاً انکار نہیں، لیکن مَیں تمہاری سادہ لوحی سے فائدہ نہ اُٹھاتے ہوئے یہ واضح کر دوں کہ تم غالباً اِس میں جڑے ہوئے چمک دار پتھر کو ہیرا سمجھ رہے ہو …..
حالانکہ یہ ہیرا نہیں ہے ….. ایک دو کوڑی کا خوش نما پتھر ہے اور بس۔‘‘

بُرونو کھسیانا ہو کر بولا۔ ’’دو کوڑی کا خوش نما پتھر ہیرے کی طرح جگ مگ نہیں کرتا جناب۔ یہ یقیناً ہیرا ہے۔‘‘

’’اگر ہیرا ہے، تو بڑے شوق سے تم لے سکتے ہو۔‘‘ سمتھ نے کہا۔
’’مَیں پھر کہتا ہوں کہ یہ محض رنگ دار شیشہ ہے۔ البتہ کسی زمانے میں اِسی انگوٹھی کے اندر اَصلی ہیرا بھی جڑا ہوا تھا، مگر مجھے بعض اشد ضرورتوں کے تحت وہ ہیرا فروخت کرنا پڑا۔
مجھے اپنا کام جاری رکھنے کے لیے خاصی بڑی رقم کی ضرورت پڑ گئی تھی۔‘‘

’’آپ کیا کام کرتے ہیں؟‘‘ بُرونو کی دلچسپی میں اضافہ ہونے لگا۔

سمتھ مسکرایا۔ ’’مَیں کیا کام کرتا ہوں، یہ تم نہیں سمجھ سکتے۔
میز پر پڑی یہ قدیم بوسیدہ کتاب دیکھ رہے ہو؟ یہی خریدنے کے لیے مجھے اپنا بیش قیمت ہیرا اَونے پونے داموں نکالنا پڑا تھا۔‘‘

بُرونو نے حیرت سے کتاب پر نگاہ ڈالی اور منہ بنا کر بولا
’’آپ مذاق کرتے ہیں مسٹر سمتھ۔ اِس ردی کتاب کے لیے آپ نے اتنا قیمتی ہیرا بیچ ڈالا۔‘‘

’’ہاں، ہاں! مَیں سچ کہتا ہوں۔ تم اِس کتاب کی قدر و قیمت سے چونکہ ناواقف ہو، اِس لیے میری بات تمہاری کھوپڑی میں نہیں سما سکتی۔
مَیں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب حاصل کرنے میں اگر مجھے لاکھ دو لاکھ پاؤنڈ بھی خرچ کرنے پڑ جاتے، تو اُس سے ہر گز دریغ نہ کرتا۔ یہ کتاب نہیں، حقیقت میں بہت بڑا خزانہ ہے۔‘‘

بُرونو کو اَب سمتھ کی دماغی حالت درست ہونے میں شبہ ہو رہا تھا۔ یہ شخص واقعی پاگل ہے۔ اُس نے سوچا۔ سمتھ کی تقریر جاری تھی۔

’’میرا یہ مکان بےشمار قیمتی اور نادر اَشیاء سے بھرا پڑا تھا اور اَپنے شوق کی تکمیل کے لیے مَیں نے ایک ایک کر کے یہ ساری چیزیں بیچ دیں۔
تم تصوّر بھی نہیں کر سکتے کہ میرے پاس کیا کچھ تھا۔ ہیرے، سونے کے زیور، پرانی اور نایاب تصویریں ….. اور طرح طرح کے عجائبات۔
مَیں نے صرف یہ کتاب حاصل کرنے کے لیے اُن سب چیزوں کو بھی قربان کر دیا تاکہ مَیں اپنے بیٹے کے لیے کچھ کر سکوں۔ وہ بیٹا جو مجھے اپنی جان اور مال و دَولت سے بھی عزیز ہے۔‘‘

’’تم جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘ بُرونو ایک دم چلّایا۔ اب وہ ’آپ‘ سے ’تم‘ پر اتر آیا تھا۔
’’مجھے تمہاری اِس بکواس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میری رقم مجھے دو اَور اَپنا سوٹ لے لو۔ مَیں تمہارے کسی نئے فریب میں آنے کو تیار نہیں ….. سمجھے۔‘‘

اِس دوران میں بُرونو کی نظر کمرے کے شمالی گوشے میں بنے ہوئے ایک چھوٹے سے بند دروازے پر پڑی۔

’’اُدھر کیا ہے؟‘‘ بُرونو نے پوچھا۔

سمتھ اِس سوال پر بدحواس ہو گیا۔ ’’اُدھر کچھ نہیں ہے۔‘‘ اور یہ کہتے ہی وہ لپک کر دروازے کی قریب جا کھڑا ہوا۔
شاید وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ بُرونو اُدھر جانے کا ارادہ رَکھتا ہے۔ سمتھ کی اِس حرکت پر بُرونو کے ذہن میں مزید شکوک نے جنم لیا۔ اُس نے جرأت کر کے دروازے کی طرف قدم بڑھایا۔

’’میرا خیال ہے تم نے اُدھر کچھ نہ کچھ رقم ضرور کہیں چھپا رکھی ہو گی۔‘‘

’’ٹھہرو! کدھر جاتے ہو؟‘‘ سمتھ کا پارہ بھی چڑھ گیا۔ ’’تمہیں میرے مکان کی تلاشی لینے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ اِس کے ساتھ ہی سمتھ نے بُرونو کو زور سے پیچھے دھکیل دیا۔
’’مَیں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خالی کمرا ہے۔ اِس میں کوئی چیز نہیں۔‘‘

لیکن بُرونو اُس وقت اپنے آپ میں نہ تھا۔ اُس نے جواباً سمتھ کو دھکا دیا اور دَروازے کی ناب گھما کر ایک ہی جھٹکے سے دروازہ کھول دیا۔ سمتھ حلق پھاڑ کر چیخا:

’’خبردار! کمرے کے اندر قدم نہ رکھنا۔‘‘

مگر بُرونو اِس اثنا میں اندر دَاخل بھی ہو چکا تھا۔ وہاں جو منظر اُس نے دیکھا، وہ اُس کے ہوش اڑا دینے کے لیے بہت تھا۔
کمرے کے وسط میں لکڑی کا بنا ہوا ایک تابوت دھرا تھا اور تابوت کے چاروں کونوں پر لمبی لمبی سفید موم بتیاں جل رہی تھیں۔
جونہی دروازہ کھول کر بُرونو اندر گیا، ہوا کا ایک جھونکا بھی اُس کے ساتھ آیا اور موم بتیوں کی اونچی اونچی لَو بھڑکنے لگی، پھر ساکن ہو گئی۔
بُرونو حیرت اور دَہشت کی مِلی جُلی نظروں سے تابوت دیکھ رہا تھا۔ اُس نے اپنے عقب میں سمتھ کی آواز سنی، وہ اِنتہائی پُراسرار مدھم لہجے میں کہہ رہا تھا:

’’خدا کے لیے ….. مَیں تم سے التجا کرتا ہوں ….. یہاں سے چلے جاؤ۔‘‘

سمتھ کی یہ التجا قطعی نظرانداز کرتے ہوئے بُرونو نے غیراختیاری طور پر ایک قدم اور آگے بڑھایا۔ یہاں تک کہ وہ تابوت کے بالکل قریب جا کھڑا ہوا۔
بُرونو کا طویل ….. بھیانک سایہ ….. لرزتا ….. کانپتا سایہ سامنے دیوار پر پڑ رہا تھا۔ خود بُرونو کی نگاہ جب اپنے ہی سائے پر پڑی، تو وہ ڈر گیا۔
اُس کا سایہ آہستہ آہستہ فرش سے اٹھتا ہوا کمرے کی چھت تک پہنچ رہا تھا۔ بُرونو نے محسوس کیا کہ سمتھ اُس کے عین پیچھے موجود ہے، لیکن اُس نے سمتھ کی پروا کیے بغیر تابوت کے اندر جھانکا۔

ہلکی سی چیخ بُرونو کے منہ سے نکلی اور وُہ تھرتھر کانپنے لگا۔ اُس نے دیکھا کہ تابوت کے اندر ایک نوجوان کی لاش پڑی ہے۔
لاش کا اوپری نصف حصّہ, پیٹ سے لے کر چہرے تک برہنہ تھا اور بقیہ حصّے پر سفید کپڑا پڑا ہوا تھا۔ نوجوان کی آنکھیں بند تھیں اور اُس کے دونوں بازو سینے پر بندھے تھے۔
لاش کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد اَور سُوکھا ہوا تھا جیسے اُس کا خون نچوڑ لیا گیا ہو ….. اُس کے رخساروں اور ہونٹوں پر عجیب طرح کے نیلے نیلے نشان تھے۔

بُرونو تمام تر دہشت کے باوجود لاش پر سے نظریں نہ ہٹا سکا۔ اُس نے اپنے عقب میں سمتھ کی آواز دوبارہ سنی۔ وہ سرگوشی کرتے ہوئے کہہ رہا تھا:

’’تم یہ معاملہ نہیں سمجھ سکتے ….. ہرگز نہیں سمجھ سکتے …..
اِسی لیے مَیں تم سے کہتا تھا کہ کمرے میں نہ جاؤ ….. یہ سوٹ مَیں نے اِسی کے لیے سلوایا تھا ….. یہی میرا بیٹا ہے۔‘‘

’’مَیں سب کچھ سمجھ گیا ہوں مسٹر سمتھ۔‘‘ بُرونو نے مڑ کر نفرت آمیز نگاہوں سے سمتھ کو گھورا۔ ’’اب مَیں سب کچھ سمجھ گیا ہوں۔ تم نہایت سفّاک قاتل ہو۔‘‘

’’نہیں، نہیں ….. مَیں قاتل نہیں ہوں ….. مَیں نے اپنے بیٹے کو قتل نہیں کیا۔‘‘
سمتھ نے ہانپتے ہوئے کہا۔ اُس کی پیشانی اور چہرہ پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔

’’تم ہی اِس کے قاتل ہو۔‘‘ برونو غرّایا۔ ’’اور اَگر تم قاتل نہیں ہو، تو پھر بتاؤ اِسے کس نے ہلاک کیا ہے؟‘‘

’’مَیں نے اِسے نہیں مارا ….. تین ہفتے پہلے یہ خود مر گیا تھا۔‘‘ سمتھ نے کہا۔

’’تین ہفتے پہلے!‘‘ بُرونو نے حیرت سے پوچھا۔ ’’اور تم نے اُس وقت سے اب تک اِسے یہیں ….. تابوت میں ڈال رکھا ہے۔ تم پاگل تو نہیں ہو؟‘‘

’’یہ میرا بیٹا ہے۔‘‘ سمتھ نے کہا۔ ’’میرا اِکلوتا بیٹا ….. بےشک یہ مر چکا ہے، لیکن مَیں اِسے زندہ کروں گا ….. مَیں اِسے زندہ کر سکتا ہوں۔‘‘

بُرونو نے مایوس ہو کر گردن ہلائی، تاہم اُس کا اندرونی خوف بڑھتا جا رہا تھا۔
اُسے یقین ہو چکا تھا کہ سمتھ ضرور پاگل ہو چکا ہے، ورنہ تین ہفتے تک گھر میں بیٹے کی لاش رکھنے کے کیا معنی ہیں؟
اُس نے پھر لاش پر نگاہ ڈالی۔ چہرے پر زخموں کے نیلے نیلے نشانات سے یہ اندازہ کرنا دشوار نہ تھا کہ اِس نوجوان کو تشدّد کے ذریعے ہلاک کیا گیا ہے۔

’’کیا کبھی مرے ہوئے بھی زندہ ہوئے ہیں سمتھ؟‘‘ بُرونو نے آہستہ سے کہا۔

’’اگر نہیں ہوئے، تو اب مَیں زندہ کر کے دکھاؤں گا۔‘‘ سمتھ نے یکایک وحشیانہ قہقہہ لگایا۔
’’مَیں اپنے بیٹے کو زندہ کروں گا۔‘‘

’’کیسے؟ کیونکر؟‘‘ بُرونو کے منہ سے نکل گیا۔

’’اُس کتاب کے ذریعے!‘‘ سمتھ نے کہا۔ ’’وہی کتاب جو تم نے دوسرے کمرے میں میز پر دیکھی ہے اور یہ سوٹ بھی مَیں نے تم سے اِس مقصد کے لیے سلوایا ہے۔‘‘

’’لاؤ یہ سوٹ مجھے دے دو۔‘‘ سمتھ چلّایا۔ ’’یہ میرے بیٹے کا سوٹ ہے ….. وہ اِسے پہنے گا، تو زندہ ہو جائے گا۔‘‘

’’ہرگز نہیں۔‘‘ بُرونو اُس سے زیادہ اُونچی آواز میں چیخا۔ ’’جب تک تم مجھے ڈھائی سو پاؤنڈ کی رقم نہ دو گے، یہ سوٹ میرے ہی قبضے میں رہے گا۔‘‘

سمتھ کا چہرہ لال بھبھوکا ہو گیا۔ آنکھیں حلق سے باہر اُبل آئیں اور ہونٹوں کے کناروں سے جھاگ بہنے لگا۔

’’کتیا کے بچے! تم یوں نہیں مانو گے۔‘‘ وہ دَرندے کی طرح دانت نکال کر غرّایا۔ پھر اُس نے شب خوابی کے گاؤن کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک چھوٹا سا سیاہ رَنگ کا ریوالور نکال لیا۔
’’اب دیکھتا ہوں تم میرے بیٹے کا سوٹ میرے حوالے کیسے نہیں کرتے۔ لاؤ یہ سوٹ مجھے دے دو، ورنہ …..‘‘

سمتھ نے ریوالور سے بُرونو کا نشانہ لیا۔ بُرونو کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ سمتھ یوں اچانک ریوالور نکال لے گا …..
لیکن اب موت کا بھیانک خطرہ اُس کے سر پر منڈلا رہا تھا۔ اُسے احساس تھا کہ سمتھ ضرور گولی چلا دے گا۔ دفعتاً اُس کے ذہن کے کسی گوشے سے بچاؤ کی تدبیر نکلی .
اِس سے پہلے کہ سمتھ، بُرونو کی حرکت سے خبردار ہو، بُرونو نے بغل میں دبایا ہوا تھیلا پوری قوت سے سمتھ کے منہ پر پھینک دیا۔ سمتھ گھبرا کے پیچھے ہٹا، لیکن بُرونو چیتے کی طرح سمتھ پر چھلانگ لگا چکا تھا۔
آناً فاناً دونوں گتھم گتھا ہو گئے۔
بُرونو نے سمتھ کا وہ ہاتھ پکڑ لیا جس میں ریوالور دَبا ہوا تھا۔ سمتھ بےتحاشا گلیاں بکتے ہوئے اپنا ہاتھ بُرونو کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر بُرونو خوب جانتا تھا کہ اگر اُس نے سمتھ کا ہاتھ چھوڑ دیا، تو سمتھ اُسے کبھی زندہ نہیں چھوڑے گا،
چنانچہ بُرونو نے اپنی پوری جسمانی قوت بروئے کار لاتے ہوئے سمتھ کا وہی ہاتھ اِس طرح مروڑا کہ ریوالور اُس کی ہتھیلی سے چھوٹ کر پرے جا گرا، تاہم اِس کوشش میں وہ اَپنا توازن برقرار نہ رکھ پایا اور سمتھ اُس کی گرفت سے نکل گیا۔
پلک جھپکنے میں سمتھ نے فرش پر پڑا ہوا ریوالور دوبارہ اُٹھا لیا اور بُرونو پر فائر کرنے ہی والا تھا کہ بُرونو کا گھونسا سمتھ کی کنپٹی پر پڑا اَور اُس نے لپک کر سمتھ کا وہی ہاتھ پھر اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا۔

سمتھ دیوانہ وار خود کو چھڑانے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ اُس کی انگلی ریوالور کے ٹریگر پر آئی اور اُسی لمحے بُرونو نے سمتھ کی کلائی موڑ دی۔
اب ریوالور کی نالی سمتھ کا سینہ چھو رہی تھی۔ بُرونو نے زوردار جھٹکا دیا، ٹریگر پر دبی ہوئی سمتھ کی انگلی خودبخود حرکت میں آئی۔
کمرے میں بیک وقت فائر کے دھماکے اور سمتھ کے حلق سے نکلنے والی لرزہ خیز چیخ کی آواز گونجی اور ختم ہو گئی۔ بُرونو نے دیکھا کہ سمتھ کے سینے سے خون کا فوّارہ اُبل رہا ہے۔ خون کے چھینٹے بُرونو کے چہرے اور کپڑوں کو داغدار کر گئے۔

وہ بدحواس ہو کر اُچھلا اور پرے جا کھڑا ہوا۔ زیادہ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ تھا۔ بُرونو نے جھپٹ کر فرش پر ایک جانب پڑا ہوا تھیلا اٹھایا جس میں سوٹ رکھا تھا۔ پھر وہ کھلے دروازے سے گزر کر اُس کمرے میں آیا جہاں میز پر وہ پرانی بوسیدہ سی کتاب دھری تھی۔
اُسے یاد آیا کہ سمتھ نے اِس کتاب کے بارے میں کیا کہا تھا۔ غیراختیاری طور پر بُرونو نے کتاب اٹھا کر تھیلے کے ساتھ بغل میں دبائی اور کمرے سے بھاگتا ہوا باہر آیا۔
ہال میں سناٹا اور تاریکی تھی۔ چھلانگیں لگاتا ہوا وُہ ڈیوڑھی میں پہنچا اور پھر مکان کے دروازے سے نکل گیا۔ دور تک سڑک سنسان پڑی تھی۔
پچھلے پہر کی کُہر نے ہر چیز کو اَپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور بُرونو اُس تاریکی اور دُھند میں لپٹا ہوا اَندھادھند بھاگ رہا تھا۔

ویران اور تاریک سڑک پر اندھادھند بھاگتے ہوئے ایک دو بار بُرونو نے مڑ کر دیکھا۔ اُسے وہم تھا کہ شاید سمتھ مرا نہیں اور اَب اُس کے تعاقب میں آ رہا ہے، لیکن گہری دھند میں لپٹی ہوئی سڑک پر بُرونو کو اَپنے سوا کوئی ذی روح دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
اُس کی بغل میں دبا ہوا سوٹ اور کتاب خاصی وزنی تھی۔ کوئی دو فرلانگ تک دوڑنے کے بعد بُرونو نے محسوس کیا کہ اُس کا سانس بےطرح پُھول گیا ہے اور ٹانگوں میں مزید بھاگنے کی سکت نہیں رہی۔
اُس کا منہ کھلا ہوا تھا اور پیٹ لوہار کی دھونکنی کی طرح تیزی سے حرکت کر رہا تھا۔ بجلی کے ایک کھمبے کے قریب کھڑا ہو کر اُس نے دم لیا اور دوبارہ اُس طرف نگاہیں دوڑائیں جدھر سے وہ آیا تھا۔
اُسے تعجب ہوا کہ سڑک پر کوئی انسان تھا نہ آوارہ کتا۔ حالانکہ یہ شہر کے بارونق حصّے کی ایک سڑک تھی جہاں دن کے اُجالے میں یقیناً کھوے سے کھوا چھلتا ہو گا، مگر ….. اب ….. اِس وقت یوں لگتا ہے جیسے صدیوں سے اِدھر سے کسی انسان یا حیوان کا گزر نہیں ہوا۔
حیرت انگیز بات یہ بھی تھی کہ گشت کرنے والا کوئی سپاہی یا چوکیدار بھی بُرونو کو نہیں ملا۔ چند لمحے دم لینے کے بعد اُس نے آگے بڑھنا چاہا، لیکن کوشش کے باوجود اُس سے چلا نہیں گیا۔
اُس کی دونوں ٹانگیں بری طرح کانپ رہی تھیں۔ بےاختیار اُس کے ذہن میں یہ خواہش نمودار ہوئی کہ وہ یہیں ….. اِس کھمبے کے پاس زمین پر بیٹھ جائے اور صبح ہونے تک بیٹھا رہے، لیکن وہ یہاں زیادہ دَیر تک نہیں رک سکتا تھا۔
کیا خبر کوئی پولیس والا گھومتا پھرتا اِدھر آ ہی نکلے اور وُہ اُسے چور یا اُچکّا سمجھ کر اَپنے ساتھ تھانے لے جائے۔ پولیس اور تھانے کے تصوّر ہی سے اُس کی روح فنا ہونے لگی …..
اُس نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا اور اَگر صبح ہونے تک سمتھ کی لاش دریافت کر لی گئی اور بُرونو اِس دوران میں پولیس کے ہتھے چڑھ گیا، تو سیدھی سی بات ہے کہ اُسی پر شبہ کیا جائے گا۔
وہ کسی طرح بھی اپنی بےگناہی ثابت نہیں کر سکتا تھا۔

نہایت استقلال سے وہ وَہاں سے چل پڑا۔ اگرچہ اُس میں بھاگنے دوڑنے کی ہمت باقی نہ تھی۔ تاہم وہ یہاں رکنا مناسب نہیں سمجھتا تھا۔ دوڑنا بھی خطرے سے خالی نہ تھا۔
اِس لیے وہ دَرمیانی چال چلتا رہا اور دِل میں سوچتا جاتا تھا کہ اگر راستے میں کسی نے پوچھ ہی لیا کہ اِس وقت وہ کہاں سے آ رہا ہے یا کدھر جا رہا ہے، تو اُس کا جواب کیا ہونا چاہیے۔

تھوڑی دیر بعد اُس کا پھولا ہوا سانس اصلی حالت میں آ گیا۔ سینے اور پیٹ کا اتار چڑھاؤ بھی مدّھم پڑ گیا اور ٹانگوں کی لرزش بھی جاتی رہی۔
اُس کا ذہن بھی کچھ کچھ کام کرنے لگا۔ جو کچھ سمتھ کے مکان میں ہوا تھا، وہ اَب اُسے ایک بھیانک خواب کی مانند یاد آ رہا تھا۔ اُسے اپنے آپ پر شک گزرنے لگا کہ کہیں اُس نے خواب ہی تو نہیں دیکھا، مگر نہیں …..
یہ خواب ہرگز نہیں تھا۔
خواب ہوتا، تو اتنی موٹی کتاب اُس کی بغل میں کہاں سے آ گئی؟ اور یہ سوٹ ….. تابوت میں پڑی ہوئی نوجوان کی لاش ….. اور تابوت کے چاروں طرف موم بتیوں کا جلنا، اُسے اچھی طرح یاد تھا۔ وہ لاش کس کی تھی؟
سمتھ کہتا تھا کہ یہ اُس کے بیٹے کی لاش ہے۔
ہو سکتا ہے وہ جھوٹ بول رہا ہو ….. سمتھ تو خود قاتل تھا۔
بُرونو کا ذہن پھر دھندلانے لگا۔ اُس نے زور سے اپنی گردن جھٹکی جیسے اِن ڈراؤنے خیالات کو ذہن سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہو، لیکن خیالات برابر اُمنڈے چلے آ رہے تھے۔
ایک بار پھر اُس کا سانس پھولنے لگا، حالانکہ وہ اَب دوڑ نہیں رہا تھا۔ درمیانی چال سے آگے بڑھ رہا تھا۔

اِس بار بُرونو نے رک کر گردوپیش کا جائزہ لیا اور حیران و پریشان ہو کر دیکھنے لگا کہ وہ کدھر جا رہا ہے۔ ہر شے دھند اور تاریکی میں لپٹی ہوئی تھی۔
ایک ایک فرلانگ کے فاصلے پر لگے ہوئے بجلی کے کھمبوں کے قمقمے بھی اُسے راستہ دکھانے اور یہ بتانے سے قاصر تھے کہ اُس کا رخ کس طرف ہے۔
کیا یہ راستہ سیدھا اُسی سڑک پر نکلتا ہے جہاں وہ خود رَہتا ہے؟ اُسے محسوس ہوا کہ یہ راستہ اُس کے لیے قطعی نامانوس اور اَجنبی ہے۔
وہ اِدھر پہلے کبھی نہیں آیا۔ سخت متوحش اور خوف زدہ ہو کر وہ پھر ایک کھمبے کے نیچے جا کھڑا ہوا۔ کھمبے کے آس پاس روشنی کا دائرہ بنا ہوا تھا۔
روشنی میں آ کر اُسے کسی قدر سکون ہوا۔ وہ پاگلوں کی طرح بند دکانوں کے اوپر لگے ہوئے سائن بورڈ پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ اِس سڑک کا نام جان سکے، مگر حروف گڈمڈ ہو جاتے۔

دفعتاً بُرونو نے کچھ فاصلے پر کسی کے قدموں کی چاپ سنی۔ اُس کا کلیجہ لرز گیا۔ کیا سمتھ اُس کے تعاقب میں تو نہیں آ رہا؟ ممکن ہے وہ مرا نہ ہو ….. بُرونو نے اُس آواز کی طرف کان لگا دیے۔
بلاشبہ کوئی شخص اِسی جانب آ رہا تھا، لیکن اُس کے قدموں کی آہٹ تو بُرونو کو سنائی دیتی تھی، آنے والا خود نظر نہیں آ رہا تھا۔ دہشت سے اُس کے بدن کا ایک ایک رونگٹا کھڑا ہو گیا۔
اُس نے بھاگنا چاہا، مگر زمین نے جیسے قدم پکڑ لیے۔ پوری کوشش کے باوجود اُس سے ایک انچ بھی قدم آگے نہ بڑھایا گیا۔
وہ آنکھیں پھاڑے اپنی جگہ پتھر کا بت بنا اُس سمت میں تَک رہا تھا جدھر سے قدموں کی آہٹ آ رہی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ آواز خاصی نمایاں ہو گئی۔ اور اَب تو کسی معمولی سے شک و شبہے کی گنجائش نہ رہی۔ یقیناً کوئی اِسی جانب آ رہا تھا۔
بُرونو نے غیرشعوری طور پر خود کو دفاع کے لیے تیار کر لیا۔ اُس نے سوٹ بائیں بغل میں دبایا اور بھاری کتاب دائیں ہاتھ میں سنبھال لی۔
وہ طے کر چکا تھا کہ اگر آنے والے نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی، تو یہ وزنی کتاب اُس کے سر پر دے مارے گا۔ یکایک دھند کا پردہ چیرتے ہوئے ایک شخص نمودار ہوا۔
بُرونو نے دیکھا کہ وہ کوئی لمبا تڑنگا آدمی ہے اور مزے مزے میں جھومتا ہوا چلا آ رہا ہے۔ شاید اُس نے شراب پی رکھی تھی۔
بُرونو نے یہ اندازہ یوں لگایا کہ آنے والے کے قدم لڑکھڑا رَہے تھے۔ بُرونو کے نزدیک آ کر وہ رُکا اور حیرت سے اُسے دیکھ کر بولا:

’’خیر تو ہے جناب! آپ یہاں ….. اِس وقت یہاں کیسے کھڑے ہیں؟ خدانخواستہ طبیعت تو خراب نہیں؟‘‘

بُرونو کی جان میں جان آئی۔ یہ شخص سمتھ نہیں تھا ….. کوئی راہ گیر تھا ….. کسی شراب خانے سے نکل کر آ رہا ہو گا۔

’’م ….. مَیں ….. مَیں ….. راستہ بھول گیا ہوں۔‘‘ بُرونو نے ہکلاتے ہوئے کہا۔

’’اوہو ….. یہ تو بڑی خراب بات ہے جناب ….. ایسے موسم میں راستہ بھول جانا ….. گھبرائیے مت۔ مَیں آپ کو راستہ بتاتا ہوں۔ فرمائیے کہاں جانا چاہتے ہیں آپ؟‘‘

’’اپنی دکان تک جاؤں گا ….. میرا مکان بھی وہیں ہے ….. دکان کے پچھواڑے۔‘‘ بُرونو نے کہا۔

اُس کی اِس بات پر اجنبی قہقہہ مار کر ہنسا اور دَائیں آنکھ میچ کر طنزیہ انداز میں کہنے لگا:

’’یار! معلوم ہوتا ہے کچھ زیادہ ہی چڑھا گئے ہو تم۔‘‘ وہ ایک دم ’آپ‘ سے ’تم‘ پر اتر آیا۔
’’خیر، خیر ….. کوئی بات نہیں ….. ایسا ہو ہی جاتا ہے۔
اب مجھے کیا معلوم کہ تمہاری دکان کہاں ہے، وہ دُکان جس کے پچھواڑے تمہارا مکان بھی ہے۔ کچھ اَتا پتا یاد ہو تو بتاؤ۔‘‘

بُرونو سخت بوکھلا گیا۔ اُس کا ذہن ایک بار پھر قلابازی کھا چکا تھا۔
کیسی عجیب بات تھی کہ اُس سڑک کا نام ہی اُسے یاد نہیں آ رہا تھا جس پر اُس کی دکان تھی۔ بدحواس ہو کر اُس کے منہ سے صرف اتنا نکل سکا۔

’’مَیں ….. اِس شہر میں نیا آیا ہوں ….. زیادہ دِن نہیں ہوئے۔ اتفاق ایسا ہے کہ اُس سڑک کا نام بھی مجھے یاد نہیں آ رہا جہاں میری دکان ہے۔
آپ اتنی مہربانی کریں کہ کچھ دور میرے ساتھ چلیں۔ مَیں تنہائی کے باعث گھبرا رَہا ہوں۔ شاید راستے میں مجھے اُس سڑک کا نام یاد آ جائے۔‘‘

اجنبی نے دوبارہ قہقہہ لگایا اور کہا ’’بھئی کمال کے آدمی ہو تم بھی اور بندۂ خدا اِس وقت گھر سے نکلے ہی کیوں تھے؟ اچھا آؤ، مَیں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔‘‘

معاً بُرونو کو اُس سڑک کا نام یاد آ گیا، مگر اُس نے اجنبی کو بتانا مناسب نہ جانا۔
اپنا پتا ظاہر کرنا حماقت ہی ہوتی۔ بھلا کوئی قاتل اپنے گھر کا پتا بھی کسی اجنبی کو بتایا کرتا ہے؟ وہ دونوں تھوڑی دور چپ چاپ چلتے رہے۔
سڑک پر اُن کے قدموں کی ملی جُلی آوازیں گونجتی رہیں۔ ایک چوراہے پر پہنچ کر اجنبی نے کہا:

’’یہاں سے ناک کی سیدھ میں چلتے جاؤ۔ کچھ دور ٹیکسی سٹینڈ ہے ….. وہاں کسی بھی ٹیکسی ڈرائیور کو میرا نام بتانا، وہ تمہیں گھر چھوڑ آئے گا۔ میرا نام جان ہے ….. جان سمتھ۔‘‘

بُرونو کا کلیجہ پھر اُچھل کر حلق میں آ گیا۔ اُس نے وحشت زدہ ہو کر اَجنبی کے چہرے پر نگاہ ڈالی۔ وہ سمتھ تو نہیں تھا۔ البتہ اُس کی شکل سمتھ سے خاصی مشابہت رکھتی تھی۔
کیا خبر یہ شخص اُسی سمتھ کا بھائی ہو جسے مَیں قتل کر آیا ہوں۔ اِس خیال ہی نے بُرونو کو مزید حواس باختہ کر دیا۔
اُس نے بھاگ نکلنا ہی مناسب جانا اور جلدی سے الوداعی سلام کر کے اُس طرف ہو لیا جدھر جانے کا اشارہ جان سمتھ نے کیا تھا۔

’’شب بخیر ….. شب بخیر۔‘‘ اُس نے اپنے عقب میں جان سمتھ کی آواز سنی۔ ’’ارے مسٹر ….. اپنا نام تو بتاتے جاؤ۔‘‘

لیکن بُرونو نے سنی اَن سُنی کر کے اپنی رفتار تیز کر دی اور لپک کر ایک بغلی گلی میں گھس گیا۔ کوڑے کرکٹ کے ایک اونچے اور بڑے سے آہنی ڈرم کے پیچھے دبک کر جائزہ لیتا رہا کہ اجنبی اب دور نکل گیا ہو گا۔
چند منٹ بعد بُرونو اپنی کمین گاہ سے نکلا اور دوبارہ سڑک پر آ گیا۔ ایک فرلانگ چلنے کے بعد اُسے ٹیکسی سٹینڈ نظر آیا۔
دو تین ٹیکسیاں کھڑی تھیں اور اُن کے میٹروں پر روشن حروف دور سے صاف نظر آ رہے تھے۔ بُرونو بھاگتا ہوا اُدھر گیا۔
پہلی ہی ٹیکسی کی اگلی نشست پر ڈرائیور بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ بُرونو کو آتے دیکھ کر وہ اُٹھا اور دَروازہ کھول دیا۔

’’کہاں جائیے گا جناب؟‘‘ ڈرائیور نے حسبِ عادت اپنی ٹوپی کا کنارہ ہاتھ سے چُھوتے ہوئے پوچھا۔

بُرونو نے پچھلی نشست پر بیٹھتے ہوئے اُسے اپنی دکان کا پتا بتایا اور دُوسرے ہی لمحے ٹیکسی حرکت میں آ گئی۔ بُرونو نے اطمینان اور سکون کا گہرا سانس لیا۔
اب اُس کا ذہن پچھلے واقعات کا تجزیہ کرنے میں تیزی سے مصروف ہو گیا۔ جلد یا بدیر سمتھ کی لاش ضرور دَریافت کر لی جائے گی …..
اور پھر پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ سمتھ کو کس نے قتل کیا ہے۔ بُرونو نے خوب اچھی طرح سوچا اور یقین کر لیا کہ وہ اَپنی کوئی چیز سمتھ کے مکان میں چھوڑ کر نہیں آیا ہے.
نہ ہی اُس کی اُنگلیوں کے نشانات کسی چیز پر پولیس کو مل سکتے ہیں۔ اُسے اچھی طرح یاد تھا کہ پستول پر صرف سمتھ کی انگلیوں کے نشانات پولیس کو ملیں گے۔
پستول تو بُرونو نے چھوا ہی نہیں تھا۔ وہ تو سمتھ کے ہاتھ میں تھا اور بُرونو نے سمتھ کی کلائی مروڑی تھی۔ اِس طرح پستول کا رخ سمتھ کے سینے کی طرف ہو گیا۔ پستول کے ٹریگر پر انگلی بھی سمتھ ہی کی تھی۔

اِس تصوّر سے کہ وہ اَپنا کوئی نشان سمتھ کے مکان میں چھوڑ کر نہیں آیا ہے، بُرونو کو بےحد اطمینان ہوا۔ اِس کے علاوہ کسی فرد نے اُسے سمتھ کے مکان میں داخل ہوتے یا باہر نکلتے نہیں دیکھا تھا .
نہ موقع واردات کا کوئی شاہد ہی موجود تھا اور جو عینی شاہد تھا، وہ اَب اِس دنیا میں نہیں تھا۔ اُس کے علاوہ کوئی شخص یہ ثابت نہ کر سکتا کہ بُرونو اُس رات سمتھ سے ملنے اُس کے مکان پر گیا تھا۔ بےشک ڈورس ….. اُس کی بیوی …..
اِس راز سے آگاہ تھی کہ بُرونو آدھی رات کے قریب سلا ہوا سوٹ لے کر سمتھ کے مکان پر گیا تھا۔ لیکن ڈورس اِس راز سے کبھی پولیس کو آگاہ نہیں کر سکتی تھی۔ کیا وہ اَپنے شوہر کے خلاف گواہی دے گی؟ کبھی نہیں۔

بُرونو نے مزید ہوشیاری یہ کی کہ ٹیکسی ڈرائیور کو اَپنی دکان کے سامنے رکنے کا اشارہ نہیں کیا، بلکہ ایک فرلانگ آگے جا کر ٹیکسی رکوائی۔
اُس نے سوچ لیا تھا کہ وہ وَہاں سے پیدل اپنی دکان تک آئے گا تاکہ ٹیکسی ڈرائیور کو بھی پتا نہ چل سکے کہ وہ گاڑی سے اتر کر کہاں گیا۔
بُرونو کی خوش قسمتی تھی کہ ٹیکسی ڈرائیور نے وہ چند سکّے ہی قبول کر لیے جو اُس کی جیب سے نکلے تھے، غالباً جان سمتھ کا حوالہ کام آ گیا تھا، ورنہ کرایہ تو زیادہ بنا تھا۔

جب ٹیکسی ڈرائیور اُسے سلام کر کے دور نکل گیا، تب بُرونو واپس پلٹا اور تیز تیز قدم اٹھاتا اپنی دکان تک آیا۔ یہاں بھی بازار سنسان پڑا تھا اور کسی فرد بشر نے اُسے آتے نہیں دیکھا۔
دکان کا دروازہ کھولنے میں بُرونو سے بےشک بےاحتیاطی ہوئی۔ جونہی دروازہ کھلا، اُس کے اوپر رسّی سے بندھی ہوئی پیتل کی گھنٹی زور سے بجی اور اُس کی آواز اِردگرد گونج گئی۔
بُرونو نے اِس حماقت پر زیرِلب اپنے آپ کو ایک موٹی سی گالی دی۔ گھنٹی کی یہ آواز ضرور ڈورس کے زُود حِس کانوں تک پہنچ چکی ہو گی اور یہ موقع ایسا نہیں کہ وہ ڈورس کے الٹے سیدھے سوالوں کا جواب دے سکے۔
سمتھ کے قتل کا قصّہ وہ ڈورس سے پوشیدہ رَکھنا چاہتا تھا۔

اور جیسا کہ بُرونو کو خوف تھا، وہی ہوا۔ ابھی اُس نے مشکل سے دکان کے اندر قدم دھرا ہی تھا کہ مکان کی طرف کھلنے والے دروازے کا پردہ ہٹا اور ڈورس نمودار ہوئی۔
اُس وقت بُرونو وہ موٹی سی کتاب کاؤنٹر پر رکھ رہا تھا۔ ڈورس کی آنکھیں نیند کے خمار سے بھری ہوئی تھیں اور وُہ آنکھیں ملتی ہوئی آئی تھی۔
بُرونو کو کتاب رکھتے ہوئے اُس نے دیکھ لیا تھا۔ حیرت سے ڈورس کی کھلی، اَدھ کھلی آنکھیں پھیل گئیں۔ اُس نے کتاب پر نگاہ جماتے ہوئے بُرونو سے پوچھا:

’’یہ کتاب کہاں سے اٹھا لائے؟ کون سی کتاب ہے یہ؟‘‘

ابھی بُرونو سوچ ہی رہا تھا کہ کیا جواب دے، اتنے میں ڈورس کی نظر اُس بنڈل پر پڑ گئی جس میں سوٹ لپٹا ہوا تھا۔

’’اچھا ہوا تم اِسے واپس لے آئے۔‘‘ ڈورس نے خوش ہو کر کہا۔
’’میری خواہش تھی تم اِسے واپس ہی لے آتے۔ اب ہم اِسے خود اِستعمال کر سکیں گے۔‘‘

بُرونو خاموشی سے ڈورس کو گھورتا رہا۔ اِس مرتبہ بھی اُس نے ڈورس کی بات کا جواب نہ دیا۔ اُس کی یہ حرکت ڈورس کے لیے خلافِ توقع تھی۔
اُس نے ایک قدم آگے بڑھ کر غور سے بُرونو کی صورت دیکھی اور یہ جاننے میں اُسے ذرا دِقت نہ ہوئی کہ خاوند کے چہرے کا رنگ دھلے ہوئے کپڑے کی طرح سفید ہے۔
اِس سردی میں بھی اُس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر رہے تھے۔ ڈورس نے سخت مضطرب ہو کر کہا:

’’کیا بات ہے بُرونو؟ تم پریشان دکھائی دے رہے ہو۔ کیا سمتھ نے سوٹ لینے سے انکار کر دیا ہے؟‘‘

بُرونو نے گہرا سانس لیا اور اَثبات میں گردن ہلا دی۔ اِس حرکت کا مقصد صرف یہ تھا کہ ڈورس جو کچھ کہہ رہی ہے، وہ دُرست ہے، لیکن بُرونو کی اِسی حرکت نے بیوی کو مزید جرح کے لیے مستعد کر دیا۔
اُس نے کسی قدر تیز لہجے اور بلند آواز میں کہا:

’’آخر کیوں؟ کیا وجہ ہوئی؟ تم نے اُس کی ہدایات کے مطابق کام نہیں کیا تھا؟ پھر اُسے کیا اعتراض ہوا؟‘‘

اب بُرونو کے لیے ممکن نہ تھا کہ خاموش رہتا۔ اُس نے ڈورس کی نظروں سے نظریں بچاتے ہوئے کندھے اچکائے اور کہا:

’’بات ….. بات ….. دراصل ….. یہ ہے کہ اُس کے پاس پیسے ہی نہیں تھے۔ اِس لیے مَیں سوٹ واپس لے آیا۔‘‘

’’بہت خوب! تو گویا ساری محنت اکارت گئی۔‘‘ ڈورس نے ناراض ہو کر کہا۔
’’مَیں تو پہلے ہی کہتی تھی کہ یہ کام مت لو ….. مگر تم نے میری ایک نہ مانی …..
خواہ مخواہ رَاتوں کو جاگے اور اَپنی آنکھیں پھوڑتے رہے۔ مجھے تو وہ شخص …..
کیا نام تھا اُس کا؟ ہاں یاد آ گیا۔ سمتھ ….. مجھے تو وہ اَچھا آدمی دکھائی نہیں دیتا تھا۔‘‘

’’خیر چھوڑ اِس بات کو …..‘‘ بُرونو نے ٹالتے ہوئے کہا۔ ’’یہ سوٹ ہم کسی اورکے ہاتھ بیچ دیں گے اور عین ممکن ہے کہ ایک دو دِن تک سمتھ کے پاس رقم آ جائے اور وُہ مجھے میری اجرت ادا کر کے سوٹ لے جائے۔
ویسے بھی یہ کپڑا بےحد قیمتی ہے ….. کوئی بھی شخص خرید سکتا ہے۔‘‘

’’وہ تو بعد کی بات ہے۔‘‘ ڈورس نے جھلّا کر کہا۔ ’’یہ بتاؤ کہ صبح اُس کمینے یہودی مالک مکان کو کیا جواب دو گے؟‘‘

’’کہہ دوں گا ایک دو دِن کی مہلت اور دے دو۔ میرا خیال ہے مَیں اُسے یہ سوٹ دکھاؤں گا …..‘‘

’’مان چکا وہ اَور منوا چکے تم اُس سے اپنی بات …..‘‘ ڈورس نے منہ بنا کر کہا۔
’’وہ صبح سامان اٹھا کر باہر نہ پھینکے، تب کہنا ….. ہو سکتا ہے مشین ہی اٹھا کر لے جائے۔‘‘

بُرونو کو اُس وقت ڈورس پر سخت تاؤ آ رہا تھا۔ اُس کا جی چاہا ایسا طمانچہ اُس کے منہ پر مارے کہ بتیسی باہر آن پڑے، لیکن اُس نے ضبط کیا اور صرف اتنا کہا:

’’دیکھو یہ وقت ایسی بحث کا نہیں۔ مجھے نیند آ رہی ہے۔ صبح بات کریں گے۔ تم بھی اب سو جاؤ۔‘‘

لیکن ڈورس وہیں کھڑی اُسے گھورتی رہی۔ آخر اُس نے کہا:
’’بُرونو! اِدھر ….. میری طرف دیکھو۔‘‘ بُرونو اُس سے آنکھیں ملانا نہیں چاہتا تھا، مگر مجبوراً اُسے ڈورس کی طرف دیکھنا پڑا۔ ’’سچ سچ بتاؤ کیا واقعہ پیش آیا؟‘‘ بیوی کا لہجہ تحکمانہ تھا۔

’’کیا سچ سچ بتاؤں؟‘‘ بُرونو نے دانت پیس کر کہا۔ ’’تمہارا خیال ہے مَیں جھوٹ بول رہا ہوں؟ تم سے کچھ چھپا رہا ہوں؟‘‘

’’ہاں! مجھے اتنا یقین ہے، تم ضرور کوئی خاص بات مجھ سے چھپا رہے ہو۔‘‘ ڈورس نے ڈپٹ کر کہا۔
’’تمہاری صورت کہے دیتی ہے کہ کوئی غیرمعمولی واقعہ پیش آیا ہے۔‘‘

بُرونو حیران رہ گیا۔ اُسے یقین نہیں آتا تھا کہ ڈورس جیسی سیدھی سادی اور بےوقوف عورت ایسی قیافہ شناس بھی ہو سکتی ہے۔
اُس نے محسوس کیا کہ اب ڈورس سے ضد یا بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا اور نہ وہ اُسے ڈانٹ ڈپٹ کر ٹال سکتا ہے، لہٰذا اُس نے انتہائی نرم آواز میں کہا:

’’ڈورس! مجھ پر رحم کرو ….. مَیں تمہیں صبح سب کچھ بتا دوں گا۔ ویسے کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا۔ سمتھ کی شخصیت سے مَیں نے دھوکا کھایا۔
اُس کے پاس واقعی کوئی پیسہ نہیں تھا۔ مجھے تو وہ کچھ خبطی سا آدمی لگا۔ اچھا …..
یہ بتاؤ چولہے میں آگ جل رہی ہے یا بجھ چکی ہے؟‘‘

بُرونو کے اِس سوال پر ڈورس کے حیران ہونے کی باری تھی۔ ’’کیا کہتے ہو؟ اِس وقت بھلا چولہا کیوں جل رہا ہو گا؟‘‘

’’اگر چولہا نہیں جل رہا ہے، تو مہربانی کر کے یہاں سے جاؤ اور چولہا جلاؤ۔‘‘ بُرونو نے زور دے کر کہا۔

’’مگر کیوں؟ کس لیے چولہا جلاؤں؟ کیا کوئی چیز پکوانا چاہتے ہو؟‘‘

’’مَیں کہتا ہوں جاؤ چولہا جلاؤ۔‘‘ بُرونو نے ذرا بلند آواز سے کہا۔ ’’اور یہ سوٹ لے جا کر چولہے میں جھونک دو۔ جلا ڈالو اِسے، اور سُنو ….. کسی شخص سے اِس کا ذکر نہ کرنا …..
یہ بھی مت بتانا کہ ہم سمتھ کو جانتے ہیں یا یہ کہ سمتھ ہماری دکان پر کبھی آیا تھا۔ بس بھول جاؤ سب کچھ ….. اِسی میں ہم دونوں کا بھلا ہے۔‘‘

ڈورس نے گہرا سانس لیا اور گردن جھکا کر بولی ’’کیا بک رہے ہو بُرونو؟ تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا؟ ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ یہ سوٹ بہت قیمتی ہے اور تم اِسے کسی بھی آدمی کے ہاتھ بیچ کر اچھے خاصے پیسے کما لو گے .
اَب تم کہتے ہو کہ اِسے چولہے میں جھونک دو ….. ذرا غور کرو ….. اتنا قیمتی کپڑا، مَیں چولہے میں جھونک دوں۔‘‘

’’ہاں، ہاں! ….. جلا ڈالو اِسے ….. فوراً جلا ڈالو۔‘‘ بُرونو نے آہستہ سے کہا۔ ’’خدا کے لیے اِسے لے جاؤ اور اَبھی جلا دو۔‘‘

ایک دم ڈورس کی دونوں آنکھوں سے آنسو اُبل پڑے۔ پھر اُس نے جھپٹ کر وہ بنڈل اُٹھایا جس میں سوٹ لپٹا ہوا تھا اور بُرونو سے کچھ کہے بغیر جدھر سے آئی تھی، اُدھر چلی گئی۔
اُسے روتے دیکھ کر بُرونو کے کلیجے پر گھونسا لگا۔ اُسے اپنے رویّے پر ندامت ہونے لگی۔ ڈورس کو سمجھانے کے لیے اُس نے پیچھے پیچھے جانا چاہا، لیکن پھر یہ سوچ کر رک گیا کہ سوال جواب کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا.
اِس وقت وہ بیوی کو یہ بتا کر مزید ہراساں نہیں کرنا چاہتا تھا کہ سمتھ اُس کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہے۔

ڈورس کے جانے کے بعد تھوڑی دیر تک بُرونو بےحس و حرکت وہیں کھڑا رَہا۔ پھر اُس نے دکان کا بیرونی دروازہ اَندر سے مقفل کیا۔
وہ وَاپس اُس دروازے کی طرف جا رہا تھا جو مکان کی طرف کھلتا تھا کہ کاؤنٹر پر پڑی ہوئی اُس قدیم وزنی کتاب پر نگاہ پڑی۔ غیرشعوری طور پر بُرونو نے کتاب اٹھا کر بغل میں دبائی اور دُکان کے پچھواڑے سے ہوتا ہوا اَپنے کوارٹر میں داخل ہوا۔
اُس نے دیکھا کہ ڈورس باورچی خانے میں بیٹھی چولہا سلگانے میں مصروف ہے، بلکہ اُس نے چولہے میں آگ جلا بھی دی تھی اور اَب بنڈل کھول کر وہ سوٹ نکال رہی تھی۔
یقیناً اُس نے بُرونو کے قدموں کی آہٹ سن لی ہو گی، مگر وہ اَپنے کام میں لگی رہی اور یہ ظاہر کیا کہ جیسے ایسے خاوند کے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئی۔
بُرونو نے بھی اُسے چھیڑنا مناسب نہ جانا اور سیدھا اپنے بستر کی طرف گیا۔ کتاب اُس نے اپنے سرہانے پٹخ دی اور پھر جیکٹ اتاری۔ جیکٹ اتارنے کے بعد وہ بستر پر بیٹھ گیا اور کتاب اٹھا کر اُس کے اوراق الٹنے پلٹنے لگا۔ ساتھ ساتھ وہ بڑبڑاتا بھی جاتا تھا:

’’بدمعاش کہتا تھا کہ اُس نے اپنے سارے ہیرے، جواہر اور نادر و نایاب چیزیں بیچ کر یہ کتاب خریدی تھی.
اِس کتاب کے ذریعے وہ اَپنے مردہ بیٹے کا سوٹ سلوانا چاہتا تھا۔ بےوقوف ….. احمق ….. پاگل۔‘‘

اِن الفاظ کے بعد یکایک بُرونو کی نظر کتاب کے پہلے صفحے پر پڑی۔ قدیم گاتھ طرز کے حروف میں کتاب کا نام لکھا تھا۔ حروف سیاہ رَنگ کے اور خاصے جَلّی تھے، لیکن بُرونو کوشش کے باوجود کتاب کا نام نہیں پڑھ سکا۔
البتہ اُسے اتنا اندازہ ضرور ہوا کہ کتاب کا موضوع طلسمات اور جادو ٹونے وغیرہ سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر اُس نے کتاب درمیان میں سے کھولی۔
ہر جگہ لاطینی حروف اور عبارتیں درج تھیں جنہیں وہ اَپنی جہالت کے باعث پڑھ نہیں سکتا تھا۔ کتاب میں جا بجا عجیب و غریب نقشے اور تصویریں بھی بنی تھیں۔
دفعتاً دائیں ہاتھ کے صفحے پر بنے ہوئے ایک نقشے پر بُرونو کی نگاہیں جم گئیں اور اُس کے بدن میں ہلکی ہلکی تھرتھری سی چھوٹ گئی۔
یہ تو اُسی سوٹ کا نقشہ تھا جو سمتھ نے بُرونو کو سینے کے لیے دیا تھا۔ اُس میں گردن، بازو، کمر اور ٹانگوں کے خاکے بنائے گئے تھے اور ہر خاکے کے نیچے عجیب نامانوس اور ناقابلِ فہم ہندسوں میں کچھ حساب کتاب درج تھا۔ بُرونو نے خیال کیا کہ شاید یہ پیمائش ہو۔ اُ
س نے مضطرب ہو کر ورق اُلٹا اور اِس مرتبہ دہشت سے کتاب اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گری۔ جو صفحہ اب اُس کے سامنے تھا، اُس پر ایک انسانی ڈھانچے کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

بُرونو نے محسوس کیا کہ ڈھانچے کی آنکھوں کے خالی خالی حلقوں سے روشنی کی کرنیں سی پھوٹ رہی ہیں۔ اُس نے نگاہیں ہٹا لیں اور دِل میں کہا یہ یقیناً نظر کا فریب ہے۔
بھلا کاغذ پر بنی ہوئی کسی تصویر کی بےجان آنکھوں کے خالی حلقے بھی چمک سکتے ہیں؟ اُس نے دائیں ہاتھ سے رومال نکالا جو تکیے کے نیچے ہی رہتا تھا۔
رومال سے اُس نے اپنی دونوں آنکھیں باری باری صاف کیں۔ پھر ڈھانچے کی تصویر غور سے دیکھی۔ بلاشبہ یہ فریبِ نظر نہیں تھا۔ خالی حلقوں کے اندر رَوشنی کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ بُرونو نے بدحواس ہو کر کتاب بند کر دی۔ اُس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔
اُس کا جی چاہا کہ اِس کتاب کو بھی لے جا کر آگ میں جھونک دے۔ مگر وہ اَیسا نہ کر سکا۔ دماغ کے انجانے گوشوں سے بار بار یہی تقاضا ہو رہا تھا کہ کتاب کھول کر دیکھو، چنانچہ نہ چاہتے ہوئے بھی بُرونو نے کتاب تیسری مرتبہ کھولی.
اِس بار اُس کے سامنے ایک ایسا صفحہ کھل گیا جس میں ایک انسانی ڈھانچے نے وہی سوٹ پہن رکھا تھا جو بُرونو نے اپنے ہاتھوں سیا تھا۔

اور پھر ایک عجیب تماشا ہوا۔ بُرونو کے دیکھتے دیکھتے یہ ڈھانچہ ایک خوش رُو نوجوان میں تبدیل ہو گیا۔ اُس نوجوان کے لبوں پر مسکراہٹ تھی.
بُرونو کو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی جیتے جاگتے آدمی کو دیکھ رہا ہے۔ ’’خدا کی پناہ!‘‘ بےاختیار اُس کے منہ سے نکل گیا اور اُس نے زور سے کتاب بند کر کے ایک طرف پھینک دی۔
پھر اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا کیا یہ ممکن ہے کہ کاغذ پر بنا ہوا ایک انسانی ڈھانچا جیتے جاگتے آدمی میں بدل جائے؟
نہیں ….. ایسا نہیں ہو سکتا۔ مگر بُرونو نے تو خود اَپنی آنکھوں سے ایسا ہی دیکھا تھا۔ ’’یہ سب شیطانی چکر ہیں۔‘‘ اُس نے بڑبڑا کر جیسے اپنے آپ سے کہا
’’یہ یقیناً جادو اَور طلسمات سے بھری ہوئی کتاب ہے ….. مجھے فوراً اِسے جلا دینا چاہیے۔‘‘

وہ لپک کر اُٹھا، فرش پر پڑی ہوئی کتاب اٹھائی اور سیدھا باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا۔ اُس کا خیال تھا کہ ڈورس اب تک سوٹ جلا کر راکھ کر چکی ہو گی۔
لیکن یہ دیکھ کر وہ حیران ہوا کہ چولہا سرد پڑا ہے اور بیگم باورچی خانے میں موجود نہیں۔ وہ گم صم کھڑا سوچتا رہا کہ ڈورس کہاں چلی گئی! ابھی تھوڑی دیر پہلے اُس نے خود دَیکھا کہ وہ چولہا جلا رہی تھی۔ چولہے میں آگ کے شعلے بھڑکتے ہوئے بھی اُس نے دیکھے تھے …..
کیا یہ بھی کوئی فریبِ نظر تھا یا حقیقت؟ بُرونو نے غیریقینی کیفیت میں باورچی خانے کے اردگرد جھانکا۔ لیکن ڈورس وہاں نہیں تھی۔
پھر یکایک اُس کی نظریں لکڑی کے بنے ہوئے نعمت خانے پر جم گئیں ….. نعمت خانے کے اوپر ہی وہ تھیلا دھرا تھا جس میں سوٹ بند کر کے وہ سمتھ کے گھر تک لے گیا تھا۔
بُرونو نے جھپٹ کر تھیلا اٹھایا، مگر وہ تو خالی تھا۔ اُس کے اندر سوٹ دکھائی نہیں دیا۔ سوال یہ ہے کہ ڈورس نے اگر سوٹ نذرِ آتش نہیں کیا، تو پھر کہاں گیا اور دُوسرا سوال یہ تھا کہ خود ڈورس کدھر غائب ہو گئی۔

’’ڈورس کہاں ہو تم؟‘‘ بُرونو نے آواز دی، لیکن کوئی جواب نہ ملا۔

لمحہ بہ لمحہ بُرونو کا اضطراب بڑھ رہا تھا۔ وہ دُکان کے پچھلے حصّے میں داخل ہوا۔ وہاں گھپ اندھیرا تھا۔ بُرونو کو کچھ نظر نہ آیا۔ ایک بار پھر اُس نے ڈورس کو پکارا۔
اِس مرتبہ اُس کی آواز میں لرزش کے ساتھ خوف کی آمیزش بھی تھی جسے اُس نے خود ہی محسوس کیا۔ اُس کی پکار کا ڈورس نے کوئی جواب نہ دیا۔
بُرونو کے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔ معاً اُس کے کان میں کھڑکھڑاہٹ کی سی آواز آئی۔ یہ آواز دکان کے بیرونی شوکیس کی طرف سے آئی تھی۔
وہ جلدی سے اُدھر گیا، لیکن فوراً ہی ٹھٹک کر رک گیا۔ اُس نے ڈورس کو کسی سے باتیں کرتے سنا۔
بےشک وہ ڈورس ہی کی آواز تھی، مگر ….. اِس وقت رات کے پچھلے پہر ….. اندھیرے میں ….. وہ کس سے باتیں کر رہی تھی؟ اُس کا لہجہ ایسا تھا جیسے سرگوشیاں کی جاتی ہیں۔

بُرونو جہاں تھا، وہیں رک گیا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ ڈورس کس سے باتیں کر رہی ہے۔
بُرونو نے اپنا سانس روک لیا اور کان اُس کی طرف لگا دیے۔

’’کیا تم نہیں جانتے کہ ہم پر کیا بِیت رہی ہے؟‘‘ بُرونو کے کان میں ڈورس کی مدھم آواز آئی جیسے وہ کسی نامعلوم ہستی کے سامنے گڑگڑا رَہی ہو۔
کاش تمہیں ہمارے حالات کی خبر ہوتی، لیکن تم آخر کر بھی کیا سکتے ہو؟ آج تک تم نے ہمارے لیے کچھ بھی تو نہیں کیا …..
جبکہ ہم تمہارے لیے بہت کچھ کرتے رہے ہیں ….. مگر ….. اب وقت آ گیا ہے کہ تم کچھ کرو۔‘‘

نہایت احتیاط سے بُرونو پنجوں کے بَل آگے کھسکنے لگا۔ اب اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو کر چھلکنے ہی والا تھا۔ دبے پاؤں چلتا ہوا وُہ دُکان کے بیرونی حصّے کی جانب بڑھ رہا تھا۔
ڈورس وہیں دروازے کے قریب کھڑی کسی سے باتیں کر رہی تھی ….. اور پھر بُرونو دم بخود رَہ گیا۔ اُس نے دیکھا کہ ڈورس شو کیس کے اندر بند اِنسانی ڈمی سے مخاطب تھی۔

’’ڈورس ….. یہ کیا کر رہی ہو تم؟‘‘ بُرونو نے ایک دم کہا۔
اُس کی آواز سنتے ہی ڈورس بدحواس ہو کر پیچھے ہٹی اور اُدھر دیکھنے لگی جدھر سے آواز آئی تھی۔ پھر اُس نے بھی بُرونو کو اَندھیرے میں کاؤنٹر کے پاس کھڑے دیکھ لیا۔ اطمینان کا سانس کھینچ کر ڈورس نے کہا:

’’ارے! تم یہاں کب سے ہو، بُرونو؟‘‘

لیکن بُرونو کی نگاہیں اب ڈورس سے ہٹ کر انسانی ڈمّی پر جمی ہوئی تھیں۔ اُس کے بےجان بدن پر وہی سوٹ تھا جو بُرونو نے سمتھ کی فرمائش پر سیا تھا۔
اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈورس نے بُرونو کے حکم کی تعمیل نہیں کی اور سوٹ آگ میں نہیں جھونکا، بلکہ اِس ڈمی کو لا کر پہنا دیا۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ اِس اندھیرے میں یہ سوٹ ستاروں کی مانند جھلملا رہا تھا اور اُس میں سے آگ کی چنگاریاں سی نکلتی دکھائی دیتی تھیں۔
بُرونو نے ڈورس کی طرف ایک قدم اور بڑھایا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا:

’’مَیں نے تم سے کہا تھا کہ اِس منحوس سوٹ کو آگ میں جلا دو۔ کیا یہ نہیں کہا تھا مَیں نے؟ پھر تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ بولو، جواب دو۔‘‘

’’ہاں! تم نے کہا تھا ….. مگر مَیں ایسا نہیں کر سکتی تھی۔‘‘ ڈورس نے کہا۔
’’تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ….. تمہیں احساس نہیں کہ یہ کپڑا کس قدر قیمتی ہے۔ اِسے آگ میں جھونک کر بھلا ہمیں کیا مل جاتا؟
مَیں نے سوچا اوٹو کا لباس بہت پرانا اور بوسیدہ ہو گیا ہے۔ کیا حرج ہے اگر مَیں اِسے پہنا دوں۔‘‘

’’بہت خوب ….. تو گویا میرا دماغ خراب ہے۔‘‘ بُرونو غرّایا۔ ’’اور تمہارا دماغ درست ہے۔ تم نے یہ نہ سوچا کہ اتنا قیمتی کپڑا اس ڈمّی کو پہنانا کتنی بڑی حماقت ہے۔‘‘

ڈورس مسکرائی اور تاریکی میں اُس کے سفید دانت اِس طرح چمکے جیسے خنجر کی دھار۔ بُرونو خوف زدہ ہو گیا۔ ڈورس نے ڈمی کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا
’’یاد کرو بُرونو! اِس ڈمی کا نام مَیں نے ہی رکھا تھا ….. اور یہ پرانا سوٹ جو اِس کے بدن پر تھا، یہ بھی مَیں نے ہی تم سے سلوایا تھا …..
شاید تم نہیں جانتے کہ مجھے اوٹو سے کس قدر پیار ہے۔ مَیں ہمیشہ اِس سے باتیں کیا کرتی ہوں۔ یہ میرا بہت پرانا دوست ہے اور مجھے یقین ہے یہ بھی مجھے پسند کرتا ہو گا۔
بعض اوقات مَیں اِس سے ایسی باتیں بھی کر لیتی ہوں جو تم سے کہنے کا موقع نہیں ملتا۔‘‘

بُرونو کے دل پر ڈورس کے اِس جملے سے جیسے رشک و حسد کی چھریاں چل گئیں۔

’’اِس کے معنی یہ ہیں کہ مَیں اب تک اِس خوش فہمی کا شکار رَہا کہ تم مجھ سے ہر بات کہہ دیتی ہو۔ آج معلوم ہوا کہ تمہیں مجھ سے اتنی محبت نہیں جتنی اِس ڈمی سے ہے …..
ڈورس! تم نے یہ کہہ کر مجھے سخت صدمہ پہنچایا ہے۔‘‘ اور یہ کہتے ہی بُرونو کسی معصوم بچے کی طرح دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر رو پڑا۔
ڈورس نے قریب آ کر اُس کے شانے پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگی:

’’مجھے غلط مت سمجھو، بُرونو! ….. چونکہ تم ہر وقت اپنے کام ہی میں مصروف رہتے تھے اور تمہارے پاس مجھ سے باتیں کرنے کا وقت نہ تھا، اِس لیے …..‘‘

’’مجھے معاف کر دو ڈورس! خدا کے لیے معاف کر دو۔‘‘ بُرونو کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
ڈورس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ بُرونو کو یوں روتے دیکھ کر اُس کی عجیب کیفیت تھی۔
وہ اُسے دلاسا دینا چاہتی تھی، لیکن اِس کا طریقہ اُس کے ذہن میں نہیں آ رہا تھا۔ بُرونو ہچکیاں لیتے ہوئے کہہ رہا تھا:

’’مَیں جانتا ہوں ڈورس ….. اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم تنہا رہتی ہو۔
مَیں تم سے باتیں کرنا چاہتا ہوں، مگر مجھے وقت نہیں ملتا۔ اگر ہم باتیں کرنے ہی میں لگے رہیں، تو کھائیں گے کہاں سے؟‘‘

’’تم ٹھیک کہتے ہو بُرونو ….. مجھے اِس کا شدت سے احساس ہے۔‘‘ ڈورس نے کہا۔
’’لیکن مَیں نے تم سے کبھی گلہ شکوہ نہیں کیا۔‘‘ تمہاری مصروفیت دیکھ کر مَیں نے اوٹو کو اَپنے لیے منتخب کر لیا تھا۔
اِس سے باتیں کر کے مَیں اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیا کرتی ہوں۔ اوٹو میری ہر قسم کی باتیں چپ چاپ سن لیا کرتا ہے۔ اِس کے پاس میری باتیں سننے کے لیے بہت وقت ہوتا ہے۔‘‘

’’خیر، خیر ….. مجھے اِس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘ بُرونو کو ڈورس کی معصومیت اور بےچارگی پر بےحد ترس آ رہا تھا۔
اُس نے ہچکیوں میں کمی کرتے ہوئے کہا ’’یہ باتیں ہم پھر کسی وقت کریں گے۔ اب مَیں چاہتا ہوں کہ تم یہ منحوس سوٹ اوٹو کے اوپر سے اتارو اَور باورچی خانے میں لے جا کر جلا دو۔
جاؤ، میری بات مانو۔ اِسی میں ہم دونوں کا بھلا ہے۔‘‘

ڈورس اپنی جگہ بےحس و حرکت کھڑی رہی۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ بُرونو کی اِس بات پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔

’’تم نے سنا نہیں، مَیں کیا کہتا ہوں؟‘‘ بُرونو نے اِس مرتبہ سختی سے کہا۔
’’جاؤ، اب بھی کچھ نہیں گیا، اِس سوٹ کو جلا ڈالو۔ مجھے یہ جادو کا کرشمہ دکھائی دیتا ہے۔‘‘

’’یہ محض تمہارا وَہم ہے بُرونو۔‘‘ ڈورس نے آہستہ سے کہا۔ ’’محض وہم ….. اتنا قیمتی کپڑا جلا کر ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور پھر یہ تو سوچو کہ تم نے اِس پر کتنی مشقت کی ہے.
یہ سوٹ بڑی آسانی سے اپنی قیمت ادا کر دے گا اور ہمیں اِس وقت ایک ایک پیسے کی شدید ضرورت ہے۔
وہ یہودی صبح سویرے ہی کرایہ لینے آ دھمکے گا۔ کیا تم بھول گئے ہو کہ وہ کیا کہہ گیا تھا؟‘‘

’’مجھے سب یاد ہے۔‘‘ بُرونو نے ایک ایک لفظ پر زور دَیتے ہوئے کہا۔ ’’اور مَیں یہ بھی نہیں بھولا کہ وہ یہودی صبح آئے گا، مگر اِس کی تم فکر نہ کرو ….. مَیں اُس کمینے سے نمٹ لوں گا۔
اِس وقت سب سے ضروری کام یہ ہے کہ ہم اِس منحوس کپڑے سے چھٹکارا پا لیں۔ اگر تم اِسے جلانے پر رضامند نہیں ہو، تب بھی کوئی بات نہیں۔
یہ کام مَیں خود سرانجام دے لوں گا۔ کاش! تمہیں پتا ہوتا کہ اگر یہ سوٹ ضائع نہ ہوا، تو ہم پر کتنی بڑی آفت نازل ہو سکتی ہے۔

ڈورس ایک قدم آگے آئی اور بُرونو کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔ بُرونو نے گھبرا کر منہ پرے کر لیا۔ ڈورس نے کہا:

’’مجھے پہلے بھی شک تھا کہ تم ضرور کوئی خاص بات مجھ سے چھپا رہے ہو۔ لیکن اب یقین ہو چکا ہے کہ کوئی نہ کوئی غیرمعمولی واقعہ تمہارے ساتھ پیش آیا ہے۔
سچ سچ بتاؤ کیا بات ہے؟ مسٹر سمتھ تو یہ سوٹ سلوانے کے لیے سخت بےچَین تھے اور مَیں نہیں سمجھتی کہ جب تم اُن کا کام مکمل کر کے لے گئے، تو وُہ اُجرت ادا نہیں کر سکے، حالانکہ وہ مجھے خاصے مالدار آدمی نظر آتے تھے۔‘‘

بُرونو نے غرّا کر کہا ’’اُس بدمعاش کا نام میرے سامنے مت لو۔ وہ مر چکا ہے۔‘‘

ڈورس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ ’’کیا کہتے ہو؟ وہ مر چکا ہے؟ تم مسٹر سمتھ کے بارے میں کہہ رہے ہو؟‘‘

’’ہاں، ہاں! مَیں اُس کے بارے میں کہہ رہا ہوں۔ وہ مر چکا ہے، اِس وقت دنیا میں نہیں ہے۔‘‘ بُرونو نے جواب دیا۔

’’لیکن ….. ابھی ….. ابھی تم کہہ رہے تھے کہ اُس کے پاس اجرت ادا کرنے کو کچھ نہیں تھا۔
اُس نے خود تم سے یہ بات کہی اور اَب تم کہتے ہو کہ وہ مر گیا۔‘‘

’’مَیں ٹھیک کہتا ہوں ….. وہ مر چکا ہے ….. اب خدا کے لیے فضول جرح کر کے میرا دماغ مت چاٹو اور آگے سے ہٹ جاؤ تاکہ مَیں یہ سوٹ اتاروں۔‘‘

ڈورس نے جیسے اُس کی بات ہی نہیں سنی۔ جب تک تم مجھے ساری بات تفصیل سے نہیں بتاؤ گے، مَیں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔
تم تو کہتے تھے کہ مسٹر سمتھ نے یہ سوٹ اپنے بیٹے کے لیے سلوایا ہے۔ باپ تمہاری اجرت ادا نہیں کر سکا، تو تم بیٹے سے وصول کر سکتے ہو۔ تم نے سمتھ کے بیٹے سے بات تو کی ہوتی۔‘‘

’’اوہو! تم بولنے سے باز نہیں رہ سکتیں۔‘‘ بُرونو جھلّا گیا۔ ’’تفصیل سے ساری بات سننا چاہتی ہو، تو سنو۔ مَیں نے اُسے قتل کر دیا۔‘‘

دہشت زدہ سی ہو کر ڈورس پیچھے ہٹ گئی اور اُس نے کاؤنٹر کا سہارا لیا۔
’’تم نے اُسے قتل کر دیا؟ سمتھ کے بیٹے کو تم نے قتل کر دیا؟‘‘

’’نہیں، نہیں! مَیں نے سمتھ کے بیٹے کو قتل نہیں کیا۔‘‘ بُرونو نے ہانپتے ہوئے کہا۔ ’’بلکہ سمتھ کو قتل کیا ….. دراصل یہ سب کچھ ایک اتفاق کے تحت ہوا، ورنہ میری نیت سمتھ کو قتل کرنے کی ہرگز نہ تھی۔
وہ اَپنی حماقت کی وجہ سے مارا گیا ….. مگر اب میری بات پر بھلا کون یقین کرے گا؟‘‘

’’سمجھ میں نہیں آتا، تم کیا اناپ شناپ بک رہے ہو۔‘‘ ڈورس نے بےیقینی کے سے انداز میں کہا۔
’’آخر کیا اتفاق ہوا؟ تم تو سمتھ کو یہ سُوٹ دینے گئے تھے؟‘‘

’’بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ مَیں خود ابھی تک نہیں سمجھ پایا کہ یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہو گیا۔‘‘ بُرونو نے کہا۔ ’’جب مَیں اُس کے مکان پر پہنچا، تو وہ کہنے لگا کہ اُس کے پاس اجرت دینے کے لیے کچھ نہیں ہے …..
وہ کہتا تھا کہ مَیں بِل بنا کر بھیج دوں۔ وہ چند دن بعد مجھے رقم ادا کر دے گا۔ مَیں نے کہا پھر چند دن بعد ہی سوٹ مجھ سے لے لینا۔ اِس پر سمتھ نے مجھ سے سوٹ چھیننے کی کوشش کی۔
ڈروس! یقین کرو، وہ مجھے پاگل لگتا تھا۔
اُس نے ایک کمرے میں تابوت کے اندر اَپنے نوجوان بیٹے کی لاش بند کر رکھی تھی ….. وہ لاش تین ہفتے سے وہاں پڑی تھی ….. سمتھ کہتا تھا کہ اُس نے یہ سوٹ اِس لیے سلوایا ہے کہ وہ اَپنے مردہ بیٹے کو پہنائے گا تاکہ اُسے زندہ کر سکے۔
سمتھ نے یہ فن جادو کی ایک کتاب سے سیکھا تھا۔ یہ وہی کتاب ہے جو مَیں وہاں سے اٹھا لایا ہوں ….. سمتھ کہتا تھا کہ اُس نے اپنی تمام قیمتی چیزیں بیچ کر یہ کتاب حاصل کی تھی۔‘‘

’’مجھے یہ بتاؤ بُرونو کہ تم نے سمتھ کو قتل کیوں کیا؟‘‘ ڈورس نے پوچھا۔ ’’کیا محض اِس لیے کہ اُس کے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
مجھے یقین نہیں آتا کہ تم اتنی سی بات پر ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتار سکتے ہو۔ تم تو ایک مکھی مارنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے، چہ جائیکہ ایک آدمی کو ہلاک کر ڈالو۔‘‘

’’بتا تو رہا ہوں کہ سمتھ نے زبردستی مجھ سے سوٹ لینا چاہا اور جب مَیں نے انکار کیا، تو اُس نے پستول نکال لیا۔ اُس کے بعد ہم دونوں گتھم گتھا ہو گئے۔

یقین کرو اگر مَیں اپنے بچاؤ کے لیے جدوجہد نہ کرتا، تو وہ مجھے گولی مار کر ہلاک کر دیتا۔ پھر بھی مَیں نے کوشش کی کہ جان بچا کر چلا آؤں، لیکن اُس نے مجھے نہیں چھوڑا اَور وُہ پستول سے گولی چلانا ہی چاہتا تھا کہ مَیں نے اُس کی کلائی مروڑ دی۔
ٹریگر پر اُس کی انگلی پہلے ہی دبی ہوئی تھی۔ اُس ہاتھا پائی میں ٹریگر پر اُس کی انگلی دب گئی اور گولی اُس کے سینے میں جا لگی ….. پھر وہ ….. مر گیا۔‘‘

’’اگر تم سچ کہہ رہے ہو، تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے جان بوجھ کر سمتھ کو نہیں مارا۔‘‘ ڈورس نے کہا۔ ’’یہ صرف اتفاقیہ طور پر ہوا۔‘‘

’’ہاں ….. قطعی اتفاقیہ طور پر ….. بھلا مجھے تم سے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ بُرونو نے کہا۔
’’اب مَیں سوچتا ہوں، تو احساس ہوتا ہے کہ سمتھ کا دماغ خراب تھا۔ بھلا مردے بھی زندہ ہوتے ہیں؟ وہ اَپنے بیٹے کو جادو کے ذریعے زندہ کرنا چاہتا تھا۔
بہرحال سمتھ مر چکا اور اَب مجھے اُس کا قاتل سمجھا جائے گا۔
اِسی لیے بار بار زور دے رہا ہوں کہ اِس منحوس سوٹ کو جلا کر راکھ کر دو۔ یہ بہت بڑا ثبوت ہے کہ میرا اَور سمتھ کا کچھ تعلق تھا۔‘‘

ڈورس نے گہرا سانس لیا اور تشویش بھرے لہجے میں بولی ’’اب مَیں ساری بات سمجھی۔ خدا ہم دونوں پر رحم کرے۔
یہ بیٹھے بٹھائے کس آفت میں پھنس گئے ہم۔‘‘ پھر اُس نے بُرونو کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا:
’’مجھے افسوس ہے بُرونو کہ مَیں نے تم سے بدزبانی کی اور تمہارا حکم ماننے سے انکار کیا ….. مگر یہ تو بتاؤ کہ کیا سمتھ کو واقعی کامل یقین تھا کہ وہ اِس سوٹ کے ذریعے ….. جسے تم جادو کا سوٹ کہتے ہو ….. اپنے مردہ بیٹے کو زندہ کر سکے گا؟‘‘

’’ہاں ….. اُسے کامل یقین تھا، ورنہ وہ اِتنا قیمتی کپڑا کیوں خریدتا؟ اور پھر وہ موٹی سی کتاب۔ یقین کرو ڈورس، وہ عجیب و غریب کتاب ہے۔
اُسی میں سے سمتھ نے اِس سوٹ کا نقشہ اور سلوانے کی تدبیر نکالی تھی۔ تم وہ کتاب دیکھو، تو حیران رہ جاؤ۔ اُس میں بعض تصویریں بنی ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور حرکت کر رہی ہیں۔‘‘

’’خدا رَحم کرے!‘‘ ڈورس خوف زدہ ہو کر بولی اور جلدی سے اپنی چھاتی پر صلیب کا نشان انگلی کی مدد سے بنایا۔ ’’خدا رَحم کرے! میرا خیال ہے ہمیں وہ کتاب بھی جلا دینی چاہیے۔‘‘

’’کتاب سے پہلے سوٹ جلانا ضروری ہے۔‘‘ برونو نے کہا۔
’’کتاب فی الحال ہم اپنے پاس رکھیں گے، بعد میں اُسے بھی نذرِ آتش کر ڈالیں گے۔‘‘

’’لیکن سنو تو ….. ایک بات میرے ذہن میں آئی ہے۔‘‘ ڈورس نے کہا۔ ’’اگر ہم یہ سوٹ اور کتاب جلا دیں، تو ہمارے پاس اپنے بچاؤ کا کوئی راستہ نہ رہے گا۔
تم پولیس کو بتا سکتے ہو کہ تمہاری نیت سمتھ کو قتل کرنے کی نہ تھی۔ تم تو اُس کے آرڈر پر تیارکردہ یہ سوٹ لے کر گئے تھے۔
وہاں سمتھ نے تم سے جھگڑا کیا اور پستول نکال کر تمہیں ہلاک کرنا چاہا اور حفاظت خوداختیاری کے تحت ….. تم اپنی صفائی میں یہ دونوں چیزیں پیش کر سکتے ہو۔‘‘

بُرونو نے چند لمحے ڈورس کے اِس مشورے پر غور کیا، پھر نفی میں گردن ہلائی۔
’’ڈورس! تم سیدھی سادی گھریلو قسم کی عورت ہو۔ تم پولیس والوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتیں کہ یہ لوگ قتل وغیرہ کی وارداتوں میں کس طرح اپنی کارروائی کا آغاز کرتے ہیں۔
جو واقعہ مَیں تمہیں ابھی سنا چکا ہوں، اگر پولیس والوں کو مِن و عَن اِسی طرح سنا دوں، تو وہ کبھی اِس پر یقین نہیں کریں گے۔
یہ سوٹ اور جادو کی کتاب بقول تمہارے بہترین ثبوت ہیں میری بےگناہی کے، لیکن تمہیں کیا خبر کہ یہی دونوں ثبوت پولیس میرے خلاف استعمال کر سکتی ہے اور اُسے عدالت میں یہ ثابت کرتے کچھ دیر نہ لگے گی کہ مَیں نے دیدہ و دَانستہ سمتھ کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔
اگر مَیں پولیس کو بتاؤں کہ سمتھ نے مجھے اجرت ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا، تو یہ بات بھی صریحاً میرے خلاف جائے گی اور پولیس کہے گی کہ چونکہ سمتھ نے مجھے اجرت ادا نہیں کی، اِس لیے مَیں نے مشتعل ہو کر اُسے قتل کر دیا۔
کتاب کے بارے میں بھی وہ مجھ پر الزام لگا سکتی ہے کہ مَیں اُسے سمتھ کے مکان سے چرا کر لایا ہوں اور بلاشبہ کتاب بہت پرانی اور نہایت قیمتی معلوم ہوتی ہے۔
سمتھ نے اِسے حاصل کرنے کے لیے اپنی تمام دولت صَرف کر دی تھی۔‘‘

ڈورس پریشان ہو کر بُرونو کی صورت تَک رہی تھی۔
آخر اُس نے کہا ’’میرا خیال ہے تم خود ہی پولیس کو سب کچھ بتا دو۔‘‘

’’کیا بکتی ہو تم؟‘‘ بُرونو کا تو خون کھول گیا۔ اُسے ڈورس سے اتنی احمقانہ بات کی توقع نہ تھی۔
’’پولیس کو سب کچھ سچ سچ بتا دوں اور پھانسی پر لٹک جاؤں۔‘‘

’’میرا مطلب خدانخواستہ یہ نہیں تھا، برونو۔‘‘ ڈورس نے آہستہ سے کہا۔ ’’تم اگر تمام واقعہ صاف صاف بتا دو گے، تو مجھے یقین ہے پولیس کو یقین آ جائے گا۔‘‘

’’بےشک پولیس کو یوں پورا یقین آ جائے گا کہ مَیں نے اشتعال میں آن کر سمتھ کو مار ڈالا۔‘‘ بُرونو غرّایا۔
’’تم چاہتی ہو کہ مجھ سے چھٹکارا مل جائے؟
اگر ایسی بات ہے، تو مَیں خود تمہیں چھوڑنے کو تیار ہوں، لیکن تمہارا یہ مشورہ ہر گز نہیں مانوں گا۔ مَیں اِن دونوں چیزوں کو جلا کر ہی دم لوں گا۔‘‘

’’خدا کے واسطے بُرونو! مجھے غلط نہ سمجھو۔‘‘ ڈورس نے روتے ہوئے کہا۔ ’’سچ بولنے ہی میں بہتری ہے۔‘‘

’’ہرگز نہیں ….. کبھی نہیں۔‘‘ بُرونو نے دانت پیسے اور آگے بڑھنے کا ارادہ کیا تاکہ ڈمی پر سے سوٹ اتارے، لیکن ڈورس نے اُس کا راستہ روک رکھا تھا۔

’’سنو بُرونو!‘‘ ڈورس نے پُرعزم لہجے میں کہا۔
’’اگر تم پولیس کو نہیں بتاؤ گے، تو مَیں سب کچھ بتا دوں گی۔‘‘

بُرونو کا سانس جیسے سینے میں رک گیا۔ چند ثانیے تک اُس کے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔ آخر اُس نے کہا:

’’ڈورس! کیا تم اپنے حواس میں ہو؟‘‘

’’ہاں بُرونو! مَیں قطعی اپنے حواس میں ہوں۔‘‘ ڈورس نے سکون سے کہا۔
’’مَیں ہر بات پولیس کو بتاؤں گی۔ ہم اچھے شہری ہیں اور ہمیں قانون کو دھوکا نہیں دینا چاہیے۔

پولیس کو سچ سچ بتا دینے سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ یہ بات مَیں تمہارے اور اَپنے بھلے ہی کے لیے کہہ رہی ہوں۔‘‘

اور یہ کہتے ہی ڈورس نے کاؤنٹر کے پرلی طرف رکھے ہوئے ٹیلی فون کا ریسیور اُٹھا لیا۔ بُرونو بھونچکا ہو کر ڈورس کو تَک رہا تھا۔

’’کیا کر رہی ہو بےوقوف عورت؟‘‘ بُرونو گھٹی گھٹی آواز میں بولا۔ ’’ٹیلی فون وہیں رکھ دے۔‘‘

لیکن ڈورس نے نمبر ڈائل کرنے شروع کر دیے۔
’’بُرونو ہم دونوں اپنی روحوں پر کسی انسانی قتل کا بوجھ زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کر پائیں گے۔‘‘

بُرونو غصّے سے پاگل ہو گیا۔ اِس کی یہ مجال! اُس نے جھپٹ کر ڈورس کے ہاتھ سے ٹیلی فون کا ریسیور چھینا اور کاؤنٹر پر پھینک دیا۔
پھر دوسرے ہاتھ سے اُس کی گردن پکڑ لی۔ ڈورس چلّائی، مگر ہر لمحہ اُس کی گردن پر بُرونو کی گرفت مضبوط ہو رہی تھی۔ اُس کے منہ سے بےتحاشا مغلظات کی بوچھاڑ جاری تھی۔ ڈورس نے بُرونو کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش میں اُسے زور سے دھکا دیا۔
بُرونو کاؤنٹر سے ٹکرایا، اُس پر رکھا ہوا ٹیلی فون میز پر گرا اَور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ ڈورس بری طرح چیخ رہی تھی۔ بُرونو سنبھل کر چیتے کی طرح ڈورس پر لپکا ۔
اِس مرتبہ اُس نے ڈورس کا گلا اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچ لیا۔ ڈورس نے جان بچانے کے لیے دیوارنہ وار جدجہد کی۔ وہ اگرچہ دبلا پتلا آدمی تھا اور ڈورس اُس کی نسبت کہیں زیادہ صحت مند تھی،
تاہم اِس وقت بُرونو میں نہ جانے کہاں سے اتنی طاقت آ گئی تھی کہ اُس نے بیوی کو نہیں چھوڑا۔
یہاں تک کہ اُس کی آنکھیں حلقوں سے باہر آنے لگیں اور حلق سے نکلنے والی چیخیں حلق ہی میں گھٹ کر رہ گئیں۔

ڈورس نے آخری کوشش کرتے ہوئے زوردار لات بُرونو کے پیٹ میں ماری۔ بُرونو کے لیے یہ ضرب اتنی شدید تھی کہ اُس نے ڈورس کی گردن چھوڑ دی اور وُہ اُلٹ کر گرا۔
اس کے گرتے ہی ڈورس بپھری ہوئی شیرنی کی طرح بُرونو کی چھاتی پر سوار ہو گئی اور اَپنے لمبے لمبے ناخنوں سے اُس کے چہرے کو لہولہان کر ڈالا، لیکن بُرونو پر کوئی اثر نہ ہوا۔
وہ جیسے اپنے آپے ہی میں نہ تھا۔ اُس نے ایک جھٹکے سے ڈورس کو پرے پھینکا۔ بُرونو کے دونوں رخساروں اور ناک سے خون بہ رہا تھا اور ڈورس کو اُس کی شکل بڑی بھیانک لگ رہی تھی۔
دانت پیس کر وہ نہایت جارحانہ انداز سے ڈورس کی طرف بڑھا جو ُدکان کے ایک گوشے میں سمٹی تھرتھر کانپ رہی تھی۔
بُرونو نے اچھل کر اُس کی گردن پھر اپنے ہاتھوں میں جکڑ لی۔ اُس کی انگلیاں آہنی سلاخوں کی طرح ڈورس کی گردن میں اتری جا رہی تھیں۔ وہ گھٹی گھٹی آواز میں چلّائی:

’’اوٹو ….. میری مدد کرو ….. مجھے بُرونو سے بچاؤ۔‘‘ بُرونو کا دباؤ ڈورس کی گردن پر بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ دوبارہ نحیف آواز میں چیخی:

’’اوٹو ….. بچاؤ ….. اوٹو!‘‘

دفعتاً شیشے کا شوکیس چٹخ گیا اور بُرونو نے دیکھا کہ اُس کے اندر ایک ثانیے کے لیے برقی چمک پیدا ہوئی۔ اُس کی انگلیاں ابھی تک ڈورس کی گردن پر جمی ہوئی تھیں۔
اُس نے گردن موڑ کر شوکیس کی طرف دیکھا۔ جہاں چند لمحے پہلے اوٹو کا مجسمہ کھڑا تھا۔ وہاں اب بُرونو کو سرخ رنگ کی پُراسرار شعاعیں سی گردش کرتی نظر آ رہی تھیں۔
ڈورس کی گردن پر اُس کی گرفت خود بخود ہلکی پڑ گئی۔ اِس اثنا میں ڈورس نے تیسری مرتبہ اَوٹو کو مدد کے لیے پکارا اَور بُرونو نے اِس مرتبہ دیکھا ….. اور وُہ اِسے اپنا وہم یا فریبِ نظر قرار نہیں دے سکتا تھا …..
کہ اوٹو کی بےجان ڈمی نے آہستہ آہستہ اپنی گردن موڑ کر اُدھر دیکھا جہاں بُرونو اپنی بیوی کو مار ڈالنے کے ارادے سے اُس کا گلا گھونٹ رہا تھا۔
بُرونو کے لیے یہ منظر ناقابلِ فراموش اور ناقابلِ یقین تھا۔ بھلا ڈمیاں بھی حرکت کیا کرتی ہیں، لیکن اوٹو کی ڈمی اب اُس کی نظروں کے عین سامنے حرکت کر رہی تھی۔
اُسے یوں محسوس ہوا جیسے اوٹو نے ڈورس کی پکار سن لی تھی اور وُہ اُس کی مدد کے لیے ہی حرکت میں آیا تھا۔

اور پھر بُرونو نے انتہائی دہشت سے دیکھا کہ اوٹو کے دائیں پاؤں کو جنبش ہوئی۔
اُس نے ٹوٹے ہوئے شوکیس میں سے اپنا پہلا قدم نکالا ….. اور اُس کے بعد دوسرا ….. اگلے ہی ثانیے میں وہ شوکیس سے باہر نظر آیا۔

’’خدا کی پناہ …..‘‘ بےاختیار بُرونو چلّایا اور اُس نے ڈورس کی گردن چھوڑ دی۔
ڈورس سسکیاں لیتی ہوئی فوراً اُٹھ کھڑی ہوئی اور اَب اُس نے بھی اوٹو کو شوکیس سے باہر آتے دیکھ لیا۔ وہ ہسٹیریائی انداز میں چلّائی:

’’اوٹو ….. میری مدد کرو ….. اِس درندے سے مجھے بچاؤ۔‘‘

دفعتاً ڈمی کے دونوں بازو آگے کو پھیل گئے جیسے وہ ڈورس کو سنبھالنا چاہتے ہوں۔ اِس کے ساتھ ہی وہ اِنسانوں کی طرح چلتی ہوئی بُرونو کے قریب پہنچ گئی۔
اُس کے بدن پر لپٹا ہوا وُہ حیرت انگیز سوٹ ستاروں کی مانند چمک رہا تھا اور اُس پر نگاہ نہیں ٹھہرتی تھی۔

بُرونو پتھر کا بت بنا اوٹو کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ رہا تھا۔ اُس کے اندر ہر قسم کی قوتِ مدافعت ختم ہو چکی تھی۔ اگر وہ بھاگنے کی کوشش کرتا، تب بھی بھاگنے کے قابل نہ تھا۔
اوٹو کی مصنوعی نیلی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں اور اُس کے لبوں پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ نہایت خوفناک شکل میں بدل گئی تھی۔
ڈورس ایک ثانیے کے لیے کھڑی اُسے دیکھتی رہی۔ پھر پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے چیختی ہوئی دکان کے بیرونی دروازے کی طرف بھاگی۔
اُسی لمحے اوٹو کے قدم جہاں تھے۔ وہیں اِس طرح رک گئے جیسے کسی برقی قوت سے رشتہ منقطع ہوتے ہی اُس کی حرکت بھی تھم گئی ہو۔
بُرونو کی آنکھیں ڈورس کی طرف مڑ گئیں۔ اُس نے دیکھا کہ ڈورس نے دروازے کا اندرونی قفل کھولا۔ کنجی اُس میں پہلے سے لگی تھی، پھر وہ اُسی ہسٹیریائی انداز میں چیختی ہوئی باہر تاریک گلی میں گم ہو گئی۔

اِس کے فوراً بعد ایک اور عجیب بات ہوئی۔ ڈورس کے دکان سے جاتے ہی اوٹو کا رکا ہوا پاؤں دوبارہ حرکت میں آ گیا۔ اب اُس کے اور بُرونو کے درمیان مشکل سے تین فٹ کا فاصلہ ہو گا۔
نہ جانے بُرونو کے اندر کہاں سے بےپناہ حوصلہ اور جرأت در آئی۔ اب اُسے اوٹو کی اِس متحرک ڈمی سے کوئی خوف نہیں تھا۔ اُس نے ہاتھ اٹھا کر نہایت تحکمانہ لہجے میں ڈمی سے کہا:

’’خبردار! جو ایک قدم اور تم نے آگے بڑھایا ….. جانتے نہیں مَیں کون ہوں؟ اپنی جگہ واپس چلے جاؤ، ورنہ جلا کر راکھ کر ڈالوں گا۔‘‘

یہ آواز اگرچہ بُرونو کے حلق سے نکل رہی تھی، لیکن بُرونو خود حیران تھا کہ یہ آواز اُس کی نہیں تھی۔

لیکن اوٹو پر اِس آواز اور حکم کا ذرّہ برابر اثر نہیں ہوا، بلکہ جواب میں بُرونو نے ایک ناقابلِ فہم زبان میں کوئی جملہ سنا جو صریحاً اوٹو نے ادا کیا تھا۔
اِس کے ساتھ ہی اوٹو کا ہاتھ حرکت میں آ گیا اور اُس کی لمبی سفید انگلیاں بُرونو کی گردن دبوچنے کے لیے آگے بڑھیں۔ بُرونو پیچھے ہٹا ….. اوٹو اور آگے آیا ….. بُرونو کچھ اور پیچھے ہٹ گیا۔
وہ بار بار اَوٹو کو واپس شوکیس میں چلے جانے کا حکم دے رہا تھا، مگر اُس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ یہاں تک کہ بُرونو کی پشت دیوار سے لگ گئی۔
اُس نے اوٹو کی گرفت سے نکل کر دکان کے پچھلے حصّے میں پناہ لینے کے لیے اوٹو کو زور سے دھکا دیا، لیکن بےسود۔ اوٹو کے ہونٹوں پر اب سفاکانہ مسکراہٹ دوڑ رہی تھی۔ اُس نے بُرونو کی گردن پر اپنا پنجہ رکھ دیا اور پھر اُس پنجے کا دباؤ بڑھتا چلا گیا۔
بُرونو کی آنکھیں حلقوں سے باہر آنے لگیں اور اُسے اپنا دم سینے میں گھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ چند لمحے یہی حالت رہی، تو اُس کے پھیپھڑے پھٹ جائیں گے۔
بُرونو نے دیوانہ وار اَوٹو کی گرفت سے آزاد ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں چلانے شروع کیے اور پھر اُس کے سامنے ایک دم پہلے چنگاریاں سی اڑیں۔ پھر وہ گہرے اندھیرے میں ڈوبتا چلا گیا۔

ڈاکٹر فاسٹر نے رومال سے پسینے میں بھیگا ہوا اَپنا چہرہ پونچھا اور دَیر تک گم صُم بیٹھا بُرونو کی صورت تکتا رہا۔ بُرونو نے دوبارہ اَپنا سوئی دھاگا اٹھا لیا اور فاسٹر کی حالت سے بےخبر کپڑا سینے میں مصروف ہو گیا۔
تھوڑی دیر بعد اُس نے بھاری آواز میں فاسٹر سے کہا:

’’ڈاکٹر! میری بات غور سے سنو ….. اُسے تلاش کرو …..
وہ اَبھی شہر میں کہیں نہ کہیں موجود ہو گا ….. وہ اِنسانوں کے لیے سخت خطرے کا سبب بن سکتا ہے ….. مَیں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ اگر اُسے تلاش نہ کیا گیا، تو بڑی تباہی پھیلے گی۔‘‘

’’تم کس کی بات کر رہے ہو، بُرونو؟‘‘ فاسٹر نے پوچھا۔ اُس نے دیکھا کہ بُرونو کی انگلیاں کانپ رہی ہیں۔
سوئی اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی، گردن سینے کی طرف ڈھلکی اور وُہ آہستہ آہستہ سسکیاں لینے لگا۔
’’اُسے تلاش کرو ڈاکٹر ….. وہ بہت بڑی بلا ہے۔‘‘ بُرونو بار بار یہی جملہ کہہ رہا تھا۔

فاسٹر نے اُس کے شانے پر اپنا ہاتھ رکھ کر دلاسا دیتے ہوئے کہا:

’’گھبراؤ نہیں بُرونو! حوصلہ رکھو ….. اوٹو کبھی زندہ نہیں ہو سکتا۔ وہ آج بھی ڈمی ہی ہو گا۔
یہ سب تمہارا وَہم ہے۔ ذہن کا فریب ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک ڈمی انسانوں کی طرح زندہ ہو کر حرکت کرنے لگے …..
اور یہ بھی یقین کرو کہ جسے تم جادو کہتے ہو، ایسی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہے۔ تمہارے لاشعور نے یہ ساری داستان تمہیں سجھائی ہے۔
تم جتنی جلدی حقیقت کی دنیا میں واپس آ جاؤ، اتنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ کیا تم میری بات سمجھ رہے ہو، بُرونو؟‘‘

بُرونو نے سسکیاں لیتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ وہ مسلسل آنسو بہا رہا تھا اور اَب اُس کی سسکیاں ہچکیوں میں بدل چکی تھیں۔

’’بہرحال ….. اطمینان رکھو بُرونو۔ جہاں تک میرے امکان میں ہو گا، تمہاری مدد کروں گا، لیکن اِس کے لیے شرط یہ ہے کہ اوٹو کو فراموش کر دو۔ اب مَیں جاتا ہوں۔‘‘

بُرونو نے منہ اٹھا کر فاسٹر کو دیکھا۔ اُس کی آنکھیں اتنی ہی دیر میں سرخ ہو چکی تھیں۔ فاسٹر کو اُن آنکھوں سے ڈر لگنے لگا۔

’’تم جا رہے ہو ڈاکٹر؟‘‘ بُرونو نے پوچھا۔

فاسٹر نے اثبات میں گردن ہلائی۔ ’’اِس وقت جا رہا ہوں، مجھے ابھی کچھ اور لوگوں سے بھی ملنا ہے، مگر مَیں پھر آؤں گا تمہارے پاس۔‘‘
یہ کہہ کر وہ دَروازے کی طرف چلا۔ رینالڈس آگے آگے چلا جا رہا تھا۔ اُس نے بڑھ کر دروازے کی ناب گھمائی، تو وہ تھوڑا سا کھل گیا۔
فاسٹر نے دروازے پر رک کر بُرونو کو دیکھا جو دوبارہ اَپنے ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپے رو رَہا تھا۔
فاسٹر نے گہرا سانس لیا۔ آپ ہی آپ دو تین مرتبہ گردن ہلائی اور کمرے سے باہر آ گیا۔ رینالڈس بھی باہر آیا اور دَروازہ مقفل کر دیا۔

’’میرا خیال ہے یہ کیس بہت پیچیدہ ہے۔‘‘ فاسٹر نے جیسے اپنے آپ سے کہا۔ رینالڈس چونک کر اُس کی طرف دیکھنے لگا۔ فاسٹر نے بھی اُسے دیکھا اور کہا:

’’ہاں! بہت گہرا معاملہ ہے ….. بُرونو کی گتھی آسانی سے نہیں سلجھ سکتی، تاہم مَیں مایوس نہیں ہوں۔
مجھے یقین ہے ہم بُرونو کو اُس کی اصلی حالت میں واپس لا سکتے ہیں۔
اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ وہ یہاں کیسے پہنچا؟‘‘

رینالڈس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اُس نے آہستہ سے کہا
’’ہو سکتا ہے وہ بھی یہاں پہلے پہل ڈاکٹر کی حیثیت ہی میں آیا ہو جیسے آپ آئے ہیں۔‘‘

فاسٹر راہداری میں چلتے چلتے رک گیا اور حیرت آمیز نظروں سے رینالڈس کا منہ تکنے لگا۔

’’تم مذاق کر رہے ہو مسٹر رینالڈس یا سنجیدہ ہو؟‘‘

’’مَیں قطعی سنجیدہ ہوں ڈاکٹر!‘‘ رینالڈس نے کہا۔ ’’بھلا میری یہ مجال کہاں کہ آپ سے مذاق کروں۔‘‘

’’پھر تم نے ایسی مشکوک بات کیوں کہی؟‘‘ فاسٹر نے پوچھا۔

’’اِس لیے کہ یہ خیّاطی اور سرجری میں کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔‘‘
رینالڈس نے ہنس کر کہا۔ ’’کم از کم ٹانکے لگانے کی حد تک تو دونوں پیشے ایک سے ہیں۔‘‘

فاسٹر بےاختیار ہنس دیا۔ ’’ہاں، یہ بات تو درست ہے۔ بہرحال ….. یہ بات تو طے ہے کہ بُرونو نے جو کہانی مجھے سنائی، وہ صحیح نہیں ہے۔
یہ تمام واقعات اُس کے ذہن کی ایجاد ہیں اور ایک لمحے کے فرض کرو کہ بُرونو کے بیان کردہ وَاقعات صحیح ہیں، تو مَیں پوچھتا ہوں اُس کی بیوی ڈورس کہاں ہے؟‘‘

’’میرا خیال ہے جب آپ سب مریضوں سے ملاقات کر چکیں گے، تب ڈاکٹر رُتھ فورڈ آپ کو اُن سب کے بارے میں اصل حقائق سے آگاہ کر دیں گے۔
بلاشبہ تھوڑا بہت اُن حقائق سے مَیں بھی آگاہ ہوں، لیکن آپ پر ظاہر کرنے سے اِس وقت معذور ہوں۔ امید ہے آپ خفا نہ ہوں گے۔‘‘

’’قطعی نہیں۔ مَیں یہ باتیں سمجھتا ہوں۔‘‘ فاسٹر نے کہا۔ ’’اب بتاؤ میری تیسری ملاقات کس سے کرا رَہے ہو؟‘‘

’’میرے ساتھ ساتھ تشریف لائیے۔‘‘ رینالڈس نے مؤدبانہ انداز سے راہداری میں مڑتے ہوئے ایک طرف اشارہ کیا۔
اِس دوران میں اُس نے اپنے کوٹ کی جیب سے کنجیوں کا وزنی گچھا پھر نکال کر ہاتھ میں لے لیا تھا اور ایک خاص کنجی دیکھ رہا تھا۔
وہ دونوں دو منٹ تک خاموشی سے مختلف راہداریوں میں چلتے رہے۔ فاسٹر نے ایک کھڑکی میں سے باہر کا منظر دیکھا اور محسوس کیا کہ طوفانِ باد و باراں کسی قدر تھم چکا تھا۔
اگرچہ وقفے وقفے سے باہر اندھیرا اَبھی جُوں کا تُوں تھا۔ رینالڈس دفعتاً ایک بند دروازے کے آگے ٹھہر گیا اور اُس نے فاسٹر سے کہا:

’’اب آپ جس شخصیت سے ملاقات کریں گے، وہ خود کو باربرا کہتی ہے

جاری ہے۔ (باربرا سے ملیں حصہ چہارم میں)
https://shanurdu.com/pagal-khana-part-4-barbara/

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles