36 C
Lahore
Saturday, May 25, 2024

Book Store

حضرت سخی لعل شہباز قلندر

سید محمد عثمان مروندی المعروف حضرت سخی لعل شہباز قلندر۔ رحمتہ اللہ علیہ

تحریر – محمود میاں نجمی          

         باب الاسلام سندہ اولیاء کرام کی سرذمین ہے جہاں  لاکھوں بزرگان دین مدفون ہیں۔ لیکن ان سب میں حضرت لعل شہباز قلندر، سچل سرمست ، شاہ عبد اللطیف بھٹائی اور عبداللہ شاہ غازی کو خصوصی مقام حاصل ہے۔
کراچی سے 286 کلومیٹر اور حیدر آباد سے دادو کی جانب 145 کلومیٹر کی مسافت پر کیرتھر کی پہاڑیوں کے دامن میں دریائے سندھ کے کنارے ایک نہایت خوبصورت اور قدیم شہر آباد ہے ، جسے سہون شریف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اسے سیوستان بھی کہتے ہیں۔
یہاں مشہور صوفی بزرگ حضرت سخی لعل شہباز قلندر کا مزار مبارک ہے ، اور یہ ہی اس شہر کی پہچان ہے۔
دراصل سہون شریف اور حضرت سخی لعل شہباز قلندر لازم و ملزوم ہیں۔
نام و نسب آپ کا نام سید محمد عثمان مروندی بن سید کبیر الدین بن سید شمس الدین بن سید نور شاہ بن سید محمود شاہ بن احمد شاہ بن سید ہادی بن سید مہدی بن سید منتخب بن سید غالب بن سید منصور بن سید اسماعیل بن سید جعفر صادق رحمۃ اللّٰہ علیہ ہے۔
آپ کا شجرہ نسب تیرہ واسطوں سے حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتا ہے۔
القابات کتب میں آپ۔کے القابات درج زیل ہیں۔
جھولے لعل، سخی سرکار، شہباز، قلندر، شمس الدین، مہدی،اور مخدوم ہیں، لیکن آپ حضرت سخی لعل شہباز قلندر کے نام سے مشہور ہوئے۔
پیدائش آپ 538 ہجری، بمطابق 1177 عسوی میں موجودہ افغانستان کے شہر ” مروند” میں پیدا ہوئے۔
یہ شہر قندھار سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔
مروند پہلے آذربائجان اور تبریز کے عین وسط میں ایران کا ایک قصبہ تھا۔ بعد میں آزر بائیجان کا دارالحکومت بنا ، اور اس شہر نے خوب ترقی کی ، لیکن پھر کردوں نے اس خوبصورت شہر پر حملہ کر کے اسے تباہ و برباد کر دیا  اور اہل مروند کو غلام بنا کر ساتھ لے گئے۔
برسوں یہ شہر اجاڑ حالت میں پڑا رہا۔ آپ کے والد سید کبیر الدین اپنے وقت کے مشہور عالم دین تھے۔ مشائخ تبریز میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔
سید کبیر کے آباؤ اجداد عراق سے ہجرت کر کے مشہد ایران آئے، پھر وہاں سے مروند منتقل ہو گئے۔
آپ کی والدہ بھی نہایت عبادت گزار خاتون تھیں ۔
وجہ شہرت آپ مفسر و مبلغ، مفکر ،شاعر، الہیات داں، صوفی، قلندر کے ساتھ بہت بڑے عالم ، کتب کے مصنف ، کئ زبانوں کے ماھر اور عربی و فارسی پر کامل عبور رکھتے تھے۔
آپ نے اپنی پوری زندگی عوام کی روحانی ،اخلاقی ، اقتصادی اصلاح اور تبلیغ دین کے لیے وقف کر دی تھی۔
آپ صاحب کرامت ولی اللہ کے طور پر جانے جاتے تھے ۔
اللہ نے آواز میں سحر عطا فرمایا تھا ۔ آپ کا جمعہ مبارک کا خطبہ سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے۔
عربی زبان میں نہایت فصیح و بلیغ خطبہ ارشادِ فرمائے۔ لوگوں کو محنت کر کے کسب حلال کی جانب راغب کرتے ، حقوقِ اللہ اور حقوق العباد درس و وعظ کا خاص موضوع ہوتا۔
صوم وصلاۃ اور رزق حلال کی اہمیت پر خصوصیت کے ساتھ ہدایات فرماتے۔
حصول تعلیم آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدین کی زیر نگرانی حاصل کی ۔
7 سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا اور قلیل عرصے میں عربی و فارسی پر مکمل دسترس حاصل کر لی۔
آپ کو ترکی، سندھی ، اور سنسکرت پر بھی عبور تھا۔
خرقہ تابدارحضرت لعل شہباز قلندر ہمیشہ سرخ رنگ کا اونی لباس پہنا کرتے تھے۔ گڈری نما اس فقیری لباس کو صوفیانہ زبان میں “خرقہ”کہتے ہیں۔
روایت میں ہے کہ یاقوتی رنگ کے اس لباس ہی کی وجہ سے آپ ک” لعل” کہا جانے لگا۔
والد کا خواب حضرت لعل شہباز قلندر کے والد گرامی سید کبیر الدین  نے دینی مصروفیات کی بناء پر شادی عمر کے آخری حصہ میں کی،۔۔۔۔ ”
لب تاریخ سندھ” کتاب کے مصنف” خداداد خاں”  لکھتے ھیں کہ سید کبیر الدین نے خواب میں دیکھا قلندروں کی ایک جماعت دف بجا کر گا رہی ہے کہ ” کبیر کا بیٹا قلندروں کا سردار ہو گا ”
اسی دور میں ہرات کے بادشاہ کو بھی خواب میں حکم ملا کہ اپنی بیٹی کی شادی کبیر الدین سے کر دو۔ چنانچہ
بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔

والدہ کی خدمت و اطاعت

لعل شہباز قلندر ابھی کم عمر ہی تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ والدہ اکیلی رہ گئیں۔ چنانچہ حضرت لعل شہباز قلندر نے اپنی جوانی اور شباب کے ایام والدہ کی خدمت و اطاعت میں صرف کر دیے۔
بارہا یہ خیال آیا کہ گاؤں سے باہر جا کر مزید تعلیم حاصل کی جائے، لیکن پھر بوڑھی ماں کا خیال قدموں کی زنجیر بن جاتا اور پہلے سے زیادہ ماں کی خدمت گزاری شروع کر دیتے۔
یوں بیس سال کا طویل عرصہ گاؤں میں والدہ کی خدمت میں گزار دیا۔

حصول علم کی تڑپ

والدہ کے انتقال کے بعد حضرت لعل شہباز قلندر  آزاد تھے۔
چنانچہ حصول علم کی تڑپ اور طلب میں دنیا کے گوشے گوشے کا سفر کیا۔
بے شمار بزرگانِ دین اور علماء مشائخ کی خدمت میں حاضر ہو کر علم کی پیاس بجھاتے رہے۔ یہاں تک کہ اس وقت کے برگزیدہ ولی اللہ حضرت بابا ابراھیم کی خانقاہ تک جا پہنچے۔
جہاں بابا ابراھیم کے حکم پر مسلسل ایک سال تک اپنے آپ کو سخت ترین عبادتوں ریاضت اور مجاہدے میں غرق کر لیا۔
اس کے بعد آپ کو خرقہ خلافت نصیب ہوا۔
بابا ابراھیم  نے آپ کو ایک پتھر بھی دیا ، جو گلوبند کے نام سے مشہور ہے۔
حضرت لعل شہباز قلندر اسے ہر وقت گلے میں پہنے رکھتے تھے۔ جس کے وزن سے آپ ہمیشہ جھک کر چلتے تھے۔
یہ گلوبند آج بھی آپ کے مزار مبارک پر لٹکا ہوا ہے۔
بابا ابراھیم  نے بادام کی لکڑی کا ایک عصاء بھی دیا تھا، جو آپ کے مزار میں شمال کی جانب رکھا ہوا ہے۔ مرشد

بابا ابراھیم کا وصال

کتاب “شہباز ” کے مصنف “جلیل سیوہانی” لکھتے ہیں کہ جب بابا ابراھیم کا وصال ہونے لگا ، تو انھوں  نے حضرت لعل شہباز قلندر کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ
” تم اپنی منزل کو آسان کرنے کے لیے ہندوستان چلے جاؤ، اور وہاں پہنچ کر ہمارے ایک مرید سید جمال شاہ مجرد سے اپنی امانت لے لو”
محققین کے مطابق حضرت لعل شہباز قلندر کے مرشد اوۤل حضرت بابا ابراھیم ہی ہیں
جبکہ مرشد دوم حضرت شیخ سید جمال شاہ ہیں، لیکن دونوں بزرگوں کے حالات زندگی کسی مستند کتاب میں دستیاب نہیں ہیں

( علماء و مشائخ کی صحبت اور نگر نگر کی سیاحت)

حضرت بابا ابرھیم کی وصیت کے مطابق آپ حضرت سید جمال شاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کی صحبت میں کچھ وقت گزارنے کے بعد آپ سیاحت کی غرض سے نکل کھڑے ہوے.
ایک طویل عرصے تک علماء مشائخ سے کسب فیض حاصل کرنے کے بعد اپنے وطن ” مروند”  واپس آئے۔
وطن میں کچھ عرصہ قیام کے بعد ایران تشریف لے گئے، جہاں چالیس دن تک “حضرت امام رضا ” کے روضہ پر معتکف رہے۔
” ایران” سے آپ” عراق ” میں “حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ” کے مزار مبارک پر حاضری کے بعد” سیدنا غوث اعظم”  کے مزار پر تشریف لے گئے.
یہاں مراقبہ کے دوران  “حضرت غوث اعظم” نے مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف کی زیارت کا حکم دیا۔ حجاز مقدس کا سفر حکم ملتے ہی” مکہ مکرمہ ” روانہ ہو گئے۔
حج کا زمانہ تھا۔  حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی، پھر “مدینہ منورہ” کی جانب عازم سفر ہوئے۔
“شہنشاہ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ” کے روضہ اقدس کی جالیوں کے سامنے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔
درود و سلام کے نذرانے پیش کرتے ہوئے آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب جاری ہو گیا۔
گیارہ ماہ تک روضہ مقدس پر مقیم رہنے کے باوجود تشنگی باقی تھی کہ ایک رات بشارت ہوئی اور حکم  ملا کہ ” اے عثمان! تم ہندوستان جاؤ ، جہاں خلق خدا تمہاری منتظر ہے”
بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والے حکم کے بعد رخت سفر باندھا، حج کے دن تھے۔
مکہ میں دوسری مرتبہ حج بیت اللہ کی ادائیگی کے بعد عراق و ایران ہوتے ہوئے مکران کے راستے سندھ میں تشریف لائے۔
کچھ دن قیام کے بعد  اجمیر شریف میں “حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری” کے مزار پر حاضری دی۔ وہاں سے دہلی میں “حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی” کے مزار پر کچھ دن گزارے۔
ایک رات خواب میں “حضرت خواجہ کاکی” نے  پانی پت میں” حضرت بوعلی قلندر ” کی خدمت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ، چنانچہ پانی پت پہنچے، اور ایک عرصہ تک ان کی صحبت میں رہ کر قلندری نسبت وطریقت کے بہت سے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کی۔

سندہ میں آمد

ایک دن “حضرت بو علی قلندر ” نے فرمایا، کہ” اے عثمان!  اس خطے میں بہت سے صوفی  و قلندر موجود ہیں، ہمارا مشورہ ہے کہ تہیں سندھ چلے جانا چاہیے۔
چنانچہ آپ لاہور اور ملتان ہوتے ہوئے 649 ہجری میں  سندھ کے شہر ” سیہون ” میں تشریف لائے۔
“سیہون” پر اس وقت ” جیر جی ” نامی ایک ظالم ہندو راجہ حکمران تھا، جس کا لقب “چوپٹ ” تھا۔ لوگ اس کے دور حکمرانی کو ” اندھیر نگری چوپٹ راجہ ” کہا کرتے تھے۔
” جیرجی” نے آپ کو تنگ کرنے, وہاں سے بھگانے اور جان سے مارنے کے لیے تمام تر ہتھکنڈے استعمال کر لیے، لیکن وہ آپ کا بال بیکا بھی نہیں کر سکا۔
طوائفوں کا محلہ حضرت لعل شہباز قلندر جس محلے میں ٹھہرے تھے۔ وہ طوائفوں کا محلہ تھا۔ سرشام ہی سے ہر گھر سے رقص و موسیقی کی آوازیں ماحول کو پراگندہ کرتی تھیں۔
مریدوں  نے اس جگہ سے نقل مکانی کا مشورہ دیا، لیکن آپ نے منع کر دیا
اور پھر اہل سندہ نے دیکھا کہ جلد ہی وہ سب طوائفیں فحاشی سے توبہ کر کے مسلمان ہو کر آپ کے مریدین میں شامل ہو گئیں۔

تبلیغی و اصلاحی جدوجہد۔

حضرت لعل شہباز قلندر نے تبلیغی اور اصلاحی تحریک کو صرف سیہون تک ہی محدود نہیں رکھا،
بلکہ اپنے ہم عصر احباب “حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی”،”حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر” اور “حضرت سید جلال الدین سرخ بخآری” کے ہمراہ بغرض تبلیغ سندھ کے دور دراز  گاؤں اور گوٹھوں میں تشریف لے جا کر لوگوں کو دین کی جانب راغب کیا.
یہاں تک کے آپ سیہون سے نکل کر “لاہوت”، “ہنگلاج “ہوتے ہوئے ” ٹھٹھہ” پہنچے اور پھر وہاں سے” کراچی “کا سفر کیا۔
مقصد “حضرت منگھو پیر ” سے ملاقات مقصود تھی، جو کراچی کے شمال، مغرب میں ایک دور دراز گوٹھ میں قیام پزیر تھے ۔

حضرت لعل شہباز کی تصانیف۔

آپ بہت بڑے عالم دین، بلند پایہ درویش ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر لسانیات، ادیب ،مفکر ، شاعر اور شعلہ بیان خطیب بھی تھے۔ آپ کئ زبانوں کے ماھر تھے۔ عربی اور فارسی پر مکمل عبور تھا۔
محقق” شیخ محمد اکرام” اپنی کتاب ” آب کوثر ” میں مشھور انگریز مورخ” سر رچرڈ برٹن ” کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جس وقت انگریز ہندوستان پر قابض ھوئے۔
اس وقت حضرت لعل شہباز قلندر کی دو تحریر کردہ کتب ” میزان الصرف” اور ” صرف صغیر” سندھ کے مدرسوں کے فارسی نصاب میں شامل تھیں۔
“رچرڈ برٹن” کے بقول آپ ایک جید زبان دان، ماہر قواعد و لسانیات تھے۔
آپ کی چند اور کتابیں بھی مکتبوں میں پڑھائی جاتی تھیں۔ جن کے نام یہ ھیں
،1-اجناس
2- عقد،
3-قسم دوم
4- میزان الصرف
“رشتہ ازواج مفتی غلام سرور لاھوری اپنی کتاب “سفینۃ الاصفیاء میں لکھتے ہیں کہ حضرت لعل شہباز قلندر کے مرشد اول۔ بابا ابراھیم اور مرشد ددم سید جمال شاہ نے شادی نہیں کی تھی۔
چنانچہ اپنے پیشواؤں کی تقلید کرتے ہوئے۔  آپ بھی ساری عمر کنوارے رہے۔
دراصل سندھ کا پورا علاقہ کفرستان تھا۔ مسلمان آٹے میں نمک کے برابر تھے۔ آبادی دور دور تھی۔ زیادہ تر علاقہ بنجر تھا۔ چنانچہ آپ کی پوری زندگی  تبلیغ و اصلاح کے سلسلے میں سفر کرتے ھی گزری۔

وصال مبارک

بیشتر مورخین” لب تاریخ سندھ” کے مصنف کی تحریر کردہ وفات کی تاریخ کو درست بتاتے ہیں۔
ان کے مطابق آپ کا وصال 651 ھجری بمطابق 1289 عسوی 21 شعبان کو ھوا۔
اس وقت آپ کی عمر 112 سال تھی ، وصال والے دن آپ نے طالب علموں کو درس دیا اور مراقبہ میں مشغول ہو گئے۔
پھر اسی کیفیت میں انتقال ہو گیا۔
آپ کو اسی جگہ دفن کر دیا گیا جہاں آپ نے پہلی مرتبہ تکیہ لگایا تھا۔ عرس مبارک آپ کا مزار مبارک مرجع گاہ خاص و عام ہے۔ جہاں روز آپ کے عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔
جمعرات والے دن یہ تعداد کئ گنا بڑھ جاتی ھے.
جبکہ آپ کا عرس مبارک ہر سال 18 شعبان سے 20 شعبان تک ہوتا ہے جس میں ملک کے کونے کونے سے عقیدت مند ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوتے ہیں
کرامات کا ظہور حضرث لعل شہباز قلندر  صاحب  ولی اللہ کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے۔  آپ کی ذات مبارکہ سے بہت ساری کرامات منسوب ہیں، جن کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ کتب میں درج ہے
( محمود میاں نجمی کی کتاب سے ایک اقتباس)

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles