31 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

محبت رسیدہ لوگ

محبت رسیدہ لوگ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ

سفید ہنڈا کار  نے آخری چیک پوائنٹ کراس کیا تو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے سردار علی خان کا پاؤں ایکسیلیٹر پر دباؤ بڑھانے لگا۔ گھر پہنچنے کی جلدی تو انہیں ہمیشہ ہی ہوتی تھی، مگر آج پہلو میں بیٹھی نئی نویلی دلہن کو شام ڈھلنے سے پہلے گھر پہنچانا بھی مقصود تھا۔
انہوں  نے گردن موڑ کر ایک نظر ساتھ بیٹھی ہستی پر بھی ڈال دی، ہونٹوں کے کنارے مسکرائے اور آنکھیں چمک اٹھیں، گاڑی ہموار سڑک پر فراٹے بھرنے لگی۔
سی 24 کے سیاہ گیٹ پر ہلچل ہوئی، اور ایک دو تین گاڑیاں اندر داخل ہو گئیں۔ سردار علی خان کی بوڑھی والدہ نے ہاتھ پھیلا کر دلہن کا استقبال کیا۔ اسے آرام دہ صوفے پر بٹھا دیا اور جھولی پھیلا کر اللہ سے اس گھر کی برکتوں اور عافیت کی دعائیں مانگنے لگیں۔
دل خوشی سے جھوم رہا تھا۔ ان کے پیارے بیٹے کا گھر پھر سے آباد ہو گیا تھا۔
سردار علی خان شہر کے معروف سرجن تھے۔ ان کی اہلیہ مقامی کالج میں انگریزی کی لیکچرار تھیں۔ اللہ تعالی نے انہیں یکے بعد دیگرے تین بیٹے اور دو بیٹیاں عطا کی تھیں۔ زندگی اتنی آسودہ اور سہل گزری کہ انہیں بچوں کے بڑے ہونے کا بھی پتا نہ چلا۔
عاتکہ بیگم ان کی نصف بہتر ہی نہ تھیں بلکہ ہر چھوٹے بڑے فیصلے میں شانہ بشانہ چلنے والی بھی تھیں۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے بچوں پر اپنی مرضی ٹھونسنے کے بجائے انہوں نے ان کی رہنمائی کی ذمہ داری ادا کی تھی۔ ابھی وہ پچاس کے پیٹے میں تھے کہ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے فرض کو بطریق ِ احسن ادا کر لیا تھا۔
چھوٹا بیٹا حیدر فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے مرحلے میں تھا۔ ان کی سب سے لاڈلی بیٹی یمنی ابھی میٹرک میں تھی جب عاتکہ بیگم کی طبیعت اچانک ناساز ہو گئی۔  وہ دو برس کے اندر ہی راہی ملکِ عدم ہوئیں۔
اس اچانک موت نے ان کے گھرانے کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ بچوں کو کیا تسلی دیتے، ماں کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگتے۔
ایسے میں شادی شدہ بیٹی حمنہ آ کر اس گھر کے نظام کو سنبھالنے کی کوشش کرتی، مگر بے سود۔۔
وہ کبھی دادی کو تسلی دیتی اور کبھی باپ کو! کبھی چھوٹے بھائی کی دلداری کرتی تو کبھی یمنی کی، اور آخر تھک ہار کر خود رونے لگتی۔
بھائی دونوں دوسرے شہر میں تھے۔ ویک اینڈ پر آتے تو وہ بھی پریشان ہی ہوتے۔ گھر کے حالات معمول پر لانے کے لئے کئی حل سوچے جاتے۔ نئی تدابیر اختیار کی جاتیں، مگر وہی ڈھاک کے تین پات! عاتکہ بیگم کی جدائی  نے ایسا خلا پیدا کیا تھا کہ اس گھر کے در و دیوار بھی اس سناٹے پر گریہ کناں تھے۔
اس روز بھی سب بہن بھائی بیٹھے سردار علی خان کی گرتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کر رہے تھے، جب دادی جان  نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ سب مل کر باپ کا گھر بسا دیں۔ ان سب کے سر ایک ساتھ انکار میں ہلے۔ وہ یکبارگی بولے۔
بابا کبھی نہیں مانیں گے۔ دادی جان کی تجویز تو بالکل ہی نامعقول تھی۔ ان سب کے دل کی یہی گواہی تھی۔ اس لئے محفل جلد ہی برخاست ہو گئی۔ اس ویک اینڈ پر وہ اپنے گھروں کو واپس گئے تو دو ہفتے تک کوئی بھی باپ کے گھر واپس نہ آیا۔
بس فون پر ہی سب سے خیریت پوچھ لیتے۔ تنہائی میں وہ جس قدر اس نامعقول تجویز کو رد کرنا چاہتے، ان کے دل میں سے ایک آواز اسی کے حق میں راہ ہموار کرنے لگتی، حتی کہ اگلی بار جب وہ ملے تو وہ اسی کے امکانات پر غور کر رہے تھے۔
بابا کو منانا بھی اتنا مشکل ثابت نہیں ہوا تھا۔ شاید دادی جان نے انہیں خود ہی قائل کر لیا تھا اور ابھی ماما کو گئے ایک برس بھی پورا نہ ہوا تھا کہ ان کے گھر میں ایک نئی ہستی کا اضافہ ہو گیا تھا۔ سردار علی خان کی نئی دلہن، جسے وہ ماما نہ کہہ سکے تو آنٹی بنا لیا۔
محسنہ اپنے گھر میں سب سے بڑی اولاد تھیں۔ والد کا سایہ سر سے اُٹھ جانے پر انہوں  نے سب بہن بھائیوں کی ذمہ داری اپنے سر پر اُٹھا لی۔ والدہ کے کاموں میں ایسی مصروف ہوئیں کہ اپنا ہوش ہی نہ رہا۔ سب بہن بھائیوں کی تعلیم اور شادی سے فارغ ہوئیں تو سر میں چاندی در آئی تھی، اگر کوئی انہیں شادی کا کہتا بھی تو وہ سر جھٹک دیتیں۔
شادی کی عمر تو کب کی گزر چکی، اب سارا دن ملازمت کی مصروفیت میں گزرتا اور شام والدہ کی خدمت میں۔ رات اور دن کی لگی بندھی گردش میں ایک دن سردار علی خان کی والدہ پیغامِ نکاح لے کر ان کے دروازے پر آئیں، اور پھر نہ کسی کو بالوں کی چاندی نظر آئی نہ ڈھلتی عمر، بلکہ ان کی خواہش اور طلب کے سیلِ رواں میں انکار کے سب دلائل تنکوں کی مانند بہ گئے۔
محسنہ نے ملازمت سے استعفی دیا اور سب کی خواہش کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ ان کی شادی کے باراتی سردار صاحب کے بچے اور چند احباب ہی تھے۔ محسنہ کے ذہن سے تفکرات کم ہو رہے تھے، اور ان کی والدہ تو اس فیصلے پر انتہائی خوش اور مطمئن تھیں۔
محسنہ کی شادی کوچند ہفتے گزر چکے تھے۔ وہ ایک مرتبہ میکے کا چکر بھی لگا آئی تھیں۔ رات اچانک بادل آئے اور خوب بادل برسا گئے۔ محسنہ کو پہاڑی علاقے کے بدلتے موسم کا کچھ اندازہ نہ تھا۔ سردی کے کپڑے ابھی باہر نہ نکالے تھے۔ صبح سویرے انہیں ٹھٹھرتا دیکھ کر سردار صاحب نے الماری سے عاتکہ بیگم کی شال نکال کر ان کے کندھوں پر ڈال دی ، اور محسنہ کتنی بھلی لگ رہی تھیں اس شال میں۔ وہ ناشتے کے لئے جاتے ہوئے اسے اتار کر اندر رکھنے لگیں تو سردار صاحب کے اصرار  نے اسے اوڑھا رکھنے کا اشارہ کیا۔ وہ مسکرا کر چل دیں۔
انہوں نے جلدی جلدی ناشتا بنایا اور ساس صاحبہ کو ان کے بستر میں پیش کر دیا۔ وہ میز پر برتن لگا رہی تھیں، جب اچانک یمنی کھانے کے کمرے میں داخل ہوئی، اور چونک کر رہ گئی، اس کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں اور وہ بڑبڑائی
ہمارے گھر میں تو آ گئی ہیں، لیکن میری ماں کی واڈروب سے دور رہیں آپ!! اور پاؤں پٹخ کر باہر نکل گئی۔
محسنہ کے چہرے پر تاریک سایہ لہرایا۔ وہ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ یمنی اس سے اتنا ناراض ہو گی کہ بغیر ناشتے کے ہی کالج چلی جائے گی۔ اور پھر عاتکہ بیگم کی شال تو واپس وارڈروب میں چلی گئی مگر یمنی کے دل کی پھانس جیسے اس کے دل ہی میں اٹک گئی تھی۔
محسنہ بیگم کو دیکھتے ہی اس کا خون کھولنے لگتا۔ وہ پاؤں پٹخنے کے انداز میں کمرے سے نکل جاتی۔ کالج سے واپسی پر اگر کبھی وہ گاڑی میں موجود ہوتیں تو وہ زور سے دروازہ بند کر کے اپنا غبار نکالتی۔ اس کی مجبوری تھی کہ وہ انہیں گھر سے بے دخل نہ کر سکتی تھی، ورنہ ۔۔ وہ کئی مرتبہ خود کو کوستی کہ اس نے ماما کی موت کے بعد آگے بڑھ کر گھر کیوں نہ سنبھال لیا ، اور گھر والوں کو اس نتیجے پر پہنچنا پڑا۔ کاش وہ بابا سے کہہ کر ایک ملازمہ ہی رکھوا لیتی تو گھر کا نظام چل جاتا۔ مگر وہ کیا کرتی، اس وقت تو ماما کی جدائی کا صدمہ ہی اتنا شدید تھا کہ کچھ سوجھتا ہی نہ تھا۔
یمنی کی پڑھائی ڈسٹرب ہو رہی تھی۔ وہ کتابیں کھولتی تو محسنہ آنٹی کا وجود ہولے سے اس کے اوراق پر پھیلنے لگتا۔ وہ ٹھنڈی آہ بھر کر رہ جاتی۔ باقی سب تو اپنی زندگی میں مگن ہیں۔ ایک میں ہی رہ گئی ہوں سوتیلا پن برداشت کرنے کو۔ وہ سلگتی نگاہوں سے مطالعے کی میز سے اٹھ جاتی۔
محسنہ بیگم کو اس گھر میں نئی زندگی ملی تھی۔ محبت کرنے والا شوہر اور حلیم و برد بار ساس! پلے پلائے بچے جو بابا کو فون کرتے تو آنٹی کا بھی حال احوال ضرور پوچھتے، اور ایک کھٹ مٹھی سی گڑیا یمنی! گھر بھر کی لاڈلی، جو چاہنے کے باوجود ان کے قریب نہ ہو سکی تھی، بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کچھ دور ہی ہوتی چلی جا رہی تھی۔
جہاں پھول وہاں کانٹے! انہوں نے تلخی سے سوچا، مگر اگلے ہی لمحے وہ اس خیال پر بھی تڑپ گئیں۔ یمنی کانٹا نہیں ہو سکتی۔ وہ تو اس گلشن کا پیارا سا پھول ہے۔ نرم و نازک سا! شکر ہے کہ وہ باقی سب کے ساتھ تو اچھی ہے نا۔
انہوں نے ابھی تک اپنے اور یمنی کے درمیان ہونے والے کھنچاؤ کا کسی سے ذکر نہیں کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ چند دنوں کا غصّہ ہے، اور یمنی بھول بھال جائے گی۔ اسی لئے وہ اسے خوش رکھنے کی بھر پور کوشش کرتیں۔ ساس صاحبہ سے پوچھ کر اس کی پسند کے کھانے بناتیں۔ جو وہ بلا تاثر کھا لیتی، البتہ کسی روز اس کی پسند کا کھانا نہ ہوتا تو اس کا اظہار کسی نہ کسی طرح کر ہی دیتی۔ کبھی ماتھے کی شکنوں اور بڑبڑاہٹ سے، کبھی بابا سے فرمائش کر کے کچھ اور منگوا کر
محسنہ روز سوچتی کہ آج کا دن کچھ مختلف ہو گا۔ اسی لئے وہ گزشتہ تلخی بھلا کر صبح ناشتے کی میز پر یمنی کا مسکراتے چہرے سے استقبال کرتیں، مگر یمنی اس وقت تک انہیں نظر انداز کرتی جب تک منہ بسورنے کا کوئی بہانہ نہ مل جائے۔
کبھی انڈے میں تیرتا تیل اور کبھی بریڈ کا زیادہ پکا کنارا، اور کبھی شہد، دہی یا بالائی کا ختم ہونا۔ وہ کھانے کے بعد، بڑبڑاتی ہوئی باہر نکلتی۔ سردار علی خان کبھی محبت سے اور کبھی ڈانٹ کر اسے سمجھاتے، تو اس کا پارہ آسمان کو چھونے لگتا۔ اسے لگتا، ضرور آنٹی نے ابو کے کان بھرے ہیں۔ ایسے میں محسنہ چاہتے ہوئے بھی سردار علی خان کو کسی بات سے آگاہ نہ کر پاتی۔
ایک روز محسنہ یمنی کو لان میں خوشگوار موڈ میں بیٹھے دیکھا تو وہ بھی ادھر چلی آئیں۔ اس کے اکھڑے انداز کے باوجود وہ اس سے باتیں کرتی رہیں۔ اسے اپنے بارے میں اپنے گھر والوں کے بارے میں بتاتی رہیں۔ کس طرح عین جوانی میں والد کے دنیا سے اٹھ جانے پر ان مصائب کا پہاڑ آن پڑا، اور اسے والدہ کو تسلی دینے ، اور بہن بھائیوں کے سرپر دستِ شفقت بھی رکھنا پڑا۔
اور جب والد کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ان کی اولاد یا بیوہ کو ملازمت کی پیش کش کی گئی تو انہوں  نے اسے قبول کر لیا اور یونیورسٹی کی تعلیم کو بھی اہمیت نہ دی۔ اور پھر اپنے سب بہن بھائیوں کو پڑھا لکھا کر جب ان کے گھر بسا چکی تو اپنی شادی کی عمر نکل چکی تھی۔
میرے بھی ہر لڑکی کی مانند ہی خواب تھے، مگر ۔۔
یمنی کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔ وہ ہاتھ کو کٹورا بنا کر اس پر چہرہ رکھے بڑے غور سے ان کی باتیں سن رہی تھی۔ اسی وقت ہارن بجا اور سردار علی احمد کی گاڑی اندر داخل ہوئی۔ انہیں دیکھتے ہی یمنی کے چہرے پر کرختگی آ گئی، اور وہ دھیرے سے بڑبڑائی
بس آپ کو ہمارا گھر ہی ملا تھا، اپنے خواب پورے کرنے کے لئے ۔۔
اور وہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔
اور اس دن کے بعد یمنی اور بھی کھنچی کھنچی رہنے لگی، اب وہ بڑبڑاتی اور پاؤں تو نہ پٹختی تھی، ہاں محسنہ بیگم کے سامنے جانے سے گریز کرتی۔ اس کا زیادہ وقت اپنے کمرے میں گزرتا۔  جب وہ کھانے کی میز پر اکٹھے بھی ہوتے تو وہ بابا یا دادی جان سے ہی بات کرتی۔
محسنہ بیگم کی والدہ کی صحت کی خرابی کی اطلاع آئی۔ انہیں فوراً جانا پڑ گیا۔ سردار علی احمد انہیں وہیں چھوڑ کر واپس آ گئے، کیونکہ اب انہیں ایک مستقل تیمار دار کی ضرورت تھی، اور بیٹی سے بڑھ کر ماں کو کون سنبھال سکتا ہے؟
وہ رات گئے واپس پہنچے تو یمنی نے ادھ کھلی آنکھوں سے انہیں اکیلے دیکھا، اور ٹھنڈی آہ بھری۔
یعنی صبح ناشتا بنا کر کالج جانا ہو گا۔۔
اس نے الارم کا وقت تبدیل کیا اور سو گئی۔ صبح ناشتا بناتے ہوئے بے اختیار وہ کئی مرتبہ اسے یاد آئیں۔ وہ کبھی ضرورت کا کوئی برتن دھوتی اور کبھی بھاگ کر جلتے ٹوسٹ کو باہر نکالتی۔ بھاگم بھاگ کالج پہنچی اور سارا دن اس کوفت سے اس کا دل بجھا رہا کہ اسے جا کر بھی اسی بکھرے ہوئے گھر کو سمیٹنا ہے جو وہ چھوڑ آئی ہے۔
گھر میں داخل ہوئی تو بوڑھی دادی جان اس کو کام میں مشغول دکھائی دیں۔ کھانا بابا نے باہر ہی سے منگوا دیا تھا۔ اس  نے جلدی جلدی میز پر کھانا لگایا۔ تینوں نے مل کر کھا لیا۔ نہایت خاموشی سے! ان کی نگاہیں بار بار خالی نشست کی جانب اٹھ رہی تھیں۔ بابا نے بتایا کہ وہ والدہ کی صحت یابی تک وہیں رہیں گی۔ دادی جان نے یمنی کی جانب دیکھا، اور وہ بے اختیار بولی
بابا، میرے امتحان قریب ہیں۔ ایک خانساماں ہی کا بندو بست کر دیں جب تک ۔۔ (اور جملہ ادا ہوتے ہی وہ خجالت سے بھر گئی، کتنی نا مناسب بات کہی تھی ان حالات میں۔ بابا بھی کیا سوچیں گے۔)
اور یوں ایک ملازمہ کا بھی اضافہ ہو گیا لیکن اس سے اپنے ذائقوں اور پسند کے مطابق کام کروانا ایک اور وقت طلب کام تھا۔ حمنہ بھی کچھ دن رہنے کے لئے آ گئی، جس سے گھر کے معاملات کچھ سدھرنے لگے، لیکن ایک یاسیت سی تھی جو ماحول پر چھا گئی تھی۔
حمنہ سب کا دل لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔ کبھی دادی جان کے پاس بیٹھتی تو کبھی یمنی سے اس کے مسائل پوچھتی۔ باتوں ہی باتوں میں اس  نے یمنی اور آنٹی کے تعلقات کے بگاڑ کا سرا بھی پا لیا۔ اس نے یمنی کو سمجھایا، کہ زندگی پھولوں کا بستر نہیں ہے۔ ماما کا دنیا سے چلے جانا بھی تقدیر کا لکھا ہے، اور آنٹی کا اس گھر میں آنا بھی۔
انہیں تو ہم خود لائے ہیں۔ یہ یقین دلا کر کہ ہم سب ان کی قدر کریں گے۔ تمہیں پتا ہے نا کہ وہ تو شادی کرنا ہی نہیں چاہتی تھیں۔ دادی جان  نے اور میں نے ہی انہیں مطمئن کیا تھا۔ سب بھائی بہنوں کی اچھی اچھی باتیں بتائیں اور تمہاری تو اتنی تعریقیں کی تھیں، کہ تم ہم میں سب سے زیادہ محبت کرنے والی، ہنسوڑ سی لڑکی ہو۔
یمنی کے چہرے پر سیاہ سایہ لہرایا۔ کالج میں بھی سب یہی کہتے ہیں
بس مجھے ماما کی جگہ کسی کا آنا پسند نہیں ہو سکتا ۔۔ وہ کوئی بھی ہو۔اور وہ بھی تو بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔ انہوں  نے ماما کے وارڈ روب سے ان کی شال نکالی۔ میں برداشت نہیں کر سکتی کہ ان کی چیزوں کو وہ ہاتھ بھی لگائیں۔
اچھا، تو اس بات پر تھا اتنا غصّہ؟ اتنی سی بات
حمنہ اب تک اس کی بچکانہ بات پر حیران ہو رہی تھی۔
دیکھو بہنا، چیزوں کا کیا ہے ۔۔ ہم نے ماما کے کتنے کپڑے ماسی کو دیے تھے۔ وہ انہیں پہن کر بھی آتی رہی۔ تب تو ہمیں خوشی تھی کہ اس کا اجر ملے گا۔
یہ تو مجھے آنٹی نے خود بتایا تھا کہ صبح بہت سردی تھی، اور انہوں نے گرم کپڑے نہیں نکالے ہوئے تھے تو بابا  نے انہیں شال نکال کر دی تھی۔
بہنا چیزوں سے بڑھ کر انسان اہم ہوتے ہیں۔ ہمیں تو شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالی  نے ماما کے بعد ہمیں آنٹی دیں، جو اس گھر کا خیال رکھتی ہیں۔ ایک ایک بچے سے اچھا تعلق رکھتی ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بابا ان سے خوش ہیں۔
دادی جان  نے انہیں گلے لگایا ہے۔ وہ دادی جان کی کتنی خدمت کرتی ہیں۔ یمنی وہ اپنی بہترین جاب چھوڑ کر یہاں آئی ہیں، اپنی بوڑھی ماں کو بھابھیوں کے حوالے کر کے۔
یمنی کی آنکھ سے آنسو پھسلا اور گالوں کو بھگو گیا۔
اگلے روز حمنہ  نے آنٹی کو فون کیا تو یمنی سے بھی بات کروا دی۔ وہ کافی پریشان لگ رہی تھیں۔ انہیں دور رہتے ہوئے بھی گھر اور گھر والوں کی فکر تھی۔ یمنی نے بے اختیار کہا
آنٹی آپ کب آئیں گی؟ ہم سب آپ کو مس کر رہے ہیں۔ (آپ کو یا آپ کے سلیقے کو؟ اس نے خود سے ہی سوال کیا)
آپ دعا کرو نا، امی جی کے ٹھیک ہوتے ہی میں آ جاؤں گی۔ان کی آواز میں وہی خلوص تھا۔ (انہوں نے یہ تو بتایا ہی نہ تھا کہ وہ اتنی دور بیٹھے ہوئے بھی یمنی کے لئے کتنی پریشان تھیں، اور اس کی بے زاری انہیں کس قدر سلگاتی رہی، ان کی آنکھیں والدہ کے لئے بھر آتیں، اور کبھی اس گھر میں یمنی کی بے اعتنائی اور اس کے کچھ بڑبڑاتے کلمات ان کا چہرہ بھگو دیتے۔ )
اگلے ہفتے محسنہ بیگم واپس آئیں۔ آج بھی سردار علی احمد گاڑی بھگاتے ہوئے آئے تھے۔ شام کی ٹھنڈی دھوپ سے گزر کر وہ لاؤنج میں پہنچی تو دیوار پر لگے ’’ویلکم ہوم ماما‘‘ کے پوسٹر  نے انہیں چونکا دیا۔
شاید حمنہ نے لگایا ہو۔ انہوں نے اندازہ لگایا۔ تھوڑی دیر میں یمنی ایپرن باندھے کچن سے نکلی، اور ان کے گلے لگ گئی۔ کیسی ٹھنڈک تھی اس ملن میں۔ (رشتے سوتیلے اور سگے ہونے سے بڑھ کر جذبات و احساسات سے پنپتے اور مرجھاتے ہیں۔) اور آج اس رشتے میں محبت کو یمنی نے محسوس کر لیا تھا۔ اس کے دل نے ہولے سے کہا
ملتے کہاں ہیں ایسے محبت رسیدہ لوگ
اور شکر کے احساس سے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اس نے ان کے عقب میں دیکھا، بابا کا چہرہ بھی چمک رہا تھا۔
٭٭٭

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles