44 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

پاگل خانہ|pagal khana| part 7| forbus

پاگل خانہ

مقبول جہانگیر

(آخری حصہ)

(فوربس)

’’فوربس کے پاس شاید مجھے کچھ دیر لگ جائے گی۔ تم واپس جانا چاہو، تو چلے جاؤ۔‘‘

آئیوان نے کوئی جواب نہ دیا اور دوبارہ فاسٹر کو کمرے میں داخل ہونے کا اشارہ کیا۔ فاسٹر نے تعمیل کی اور کمرے میں قدم رکھا۔ اُس نے اپنے عقب میں دروازہ بند کیے جانے کی آواز سنی۔
پھر آئیوان کے بھاری قدموں کی چاپ آہستہ آہستہ دور ہوتی گئی۔ فاسٹر اپنی جگہ دم بخود کھڑا رَہا۔ دفعتاً اُسے یاد آیا کہ جب وہ تہ خانے میں پڑا تھا، تب وہ کون شخص تھا جو اُسے چوکور سوراخ میں سے جھانک جھانک کر آوازیں دے رہا تھا کیا وہ آئیوان تھا یا کوئی اور؟
اگر وہ آئیوان ہی تھا، تو اب اُسے کیا ہوا جو گونگا بن گیا۔ آواز دینے والا شخص ڈاکٹر بی اسٹار بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ اُس کی اور آواز دینے والے آدمی کی آوازوں میں نمایاں فرق تھا۔
لامحالہ وہ آئیوان ہی کی آواز ہو گی۔ فاسٹر کی ذہنی قوتیں پھر ماؤف ہونے لگیں۔ اُسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ مکمل پاگل ہو چکا تھا۔

جہاں وہ کھڑا تھا، وہاں بھی تاریکی تھی، لیکن اتنی نہیں کہ اُسے نظر نہ آ سکے، البتہ اُسے کمرا کہنا درست نہ تھا۔ یہ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی تھی۔
مشکل سے سات آٹھ فٹ لمبی اور پانچ فٹ چوڑی، اِس میں کوئی کھڑکی نہ تھی۔ چھت کے نزدیک ایک چھوٹا سا روشن دان ضرور تھا جس میں روشنی کی ہلکی ہلکی کرنیں اندر آنے کی کوشش کر رہی تھی اور کبھی کبھار ہوا کے ایک دو جھونکے بھی آ جاتے تھے۔
فاسٹر نے دیکھا کہ دروازے کے ساتھ ہی ایک گول ڈھکنے پر بجلی کا سوئچ لگا ہے۔ بجلی کا یہ سوئچ دیکھ کر فاسٹر کو حیرانی ہوئی۔ اُس نے ہاتھ بڑھا کر سوئچ آن کر دیا۔
چھت میں لگا ہوا ایک کمزور بلب فوراً روشن ہوا اَور اُس کی مدھم زرد رَوشنی میں فاسٹر کو ایک ٹوٹا پھوٹا، بوسیدہ سا لوہے کا پلنگ نظر آیا جس پر ایک سال خوردہ آدمی گہری نیند سو رہا تھا۔

پہلی نگاہ میں فاسٹر کو یہ آدمی مردہ نظر آیا کہ اُس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد تھا اور گردن کی رگیں اُبھری ہوئی تھیں۔
اُس کی ڈاڑھی اور مونچھوں کے بال خاصے بڑھے اور اُلجھے ہوئے تھے جیسے بہت دنوں سے اُن کی اصلاح نہ کی گئی ہو۔ وہ دُبلا پتلا اور بہت ہی نحیف و نزار شخص تھا۔
فاسٹر نے دبے پاؤں آگے بڑھ کر قریب سے اُس کا جائزہ لیا۔ سوئے ہوئے آدمی کے سینے میں سانس کی بہت معمولی آمد و رفت نہ ہوتی، تو فاسٹر واقعی اُسے مردہ ہی خیال کرتا۔
اُس کے بدن پر پھٹی پرانی قمیص تھی اور وُہ سیاہ رَنگ کی پتلون پہنے ہوئے تھا۔ یہ پتلون بھی گھٹنوں اور پائنچوں سے پھٹی ہوئی تھی۔ سونے والے کا منہ سختی سے بھنچا ہوا تھا، لیکن اُس کے ہونٹوں کے کناروں سے سفید سفید جھاگ نکل رہی تھی۔
فاسٹر کو اُس شخص پر آپ ہی آپ ترس آنے لگا۔ اُسے خیال نہیں تھا کہ فوربس ایسی حالت میں ملے گا۔ فاسٹر نے فوربس سے نظریں ہٹا کر کوٹھڑی کا جائزہ لیا۔
اِدھر اُدھر چند برتن پڑے تھے۔ غالباً اِن برتنوں میں فوربس کو کھانا پانی وغیرہ دِیا جاتا ہو گا۔ اِن برتنوں کے علاوہ وَہاں کوئی اور چیز نہ تھی۔

فاسٹر کو اَپنے بیٹھنے کے لیے بھی کوئی جگہ دکھائی نہ دی، لیکن وہ زیادہ دَیر کھڑا بھی نہیں رہ سکتا تھا۔ اِس لیے احتیاط سے کام لیتے ہوئے وہ فوربس کی پائنتی بیٹھ گیا اور اُس کے بیدار ہونے کا انتظار کرتا رہا۔
یکایک فوربس کا سانس تیز تیز چلنے لگا اور سینے کے زیروبم میں نمایاں فرق نمودار ہوا۔ فاسٹر ٹکٹکی باندھے اُسے دیکھ رہا تھا۔
سونے والے کے انداز سے فاسٹر کو یہ معلوم کرنے میں دشواری نہ ہوئی کہ وہ کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہا ہے۔ پھر فوربس کا بھنچا ہوا منہ کھلا اور وُہ نیند میں بڑبڑانے لگا۔
پہلے پہل فاسٹر اُس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ سمجھ نہیں پایا لیکن رفتہ رفتہ فوربس کی آواز اونچی ہوتی گئی۔ اُس کی آنکھیں اب بھی بند تھیں، مگر وہ یوں بول رہا تھا جیسے اپنے آپ سے باتیں کر رہا ہو:

’’قتل ….. بچاؤ ….. پکڑو  ….. مَیں نے اُسے نہیں مارا ….. بھلا اُسے کیوں قتل کرتا ….. مجھے تو اُس سے محبت تھی۔‘‘

فوربس کے دانت بجنے لگے اور اُن کے بجنے سے ایسی بھیانک آواز کوٹھڑی میں گونجنے لگی جس نے فاسٹر کے اعصاب شکستہ کر دیے۔
فوربس ابھی تک نیند میں بڑبڑا رَہا تھا۔ معاً اُس نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا اور اَپنی گردن پر رکھ لیا۔ پھر اُس کے بدن پر لرزہ سا طاری ہوا جس کے بعد اُس کا بایاں ہاتھ بھی حرکت کر کے گردن پر آ گیا۔
فاسٹر کو یوں لگا جیسے فوربس خواب میں کسی کو اَپنا گلا گھونٹتے ہوئے دیکھ رہا ہو اَور اِس وقت سخت روحانی اذیت سے دوچار ہو۔
بولتے بولتے اُس کی آواز مدھم پڑ گئی۔ یہاں تک کہ قریب بیٹھے ہوئے فاسٹر کو بھی اچھی طرح وہ اَلفاظ سنائی نہیں دے رہے تھے جو فوربس کے منہ سے ادا ہو رَہے تھے۔
فاسٹر نے بڑھ کر اَپنا کان فوربس کے منہ سے لگا دیا۔ وہ کہہ رہا تھا:

’’بھوری آنکھیں ….. بائیں آنکھ کے اوپر تِل ….. کالا تِل ….. سنہری بال ….. لمبے لمبے ….. اُن بالوں میں سونے کی پِن لگی ہوئی ہے ….. ہاں ہاں امّاں ….. تم ٹھیک کہتی ہو ….. یہ تو وہی صورت ہے ….. وہی صورت ….. سفید سفید بازو ….. چھوٹے چھوٹے ہاتھ ….. اور ….. لمبی لمبی انگلیاں ….. ناخنوں پر پالش ….. سرخ رنگ کی پالش ….. آہ ….. اُس کے ہاتھ میں خنجر ہے امّاں ….. ہاں ہاں خنجر ہی ہے ….. چمکتا ہوا لمبا سا خنجر ….. وہ مجھے مارنے کے لیے آ رہی ہے ….. اب ….. اُس نے میرے دائیں جانب وار کیا ہے ….. مَیں بچ گیا ہوں۔ مَیں نے دوسری طرف کروٹ لے لی ہے ….. مگر ….. وہ دُوسری طرف آ گئی ہے ….. خنجر اُس کے ہاتھ میں ہے ….. ہائے ….. وہ مجھے مار ڈالے گی ….. یہ عورت نہیں، کوئی چڑیل ہے ….. امّاں ….. اُس سے خنجر چھین لو ….. خنجر چھین لو۔‘‘

فوربس کے حلق سے یہ الفاظ سرگوشیوں میں برآمد ہو رَہے تھے اور اُس کے بدن پر لرزہ طاری تھا۔ فاسٹر سے اب ضبط نہ ہو سکا، اُس نے دونوں ہاتھوں سے جھنجوڑ کر اُسے جگا دیا۔
فوربس نے آنکھیں کھول دیں۔ اُس کی آنکھیں خونِ کبوتر کی طرح سرخ ہو رہی تھیں۔
فاسٹر دہشت زدہ ہو گیا۔ فوربس اُن خونیں آنکھوں سے فاسٹر کو تکتا رہا، پھر اُس کی پتلیاں سکڑ نے اور پھیلنے لگیں اور آہستہ آہستہ آنکھوں کی سرخی زائل ہونے لگی۔
اُس کے چہرے پر پھیلے ہوئے وحشیانہ آثار معدوم ہوئے، اُس نے اٹھ کر بیٹھنا چاہا۔ اِس کام میں فاسٹر نے اُس کی مدد کی۔

’’کون ….. کون ہو تم؟‘‘ فوربس کے حلق سے بھرّائی ہوئی آواز نکلی۔ ’’اگر تم پولیس افسر ہو، تو یہاں سے نکل جاؤ۔ تم لوگوں نے مجھے تباہ کر دیا ہے ….. بدمعاش ….. خنزیر ….. کمینے ….. کیا تمہیں اب بھی مجھ پر شک ہے کہ ربیکا کو مَیں نے قتل کیا تھا؟
خدا تمہیں غارت کرے! مَیں کتنی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ مَیں نے اسے قتل نہیں کیا۔ اُس نے تو خود ہی اپنے سینے میں خنجر گھونپ لیا تھا۔‘‘

فاسٹر نے آہستہ سے کہا ’’مجھے معلوم ہے، مسٹر فوربس! ….. مجھے معلوم ہے ….. تم بالکل بےقصور ہو ….. تم نے برجی کو قتل نہیں کیا تھا۔‘‘

فوربس خوش ہو گیا۔ ’’کیا واقعی تم بھی ایسا سمجھتے ہو؟ خدا کا شکر کہ دنیا میں کم از کم ایک شریف آدمی تو ایسا ہے جو مجھے مجرم نہیں سمجھتا …..
ویسے تم ہو کون؟ پولیس والے تم نہیں دکھائی پڑتے۔‘‘

’’مَیں ایک ڈاکٹر ہوں مسٹر فوربس!‘‘ فاسٹر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ’’اور خاص طور پر تم سے ملاقات کے لیے لندن سے یہاں آیا ہوں۔
مَیں نے تمہارے کیس کا تفصیل سے مطالعہ کیا اور مجھے محسوس ہوا کہ تم سے سخت زیادتی ہوئی ہے۔ کسی نے تمہارے بیان پر اچھی طرح توجہ نہیں دی اور تمہیں قتل کا ذمےدار قرار دَے کر یہاں قید کر دیا۔
حالانکہ مَیں خوب جان گیا ہوں کہ تم نے یہ واردات نہیں کی تھی۔‘‘

فوربس نے فاسٹر کے دونوں ہاتھ تھام لیے اور کہا ’’تم آدمی نہیں، رحمت کے فرشتے ہو ڈاکٹر! دیکھتے ہو اِن کم بختوں نے میری کیا گت بنائی ہے ….. بھلا مَیں تمہیں صورت شکل سے کوئی قاتل نظر آتا ہوں؟ ایسا قاتل جو اَپنی بیوی کو قتل کر سکتا ہو؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔ اب یہ بتاؤ، تم مجھے یہاں سے کب نکال کر اَپنے ساتھ لے جاؤ گے۔ مَیں اِس منحوس مقام پر ایک منٹ نہیں رکنا چاہتا۔‘‘

فاسٹر نے فوربس کے شانے پر تھپکی دی۔ ’’گھبراؤ نہیں ….. دو تین پیچیدگیاں ہیں جو جلد دور ہو جائیں گی۔ پھر تم آزاد ہو گے اور تمہاری گم شدہ توانائیاں بحال ہو جائیں گی، لیکن اِس کے لیے شرط یہ ہے کہ تم میرے ساتھ تعاون کرو …..
مجھے اپنے بارے میں تفصیل سے بتاؤ۔ جو کچھ تمہیں یاد آتا جائے، بیان کرو …..
ہو سکتا ہے مَیں کوئی ایسا نکتہ دریافت کر لوں جس کی مدد سے تمہارے کیس پر قانونی نقطۂ نگاہ سے دوبارہ غوروخوص کیا جا سکے۔ اگر ضرورت پڑی، تو مَیں کسی اچھے وکیل کا بندوبست بھی کر دوں گا۔‘‘

فوربس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے ٹپکنے لگے۔ یہ آنسو شکرگزاری کے تھے۔ اُس نے فاسٹر کے ہاتھوں کو بوسہ دینا چاہا، مگر فاسٹر نے اپنے ہاتھ جلدی سے ہٹا لیے۔
فوربس مسلسل آنسو بہاتا رہا یہاں تک کہ وہ ہچکیاں لے لے کر رونے لگا۔ فاسٹر نے اُسے دلاسا دیا۔ اِس کے سوا وُہ کر بھی کیا سکتا تھا۔ اُسے دل میں اِس امر پر سخت ندامت تھی کہ اُس نے ایک قابلِ رحم شخص سے دیدہ دَانستہ جھوٹ بولا۔
اُسے بتایا کہ وہ صرف اُسی سے ملاقات کے لیے آیا ہے اور یہ کہ وہ فوربس کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ یہ تو صریحاً جھوٹ تھا ….. ڈاکٹر ہو کر اُس نے ایک مریض سے غلط بیانی کی تھی۔ اِس احساسِ ندامت سے خود فاسٹر کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
کاش! وہ مجہول اور دِیوانے فوربس کو بتا سکتا کہ خود اُس کی حیثیت اِس عمارت میں محبوس ایک پاگل کی سی ہے لیکن وہ یہ سب کچھ نہیں کہہ سکا اور فوربس ہی کو تسلیاں دینے میں لگا رہا۔
آخرکار فوربس نے اپنے آنسو پونچھے اور نڈھال ہو کر پلنگ پر لیٹ گیا۔ پھر فاسٹر کو اُس کی لرزہ خیز کہانی سننے کے لیے زیادہ اِنتظار نہیں کرنا پڑا۔

فوربس، انگلستان کے مغربی ساحل پر واقع ایک چھوٹے سے گاؤں کے چھوٹے سے مکان میں اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ بچپن ہی سے وہ خاصا کُند ذہن اور غبی تھا۔
پڑھنے لکھنے کے بجائے اُس کا دھیان کھیل کود میں لگا رہتا۔ اُس کا باپ ریلوے میں معمولی ملازم تھا اور اُس وقت فوربس کی عمر کا آٹھواں برس شروع ہوا تھا کہ اُس کا باپ انجن کے نیچے آ کر ہلاک ہو گیا۔
اگر اُس کی ماں حوصلہ مند عورت نہ ہوتی، توفوربس کو یقیناً کسی خیراتی ادارے کے سہارے اپنا بچپن اور پھر جوانی کے دن کاٹنے پڑتے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

فوربس کی ماں محنت مزدوری کر کے اپنا اور اُس کا پیٹ پالتی رہی۔ اُس نے بڑی کوشش کی کہ فوربس اگر لکھنا پڑھنا نہیں چاہتا، تو کوئی ہنر ہی سیکھ لے۔
اِس مقصد کے لیے اُس نے اُسے مختلف ہنرمندوں کے پاس کام سیکھنے کے لیے بٹھایا، مگر فوربس تین چار دِن کام سیکھتا اور پھر آوارگی پر تُل جاتا۔ حتیٰ کہ اُس کی زندگی کے بائیس برس بِیت گئے۔
اپنے گاؤں میں وہ ’’بدنصیب فوربس‘‘، ’’جاہل فوربس‘‘ اور ’’نالائق فوربس‘‘ کے القابات و خطابات سے جانا پہچانا جاتا تھا۔
خدا جانے کیسے اُس کے بارے میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ فوربس سخت منحوس آدمی ہے جس جگہ اُس کا سایہ بھی پڑ جائے، وہ جگہ ویران اور برباد ہو جاتی ہے۔

لوگ اُس سے خواہ مخواہ خوف کھانے لگے۔ فوربس کو دور سے آتا ہوا دَیکھتے، تو وہ رَاہ چھوڑ کر پرلی طرف ہو جاتے۔ گاؤں کی کوئی عورت اور کوئی نوجوان اُس سے بات کرنے کا روادار نہ تھا۔
اُس نے اپنی نحوست کا سبب جاننے کی بڑی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہوا۔
پھر وہ دِن بھی آیا جب گاؤں والوں نے فوربس کی ماں سے کہا کہ وہ اَپنے منحوس بیٹے کو کہیں اور بھیج دے، ورنہ وہ لوگ کوئی اور تدبیر کریں گے۔

فوربس کی ماں بےچاری گاؤں کے تمام افراد کا تن تنہا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ چنانچہ وہ دونوں ماں بیٹا اپنے گاؤں سے نکلے اور دَس بارہ میل دور وَاقع ایک اور بستی میں چلے گئے۔
فوربس اُن دنوں پھیری پر سلے سلائے کپڑے بیچا کرتا تھا۔ بس یہی کام ایسا تھا جو اُسے پسندِ خاطر ہوا، مگر سلے سلائے کپڑوں میں کوئی خاص آمدنی نہ تھی۔
نہایت معمولی کمیشن فوربس کو ملتا اور اُسی میں وہ ماں بیٹا اپنی گزر اَوقات کرتے۔

فوربس کی ماں اب بوڑھی اور کمزور ہوتی جا رہی تھی اور اُس کی دلی خواہش تھی کہ فوربس کی جلد کہیں شادی ہو جائے، لیکن اِس جیسے کنگال نوجوان کی شادی اتنی آسان نہ تھی۔
غریب سے گھرانے میں بھی فوربس کے لیے رشتہ نہ تھا۔ وجہ دراصل یہ تھی کہ وہ بےچارہ شکل سے بھی پیدل تھا اور عقل و خرد کی بھی اُس میں خاصی کمی تھی۔
اِس پر ستم یہ ہوا کہ اُس سے پہلے گاؤں والوں نے دوسرے گاؤں کے لوگوں تک یہ بات پہنچا دی کہ فوربس دنیا کا سب سے زیادہ منحوس آدمی ہے۔
ظاہر ہے ایسے منحوس کے ہاتھ میں کون احمق اپنی بیٹی یا بہن کا ہاتھ تھما دیتا۔ یہ تھے وہ حالات جن میں فوربس جیسے نوجوان کو یقیناً پاگل ہو جانا چاہیے تھا، لیکن وہ پاگل نہیں ہوا۔
واقعہ یہ ہے کہ اُس میں پاگل ہونے کی صلاحیت بھی نہ تھی۔

فوربس پر آہستہ آہستہ حزن و ملال طاری رہنے لگا۔ اُس کی کوشش یہ ہوتی کہ اپنے کام سے فارغ ہو کر سمندر کی طرف نکل جائے یا کسی ایسے مقام پر جا بیٹھے جہاں اُس کی تنہائی میں مخل ہونے والا کوئی نہ ہو۔
وہ گھنٹوں سمندر کی لہروں کو اُچھلتے مچلتے اور آپس میں ٹکراتے دیکھا کرتا یا جنگل میں جا کر درختوں اور پودوں سے باتیں کرتا۔
وہ پاگل تو بہرحال نہیں تھا مگر اِس بستی کے لوگ اُسے پاگل ہی کہتے تھے۔ سوائے ایک عورت کے جو اُس کی ماں تھی۔

کوئی ماں اپنے پاگل بیٹے کو پاگل نہیں کہتی۔ چہ جائیکہ فوربس کی ماں اُسے پاگل سمجھتی۔ وہ تو اپنے بیٹے سے ازحد محبت کرتی تھی اور سال کے سال باقاعدگی سے فوربس کی سالگرہ منایا کرتی۔
اُس سالگرہ میں اُن ماں بیٹے کے علاوہ کوئی تیسرا فرد شریک نہیں ہوتا تھا۔ فوربس کی سالگرہ وَالے دن وہ اُسے کپڑوں کا نیا جوڑا پہناتی اور دو تین لذیذ کھانے تیار کرتی۔
پھر وہ کھانے کی میز پر بیٹھے رات گئے تک باتیں کرتے۔

فوربس چالیس کے پیٹے میں پہنچ چکا تھا اور اُس کی ظاہری حالت بےحد مایوس کن تھی۔ سلے سلائے کپڑے پھیری پر بیچنے کا دھندا ختم ہو چکا تھا کہ لوگ خاصے ترقی یافتہ ہو گئے تھے۔
اب کسی کو کپڑے خریدنے کی ضرورت نہ تھی۔ جگہ جگہ فیشن ایبل درزیوں نے دکانیں کھول لی تھیں اور کپڑے کرائے پر بھی آسانی سے مل جاتے تھے، چنانچہ اُس کا دھندا چوپٹ ہو گیا اور ایک بار پھر ماں بیٹا فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے۔

فوربس کی جسمانی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ سخت محنت مشقت کا کام کر سکتا۔ مگر کام تو اُسے بہرحال، کچھ نہ کچھ کرنا ہی تھا۔
رفتہ رفتہ اُن کی جوڑی ہوئی وہ معمولی سی رقم بھی ختم ہو رہی تھی جو اُنھوں نے آڑے وقت کے لیے بچا رکھی تھی۔
اچانک فوربس کو پتا چلا کہ کسی رئیس کو اَپنے اصطبل میں گھوڑوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک سائیس کی ضرورت ہے۔
یہ کام اُس نے کبھی نہ کیا تھا، لیکن اِس امید پر شاید اُسے یہ ملازمت مل جائے، اُس نے اپنی ماں سے اُس رئیس سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

اُس رئیس کا مکان وہاں سے بیس بائیس میل دور تھا۔ فوربس کی ماں نے اُسے جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ دو دِن بعد اُس کی سالگرہ ہے۔
اُس دن وہ ہر قیمت پر اپنے گھر واپس آ جائے، خواہ نوکری ملے نہ ملے۔

اُس نے اپنی ماں سے وعدہ کیا کہ وہ سالگرہ وَالے دن آ جائے گا اور ساتھ ہی خوشخبری بھی لائے گا کہ اُسے ملازمت مل گئی ہے۔

سرما کی وہ ایک اداس شام تھی جب فوربس اپنا ناشتا رومال میں باندھ کر جھونپڑی سے نکلا۔ اُس کے پاس ویسا پختہ مکان نہیں تھا جیسے گاؤں کے دوسرے باسیوں کے پاس تھے۔
وہ ماں بیٹا تو گھاس پھونس کی بنی ہوئی ایک جھوپنڑی میں رہتے تھے۔ اُس جھوپنڑی کو اُنھوں نے چھوٹے چھوٹے کمروں میں تقسیم کر لیا تھا۔
دو خواب گاہیں، ایک باورچی خانہ اور غسل خانہ۔ ایک خواب گاہ میں لکڑی کے تختے بھی لگے ہوئے تھے اور وَہاں فوربس سویا کرتا تھا۔
بار بار وُہ یہ سوچ کر پریشان ہوا کرتا کہ اگر اُس کی شادی ہو گئی، تو وہ اَپنی بیوی کو کیا اِسی جھونپڑی میں رکھے گا۔ اِس سوال کا جواب اُسے کبھی نہ ملا۔

ماں فوربس کو دروازے سے کچھ آگے تک رخصت کرنے آئی اور وَاپس جاتے ہوئے ایک بار پھر اُس نے اُسے یاد دِلایا کہ بدھ کی رات اُس کی سالگرہ ہے۔
اُس روز وہ ہر صورت میں گھر لَوٹ آئے۔ فوربس نے پختہ وعدہ کیا کہ وہ آ جائے گا۔ اِس کے بعد اُس نے ماں کو واپس بھیجا اور خود لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا رَئیس کے گاؤں کی طرف چل پڑا۔
اِن راستوں پر وہ گزشتہ تیس پینتیس برسوں سے مسلسل پیدل چل رہا تھا۔ اُسے ایک ایک چپے کا علم تھا کہ کہاں سڑک پکی ہے اور کہاں کچی۔
کس جگہ گڑھے ہیں اور کدھر سے دلدلی علاقہ شروع ہوتا ہے۔ اُس کے لیے دن اور رَات کا سفر ایک تھا۔

فوربس جب گھر سے چلا، تو پیر کا دن تھا اور اُسے بدھ کے روز شام تک واپس آ جانا چاہیے تھا۔ بدھ کی رات ٹھیک دو بجے وہ پیدا ہوا تھا۔
اِسی لیے اُس نے ماں کو یقین دلایا تھا کہ وہ بدھ کی رات دو بجے سے پہلے پہلے ضرور وَاپس آ جائے گا۔ لیکن اِسے واقعی اُس کی بدقسمتی یا نحوست ہی کہنا چاہیے کہ جب بائیس میل کا سفر طے کر کے منگل کی صبح اُس رئیس کے مکان تک پہنچا، تو اُسے شدید بخار چڑھا ہوا تھا۔
فوربس کی عمر اب ایسی نہ تھی کہ وہ بیس بائیس میل کا سفر مسلسل پیدل طے کرے۔ بخار اِس سے پہلے بھی کئی بار اُسے آ چکا تھا، لیکن اُس نے کبھی ایسی بیماریوں کی پروا نہ کی تھی،
چنانچہ اِس مرتبہ بھی فوربس نے بخار کو اَہمیت نہ دی، مگر بخار لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتا جا رہا تھا۔
آپ اُس بےچارے کی ابتر حالت کا اندازہ یوں کر سکتے ہیں کہ رئیس کے مکان پر پہنچ کر اُسے معلوم ہوا کہ جس نوکری کے لیے وہ آیا تھا، اُس پر تو ایک دن پہلے ہی آدمی رکھا جا چکا ہے۔

وہ تھکن اور بخار سے سخت نڈھال تھا۔ وہ گرتا پڑتا اور اَپنی قسمت کو کوستا گاؤں کی چھوٹی سے سرائے میں پہنچا اور ایک کوٹھڑی کرائے پر لے کر منگل کا سارا دِن کبھی سوتا، کبھی جاگتا رہا۔
اُس کا ارادہ تھا کہ منگل کی شام تک طبیعت ٹھیک ہو جائے، تو وہ اَپنے گھر کی طرف چل پڑے گا تاکہ بدھ کی دوپہر اپنے گھر میں حسبِ وعدہ پہنچ سکے۔ لیکن منگل کی شام رات کی تاریکی میں بدل گئی اور اُس کا بخار نہیں اترا۔

سرائے کی مالکہ ایک عمررسیدہ عورت تھی۔ اُس نے فوربس کی حالت پر ترس کھا کر نہ صرف کرایہ معاف کر دیا بلکہ اپنے پاس سے دوا بھی دی اور کھانا بھی کھلایا۔
اُس کی حالت بدھ کی دوپہر تک خاصی درست ہو چکی تھی اور وُہ فوراً ہی وہاں سے چل پڑا۔ اب وہ شام سے پہلے پہلے اپنے گھر پہنچ جانا چاہتا تھا۔

نصف راستہ طے کرنے کے بعد دفعتاً ایسا ہوا کہ آسمان پر چمکتا ہوا سورج غائب ہو گیا۔ زبردست گھٹائیں اُمڈ اُمڈ کر آنے لگیں۔
طوفانِ بادوباراں کے خوف سے فوربس نے ایک قدیم عمارت کے کھنڈروں میں پناہ لی۔ بخار کی حالت میں وہ بھیگنا نہیں چاہتا تھا۔
کوئی اور موقع ہوتا، تو اُسے بھیگنے کی بھی پروا نہ ہوتی، مگر اِس مرتبہ وہ اَپنی ماں کا دل رکھنے کے لیے سالگرہ کی شب صحیح سلامت گھر پہنچنے کا شدت سے خواہش مند تھا۔
اُس نے ابھی کھنڈر میں پناہ لی ہی تھی کہ موسلادھار بارش ہونے لگی۔

فوربس کا خیال تھا کہ بارش زیادہ سے زیادہ گھنٹہ دو گھنٹہ برسے گی۔ اِس کے بعد وہ اَپنا سفر جاری رکھ سکے گا۔ لیکن بارش تو رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اُس کے تن پر کپڑے بھی پورے نہ تھے۔
پیدل چلتا، تو بدن گرم رہتا۔ مگر اب شدید بارش کے باعث موسم بہت زیادہ سرد ہو گیا تھا۔ اُس نے کھنڈر سے نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور لرز گیا۔
یقیناً یہ غیرمعمولی بارش تھی اور یہ بھی ممکن تھا کہ بارش تھمے، تو رات کو کسی وقت برف گرنی شروع ہو جائے۔ اُسے بہرصورت رات دو بجے تک اپنے گھر پہنچنا تھا اور یہ وہ وقت تھا جب وہ پیدا ہوا تھا۔
پچھلے انتالیس برسوں سے اُس کی سالگرہ میں ناغہ نہیں ہوا تھا اور اُس کی ماں کی یہی ایک خوشی تھی جسے پورا کر کے اُسے روحانی مسرّت ملتی تھی۔

فوربس نے اب تک اپنی ماں کو اِس کے سوا اَور کوئی خوشی کبھی نہیں دی تھی۔ اِس تصوّر سے کہ شاید وہ اِس مرتبہ وقت پر گھر نہ پہنچ پائے گا، وہ بےحد اُداس اور رَنجیدہ ہو گیا۔
اُس نے عالمِ خیال میں اپنی ماں کو دیکھا کہ وہ اُس کا انتظار کر رہی ہے۔ وہ سب کچھ بھول گیا۔ بےتابانہ کھنڈر سے نکل کر وہ بارش میں بھیگتا ہوا دِیوانہ وار اَپنے گھر کی طرف دوڑنے لگا۔ ل
یکن بہت جلد اُسے اپنی رفتار ہلکی کرنا پڑی۔ بارش کا پانی جا بجا جمع تھا اور فوربس اِسی پریشان میں راستہ بھول کر کہیں سے کہیں جا نکلا۔

راستہ بھولنے کا احساس اُسے خاصی دیر بعد اُس وقت ہوا جب رات سر پر آ گئی اور اُس کے اردگرد اَندھیرے نے تیزی سے جال بُننا شروع کیا۔
اُسے یقین نہیں آتا تھا کہ وہ رَاستہ بھی بھول سکتا ہے۔ آج تک ایسا نہیں ہوا تھا۔ حالانکہ وہ بارہا شدید سے شدید بارش اور برف باری میں بھی میلوں سفر کرتا رہا تھا۔

بارش میں بھیگ جانے کے بعد فوربس اب چوہے کی طرح کانپ رہا تھا۔ سردی سے اُس کے ہاتھ پیر سُن ہونے لگے۔ اُس نے اِس امید پر گرد و پیش کا جائزہ لیا کہ شاید کوئی چھوٹی موٹی آبادی نظر آ جائے، مگر بےسود۔
ہر طرف ہولناک سناٹا اور ویرانی تھی۔
فوربس نے خود کو اُونچے نیچے ٹیلوں اور خطرناک گھاٹیوں کے درمیان گِھرے ہوئے پایا۔ ایک جگہ رک کر وہ سوچنے لگا کہ یہ کون سا مقام ہے۔
خوب غور کرنے کے باوجود اُسے یاد نہیں آیا کہ یہ جگہ اُس کے لیے اجنبی ہے یا وہ پہلے بھی یہاں سے گزر چکا تھا۔ اُسے اب جلد از جلد کہیں پناہ لینی چاہیے تھی،
ورنہ رات بھر وہ یوں ہی بھیگتا رہا، تو اُس کی موت یقینی تھی۔
آخری کوشش کرتے ہوئے وہ تین میل اِس توقع پر چلا کہ شاید صحیح راستہ دکھائی دے جائے، لیکن جُوں جوں وہ آگے بڑھ رہا تھا، راستہ زیادہ دُشوار گزار اَور نامانوس ہوتا جا رہا تھا۔
یکایک اُس نے بھیڑیوں کے چلّانے کی آوازیں سنیں اور اُس کا رہا سہا خون بھی رگوں میں جمنے لگا۔ اُس نے خونخوار بھیڑیوں کے بارے میں بہت سی کہانیاں بچپن میں اپنی ماں کی زبانی سُنی تھیں کہ کس طرح بھولے بھٹکے مسافروں پر بھیڑیے حملہ کر کے اُنھیں چٹ کر جاتے ہیں۔ فوربس پوری قوت سے اندھادھند دوڑنے لگا۔
تاہم ہر لمحہ اُسے یہی احساس ہوتا کہ بھیڑیوں نے اُس کی بُو پا لی ہے اور وُہ اُس کے تعاقب میں اپنی لال لال زبانیں نکالے لپکے چلے آ رہے ہیں۔

دفعتاً اُس نے ٹھوکر کھائی اور وُہ منہ کے بَل گرا۔ اُس کا سر کسی پتھر سے ٹکرایا۔ نگاہوں کے آگے چنگاریاں سی اڑیں، پھر اُسے کچھ خبر نہ رہی۔

فوربس کو ہوش آیا، تو وہ ایک گہرے گڑھے میں گرا ہوا تھا۔ یہ عجیب اتفاق تھا کہ اُس کا سارا بدن پانی میں ڈوبا ہوا تھا اور صرف گردن باہر تھی، ورنہ وہ کبھی کا مر چکا ہوتا۔
بارش تھم چکی تھی اور آسمان پر تارے ٹمٹما رہے تھے۔ فوربس نے اٹھنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہا۔ اُس کے سر میں شدید چوٹ آئی تھی اور ماتھے پر ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں۔
جب ہاتھ لگا کر دیکھا۔ پیشانی زخمی تھی اور خون نکل نکل کر جم چکا تھا۔ بڑی مشکلوں سے وہ گڑھے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔

اُس کا ذہن تاریک تھا، حتیٰ کہ فوربس کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ اُسے گھر پہنچنا ہے۔ غیرشعوری طور پر وہ لڑکھڑاتا ہوا ایک طرف چل پڑا۔
چلتے چلتے معاً اُس نے کچھ فاصلے پر دیکھا کہ پتھر کی بنی ہوئی ایک چھوٹی سی عمارت ہے۔ اِس ویرانے میں یہ عمارت کہاں سے آئی؟ وہ وَہیں رک کر حیرت سے اُدھر تکتا رہا۔
اُس کی آنکھیں دھوکا نہیں کھا رہی تھیں۔ نظروں کے سامنے وہ عمارت واقعی موجود تھی اور اُس کی کھڑکیوں میں سے روشنی کی ہلکی ہلکی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ فوربس کے قدم بےاختیار اُدھر اٹھ گئے۔

قریب جا کر اُس نے غور سے عمارت کا جائزہ لیا۔ خاصی پرانی عمارت تھی۔ سیاہ پتھروں کی بنی ہوئی اور پتھروں پر بےانتہا کائی جمی ہوئی تھی۔
فوربس نے دل میں کہا چونکہ وہ اِس علاقے میں پہلی بار ہی آیا ہے، اِس لیے ممکن ہے یہاں کبھی آبادی رہی ہو۔ اگر آبادی تھی، تو اِس عمارت کے علاوہ دُوسرے مکان بھی تو ہونے چاہئیں تھے۔
یہ معمہ اُس کا کند ذہن کسی طرح حل نہ کر سکا۔ عمارت کے اندر رَوشنی کا مطلب البتہ اُس کی عقل میں آیا کہ اِس میں ضرور کوئی نہ کوئی رہتا ہو گا۔
گھوم کر وہ صدر دَروازے کی طرف گیا۔ دروازہ کھلا تھا۔ اُسے ایک لمبی، تنگ ڈیوڑھی نظر آئی۔ دروازے میں کھڑے ہو کر اُس نے اپنی بھدّی کپکپاتی آواز میں پکار کر کہا:

’’کوئی ہے؟ ….. کیا مَیں اندر آ سکتا ہوں؟‘‘

چند لمحے انتظار کے بعد اُس نے ذرا زور سے وہی آواز پھر لگائی:

’’یہاں کوئی شخص موجود ہے؟ مَیں اندر آنے کی اجازت چاہتا ہوں۔‘‘

اِس مرتبہ فوربس کے کانوں میں ایک ایسی آواز آئی جیسے عمارت کے اندر دَروازہ کھلا اور بند ہوا ہو۔ پھر اُس نے قدموں کی چاب سنی۔ اُس نے اطمینان کا سانس لیا اور دِل میں سوچا کیا عجب اُسے یہاں رات گزارنے کی اجازت مل جائے۔
ڈیوڑھی میں روشنی جھلملائی اور اُس نے دیکھا کہ ایک بوڑھا ہاتھ میں قدیم وضع کا شمع دان تھامے آہستہ آہستہ آ رہا ہے۔ اُس نے پیروں میں لکڑی کی کھڑاویں پہن رکھی تھیں اور جب وہ چلتا، تو اُن کھڑاؤں سے ایسی آواز نکلتی جیسے کوئی جانور بری طرح چیخ رہا ہو۔
وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ اتنے میں بوڑھا قریب آیا اور دَروازے میں آن کر رک گیا۔ پھر اُس نے شمع دان سر سے اونچا اٹھا کر اُس کی روشنی فوربس کے چہرے پر ڈالی اور بولا:

’’کیا تم اپنی مرضی اور خواہش سے اِس عمارت کے اندر آنے کی اجازت چاہتے ہو؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘ فوربس نے ہکلا کر کہا۔ ’’کیا یہ کوئی سرائے ہے؟‘‘

’’سرائے؟‘‘ بوڑھے نے استفہامیہ انداز میں کہا۔
’’ہاں ….. تم اِسے سرائے ہی سمجھو۔ کون ہو تم اور اِس وقت کہاں سے آ رہے ہو؟‘‘

فوربس نے اُسے بتایا کہ وہ ایک مسافر ہے۔ بوڑھے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ فوربس نے اُسے خوف زدہ نظروں سے دیکھا۔
بوڑھے کے سفید سفید دانت کسی درندے کے دانتوں کی طرح نوکیلے اور بڑے بڑے تھے۔ اُس کا جی چاہا کہ یہاں سے بھاگ جائے، مگر کسی نادیدہ قوت نے اُس کے قدم روک دیے۔
اُسے یہ بوڑھا کسی اور ہی دنیا کی مخلوق نظر آ رہا تھا۔

’’تم بھوکے بھی ہو اَور تمہیں سردی بھی لگ رہی ہے۔‘‘ بوڑھے نے کہا۔
’’اگر تم اندر آنا چاہو، تو مَیں تمہیں آرام دہ کمرا اَور کھانا بہت کم قیمت پر فراہم کر سکتا ہوں۔‘‘

’’آرام دہ کمرا اَور کھانا …..‘‘ فوربس کے دل و دماغ میں اُبھرتے ہوئے سارے خدشات آنِ واحد میں فنا ہو گئے۔ آرام دہ کمرا اَور کھانا ….. بس یہی دو چیزیں اُسے یاد رَہیں۔

’’باہر سردی بڑھ رہی ہے ….. شاید پچھلے پہر برف باری ہو۔‘‘ اُس کے کانوں میں بوڑھے کی آواز آئی۔ ’’اگر تم اپنی مرضی سے اندر آنا چاہتے ہو، تو آ سکتے ہو۔‘‘

فوربس کا اُٹھا ہوا قدم رک گیا۔ اُس نے بوڑھے کے منہ سے یہ جملہ تیسری بار سنا تھا۔
’’اگر تم اپنی مرضی سے اندر آنا چاہتے ہو، تو آ سکتے ہو۔‘‘
آخر اِس کا مطلب کیا ہے؟ کیا اُسے سرائے کے اندر لے جانے میں بوڑھے کی مرضی اور خواہش کا کوئی دخل نہیں۔ اُس کے کند ذہن میں یہ سوال اِس شدت سے اُبھرا کہ وہ ضبط نہ کر پایا۔
اُس نے ڈیوڑھی کے اندر بڑھا ہوا اَپنا پاؤں پیچھے ہٹا لیا اور کہا:

’’جناب! مَیں بےحد غریب اور مفلس آدمی ہوں ….. اگر آپ یہ توقع کر رہے ہیں کہ میرے پاس دینے کے لیے خاصی بڑی رقم موجود ہے، تو یہ آپ کی بھول ہے۔
چند پِنس کے سوا میرے پاس کچھ نہیں ….. اور ہاں آپ مجھے صرف ٹھہرنے کی جگہ دے دیں ….. کھانا مَیں نہیں کھاؤں گا۔‘‘

بوڑھا اِس مرتبہ ذرا کھل کر مسکرایا اور اُس کے لمبے، سفید اور نوکیلے دانتوں کی چمک ایسی نہ تھی کہ فوربس بدحواس نہ ہو جاتا۔

’’نوجوان! تم کوئی فکر نہ کرو ….. مَیں تم سے کچھ بھی طلب نہ کروں گا …..
ویسے میں تمہیں اندر آنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا۔ مَیں کسی کو بھی مجبور نہیں کر سکتا۔ یہ تو آنے والوں کی اپنی مرضی اور خواہش ہے کہ وہ یہاں آئیں۔
اِس سرائے کا دروازہ پچھلے تین سو برس سے ہر ایک کے لیے کھلا ہے۔‘‘

فوربس دم بخود رَہ گیا۔ پچھلے تین سو برس سے سرائے کا دروازہ ہر ایک کے لیے کھلا ہے۔ یہ بات اُس کی محدود عقل میں نہ سما سکی۔
اُس نے صرف اتنا ہی سوچا کہ بوڑھا ضرور کچھ اور کہنا چاہتا ہے، لیکن اُس کے منہ سے نکلتا کچھ اور ہے۔

’’یقین کرو نوجوان ….. یہ سرائے تین سو برس سے اِسی جگہ کھڑی ہے۔‘‘ بوڑھے نے دوبارہ کہا۔

آسمان سے برف کے سفید سفید گالے یک لخت گرنے لگے۔ فوربس نے جلدی سے پہلے دایاں اور پھر بایاں پاؤں بھی ڈیوڑھی میں رکھ دیا۔
اِس کے ساتھ ہی اُس کے بدن پر کپکپی طاری ہو گئی۔ وہ یقیناً گر جاتا، اگر بوڑھا لپک کر اُسے سنبھال نہ لیتا۔ فوربس کو یوں لگا جیسے اُس نے آگ کو چھو لیا ہو۔ بوڑھا بظاہر کمزور اَور ضعیف دکھائی دیتا تھا، لیکن اُس میں جوانوں کی سی قوت تھی۔
ایک ہاتھ میں شمع دان تھامے اور دُوسرے ہاتھ سے فوربس کو گھسیٹتے ہوئے وہ اِس آسانی سے چل رہا تھا کہ مارے دہشت کے فوربس کا کلیجہ بیٹھنے لگا۔
اُس نے خود کو بوڑھے کی گرفت سے آزاد کرانے کی معمولی سی جدوجہد کی، مگر ناکام ہو کر خود کو بوڑھے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

اب فوربس کو پہلی بار ایک اور عجیب بات کا پتا چلا۔ بوڑھے کے ہاتھ میں قدیم طرز کے شمع دان میں چار سفید مومی شمعیں روشن تھیں۔
اُسے اچانک یاد آیا کہ جب وہ باہر ڈیوڑھی میں کھڑے باتیں کر رہے تھے، تب زوروں کی ہوا چل رہی تھی۔ اِس کے باوجود اِن شمعوں کا یکسر گُل ہو جانا،تو ایک طرف ….. اِن میں سے کسی ایک کی لَو تھرتھرائی تک نہ تھی۔ فوربس کو بچپن میں اپنی ماں کی زبانی سنی ہوئی وہ تمام پُراسرار کہانیاں ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں جن میں بدروحوں اور شیطانوں کا ذکر کیا گیا تھا۔

’’ڈرو نہیں مسٹر فوربس! یہاں تم ہر طرح سے محفوظ ہو۔‘‘ بوڑھے نے کہا۔

فوربس دنگ رہ گیا۔ اُسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ اُس نے تو اپنا نام بوڑھے کو نہیں بتایا تھا، پھر اُسے کیونکر معلوم ہو گیا۔
وہ اِس سلسلے میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ بوڑھے نے دوبارہ کہا:

’’تم حیران ہو رہے ہو گے کہ مجھے تمہارا نام کیسے معلوم ہوا۔ یہ بہت آسان بات ہے مسٹر فوربس! لیکن تم نہیں سمجھ سکو گے۔ مَیں بہت سے لوگوں کے بارے میں بہت سی باتیں جانتا ہوں …..
دنیا کی بےشمار چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ مَیں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ تم انتہائی مفلس آدمی ہو۔
تمہارا باپ ریلوے میں معمولی ملازم تھا اور تم جب چھوٹے سے تھے، تو وہ ایک حادثے کا شکار ہو کر مر گیا۔ تمہاری ماں نے تمہیں پالا۔ وہ تم سے بےحد محبت کرتی ہے۔ اِس وقت بھی مَیں دیکھتا ہوں کہ وہ تمہارے انتظار میں جھونپڑی کے دروازے پر کھڑی ہے۔
اُس کی نگاہیں گاؤں کی اُس پگڈنڈی پر جمی ہوئی ہیں جدھر سے تم آؤ گے، مگر تم نہیں آؤ گے مسٹر فوربس! یا یوں کہو کہ اُس وقت نہیں آؤ گے جس وقت کا تمہاری ماں کو اِنتظار ہے۔
رات کے دو بجے تم پیدا ہوئے تھے اور ہر سال تمہاری ماں سالگرہ منایا کرتی ہے۔‘‘

بوڑھے کی مضبوط اور کسی قدر گرج دار آواز فوربس کے کانوں میں یوں اتر رہی تھی جیسے پگھلا ہوا سیسہ۔ اُس کی زبان گنگ ہو چکی تھی اور ہاتھ پیروں کی جان بس نکلنے ہی والی تھی کہ بوڑھا رک گیا۔
فوربس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں کھڑا ہے۔
بوڑھے نے شمع دان آبنوس کی بنی ہوئی ایک قیمتی میز پر رکھ دیا اور فوربس کو سہارا دَے کر کمرے کے درمیان پڑے ہوئے اُس بھاری پلنگ پر بٹھا دیا جس پر نہایت عمدہ اَور صاف ستھرا بستر بچھا ہوا تھا۔
فوربس نے دیکھا کہ پلنگ کے سرہانے ایک اونچی کھڑکی ہے اور اُس پر سرخ رنگ کا بےحد نفیس مگر پرانا پردہ لٹک رہا ہے۔

’’مسٹر فوربس! کیا تم ڈر رَہے ہو؟‘‘ بوڑھے نے پوچھا۔ کمرے میں رکھے ہوئے شمع دان کی تیز روشنی بوڑھے کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
اِس مرتبہ فوربس نے جب اُس کی جانب نگاہ اُٹھائی، تو وہ تھرتھر کانپنے لگا۔ اُسے ایک لحظے کے لیے بوڑھے کا چہرہ کسی آدم خور دَرندے کی مانند نظر آیا جو اَپنا بھیانک اور لال لال جبڑا کھولے شکار جھپٹنے ہی والا ہو، مگر دوسرے ہی لمحے اُس چہرے کی جگہ پھر اُسی بوڑھے کا چہرہ تھا۔

’’میرا خیال ہے تم بھوکے اور تھکے ہوئے ہو۔‘‘ بوڑھے نے کہا۔ ’’مَیں تمہارے لیے کھانا گرم کر کے لاتا ہوں۔‘‘

’’کیا ….. یہاں ….. کوئی ملازم نہیں؟‘‘ فوربس نے رک رُک کر کانپتی آواز میں پوچھا۔

بوڑھے نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ ’’آ ہا ہا ہا! ….. نوکر کی مجھے کیا ضرورت ہے۔
مَیں کسی نوکر کا محتاج نہیں ہوں ….. سمجھے مسٹر فوربس! ….. مَیں کسی کا محتاج نہیں ہوں۔‘‘

’’جی ….. ہاں ….. آپ صحیح کہتے ہیں۔‘‘ فوربس نے اُس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
اُسے بچپن ہی میں کسی نے بتایا تھا کہ بدروحوں کی ہاں میں ہاں ملاؤ، تو وہ خوش ہو جاتی ہیں اور کوئی نقصان نہیں پہنچاتیں۔ بوڑھا نظریں جمائے اُسے گھور رَہا تھا۔ یکایک وہ بولا:

’’مَیں کبھی غلط نہیں کہتا، مسٹر فوربس! ….. مَیں نے کبھی غلط نہیں کہا۔
تمہی بتاؤ تمہارے خاندان کے بارے میں جو کچھ مَیں نے ابھی کہا، کیا وہ غلط تھا۔‘‘

’’جی نہیں ….. جی نہیں ….. ایک ایک بات سچ ہے ….. مَیں تو حیران ہوں کہ …..‘‘

’’مجھے کیسے پتا چلا اِن باتوں کا، تم یہی سوچ رہے ہو نا؟‘‘ بوڑھے نے دوبارہ قہقہہ لگایا۔
’’یہ بہت معمولی بات ہے، مسٹر فوربس! اگر تم یہاں میرے پاس رہنے کا وعدہ کرو، تو یہ ہنر مَیں تمہیں سکھا دوں گا۔ بولو کیا ارادے ہیں۔
یہ وہ ہنر ہے جس کے آگے دنیا کے علوم و فنون سب ہیچ ہیں۔ تم دنوں کے اندر اَندر دَولت مند ہو جاؤ گے۔ دنیا کی ہر شے تمہارے قدموں میں ہو گی۔
مَیں جانتا ہوں تمہاری اب تک شادی بھی نہیں ہوئی۔ تمہاری ماں کی بڑی خواہش ہے کہ وہ گھر میں ایک عورت کو لے کر آئے جو تمہاری بیوی ہو۔
بولو، کیا مَیں غلط کہتا ہوں۔ اگر تم یہ ہنر سیکھ لو گے، تو جس حسین و جمیل عورت کی طرف نگاہ اُٹھاؤ گے، وہ تمہاری ہو جائے گی۔‘‘

فوربس دم بخود تھا۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ بوڑھے کو کیا جواب دے۔ ابھی تک وہ بوڑھے کے بارے میں طے نہیں کر پایا تھا کہ یہ زمینی مخلوق ہے یا آسمانی۔
فوربس کی کوشش صرف یہ تھی کہ وہ اَپنی کسی حرکت سے بوڑھے کو ناراض ہونے کا موقع نہ دے اور اَبھی تک وہ اِس کوشش میں کامیاب نہ رہا تھا۔

دفعتاً فوربس کے کانوں میں گھڑیال کے بارہ بجانے کی تیز آواز آئی۔ یہ آواز یقیناً اِسی عمارت کے اندر سے آ رہی تھی۔ گھڑیال کی ہر ضرب پر فوربس کو یوں لگتا جیسے یہ ضرب اُس کی کھوپڑی پر لگ رہی ہو۔
پنڈولم کے حرکت کرنے کی آواز بھی اُس کے کانوں تک بخوبی پہنچ رہی تھی۔
جب گھڑیال نے بارہویں اور آخری ضرب لگائی، تو یک لخت شمع دان میں رکھی ہوئی چاروں مومی شمعیں مدھم پڑ گئیں اور اُن کی روشنی نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔

فوربس کا بدن یہ نظارہ دَیکھ کر پتھر سا ہو گیا۔ اُس کی نظریں شمع دان پر جمی ہوئی تھیں۔ پھر اُس نے دیکھا کہ پہلی شمع بجھ گئی۔ اُس کے بعد دوسری اور پھر تیسری …..
حیرت کی بات یہ تھی کہ موم بتیاں بجھ جانے کے باوجود اُن کے سروں سے بَل کھاتا ہوا کثیف دُھواں نکلا نہ فوربس کے نتھنوں میں موم کے جلنے کی بُو آئی۔
کمرے میں صرف ایک موم بتی جل رہی تھی۔ فوربس نے بمشکل گردن موڑے بغیر کن انکھیوں سے بوڑھے کی طرف دیکھا۔ وہ بھی اُس آخری شمع کی ہر لحظہ گھٹتی ہوئی لَو پر نگاہ جمائے ہوئے تھا۔
فوربس نے بوڑھے کی آنکھوں سے عجیب طرح کی شعاعیں نکلتے دیکھیں جیسے وہ شمع کو بجھنے نہ دینا چاہتا ہو ….. اُس کی یہ خواہش ہو کہ شمع جلتی رہے …..
فوربس نے خوف زدہ نظروں سے بوڑھے کی نظروں کا تعاقب کیا اور بالآخر اُس کی نگاہ بھی شمع پر ٹھہر گئی۔

فوربس نے دیکھا کہ شمع کی لَو اونچی ہونے لگی ہے۔ اونچی ہوتے ہوتے وہ اِس قدر اُوپر اٹھ گئی کہ اُس کا شعلہ چھت کو چھونے لگا۔ پھر یہ شعلہ اوجھل ہو گیا۔
حیرت سے فوربس کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ اُس نے دیکھا کہ اُس کے گاؤں کی طرف جانے والی پگڈنڈی پر ایک آدمی لڑکھڑاتا اور گرتا پڑتا چلا آ رہا ہے۔
فوربس کو اُسے شناخت کرنے میں دیر نہ لگی۔ خدا کی پناہ! یہ تو وہ خود تھا۔ پھر اُسے نظر آیا کہ سامنے ہی اُس کا گھر ہے ….. اور گھر کے آگے ماں ہاتھ میں لالٹین تھامے کھڑی اُس کی راہ دَیکھ رہی ہے۔
فوربس نے بےاختیار اَپنی ماں کو آواز دینا چاہی، لیکن آواز منہ سے نہ نکلی۔ وہ پلک جھپکائے بغیر یہ حیرت انگیز اور رُونگٹے کھڑے کر دینے والا تماشا دیکھ رہا تھا۔

یکایک تینوں بجھی ہوئی شمعیں آپ ہی روشن ہو گئیں اور چوتھی شمع کی اونچی لَو خودبخود گھٹ کر نیچے آ گئی جہاں سے اونچی ہوئی تھی۔
فوربس نے دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیے اور سسکیاں لے لے کر روتا رہا۔ اُس کے بس میں نہ تھا، ورنہ اُڑ کر ماں تک پہنچ جاتا۔ دو بجنے میں صرف دو گھنٹے باقی تھے۔
اُس نے سوچا کہ ماں نے اُس کے لیے ایک دو خاص کھانے ضرور تیار کیے ہوں گے اور کیا خبر اُس نے یہ کھانا تیار کرنے کے لیے گاؤں میں کسی سے قرض بھی لیا ہو۔

تھوڑی دیر بعد فوربس نے رونا دھونا چھوڑ کر گردن اٹھائی۔ بوڑھا کمرے سے نہ جانے کب کا جا چکا تھا۔ شاید کھانا لینے گیا ہو گا اور وَاقعی ایسا ہوا۔
فوربس نے بوڑھے کو کمرے سے باہر جاتے دیکھا نہ آتے، لیکن اِدھر اُس نے بوڑھے کے بارے میں سوچا ہی تھا کہ وہ اُسے کمرے میں کھڑا نظر آیا۔
اُس کے ہاتھوں میں پیتل کی بنی ہوئی چمک دار ٹرے تھی اور ٹرے کے اندر کھانے کی کئی چیزیں سلیقے سے رکھی تھیں۔ بوڑھے نے ٹرے بستر پر رکھ دی اور فوربس سے کہا:

’’کھانا کھا لو ….. پھر مجھے بتانا کہ تم یہ فائدہ مند ہنر سیکھنے کے لیے تیار ہو یا نہیں؟‘‘

’’کون سا ہنر؟‘‘ فوربس نے پوچھا۔ ’’مَیں آپ کی بات نہیں سمجھا۔‘‘

’’آہاہاہا ….. نہیں سمجھے۔‘‘ بوڑھے نے سفید سفید دانت چمکائے۔ ’’ابھی تم نے جو تماشا دیکھا ہے، اُسی کا ذکر کر رہا ہوں۔
میرے پاس ایک ہنر ایسا ہے جس کے ذریعے تم لوگوں کو اُن کا ماضی، حال اور مستقبل بھی آسانی سے دکھا سکتے ہو جیسا کہ تم نے خود دَیکھا …..
یہ وہ فن ہے جو اِس وقت پوری دنیا میں کسی اور کے پاس نہیں ….. مَیں تو صدیوں سے تمہارا اِنتظار کر رہا ہوں۔
تمہی وہ شخص ہو جسے مَیں یہ فن سکھا سکتا ہوں ….. بولو کیا کہتے ہو۔ یہ فن سیکھنے کے بعد تم کسی کے محتاج نہ رہو گے جیسے مَیں ہوں ….. سب تمہارے محتاج ہوں گے۔‘‘

فوربس ہونقوں کی طرح بوڑھے کا چہرہ تَک رہا تھا۔ اُس کی عقل میں کچھ نہیں آتا تھا اور یہ بات بھی اُس کی ذہنی سطح سے بہت اونچی تھی کہ وہ دُنیا میں کسی کا محتاج نہ رہے گا بلکہ سب اُس کے محتاج ہوں گے۔
اُس کی ناک میں کھانے کی خوشبو پہنچی، تو وہ بوڑھے کو جواب دینے کے بجائے ٹرے کی طرف متوجہ ہو گیا۔
کھانے میں سے بھاپ اٹھ رہی تھی جیسے ابھی ابھی پکایا گیا ہو۔
فوربس کو تعجب ہوا کہ اتنی جلد بوڑھے نے کئی قسم کا کھانا کیونکر پکا لیا ….. بھنے ہوئے گوشت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اُٹھا کر وہ منہ میں رکھنے ہی والا تھا کہ بوڑھے نے کہا:

’’غور سے دیکھو مسٹر فوربس اور بتاؤ کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘

فوربس نے گوشت کا ٹکڑا منہ سے ہٹایا، اُسے غور سے دیکھا اور کہا ’’گوشت ہے اور کیا؟‘‘

بوڑھا پھر ہنسا۔ ’’اب دوبارہ دَیکھو۔‘‘

اُس نے دوبارہ دَیکھا اور پھر اُس کے حلق سے زوردار چیخ نکل گئی۔ فوربس کے ہاتھ میں ایک موٹا سا زندہ چوہا دبا ہوا تھا۔
اُس نے گھبرا کر اُسے ہاتھ سے چھوڑ دیا۔  دیکھتے ہی دیکھتے وہ فرش پر پہلے اِدھر اُدھر پناہ کی تلاش میں بھاگا، پھر یک لخت نظروں سے غائب ہو گیا۔
بوڑھا فوربس کی اِس سراسیمگی سے پورا لطف اٹھا رہا تھا۔

’’تم نے دیکھا مسٹر فوربس …..! یہ کیسا عظیم ہنر ہے۔ تم بھی ایسا کر سکتے ہو۔ اب تم اطمینان سے کھانا کھاؤ اور آرام سے سو جانا۔
دروازہ اَندر سے بند کر لینا۔ یہ شمع دان مَیں یہیں چھوڑے جا رہا ہوں ….. کمرے میں روشنی رہے گی، تو تم گہری نیند کے مزے اٹھا سکو گے اور تمہیں ڈر بھی نہیں لگے گا۔
اور سنو ….. رات کے کسی بھی لمحے اِس دروازے پر دستک کی آواز سنائی دے، تو خبردار، ہرگز ہرگز دروازہ نہ کھولنا، ورنہ تمہیں نقصان پہنچ جائے گا ….. اچھا، شب بخیر۔‘‘

اور اِس سے پہلے کہ فوربس کچھ کہے، بوڑھا کمرے سے باہر نکل گیا۔ اِس مرتبہ فوربس نے اُسے خود کمرے سے باہر جاتے ہوئے اچھی طرح دیکھا۔

بوڑھے کے جانے کے بعد بھی فوربس بستر پر بیٹھا دروازے کی طرف ٹکٹکی باندھے تکتا رہا۔ اُس کا ذہن اتنا ماؤف ہو چکا تھا کہ وہ اَب نقل و حرکت کرنے کے قابل بھی نہ تھا۔
کھانے کی ٹرے یونہی پڑی رہی ….. وہ جب بھی کسی چیز کی طرف دیکھتا، اُسے سفید چوہا دکھائی دے جاتا۔ کیا خبر یہ کھانا ہے یا کچھ اور! ضرور جادو ہے ….. ورنہ گوشت کا بھنا ہوا ٹکڑا سفید چوہا نہیں بن سکتا۔
اُس نے سوچا یہ پُراسرار بوڑھا واقعی اِسی دنیا کی مخلوق ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جادو کا فن جانتا ہے۔ جادو سے ایک زمانے میں فوربس کو بھی بےحد دلچسپی تھی۔

بہت عرصہ پہلے اُن کے گاؤں میں ایک شعبدہ باز آیا تھا جس نے طرح طرح کے کمالات دکھا کر لوگوں کو حیران پریشان کر دیا تھا۔
پھر لوگوں نے اُسے ڈھیر سارے سکّے اور نوٹ دیے تھے۔ بس اُسی وقت سے فوربس نے اُس شعبدے باز کو اَپنا آئیڈیل قرار دَے لیا تھا۔
شعبدے بازی کا مظاہرہ ختم ہوا، تو فوربس اُس کے پاس گیا اور ڈرتے ڈرتے کہا کہ وہ اُس کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔ کیا وہ فوربس کو یہ فن سکھا دے گا؟
جواب میں اُس نے فوربس کو گالیاں اور دَھکے دے کر باہر نکال دیا۔

لیکن اب برسوں بعد فوربس کی دلی تمنا بر آنے کا سامان قدرت نے خودبخود پیدا کر دیا تھا۔ بوڑھے جادوگر نے جو کمالات فوربس کو دکھائے تھے، وہ بےمثال تھے۔
آنِ واحد میں اُس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ہر شرط اور ہر قیمت پر بوڑھے کی شاگردی کر کے یہ فن سیکھے گا۔ ابھی وہ اِنہی خیالات میں گم تھا کہ اُس نے عمارت کے اندر کسی مقام سے آنے والی ایک پُراسرار آواز سنی۔
یہ آواز ایسی تھی جیسے دور ….. بہت دور ….. کوئی بلی رو رَہی ہو۔ فوربس لپک کر اٹھا اور اُس نے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر لیا۔
دو تین مرتبہ اُس نے اندرونی آہنی چٹخنی کا جائزہ بھی لیا کہ اچھی طرح بند ہوئی بھی ہے یا نہیں۔
چٹخنی بند تھی۔ اُس نے مزید اطمینان کے لیے دروازہ ہلا جلا کر بھی دیکھ لیا۔ اُسے بوڑھے کی نصیحت خوب یاد تھی۔

دروازہ بند کر کے وہ پلنگ کی طرف آیا۔ اُس کا جی کھانے سے بیزار ہو چکا تھا۔ پس ٹرے اٹھا کر ایک گوشے میں رکھ دی۔ شمع دان میں رکھی ہوئی چاروں شمعیں اُسی طرح روشن تھیں۔ فوربس نے دیکھا کہ اُن کی روشنی خاصی تیز ہے ….. اور تیز روشنی میں وہ سونے کا عادی ہی نہ تھا۔
یوں بھی تیز روشنی اُن کی جھونپڑی میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔ فوربس نے طے کیا کہ تین شمعیں گُل کر کے صرف ایک شمع روشن رہنے دی جائے۔
یہ سوچ کر وہ شمع دان کے نزدیک گیا اور پھونک مار کر باری باری شمعیں گُل کرنے ہی والا تھا کہ معاً ایک عجیب مشاہدہ اُس کے سامنے آیا۔

چاروں موم بتیاں اتنی دیر سے جل رہی تھیں، لیکن انوکھی بات یہ تھی کہ اُن کی جسامت میں ذرّہ فرق نہیں پڑا تھا۔
ہر موم بتی ویسی کی ویسی ہی تھی جیسے اُس کا موم پگھل نہ رہا ہو۔ فوربس دہشت زدہ ہو کر اَپنے پلنگ کی طرف واپس آیا۔ سرہانے سرخ رنگ کا بھاری پردہ کمرے کی ایک ہی کھڑکی پر لٹک رہا تھا۔

فوربس نے پردہ ہٹا کر کھڑکی کا جائزہ لیا۔ کھڑکی بند تھی۔
فوربس کا جی چاہا کہ باہر کا منظر دیکھے، چنانچہ وہ پلنگ پر چڑھا، پردہ اُس رسی سے باندھا جو اِس مقصد کے لیے پردے کے ساتھ لپٹی ہوئی تھی۔
پھر ہاتھ بڑھا کر فوربس نے کھڑکی کی چٹخنی کھولی۔ چٹخنی کھولنے سے ایک ایسی آواز پیدا ہوئی جیسے کوئی جانور تکلیف سے کراہا ہو۔ فوربس ڈر گیا، مگر دوسرے ہی لمحے چٹخنی کھل گئی۔
پھر کھڑکی کا ایک پٹ آپ ہی آپ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔ یخ بستہ ہوا کا تیز جھونکا کمرے میں آیا اور فوربس کے تن بدن میں تھرتھری سی چھوٹ گئی۔
باہر ابھی تک تاریکی تھی اور برف کے ننھے ننھے سفید روئی جیسے گالے بڑی تیزی سے آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔

فوربس نے جلدی سے کھڑکی بند کر کے چٹخنی لگا دی اور پردہ بھی پہلے کی طرح کھول دیا۔ کمرا اَندر سے خاصا گرم تھا۔ ایک لمحے کے لیے کھڑکی کھول کر فوربس نے سخت غلطی کی تھی۔
اتنی ہی دیر میں اُس کا بستر بھی ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اُس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں اور اَب وُہ گہری نیند سو جانا چاہتا تھا۔
دل ہی دل میں اُس نے اپنی ماں سے اِس بات کی معافی مانگی کہ وہ اَپنی سالگرہ کی شب وعدے کے مطابق گھر نہیں پہنچ پایا۔
بستر پر لیٹتے ہوئے اُس نے حسبِ عادت خداوند خدا کے حضور دُعا مانگی اور پھر پائنتی پڑا ہوا کمبل اٹھا کر سینے پر اوڑھ لیا۔

فوربس گرم گرم بستر میں گہری نیند سو رہا تھا۔ اچانک جھٹکے سے اُس کی آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں تاریکی تھی نہ روشنی۔
اُس کے سارے بدن میں جیسے چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں اور دِل بری طرح دھک دھک کر رہا تھا۔ اُس نے گردن موڑ کر اُس گوشے میں نگاہ ڈالی جہاں آبنوسی میز پر شمع دان رکھا تھا۔

وہاں اُسے شمع دان نظر آیا نہ جلتی ہوئی موم بتیاں۔
اُس نے خیال کیا شاید کسی نامعلوم سبب سے موم بتیاں آپ ہی آپ گُل ہو گئی ہوں، لیکن اِس کے باوجود کمرے میں اتنی روشنی ضرور تھی کہ وہ اَپنے گردوپیش کی اشیا آسانی سے دیکھ سکتا تھا۔

فوربس نے دوبارہ آنکھیں میچ کر سونے کی کوشش کی، مگر ….. چیونٹیاں سی اَب بھی اُس کے بدن پر رینگ رہی تھیں۔
دفعتاً اُسے یہ احساس ہوا کہ اُس کے علاوہ بھی کمرے میں کوئی موجود ہے ….. کوئی ذی روح ….. اِس احساس کے ساتھ ہی اُس کی نیند یک دم غائب ہو گئی اور اُس نے پھر آنکھیں کھول دیں۔
پہلی نظر میں اُسے وہاں کوئی ذی روح دکھائی نہ دیا، لیکن اُس کی تمام حسیات اُسے بتاتی تھیں کہ ضرور کوئی نہ کوئی موجود ہے ….. اور پھر اُس کے دل کی حرکت جیسے بند ہونے لگی۔
اُس نے پائنتی کی طرف ایک حسین و جمیل عورت کو کھڑے پایا۔ عورت کا چہرہ برف کی طرح سفید تھا اور ہونٹ کبوتر کے خون کی مانند سرخ …..
اُس کی آنکھیں ستاروں کی طرح چمک رہی تھیں اور وُہ پلکیں جھپکائے بغیر اُس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
جو چیز فوربس کو اَدھ مُوا کر رہی تھی، وہ اُس عورت کے دائیں ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک بڑا سا خنجر تھا جس کی دھار کمرے کی نیم تاریکی میں شعلے کی مانند چمک رہی تھی۔

فوربس نے اپنے پھیپھڑوں کی پوری قوت سے چیخنا چاہا، مگر بےسود۔ اُس کے خشک ہونٹ محض لرز کر رہ گئے۔ گردن کی رگیں پُھول گئیں اور بدن کا سارا خون کھنچ کر جیسے آنکھوں میں آ گیا۔
فوربس نے اُس عورت کی نظروں کی تاب نہ لا کر گردن موڑنا چاہی، لیکن یوں لگا جیسے وہ حرکت ہی نہیں کر سکتا۔ عورت زبان سے ایک لفظ کہے بغیر اُسے گھور رَہی تھی۔
یکایک وہ اَپنی جگہ سے ہلی اور آہستہ آہستہ فوربس کے پلنگ کے دائیں جانب آنے لگی۔

فوربس کی نظریں بھی عورت کی حرکت کے ساتھ ساتھ چلنے لگیں۔ اب وہ اُسے اور اَچھی طرح دیکھ سکتا تھا۔ اُس کی عمر چالیس برس ہونے کو آئی تھی۔
اِس طویل مدت میں اُس نے بےشمار حسین و جمیل عورتیں دیکھی تھیں ….. لیکن اِس پُراسرار عورت کو دیکھ کر وہ خوف زدہ ہونے کے بجائے مبہوت ہو گیا۔

بلاشبہ پہلی بار اُس نے جب اِس عورت کو خنجر بدست اپنے کمرے میں پایا،تو اِس پر سخت دہشت طاری ہوئی تھی، مگر چند لمحے بعد ہی خوف کی جگہ حیرت نے لے لی۔
وہ اِتنی حسین تھی جیسے پَری ….. وہی پَری جو اَکثر اُن کہانیوں میں بھی آتی تھی جو فوربس کی ماں اُسے بچپن میں سنایا کرتی تھی اور آج وہ اَپنے سامنے ایسی ہی ایک پَری کو دیکھ رہا تھا۔

وہ دَبے پاؤں جیسے ہوا پر چلتی ہوئی فوربس کے دائیں جانب کچھ اور نزدیک آئی۔ اُس کا دایاں ہاتھ اُٹھا ہوا تھا اور خنجر کے دستے پر اُس کی لمبی لمبی سفید نرم و نازک سی انگلیاں اچھی طرح جمی ہوئی تھیں۔
فوربس نے دیکھا کہ اُس کے کھلے اور لمبے بال سنہری ہیں۔
آنکھوں کا رنگ ہلکا بھورا اَور اُن میں بےپناہ چمک، بائیں آنکھ کے پاس ایک ننھا سا کالا تِل …..
چشمِ زدن میں فوربس نے یہ نشانیاں دیکھیں اور اَپنے ذہن میں بٹھا لیں۔

ابھی تک عورت نے اُسے مسلسل گھورنے کے علاوہ زبان سے ایک لفظ نہ کہا تھا۔ فوربس کے سرہانے آن کر وہ رُکی اور اُس نے خنجر والا ہاتھ تھوڑا سا اوپر اٹھایا۔

خنجر کی چمکتی ہوئی دھار سے فوربس کی آنکھوں میں چکاچوند سی پیدا ہوئی، خنجر کی نوک کا رُخ عین اُس کے سینے کی طرف تھا۔ فوربس نے بڑی مشکل سے اپنے دائیں ہاتھ کو حرکت دی اور اُسے اپنی گردن پر رکھ لیا۔
اُس کا خیال تھا کہ عورت خنجر کا وار اُس کی گردن پر کرنا چاہتی ہے، لیکن عورت نے اُسی لمحے خنجر کا وار فوربس کے سینے پر کیا۔

غیرشعوری طور پر فوربس نے جلدی سے بازو پرے ہٹایا اور خنجر تکیے پر پیوست ہو گیا۔ اُس کا دستہ ابھی تک عورت کے ہاتھ میں تھا اور اُس کی دھار سے فوربس کے دائیں بازو کا فاصلہ ایک انچ سے زیادہ نہ تھا۔
وہ اَگر پرے ہٹنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر کرتا، تو یقیناً وہ آب دار خنجر اُس کے سینے میں دستے تک اتر چکا ہوتا۔

فوربس کی نظریں مسلسل حملہ آور عورت پر جمی ہوئی تھیں۔ اُس نے دیکھا کہ خنجر کا خوبصورت دستہ ہاتھی دانت کا بنا ہوا ہے اور اُس پر عجیب و غریب نقش و نگار سے کندہ ہیں۔
عورت نے آہستہ آہستہ تکیے میں سے خنجر کھینچا۔ اِس اثنا میں فوربس نے اُس کے دائیں بازو کا جائزہ بھی لے لیا تھا۔ اُسے یہ دیکھ کر سخت ڈر لگا کہ عورت کے مرمریں اور سڈول بازو پر ایک ننھا مُنّا کالا سانپ لپٹا ہوا ہے۔
پہلی نگاہ میں اُسے یہ محض بےجان تصویر کی مانند دکھائی دیا، مگر یہ سانپ زندہ تھا اور اُس کی ننھی سی سرخ زبان بار بار منہ سے نکلتی اور وَاپس جاتی تھی۔

تکیے میں سے خنجر نکال کر عورت الٹے قدموں چلتی ہوئی فوربس کی پائنتی کے پاس واپس آئی اور وَہاں سے بائیں جانب آنے لگی۔
اِس مرتبہ بھی خنجر اُس نے اوپر اٹھایا۔ اُس کی نظریں برابر فوربس کے چہرے پر جمی تھیں اور یہی کیفیت فوربس کی بھی تھی۔ وہ عورت کو بائیں جانب آتے دیکھ رہا تھا، مگر بےحس و حرکت اُسی طرح لیٹا رہا۔ عورت نے دفعتاً فوربس کے سینے پر دوبارہ خنجر کا وار کیا۔
وہ پہلے سے منتظر تھا، اِس لیے جھٹ دائیں سرک گیا۔ خنجر نیچے آیا اور اِس مرتبہ تکیے میں پیوست ہونے کے بجائے روئی کے بنے ہوئے اُس موٹے سے گدے میں لگا جو پلنگ پر بچھا ہوا تھا۔

عورت اور فوربس کے مابین اب ایک فٹ سے زیادہ دُوری نہ تھی۔

فوربس اُسے اِس قدر نزدیک پا کر پتھرا گیا تھا۔ تیسری بار اَگر وُہ اُسے مارنا چاہتی، تو آسانی سے ایسا کر سکتی تھی کہ فوربس میں اب اپنے بچاؤ کے لیے مزید حرکت کرنے کی ہمت ہی باقی نہ تھی، لیکن ….. ایسا نہ ہوا۔
عورت نے پہلے کی طرح خنجر گدّے سے نکالا اور اُسے اُس لبادے کے اندر کہیں چھپا لیا جس سے اُس نے اپنا بدن ڈھانپ رکھا تھا۔

اِس کے بعد وہ پرے ہٹنے لگی اور فوربس کی پائنتی جا کھڑی ہوئی۔ اُس کی چمک دار آنکھیں اب بھی فوربس کے چہرے پر تھیں اور اُس نے ایک بار بھی پلک نہیں جھپکائی۔

یکایک گھپ اندھیرا چھا گیا اور سردی کی ایک ناقابلِ برداشت لہر فوربس کی ریڑھ کی ہڈی میں اتر گئی۔ اُس کے حلق سے ہولناک چیخیں نکلنے لگیں۔

پھر اُسے صرف اتنا یاد رَہا کہ کمرے میں آبنوسی میز پر رکھے ہوئے شمع دان کی چاروں موم بتیاں جل رہی تھیں اور اُس کے کان رات کے وقت گھڑیال کے دو بجانے کی آواز سُن رہے تھے۔

فوربس کا بدن تھرتھر کانپ رہا تھا۔ اُس کے چہرے پر پسینہ ہی پسینہ تھا اور حلقوں میں دھنسی ہوئی زرد، بےنور آنکھیں بار بار کھلتی اور بند ہوتی تھیں۔
فاسٹر نے ایسی عجیب و غریب کہانی پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ اُس نے اِس دوران میں ایک مرتبہ بھی فوربس کو روکنے ٹوکنے کی کوشش نہ کی۔

حالانکہ کئی موڑ کہانی میں ایسے آئے جہاں فاسٹر نے بےاختیار کوئی سوال کرنا چاہا تھا، لیکن وہ اِس محویت کے عالم میں کہانی کہہ رہا تھا کہ فاسٹر نے اُس کا تسلسل توڑنا مناسب نہ جانا۔

’’ڈاکٹر! ….. مجھے ایک گھونٹ پانی پلا دو۔‘‘ فوربس نے ہانپتے ہوئے کہا۔
فاسٹر نے جلدی سے اُس کی کوٹھڑی میں اِدھر اُدھر اِس توقع پر دیکھا کہ شاید پانی کسی برتن میں مل جائے، مگر وہاں پانی نہ تھا۔

اُسے ڈاکٹر بی اسٹار پر سخت طیش آیا۔ یہ کیسے بےرحم اور سفّاک لوگ ہیں۔ مریضوں کی کوٹھڑیوں اور کمروں میں پینے کا پانی تک نہیں رکھتے۔ اُس نے گہرا سانس لے کر فوربس سے کہا:

’’ذرا صبر کرو دوست! مَیں باہر جا کر تمہارے لیے پانی لاتا ہوں۔‘‘

اتنے میں فوربس کی کوٹھڑی کا چھوٹا سا دروازہ باہر سے کھلا اور ایک مضبوط بازو اَندر آیا۔ اُس بازو پر بال ہی بال تھے اور بازو کی چوڑی ہتھیلی کے عین وسط میں پانی کا گلاس دھرا تھا۔
فاسٹر کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔ اُس نے فوراً پہچان لیا۔ یہ بازو اَور یہ ہتھیلی اُسی دیوقامت شخص آئیوان کی تھی …..
لیکن اُسے کیسے پتا چلا کہ فوربس نے پانی مانگا ہے اور فاسٹر پانی لینے کے لیے کوٹھڑی سے باہر جانے کا ارادہ کر رہا ہے۔
پچھلے دروازے میں سے فاسٹر کو آئیوان کا قوی ہیکل جسم اور بدہیئت چہرہ صاف نظر آیا۔ یقیناً اِن دونوں میں ایک شخص ضرور ٹیلی پیتھی کا ماسٹر ہے۔ فاسٹر نے سوچا۔

ڈاکٹر بی اسٹار یا یہ آئیوان ….. ورنہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اِدھر منہ سے بات نکلے اور اُدھر دوسروں کو خبر ہو جائے۔
معاً ایک اور خیال اُس کے ذہن میں نمودار ہوا۔ کوئی بھی شخص ٹیلی پیتھی یا مائنڈ ریڈنگ کا کتنا ہی بڑا ماہر کیوں نہ ہو، یہ ناممکنات میں سے ہے کہ وہ اُس کی اتنی باریک اور اَدق جزئیات سے بھی آگاہ ہو۔
اِس کا مطلب یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اُنھوں نے اِس عمارت کے اندر جا بجا زود حِس چھوٹے چھوٹے مائیکروفون لگا رکھے ہوں۔

اِس خیال سے فاسٹر کو ایک طرف اطمینان ہوا، تو دوسری طرف خوف بھی طاری ہو گیا۔ اگر دوسرا قیاس درست ہے، تو پھر اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ آئندہ گفت و شنید کے مراحل بےحد احتیاط سے طے کیے جائیں۔

آئیوان کی ہتھیلی سے پانی کا گلاس اٹھا کر فاسٹر نے فوربس کے منہ سے لگایا اور اُس نے واقعی ایک ہی گھونٹ پانی پیا۔
فاسٹر گلاس واپس کرنے کے لیے دروازے کی طرف مڑا،تو دروازہ بند ملا۔ آئیوان جا چکا تھا۔ فوربس نے احسان مند نظروں سے فاسٹر کی طرف دیکھ کر کہا:

’’ڈاکٹر! مَیں تمہارا ممنون ہوں ….. تم پہلے آدمی ہو جس نے میری کہانی سنی اور اِس پر یقین کر لیا۔‘‘

’’ہاں مسٹر فوربس! مَیں نے تمہاری داستان سنی، یہ نہایت پُراسرار اَور چونکا دینے والی داستان ہے، مگر ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
تم مجھے یہ بتا رہے تھے کہ اُس شب جبکہ تمہاری سالگرہ تھی۔ تین سو برس پرانی ایک عمارت میں کسی حسین و جمیل عورت نے تم پر خنجر سے حملہ کیا اور تمہیں ہلاک کرنا چاہا …..

وہ عورت اپنے مقصد میں ناکام رہی اور پھر غائب ہو گئی۔ کیا یہیں تک پہنچے تھے تم؟

اب غور سے میری بات سنو اَور دَیکھو، ناراض مت ہونا ….. مجھے یہ بتاؤ کیا تمہیں اچھی طرح یقین ہے کہ تم نے اُس شب کوئی بھیانک خواب نہیں دیکھا تھا۔
بعض اوقات انسان خواب دیکھ کر سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ حقیقت ہے ….. تمہارے ساتھ ایسا تو نہیں ہوا؟‘‘

فوربس کی آنکھیں یک دم حیرت اور غصّے سے پھیل گئیں۔ پتلیاں پہلے سکڑیں، پھر اپنی جگہ واپس آ گئیں۔ صاف ظاہر تھا کہ اُسے فاسٹر کا یہ سوال پسند نہیں آیا۔

اُس نے اظہارِ خفگی کے طور پر منہ پرے کر لیا اور آنکھیں بند کر لیں جیسے اُسے نیند آ رہی ہو۔ فاسٹر نے چند ثانیے جواب کا اِنتظار کرنے کے بعد دہرایا:

’’مسٹر فوربس ….. تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔ ہو سکتا ہے تم نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہو۔‘‘

’’وہ خواب نہیں تھا ڈاکٹر! خواب نہیں تھا۔‘‘ فوربس پلٹ کر چلّایا۔
اب اُس کی آنکھوں کا زرد رَنگ بدل کر سرخ ہوتا جا رہا تھا۔ اُس کا لب و لہجہ بھی پہلے جیسا نحیف نہ تھا۔
فاسٹر کو اُس وقت فوربس بالکل نئے روپ میں نظر آ رہا تھا۔ خونیں نگاہوں سے فاسٹر کو گھورتے ہوئے وہ پھر چیخا:

’’مَیں جو اِتنی دیر سے بکواس کر رہا ہوں، کیا اِس لیے کہ تم میرا مذاق اڑاؤ؟

مہربانی کر کے یہاں سے دفعان ہو جاؤ۔ مَیں اب تمہاری صورت دوبارہ دَیکھنے کا روادار نہیں ہوں …..
نکل جاؤ یہاں سے۔‘‘

فاسٹر اُسی طرح بیٹھا مسکراتا رہا۔ فوربس دیر تک بڑبڑانے کے بعد نرم آواز میں بولا:

’’جاؤ مسٹر …..! میری جان چھوڑو۔ مَیں تو پہلے ہی مر رہا ہوں۔ اب تم مجھے کیوں مارنے پر تُلے ہوئے ہو۔
اگر تم پہلے ہی بتا دیتے کہ میری کہانی پر یقین نہیں کرو گے، تو مَیں کیوں خواہ مخواہ اَپنی زبان تھکاتا۔ تم ….. ڈاکٹر لوگ ….. سخت سفّاک اور بےرحم ہو جاتے ہو۔
تمہیں ہر شخص جھوٹا اور فریبی نظر آتا ہے۔ بس ساری دنیا میں ایک تم ہی سچے ہو ….. ٹھیک ہے …..
یہاں سے غارت ہو جاؤ ….. جھوٹوں کے پاس مت بیٹھو۔‘‘

’’تم ناراض ہو گئے، مسٹر فوربس! حالانکہ اِس میں ناراضگی کی کوئی بات ہی نہیں۔
مَیں ایک ڈاکٹر ہوں اور میرا فرض ہے کہ اَپنے مریض کی خیرخواہی کے لیے ہر وہ بات اُس سے پوچھوں جو میری معلومات میں اِضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ مریض کے علاج معالجے میں آسانی پیدا کر سکے۔
کیا تم اِس بات سے انکار کر سکتے ہو کہ ہر انسان کبھی نہ کبھی اچھے، برے خواب دیکھتا ہے۔‘‘

فوربس منہ کھولے فاسٹر کی باتیں سنتا رہا۔ فاسٹر نے اپنی تقریر جاری رکھی۔

’’مَیں نے بھی بارہا ڈراؤنے خواب دیکھے ہیں اور بعض اوقات یہ خواب اتنے اثرانگیز ہوتے ہیں کہ اُن پر حقیقت کا گمان ہونے لگتا ہے۔
مَیں یہ نہیں کہتا کہ تم نے جو کچھ دیکھا، وہ یقینی طور پر خواب ہی ہو گا۔ یہ محض میرا ایک خیال ہے۔‘‘

فوربس پہلی بار مسکرایا۔ ’’وہ خواب ہرگز نہیں تھا ڈاکٹر …..!
مَیں نے جو کچھ دیکھا، وہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے مَیں تمہیں اپنے سامنے بیٹھا دیکھ رہا ہوں۔‘‘

’’خیر خیر ….. اِس بحث کو چھوڑو اَور اَب مجھے یہ بتاؤ کہ پھر کیا ہوا۔‘‘

’’پھر کچھ نہیں ہوا ڈاکٹر ….. پھر کیا ہوتا؟‘‘

فوربس نے یوں کہا جیسے اُسے کچھ نہ ہونے پر افسوس ہو رہا ہو۔ اِس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، وہ یوں ہے۔

جب اُسے ہوش آیا، تو اُس نے خود کو اُسی ویرانے میں پڑے پایا۔ بارش اور برف باری کسی حد تک تھم چکی تھی۔ آخیر رات تھی اور کوئی دم میں صبح ہونے والی تھی۔
وہ بڑی مشکل سے اُٹھا اور اِدھر اُدھر حیران کُن نظروں سے دیکھنے لگا۔ تین سو سال پرانی اُس عمارت کا کوئی نشان اُسے نظر نہیں آ رہا تھا۔
اُس کے کپڑے ابھی تک بھیگے ہوئے تھے اور وُہ ٹھنڈ سے کانپ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اُس نے سوچا، شاید کوئی بھیانک خواب تھا ….. لیکن ….. نہیں ….. یہ خواب نہیں ہو سکتا۔

خواب اتنا واضح، صاف اور تسلسل سے ہرگز نہیں دیکھا جاتا۔ اگر یہ خواب ہی تھا، تو اُسے ایک ایک بات کیسے یاد تھی۔
وہ بوڑھا ….. وہ شمع دان، کھانے کی ٹرے ….. پھر شمع کی لَو میں اپنے گھر کا منظر دیکھنا، اُس کے بعد گھڑیال کے بارہ بجانے کی آواز سننا۔
اُس کا گہری نیند سونا ….. پھر اُس حسینہ کا خنجر ہاتھ میں لیے نمودار ہو کر فوربس پر حملہ کرنا ….. اور یک لخت گھڑیال کا رات کے دو بجانا۔
یہ ساری باتیں خواب تو نہیں تھیں۔ اِس وقت بھی اُسے اُس عورت کا حلیہ اچھی طرح یاد تھا۔

ایک ٹیلے کے قریب بیٹھ کر وہ دَیر تک گم سُم سوچتا رہا کہ یہ کیا معاملہ تھا، مگر اُس کے سوچنے سے کچھ بھی نہ ہوا۔

تھوڑی دیر بعد مشرقی اُفق روشن ہوا اَور صبح کا اُجالا پھیلنے لگا۔ فوربس کا بدن سخت ابتر حالت میں تھا اور ایک ایک رگ پٹھا فریاد کر رہا تھا۔
معاً اُسے اپنی ماں یاد آئی۔ شاید وہ اَب بھی جھونپڑی کے دروازے پر کھڑی اُس کا انتظار کر رہی ہو گی۔ فوربس اپنی ساری جسمانی تھکن بھول کر بےتابانہ اُٹھ کھڑا ہوا۔
اب وہ جلد سے جلد گھر پہنچ کر ماں کو بتانا چاہتا تھا کہ اُس کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا اور وُہ کوشش کے باوجود وَقت پر گھر کیوں نہیں پہنچ سکا تھا۔
فوربس کا خیال تھا کہ ماں یہ عجیب و غریب واقعہ سن کر حیران رہ جائے گی۔

ویرانہ عبور کرتے ہی فوربس کو وہ سڑک دکھائی دی جس پر وہ گزشتہ تیس پینتیس برس سے پیدل چل رہا تھا۔ سڑک دیکھ کر اُسے اطمینان ہوا، تاہم اُس کے ذہن میں یہ خلجان باقی رہا کہ یہ ویرانہ کہاں سے آ گیا۔
آخر وہ اِتنے برس سے اِس تمام علاقے میں گھوم رہا ہے۔
پہلے اُس کا گزر اِس ویرانے سے کبھی نہیں ہوا تھا اور وُہ تین سو برس پرانی عمارت!
ہو سکتا ہے وہ عمارت وہاں کہیں موجود ہو۔ پھر کسی وقت دن کی روشنی میں اِدھر آئے گا اور اُس عمارت کو تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔

ماں بلاشبہ جھونپڑی کے باہر زمین پر بیٹھی فوربس کی راہ تَک رہی تھی۔
اُسے دیکھتے ہی وہ بھاگا اور اُس سے لپٹ گیا۔
ماں کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اُس نے فوربس کو سینے سے لگا لیا اور بھرّائی ہوئی آواز میں بولی:

’’فوربس! کہاں تھے تم؟ کیا تمہیں یاد نہیں کہ گزشتہ شب تمہاری سالگرہ تھی اور تمہیں گھر میں ہونا چاہیے تھا۔‘‘

’’بتاتا ہوں ماں، سب کچھ بتاتا ہوں۔‘‘ فوربس نے کہا۔

پھر وہ دونوں جھونپڑی میں گئے اور فوربس نے سارا قصّہ ماں کو سنا دیا۔
فوربس کی داستان سن کر ماں کا رنگ ہلدی کی طرح زرد پڑ گیا۔
اُس نے ایک بار بھی فوربس کے بیان کا تسلسل نہیں توڑا اَور نہ کوئی سوال کیا۔
جب وہ خاموش ہوا، تب ماں نے لرزتی آواز میں پوچھا:

’’کیا تمہیں یاد ہے، وہ عورت کس وقت تمہارے کمرے میں آئی تھی؟‘‘

’’ہاں ….. اُس وقت رات کے دو بجے تھے۔ گھڑیال کے دو بجانے کی آواز مَیں نے خود سُنی تھی۔‘‘

ماں کا چہرہ یہ سُن کر مزید پیلا پڑ گیا اور اُس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ فوربس نے پریشان ہو کر کہا:

’’کیا بات ہے ماں؟ تم اتنی خوف زدہ کیوں ہو؟
ہو سکتا ہے مَیں نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہو …..
ایسے خواب تو آتے ہی رہتے ہیں۔ اِس میں اتنا ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘

ماں نے اُسے دوبارہ سینے سے لگا لیا اور بولی:
’’فوربس! جو کچھ تم نے دیکھا، خدا کرے وہ خواب ہی ہو، لیکن میرا دِل کہتا ہے کہ وہ خواب نہیں تھا، حقیقت تھی۔‘‘

فوربس بدحواس ہو گیا۔ ’’کیا کہتی ہو ماں! وہ خواب نہیں تھا؟‘‘

’’ہاں بیٹا! مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ضرور کوئی ناگہانی آفت ہم پر نازل ہونے والی ہے۔
بدھ کی رات دو بجے تم پیدا ہوئے تھے اور ٹھیک دو بجے اُس عورت نے تم پر خنجر سے وار کیا۔‘‘

ماں دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر زاروقطار رَونے لگی اور فوربس بھی اُس کے ساتھ رو پڑا۔
دیر تک رونے دھونے کے بعد جب وہ چپ ہوئے، تو ماں نے کہا:

’’بیٹا! میرا دِل کہتا ہے کہ مَیں اب زیادہ دِن نہ جیوں گی۔
کاش! مَیں مرنے سے پہلے تمہاری شادی کر سکتی۔ اب تم ایسا کرو کہ اُس عورت کا پورا حلیہ کسی شخص کو بتا کر ایک کاغذ پر لکھوا لاؤ۔
وہ کاغذ سنبھال کر رکھو، شاید تمہیں اُس کی ضرورت پڑے گی۔
اگر تمہیں کبھی اُس حلیے کی عورت ملے اور تم سے شادی کرنے پر رضامند ہو جائے، تو اُس عورت سے ہرگز ہرگز شادی نہ کرنا۔‘‘

فوربس کو دل ہی دل میں اپنی حماقت پر افسوس ہونے لگا کہ اُس نے خواہ مخواہ اَپنی بوڑھی ماں کو عجیب وہم میں مبتلا کر دیا ہے۔
اُس نے ماں کو سمجھانے بجھانے کی بڑی کوشش کی لیکن ماں بضد رہی کہ وقت ضائع نہ کرو، فوراً اُس عورت کا حلیہ کاغذ پر لکھوا کر لاؤ۔
چنانچہ فوربس گاؤں کے پادری کے پاس گیا اور خنجر بدست عورت کا حلیہ لکھوا کر لے آیا۔ پادری نے اُس سے پوچھنا چاہا کہ یہ عورت کون ہے اور حلیہ لکھوانے کا کیا مقصد ہے؟
مگر فوربس نے اُسے ٹال دیا۔ ماں نے کاغذ کا وہ پرزہ لوہے کے اُس واحد صندوقچے میں رکھ کر مقفل کر دیا جس میں اُس کے روپے پیسے وغیرہ رَکھے رہتے تھے۔

وقت گزرتا گیا۔ فوربس کی نحوست کے دن ختم ہو گئے۔ اب وہ جس کام میں ہاتھ ڈالتا، کامیابی ہوتی۔
بہت تھوڑے عرصے میں اُس نے اپنے گھر کی حالت بدل ڈالی۔ جھونپڑی سے نکل کر دونوں ماں بیٹا ایک پختہ اور نئے مکان میں منتقل ہو گئے۔
فوربس نے کپڑے کی تجارت شروع کر دی تھی اور بالآخر اُس نے گاؤں کی مارکیٹ میں اپنی دکان خرید کر لی۔ اُس کی عمر پینتالیس برس ہو چکی تھی۔
اُسے مالی پریشانی نہ تھی، تاہم اُس کی خواہش تھی کہ اُس کی اب بھی شادی ہو جائے، تو اچھا ہے۔
وہ اَپنی زندگی میں شدت سے یہ خلا اور تنہائی محسوس کرنے لگا تھا۔
ماں نے پھر فوربس کی شادی کے لیے کوششیں کیں، مگر ناکام رہی۔ بھلا کون ایسی عورت ہوتی جو پچاس سال کے ادھیڑ عمر، بدصورت فوربس سے شادی کر لیتی۔

ایک شام کا ذکر ہے، ماں کی طبیعت اچانک بگڑنے لگی۔ فوربس نے کہا کہ وہ اَبھی دوا لے کر آتا ہے۔ وہ جلدی سے کیمسٹ کی دکان پر پہنچا اور دَروازہ کھول کر اندر دَاخل ہوا ہی تھا کہ باہر آنے والی ایک عورت سے بدحواسی میں ٹکرا گیا۔
اُس نے نگاہ اُٹھا کر عورت کو دیکھا اور معذرت کے لیے الفاظ تلاش کرنے ہی والا تھا کہ معاً اُس کے جسم میں چیونٹیاں سی رینگنے لگیں اور اُسے دکان کے در وَ دِیوار، چھت اور فرش گھومتے ہوئے نظر آئے۔
اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔
عورت وہیں کھڑی فوربس کو متجسّس نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ فوربس لڑکھڑا کر گرنے ہی والا تھا کہ عورت نے ہاتھ بڑھا کر اُسے سہارا دِیا۔
فوربس کی نگاہ اُس کے مرمریں سڈول برہنہ بازو پر پڑی۔ بازو پر چھوٹے سے سانپ کی تصویر بنی تھی۔

فوربس اپنی لرزہ خیز کہانی سناتے سناتے یک لخت رک گیا۔ فاسٹر دم بخود تھا۔ فوربس کی کہانی نے فاسٹر کے دل و دماغ میں ایک عجیب ہیجان سا برپا کر دیا تھا۔
فوربس اتنی سادگی اور معصومیت سے اپنا قصّہ کہہ رہا تھا کہ ایک لحظے کے لیے بھی فاسٹر کو یہ شک نہیں گزرا کہ اِس قصّے میں حقیقت کا عنصر کس قدر ہے اور وَہم و گمان کس قدر۔
اُسے فوربس جیسے مجہول شخص سے یہ توقع بھی نہ تھی کہ وہ من گھڑت واقعہ سنائے گا۔
خود فوربس کی جو ظاہری حالت کہانی سناتے وقت فاسٹر نے دیکھی، اُس کی بنا پر اُسے یہ سمجھنے میں دقت نہ ہوئی کہ واقعات اصل میں کچھ ہی رہے ہوں، فوربس اُنھیں یوں دیکھتا رہا جیسے وہ بیان کر رہا تھا۔

فاسٹر نے اُسے جھٹلانے کا ارادہ ترک کر دیا ….. جھٹلانے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا۔
ہر پاگل اور مخبوط الحواس شخص اپنی وضع کردہ ایک الگ دنیا میں رہتا ہے اور اُس دنیا میں وہ جو کچھ دیکھتا یا سنتا ہے، اُسے سچ مان لیتا ہے۔
اُس کے پاگل پن کی حد دراصل وہاں سے شروع ہوتی ہے، جب وہ اُس تصوّراتی اور خیالی دنیا کے واقعات دوسروں کو سنا کر اُن سے بھی یہی توقع کرنے لگتا ہے کہ وہ اُن عجیب اور پُراسرار وَاقعات پر یقین کریں ، اَگر وہ اَیسا کرنے سے انکار کریں،تو پاگل کے غم و غصّے کی حد نہیں رہتی۔
فاسٹر اب تک جتنے پاگلوں سے مل چکا تھا۔ کم و بیش سبھی کو اُن حیرت خیز واقعات و حالات پر سو فی صد یقین تھا جو اُنھوں نے فاسٹر کو سنائے تھے۔

مثلاً بُونی کو ذرّہ برابر وہم نہ تھا کہ والٹر نے اپنی بیوی کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ڈیپ فریزر میں بند کر دیا تھا اور بعدازاں اُسی ڈیپ فریزر میں خود وَالٹر کی لاش پائی گئی۔
بُونی یہ ماننے کو تیار ہی نہ تھی کہ والٹر کی اصل میں کوئی بیوی بھی تھی اور خود وَالٹر کو بُونی نے موت کے گھاٹ اتار کر اُس کی لاش ڈیپ فریزر میں بند کر دی تھی۔
یہی کیفیت بُرونو درزی کی تھی اور باربرا پوری دیانت سے سمجھتی تھی کہ اُس کے بھائی کو لُوسی نے قتل کیا ہے۔

اگر کوئی پاگل یہ تسلیم کرے کہ ہر واردات کے پیچھے اُسی کا ہاتھ اور ذہن کارفرما تھا، تو اُسے پاگل نہیں کہا جائے گا۔ پاگل کے شعور اور لاشعور میں وہ توازن برقرار نہیں رہتا جو قدرت قائم رکھتی ہے۔
جونہی یہ توازن درہم برہم ہوتا ہے، واقعات و تجربات بھی درہم برہم ہو جاتے ہیں۔
کبھی کبھی شعور اَور لاشعور ایک دوسرے کو فریب بھی دے دیتے ہیں اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بہت کم وقفے کے لیے شعوری قوت لاشعور پر حاوی ہو جاتی ہے۔
اُس وقت پاگل افراد اَپنے آپ میں آ جاتے ہیں، لیکن یہ وقفہ کب اور کہاں نمودار ہو گا۔ اِس بارے میں کوئی معالج یا ماہرِ نفسیات کچھ نہیں کہہ سکتا۔
فوربس کے بارے میں فاسٹر کو اِتنا احساس ضرور تھا کہ ذرا سی محنت اور توجہ کے بعد اُس شخص کے شعور اَور لاشعور کا بگڑا ہوا توازن درست کیا جا سکتا ہے، لیکن اِس کارروائی سے پیشتر وہ فوربس کی زبانی اُس کی کہانی کا بقیہ حصّہ ضرور سُن لینا چاہتا تھا۔

فوربس کے بدن پر آپ ہی آپ کپکپی سی طاری تھی۔ اُس کی آنکھیں حلقوں سے اُبلی پڑ رہی تھیں اور ہونٹوں کے کناروں سے سفید سفید جھاگ اُبھر رہا تھا۔
فاسٹر نے قریب رکھا ہوا پانی کا گلاس اٹھایا اور فوربس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔ فوربس نے پانی پینے کی کوشش کی، مگر ناکام رہا۔ فاسٹر نے دیکھا کہ اُس کا جبڑا سختی سے بھنچا ہوا ہے۔
اُس نے گلاس فرش پر رکھ کر فوربس کو بستر پر لٹا دیا۔ چند منٹ تک فوربس پر تشنج کی حالت طاری رہی۔ پھر رفتہ رفتہ اُس کے جسم کی کپکپی رکی۔

آنکھیں حلقوں میں دوبارہ دَھنس گئیں اور اُس کا چہرہ کسی قدر پُرسکون نظر آنے لگا۔ اُس نے ممنون نگاہوں سے فاسٹر کو دیکھا اور آہستہ سے کہا:

’’ڈاکٹر! شاید میری زندگی کے دن پورے ہو گئے ہیں ….. مَیں مر رہا ہوں ڈاکٹر!‘‘

’’ایسا نہ کہو مسٹر فوربس …..! تم ٹھیک ہو جاؤ گے ….. تم جسمانی طور پر کمزور ہو۔ اِس لیے گھبرا گئے ہو۔ مَیں پوری توجہ سے تمہارا علاج کروں گا۔ تم جلد تندرست ہو جاؤ گے۔‘‘

فوربس کے بےجان ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ ابھری :
’’ہاں! ….. سب ڈاکٹر ایسا کہتے ہیں ….. سب ایسا کہتے ہیں، لیکن مَیں زندہ رہ کر کیا کروں گا، ڈاکٹر؟‘‘

’’زندہ رَہنا پڑتا ہے مسٹر فوربس! موت اور زندگی انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی …..
یہ تو خدا کے اختیار میں ہے …..‘‘

’’تم خدا کو مانتے ہو ڈاکٹر؟‘‘ فوربس نے ایک ثانیہ توقف کے بعد اچانک سوال کیا۔
’’سچ سچ بتاؤ کیا تم خدا کو مانتے ہو؟‘‘

فاسٹر کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ فوربس کو کیا جواب دے۔
خدا کو ماننے یا نہ ماننے کی بحث چھیڑنے کا یہ موقع نہ تھا۔
اگر وہ جواب میں خدا کو ماننے کا اقرار کرتا ہے، تو عین ممکن ہے فوربس کہہ دے کہ وہ تو نہیں مانتا، اگر فاسٹر خدا کو نہ ماننے کا اعلان کرے، تو فوربس ناراض بھی ہو سکتا تھا۔
آخر فاسٹر نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کر دیا۔

’’تم بتاؤ مسٹر فوربس! تم خدا کو مانتے ہو یا نہیں؟‘‘

’’میری ماں نے مجھے بتایا تھا کہ خدا ہے۔‘‘ فوربس نے کہا۔ ’’لیکن اُس نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ خدا اَچھے اور نیک انسانوں کو تکلیف اور آزمائش میں کیوں مبتلا کرتا ہے۔
وہ خطاکاروں اور گناہ گاروں کو سزا کیوں نہیں دیتا؟ یقین کرو ڈاکٹر! میری ماں نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا تھا اور کسی کو اَذیت نہیں دی تھی اور اَپنی حد تک یہی بات مَیں بھی کر سکتا ہوں …..
پھر مجھے بتاؤ ….. خدا نے میرے ساتھ یہ سلوک کس بنا پر کیا؟
آخر میرا یا میری ماں کا کیا قصور تھا؟ ہم نے تو کسی چیونٹی تک کو نہیں مارا تھا۔‘‘

’’یہ خدا کی حکمتیں ہیں مسٹر فوربس! اور ہم اپنی محدود عقل کے باعث خدا کی حکمتیں سمجھنے سے قاصر ہیں۔ فاسٹر نے فوربس کی باتوں سے ازحد متاثر ہوتے ہوئے کہا۔
’’خیر یہ باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی، میری خواہش ہے کہ تم اپنی کہانی مکمل کر دو …..
مجھے بتاؤ کہ جب تم نے اُس عورت کو دیکھا جس کے دائیں بازو پر چھوٹے سے سانپ کی تصویر بنی تھی، تب تم نے کیا کِیا؟ وہ عورت کون تھی؟‘‘

’’آہ ….. وہ عورت ….. مَیں آج بھی نہیں جانتا ڈاکٹر کہ وہ عورت کون تھی۔‘‘ فوربس نے کہا۔
’’جیسا کہ مَیں نے بتایا، مَیں اپنی بیمار ماں کی دوا لینے کے لیے کیمسٹ کی دکان پر گیا تھا اور وُہ عورت دکان کا دروازہ کھول کر باہر آ رہی تھی کہ مجھ سے ٹکرا گئی۔

اب مَیں سوچتا ہوں، تو احساس ہوتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر مجھ سے ٹکرائی تھی ….. اور اُس نے دیدہ و دَانستہ اپنا وہ مرمریں بازو میری آنکھوں کے سامنے کیا تھا جس پر ننھے سے سانپ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔
یقین کرو، اُسے دیکھ کر میرے دل کی حرکت بند ہو رہی تھی ۔
مَیں بےہوش ہو کر زمین پر گرنے ہی والا تھا کہ اُس عورت نے مجھے سہارا دِیا اور گرنے سے بچا لیا۔

’’جب اُس کا ہاتھ میرے بدن سے لگا، تو جیسے کسی نے انگارہ مجھ پر رکھ دیا ہو۔ مَیں نے تڑپ کر اُس عورت کو پرے دھکیلا اور دُکان کے اندر گھس گیا۔
دکاندار میری حالت دیکھ کر لپکا ہوا آیا اور اُس نے مجھے پہچان کر کہا:
’فوربس! ….. کیا بات ہے؟ تم ٹھیک تو ہو؟‘ اور مَیں نے بڑی مشکل سے اُسے بتایا کہ مَیں ٹھیک ہوں اور وُہ عورت کون تھی جو تھوڑی دیر پہلے اُس کی دکان سے نکل کر گئی ہے۔
میری یہ بات سن کر کیمسٹ حیرت زدہ رَہ گیا۔ اُس نے کہا ’فوربس! تم یقیناً اپنے آپے میں نہیں ہو ….. تم کس عورت کا ذکر کرتے ہو؟
میری دکان میں تو صبح سے کوئی عورت نہیں آئی، شاید تم نے دکان سے باہر کسی عورت کو دیکھا ہو گا۔‘
کیمسٹ نے یہ الفاظ کہے، تو مَیں ہوش میں آ گیا۔

’’پھر مجھ پر اچانک جنون کی سی کیفیت طاری ہو گئی۔ مَیں نے اُسے گریبان سے پکڑ لیا اور چلّا کر کہا ’تم جھوٹ بولتے ہو بدمعاش! ابھی ابھی ایک عورت تمہاری دکان سے نکلی ہے۔
اُس کے دائیں بازو پر سانپ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ وہ مجھ سے ٹکرائی تھی اور اُس نے مجھے سہارا دَے کر اُٹھایا تھا۔
اَب تم کہتے ہو کہ دکان میں صبح سے کوئی عورت نہیں آئی۔ سچ سچ بتاؤ، ورنہ مَیں تمہیں جان سے مار دُوں گا۔‘ اِس کے بعد اتنا یاد ہے کہ دکان میں تین چار آدمی گھس آئے اور اُنھوں نے مجھے خوب مارا، پھر آنکھ کھلی، تو مَیں اپنی جھونپڑی میں پڑا تھا۔‘‘

’’مسٹر فوربس! کیا تمہیں پورا یقین ہے کہ تم نے بہ ہوش و حواس اُس عجیب عورت کو دیکھا تھا؟
ہو سکتا ہے، تم نے خواب دیکھا ہو۔‘‘

’’وہ خواب ہرگز نہیں تھا۔‘‘ فوربس غرّایا۔
’’مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ خواب اور حقیقت میں تمیز کرنا مجھے خوب آتا ہے …..
مَیں نے دن کے اجالے میں ….. اِن جیتی جاگتی آنکھوں سے اُس عورت کو کیمسٹ کی دکان کے اندر سے باہر آتے دیکھا تھا ۔
اُس کے بدن کا لمس بھی محسوس کیا۔ بھلا مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘

’’لیکن یہ تو سوچو کہ تم نے جب اُس عورت کو دیکھا، تو وہ کیمسٹ کیوں نہیں دیکھ سکا؟‘‘
فاسٹر نے سوال کیا۔

فوربس نے منہ بنا کر اُسے دیکھا اور چبھتے ہوئے لہجے میں بولا:

’’ڈاکٹر مہربانی کر کے یہاں سے چلے جاؤ ….. مجھے اطمینان سے مرنے دو ….. مَیں پہلے بھی تم سے ایسی ہی درخواست کر چکا ہوں کہ مجھے مزید اذیّتیں مت دو …..
اگر تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو، تو سمجھتے رہو۔ مجھے تمہاری ضرورت نہیں اور نہ مَیں تم سے علاج کرانے کا خواہش مند ہوں ….. مجھے میرے حال پر چھوڑ دو …..
جاؤ، اب مَیں آگے ایک لفظ نہ کہوں گا۔‘‘

فاسٹر بےبسی سے فوربس کی طرف تکتا رہا۔
اُسے اپنی حماقت کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔ ارادہ کرنے کے باوجود کہ وہ فوربس کو نہیں ٹوکے گا، اُس کے منہ سے پے بہ پے دو سوال نکل ہی گئے۔

’’مَیں معافی چاہتا ہوں مسٹر فوربس!‘‘ فاسٹر نے اُٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
’’میرا مقصد تمہیں اذیّت دینا یا جھوٹا سمجھنا ہرگز نہ تھا۔ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ مَیں اپنے مریض کے بارے میں تمام ممکن حالات سے آگاہ رَہوں۔
اگر تم اتنی سی بات پر خفا ہوتے ہو، تو مجھے افسوس ہے …..
اب مَیں یہاں کبھی نہ آؤں گا۔ بس آخری بار مجھے معاف کر دو۔‘‘

فاسٹر کی اداکاری کام کر گئی۔ تیر نشانے پر لگا۔
یہ جملے اُس نے اتنی لجاجت اور نرمی سے کہے تھے کہ فوربس کا سارا غصّہ کافور ہو گیا۔ اُس نے اٹھ کر فاسٹر کا ہاتھ تھام لیا اور کہا:

’’تم بہت اچھے آدمی ہو ڈاکٹر! مجھے خود افسوس ہے کہ مَیں نے بلاوجہ تم پر شک کیا۔ بیٹھ جاؤ ….

 بیٹھ جاؤ۔ مَیں تمہیں ساری بات بتاتا ہوں۔ پھر تم خود ہی یقین کر لو گے کہ مَیں سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘

اُس نے چند ثانیے رُک کر اپنا پھولا ہوا سانس درست کیا۔ پانی کے دو تین گھونٹ حلق سے اتارے اور پھر کہنے لگا:

’’کیمسٹ اور چند راہ گیروں نے مجھے غریب اور حقیر جان کر اِس بےدردی سے پِیٹا کہ میرا بدن لہولہان ہو گیا اور پھر اُنھوں نے مجھے دکان سے باہر پھینک دیا۔
مَیں اپنی جھونپڑی تک کیسے پہنچا، یہ بالکل یاد نہیں۔ ماں نے کئی روز تک میرے زخموں پر دوا لگائی اور چوٹوں پر سینکائی کی، تب کچھ حالت بہتر ہوئی۔
ابھی تک ماں کو مَیں نے کچھ نہیں بتایا تھا، حالانکہ وہ کئی بار پوچھ چکی تھی کہ یہ چوٹیں کیسے لگیں اور پھر ایک روز مَیں نے ماں کو اُس عورت کے بارے میں بتایا۔

’’یقین کرو ڈاکٹر! ماں نے جب اُس عورت کا ذکر سنا، تو اُس کی حالت بگڑنے لگی۔
اُس نے مجھ سے کہا ’یہ وہی عورت تھی جسے تم نے اپنی سالگرہ وَالی شب اُس پُراسرار سرائے میں دو بجے دیکھا تھا اور جو تم پر خنجر لے کر حملہ آور ہوئی تھی۔‘
مَیں نے اقرار کیا کہ ہاں یہ وہی عورت تھی اور اُس کے دائیں بازو پر ننھے سے کالے سانپ کی تصویر بھی گدی ہوئی تھی۔ یہ سن کر ماں نے مجھے چھاتی سے لگا لیا۔
وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔ اُس نے کہا بیٹا! مَیں تمہیں نصیحت کرتی ہوں کہ اُس عورت سے بچنا …..
وہ اِس دنیا کی مخلوق معلوم نہیں ہوتی …..
شاید کوئی چڑیل ہے یا جادوگرنی ….. اگر وہ دوبارہ تمہیں دکھائی دے، تو اُس کے قریب نہ جانا …..
مَیں نے ماں کو یقین دلایا کہ ایسا ہی کروں گا۔

’’اور پھر دن گزرتے گئے۔ مَیں نے اُس عورت کی تلاش میں گرد و پیش کا سارا علاقہ چھان مارا۔
ہر ایک سے اُس کے بارے میں دریافت کیا، لیکن کسی نے اقرار نہ کیا کہ اِس حلیے کی کوئی عورت دیکھی گئی ہے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ شاید یہ میرا واہمہ ہی تھا ….. رفتہ رفتہ مَیں یہ واقعہ بھول گیا۔‘‘

فوربس نے ایک بار پھر اپنا سانس درست کیا اور بیان جاری رکھتے ہوئے کہا:

’’سردیوں کی ایک شام تھی اور برف باری کے آثار دِکھائی دے رہے تھے۔ مَیں قریبی قصبے میں ایک کاروباری شخص سے بات چیت کر کے واپس اپنے گاؤں آ رہا تھا کہ یکایک کچی پگڈنڈی کے کنارے درخت کے نیچے بیٹھی ایک عورت پر میری نگاہ پڑی۔
وہ گردن جھکائے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ اُس کا لباس پھٹا پرانا اور سخت بوسیدہ تھا۔
میرے قدموں کی آہٹ پا کر اُس نے گردن اٹھائی اور بیک وقت ہم دونوں کی نظریں چار ہوئیں۔ عورت نہایت حسین و جمیل تھی۔

’’مَیں نے اندازہ کیا کہ اُس کی عمر چوبیس، پچیس برس سے زیادہ نہ تھی۔ اُس کی گہری نیلی آنکھوں میں اداسیاں اور ویرانیاں ہی ویرانیاں تھیں۔
مجھے دیکھ کر اُس کے لبوں پر ایک مغموم مسکراہٹ نمودار ہوئی اور پھر اُس نے اپنی خوبصورت صراحی دار گردن جھکا لی۔
اُس کی طرف دیکھ کر پہلے میرا جی چاہا کہ اپنی راہ لوں، لیکن زمین نے جیسے قدم پکڑ لیے۔ تھوڑی دور آگے ہی گیا تھا کہ مَیں نے اپنے عقب میں ایک سریلی مدھم آواز سنی۔
’ مسٹر فوربس! کیا آپ مہربانی کر کے میری بات سنیں گے؟‘

’’مَیں نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ لڑکی اُسی طرح گردن جھکائے بیٹھی تھی۔ اپنی جگہ حیران و ششدر کھڑا مَیں سوچتا رہا کہ یہ آواز کہاں سے آئی تھی۔
کیا اُس لڑکی نے مجھے پکارا تھا؟ اگر یہی بات ہے، تو پھر اُسے میرا نام کیسے معلوم ہوا۔ میرا اَور اُس کا درمیانی فاصلہ مشکل سے پندرہ بیس فٹ کا ہو گا۔
مَیں نے اردگرد نگاہ ڈالی۔ راستہ سنسان پڑا تھا اور شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔
آسمان سے بس کسی بھی لمحے برف کے گالے گرنے ہی والے تھے۔

’’مجھے سخت تعجب تھا کہ ایسے موسم میں یوں شام کے وقت ایک نوجوان اور خوبصورت لڑکی ویران راستے پر تنہا کیوں بیٹھی ہے۔
غالباً میرے دل میں خیالات کے اِس ہجوم سے وہ بھی باخبر ہوئی کہ اُسی لمحے اُس نے گردن اُٹھا کر مجھے دیکھا۔ اتنی دور سے بھی اُس کی آنکھیں ستاروں کی مانند چمکتی دکھائی دیتی تھیں۔
گہرے سرخ لبوں کے پیچھے سے اُس کے سفید سفید چمکیلے دانت جھانک رہے تھے۔
مَیں کسی حقیر خشک تنکے کی طرح اُس کی طرف کھنچتا چلا گیا۔

’’مجھے پاس آتے دیکھ کر وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ پھٹے پرانے کپڑوں سے اُس کا مرمریں سفید بدن چھلکا پڑ رہا تھا۔
مَیں نے بدحواس ہو کر نگاہیں چرا لیں اور ہکلاتے ہوئے کہا، کیا چند لمحے پہلے آپ ہی نے مجھے آواز دی تھی؟
لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا۔
تب مَیں نے نگاہ اُٹھائی، وہ عجب انداز میں مسکرا رَہی تھی اور اُس کے چہرے پر غم و اَندوہ کی کوئی علامت نہ تھی۔
مَیں نے دیکھا کہ وہ پلکیں جھپکائے بغیر مجھے دیکھ رہی تھی۔

’’ایک بار پھر مَیں نے یہی سوال کیا۔
’جی ہاں! مَیں نے ہی آپ کو آواز دی تھی۔‘ اُس کی مترنم آواز میرے کانوں سے ٹکرائی اور یہ کہتے ہی وہ قدم اٹھا کر میرے بالکل قریب آن کھڑی ہوئی۔
مجھے حیرت ہے کہ ….. آپ کو میرا نام کیونکر معلوم ہوا۔ مَیں نے کہنا شروع کیا۔
وہ کِھلکھلا کر ہنس پڑی اور بولی ’مَیں آپ کو بہت عرصے سے جانتی ہوں مسٹر فوربس! لیکن افسوس، آپ مجھے نہیں جانتے۔
خیر، چھوڑیے اِن باتوں کو۔ کیا آپ مجھے اپنے گھر لے چلیں گے؟‘ حیرت سے میرا منہ کھل گیا۔

’’آپ کو اَپنے گھر لے چلوں، لیکن کیوں؟ کس لیے؟ مَیں نے بری طرح پریشان ہوتے ہوئے کہا۔
میری ماں ….. وہ پھر ہنسی۔ ’آپ تو گھبرا گئے مسٹر فوربس! مَیں مستقل طور پر آپ کے گھر رہنا نہیں چاہتی۔ صرف ایک رات ….. آج کی رات ….. آج کی رات پناہ لینے کی خواہش مند ہوں۔
مجھے سخت بھوک اور سردی لگ رہی ہے۔
مَیں دراصل ایک ضروری کام سے اگلے گاؤں جا رہی تھی کہ راستہ بھول کر اِدھر آ گئی۔ ایک خون خوار بھیڑیا میرے تعاقب میں لگ گیا۔
اُس سے بچنے کے لیے مجھے ایک درخت پر پناہ لینی پڑی۔

’’آپ جانتے ہیں مسٹر فوربس! جب برف گرنے والی ہو اَور شام کا وقت ہو، تب بھیڑیے شکار کی تلاش میں اپنے اپنے بھٹوں سے نکل پڑتے ہیں۔
پچھلے دنوں اِس علاقے میں بھیڑیوں نے کئی راہ گیروں کو پھاڑ کھایا۔
نہ جانے اتنے بھیڑیے کہاں سے آ گئے، حالانکہ پہلے یہاں بھیڑیوں کا نام و نشان نہ تھا۔ سنیے بھیڑیے اِس وقت بھی چلّا رہے ہیں …..!‘‘

فوربس کے بدن میں ایک بار پھر تھرتھری سی چھوٹ گئی۔
فاسٹر نے جلدی سے اُسے سنبھالا اور پانی کا آخری گھونٹ بھی پلا دیا۔

’’شکریہ ڈاکٹر! ….. مَیں کچھ زیادہ ہی کمزوری محسوس کر رہا ہوں۔‘‘ اُس نے کہا۔
’’شاید آج رات کسی وقت مَیں مر جاؤں گا ….. تاہم مرنے سے پہلے مَیں تمہیں سارا قصّہ سنا دینا چاہتا ہوں تاکہ کم از کم میری روح کو تسکین تو پہنچ سکے۔
مَیں خدا کے آگے یہ کہہ سکوں کہ دنیا میں ایک آدمی ایسا بھی تھا جس نے میری بات پر پورا پورا یقین کیا ۔
مجھے بےگناہ سمجھا۔ ڈاکٹر! خدا کے واسطے یہ بتاؤ تم مجھے بےگناہ سمجھتے ہو یا قصوروار؟
اِس سوال کا جواب دو۔‘‘

’’ابھی تک تو مَیں تمہیں قطعی بےگناہ سمجھتا ہوں۔‘‘ فاسٹر نے کہا۔
’’اور تمہاری کہانی سے قیاس ہوتا ہے کہ تم یقیناً بےگناہ ہی رہے ہو گے۔ مہربانی کر کے آگے چلو۔‘‘

’’مَیں تمہارا ممنون ہوں ڈاکٹر۔‘‘ فوربس نے ہانپتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔ اُس کا سانس تیز تیز چل رہا تھا اور گردن کی رگیں اتنی پُھول گئی تھیں جیسے ابھی پھٹ جائیں گی۔
فاسٹر کو خوف ہوا کہ کہیں فوربس کا آخری وقت ہی نہ آ گیا ہو، اِس لیے وہ مضطرب ہو کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے پلٹ کر دروازے کی طرف دیکھا۔
دروازہ پہلے آہستہ سے ہلا، پھر کھل گیا اور ڈاکٹر بی اسٹار کا چہرہ دِکھائی دیا۔
اُس کے عقب میں فاسٹر کو دیوہیکل آئیوان کے بدن کا نچلا حصّہ صاف نظر آ رہا تھا۔

’’معلوم ہوتا ہے فوربس کی کہانی کچھ زیادہ ہی لمبی ہو گئی۔‘‘ ڈاکٹر بی اسٹار نے سنجیدگی سے کہا۔
’’بہرحال، اتنی ہی بہت ہے۔ اِس سے فوربس کی بیماری سمجھنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔ کیوں ڈاکٹر؟‘‘

فاسٹر نے جلدی سے اثبات میں گردن ہلائی۔ اپنے منصوبے کے مطابق وہ ڈاکٹر بی اسٹار سے ضد یا بحث کر کے اُسے ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔
عافیت اِسی میں تھی کہ وہ اُس کی ہاں میں ہاں ملاتا چلا جائے۔

’’فوربس نے حیرت انگیز داستان سنائی ہے ڈاکٹر بی اسٹار! ایسی داستان جو مَیں نے اِس سے پہلے کسی سے نہیں سنی اور سب سے زیادہ دِلچسپ چیز یہ ہے کہ مسٹر فوربس کا حافظہ غضب کا ہے۔
اِنھیں اتنے برس بعد بھی اِس کہانی کی ایک ایک بات بخوبی یاد ہے اور سو فی صد درست۔‘‘

ڈاکٹر بی اسٹار منہ کھول کر ہنسا:
’’ہاں! اِس میں کیا شک ہے۔ مسٹر فوربس کا حافظہ بہت اچھا ہے اور اِن کی کہانی بھی میرے نزدیک سچی ہے ….. مگر اِس کے بارے میں ہم پھر کبھی بات کریں گے۔
سرِدست مَیں آپ کو یہاں سے لے جانا آیا ہوں …..
ایک افسوسناک خبر یہ ہے کہ ابھی ابھی ڈاکٹر برنارڈ اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا ہے۔‘‘

فاسٹر چونک کر ڈاکٹر بی اسٹار کی صورت دیکھنے لگا۔ اُس نے ڈاکٹر برنارڈ کا نام ضرور سنا تھا، مگر اُسے ابھی تک دیکھنے کا موقع نہ ملا تھا۔
فوربس کی کہانی سننے کے بعد وہ ڈاکٹر برنارڈ کے پاس جانے کا ارادہ رَکھتا تھا۔ فاسٹر کے منہ سے مارے حیرت اور خوف کے ایک لفظ تک نہ نکل سکا۔
آخر ڈاکٹر بی اسٹار نے خود ہی کہنا شروع کیا:

’’گزشتہ کئی دن سے ڈاکٹر برنارڈ کی حالت بدل رہی تھی۔ شاید تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ ڈاکٹر برنارڈ جس حادثے کا شکار ہو کر یہاں آیا، اُس حادثے کے باعث اُس کی زبان ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی تھی۔
ویسے اُس کا ذہن قطعی صاف اور متوازن تھا۔ اُس کے کسی رویّے سے یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ وہ کسی بڑے ذہنی حادثے یا جسمانی عارضے سے دوچار ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر برنارڈ اپنے پیشے کے اعتبار سے بھی بڑا ماہرِ نفسیات تھا اور دُور دُور تک اُس کی شہرت تھی۔
مختلف شفاخانوں میں اُسے رکھا گیا اور کہیں بھی اُس کے بارے میں کوئی شکایت سننے میں نہ آئی۔

’’اُسے آخر میں لکھنے کا جنون ہو گیا تھا۔ صبح سے شام تک نہ جانے کیا کچھ لکھا کرتا تھا۔
ایک دو مرتبہ مَیں نے اُس سے یہ معلوم کرنا چاہا کہ وہ کیا لکھتا ہے لیکن ڈاکٹر برنارڈ نے بتانا پسند نہ کیا، بلکہ وہ مجھے دیکھتے ہی اپنے کاغذات چھپا دیا کرتا تھا۔
چونکہ وہ نہایت بےضرر قسم کا مریض تھا، اِس لیے ہم نے بھی مناسب نہ جانا کہ اُسے تنگ کیا جائے اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ وہ کیا لکھا کرتا ہے …..‘‘

فاسٹر بےحد دلچسپی اور توجہ سے یہ باتیں سن رہا تھا۔
اُس نے قطع کلام کرتے ہوئے کہا ’’لیکن اب تو ڈاکٹر برنارڈ مر چکا ہے ….. کیا آپ کو معلوم ہوا کہ وہ کیا لکھا کرتا تھا؟‘‘

’’ہاں ….. اُس کے لکھے ہوئے کاغذات کے پلندے مَیں نے اپنے دفتر میں رکھوا دِیے ہیں۔
سینکڑوں فل سکیپ سائز کے کاغذ ہیں جن پر اُس نے غالباً اپنی زندگی کے اہم واقعات درج کیے ہیں۔ اِس اعتبار سے یہ کاغذات قیمتی اور اَہم شکل اختیار کر گئے ہیں۔
مَیں نے ابھی اُن کا سرسری جائزہ لیا۔ اگر تم چاہو، تو میرے دفتر میں آن کر یہ کا غذات دیکھ سکتے ہو …..‘‘

’’اِس کے دفتر میں کبھی نہ جانا …..‘‘ یکایک فوربس حلق پھاڑ کر چلّایا۔
’’وہاں جو جاتا ہے، زندہ لَوٹ کر نہیں آتا ….. یہ جلاد ہے ….. یہ ڈاکٹر نہیں ہے۔‘‘

فاسٹر اور ڈاکٹر بی اسٹار بھونچکے ہو کر فوربس کی طرف تکنے لگے۔ فاسٹر نے دیکھا کہ ڈاکٹر بی اسٹار کا چہرہ لال ہو گیا ہے۔
اُسے خوف ہوا کہ اَبھی یہ دیوہیکل آئیوان کو اِشارہ کرے گا اور وُہ اَندر آ کر فوربس کا گلا گھونٹ دے گا۔ یہ سوچ کر فاسٹر نے فوربس سے کہا:

’’مسٹر فوربس! یہ کیا بک رہے ہو؟ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔
جانتے نہیں تم یہ بےہودہ کلمات کس کے بارے میں زبان سے نکال رہے ہو؟ یہ ڈاکٹر بی اسٹار ہیں، اِس شفاخانے کے انچارج۔
اِنھی کی وجہ سے یہاں تمہاری دیکھ بھال اور علاج معالجہ ہو رہا ہے ….. اور تم اِنھیں برا بھلا کہہ رہے ہو۔‘‘

ڈاکٹر بی اسٹار معنی خیز انداز میں مسکرایا اور اُس کی یہ مسکراہٹ فاسٹر کو اَیسی لگی جیسے کوئی سفاک شخص دل ہی دل میں کسی کے خلاف انتقام کا جذبہ پختہ کر چکا ہو۔

’’مَیں بہت جلد ایسا انتظام کرنے والا ہوں مسٹر فوربس کہ تمہیں مستقل طور پر آرام آ جائے گا۔‘‘
ڈاکٹر بی سٹار نے آہستہ سے کہا۔ اُس کا خیال تھا شاید یہ جملہ فوربس کے کانوں تک نہیں پہنچے گا، لیکن دوسرے ہی لمحے فوربس نے مغلّظات کی بوچھاڑ کر دی اور ڈاکٹر بی اسٹار پر حملہ کر دیا۔
فاسٹر نے بڑی مشکل سے فوربس کو پکڑا۔ اِس دوران میں خیر گزری کہ دیوہیکل آئیوان باہر ہی کھڑا رَہا۔
ڈاکٹر بی اسٹار نے اُسے کوئی اشارہ نہیں کیا تھا۔ فوربس مسلسل چلّا رہا تھا۔

’’اِس کمینے نے ایک ایک کر کے کئی مریضوں کو موت کے گھاٹ اتار دِیا ہے ….. اپنے اردلی رینالڈس کو بھی مار ڈالا۔  ڈاکٹر بائرن کو مارا ….. اِس نے …..‘‘

فاسٹر نے فوربس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور پلٹ کر ڈاکٹر بی اسٹار سے کہا:
’’براہِ کرم آپ یہاں سے چلے جائیے ….. مریض اِس وقت حالتِ اشتعال میں ہے۔
مَیں اِسے نارمل حالت میں واپس لانے کی کوشش کرتا ہوں، اگر ممکن ہو تو اعصاب پُرسکون کرنے والی چند گولیاں بھجوا دِیجیے گا۔‘‘

ڈاکٹر بی اسٹار اَب بھی یوں مسکرا رَہا تھا جیسے فوربس کی گالیاں اُس کے لیے شِیرِ مادر کا درجہ رکھتی ہوں۔
اُس نے اثبات میں گردن ہلائی اور دَروازے سے باہر نکل گیا۔

فوربس کے نحیف اور نزار بدن میں نہ جانے اتنی قوت ایک دم کہاں سے آ گئی کہ وہ فاسٹر کے سنبھالے نہ سنبھلتا تھا۔
اُس وقت وہ کسی بپھرے ہوئے درندے کی طرح نظر آ رہا تھا۔ یہاں تک کہ خود فوربس کو اَپنے لیے خطرہ محسوس ہونے لگا۔
ایک دو مرتبہ فوربس نے فاسٹر کے ہاتھ پر دانت بھی گاڑ دیے اور اِس زور سے کاٹا کہ بےاختیار فاسٹر کے حلق سے چیخ نکل گئی۔
فاسٹر کے چیختے ہی ایک عجیب تماشا ہوا۔ فوربس دھاڑیں مار مار کر رونے لگا ۔
رَوتے روتے اُس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ اُس کی ناک اور منہ سے لگاتار پانی بہ رہا تھا۔

ایک بار پھر قوی ہیکل آئیوان نمودار ہوا۔ اُس نے پانی سے بھری ہوئی بوتل اور ایک چھوٹی سی شیشی فاسٹر کی طرف بڑھائی۔
فاسٹر نے دیکھا کہ شیشی میں زرد رَنگ کی ننھی ننھی گولیاں بھری ہوئی ہیں۔ فاسٹر نے شیشی اپنی جیب میں رکھ لی اور آئیوان کو واپس جانے کا اشارہ کیا، لیکن آئیوان نے مطلق جنبش نہ کی۔
وہ پتھر کے کسی بےجان مجسمے کی طرح اپنی جگہ جما رہا۔ فاسٹر نے دوبارہ اُسے جانے کا اشارہ کیا مگر بےسود۔

آئیوان کا یہ رویّہ فاسٹر کے لیے ناقابلِ فہم اور کسی قدر بھیانک تھا۔ دفعتاً ایک بات فاسٹر کے ذہن میں یوں آئی جیسے کسی نادیدہ قوت نے اُسے زبردستی اُس کے ذہن میں دھکیلا ہو۔
اُس نے جلدی سے گولیوں کی شیشی جیب سے نکالی ۔
اُس کا ڈھکنا کھول کر دو گولیاں اپنی ہتھیلی پر الٹ دیں۔ پھر اُس نے بوتل میں سے گلاس کے اندر پانی اُنڈیلا اور دونوں گولیاں فوربس کے منہ میں ڈال کر گلاس اُس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔
اِدھر فوربس کے معدے میں زرد گولیاں پہنچیں، اُدھر آئیوان جا چکا تھا۔

فاسٹر حیران اور خوف زدہ کیفیت میں سوچنے لگا:
آئیوان اِس لیے نہیں گیا تھا کہ اُسے ڈاکٹر بی اسٹار کی جانب سے ہدایت دی گئی تھی کہ جب تک فوربس گولیاں نہ کھا لے، وہ اَپنی جگہ سے نہ ہلے گا۔
فاسٹر کا شبہ اب یقین میں بدلتا جا رہا تھا کہ آئیوان گوشت پوست کا بنا ہوا حقیقی انسان نہیں بلکہ ایک انسانی مشین ہے جسے یقیناً ڈاکٹر بی اسٹار یا کسی ذہین ترین سائنس دان نے خاص ضرورت کے تحت ایجاد کیا تھا۔
بہرحال آئیوان کی پُراسرار شخصیت فاسٹر کے لیے نہ صرف زبردست الجھنوں کا باعث بن رہی تھی، بلکہ اُس کے اعصاب کی توڑپھوڑ کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔
فاسٹر نے طے کیا کہ وہ اَگلی ملاقات میں ڈاکٹر بی اسٹار سے آئیوان کے مسئلے پر اظہارِ خیال کرے گا۔ اگر فی الواقع آئیوان، ڈاکٹر بی اسٹار ہی کی ایجاد ہے، تو یہ اِس صدی کا سب سے بڑا اَور اِنتہائی حیرت خیز سائنسی کارنامہ ہے۔

اُن ننھی ننھی زرد گولیوں نے فوربس پر حیران کن اثر ڈالا۔ اب وہ ہشاش بشاش اور خاصا پُرسکون نظر آتا تھا۔
اُس نے فاسٹر سے کہا:

’’ابھی ابھی آپ کے علاوہ یہاں اور کون آیا تھا؟ مجھے شبہ گزرا تھا کہ کوئی آپ کے قریب کھڑا ہوا تھا؟‘‘

فاسٹر نے نفی میں گردن ہلائی۔
’’یہاں کوئی نہیں آیا، مسٹر فوربس! بس ہم دونوں ہی ہیں۔ بھلا کوئی تیسرا شخص آتا، تو مجھے پتا نہ چلتا۔‘‘

فوربس جیسے غوروفکر میں کھو گیا۔ اُس نے مشکوک نظروں سے فاسٹر کا جائزہ لیا اور کہنے لگا :
’’اگر آپ کہتے ہیں، تو ٹھیک ہو گا۔ لیکن نہ جانے کیوں مجھے احساس ہو رہا ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے یہاں کوئی اور بھی موجود تھا۔
مَیں نے خود اُسے دیکھا تھا ….. مگر ….. ہاں، تو کیا کہہ رہا تھا مَیں؟‘‘

’’تم مجھے بتا رہے تھے کہ سردیوں کی ایک شام گھر واپس جاتے ہوئے تمہیں ایک نوجوان خوبصورت لڑکی راستے میں ملی۔
وہ تمہارا نام بھی جانتی تھی اور اُس نے تم سے درخواست کی تھی کہ تم اُسے اپنے گھر لے چلو ….. اُس نے یہ بھی کہا تھا کہ خونخوار بھیڑیے اُس کا تعاقب کر رہے ہیں۔‘‘

’’خدا کی پناہ! بےشک یہی بات تھی۔ جب اُس نے کہا کہ بھیڑیوں کے چلّانے کی آواز آ رہی ہے، تو مجھے یقین نہیں آیا تھا۔
مجھے اتنی مدت اُس علاقے میں گھومتے پھرتے ہو گئی تھی، لیکن مَیں نے کسی خونخوار بھیڑیے کو نہیں دیکھا تھا اور نہ کبھی یہ سننے میں آیا کہ بھیڑیوں نے انسانوں کو چیرا پھاڑا ہو۔
قطعی ناممکن بات تھی ….. لیکن جس لمحے اُس لڑکی نے یہ بات کہی، اُسی وقت میرے کانوں میں بھیڑیوں کے چلّانے کی آواز بھی آئی۔
یوں لگتا تھا جیسے وحشی بھیڑیوں کا ایک غول اُسی طرف آ رہا ہو ….. دہشت سے میرے بدن کا رُواں رواں کانپنے لگا۔

’’مَیں نے چیخ کر کہا ’بھاگو یہاں سے!‘ اور یہ کہتے ہی مَیں خود بھی اپنے گاؤں کی طرف تیزی سے بھاگنے لگا۔
پلٹ کر دیکھا کہ شاید وہ بھی میرے پیچھے آ رہی ہو گی، لیکن وہ تو وہیں کھڑی تھی۔
مَیں نے اُسے پکار کر کہا وہاں کھڑی کیا کر رہی ہو ….. آؤ …..  تمہیں اپنے گھر میں پناہ دَینے کو تیار ہوں۔ بس، یہ کلمہ میرے منہ سے نکلا ہی تھا کہ وہ جیسے ہوا میں تیرتی ہوئی آئی اور میرے پاس پہنچ گئی۔
مَیں جس قدر بھیڑیوں کی آواز سُن کر ڈرا تھا، وہ اُسی قدر مطمئن اور خوش نظر آتی تھی۔
یہ بات میرے لیے بےحد تعجب خیز تھی کہ اب اُسے بھیڑیوں سے ڈر نہیں لگ رہا تھا۔

’’بھیڑیوں کی آواز ہر لحظہ قریب آتی جا رہی تھی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ زیادہ دُور نہیں ہیں۔ مَیں نے لپک کر اُس کا ہاتھ تھاما اور آگے بھاگا۔
اتنے میں آسمان سے برف کے سفید سفید گالے گرنے لگے اور دَیکھتے دیکھتے برف باری میں اتنی تیزی آ گئی کہ وہ پگڈنڈی جس پر ہم دونوں دوڑ رہے تھے، نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔
ہمارے اردگرد برف ہی برف تھی۔ مَیں نے پناہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر نگاہیں دوڑائیں۔

’’کچھ فاصلے پر ایک پہاڑی تھی۔ خیال آیا کہ وہیں پناہ مل سکتی ہے، چنانچہ ہم دونوں اُدھر دوڑے۔ اُس کا ہاتھ اب بھی میرے ہاتھ میں تھا۔
مگر دوڑنے کے دوران میں مجھے احساس ہوا کہ مَیں صرف اپنے ہی قدموں کی آہٹ سن رہا ہوں۔ اُس کے قدموں کی آہٹ مجھے سنائی نہ دیتی تھی۔ دفعتاً یوں لگا جیسے بھیڑیوں نے ہمیں گھیر لیا ہو۔

مَیں اب اُن وحشیوں کی لال لال آنکھیں اور منہ سے باہر لٹکتی ہوئی لمبی لمبی زبانیں بخوبی دیکھ رہا تھا۔ وہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے۔
اُنھوں نے ہمارے بچ نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہ چھوڑا تھا۔ اُن کے حلق سے نکلنے والی غرّاہٹیں اور چیخیں خون خشک کیے دیتی تھیں اور وُہ دَم بدم اپنا دائرہ تنگ کر رہے تھے۔

مَیں نے اُس اجنبی لڑکی سے کہا ’بھیڑیوں نے ہمیں گھیر لیا ہے۔ اگر ہم نے بچاؤ کی کوئی تدبیر نہ کی، تو یہ ہمیں ہلاک کر ڈالیں گے۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنی بڑی تعداد میں بھیڑیے اِدھر کہاں سے آ گئے ….. اِس سے پہلے تو مَیں نے کبھی کوئی بھیڑیا نہیں دیکھا تھا۔‘

’’میرا خیال تھا کہ اُس پر بھی بھیڑیوں کو دیکھ کر دہشت طاری ہو گی، مگر وہ تو پُرسکون نظر آ رہی تھی۔ میری بات سن کر وہ ہنسی اور کہنے لگی:
’مسٹر فوربس! کیا تم اِن بھیڑیوں سے خوف زدہ ہو؟ بھیڑیے ہمیشہ اُس شخص پر حملہ کرتے ہیں جو اُن کے سامنے خوف کا مظاہرہ کرے ….. ذرا ہمت سے کام لو …..
بھیڑیوں کا دائرہ تنگ ہونے سے پہلے جس قدر تیزی سے بھاگ سکتے ہو، بھاگو ….. اِس طرح ہم دونوں میں سے کم از کم ایک کی جان تو بچ ہی جائے گی۔
میرا دُنیا میں کوئی نہیں اور تمہاری ایک ماں ہے ….. اِس لیے مَیں مر بھی گئی، تو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔‘

’’اُس نوجوان لڑکی کے منہ سے یہ دلیرانہ باتیں سن کر مَیں دنگ رہ گیا۔ مَیں اُس کا مطلب سمجھ چکا تھا۔ وہ مجھے بچانے کے لیے بھیڑیوں کو اَپنے تعاقب کی دعوت دے رہی تھی۔
بلاشبہ مَیں خاصا بزدل آدمی ہوں، مگر اُس وقت نہ جانے کہاں سے مجھ میں بےپناہ حوصلہ اور طاقت پیدا ہوئی کہ مَیں نے مضبوطی سے اُس کا ہاتھ دوبارہ تھام لیا اور کہا
’اگر ہمیں اِن موذیوں کی وجہ سے مرنا ہی ہے، تو اکٹھے مریں گے۔
کیا تم سمجھتی ہو کہ مَیں تمہیں اِن کے حوالے کر کے خود اَپنی جان بچا کر بھاگ جاؤں گا۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔‘

’’ایک بار پھر وہ کِھلکھلا کر ہنسی اور مجھے تعجب ہوا کہ کیا یہ موقع اِس ہنسی کا تھا۔ بھیڑیے مسلسل جمع ہو رہے تھے۔
اَب وہ ہمارے اِس قدر نزدیک تھے کہ یکبارگی ہلّہ بول دیتے، تو ہم کسی طرح بچ نہیں سکتے تھے۔ آسمان سے برف کے گالے برابر گر رہے تھے۔
اِردگرد اَندھیرا پھیل رہا تھا، تاہم اتنا ضرور تھا کہ مجھے اُن بھیڑیوں کی لٹکی ہوئی زبانیں اور لال لال انگارہ سی آنکھیں لَو دیتی ہوئی صاف نظر آتی تھیں۔
اب اُن کی چیخیں اور غرّاہٹیں کسی حد تک رک گئی تھیں۔ مَیں نے دیکھا کہ بھیڑیوں کے اُس غول میں ایک بھیڑیا سب سے زیادہ قوی ہیکل اور اُونچا ہے۔
غالباً وہ اُن کا سردار تھا اور مَیں نے سُن رکھا تھا کہ بھیڑیے اپنے سردار کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔ ہم پر حملہ کرنے سے پہلے وہ اَپنے سردار کے اشارے کے منتظر تھے۔
اِس وقت بھی وہ خوفناک منظر میری نگاہوں کے سامنے ہے اور محسوس کر رہا ہوں جیسے میرے اردگرد بھیڑیے ہی بھیڑیے ہیں۔‘‘

فوربس بولتے بولتے رک گیا۔ اُس کی آنکھوں سے دہشت کا اظہار ہو رہا تھا اور اُس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ فاسٹر نے اُسے تسلی دی کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔
وہ وَقت گزر چکا ….. اِس عمارت کے اندر وُہ ہر طرح محفوظ ہے۔ یہاں کوئی بھیڑیا نہیں آ سکتا …..
لیکن فوربس نے جیسے یہ الفاظ نہیں سنے۔ اُس نے اپنے اردگرد سہمی ہوئی نظروں سے دیکھا اور اُنگلی اٹھا کر بولا:

’’وہ دَیکھو ….. وہاں ….. وہاں ….. بالکل وہی ہے ….. اُف ….. خدایا!‘‘

اُس کے حلق سے عجیب عجیب آوازیں نکلنے لگیں۔
اُس کے چہرے کے نقوش یک لخت بگڑ کر کچھ سے کچھ ہو گئے۔ فاسٹر نے اُسے بری طرح جھنجوڑ دیا۔

’’مسٹر فوربس! ….. ہوش میں آؤ …..‘‘ لیکن فوربس اِنہی الفاظ کی تکرار کرتا رہا۔ بار بار وُہ اُنگلی سے ایک گوشے کی طرف اشارہ کرتا اور کہتا کہ وہ یہاں بھی آ گئی ہے ….. بھیڑیے اُس کے ساتھ ہیں …..
اِس مرتبہ وہ مجھے مار ڈالے گی۔ فوربس کی آواز کچھ دیر بعد مدھم پڑنے لگی۔ اُس کی آنکھیں کھلی تھیں اور پُتلیاں کبھی گردش کرتیں، کبھی تھم جاتیں۔
فاسٹر کے لیے فوربس کی ذہنی اور جسمانی حالت کا مشاہدہ ایک نیا اور اِنتہائی عجیب تجربہ تھا۔ اب وہ ہر قیمت پر فوربس کی کہانی مکمل ہونے کا خواہش مند تھا۔
اگر کہانی پوری نہ ہوئی، تو یہ خود فاسٹر کے لیے اچھی بات نہ ہو گی۔ وہ ہمیشہ ایک ذہنی خلجان اور اِضطراب میں مبتلا رہے گا۔
فوربس کی حالت درست کرنے کے لیے اُس کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا، سوائے اِس کے کہ ڈاکٹر بی سٹار کو اِطلاع کرے۔

اِس ارادے سے وہ اُٹھ کر دروازے کی طرف گیا ہی تھا کہ دروازہ خود ہی آہستہ سے کھلا اور دَیوقامت آئیوان نظر آیا۔ فاسٹر کے قدم جہاں تھے، وہیں رک گئے۔
آئیوان کا چہرہ حسبِ معمول کسی بھی تاثر یا جذبے سے یکسر خالی تھا۔ اُس نے فاسٹر کی طرف اپنا لمبا اور مضبوط بازو بڑھایا۔
فاسٹر نے دیکھا کہ آئیوان کی ہتھیلی پر ایک اور شیشی دھری ہے جس کے ساتھ ایک پرزہ کاغذ کا بھی تھا۔ اس نے یہ چیزیں اٹھائیں اور جونہی یہ عمل ختم ہوا، آئیوان دروازہ بند کر کے چلا گیا۔

فاسٹر نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔ یہ سب کیا تھا؟ اُس کے دماغ کی رگیں جیسے پھٹنے لگیں ….. کیا ڈاکٹر بی اسٹار کو اُس کے ارادوں کا یوں فوری طور پر علم ہو سکتا ہے؟
دنیا کا بڑے سے بڑا قوتِ اشراقیہ کا ماہر بھی اِس حد تک اپنے فن میں کامل نہیں ہو سکتا جس حد تک ڈاکٹر بی اسٹار پہنچ چکا ہے ….. کیا یہ شعبدے آئیوان کے ہیں؟
اُس آئیوان کے جس کے بارے میں ابھی تک فاسٹر کو کچھ علم نہ تھا کہ وہ آدمی ہے، کوئی جن ہے یا کسی اور سیّارے کی مخلوق …..
فوربس کے کراہنے کی آواز سن کر فاسٹر اپنے اِن بھیانک خیالات سے چونکا اور اُس نے مڑ کر فوربس پر نگاہ ڈالی۔ اُس کے چہرے کے مسخ شدہ نقوش آہستہ آہستہ مدھم پڑ رہے تھے۔
مڑی ہوئی ناک اپنی جگہ واپس آ رہی تھی اور آنکھوں کی گردش کرتی ہوئی پتلیاں قرار پا رہی تھیں۔
فاسٹر نے اُس کاغذ کے پرزے کو دیکھا جو آئیوان دے گیا تھا۔ اُس پر چند الفاظ لکھے گئے تھے:

’’فوربس پر وقت ضائع نہ کرو ….. اُس کی کہانی کبھی ختم نہیں ہو گی …..
اگر تم مزید کچھ عرصہ اِسے زندہ رَکھنے کے خواہش مند ہو، تو اِس شیشی میں سے دو گولیاں نکال کر فوربس کے حلق میں ڈال دو …..
دو سے زیادہ گولیاں دینا خطرناک ہو گا …..
مَیں ایک گھنٹے کے لیے باہر جا رہا ہوں۔ ڈاکٹر برنارڈ کی موت کے سلسلے میں متعلقہ افراد کو آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ اُس کی لاش یہاں سے لے جائیں۔ شام کا کھانا ہم اکٹھے ہی کھائیں گے۔‘‘

فاسٹر نے شیشی سے دو گولیاں نکالیں اور فوربس کا بھنچا ہوا جبڑا کھول کر منہ میں ڈال دیں۔ فاسٹر کو اِحساس ہوا کہ خود اُس کے اندر ایک عجیب اور پُراسرار تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔
وہ بالکل آئیوان کی طرح ڈاکٹر بی سٹار کے احکام کی بےچُون و چرا تعمیل کرنے پر مجبور ہے ….. فاسٹر کے تن بدن میں اِس احساس کے ساتھ ہی لرزہ طاری ہو گیا۔
اِس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ خود غیرشعوری طور پر ڈاکٹر بی اسٹار کا غلام بنتا جا رہا ہے۔
بڑی مشکل سے اُس نے یہ خیالات اپنے ذہن سے خارج کیے، ورنہ یقینی بات تھی کہ ڈاکٹر بی اسٹار اَپنی ناقابلِ یقین صلاحیتوں کے ذریعے فاسٹر کے اِن خیالات سے بھی آگاہ ہو سکتا تھا۔
گولیوں نے ایک بار پھر فوربس کی قوتیں بحال کر دیں۔ فاسٹر کو دیکھ کو وہ مسکرایا اور کہنے لگا:

’’ڈاکٹر! تم دنیا کے حیرت انگیز انسان ہو ….. تم نے مجھے نئی زندگی دی ہے …..
مَیں خود کو پہلے سے بہت بہتر پا رہا ہوں ….. لاؤ یہ شیشی مجھے دے دو …..
تمہارے جانے کے بعد جب بھی مَیں نقاہت محسوس کروں گا، یہ گولیاں کھا لوں گا۔‘‘

’’نہیں مسٹر فوربس! یہ گولیاں تمہارے لیے مہلک بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔‘‘
فاسٹر نے جواب دیا اور شیشی اپنی جیب میں رکھ لی۔ فوربس بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا اور نتھنے سکوڑ سکوڑ کر کسی درندے کی طرح فاسٹر کو گھورنے لگا۔
اُس کی ناک سے ایسی آواز نکل رہی تھی جیسے واقعی کوئی بلی یا گیدڑ غرّا رَہا ہو۔ اُس کی آنکھیں خونِ کبوتر کی مانند سرخ ہو گئیں۔

’’مَیں کہتا ہوں یہ شیشی میرے حوالے کر دو ….. ورنہ مَیں تمہیں مار ڈالوں گا۔‘‘ فوربس نے دانت نکال کر کہا۔ فاسٹر اُس کی یہ ظاہری حالت دیکھ کر ہیبت زدہ ہو گیا۔
فوربس کے بگڑے ہوئے تیوروں سے یہ اندازہ کرنا دشوار نہ تھا کہ وہ اِنکار کی صورت میں فاسٹر پر حملہ کرنے سے بھی دریغ نہ کرے گا ۔
فاسٹر ایسی صورتِ حال سے بچنے ہی میں عافیت سمجھتا تھا، چنانچہ اُس نے نرم لہجے میں کہا:

’’مسٹر فوربس! یہ دوا تمہارے ہی لیے ہے۔ اِسے مَیں استعمال نہیں کروں گا، لیکن تمہیں اتنا تو سوچنا چاہیے کہ دوا کی زیادہ مقدار اَگر کھا لی جائے، تو یہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اِس لیے اپنے معالج کی ہدایت پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اگر وعدہ کرو کہ مجھ سے پوچھے بغیر یہ گولیاں نہ کھاؤ گے، تو مَیں شیشی تمہارے حوالے کر سکتا ہوں۔‘‘

فوربس نے دوبارہ دَانت نکال دیے۔ معلوم ہوتا کہ مسکرا رَہا ہے۔ ٹھیک ہے مَیں وعدہ کرتا ہوں۔‘‘
اُس نے کہا اور فاسٹر نے شیشی اُس کے بستر پر پھینک دی۔

’’دیکھو فوربس! تم میرا خاصا وقت ضائع کر چکے ہو۔‘‘ فاسٹر نے ایک ایک لفظ پر زور دَیتے ہوئے کہا۔
’’بہتر ہے اب مختصر الفاظ میں اپنی کہانی ختم کر دو۔‘‘

’’کہانی تو ختم ہی ہے۔‘‘ فوربس نے شیشی اپنے ہاتھ میں سختی سے پکڑ لی۔
تھوڑی دیر وہ متجسس نظروں سے شیشی کے اندر بھری گولیوں کا جائزہ لیتا رہا۔ پھر کہنے لگا ’’ہاں، تو کیا کہہ رہا تھا مَیں؟
بھیڑیوں نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اور وُہ اَپنے سردار کے اشارے کا انتظار کر رہے تھے۔ موت ہمارے سر پر کھڑی تھی اور بچنے کا کوئی امکان نہ تھا۔

’’یکایک مَیں نے دیکھا کہ اُس نوجوان لڑکی نے اپنا دایاں ہاتھ اوپر اٹھایا اور بھیڑیوں سے مخاطب ہو کر کہا ’جاؤ! یہاں سے چلے جاؤ ….. جاؤ۔‘
مَیں نے خیال کیا کہ اِن درندوں کے باعث یہ بےچاری اپنے حواس میں نہیں رہی اور پاگل ہو چکی ہے۔ بھیڑے اِس کی زبان کیا سمجھیں گے؟ لیکن یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بھیڑیوں نے گردنیں جھکا لیں۔
اُن کی جبڑوں سے باہر لٹکی ہوئی لمبی لمبی سرخ زبانیں جبڑوں کے اندر چلی گئیں اور آنکھوں کی ہر لحظہ پھیلتی سکڑتی پتلیاں سمٹ کر ایک نقطے پر رک گئیں۔
چند ثانیے تمام بھیڑیے بےحس و حرکت کھڑے رہے اور جونہی اُس لڑکی کا ہاتھ نیچے آیا، بھیڑیے پلٹے اور دَوڑتے ہوئے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔‘‘

’’مسٹر فوربس! کیا تم یہ اپنی کہانی بیان کر رہے ہو یا کسی ناول کی سنسنی خیز داستان سنا رہے ہو؟‘‘ فاسٹر نے سنجیدگی سے کہا۔

’’مَیں قسم کھا کر کہتا ہوں ….. اپنی مرنے والی ماں کی قسم ہے۔‘‘ فوربس کی آنکھوں میں یک لخت آنسو آ گئے۔ ’’اِس تمام واقعے میں اگر ایک لفظ بھی جھوٹ یا غلط ہو، تو خدا مجھے کبھی معاف نہ کرے۔
مَیں نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہی بیان کر رہا ہوں …..
کیا تم اِس امر پر غور نہیں کرتے کہ آخر جھوٹ بولنے سے مجھے کیا مل جائے گا؟
کیا میری ماں مجھے واپس مل جائے گی یا میری زندگی کے وہ دِن لَوٹا دیے جائیں گے جو مَیں نے مختلف اسپتالوں اور پاگل خانوں میں ایک بدترین قیدی کی حیثیت سے کاٹے ہیں۔‘‘

فاسٹر نے کوئی جواب نہ دیا۔
فوربس اگر درست کہہ رہا تھا، تو اِن باتوں کا واقعی کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا تھا۔
چند لمحے آنکھیں بند رکھنے کے بعد فوربس نے کہا:

’’بھیڑیے چلے گئے اور مَیں نے اطمینان کا سانس لیا۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ عین اُسی لمحے برف باری بھی تھم گئی۔
تھوڑی دیر پہلے تک یخ بستہ ہواؤں کے وہ جھونکے جو بدن میں تیروں کی طرح گڑے جاتے تھے، رک گئے ….. آسمان صاف ہو گیا اور مشرق کی طرف سے زرد رنگ کا چاند چمکتا ہوا اُبھرنے لگا۔
مَیں نے نوجوان لڑکی کی طرف دیکھا۔ وہ خاموش کھڑی اُسی جانب تَک رہی تھی جدھر بھیڑیوں کا غول گیا تھا۔ مَیں نے اُس کے شانے پر ہاتھ رکھا، تو وہ چونک گئی اور پلٹ کر میری طرف دیکھنے لگی۔
اُس کی آنکھوں میں بےپناہ چمک تھی۔ ایسے ماحول میں مجھے وہ یوں نظر آتی تھی جیسے کسی اور دُنیا سے آئی ہو۔

’’لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور  مسکراہٹ میں اُس کے سفید سفید دانت نمایاں ہو گئے۔ مَیں نے دیکھا کہ اُس کے دانت حد درجہ سفید اور غیرمعمولی طور پر نُکیلے ہیں۔
اِس سے پیشتر کہ مَیں کچھ کہوں، اُس نے اپنی مترنم آواز میں کہا:
’مسٹر فوربس! بھیڑیے چلے گئے ….. تم ضرور حیران ہو رَہے ہو گے کہ اِس وحشی مخلوق نے میرا کہا کیونکر مان لیا۔ اِس کے پیچھے ایک کہانی ہے جو مَیں پھر کبھی تمہیں سناؤں گی۔ اِس وقت اپنے گھر لے چلو، مجھے نیند آ رہی ہے۔‘

’’رات کے پچھلے پہر ہم اپنے گاؤں میں داخل ہوئے۔ آسمان پر چمکتے ہوئے چاند کی روشنی میں گاؤں کی گلیاں اور کچے پکے مکانات دور ہی سے نظر آنے لگے تھے۔
میرا خیال تھا برف باری کے باعث گاؤں کے مکانوں کی چھتوں اور گلی کوچوں میں برف کے انبار لگے ہوں گے، لیکن ڈاکٹر! آپ میری حیرت کا اندازہ نہیں کر سکتے۔
جب مَیں نے گاؤں میں برف کا ایک ذرہ بھی نہ پایا۔ زمین بالکل صاف تھی اور معمولی توجہ سے بھی پتا چل جاتا تھا کہ یہاں برف باری نہیں ہوئی۔ گلیاں اور کوچے سنسان پڑے تھے۔
کسی کسی مکان کے اندر تیل سے جلنے والے لیمپ روشن تھے اور اِکّا دُکّا آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

’’گلی کے ایک موڑ سے اچانک ایک کتا بری طرح بھونکتا ہوا ہماری طرف لپکا۔ کتے کے تیوروں سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ حملہ کر دے گا، چنانچہ مَیں نے اپنے بچاؤ کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا۔
قریب ہی ایک بڑا سا پتھر پڑا تھا۔ مَیں نے جلدی سے بڑا پتھر اٹھا لیا، مگر اُسی لمحے جو کچھ میری آنکھوں نے دیکھا، اُس پر آج بھی یقین نہیں آتا۔

’’وہ خونخوار کتا تیزی سے آیا اور ہم سے کوئی پانچ سات قدم دور ہی رک گیا۔ پھر اُس کے حلق سے گُھٹی گھٹی سی چیخیں نکلنے لگیں اور مَیں نے دیکھا کہ کتے کے بدن کا ایک ایک رُواں کھڑا ہے۔
اُس نے دم ٹانگوں میں دبا لی اور یوں زمین کی طرف جھکتا چلا گیا جیسے کوئی نادیدہ قوت اُسے ایسا کرنے پر مجبور کر رہی ہو۔
یکایک وہ پلٹا اور برق رفتاری سے اُسی جانب بھاگ گیا جدھر سے آیا تھا۔

’’نوجوان لڑکی نے قہقہہ لگایا اور بولی ’غالباً کتا تمہارے ڈر سے بھاگ گیا مسٹر فوربس!‘ مَیں نے اُس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ کتا یقیناً کسی اور سبب سے ڈرا تھا ۔
یہ بات مَیں بخوبی جانتا تھا کہ کتا تو ایک طرف رہا، کوئی گیدڑ یا چوہا بھی مجھ جیسے حقیر شخص سے ڈر کر نہیں بھاگتا۔ لیکن اُس وقت میرے ذہن میں سوچنے اور غور کرنے کی زیادہ قوت نہ تھی۔
مَیں نے اپنی جھونپڑی کی جانب قدم بڑھائے اور دُور ہی سے مَیں دیکھ چکا تھا کہ ماں دروازے پر لالٹین ہاتھ میں لیے کھڑی ہے۔ ماں نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا، وہ لپکی اور کہنے لگی :
’فوربس! کہاں رہ گئے تھے تم؟ خیر تو ہے؟‘ اور اِس کے ساتھ ماں کی نگاہ اُس اجنبی لڑکی پر پڑی جو ماں کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
’یہ کون ہے تمہارے ساتھ فوربس؟‘ ماں نے تھرّائی ہوئی آواز میں مجھ سے پوچھا۔ ’مَیں نے اِسے پہلے کبھی نہیں دیکھا ….. کون ہے یہ؟‘

’’ابھی مَیں ماں کے تابڑ توڑ سوالوں کے جواب دینے کے لیے الفاظ کا انتخاب کر ہی رہا تھا کہ ماں نے ہاتھ میں تھامی ہوئی لالٹین کی بتی اونچی کی۔
پھر لالٹین سر سے اوپر اُٹھا کر اُس لڑکی کا چہرہ دَیکھا۔ خدا مجھ پر رحم کرے۔ اُس لمحے ماں کے چہرے پر دہشت کے جو آثار نمایاں ہوئے، وہ مَیں مرتے دم تک نہیں بھول سکوں گا۔
اُس کی آنکھیں حلقوں سے اُبل کر باہر آ گئیں اور منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ پھر ایک ہلکی چیخ مار کر اُس نے لالٹین پھینک دی اور غش کھا کر گر گئی۔
یہ حادثہ اتنا غیرمتوقع تھا کہ مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ لالٹین کی چمنی ٹوٹ چکی تھی اور شعلہ ایک دو ثانیے تیزی سے بھڑکنے کے بعد گُل ہو گیا۔

’’میری آنکھوں میں اندھیرا سا چھا گیا۔ اگرچہ گردوپیش چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ مگر مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔
کچھ دیر اِسی حالت میں گزر گئی اور تب مَیں نے ایک سایہ سا فضا میں بلند ہو کر غائب ہوتے ہوئے دیکھا۔ اُسی لمحے میری ماں کے بدن میں حرکت پیدا ہوئی اور وُہ اُٹھ بیٹھی۔
مَیں نے لپک کر اُسے سنبھالا اور سہارا دَے کر جھونپڑی میں لے گیا۔ ماں بری طرح ہانپ رہی تھی اور اُس کے جسم پر لرزہ طاری تھا۔

’’جھونپڑی کے اندر جا کر مَیں نے اُسے بستر پر لٹا دیا اور جلدی سے چراغ جلایا جو اَیسے ہی ہنگامی حالات کے لیے ایک گوشے میں پڑا رَہتا تھا۔
چراغ روشن کر کے مَیں نے ماں پر نظر ڈالی۔ اُس کی آنکھیں کھلی تھیں اور سانس زور زور سے چل رہا تھا۔
ماں کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد تھا ….. اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کسی ایسے پرندے کی مانند تھرا رَہی تھیں جس کی جان نکلنے ہی والی ہو۔

’’مَیں ابھی ماں پر جھکا ہوا اُسے پانی پلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ جھونپڑی میں پھیلی ہوئی چراغ کی مدھم روشنی آہستہ آہستہ غائب ہونے لگی۔
یوں محسوس ہوا جیسے اندھیرا اُس روشنی پر غالب آ رہا ہو۔ خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ مَیں نے چراغ کی طرف دیکھا، اُس کی لَو اُسی طرح قائم تھی اور اُس میں کمی بیشی نہیں ہوئی تھی۔
پھر مَیں نے ایک مہیب سایہ سا جھونپڑی کے اندر آتے دیکھا۔
یہ سایہ میرے عقب سے آ رہا تھا ….. مَیں نے پلٹ کر اُدھر نگاہ ڈالی، کیا دیکھتا ہوں وہی نوجوان لڑکی دروازے سے کچھ دور ساکت و صامت کھڑی ہے۔
مجھے اُس کا چہرہ صاف نظر نہیں آ رہا تھا، البتہ ستاروں کی مانند چمکتی ہوئی آنکھوں سے یہ معلوم کرنا دشوار نہ تھا کہ اُس لڑکی کے سوا اَور کوئی نہیں تھا۔

’’مَیں اپنی ماں کی ابتر حالت کے باعث اُس لڑکی کی موجودگی سے قطعی غافل اور بےخبر ہو چکا تھا۔ اب اُسے باہر کھڑے دیکھا، تو اپنی اِس غفلت پر ندامت ہونے لگی۔
مَیں نے اُسے آواز دے کر کہا ’وہاں کیوں کھڑی ہو؟ اندر آ جاؤ ….. ماں کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے۔‘
لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا اور وَہیں کھڑی رہی۔
مَیں نے اُسے دوبارہ آواز دی۔ اِس مرتبہ اُس میں حرکت نمودار ہوئی اور یوں لگا جیسے وہ اَپنے قدموں کے ذریعے نہیں، ہوا پر چلتی ہوئی آئی، لیکن عین دروازے میں آن کر رک گئی۔

’’اِس اثنا میں ماں کے حلق سے ایک اور گُھٹی گھٹی سی چیخ برآمد ہوئی۔ اُس نے دونوں ہاتھوں سے مجھے یوں پکڑ لیا جیسے پھر کبھی نہ چھوڑے گی۔
پھر مَیں نے ماں کی آواز سنی۔ وہ کہہ رہی تھی ’فوربس! میری بات غور سے سنو ….. اِس لڑکی کو اَندر نہ آنے دینا ….. کیا تمہیں یاد نہیں رہا کہ آج سے کئی سال پہلے تم نے کیا دیکھا تھا۔
کیا تم بھول گئے کہ کسی حسین و جمیل عورت نے تم پر خنجر سے حملہ کیا تھا اور تم اُس وقت بچ گئے تھے؟ غور سے دیکھو! یہ وہی عورت ہے ….. یہ کوئی بلا ہے …..
اِسے گھر میں نہ آنے دینا، ورنہ یہ تمہیں مار ڈالے گی۔‘

’’مَیں نے ماں کے یہ جملے بخوبی سنے۔ اُس نے نہایت پست اور نحیف آواز میں یہ جملے کہے تھے جنہیں میرے سوا کوئی اور نہیں سن سکتا تھا اور اَبھی مَیں ماں کو تسلی دینے ہی والا تھا کہ عقب سے مَیں نے اُسی لڑکی کی آواز سنی۔
وہ کہہ رہی تھی ’فوربس! مَیں جا رہی ہوں۔ تمہاری ماں نے میری توہین کی ہے۔ اِس نے مجھے بَلا سمجھا ہے۔
مَیں اِس کا بدلہ لوں گی ….. تم سے نہیں ….. تمہاری ماں سے۔ مَیں بَلا ہرگز نہیں ہوں، مَیں تمہاری طرح انسان ہوں۔‘

’’مَیں لپک کر دروازے پر گیا۔ ’تم ناراض ہو گئیں۔‘ مَیں نے اُس سے کہا۔
’ماں بےچاری بوڑھی ہے۔ اُس کی باتوں کا برا نہ مانو۔ اُسے غلط فہمی ہوئی ہے۔ جب دن کے اجالے میں وہ تمہیں دیکھے گی، تو اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔
مَیں تم سے معذرت کرتا ہوں ….. تمہیں یقیناً ماں کی باتوں سے دکھ ہوا ہو گا۔ معاف کر دو اَور اَندر آ جاؤ۔‘

’’فوربس ….. خبردار! اِسے اندر نہ آنے دینا۔‘ ماں ایک دم چلّائی۔
’اِسے اندر مت آنے دو۔‘ لیکن اتنی ہی دیر میں وہ جھونپڑی کے اندر آ چکی تھی اور اَب میرے قریب کھڑی ہو کر اُس نے ماں پر نظر ڈالی۔
ماں نے اِس کے بعد کچھ نہیں کہا۔ اُس دن سے اُس وقت تک کہ وہ مر نہ گئی، ماں نے زبان نہ کھولی۔
شاید اُس کی زبان بند ہو چکی تھی۔ اِس کے بعد جو کچھ ہوا، اُس کی یاد ایک بھیانک اور تکلیف دہ خواب کی طرح میرے ذہن پر مسلط ہے۔‘‘

فوربس ہچکیاں لے لے کر رونے لگا۔ اُس لمحے وہ فاسٹر کو کسی ایسے معصوم بچے کی صورت میں دکھائی دیا جو اَپنی ماں سے بچھڑ گیا ہو۔

’’کاش! مَیں اپنی پیاری ماں کی بات مان لیتا اور اُس چڑیل کو اَپنے گھر میں داخل نہ کرتا۔‘‘ اُس نے آستین سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
’’لیکن خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اُس وقت مجھے کیا ہو گیا تھا ….. اُس کی محبت میرے رگ و پے میں اتر گئی تھی ۔ مَیں محسوس کرتا تھا کہ اُس کے بغیر ایک پَل بھی زندہ نہ رہ سکوں گا۔‘‘

’’مسٹر فوربس! کیا تمہیں پورا یقین ہے کہ اِس دنیا میں بھوتوں اور چڑیلوں کا کوئی وجود ہے۔‘‘ فاسٹر نے سوال کیا۔

فوربس نے اثبات میں گردن ہلائی اور بھرّائی ہوئی آواز میں بولا: ’’مجھے اِس بات کا ایسا ہی یقین ہے جیسے صبح کا سورج طلوع ہونے کا یقین ہر شخص کو ہوتا ہے۔
پھر سب سے بڑی دلیل یہ کہ ماں نے مجھے بتایا تھا کہ یہ عورت چڑیل ہے۔ اِسے گھر کے اندر مت آنے دینا …..
ماں کو تو معلوم تھا کہ اِس دنیا میں چڑیلیں موجود ہیں ۔
جب آپ کو مَیں یہ بتاؤں گا کہ ربیکا کے میرے گھر میں آنے کے بعد کیسے کیسے ہوش رُبا واقعات گاؤں کے اندر رُونما ہوئے، تو آپ خود تسلیم کریں گے کہ چڑیلوں کے وجود سے دنیا کبھی خالی نہیں رہی۔‘‘

فاسٹر نے گہرا سانس لیا ’’بہت خوب! وہ کون سے ہوش رُبا واقعات تھے جو گاؤں میں رونما ہوئے۔ جلدی بتاؤ، مَیں پوری توجہ سے سُن رہا ہوں۔‘‘

اُس نے اپنا نام ربیکا بتایا تھا اور اِس سے زیادہ فوربس کو اُس کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون ہے، کہاں سے آئی ہے۔
یوں بھی فوربس ربیکا کے سحر میں اِس قدر شدت سے گرفتار ہو چکا تھا کہ اُس نے خود بھی یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ ربیکا کون ہے۔
اُسے زندگی کے اِس موڑ پر ایک نوجوان اور حسین و جمیل عورت کا قرب حاصل ہوا تھا جب وہ قطعی مایوس ہو چکا تھا۔ اِس لیے وہ رَبیکا کے ماضی کے بارے میں چھان بین کر کے اُسے ناراض کرنا نہیں چاہتا تھا۔
اِس کے علاوہ رَبیکا نے اُسے اور اُس کی ماں کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچایا تھا۔ اگر ماں کی زبان بند ہو گئی تھی اور وُہ حرکت کرنے یا بات چیت کرنے سے عاجز تھی، تو اِس میں ربیکا کا کیا قصور تھا؟
اُس کی ہیبت تو خود ماں نے اپنے اوپر طاری کر لی تھی۔

ماں کا خیال تھا کہ یہ وہی عورت ہے جسے فوربس نے اپنی سالگرہ وَالی شب ٹھیک دو بجے خنجر بدست دیکھا تھا۔ حالانکہ فوربس کی رائے یہ تھی کہ ربیکا کا حلیہ اُس پُراسرار عورت سے بالکل نہیں ملتا۔
اُس نے بارہا رَبیکا کی صورت شکل غور سے دیکھی تھی اور خاص طور پر اُس کے دونوں مرمریں بازوؤں کا بھی نزدیک سے جائزہ لیا تھا، مگر کسی بازو پر ننھے سے سانپ کی تصویر فوربس کو نظر نہ آئی۔
ماں نے بارہا اُسے اشاروں کے ذریعے کچھ سمجھانے کی کوشش کی تھی، لیکن فوربس اُس کا کوئی اشارہ نہیں سمجھ پایا اور اُس نے بالآخر یہ طے کر لیا تھا کہ ماں کا دماغ جواب دے چکا ۔
جس وہم میں وہ مبتلا ہے، اُسے کسی تدبیر سے دور نہیں کیا جا سکتا۔

ربیکا کے آنے سے ایک اور عجیب بات فوربس نے محسوس کی اور وُہ یہ تھی کہ اُس کے کاروبار میں دن دُگنی رات چوگنی ترقی ہونے لگی۔ دنوں کے اندر اَندر اُس نے نہ صرف کئی دکانیں خرید لیں، بلکہ چھوٹے مکان سے نکل کر ایک وسیع و عریض گھر میں بھی منتقل ہو گیا۔
دولت اُس پر بارش کی طرح برس رہی تھی اور فوربس خود حیران تھا کہ اگر وہ مٹی کو بھی ہاتھ لگا دے، تو وہ سونا بن جاتی تھی۔
اُس نے اِس خوشگوار تبدیلی کا سبب بھی ربیکا کو قرار دِیا۔
فوربس کے نزدیک ربیکا کا اُس کی زندگی میں داخل ہونا برکت کا باعث بنا تھا اور یوں وہ دِیوانہ وار اُسے چاہنے لگا تھا۔

جس روز فوربس نے ربیکا سے شادی کی، اُسی روز فوربس کی ماں مر گئی۔ مرنے سے پہلے وہ اَپنے بیٹے سے کچھ کہنے کی خواہش مند تھی، لیکن فوربس حسبِ معمول ماں کے اشارے سمجھنے سے قاصر رہا۔
ماں کو گاؤں کے پرانے قبرستان میں دفنا دیا گیا اور جب وُہ رات کو گھر واپس آیا، تو ربیکا اپنے کمرے میں مسہری پر لیٹی گہری نیند سو رہی تھی۔
فوربس نے لیمپ روشن کیا اور آہستہ آہستہ ربیکا کی مسہری کے نزدیک گیا۔ ربیکا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی جیسے وہ کوئی سنہرا سپنا دیکھ رہی ہو۔ اُس کے لال لال ہونٹوں کے کنارے کھلے تھے۔
اُن میں سے سفید سفید نکیلے دانت یوں چمک رہے تھے جیسے خنجر کی دھار چمکا کرتی ہے۔ فوربس کے بدن پر جھرجھری سی دوڑ گئی۔
اُس نے پھونک مار کر لیمپ بجھا دیا اور پلٹ کر برابر والے کمرے میں آن بیٹھا۔ ماں کے مرنے کا اُسے رنج تھا اور آنکھوں میں بےاختیار آنسو امڈے آتے تھے۔

گاؤں کی عورتیں ربیکا کو دیکھنے صرف ایک بار آئیں اور پھر کسی کو آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ بعد میں فوربس نے سنا کہ وہ آپس میں سرگوشیاں کر رہی تھیں اور کہتی تھیں کہ ربیکا کے بدن سے مٹی کی بُو آتی ہے۔
فوربس کو یہ سُن کر تاؤ آیا۔ اُس نے دل میں کہا یہ عورتیں ربیکا سے اِس لیے حسد کر رہی ہیں کہ وہ اِن سب سے زیادہ حسین ہے۔
کوئی عورت دوسری عورت کو اَپنے سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھ سکتی۔ ربیکا دن بھر اپنے کمرے میں پڑی سویا کرتی۔
اُس نے کھڑکیوں اور دَروازوں پر بھاری اور سیاہ رَنگ کے پردے ڈال دیے تھے۔ یہاں تک کہ سورج کی ایک کرن بھی اُس کے کمرے میں نہیں آ سکتی تھی۔
فوربس نے جب کمرے میں اندھیرا رَکھنے کا سبب پوچھا تو وہ ہنس کر کہنے لگی:

’’مجھے دھوپ اور رَوشنی سے وحشت ہوتی ہے۔ سورج غروب ہوتے ہی وہ آنکھیں کھولتی اور اَنگڑائیاں لے کر اُٹھ جایا کرتی تھی۔
فوربس نے گھر کے کام کاج کے لیے کئی نوکرانیاں رکھیں، مگر اُن میں سے ایک بھی گھر میں مستقل طور پر رہنے کو تیار نہ تھی۔
آخر میں ایک بوڑھی عورت رات کو بھی اُن کے گھر میں رہنے پر آمادہ ہو گئی، تاہم دو دِن بعد ہی وہ ہانپتی کانپتی فوربس کی دکان پر پہنچی اور اُس نے فوربس کو اَلگ لے جا کر تھرّائی ہوئی آواز میں بتایا:

’’تمہاری بیوی تو اَپنے بستر پر مری پڑی ہے، اُسے کسی نے قتل کر دیا ہے۔
اُس کی گردن اور چہرے پر خون ہی خون ہے۔‘‘

فوربس بدحواس ہو کر گھر کی طرف بھاگا۔ اُس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا، لیکن جب وہ رَبیکا کے کمرے میں داخل ہوا، تو وہ گہری نیند میں تھی اور اُس کے چہرے یا گردن پر خون کا نام و نشان تک نہ تھا۔
فوربس بوڑھی ملازمہ پر برس پڑا اَور اِس قدر ناراض ہوا کہ اُسے فوراً ملازمت سے جواب دے دیا۔ بڑھیا قسمیں کھا کھا کر کہتی رہی کہ جب وہ مالکن کے کمرے میں صفائی کے ارادے سے گئی تھی، تو اُس نے وہاں خون ہی خون دیکھا تھا۔
تازہ اِنسانی خون ….. جس میں مالکن کا چہرہ لت پت تھا۔

فوربس کی اِس چیخ و پکار کے باوجود رَبیکا نے آنکھیں نہ کھولیں، تب فوربس کو وسوسہ ہوا کہ کہیں وہ بےہوش نہ پڑی ہو، چنانچہ اُس نے ربیکا کو جگانے کی کوشش کی اور جونہی فوربس نے اُس کے بازو پر ہاتھ رکھا، اُسے یوں لگا جیسے اُس نے کسی مردہ اَور ٹھنڈے جسم کو چُھو لیا ہو۔
ربیکا بےہوش نہیں تھی، بلکہ مر چکی تھی۔ اُس میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہ تھی۔ فوربس نے ربیکا کے سینے پر کان رکھ کر دل کی دھڑکن سننا چاہی، مگر دل کی حرکت بھی نہ تھی۔
تاہم ربیکا کا چہرہ اُسی طرح ترو تازہ اَور سرخ و سفید تھا۔ اُسے دیکھ کر کوئی بھی تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوتا کہ وہ ایک مری ہوئی عورت کا چہرہ ہے۔

فوربس غم و اَندوہ سے نڈھال ہو گیا۔ اُسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ربیکا اتنی جلد اُس کا ساتھ چھوڑ جائے گی۔ اُس نے روتے ہوئے اُس بوڑھی ملازمہ سے کہا کہ وہ جا کر گاؤں کے پادری کو اطلاع کرے اور فوربس کی دکانوں پر کام کرنے والے ملازموں کو بھی اِس سانحے سے آگاہ کر دے۔
بڑھیا کے جانے کے بعد فوربس نے ربیکا کی لاش ایک چادر سے ڈھانپ دی اور مکان سے باہر نکل آیا۔ اُسے اب ربیکا کے کمرے سے وحشت ہونے لگی تھی۔
تھوڑی دیر بعد گاؤں کا عمررسیدہ پادری، فوربس کی دکانوں پر کام کرنے والے مرد، عورتیں اور گاؤں کے بعض افراد آ گئے۔
اُنھوں نے باری باری ربیکا کی موت پر فوربس سے اظہارِ تعزیت کیا۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ بڈھے پادری کے سوا کوئی فرد بھی اُس کمرے میں داخل ہونے کو آمادہ نہ تھا جہاں ربیکا کی لاش پڑی تھی۔

پادری نے فوربس کے کندھے پر تسلی و تشفی کے لیے ہاتھ رکھا اور آہستہ آہستہ اُس کمرے میں گیا جہاں مسہری پر ربیکا کی لاش سر سے پاؤں تک چادر میں چھپی ہوئی تھی۔
پادری نے حیرت آمیز نظروں سے کمرے کا جائزہ لیا اور کھڑکیوں اور دَروازے پر پڑے ہوئے سیاہ رَنگ کے بھاری پردوں کو بطورِ خاص دیکھا۔ پھر اُس نے نتھنے سکوڑے جیسے کچھ سونگھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اب پادری کی آنکھوں میں خوف کی جھلک نمودار ہوئی جو فوربس کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔ اُس نے دیکھا کہ پادری مضطرب ہو کر اَپنے سینے پر بار بار اُنگلی سے مقدس نشان بنا رہا تھا۔
اُس کی دیکھا دیکھی فوربس بھی ایسا ہی کرنے لگا۔ پھر پادری نے کانپتے ہاتھ سے وہ چادر اُٹھائی جو ربیکا کی لاش پر فوربس نے ڈالی تھی۔

ربیکا کا چہرہ دَیکھتے ہی بوڑھے پادری کے منہ سے عجیب سی آواز نکلی اور وُہ گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ دہشت سے بڈھے پادری کا سفید جھرّیوں بھرا چہرہ زرد پڑ چکا تھا ۔
اُس کی ڈاڑھی کا ایک ایک بال کھڑا ہو گیا تھا۔ اُس نے جلدی سے چادر کا کونا ہاتھ سے چھوڑ دیا اور فوربس کا ہاتھ پکڑ کر دروازے سے باہر آ گیا۔
فوربس کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ اُس نے پادری کو اِتنا بدحواس اور پریشان دیکھا۔ دروازے سے باہر آتے ہی پادری نے فوربس سے پوچھا:

’’یہ عورت کب سے اِس گھر میں تھی اور کہاں سے آئی تھی؟‘‘

فوربس گنگ ہو کر پادری کی صورت تکنے لگا۔ وہ جب کچھ نہ بولا، تب پادری نے اپنا سوال دہرایا:

’’یہ عورت کب سے یہاں ہے اور تم نے اِسے پہلے پہل کہاں دیکھا تھا؟‘‘

فوربس کو اِس سوال پر اِس لیے تعجب ہو رہا تھا کہ اِسی بوڑھے پادری شمعون نے گاؤں کے چھوٹے سے گرجے میں ربیکا سے اُس کے عقد کی رسم انجام دی تھی۔
بلاشبہ اُس وقت ربیکا کا چہرہ نقاب میں تھا، لیکن وہ نقاب اِتنا باریک تھا کہ اُس میں سے ربیکا کی صورت اچھی طرح نظر آتی تھی ۔
یہ ناممکن تھا کہ شمعون نے اُس کی صورت نہ دیکھی ہو، چنانچہ فوربس نے کہا:

’’مقدس باپ! یہ وہی عورت ہے جسے آپ پہلے بھی عقد کی تقریب میں دیکھ چکے ہیں۔ ویسے مجھے ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ کہاں سے آئی تھی۔
مجھے پہلی بار شام کے وقت یہ ایک سنسان اور ویران جگہ پر ملی تھی۔ اُس کی ابتر حالت دیکھ کر مجھے اُس پر ترس آیا۔ اُس نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ مَیں اُسے اپنے گھر میں پناہ دُوں۔
اِس لیے مَیں اُسے یہاں لے آیا۔ میری ماں نے اُسے پسند نہیں کیا تھا، لیکن مجھے یہ اچھی لگی اور مَیں نے اُس سے شادی کر لی۔
یہ شادی اِس قدر بابرکت ثابت ہوئی کہ کل تک مَیں فاقے کرتا تھا، آج ہزاروں میں کھیلتا ہوں۔ مگر آپ ربیکا کے بارے میں یہ سب کچھ کیوں جاننا چاہتے ہیں؟
وہ مر چکی ہے اور اَب اُسے کفنانے دفنانے کا مرحلہ طے کرنا ہے۔‘‘

ایک غم انگیز مسکراہٹ بوڑھے شمعون کے خشک ہونٹوں پر پھیل گئی۔ اُس نے آہستہ سے کہا:

’’کفن دفن تو مرنے والے کا ہوا کرتا ہے، تمہاری بیوی مری نہیں زندہ ہے۔‘‘

فوربس بھونچکا ہو کر شمعون کی صورت تکنے لگا۔ ’’یہ آپ کیا کہتے ہیں؟ ربیکا زندہ ہے ….. لیکن اُس کے دل کی حرکت بالکل بند ہے۔‘‘

’’ہاں! ….. ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ یہی ہوتا ہے۔‘‘ شمعون نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے جیسے اپنے آپ سے کہا۔
پھر اُس نے شفقت سے فوربس کے کندھے پر اپنا دایاں ہاتھ رکھا اور کہنے لگا :
’’تم اِن باتوں کو نہیں سمجھو گے میرے بچے! ….. تم نہیں سمجھو گے۔ یہ ایک پُراسرار اَور اَنوکھا معاملہ ہے۔ لیکن ….. بہرحال ….. ہمیں اِس سے نمٹنا ہی ہو گا۔‘‘

شمعون نے باہر آ کر لوگوں سے کہا کہ وہ اَپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ فوربس کی بیوی مری نہیں، وہ زِندہ ہے ….. اُس پر محض سکتہ طاری ہے اور یہ ایسی بیماری ہے جس سے دھوکا ہوتا ہے کہ مریض مر گیا ….. مگر حقیقت میں وہ زِندہ ہوتا ہے۔
فوربس کی دکانوں پر کام کرنے والے افراد کے چہروں پر اِس خبر سے مسرّت کی لہر دوڑ گئی ۔
وُہ بڑھ بڑھ کر فوربس کو مبارک بادیں دینے لگے، لیکن فوربس کسی گہری فکر میں گم تھا۔
اُس کی عقل کام نہیں کر رہی تھی۔ اُسے بوڑھے شمعون کے الفاظ پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ لوگوں کے رخصت ہو جانے کے بعد شمعون نے فوربس سے کہا:

’’شاید تمہیں میری بات پر یقین نہیں آیا۔ آؤ! تمہیں ایک خاص چیز دکھاؤں۔‘‘

وہ دونوں دوبارہ رَبیکا کے کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ اُسی طرح بےحس و حرکت لیٹی تھی، لیکن اِس مرتبہ اُس کی آنکھیں پوری طرح کھلی تھیں ۔
اُن میں ویسی ہی چمک تھی جیسی ایک زندہ ہستی کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ فوربس نے دیکھا، تو اُسے یوں لگا جیسے اِن آنکھوں میں نفرت اور حقارت کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رَہا ہے۔
شمعون نے آگے بڑھ کر اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی سے ربیکا کا سرخ دہانہ کھولا۔ لمبے نکیلے اور سفید دانتوں کی قطار فوربس کو نظر آئی۔
اوپر اور نیچے کے دونوں جبڑوں میں دائیں اور بائیں طرف کے دو دو دَانت عام دانتوں کی نسبت زیادہ لمبے اور نوکیلے دکھائی دیے جیسے بلی یا شیر کے دانت ہوا کرتے ہیں۔
زبان کا رنگ بھی سرخ تھا ….. بوڑھے شمعون نے فوربس سے کہا:

’’یہ دانت دیکھتے ہو؟ کیا یہ دانت کسی ایسی مخلوق کے ہو سکتے ہیں جو اِنسانوں میں شامل ہو؟
آؤ! ڈرو نہیں ….. اِس وقت یہ قطعی مردہ حالت میں ہے۔
اِسے غور سے دیکھو۔ اِس کا منہ سونگھو، تمہیں خون کی بدبُو محسوس ہو گی۔‘‘

فوربس نے غیراختیاری طور پر اَپنی بیوی کا منہ سونگھا۔ اُس کے نتھنوں میں جمے اور سڑے ہوئے خون کی ایسی ناگوار بدبُو آئی کہ متلی ہونے لگی۔
وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ شمعون نے غور سے ربیکا کے چہرے پر نگاہ جماتے ہوئے کہا:

’’اردگرد کے علاقے میں گزشتہ کئی مہینوں سے عجیب و غریب وارداتیں ہو رہی تھیں۔
یقین نہیں آتا کہ اِن وارداتوں کے پیچھے اِس شیطان عورت کا دخل ہو سکتا ہے۔
لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اِس کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے، ورنہ ذرا سی کوتاہی ایک عظیم نقصان کا سبب بن جائے گی۔‘‘

فوربس بےوقوفوں کی طرح اپنی جگہ ساکت و صامت کھڑا شمعون کا منہ تَک رہا تھا۔

’’یہ شیطان عورت نہیں ہے۔‘‘ اُس نے بالآخر کہا۔
’’یہ کوئی مصیبت زدہ عورت تھی جسے مَیں نے پناہ دِی اور اِس کے ساتھ شادی کی …..‘‘

’’مجھے حیرت ہے کہ اِس عورت نے اب تک تم پر وار کیوں نہیں کیا؟‘‘ شمعون نے کہا۔
’’بہرحال آج رات مَیں تمہیں ایک نرالا تماشا دکھاؤں گا، لیکن پہلے تم وعدہ کرو کہ اِس کا ذکر اپنی بیوی سے ہرگز نہیں کرو گے۔
خبردار اُسے یہ بھی مت بتانا کہ مَیں یہاں آیا تھا اور مَیں نے اُسے قریب سے دیکھا تھا۔ اگر تم نے بتا دیا، تو یہ بھاگ جائے گی۔‘‘

فوربس نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا، لیکن شمعون کے ادب سے وہ خاموش رہا۔

’’مقدس باپ! مَیں آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا، مگر مجھے کچھ بتائیے تو سہی کہ یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘

’’صبر کرو بیٹے! ….. صبر کرو۔ تمہیں سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔‘‘ شمعون نے کہا۔
پھر اُس نے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔
’’سورج ڈوبنے میں ابھی خاصی دیر باقی ہے ….. فوربس! آؤ تم میرے ساتھ چلو۔ یہاں رہے، تو شاید اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکو۔
ہم سورج ڈوبنے سے آدھ گھنٹہ پہلے دوبارہ یہاں آئیں گے۔ اِس کے بعد تم خود ہی دیکھ لو گے کہ مَیں جو کچھ کہہ رہا ہوں، وہ کس حد تک صحیح یا غلط ہے۔
اپنی بیوی کو یونہی پڑا رَہنے دو ….. سورج ڈوبتے ہی یہ خود بخود ہوش میں آ جائے گی۔ اِسے ہوش میں لانے کے لیے ہمیں کسی دوا وَغیرہ کی ضرورت نہیں۔‘‘

سورج غروب ہونے میں ابھی پندرہ بیس منٹ باقی تھے کہ بوڑھا شمعون، فوربس کے ساتھ اُس کے مکان میں داخل ہوا۔ مکان کے اندر گہری خاموشی اور تاریکی تھی۔
ربیکا نے اپنے کمرے کے علاوہ دُوسرے تمام کمروں میں بھی بھاری پردے لگوا دِیے تھے۔
حتیٰ کہ باورچی خانے کی کھڑکی اور دَروازے پر بھی سورج کی روشنی روکنے کے لیے پردے پڑے ہوئے تھے۔
باہر لمحہ بہ لمحہ ڈوبتے سورج کی نارنجی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور فوربس کے مکان میں اندھیرا تھا۔

وہ دونوں سیدھے ربیکا کے کمرے میں گئے۔ شمعون نے جیب سے ٹارچ نکال کر روشن کی۔
دیکھا کہ ربیکا اُسی طرح لیٹی ہے۔ اُس کی آنکھیں ویسی ہی کھلی تھیں ۔ اُس کی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔
صاف ظاہر تھا کہ اِس تمام عرصے میں اُس نے خفیف سی جسمانی حرکت بھی نہیں کی۔ فوربس نے آہستہ سے کہا:

’’معلوم ہوتاہے یہ مر چکی ہے ….. اگر سکتہ ہوتا، تو اب تک اِسے ہوش میں آ جانا چاہیے تھا ….. ممکن ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہو۔‘‘

’’خدا کرے یہ غلط فہمی ہی ہو۔‘‘ بوڑھے شمعون نے جواب دیا۔
’’تاہم مجھے یقین ہے یہ وہی کچھ ہے جو مَیں سمجھا ہوں۔ آؤ کمرے سے باہر چلیں۔‘‘

شمعون نے کھڑکی کا پردہ اُٹھا دیا۔ یہ وہ کھڑکی تھی جو ایک برآمدے کی طرف کھلتی تھی۔
وہ دونوں برآمدے میں چلے گئے۔ برآمدے کے آخری حصّے میں باورچی خانہ تھا۔

شمعون نے فوربس کے کان میں کہا: ’’جونہی تمہاری بیوی کمرے سے باہر نکلنے کا ارادہ کرے، ہم دونوں باورچی خانے میں چھپ جائیں گے۔
مجھے یقین ہے اُس وقت اُسے سخت بھوک لگ رہی ہو گی اور وُہ غذا کی تلاش میں مکان سے باہر ضرور جائے گی۔ پھر ہم اُس کا تعاقب کریں گے اور دَیکھیں گے کہ وہ کیا کرتی ہے۔‘‘

فوربس کی حیرت اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔
اُس نے کہا، ’’ربیکا کو بھوک لگی، تو وہ سیدھی باورچی خانے میں آئے گی اور ہمیں وہاں چھپے ہوئے دیکھ لے گی۔‘‘

’’فکر نہ کرو ….. وہ باورچی خانے میں کبھی نہ آئے گی۔‘‘ شمعون نے اُس کا ہاتھ دبا کر کہا۔
’’ایسے افراد کو اِس خوراک کی ضرورت نہیں پڑتی جس پر ہم اور تم جیسے لوگ زندہ رَہتے ہیں۔
تمہاری بیوی کو ایک خاص نوعیت کی غذا دَرکا ہے اور اُسی کے باعث وہ اَپنا وجود برقرار رَکھتی ہے …..
اچھا، یہ بتاؤ کیا تمہاری بیوی نے کبھی تمہارے ساتھ کھانے پینے میں شرکت کی؟‘‘

اور اَب پہلی بار فوربس کو احساس ہوا کہ اتنی مدت میں ایک بار بھی اُس نے اپنی نظروں سے ربیکا کو کچھ کھاتے پیتے نہیں دیکھا تھا۔
ناشتا اور کھانا وہ ہمیشہ اپنے کمرے میں منگوا لیا کرتی تھی اور بعد میں خالی برتن واپس دے جاتی۔ فوربس کے دماغ کی رگیں پھٹنے لگیں۔
اُس نے یادداشت پر ازحد زور دَے کر کوئی ایسا واقعہ ذہن کے نہاں خانے سے نکالنے کی بڑی کوشش کی جس سے ثابت ہو سکے کہ ربیکا بھی عام انسانوں کی طرح کچھ کھاتی اور پیتی رہی ہے۔ لیکن کوشش کے باوجود اُسے ایسی کوئی مثال نہیں مل سکی۔
یہاں تک کہ اُس نے ایک بار بھی ربیکا کو پانی پیتے نہیں دیکھا تھا۔ شمعون نے فوربس کے شانے پر تھپکی دی اور کہا:

’’تمہاری بیوی جن ہستیوں میں شامل ہے، اُنھیں ہم زندہ کہہ سکتے ہیں نہ مردہ ….. زندگی اور موت کی ایک درمیانی منزل ہے …..
ایسے افراد ایک مرتبہ مرتے ضرور ہیں لیکن پھر اُن میں جان پڑ جاتی ہے۔ جسم اُنھی کا ہوتا ہے، البتہ روح کسی اور کی کام کرتی ہے۔
ربیکا کے زندہ ہونے میں ابھی چند منٹ ہیں۔ تم خود دَیکھ لو گے کہ وہ سورج ڈوبتے ہی اُٹھ بیٹھے گی۔‘‘

بےشمار سوالات فوربس کے ذہن میں کروٹیں لے رہے تھے۔ مگر اُس پر شمعون کی باتوں سے اِس قدر ہیبت طاری تھی کہ وہ کوئی سوال نہ کر سکا۔
یوں بھی فوربس کا محدود علم اور کند ذہن شمعون کی پوری بات سمجھنے سے قطعی قاصر تھا۔ اُس کی نگاہیں مسلسل ربیکا پر جمی ہوئی تھیں۔ اُس کے کان میں شمعون کی مدھم سی آواز آئی:

’’لو تیار ہو جاؤ ….. سورج ڈوبنے میں میری گھڑی کے حساب سے صرف تین منٹ باقی رہ گئے ہیں۔ ٹھیک چوتھے منٹ پر تمہاری بیوی کے بےجان بدن میں جان پڑ جائے گی اور وُہ اُٹھ بیٹھے گی۔‘‘

اِن الفاظ پر فوربس کا دل اِس زور سے دھڑکا جیسے سینے سے نکل کر باہر آن پڑے گا۔ اُس کے بدن میں کپکپی سی چھوٹ گئی۔ بوڑھا شمعون گھڑی دیکھ رہا تھا اور ٹارچ کے بٹن پر اُس کی انگلی تھی تاکہ ضرورت پڑتے ہی فوراً اُسے روشن کر سکے۔
گھڑی کی چھوٹی سوئی جب آٹھ اور بارہ کے ہندسے پر پہنچی، تو شمعون نے دوبارہ فوربس کا ہاتھ دبایا اور مدھم آواز میں کہا:

’’بس وہ اُٹھنے ہی والی ہے۔ خبردار! تمہارے منہ سے کوئی آواز نہ نکلے، ورنہ بنا بنایا کام بگڑ جائے گا۔
وہ مشتعل ہو کر ہم میں سے کسی پر بھی حملہ کر سکتی ہے اور تم اُس کی بےپناہ طاقت کا پہلے بھی مشاہدہ کر چکے ہو۔‘‘

فوربس کی آنکھوں سے جیسے پردہ ہٹنے لگا۔ خونخوار بھیڑیوں کے غول کا اُنھیں گھیرنا اور پھر ربیکا کا بھیڑیوں کو واپس چلے جانے کا حکم دینا۔
گاؤں کے آوارہ کتے کا دہشت زدہ ہو کر کانپنا اور پھر بھاگ جانا ….. ایک خواب کی مانند فوربس کو یاد آنے لگا۔ عین اُس لمحے اُس نے دیکھا کہ ربیکا کے بےحس و حرکت بدن میں ہلکی سی جنبش پیدا ہوئی۔
سینے پر بندھے ہوئے دونوں بازو اَلگ الگ ہوئے اور یک لخت وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
پھر اُس نے گردن گھما کر گرد و پیش کا جائزہ لیا۔ فوربس اور شمعون اپنی جگہ دبکے ہوئے ربیکا کی ہر حرکت غور سے دیکھ رہے تھے۔
فوربس کی پیشانی عرق عرق تھی اور اُس کے تن بدن میں جیسے چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے ربیکا اپنی مسہری سے اتر کر فرش پر آ گئی۔ اب اُس کا رُخ دروازے کی طرف تھا۔

شمعون نے فوربس کو ہاتھ کے دباؤ سے اشارہ کیا اور وُہ دونوں لپک کر باورچی خانے میں چھپ گئے۔
باورچی خانے کی کھڑکی کا پردہ ذرا سا ہٹا کر اُنھوں نے دیکھا کہ ربیکا مشینی انداز میں چلتی ہوئی برآمدے سے باہر جا رہی تھی۔ بظاہر اُس کے دونوں پاؤں برآمدے کے فرش پر تھے،
مگر حقیقت میں وہ فرش سے کچھ ہی اوپر چل رہی تھی۔ فوربس کی آنکھیں حیرت اور خوف سے ابلنے لگیں۔ چند لمحے بعد وہ مکان سے باہر جا چکی تھی۔

شمعون اور فوربس نے مکان کا بیرونی دروازہ کھلنے اور پھر بند کیے جانے کی آواز سنی۔ اِس کے ساتھ ہی بوڑھا شمعون بےتاب ہو کر بولا:

’’وہ باہر جا چکی ہے۔ آؤ! ہم اُس کا تعاقب کر کے دیکھیں کہ وہ کدھر جا رہی ہے۔‘‘

فوربس نے شمعون کا ساتھ دینے کی کوشش کی، مگر اُس کی ٹانگوں میں جیسے سکت ہی نہ تھی۔ وہ وَہیں کھڑا رَہا۔ شمعون نے پلٹ کر کہا:

’’تم ابھی تک وہیں کھڑے ہو۔ جلدی کرو، ہمیں اُس کا پیچھا کرنا ہے۔
اگر وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی، تو ہمیں اگلی صبح تک اُس کا انتظار کرنا پڑے گا۔‘‘

اِس کے باوجود فوربس نے حرکت نہ کی، تب شمعون خود وَاپس آیا اور اُسے سہارا دَے کر آگے بڑھایا۔ تھوڑی دیر بعد وہ دونوں اُس راستے پر تیزی سے چل رہے تھے جو گاؤں کے مغربی حصّے میں قدیم قبرستان کی طرف جاتا تھا۔
یہ قبرستان گرجے کی چھوٹی سی پرانی عمارت کے پچھواڑے واقع تھا اور یہاں بعض قبریں سینکڑوں برس پرانی تھیں۔
رات تو رات، گاؤں کے اکثر لوگ دن کے اُجالے میں بھی قبرستان جاتے ہوئے خوف کھاتے تھے اور قبرستان کے بارے میں طرح طرح کی ہولناک کہانیاں لوگوں میں مشہور تھیں۔
اِس تمام راستے پر گنجان درخت ہی درخت تھے اور دِن بھر کھیتوں اور جنگلوں میں دانہ دُنکا چگنے والے پرندے قطار اَندر قطار اَپنے گھونسلوں کی طرف واپس آ رہے تھے۔
بڑی بڑی چمگادڑیں درختوں کے اوپر ایک دائرے کی صورت میں چکر کاٹ رہی تھیں اور اُن کے پَروں کی پھڑپھڑاہٹ سے رگوں میں خون سرد ہوتا تھا۔

سارا رَاستہ سنسان تھا۔ فوربس اور بوڑھے شمعون کو کوئی فرد نظر نہ آیا۔ اپنی دانست میں اگرچہ اُنھوں نے ذرا بھی وقت ضائع نہیں کیا تھا، تاہم ربیکا نہ جانے کہاں غائب ہو چکی تھی۔
بوڑھے شمعون کا خیال تھا کہ وہ اِسی راستے پر آئے گی۔ اُنھوں نے اپنی رفتار کچھ اور تیز کر دی ۔
بالآخر جدھر سے وہ پگڈنڈی گھوم کر گرجے کے عقب میں آ جاتی تھی، اُدھر عین موڑ کے قریب اُنھوں نے درختوں کے جھنڈ میں کسی کو حرکت کرتے دیکھا۔ وہ یقیناً ربیکا ہی تھی۔

شمعون بوڑھا ہونے کے باوجود جوانوں کی سی مستعدی اور تیزی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ جبکہ فوربس کی حالت لحظہ بہ لحظہ غیر ہوتی جا رہی تھی۔
اُنھوں نے اپنی رفتار مدھم کر دی کیونکہ ربیکا قبرستان میں داخل ہونے کے بجائے مڑ کر گاؤں کے جنوبی حصّے کی طرف جا رہی تھی۔ اُس نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔
وہ اُن دونوں سے قریباً نصف فرلانگ دور تھی اور اِتنے فاصلے سے بھی یہی نظر آ رہا تھا کہ وہ فضا میں تیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔

دفعتاً آسمان پر تاریکی چھا گئی اور مغربی افق پر اُبھری ہوئی شفق اندھیرے میں ڈوب گئی۔ گھٹا اور بارش کا طوفان تیزی سے آیا اور اُس نے آناً فاناً ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پھر بجلی کوندنے لگی اور بارش شروع ہو گئی۔ فوربس نے ایک جگہ رکنا چاہا، مگر بوڑھے شمعون کو اِس طوفان اور تاریکی کی کوئی پروا نہ تھی۔
وہ بےتابانہ ربیکا کے تعاقب میں چل رہا تھا اور اَپنے ساتھ فوربس کو بھی گھسیٹ رہا تھا۔

گاؤں کے جنوبی حصّے کے کچے مکانوں کے اندر اَدنیٰ طبقے کے لوگ رہتے تھے۔ گھروں میں کام کاج کرنے والے یا گلی کوچوں کی صفائی کے فرائض سر انجام دینے والے لوگ۔ ربیکا یہاں پہنچ کر رک گئی۔
وہ آخری حد پر بنے ہوئے مکان کے نزدیک کھڑی تھی۔ ایک دو منٹ بعد وہ مکان میں داخل ہو گئی۔ فوربس اور شمعون ایک دیوار کی اوٹ میں کھڑے رہے۔
تھوڑی دیر بعد ہی ربیکا مکان سے باہر آ گئی۔ اِس مرتبہ اُنھوں نے دیکھا کہ اُس نے اپنے سیاہ لبادے کے اندر کوئی چیز چھپا رکھی ہے۔ اب وہ دوبارہ تیزی سے قبرستان کی طرف جا رہی تھی۔
شمعون اور فوربس کو اُس کا تعاقب کرنے اور اُسے نظر میں رکھنے کے لیے دوڑنا پڑا۔
آسمان سے موسلادھار پانی برس رہا تھا اور اِردگرد گہری تاریکی تھی جسے کبھی کبھی بجلی کی کڑک، چمک ایک آدھ ثانیے کے لیے دور کر دیتی تھی۔

اُنھوں نے ربیکا کو کسی بدروح کی طرح قبرستان میں داخل ہوتے دیکھا۔ شمعون نے ٹارچ روشن کر دی تھی تاکہ وہ قبروں سے ٹکرا کر گر نہ سکیں۔
ٹارچ کی روشنی کے چھوٹے سے دائرے میں وہ دونوں چلتے ہوئے قبرستان کے عین وسط میں پہنچ گئے۔ ربیکا اُنھیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
یکایک ایک انسانی بچے کے رونے کی آواز اُن کے کانوں میں آئی اور فرطِ خوف سے فوربس کی گھگھّی بند گئی۔ پہلے اُنھیں شبہ ہوا کہ یہ آواز کسی قریبی قبر سے آئی ہے۔
پھر اندازہ ہوا کہ پندرہ بیس گز دُور ایک پرانا کنواں ہے، یہ آواز اُس کنوئیں کے اندر سے آ رہی ہے۔ بچہ بری طرح چیخ رہا تھا۔

شمعون نے فوربس کی ہمت بڑھائی اور وُہ قبروں کو کودتے پھاندتے کنوئیں کی طرف گئے۔
عین اُسی لمحے بجلی چمکی اور فوربس نے دیکھا کہ ربیکا کنوئیں کے پرلی طرف ایک درخت کے نیچے کھڑی ہے۔
زمین پر ایک خوف زدہ کم سِن بچہ پڑا ہوا بری طرح چلّا رہا ہے۔
ٹارچ کی روشنی ربیکا کے چہرے پر پڑی، تو فوربس نے دیکھا کہ اُس کے ہونٹوں پر تازہ تازہ خون لگا ہوا ہے جو بہہ کر ٹھوڑی اور پھر گردن تک پہنچ چکا تھا۔

شمعون اور فوربس کو دیکھتے ہی وہ کسی درندے کی طرح دانت نکال کر غرّائی اور اُن کی طرف جارحانہ انداز میں لپکی۔
قریب تھا کہ وہ شمعون یا فوربس پر حملہ کرے کہ بوڑھے شمعون نے کانپتی ہوئی آواز میں چند پُراسرار اَور ناقابلِ فہم کلمات ادا کیے۔ اُن کا عجیب اثر ہوا۔
ربیکا کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے۔ جب تک شمعون یہ الفاظ دہراتا رہا، وہ اَپنی جگہ کھڑی شعلہ بار نظروں سے اُن دونوں کی طرف گھورتی اور سفید سفید نکیلے دانت نکال کر غرّاتی رہی۔
اِس کے بعد شمعون نے ربیکا کی جانب بڑھنا شروع کیا۔ وہ پیچھے ہٹنے لگی یہاں تک کہ کنوئیں کے نزدیک پہنچ گئی۔ پھر اُنھوں نے کنوئیں میں کسی کے گرنے کی آواز سنی۔
شمعون نے کنوئیں میں ٹارچ کی روشنی پھینکی، مگر وہاں کچھ نہ تھا۔

اب وہ بچے کی طرف متوجہ ہوئے۔ اُس کا چہرہ زرد تھا اور گردن سے خون کا چشمہ اُبل رہا تھا۔
بوڑھے شمعون نے بچے کو اُٹھا کر سینے سے لگا لیا۔
فوربس نے اتنی دیر میں جیب سے رومال نکال کر بچے کی گردن پر باندھ دیا۔

فوربس دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ ڈھانپ کر سسکیاں لینے لگا۔
فاسٹر نے اُس کی حیرت انگیز کہانی سُن لی تھی اور اِس دوران میں کوئی اعتراض اور کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔ فوربس جب رو چکا، تب فاسٹر نے آہستہ سے کہا:

’’اِس کے بعد کیا ہوا مسٹر فوربس! …..  تم نے ربیکا کو پھر کبھی نہیں دیکھا ہو گا؟‘‘

فوربس نے فوراً ہی جواب نہیں دیا، بلکہ بستر پر لیٹ کر چھت کی طرف گھورتا رہا۔ آخر اُس نے آہستہ سے کہا:

’’اگلے روز مَیں نے ربیکا کو اَپنے مکان کے اُسی کمرے میں بستر پر پڑے پایا۔ اُس کی آنکھیں اور دِل کی حرکت بند تھی۔
اُس کے سیاہ لباس پر کیچڑ اور مٹی کے دھبے ظاہر کرتے تھے کہ وہ گزشتہ رات کی بارش میں بھیگتی رہی ہے۔ پھر سب سے بڑی بات یہ کہ اُس کے ہونٹوں اور دَانتوں پر تازہ تازہ خون جما ہوا تھا …..
اِس کے بعد کچھ کہنے اور سننے کی گنجائش ہی نہ تھی۔
بوڑھا شمعون درست کہتا تھا ربیکا اصل میں خون آشام ویمپائر تھی۔‘‘

’’بہت خوب …..! پھر تم نے گاؤں والوں کو بتایا ہو گا کہ ربیکا کون ہے۔‘‘ فاسٹر نے پوچھا۔

فوربس نے نفی میں گردن ہلائی۔
’’نہیں! یہ بتانے کی ضرورت نہیں تھی۔ بوڑھے شمعون نے کہا تھا کہ اگر گاؤں والوں کو بتایا گیا، تو وہ خوف زدہ ہو جائیں گے اور پھر ہر غیرمعمولی حسین عورت پر ویمپائر ہونے کا الزام لگا دینا آسان ہو گا۔
اِس لیے ہم نے کسی پر ربیکا کا راز ظاہر نہیں کیا۔ ہم اِس مسئلے کو چپ چاپ خود ہی حل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

’’پھر تم نے یہ مسئلہ کیسے حل کیا مسٹر فوربس؟‘‘ فاسٹر نے کہا۔ ’’مَیں یہی تو سُننے کے لیے بےتاب ہوں۔‘‘

’’بوڑھے شمعون نے کہا تھا کہ ویمپائر کو ہلاک کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔
وُہ یہ کہ لکڑی کی ڈیڑھ دو فٹ لمبی نوک دار سلاخ تیار کر کے ویمپائر کے دل میں اتار دِی جائے۔
بس اِسی طرح ویمپائر سے ہمیشہ کے لیے نجات پائی جا سکتی ہے ۔
خود وِیمپائر کو بھی اِسی تدبیر سے دائمی راحت نصیب ہو سکتی ہے، چنانچہ مَیں نے بوڑھے شمعون کی ہدایت کے مطابق صنوبر کے درخت کی لکڑی سے ایک دو فٹ لمبی نوک دار سلاخ تیار کی ۔
اُسی روز سہ پہر کے وقت جبکہ ربیکا اپنے کمرے میں اُسی حالت میں پڑی تھی، اُس کے دل پر سلاخ کی نوک رکھی اور پوری قوت کے ساتھ آہنی ہتھوڑے سے ضرب لگا دی۔
لکڑی کی سلاخ ربیکا کے دل میں نصف سے زائد گھس گئی۔ اُس کے حلق سے نہایت ڈراؤنی چیخیں نکلیں اور خون سے سارا بستر تر بتر ہو گیا ….. وہ کچھ دیر بری طرح تڑپنے کے بعد آخرکار سرد پڑ گئی۔‘‘

’’یہ تو تم نے بہت زبردست کارنامہ سرانجام دیا مسٹر فوربس!‘‘ فاسٹر نے کہا۔
’’ایک خون آشام بلا سے لوگوں کو نجات دلائی ….. اُس کے بعد کیا ہوا؟‘‘

’’پھر کچھ نہیں ہوا ڈاکٹر!‘‘ فوربس نے گہرا سانس لیتے ہوئے جواب دیا۔ ’’
پولیس نے مجھے ربیکا کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
مَیں نے اپنی بےگناہی کا یقین دلانے کی بڑی کوشش کی، مگر بےسُود …..
سب سے زیادہ رَنج دہ بات یہ ہے کہ وہ خبیث بوڑھا شمعون اور گاؤں کے سب لوگ بھی میرے مخالف بن گئے۔
اُن سبھوں نے گواہی دی کہ مَیں نے ربیکا کو وحشیانہ انداز میں قتل کیا ہے،
حالانکہ مَیں نے ربیکا کو ہرگز قتل نہیں کیا تھا۔
مَیں نے تو ایک بھیانک، خون چوسنے والی چڑیل سے سب کو چھٹکارا دِلایا تھا۔
لیکن افسوس، کسی نے میری بات پر کان نہ دھرا ….. اور اَب مَیں یہاں …..
اِس عقوبت خانے میں دنیا بھر کے ظلم و ستم سہنے پر مجبور کر دیا گیا ہوں۔‘‘

فوربس نے اچانک زور کی ہچکی لی۔ ایک لمحے کے لیے اُس کا بدن یوں حرکت میں آیا جیسے کسی نادیدہ قوت نے اُسے شکنجے میں کَس دیا ہو ۔
دُوسرے ہی لمحے اُس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔
فاسٹر نے لپک کر اُسے سنبھالنا چاہا، لیکن فوربس اب اِس دنیا میں نہیں تھا۔

ختم شد

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles