33 C
Lahore
Tuesday, June 18, 2024

Book Store

بیویاں کیوں مر جاتی ہیں؟

 

بیویاں کیوں مر جاتی ہیں؟

ایک ایسے معاشرتی المیے کی سچی کڑوی حقیقت جو آپ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے

مرد روتے نہیں ہیں ۔۔۔ اس نے انگلی کی پوروں سے میرے آنسو چن لیے جب میں پہلونٹھے کو بازوؤں میں بھر کر دفنا کر آ یا تھا ۔۔ اور میں اس دن کے بعد واقعی نہیں رویا ۔۔ ہیجان میں دریا بہت دفعہ اُبل پڑتا ہے مگر میں آنکھوں کے کناروں کو ابلنے نہیں دیتا ۔۔ منصور احمد نے بھری آ نکھیں سختی سے میچ لیں ۔
۞۞۞
ثریا ہفتے بھر سے بیمار تھی۔ پہلے بھی ہوتی رہتی تھی۔ چھوٹی موٹی ہائے ہائے بھی چلتی رہتی تھی لیکن بارشوں بھری ٹھنڈ میں یوں ایک دم ہاتھ چھڑا کر ٹھنڈی قبر میں جا سوئے گی، اس نے سوچا بھی نہ تھا ۔۔۔
تینوں بچے ملک سے باہر تھے بروقت پہنچ گئے لیکن قُلوں تک رک نہیں سکے تھے ۔ ماں کو قبر میں اتار کے ہاتھوں سے ان دیکھی مٹی جھاڑ کے کندھے جھٹک کے چل دئیے تھے ۔ انکی اپنی دنیائیں بڑی مصروف تھیں اگر مزید رُکتے تو زندگی کی رواں ٹریفک میں تعطل آجاتا پوائنٹ چھٹ جاتا اور دوسرا پوائنٹ پکڑنے تک وقت کا بے طرح خسارا ہو جاتا سو آنکھیں چراتے پہلی پہلی دستیاب فلائیٹ سے اڑ گئے ۔
اب گھر بھتیجوں اور ان کی بیویوں کے رحم و کرم پہ تھا۔ منصور احمد کو تیسرے ہی دن اپنا گھر اجبنی سا لگنے لگا۔ اسے ادھر ادھر بے چینی سے صبح شام کرتے دیکھ کر بھتیجے تمسخرانہ نظروں سے دیکھتے بولتے تو مذاق اڑاتے ۔۔
چچا، چچی ہمیں بھی بہت یاد آتی ہیں ۔ ہمارے خوابوں میں آتی ہیں اور کہتی ہیں میں جنت میں بہت خوش ہوں تمہارے چچا سے جان چھٹ گئی ۔۔ بڑے نے چھوٹے کو آ نکھ ماری ۔۔ کیا آپ کے خواب میں آ ئیں ؟؟؟
جوان اپنی جوانی کے زعم میں بڑوں کو عقل سے ، جذبات سے بالکل عاری سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ اس نے خود کو بےبس محسوس کرتے ہوئے سوچا ۔
ثریا کو گئے آ ج چوتھا روز تھا۔ اسے لگ رہا تھا اس کے اوپر سے صدیاں گزر گئی ہیں۔ وقت میں کوئی ربط نہیں رہا تھا۔ پتا ہی نہ چلتا، شام ہے، رات ہے کہ سویر یا دوپہر ۔
چمکتے دن میں دنیا کیسے اندھیر ہو جاتی ہے؟ اب معلوم ہو رہا تھا۔ وہ ثریا کا کوئی ایسا عاشق بھی نہیں تھا کہ گھٹنوں سے لگا پوجا پاٹ ہی کرتا ہو ۔ نہ ہی ثریا چونچال فطرت تھی۔ پورے گھر کا خیال رکھتی تھی۔ بس عام سا جوڑا تھا۔ لاکھوں کروڑوں جوڑوں کی طرح عام سی لگی بندھی ازدواجی زندگی تھی مگر ثریا کے بعد اسے تو جیسے نظر آ نا بھی بند ہو گیا ۔
سامنے رکھی چیز نظر نہ آتی ۔ کوئی کیا بات کر رہا ہے، دماغ سے باہر ہی رہ جاتی۔ پاؤں کہیں رکھتا، لڑکھڑا کے کہیں اور جا پڑتا۔ جیسے ثریا اس کا عصا تھی جو اب کہیں گم گئی تھی یا شاید اس کی آ نکھوں میں رکھا دیا تھی کہ بینائی ہی چلی گئی ۔۔۔
اس نے آ نکھیں رگڑ ڈالیں۔ یہ سب کچھ مندا مندا کیوں نظر آ نے لگا ہے؟ اس نے زچ ہو کر سوچا ۔
پتا نہیں کب وہ بیوی سے آکسیجن بن گئی۔ اس نے چھاتی مسلتے ہوئے مسلسل سوچا ۔۔۔ سیانے کہا کرتے ہیں بیوی کی موت کہنی کی چوٹ ہوتی ہے لیکن اس کی تو ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی تھی جیسے وہ الگ انسان نہیں، اس کی ریڑھ میں موجود اس کے جثّے کی اکائی کو سنبھالے کھڑی تھی ۔ اب وہ کچلے سانپ جیسا حقیر رہ گیا تھا ۔ سینتالیس سال بھی کوئی عمر ہوتی ہے جانے کی؟
پچپن سالہ منصور  نے ایک بار پھر آنکھیں رگڑیں ۔۔ گزرے ماہ و سال اس کی آنکھوں میں موبائل گیلری کے مانند چلنے لگے ۔کل کی بات لگتی ہے اس  نے بے بسی سے ایک بار پھر آ نکھوں کے دریا پر ہتھیلی کی پشت سے بند باندھا ۔۔
کسی نے ایک وقت بھی ڈھنگ سے کھانا نہیں دیا تھا۔ جیسے بیوی مر جائے تو شوہر کی بھوک ، پیاس بھی مر جانی چاہیئے ۔۔۔
عجیب رویہ تھا گھر میں رہنے والوں کا ۔ اس کی بنیادی ضروریات سے بھی لاتعلقی چاہ رہے تھے اور اس عمر میں بیوی کے جانے کا صدمہ لینے پر مذاق بھی بنا رہے تھے ۔ منصور احمد کا جی چاہتا کہیں سے سوگواری میں ڈوبے بڑے بڑے سیاہ کپڑے کے تھان مل جائیں جسے تاحد نگاہ ڈال کے سیاہ پوش کر دے ۔
اس کا صدمہ کم کرنے کے لیے رُکے تھے لیکن مسلسل نمک پاشی کر رہے تھے ۔ جنازے والے روز سے انہی کپڑوں میں گھوم رہا تھا۔ اس کے اپنے کمرے میں بھی بھانجیوں، بھتیجیوں نے قبضہ کیا ہوا تھا ۔
قل والے روز جھجھکتے ہوِئے اس نے دروازہ بجا دیا تاکہ کپڑے بدل لے۔ نہانے کی شدید خواہش ہو رہی تھی لیکن وہ اپنے ہی گھر میں اجنبیت محسوس کر رہا تھا ۔ کئی دستکوں کے جواب میں بھتیج بہو  نے بدمزہ ہوتے ہوئے ذرا سی درز کر کے تیز لہجے میں سوالیہ نظروں سے جھانکا ۔۔۔
جی چچا میاں کچھ چاہیئے ۔۔۔ اور وہ سہم کر چپ چاپ بنا دیکھے نفی میں سر ہلا کر مردانے میں آ بیٹھا حالانکہ اس کی بوڑھی ہڈیاں کمان سی بن رہی تھیں۔ اسے چند گھڑی اپنے بستر پہ کمر ٹکانے کی شدید خواہش ہو رہی تھی تاکہ کمر سیدھی ہو جائے ۔
ثریا اپنی بیماری میں بھی اس کا بھرپور خیال رکھتی تھی ۔ کھانے کی ٹرے ، روز کے دھلے صاف ستھرے رومال میں لپٹی چپاتیاں، چھوٹے ڈونگے میں سالن ، نمک دانی , مرچ دانی , اچار کی بوتل اور ٹشو پیپر ۔ اسے ہمیشہ دھلا ہوا استری شدہ جوڑا تیار ملتا تھا ۔ بچے چھوٹے تھے تو بچوں کی مصروفیات میں کبھی کبھار کوتاہی ہو جاتی ۔۔ لیکن جب ایک ایک کر کے تینوں  بچے آشیانے سے اڑ گئے، تب سے ثریا کی زندگی کا محور و مرکز منصور ہی تھا ۔۔۔
اب ثریا کو سینے پرونے کے لیے عینک کی ضرورت پڑتی تھی۔ اس کا معمول تھا دھلنے کے بعد اس کے کپڑے باسکٹ میں ڈال کر اپنے قریب رکھ لیتی اور الماری میں رکھنے سے پہلے بٹن اور سلائیوں کی مضبوطی جانچ لیتی ۔ بیڈ پر اس کی مخصوص جگہ ہی اس کی ایسی سرگرمیوں کا مرکز تھی ۔
منصور کی آنکھوں میں ایک ریل سی چلنے لگی ۔۔ جب ثریا آنگن میں دلہن بن کر اتری تو اس سادہ سے پلستر ہوئے آنگن میں افشاں سی چھڑکی نظر آتی تھی ۔۔۔ ثریا اپنے نام کی مثل چمکتی رہتی ۔ گھر میں رنگ ہی رنگ بکھرے نظر آتے ۔ کبھی پراندے کا پھندنا گر جاتا، کبھی قندھاری انار کی رنگت والی چوڑی دروازے کے کنڈے میں اٹک کر ٹوٹ جاتی ۔۔ جو اس سُونے صحن میں لَو دیتی رہتی ۔
کبھی پازیب کے گھنگرو بج اٹھتے ۔۔۔ رانگلی مدھانی چاٹی میں گھومتی تو سات سروں کا گمان ہوتا ۔۔ سیڑھیوں کے قدمچوں پہ موسم کے جوڑوں سے میچنگ چپلیں یا جوتے پڑے رہتے ۔۔۔ جنہیں جوڑوں کے ساتھ ہی بدل ڈالتی ۔ صحن کی الگنی پہ ڈوپٹے بہار دیتے رہتے ۔۔۔ جہاں کھڑی ہو جاتی وہ جگہ خوشبو سے بھر جاتی۔ یوں گھر کے کونے کونے میں اس کی موجودگی محسوس ہوتی رہتی ۔۔۔
ماں کو ثریا سے والہانہ محبت تھی ۔ بیٹے کے مقابلے میں بہو کو ترجیح دے دیتی۔ وہ اس محبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ۔ ہلکا سا بخار معمولی سا سر درد ہوتا، وہ شور ڈال ڈال کر پورے گھر کو بخار چڑھا دیتی ۔۔۔ اس میں زندگی کے رنگ بھرے تھے ۔ اندر باہر سے ایک جیسی ۔ خوش ہوتی تو لگتا بانسری کا سُر ہے جو پورے گھر کو اپنے سحر میں جکڑے ہوئے ہے ۔
پورے گھر اور محلے کو خبر ہوتی کہ آ ج ثریا بڑی خوش ہے ۔ اداس ہوتی تو گھر کے ساتھ ساتھ پوری گلی کو اداس کر دیتی۔۔۔ یہ دیکھو سلمیٰ راسلک کی شلوار جل گئی ۔۔تمہیں بھی پسند تھی ناں ۔۔۔ سلمیٰ افسوس سے سر ہلاتی ۔۔ ہائے چاچی ماربل کے ڈنر سیٹ کی کوارٹر پلیٹ ٹوٹ گئی۔ اپنی پسند سے خریدا تھا دکانوں دکانوں گھوم کے ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں اداسی کے ڈورے تیرتے ۔۔۔ چاچی کو یاد آتا پچھلے ہفتے کھیر بھر کے لائی تھی اور چاچی بھی ملول ہو جاتی ۔۔۔
منصور کو شاپنگ کرنے کا کوئی ڈھنگ نہیں تھا بلکہ وہ گھبراتا تھا شادی کے پہلے ہفتے میں ہی یہ ڈیوٹی ثریا کے سپرد کر دی ۔۔۔ اور اس نے منصور کی وارڈروب میچنگ جوتوں کپڑوں ٹائیوں اور موزوں ، رومالوں سے بھر دی تھی پھر بڑے چاؤ سے میچ کر کر کے اسے پہناتی ۔ دیکھا دیکھی اماں نے گھر کے سودے سلف سے جان چھڑا لی ۔۔ بڑی برکت تھی اس کے ہاتھ میں ۔ محلے میں چار چھے گھر اس کے مقروض ہی ہوتے ۔
چالیسویں پر منصور احمد کے چچا چچی ثریا کے پُرسے اور منصور کی خبر گیری کو آئے ہوئے تھے ۔ اپنے بڑوں کو سامنے دیکھ کر وہ بچہ ہی بن گیا۔ چہکوں پہکوں رونے لگا تھا ۔ چچا گلے سے لگائے پیٹھ سہلاتے رہے ۔ جہاندیدہ تھے بھڑاس کو نکاس کا راستہ دیتے رہے یہاں تک کہ اس نے آ نسوؤں بھری ڈبڈبائیں آ نکھیں خود سے آ ستین سے سمیٹ لیں ۔
چچا کے کندھے سے اچانک سر اٹھا کر گلوگیر لہجے میں بولا، ثریا کی سلائی مشین رکھی ہے۔ اس کا کیا کرتے ہیں ۔۔۔ عجیب بے بسی تھی منصور احمد کی آ نکھوں میں ۔۔
زیورات تو بہوؤں اور بیٹی نے بہت پہلے بانٹ لیے تھے ۔۔ قیمتی سامان گھر میں رہنے والوں  نے ایک خاموش معاہدے کے تحت قبضہ کر لیا، باقی کی تمام یادیں سمٹ کر دو ٹرنکوں میں بند ہیں ۔ کھولتا ہوں تو کھل جاتی ہیں ۔۔۔ پورے دماغ میں زلزلہ آ جاتا ہے ۔۔۔
زندگی ایک دم کتنی بدل گئی ہے جیسے تیز آ ندھی چل رہی ہو ۔۔ ایک واقعہ اپنے پیچھے یادوں کی پوری فلم دوڑا دیتا ہے ۔۔ لگتا ہے پورے گھر میں واقعہ اپنے پورے تاثر کے ساتھ بکھر گیا ہو ۔۔۔ اس کی کتنی ادھ سلی قمیصیں ہیں اس سوٹ کیس میں ۔۔۔ لان کا ایک سفید برّاق کُرتا جس پہ تار کشی شروع کی تھی اس نے۔ یونہی سب ادھورا چھوڑ گئی ۔۔۔ منصور احمد کے حلق نے ایک بے ساختہ خرخراتی سسکاری بھری جو شدید ترین کھانسی میں بدل گئی ۔ بھتیج بہو کو جلدی ہے سوٹ کیس باہر پھینک کر جگہ خالی کرنا چاہتی ہے۔ اسے یہ بیگ پرانے فیشن کے لگتے ہیں ۔۔ گھر میں ان کی جگہ نہیں بچی ۔۔۔ اس کے تیوروں سے لگتا ہے مجھے بھی جلد ہی کاٹھ کباڑ میں سمیٹ دے گی ۔۔
بیٹوں نے جاتے وقت کہا تھا ابا گھر سعید( منصور احمد کے بڑے بھائی کا بیٹا ) کو دے دیجئے گا۔ ہم نے کون سا واپس آ نا ہے۔ سعید بیچارا بچیوں میں گھرا ہے، گھر نہیں بنا پائے گا ۔۔ جیسے بیوی کے بعد منصور احمد کو گھر کی ضرورت ہی نہ ہو ۔۔۔ اس نے کون سا گھر قبر میں لے کر اترنا تھا۔ بس وہ اپنے جیتے جی گھر دینا نہیں چاہتا تھا مگر بچوں نے حالات ایسے بنا دئیے کہ دئیے بِنا چارہ نہیں تھا ۔۔۔ انکار کرتا تو روٹی کون بنا کر دیتا ۔۔۔ شاید سونے کو جگہ بھی نہ دی جاتی ۔۔ گھر اس کی اپنی ملکیت تھا لیکن عجیب بے بسی تھی ۔۔ اور سعید کا رویہ ابھی سے ایسا تھا جیسے مالک وہی ہو ۔
بھتیجا اور بہو بچوں کے ساتھ ناشتے میں مصروف تھے ۔۔ برآمدے کے اس پار زندگی کی رونقیں چل رہی تھیں۔ شور شرابا مچا ہوا تھا۔ کسی کی وین چھوٹ رہی تھی، کسی کی جرابوں کی جوڑی ادل بدل کے جھنجھٹ میں تھی ۔۔ کسی کی ہوم ورک والی نوٹ بک رہی جاتی تھی، اور وہ عجیب سا بد رنگا فالتو سا پرزہ بنا سب تماشے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اگر ثریا موجود ہوتی تو تمام رونقوں کا ماخذ و منبع منصور احمد کی ذات ہوتی ۔۔۔
یہ بیویاں کیوں مر جاتی ہیں آ خر ۔۔۔
اس نے جھنجھلا کر ایک بار پھر سر جھٹکا ۔۔۔
✍ ۔۔۔ ز ۔ م
٢٥ فروری ٢٠٢٢ء

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles