33 C
Lahore
Wednesday, April 24, 2024

Book Store

بس ایک نام(بلال صاحب)

سلسلے وار ناول

بلال صاحب

پہلی قسط

شکیل احمد چوہان

۞۞۞

بلال وہ اک نام جو اس کی سوچ کی پتھریلی زمین پر پتھر پر لکھی ہوئی تحریر کی طرح نقش ہے۔ وہ نام جسے وہ اپنی زبان پر لانا پسند نہیں کرتی تھی۔ اب اس کا کل اثاثہ ہے۔
وہ ایک ہی ورد جپتی ہے۔ صبح ہو، شام بہار ہو یا خزاں، اس کے ہونٹوں پر وہی ایک نام ہے۔ باقی سب کچھ وہ بھول چکی ہے۔
قحط کے دنوں میں میلوں دور تک پھیلے ہوئے ریگستان میں پانی کے آخری کنوئیں سے جیسے زندگی کو امید وابستہ ہوتی ہے۔
اسی طرح وہ نام اس کی زندگی میں پانی کا آخری کنواں ہے، جس سے اس کی زندگی سیراب ہوتی ہے۔
جس نام کا مطلب وہ پوچھا کرتی تھی، اب اسی کا وظیفہ کرتی ہے اور وہ نام ہے بلال …

۞۞۞

وہ جو رنگ و نور کی دنیا میں رہتی تھی۔ وہ جو رنگوں کو رنگین کر دیتی۔ جسے اپنے حسن پر ناز تھا اور اپنے حسب و نسب پر فخر تھا۔ اپنی دولت پر اتراتی پھرتی تھی۔
چاند سا چہرہ تھا مگر اس میں تپش سورج جیسی۔ علم واجبی تھا اور دانش واجبی سے بھی کم۔ جاذب نظر اتنی کہ نظر اس کے حضور مؤدب کھڑی رہتی۔
اس کی دلفریبی دیکھ کر اکثر دل فریب کھا جاتے۔ خوشبو کی دلدادہ تھی۔
خوشبو کی دکان میں جاتی تو اپنی خوشبو چھوڑ آتی۔
اس کا پہناوا دیکھ کر لڑکیاں نقل کرتیں۔ اس کی وارڈ روب کپڑوں سے بھری تھی۔ ڈریسنگ ٹیبل پر پرفیوم کی بوتلوں کا قبضہ تھا۔ جوتوں کا شمار کرنا مشکل تھا۔
اس کا کمرا تتلی سے زیادہ رنگین تھا۔
لبرل سوچ کی وہ مالک تھی۔ اختصار جس کے پاس سے نہیں گزرا تھا۔ لیونگ اسٹینڈرڈ اپر کلاس والا، پارٹیز میں جانا، ڈنرز انجوائے کرنا، فیشن شوز، ایگزی بیشن اور کنسرٹ جس کی زندگی تھے۔
پھر اس کی زندگی میں ایک تلاطم آیا، یکایک سب کچھ بدل گیا۔ ان سب نعمتوں سے اس کی علیک سلیک ختم ہو گئی۔
اب 12بائی 14 کا کمرا اس کا مقدر ہے اور یہی اس کی دُنیا۔ ٹھٹھرتی راتوں اور پگھلتی دوپہروں میں وہ اکیلی ہے۔ اس کا مال و متاع اس کے کسی کام کا نہیں رہا۔
وہ خالی خالی نظروں سے دیواروں کو دیکھتی رہتی ہے۔ جن کا کلر آف وائٹ ہے۔ سفید لباس میں ملبوس جس سنگل بیڈ پر وہ بیٹھی ہے۔ اس کا تکیہ اور بیڈ شیٹ بھی سفید ہیں۔
جنوبی دیوار کی جانب پشت کر کے وہ اپنے بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی شمالی دیوار پر اٹیچ باتھ کے دروازے کے اوپر لگی ہوئی پینٹنگ کو دیکھتی رہتی ہے ۔
شمالی دیوار پر باتھ روم کے ساتھ 4بائی 6 کی کھڑکی ہے۔ کھڑکی کے نیچے ونڈو AC لگا ہوا ہے۔ AC سے پہلے بلیک لیدر کا لباس پہنے ایک صوفہ پڑا ہوا ہے۔
بیڈ کے دائیں ہاتھ کمرے کا داخلی دروازہ اور بائیں ہاتھ ایک سائیڈ ٹیبل پڑا ہوا ہے۔ ایک ٹیوب لائٹ اور ایک سفید پنکھا ہے۔ کھڑکی پر لگے پردوں کا رنگ بھی آف وائیٹ ہے۔
اس کمرے میں اگر کچھ رنگ ہیں بھی تو وہ اس پینٹنگ میں قید ہیں جس سے اس کی نظریں نہیں ہٹتی ہیں۔
وہ پینٹنگ رنگین تو ضرور ہے مگر تلاطم خیز موجوں میں پھنسی ہوئی ناؤ جس کا ماجھی اُسے چھوڑ کر جا چکا ہے اور وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ تن تنہا ماجھی کے بغیر بقا کی جنگ لڑنا ناممکن سا ہے۔
یہ اس پینٹنگ کا مضمون (کیپشن) ہے۔ یہ بیس کمروں کا وارڈ ہے۔ آمنے سامنے بیچ میں راہداری ہے۔ مغرب کی طرف شروع میں کمرا نمبر 1اور 20 آمنے سامنے ہیں۔
راہداری کے آخر میں مشرق کی طرف کمرا نمبر 10اور 11آمنے سامنے ہیں۔ راہداری کے آخر میں مشرقی دیوار کے ساتھ 8بائی 10کی ایک بڑی کھڑکی لگی ہوئی ہے۔
وہ کمرا نمبر 11کی ملکہ ہے۔ اس کی سلطنت میں سورج کی کرنوں کا داخلہ منع ہے۔
دوسرے تیسرے دن سورج کی کرنیں اس کے دیدار سے فیض یاب ہوتی ہیں۔ جب وہ صبح 10 بجے کے آس پاس راہداری میں تشریف لاتی ہے۔
وہاں بنی کھڑکی کے دوسری طرف دو کنال کا خالی پلاٹ ہے۔ جہاں جنگلی گھاس کا بسیرا ہے۔
ایک بڑا بوڑھا پیپل کا درخت دوکنال کے پلاٹ کا راجہ ہے اور نیم کا درخت اس کا وزیر۔
امردو کے کئی چھوٹے درخت سپاہی ہیں۔ پلاٹ کے دوسری طرف سرکاری ہسپتال کا باورچی خانہ ہے۔ جہاں سے کھانوں کی خوشبو ہوا کے پروں پر سوار ہو کر اس تک پہنچتی ہے۔
جب وہ کوریڈور میں کھڑکی کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ پیپل کا درخت ایک موسیقار کا احساس لیے ہوئے اس کے سامنے کھڑا ہے، جو ہلکے سے ہوا کے جھونکے پر اس کو جھوم کر دکھا دیتا ہے۔
جبکہ نیم اور امرود کے درخت اس ہوا کے جھونکے کو محسوس نہیں کرپاتے۔ سورج کی کرنیں پتوں سے لڑتی جھگڑتی اور لوہے کی جالیوں سے بچتی بچاتی اس کے رخساروں کا بوسہ لیتی ہیں۔
وہ کمرا نمبر 11کے سامنے کھڑی ہے۔ ایک کے ساتھ ایک کھڑا ہو تو 11بنتا ہے جسے وہ 2 کہتی تھی ۔
11تو اسے اب بھی یاد نہیں ہاں البتہ 11کہنے والے کا نام یاد ہے۔ بلال
ڈاکٹر ہاجرہ نیازی اپنے کمرے میں بیٹھی، عمر 50 سال کے آس پاس، اس ہسپتال میں تقریباً 20سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ان کے سامنے میز کی دوسری طرف ایک مرد اور عورت بیٹھے ہیں۔
عورت زندگی کی تقریباً 25 بہاریں دیکھ چکی ہے۔ اس کی گود میں ڈیڑھ دو ماہ کا بچہ ہے۔ اس کے چہرے پر پریشانی کا پڑاؤ ہے۔ مرد کچھ حد تک مطمئن ہے۔
اپنے سامنے پڑی رپورٹیں دیکھ کر ڈاکٹر ہاجرہ نیازی نے کہا :
’’پہلے سے کافی بہتر ہے، اب دوائی کھا لیتی ہے‘‘
’’اور کھانا؟‘‘ عورت نے یک لخت پوچھا۔
اس کا پوچھنا فکر مندی ظاہر کر رہا تھا۔ پاس بیٹھے مرد نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھتے ہوئے کہا۔
’’ان شاء اللہ وہ ٹھیک ہو جائے گی۔‘‘ اس نے اپنی طرف سے تسلی دینے کی پوری کوشش کی ۔
’’دیکھو بیٹا ! ہم صرف کوشش کرسکتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر ہاجرہ نے نہایت شگفتگی سے کہا۔
اتنے میں آفس بوائے چائے لے کر آ گیا۔
اس نے چائے کمرے کے کونے میں پڑے صوفہ سیٹ کے سامنے سنٹر ٹیبل پر رکھ دی۔
’’میڈم! چائے ‘‘ ٹرے میز پر رکھتے ہوئے آفس بوائے نے بتایا۔
’’تم جاؤ۔ میں بنا لوں گی۔‘‘ ڈاکٹر ہاجرہ نے جواب دیا۔
’’آؤ چائے پیتے ہیں۔‘‘
اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے ڈاکٹر ہاجرہ بولی پھر وہ صوفے پر بیٹھ کر چائے بنانے میں مصروف ہو گئی۔
عورت نے اپنے اشکوں کو پلکوں کی دہلیز پر زبردستی روکا ہوا تھا۔
مرد نے اسے بازو سے پکڑا اور آنکھوں سے اٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ دونوں اٹھے اور ڈاکٹر ہاجرہ کے سامنے بیٹھ گئے۔ ان کے بیچ میں سنٹر ٹیبل پڑا ہوا تھا، جس پر چائے والی ٹرے پڑی تھی۔
ڈاکٹر ہاجرہ نے چائے کا کپ عورت کی طرف بڑھا دیا۔ مرد نے خود اپنا کپ اٹھا لیا۔ چائے کا سپ لیتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا :
’’سچائی یہ ہے کہ چانس تو ہے مگر بہت کم۔I will try my best۔ معجزہ کرنے والی ذات وہ ہے۔‘‘
عورت کی باڈی لینگویج اس ہارے ہوئے کھلاڑی کے مانند تھی جو میچ ختم ہونے سے پہلے ہی ہار مان چکا ہو۔
’’میں ان سب باتوں میں بھول ہی گئی۔ تمہیں بہت بہت مبارک ہو۔‘‘
ڈاکٹر ہاجرہ نے دانائی سے موضوع تبدیل کر دیا۔
عورت کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ جیسے وقتی طور پر اس کے زخموں پر مرہم رکھ کر اس کے غم کا مداوا کردیا گیا ہو۔
’’کیا نام رکھا ہے بیٹے کا؟‘‘ بغیر توقف کے ڈاکٹر ہاجرہ نے پوچھا۔
’’بلال محسن۔‘‘مرد نے تفاخر سے جواب دیا۔
ڈاکٹر ہاجرہ نے حیرانی سے ان دونوں کی طرف دیکھا اور آہستگی سے کہا: ’’پھر سے بلال‘‘

(باقی اگلی قسط میں پڑھیں)

۞۞۞۞

Related Articles

Stay Connected

2,000FansLike
2,000FollowersFollow
2,000SubscribersSubscribe
گوشۂ خاصspot_img

Latest Articles