29 C
Lahore
Thursday, July 18, 2024

Book Store

ایک عجب ماجرا ہوا

صورتِ حال
الطاف حسن قریشی
ایک عجب ماجرا ہوا
02/08/2013


خوشی اور کامیابی کے عظیم لمحات دیکھتے ہی دیکھتے ایک تماشا بن کے رہ گئے اور مجھے اپنا ادیب فاضل کا امتحان یاد آیا
جس کے ایک پرچے میں انسانی نفسیات کے زبردست حکیم غالبؔ کا ایک سہل مجتمع شعر تشریح کے لیے آیا تھا ؎

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کر گھر یاد آیا

ممتحن نے پوچھا تھا کہ دشت زیادہ ویران تھا یا گھر؟ اِس کا صحیح جواب نہ مجھے اُس وقت آیا تھا
نہ اب آ رہا ہے کہ
چند ایام کے دوران اصولوں اور انسانی رشتوں کی جو ویرانی دیکھنے میں آئی ہے ٗ
اِس میں ہر فیصلہ کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے کہ ذہنی افلاس کی وحشت کہاں زیادہ ہے
سیاسی جماعتوں میں ٗ الیکشن کمیشن میں یا میڈیا پر بننے والی طوطا مینا کی کہانیوں میں۔
ہم ایک اچھی اور باعثِ افتخار سیاسی روایت کا نقطۂ عروج چھونے ہی والے تھے جس میں پانچ سالہ آئینی مدت ختم ہونے کے بعد عام انتخابات ہوئے
اور انتقالِ اقتدار کا روح پرور منظر ہماری تاریخ کو ایک نئی معنویت اور جہت عطا کر گیا ٗ
مگر صدارتی انتخاب دیکھتے ہی دیکھتے ایک تنازع کی صورت اختیار کر گیا۔
ہمارے قابلِ احترام فخرو بھائی گاہے گاہے عالمِ خود فراموشی کے لطف بھی اُٹھاتے رہتے ہیں۔
وہ آرمی چیف جنرل کیانی سے دو گھنٹے گفتگو کرتے رہے اور اُنہیں پتہ ہی نہ چلا کہ اُن کے مخاطب کون ہیں۔
اِس طرح الیکشن کی تاریخ مقرر کرتے وقت وہ یہ فراموش کر بیٹھے
کہ 6؍اگست کو 27رمضان ہو گا جس میں ’’صادق اور امین‘‘ قانون سازوں کی خاصی بڑی تعداد
یا اعتکاف میں بیٹھی ہو گی یا عمرے پر سعودی عرب میں ہوگی۔
اُن کی توجہ اِس طرف مبذول بھی کرا ئی گئی ٗ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔
جب نفلی عبادت خطرے میں پڑتی نظر آئی تو مسلم لیگ نون نے عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کیا
جس میں وفاق اور الیکشن کمیشن کو مدعا علیہ بنایا گیا تھا۔ پہلی سماعت ہی پر الیکشن کمیشن نے
فاضل بینچ کو تاریخ مقرر کرنے کا اختیار دے دیا جس نے درخواست گزار کی استدعا سننے کے
بعد 30جولائی تاریخ مقرر کر دی۔ اتنی سی بات پر سینیٹر اعتزاز احسن اور سینیٹر رضا ربانی آپے سے باہر ہو گئے اور یہاں سے ویرانی کا سفر شروع ہوا۔
اُنہوں نے عدالتِ عظمیٰ پر جانب دار ہونے اور اپنے آئینی حدود سے تجاوز کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے۔
بیرسٹر اعتزاز احسن جو عدلیہ کی بحالی میں ایک ڈیڑھ سال قوم کی آنکھوں کا تارا بنے رہے ٗ
وہ اب سودوزیاں کا حساب اور تنگ نظری کا مظاہرہ کرنے لگے۔
اُنہی کے اصرار پر پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور انتقامی جذبے کے تحت
جناب عمران خاں کو بھی ورغلانے میں کامیاب ہو گئے ٗ مگر جسٹس وجیہہ الدین احمد کی بصیرت
اور جمہوریت سے پختہ کومٹ منٹ نے معاملے کو مزید بگڑنے اور آئینی بحران بن جانے سے بچا لیا۔
پیپلز پارٹی جو اِن دنوں سینیٹر رضا ربانی اور بیرسٹر اعتزاز احسن کی یرغمال بنی ہوئی ہے ٗ
اُس نے الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ داغ دیا ہے اور اِس کی پوری کوشش یہ ہے کہ
صدارتی انتخاب کا اعتبار باقی نہ رہے۔ اِس کا یہ رویہ مسلم لیگ نون کی قیادت کے اُس
مثبت رویے سے یکسر مختلف ہے جو اُس نے 2008ء میں جناب زرداری کے صدارتی انتخاب کے وقت اختیار کیا
اور بی اے کی ڈگری کا معاملہ نظر انداز کر دیا تھا۔
جناب رضا ربانی معاملات کو سلجھانے کے بجائے نت نئے فتنے اُٹھا رہے ہیں۔
اب واویلا یہ ہے کہ وفاقی حکومت اٹھارھویں ترمیم کے تحت دی ہوئی صوبائی خود مختاری ختم کر کے
ملک میں واحدانی نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔ وہ دراصل اُن خطرناک نتائج کی پیش بندی کرنا چاہتے ہیں
جو آئین میں یک مشت سو سے زائد ترامیم کرنے سے سامنے آئے ہیں۔
اُنہوں نے وفاق کی بنیادیں ہلا ڈالی ہیں اور صوبوں کو ایک ہی جست میں اِس قدر اختیارات سونپ دیے ہیں
جن کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی اُن میں صلاحیت اور استعداد ہی نہیں۔
ہم نے یہ تجویز دی تھی کہ اختیارات تفویض کرتے وقت تدریج سے کام لیا جائے اور تعلیم کو
وفاقی سبجیکٹ رکھا جائے تاکہ قوم کی صحت مند خطوط پر نشوونما کی جا سکے۔
ہم نے یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ امن عامہ کا قیام وفاق اور صوبے کی یکساں ذمے داری ہونی چاہیے۔
سابق وزیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ کہتے تھے کہ مرکز کے پاس قومی وسائل کا صرف 33فی صد رہ گیا ہے
جو کبھی 55فی صد سے زائد ہوتا تھا۔
آج آئینی صورتِ حال یہ ہے کہ بدترین حالات کے باوجود مرکز صوبے میں گورنر راج نافذ نہیں کر سکتا۔
پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی قابو میں نہیں آ رہی اور وفاق پر جو ضعف طاری ہوتا جا رہا ہے
یہ بہت کچھ سوچے سمجھے بغیر آئین پر مشقِ ستم فرمانے کا شاخسانہ ہے۔
پیپلز پارٹی کے بائیکاٹ نے مسلم لیگ نون کی قیادت کو ووٹ مانگنے کے لیے نائن زیرو پر سجدہ ریزی پر
مجبور کر دیا، کیونکہ اُس کے 50ووٹ صوبہ سندھ کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے تھے۔
صدارتی اُمیدوار جناب ممنون حسین کو سندھ اسمبلی سے جو 64ووٹ ملے ہیں
اُن میں ایم کیو ایم کے ووٹوں کا بڑا حصہ ہے۔ مسلم لیگ نون پر اصولوں سے انحراف کا الزام آ رہا ہے،
کیونکہ 8جولائی 2007ء کو لندن کی آل پارٹیز کانفرنس کا جو اعلامیہ خود نواز شریف نے پڑھ کر سنایا تھا
اُس میں یہ نکتہ بطورِ خاص شامل تھا کہ جب تک ایم کیو ایم دہشت گردی سے کنارہ کشی
اختیار نہیں کرتی
اُس سے انتخابی اتحاد ہو گا نہ اُسے حکومت میں شامل کیا جائے گا۔
حکمران جماعت کو سندھ کی سطح پر یہ نقصان پہنچا ہے کہ وہاں کی قومیت پرست جماعتیں
جو قومی دھارے میں آتی جا رہی تھیں، نواب ممتاز بھٹو نے اپنی جماعت مسلم لیگ نون میں ضم کر دی تھی
اور ایاز پلیجو آئین کی بات کرنے لگے تھے اور پیر پگاڑہ ایک فعال کردار ادا کر رہے تھے
اُن میں شدید ردِعمل پیدا ہوا، البتہ صدارتی انتخابات کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ
مسلم لیگ نون کی قیادت نے آخری وقت پر درست حکمتِ عملی اختیار کی جبکہ پیپلز پارٹی نے
غیر جمہوری راستہ اپنا کر سراسر گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ وزیراعظم نے تبدیل شدہ حالات کے مطابق فیصلے کیے
اور ایم کیو ایم کو دہشت گردی سے کنارہ کش ہونے کا موقع فراہم کیا ہے، تاہم صدارتی انتخاب میں
جو بڑے جھٹکے لگے ہیں، وہ زیادہ تر مس ہینڈلنگ کا نتیجہ ہیں جس پر فوری توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
ہم بھاری اکثریت سے پاکستان کے صدر منتخب ہونے پر جناب ممنون حسین کو مبارک باد پیش کرتے ہیں
اور اُمید رکھتے ہیں کہ وہ بے داغ کردار اور سیاسی پختگی سے اِس اعلیٰ ترین منصب کو ایک
وقار اور ایک قدرومنزلت عطا کریں گے۔وہ درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور کراچی میں
ایک شریف النفس اور بااصول انسان کی حیثیت سے پہنچانے جاتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں
اور نہایت عمدہ شعری اور دینی ذوق رکھتے ہیں۔ ہمیں اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے
کہ انتقالِ اقتدار کا آخری مرحلہ بھی جمہوری طریقے سے طے پا گیا ہے۔ صدر زرداری اور
جناب عمران خان نے منتخب صدر کو مبارکباد پیش کر کے صدارتی انتخاب کی کریڈیبیلٹی پر مہر ثبت کر دی ہے
اور چیف الیکشن کمشنر نے سرکاری طور پر اعلان کیا ہے کہ
بائیکاٹ سے صدارتی انتخاب کی آئینی حیثیت پر کوئی حرف نہیں آیا۔
جناب ممنون حسین نے صدر منتخب ہوتے ہی مسلم لیگ نون کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے
اور اپنا یہ عزم دہرایا ہے کہ وہ پوری قوم کے غیر جانبدار صدر ہوں گے۔ اِن خوشگوار لمحات میں
جو ایک عجب ماجرا ہوا
اِس کے نتیجے میں جناب فخرو بھائی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف استعفیٰ دے دیا ہے
اور عدلیہ کے کردار کو ’’شرمناک‘‘ قرار دینے پر عمران خان کو توہینِ عدالت کا نوٹس مل گیا ہے۔
یہ واقعات ایک بہت بڑے سیاسی طوفان کو جنم دے سکتے ہیں،
چنانچہ اِس وقت سیاسی قیادت، عدلیہ اور میڈیا کو وسعتِ قلبی اور بالغ نظری سے کام لینا
اور جمہوری نظام کو نئی آزمائشوں سے محفوظ رکھنا ہو گا۔

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles