34 C
Lahore
Monday, June 17, 2024

Book Store

فرد ملکیت

احساس کے انداز

فرد ملکیت

تحریر:۔ جاوید ایاز خان

حضرت واصف علی واصف ؒکا قول ہے  “ہم اس دنیا سے کچھ لے کر بھاگ جانا چاہتے ہیں، لیکن اس دنیا سے کچھ لے کر جا نہیں سکتے۔
بس یہاں سے اُٹھا کر وہاں رکھ سکتے ہیں۔  ہم سب قلی ہیں۔ سامان اُٹھاتے پھرتے ہیں، لیکن کب تک؟ قلی کے نصیب میں صرف وزن ہے۔ وزن اور صرف وزن۔
اس دنیا میں کچھ بھی کسی کی ملکیت نہیں ہے۔
یہ بات ایک ایسا سچ ہے جسے لوگ  محسوس تو کرتے ہیں مگر  دل سے ماننے  اور تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے  یہاں تک کہ خالی ہاتھ اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔
قلی کو  وزن اُٹھانے کا معاوضہ تو مل جاتا ہے۔  ہم تو یہ کام بلا معاوضہ ہی کرتے ہیں، بلکہ اس وزن کو ادھر سے اُدھر کرتے ہوئے اچھائی اور برائی کا خیال تک نہیں رکھتے ۔
میکم گولر نے اپنے ناول ” اور کتنی زمین چاہیے؟” کا بڑا خوبصورت ابتدائیہ پیش کیا ہے،
جس میں زمین پر قبضہ کرنے والا بادشاہ کی اجازت سے جب آخری زرخیز وادی میں  پہنچتا ہے تو تھکن ،دکھ اور ہوس کی لامتناہی مسافت کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار چکا ہوتا ہے۔
اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا، “دنیا میں سب سے بڑھ کر اور قابل نفرت بت جس کی روئے زمین پر پرستش کی جاتی ہے۔
وہ ہماری خواہشات اور ہوس کا بت ہوتا ہے۔
اس بت کی پرستش سے انسان کی سوچ میں جب ہوس زر سما جائے تو وہ مال وجائیداد جمع کرنے میں سکون محسوس کرنے لگتا ہے۔
جائز ناجائز کے تصور سے دُور نکل جاتا ہے۔
وہ سمجھتا ہے کہ شاید وہ دنیا کا تمام مال اور جائیداد اپنے نام منتقل کر لے گا، لیکن وہ ایسا کبھی نہیں کر پاتا۔
صرف کثرت کی خواہش اور تڑپ اسے دنیا میں الجھائے رکھتی ہے۔
وہ نہیں جانتا کہ وہ تو صرف ایک قلی ہے، جو دوسروں کا وزن اپنے سر پر اُٹھائے پھر رہا ہے۔
کچھ ماہ قبل مجھے اپنے گھر کے واپڈا کے کنکشن کے لیے ایک باضابطہ فرد ملکیت درکار تھی،
مجبوراً ریوینیو آفس ذاتی طور پر جانا پڑا تو معلوم ہوا کہ ابھی تو انتقال ہی درج نہیں ہوا۔
مجبوراً دفتر رجسٹرار جانا پڑا اور انتقال کے اندراج کی اہمیت اور ضرورت کا اندازہ ہوا۔
بڑی مشکل سے انتقال کی باضابطہ کاپی کا حصول ممکن ہوا۔
ریوینیو آفس میں بےحد رش تھا۔ مجھے ایک پرانے دوست اور کلاس فیلو بھی  وہاں مل گئے،
جو اپنے دو جوان بچوں کے ہمراہ  اپنی مختلف زمینوں اور جائیدادوں کی فرد ملکیت اور نقل انتقال حاصل کرنے وہاں آئے تھے۔
ان کے ہاتھوں میں ایک بیگ تھا جس میں بہت سارے کاغذات یعنی انتقال و جمع بندی کی نقول موجود تھیں   ۔انھوں نے بتایا کہ وہ اب بیمار رہنے لگے ہیں۔
چاہتے ہیں کہ اپنی  وراثت اور جائیداد اپنی زندگی ہی میں اپنے بچوں میں تقسیم کر دیں،
تاکہ بعد میں بچوں کو کوئی اختلاف نہ ہو ۔
مجھ پر سے بھی یہ  وزن کم ہو تو مجھے محسوس ہوا کہ میرا یہ دوست اب مزید وزن اُٹھانے کے قابل نہیں رہا۔
مجھے وہ ایک ایسا  قلی لگ رہا تھا جو اب یہ وزن سر سے اُتارنا چاہتا ہے،
جس  وزن کو سنبھال رکھنے کے لیے اس کی کمر دوہری ہو چکی تھی۔
شوگر ،فالج اور دل کی تکلیف نے اسے اور بھی کمزور کر دیا تھا ۔
بہت دنوں بعد ملاقات ہوئی تھی، اس لیے مجھے  ساتھ  لے کر بیٹھ گئے ۔
اپنی زندگی بھر کی جدوجہد کی تفصیل سنانے لگے کہ کس طر ح سے محنت  اور مشقت کر کے یہ سب کچھ بنایا ہے۔
رشوت اور ناجائز آمدنی کوئی آسان کام نہیں ہوتا اس کے لیے کیسی دقت اُٹھائی۔
زندگی میں کیسے کیسے پاپڑ بیلنے پڑے، کتنی ہی مقدمہ بازیوں اور پیشیوں سے گزرنا پڑا۔
ان کی کہانی سن کر یوں لگتا تھا، پوری زندگی اس نے مال کمانے اور جائیداد بنانے میں گزار دی ہے ۔
داستان حیات اور جدوجہد واقعی بڑی متاثر کن تھی۔ جائیداد کی تفصیل دیکھ کر مجھے لگا کہ:
میں تو ساری عمر گھانس ہی کاٹتا رہا ہوں۔
اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود سوائے بچے پالنے اور پڑھانے کے کچھ نہ کرسکا۔
بمشکل ایک گھر کی چھت ڈال سکا۔ وہ بھی بنک کے قرض سے ممکن ہوسکا۔
گھر کی دال روٹی تو ساری دنیا ہی چلا لیتی ہے ۔
اس نے اپنے بچوں کو میرے بارے  میں بتایا کہ یہ میرے کلاس فیلو ہیں۔
بینک کے ایک اعلیٰ عہدے سے ریٹائرڈ ہیں۔ میرا فون نمبر لے کر اپنا نمبر بھی مجھے دیا ۔
اپنے رقبے پر آنے کی دعوت بھی دی جہاں اس نے ایک بڑا باغ بھی لگایا ہوا ہے ۔
چند ماہ بعد ایک دن اطلاع  آئی کہ اچانک  وہ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال فرما گئے ۔
بے حد افسوس ہوا۔
بچوں سے فون پر تعزیت کی، تو انھوں نے ملنے کی خواہش کی۔
میں نے کہا کہ آ جائیں ۔ وہ چاروں بھائی آئے اور مجھ سے وراثت کے بارے میں مشورہ کرتے رہے۔
چند ماہ بعد وہ اپنے والد کی جمع بندیوں، فرد ملکیت کے ساتھ ان کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ اور وراثتی سرٹیفیکٹ لے کر آئے۔
عدالتی کارروائی کے ذریعہ وراثت کی تقسیم کے لیے مقدمے کا آغاز کیا جو یقیناً مکمل ہو چکا ہو گا۔
جب میں نے جمع بندیوں اور فرد ملکیت کےتھیلے کے وزن کو وراثتی سرٹیفیکیٹ کے مختصر کاغذ میں تبدیل ہوتے دیکھا تو مجھے یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ:
جمع بندیوں کے اکٹھا کرنے کا طویل سفر اور فاصلہ کیسے چند دنوں میں وراثت کی صورت ٹکڑوں میں بکھر کر طے ہو جاتا ہے۔
ایک  جائیداد جسے بنانے میں پوری زندگی لگ جاتی ہے،
کیسے منٹوں میں تقسیم ہو کر چھوٹی سی رہ جاتی ہے  ۔
جمع بندی صرف اس کے نام ہوتی ہے مگر وراثت میں اس کا نام تک نہیں ہوتا ۔
یہی نظام قدرت ہے جو  ہمیشہ سے سرمایہ دارنہ نظام کو رد کرتا چلا آ رہا ہے۔
اس کی بدولت ساری زندگی  جمع بندی کے تھیلے کو،
بےمعاوضہ قلی کی طرح اُٹھانے والے شخص  کے سر سے یہ وزن یکایک کیسے ہلکا ہو جاتا ہے؟۔
اور پھر یہی وزن دوسروں کے سر پر رکھ کر انھیں قلی بنا دیا جاتا ہے ۔
سب کچھ جاننے کے باوجود یہ کام ہم نسل در نسل کرتے چلے آرہے ہیں۔
یہ شریعت اسلامی کا مزاج ہے کہ
اس نے دولت کو مر تکز کرنے کے بجائے،
اس کی تقسیم اور مسلسل گردش میں رکھنے کا نظام قائم کیا۔
جس کے لیے میراث کا ایک جامع متوازن اور عمدہ قانون عطا فرمایا ۔
جو ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ۔
بے شک ہم ایک بےمعاوضہ قلی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے!
ہم نے خالی ہاتھ آنا اور واپس جانا ہے !
حرص  و ہوس کی شاہراہ بہت طویل اور دشوار گزار ہوتی ہے۔
اس لیے بہتر ہے وزن کم اور قابل برداشت رکھیں۔
یہ تب ہی ممکن ہے کہ اللہ کے حکم پر عمل کر کے فرد ملکیت  کے علاوہ ،
صدقہ جاریہ کا بےوزن تھیلہ بھی سر پر رکھیں،
جو ساتھ بھی جائے اور آ پ کے جانے کے بعد رہے۔
جس کا ثواب اور اجر تاقیامت جاری رہے ۔
لوگوں کی دعاؤں سے  آخرت میں حساب دینا بھی آسان رہے۔

 

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles