23 C
Lahore
Saturday, April 13, 2024

Book Store

(مجروح (چوتھی قسط

 

(مجروح (چوتھی قسط
شکیل احمد چوہان

عطاوریاہ  نے موچی دروازے سے اندرون لاہور میں داخل ہونے کے لیے گاڑیاں خشک میوہ جات کی دُکانوں سے تھوڑا آگے پلاسٹک کا کاروبار کرنے والی دُکانوں ہجویری اور اجمیری پلاسٹک کے سامنے کھڑی کروا دیں۔ پلاسٹک کی دُکانیں رات آٹھ، نو بجے سے پہلے ہی بند ہو جاتی ہیں، جبکہ خشک میوہ جات کی دُکانیں رات گئے تک کھلی رہتی ہیں۔
عطا آگے تھا۔ اُس کے بعد منشا مزاری اُس کے پیچھے چار کے بجائے دو ہی گارڈ تھے۔ دو کو عطا نے گاڑیوں کے پاس ہی رُکنے کا کہہ دیا تھا۔
وہ سب موچی دروازے سے گزر کر اندرون لاہور کی تنگ گلیوں میں سے گزر رہے تھے۔
موچی دروازے کا قدیم نام موتی دروازہ تھا۔ اکبر بادشاہ کے عہد میں اُس کا ایک ملازم موتی رام جمعدار اس دروازے کی حفاظت پر مامور تھا۔ اُسی کے نام سے یہ دروازہ منسوب ہے۔ موتی کب موچی بن گیا کسی کو پتا ہی نہ چلا۔
بند گلی کے ایک آخری مکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عطا نے بتایا
’’بی بی سرکار۔۔۔! وہ جپہ صاحب کا گھر ہے۔‘‘
منشا نے ایک نظر مکان پر ڈالی، پھر عطا کو دیکھا۔ اُسی وقت عطا کے موبائل پر واٹس ایپ میسج آیا۔ عطا  نے میسج سنا۔
’’عطا۔۔۔! نیچے کا دروازہ کھلا ہے، اُوپر آ جاؤ!‘‘
میسج سننے کے بعد منشا نے عطا کو ساتھ چلنے کا ہاتھ سے حکم دیا۔
اندر جانے سے پہلے عطا نے دونوں گارڈز کو گھر کے بیرونی دروازے کے باہر دائیں بائیں کھڑا رہنے کا اشارہ کیا۔ اس کے بعد منشا کے آگے چل پڑا۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی چھوٹی سی ڈیوڑھی تھی۔ اُس کے سامنے دو کمروں پر تالے لگے ہوئے تھے۔
ڈیوڑھی کے اندر سے ہی تنگ سی سیڑھیاں اُوپر چڑھ رہی تھیں۔ جیسے ہی سیڑھیاں ختم ہوئیں منشا کو اپنے سامنے اپنی کمر کے ساتھ ہاتھ باندھے تیکھے نقوش اور چُست جسامت والا ایک شخص دکھائی دیا۔
بی بی سرکار۔۔۔! یہ جپہ صاحب ہیں۔ عطا نے اُن کے درمیان سے ہٹتے ہوئے بتایا۔
منشا نے ٹٹولتی نظروں سے اُسے دیکھا۔
کیسی ہو منشا مزاری۔۔۔؟ جپہ نے بے تکلفی سے پوچھا جو منشا کو ناگوار گزرا۔ جپہ  نے منشا کی ناگواری بھانپ لی۔ اُس نے جلدی سے اپنی بیٹھک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
’’پلیز۔۔۔!!‘‘
منشا بیٹھک کے اندر داخل ہو گئی۔ بیٹھک کی دیواروں پر جپہ کے بزرگوں کی بہت ساری تصاویر آویزاں تھیں۔ اُنھیں دیکھتے دیکھتے یونیورسٹی کے چند دوستوں کی ایک گروپ فوٹو پر منشا کی نظر جا کے ٹھہر گئی۔
وہ فرطِ محبت سے گروپ فوٹو میں سے صرف ایک چہرے کو دیکھے جا رہی تھی۔ بے ساختہ اُس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے، مگر اُس نے انھیں چھلکنے نہیں دیا۔ بڑی مشکل سے اُس کے حلق سے ایک نام نکلا
’’رمشا۔۔۔!!‘‘
رمشا کے دائیں جانب آفرین! یہ آج کل امریکا میں ہے۔ بائیں جانب ثمرہ! یہ اپنی تمام تر چلاکیوں کے باوجود کسی کے ساتھ بھی سیٹل نہ ہو سکی۔ ادھر لاہور میں ہی ایک پرائیویٹ جاب کر رہی ہے اور یہ ثمرہ کے ساتھ میں، جبران جپہ!! جپہ نے گروپ فوٹو پر ایک جگہ اپنی شہادت کی اُنگلی رکھتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔
منشا نے برہمی سے جبران جپہ کی طرف دیکھا تو جبران نے بڑے اعتماد سے بتایا
’’میں اُس کا بہت اچھا دوست بھی تھا۔‘‘
یہ سننے کے باوجود منشا کی خفگی کم نہ ہوئی۔ اسی دوران جبران کا ایک بوڑھا باریش نفیس سا ملازم ہلکا سا لنگڑاتے ہوئے چائے کی ٹرے اُٹھائے بیٹھک میں داخل ہوا۔ اُس نے وہ ٹرے میز پر رکھ دی۔
’’بختیار بابا چائے بڑی اچھی بناتے ہیں۔‘‘
جبران کے بتانے پر منشا  نے بختیار بابا کی طرف دیکھا، پھر اپنے اوسان مجتمع کرتے ہوئے منشا چائے والی میز کے سامنے دیوان پر بیٹھ گئی۔
جبران اُس کے سامنے پُرانی طرز کی ایک کرسی پر جا بیٹھا۔ بختیار بابا وہاں سے چلا گیا۔ جبران نے کیتلی سے چائے پرچوں کے اُوپر رکھے ہوئے تین کپوں میں اُنڈیلی۔ ایک کپ اُس نے اُٹھا کر بیٹھک کے دروازے کے ساتھ کھڑے ہوئے عطا کو پیش کیا۔
منشا کو جبران کی یہ حرکت بھی گراں گزری۔ اتنے میں بختیار بابا تانبے کی ایک طشتری اُٹھا لایا ۔ جس میں تانبے کی ہی چھوٹی چھوٹی کٹوریاں رکھی ہوئی تھیں، جن میں تقریباً سارے ہی خشک میوہ جات الگ الگ کٹوریوں میں موجود تھے۔ بختیار بابا بیٹھک کے ایک کونے میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔
لیجیے۔۔۔! جبران نے اُس طشتری کی طرف اشارہ کیا، پھر چسکیاں لے کے چائے پینے لگا۔ عطا چائے کا کپ تھامے کھڑا ترچھی نظر سے منشا کو دیکھ رہا تھا جس کے سامنے چائے پڑی تھی، مگر اُس نے اُسے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔
منشا نے طشتری سے کچھ اُٹھانے کے بجائے چائے کا کپ پرچ سمیت اُٹھا کے اُس میں سے ایک گھونٹ پیا، پھر چائے کا کپ واپس رکھتے ہوئے بولی
’’چائے میں  نے پی لی ہے، کام کی بات کریں؟‘‘
یہ سنتے ہی عطا نے بھی چائے کا ایک گھونٹ پی کر باقی چائے اپنے قدموں کے پاس رکھ دی۔ منشا نے جب عطا کا یہ عمل دیکھا تو فاتحانہ انداز سے مسکرائی۔
جبران کے ہونٹوں پر بھی ہلکا سا تبسم آیا۔ بختیار بابا نے جب عطا کے قدموں میں چائے سے بھرا کپ پڑا ہوا دیکھا تو وہ اُسے اُٹھاتے ہوئے دو ٹوک انداز میں بولا
’’میری بنائی ہوئی چائے کی قدر کرو یا نہ کرو۔۔۔ مگر رزق کی بے قدری تو نہ کرو۔‘‘
بختیار بابا نے وہ کپ لیا اور لنگڑاتا ہوا وہاں سے چل دیا۔ جبران اس بات پر پورے چہرے کے ساتھ مسکرایا۔ منشا کو اُس کا یہ عمل بھی کچھ خاص پسند نہ آیا۔ جبران کو اس بات کا بھی اندازہ ہو گیا۔
اُس نے چائے ختم کرنے کے بعد خالی کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا
بختیار بابا کہتے ہیں، چائے گرم پینی چاہیے اور بات نرم کرنی چاہیے۔۔۔ وہ الگ بات ہے کبھی کبھی وہ اپنی ہی کہی ہوئی بات پر عمل نہیں کرتے۔۔۔ خیر! آپ بتائیں کیسے آنا ہوا؟
منشا سوچ ہی رہی تھی کہ کہاں سے بات شرو ع کرے۔ جبران نے طشتری میں سے بادام اُٹھائے اور کھانے لگا۔ منشا اپنی آنکھوں کو گھماتے ہوئے کسی فیصلے پر پہنچنا چاہ رہی تھی۔ بادام کھانے کے بعد جبران نے چھلے ہوئے اخروٹ اُٹھائے اور اُنھیں کھاتے کھاتے کہنے لگا
ملتان سے تقریباً سو کلومیٹر دُور آپ کا گاؤں ہے۔۔۔ ہزاروں ایکڑ زرعی رقبہ اور سات پلازوں کی آپ اکلوتی وارث ہیں۔ اُوپر سے کینیڈا میں بنگلہ بھی ہے۔ سال میں ایک بار ڈیڑھ دو ماہ کے لیے وہاں بھی جاتی ہیں۔ چونتیس سال اور سترہ دن آپ کی عمر ہے، مگر ابھی تک شادی نہیں کی اور پچھلے بارہ سال سے ایک بندے کو تلاش کر رہی ہیں۔۔۔
منشا نے جبران کی بات کاٹتے ہوئے تلخی سے پوچھا
’’تم یہ سب کیسے جانتے ہو؟‘‘
اپنی جگہ سے اُٹھتے ہوئے جبران  نے کاجو کے چند دانے طشتری سے اُٹھائے، پھر بولا
’’آئیں بتاتا ہوں۔‘‘
منشا اُس کے پیچھے پیچھے بیٹھک سے نکل آئی۔
جبران نے ایک پُرانی وضع کے دوازے کو کھولا۔ اُس کے آگے ایک اور جدید طرز کا ساؤنڈ پروف دروازہ تھا۔ وہ کھولتے ہوئے وہ ایک کمرے میں داخل ہو گیا۔ منشا نے کمرے کا جائزہ لیا۔ وہ پُرانے مکان کے اندر ایک جدید کمرا تھا، جس میں جدید کمپیوٹرز، ایل سی ڈیز، لیپ ٹاپ، کیمرے، چھوٹی ساخت والا اسلحہ، بلٹ پروف جیکٹس، یہ سب چیزیں بڑے سلیقے سے اپنی اپنی جگہ رکھی ہوئی تھیں۔ ایک کونے میں لیپ ٹاپ کے بیگ کے اندر عام سے چھوٹے بڑے بہت سارے موبائل چارجنگ پر لگے ہوئے تھے۔ جبران نے اپنی آفس چیئر پر بیٹھنے سے پہلے منشا کو ٹیبل کے دُوسری جانب رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھنے کی دعوت دی
’’تشریف رکھیں!‘‘
منشا حیرت سے اردگرد کا جائزہ لیتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئی۔
اس کے بعد جبران اُس کے سامنے ٹیبل کے دُوسری جانب بیٹھ گیا۔ جبران کے پیچھے پاکستان کا ایک بڑا سا نقشہ دیوار پر لگا ہوا تھا۔ نقشے پر پاکستان کے مختلف مقامات اور شہروں کے گرد سرخ مارکر سے دائرے لگے ہوئے تھے۔ جبران کے سامنے ٹیبل پر  ایپل کا نئے ماڈل کا ایک لیپ ٹاپ پڑا تھا۔ جبران  نے کرسی پر بیٹھتے ہی اُسے  آن کر دیا۔
منشا کی حیرت ابھی تک برقرار تھی۔ جبران لیپ ٹاپ پر مصروف ہو گیا۔ ابھی منشا نے اردگرد کا جائزہ لینے کے بعد جبران کی طرف دیکھا ہی تھا کہ اُس نے لیپ ٹاپ اُس کی طرف کرتے ہوئے حتمی انداز میں پوچھا
’’اسے ہی تلاش کر رہی ہیں نا آپ۔۔۔؟‘‘
ماڈل ٹاؤن پارک کے ایک درخت کے ساتھ رمشا مزاری پنک ٹریک سوٹ پہنے کھڑی تھی۔ اُس کے سامنے گرے ٹریک سوٹ میں ملبوس سرمد کھڑا تھا۔ دُور سے کھینچی گئی بہت ساری تصویریں لیپ ٹاپ کی اسکرین پر چلنے لگیں۔ ایک تصویر اُن میں سے بہت واضح تھی۔ اُسے دیکھتے ہی منشا لفظ چباتے ہوئے بولی
’’یہی ہے سُوَر کا بچہ۔۔۔‘‘
جبران نے لیپ ٹاپ اپنی طرف کرتے ہوئے اُس کی ایل سی ڈی کو بند کر دیا اور منشا کے تمازت سے بھرے ہوئے رخسار دیکھنے لگا۔ پھر ہولے سے بولا
آپ کی شکل رمشا سے کافی ملتی ہے۔۔۔ اُس کی اچانک موت اب تک مسٹری ہے۔۔۔ کیا یہ بندہ رمشا کی موت کی وجہ تھا؟
جبران کی بات سنتے ہی منشا نے بات بدلتے ہوئے فوراً پوچھا
’’تم رمشا سے محبت کرتے تھے کیا؟‘‘
نہیں۔۔۔ اُسے سیٹ کرنا چاہتا تھا۔ جبران نے صاف گوئی سے بتایا۔ منشا نے جبران کو بڑی حقارت سے دیکھا تو وہ مصنوعی تبسم اپنے ہونٹوں پر سجاتے ہوئے بولا
’’بختیار بابا کہتے ہیں، بات کھری کرنی چاہیے اور نظر گہری رکھنی چاہیے۔‘‘
منشا نے لمحہ بھر سوچا پھر بولی
’’مجھے یہ بندہ چاہیے۔۔۔ زندہ‘‘
دو کروڑ۔۔۔ جبران نے بتایا۔
تم چار بھی مانگتے تو میں دے دیتی۔ منشا نے تفاخر سے کہا۔
’’میں مانگتا نہیں۔۔۔ لیتا ہوں۔۔۔ اپنے کام کی فیس‘‘
’’ملازم حکومت کے اور کام پرائیویٹ۔۔۔ تنخواہ کے ساتھ ساتھ فیس بھی لیتے ہو؟
منشا نے طنز کیا تو جبران ہلکا سا مسکرا دیا۔ منشا پھر سے بولی
’’اِس بات پر تمہارے بختیار بابا نے کچھ نہیں کہا؟‘‘
کہا تو ہے۔۔۔ بتایا اِس لیے نہیں کہ آپ سچ سُن کر بُرا مان جاتی ہیں۔
جبران نے قدرے شائستہ لہجے میں بتایا۔
’’میں سننا چاہتی ہوں۔‘‘
بختیار بابا کہتے ہیں، سرکاری تنخواہ غریبوں میں بانٹ دو اور حکومت کو لُوٹنے والوں کو کاٹ دو۔
روبن ہوڈ ہو کیا۔۔۔؟ منشا نے تلخی سے کہا۔
جبران مسکراتے ہوئے اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور چلتے ہوئے منشا کی پشت کی طرف آ گیا، پھر کہنے لگا
’’میں پوری فیس ایڈوانس لوں گا۔۔۔ وہ بھی کیش‘‘
یہ سنتے ہی منشا نے اپنی کرسی موڑتے ہوئے جبران کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ جبران پھر سے بول اُٹھا
کام رازداری سے ہو گا۔۔۔ کام ختم ہونے کے بعد سارا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دوں گا۔۔۔ اِس معاملے کی پولیس کو ہوا تک بھی نہیں لگے گی۔۔۔ جیسے آپ آج مجھے غور سے دیکھ رہی ہیں۔۔۔ کاش! یونیورسٹی کے دنوں میں بھی دیکھ لیتیں۔۔۔
آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں؟ جبران نے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد منشا کو بولنے کی دعوت دی۔
ڈن۔۔۔!! یہ بولنے کے بعد منشا کرسی سے اُٹھی، ساتھ ہی اُس نے پوچھ لیا
’’کتنا وقت لگے گا؟‘‘
بارہ سے ایک ہٹا دیں۔۔۔ دو دن۔۔۔ دو ہفتے۔۔۔ حد۔۔۔دو مہینے۔۔۔ اگر زندہ ہوا تو۔۔۔ دُوسری صورت میں اُس کی قبر تک پہنچا د وں گا۔
زندہ چاہیے۔۔۔! منشا جذباتی لہجے میں بولی اور دروازے کی طرف چل دی۔ جبران نے آگے بڑھ کر اُس کے اکرام میں ساؤنڈ پروف دروازہ کھول دیا۔ منشا نے دروازے کے سامنے رُکتے ہوئے پوچھا
’’اُسے ڈھونڈو گے کہاں؟‘‘
’’پہلے مرحلے میں کراچی۔۔۔ حیدرآباد۔۔۔ فیصل آباد۔۔۔ پشاور اور پنڈی۔‘‘
لاہور کیوں نہیں؟ منشا نے سوا ل کیا۔
’’اُس کی لاہور میں رہنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
جبران نے کہا۔ منشا نے پہلی بار ہلکا سا مسکراتے ہوئے جبران کی بات پر جوابی ہاں میں گردن کو جنبش دی، پھر کہنے لگی
’’رقم عطا پہنچا دے گا۔۔۔ اگر وہ نہ ملا تو؟‘‘
آج تک جو بھی کام پکڑے وہ سب مکمل کیے ہیں۔۔۔ فیس بھی بعد میں ہی لیتا ہوں، سوائے اُن کاموں کے جن میں جان کا خطرہ ہو۔
جبران کے بتانے پر منشا پورے چہرے کے ساتھ مسکرائی، پھر بڑے مزے سے پوچھنے لگی
’’خطرہ۔۔۔!! کس کی جان کو؟‘‘
جبران کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ نے قدم رکھے۔ اُس نے منشا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بتایا
’’دونوں کی۔۔۔‘‘
منشا نے سوالیہ نظروں سے جبران کو دیکھا تو وہ کہنے لگا
’’منشا مزاری والد سردار بلاج مزاری اور سرمد نواب ولد نواب ترکھان۔‘‘
یہ سنتے ہی منشا کے چہرے کے خدوخال بدل گئے۔ وہ اُسی عالم میں وہاں سے چلی گئی۔ جبران  نے اپنی کرسی کے پیچھے لگے نقشے کو بڑے ادب سے اُتار کر وہاں نیا نقشہ لگا دیا۔

۞۞۞

عطا  نے جب دیکھا کہ منشا کا مزاج بگڑا ہوا ہے تو اُس نے کوئی بات نہ پوچھی۔ وہ چُپ چاپ منشا کے پیچھے چلنے لگا۔
منشا گھر سے باہر نکل آئی۔ چلنے میں اُس کی رفتار تیز تھی۔ منشا سے دو قدم پیچھے عطا اور اُس کے پیچھے دو گارڈ۔ جب وہ تنگ تنگ گلیوں سے نکل کر قدرے کھلی سڑک پر المشہور ’’رفیق سویٹس‘‘ کے سامنے سے گزری تو اُس نے اپنی رفتار کم کر لی۔
ایک لمبی سانس بھرنے کے بعد اُس نے اپنے حواس کو بہتر کیا، پھر گردن اُٹھا کر اردگرد کا جائزہ لیا۔ اُس کی نظر تھانہ رنگ محل پر پڑی۔ تھانہ رنگ محل اور تھانہ موچی گیٹ کے سامنے جہاں کبھی موتی گیٹ یا موجودہ نام موچی گیٹ ہوا کرتا تھا، منشا ٹھہر گئی۔
اُس نے سڑک کے ایک کونے پر کھڑے ہو کر باری باری ایک دُوسرے کے مقابل تھانوں کو دیکھا، پھر لمحہ بھر غور کیا ، پھر پورے چہرے کے ساتھ مسکراتے ہوئے دل ہی دل میں بولی
’’دوپولیس اسٹیشنز کے کتنے قریب ایک لٹیرا رہتا ہے۔‘‘
ویسے ایک اور بات بھی مسکرانے والی تھی
دو تھانوں کے درمیان جہاں کبھی موچی گیٹ ہوا کرتا تھا، اب نہ تو گیٹ ہے اور نہ ہی اُس کے کوئی آثار ملتے ہیں۔ صرف نام ہی باقی ہے
موچی گیٹ

(بقیہ اگلی قسط میں)

۞۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles